Yusuf 12:48

Yusuf · from ayah 48

12:48

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ ۟ثُمَّ يَاۡتِىۡ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِكَ سَبۡعٌ شِدَادٌ يَّاۡكُلۡنَ مَا قَدَّمۡتُمۡ لَهُنَّ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّمَّا تُحۡصِنُوۡنَ

پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سال) آئیں گے کہ جو (غلّہ) تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ اس سب کو کھا جائیں گے۔ صرف وہی تھوڑا سا رہ جائے گا جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then will come after that seven difficult [years] which will consume what you saved for them, except a little from which you will store.

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 6 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:48

پھر سات برس بہت سخت آئیں گے اُس زمانے میں وہ سب غلہ کھا لیا جائے گا جو تم اُس وقت کے لیے جمع کرو گے اگر کچھ بچے گا تو بس وہی جو تم نے محفوظ کر رکھا ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سال) آئیں گے کہ جو (غلّہ) تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ اس سب کو کھا جائیں گے۔ صرف وہی تھوڑا سا رہ جائے گا جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس کے بعد سات سال نہایت سخت قحط آئیں گے وه اس غلے کو کھا جائیں گے، جو تم نے ان کے لئے ذخیره رکھ چھوڑا تھا، سوائے اس تھوڑے سے کے جو تم روک رکھتے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر اس کے بعد تم پر سات سال ایسے آئیں گے جو بڑے سخت ہوں گے، اور جو کچھ ذخیرہ تم نے ان سالوں کے واسطے جمع کر رکھا ہوگا، اس کو کھا جائیں گے، ہاں البتہ تھوڑا سا حصہ جو تم محفوظ کرسکو گے (صرف وہ بچ جائے گا)

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر اس کے بعد سات برس کرّے (سخت تنگی والے) آئیں گے کہ کھا جائیں گے جو تم نے ان کے لیے پہلے جمع کر رکھا تھا مگر تھوڑا جو بچالو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر اس کے بعد سات (سال) بہت سخت (خشک سالی کے) آئیں گے وہ اس (ذخیرہ) کو کھا جائیں گے جو تم ان کے لئے پہلے جمع کرتے رہے تھے مگر تھوڑا سا (بچ جائے گا) جو تم محفوظ کر لوگے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر اس کے بعد بہت سخت سات برس آئیں گے، جو کھا جائیں گے جو کچھ تم نے ان کے لیے پہلے رکھا ہوگا مگر تھوڑا سا وہ جو تم محفوظ رکھو گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اس کے بعد سات سال بہت سخت آئیں گے۔ اور جو اناج تم نے ان سالوں کے لئے پہلے سے جمع کیا ہوگا وہ سب کھالیا جائے گا بجز تھوڑے سے اناج کے جو تم (بیج کے لئے) بچالو گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر اس کے بعد سات سخت سال آئیں گے جو، بجز اس قلیل مقدار کے جو تم محفوظ کرلوگے اس کو چٹ کرجائیں گے جو تم نے ان کے لیے فراہم کیا ہوگا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر اس کے بعد سات برس ایسے سختی (اور قحط) کے آئیں گے، جو کھا جائیں گے اس سب غلے کو جو کہ تم نے ان کے لئے جمع کر رکھا ہوگا، سوائے اس تھوڑے سے حصے کہ، جو کہ تم لوگوں نے محفوظ کر رکھا ہوگا،

— مولانا اسحاق مدنی

پھر اس کے بعد سات سال سخت آئیں گے کہ اس (ذخیرہ) کو کھاجائیں گے جو تم نے فراہم کر رکھا ہے بجز اس تھوڑی مقدار کے جو تم (بیج کے واسطے) رکھ چھوڑو گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر اس کے بعد سات سال آئیں گے بہت سخت وہ (سات سال) چٹ کر جائیں گے اس کو جو کچھ تم نے ان کے لیے بچا رکھا ہوگا سوائے اس کے جو تم (بیج کے لیے) محفوظ کرلو گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر اس کے بعد خشک سالی کے ساتھ سات سال آئیں گے کہ جو غلہ تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ اس سب کو کھا جائیں گے صرف وہی تھوڑا سا رہ جائے گا جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then there will follow seven years of great hardship in which you will eat up all you have stored earlier, except the little that you may set aside.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then seven hard years shall come after that, which shall eat up what you have stored for them, except a little which you preserve (to sow).

— Muhammad Taqi Usmani

Then seven hard years shall come after that, which shall eat up what you have stored for them, except a little which you preserve (to sow).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Then will come after that, seven hard (years), which will devour what you have laid by in advance for them, (all) except a little of that which you have guarded (stored)."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then after that will come seven hard years which will devour all that ye have prepared for them, save a little of that which ye have stored.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then will come after that seven difficult [years] which will consume what you saved for them, except a little from which you will store.

— Saheeh International

After this will ensue seven years of famine in which all the grain that you have stored will be consumed except a small quantity.

— Muhammad Sarwar

Then there shall come after that seven years of hardship which shall eat away all that you have beforehand laid up in store for them, except a little of what you shall have preserved:

— Muhammad Habib Shakir

Then thereafter will come seven hard years which will devour that which ye have laid up beforehand for them except a little which ye shall preserve.

— Abdul Majid Daryabadi

"Then will come after that (period) seven dreadful (years), which will devour what ye shall have laid by in advance for them,- (all) except a little which ye shall have (specially) guarded.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:48

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 43–49

شاہ مصر کا خواب اور تلاش تعبیر میں یوسف ؑ تک رسائی قدرت الٰہی نے یہ مقرر رکھا تھا کہ حضرت یوسف ؑ قید خانے سے بعزت و اکرام پاکیزگی برات اور عصمت کے ساتھ نکلیں۔ اس کے لیے قدرت نے یہ سبب بنایا کہ شاہ مصر نے ایک خواب دیکھا جس سے بھونچکا سا ہوگیا۔ دربار منعقد کیا اور تمام امراء، رؤسا، کاہن، منجم اور علماء کو خواب کی تعبیر بیان کرنے والوں کو جمع کیا۔ اور اپنا خواب بیان کر کے ان سب سے تعبیر دریافت کی۔ لیکن کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اور سب نے لاچار ہو کر یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ کوئی باقاعدہ لائق تعبیر سچا خواب نہیں جس کی تعبیر ہو سکے۔ یہ تو یونہی پریشان خواب مخلوط خیالات اور فضول توہمات کا خاکہ ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 47–49

سورة یُوْسُف 41 متن میں لفظ ”یعصرون“ استعمال ہوا ہے جس کے لفظی معنی ”نچوڑنے“ کے ہیں۔ اس سے مقصود یہاں سر سبزی و شادابی کی وہ کیفیت بیان کرنا ہے جو قحط کے بعد باران رحمت اور دریائے نیل کے چڑھاؤ سے رونما ہونے والی تھی۔ جب زمین سیراب ہوتی ہے تو تیل دینے والے بیج اور رس دینے والے پھل اور میوے خوب پیدا ہوتے ہیں، اور مویشی بھی چاہ اچھا ملنے کی وجہ سے خوب دودھ دینے لگتے ہیں۔ حضرت یوسف ؑ نے اس تعبیر میں صرف بادشاہ کے خواب کا مطلب بتانے ہی پر اکتفا نہ کیا، بلکہ ساتھ ساتھ یہ بھی بتادیا کہ خوشحالی کے ابتدائی سات برسوں میں آنے والے قحط کے لیے کیا پیش بندی کی جائے اور غلہ کو محفوظ رکھنے کا کیا بندوبست کیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–49

ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ یعنی پہلے سات سال کے بعد پھر سات سال سخت خشک سالی اور قحط کے آئیں گے جو پچھلے جمع کئے ہوئے ذخیرہ کو کھا جائیں گے خواب میں اس کے مناسب یہی فرمایا کہ قحط کے سال پچھلے سالوں کے جمع کردہ ذخیرہ کو کھاجائیں گے اگرچہ سال تو کوئی کھانے والی چیز نہیں مراد یہی ہے کہ انسان اور جانور قحط کے سالوں میں پچھلے ذخیرہ کو کھا لیں گے قصہ کے سیاق سے ظاہر ہے کہ یہ شخص تعبیر خواب یوسف ؑ سے معلوم کر کے لوٹا اور بادشاہ کو خبر دی وہ اس سے مطمئن اور حضرت یوسف ؑ کے فضل و کمال کا معتقد ہوگیا مگر قرآن کریم نے ان سب چیزوں کے ذکر کرنے کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 47–49

47۔ 49:۔ قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِيْنَ دَاَبًا ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِيْ سُنْۢبُلِهٖٓ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ۔ ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ۔ ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِيْهِ يُغَاثُ النَّاسُ وَفِيْهِ يَعْصِرُوْنَ۔ " تزرعون " ہے تو خبر اسلوب میں لیکن ہے یہ امر کے مفہوم میں۔ ہم دوسرے مقام میں یہ بتا چکے ہیں کہ جب موقع و محل رہنمائی، مشورہ اور ہدایت دینے کا ہو تو ایسے مواقع میں امر کی بجائے خبر کا اسلوب ہی موزوں رہتا ہے۔ قرآن میں اس کی نظیریں بہت ہیں۔ خواب کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 46–48

48۔ 1 حضرت یوسف ؑ کو اللہ تعالیٰ نے علم تعبیر سے بھی نوازی تھا، اس لئے وہ اس خواب کی تہ تک فورا پہنچ گئے انہوں نے موٹی تازہ سات گایوں سے سات سال مراد لئے جن میں خوب پیداوار ہوگی، اور سات دبلی پتلی گایوں سے اس کے برعکس سات سال خشک سالی کے۔ اسی طرح سات سبز خوشوں سے مراد لیا کہ زمین خوب پیداوار دے گی اور سات خشک خوشوں کا مطلب یہ ہے کہ ان سات سالوں میں زمین کی پیداوار نہیں ہوگی۔ اور پھر اس کے لئے تدبیر بھی بتلائی کہ سات سال تم متواتر کاشتکاری کرو اور جو غلہ تیار ہو، اسے کاٹ کر بالیوں سمیت ہی سنبھال کر رکھو تاکہ ان میں غلہ زیادہ محفوظ رہے، پھر جب سات سال قحط کے آئیں گے تو یہ غلہ تمہارے کام آئے گا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 47–49

31: حضرت یوسف ؑ نے خواب کی جو تعبیر دی اس کا خلاصہ یہ تھا کہ آئندہ ساتھ سال تک تو موسم ٹھیک رہے گا جس کے نتیجے میں لوگ خوب غلہ اگائیں گے لیکن اس کے بعد سات سال تک زبردست قحط پڑے گا سات موٹی تازی گائیں جو خواب میں نظر آئی ہیں ان سے مراد سات خوشحالی کے سال ہیں اور جو سات دبلی پتلی گائیں دیکھی گئی ہیں ان سے قحط کے سات سالوں کی طرف اشارہ ہے۔ اب ان سات قحط کے سالوں کا پہلے سے انتظام کرنے کے لیے حضرت یوسف ؑ نے یہ تدبیر بتائی کہ خوشحالی کے سات سالوں میں جتنا غلہ اگے اس میں سے تھوڑا تھوڑا تو اپنے روز مرہ کے کھانے کے لیے نکال لیا جائے اور باقی غلے کو اس کی بالیوں ہی میں پڑا رہنے دیا جائے۔ تاکہ وہ سڑ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ سات سال اس طرح سخت ہوں گے کہ ان میں زرعی پیداوار نہ ہوگی۔ یہ سال سب کچھ کھا جائیں۔ اس سے مقصود یہ ہے کہ یہ سال قحط سالی کے ہوں گے اور ان سے وہی کچھ بچے گا جو تم نے سابقہ سالوں میں محفوظ کرلیا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 47–49

2 یوسف (علیہ السلام) نے تعبیر بتلانے میں دیر نہ کی نہ کوئی شرط لگائی، نہ اس شخص کو شرمندہ کیا کہ تجھ کو اتنی مدت کے بعد اب میرا خیال آیا۔ اس سے انبیاء (علیہم السلام) کے اخلاق و مروت کا اندازہ ہوتا ہے۔ پھر وہ صرف خواب کی تعبیر مانگتا تھا۔ آپ نے تین چیزیں عطا فرمائیں۔ تعبیر، تدبیر، تبشیر، آپ کے کلام کا حاصل یہ تھا کہ سات موٹی گائیں اور سات ہری بالیں سات برس ہیں، جن میں متواتر خوشحالی رہے گی، کھیتوں میں خوب پیداوار ہوگی، حیوانات و نباتات خوب بڑھیں گے، اس کے بعد سات سال قحط ہوگا جس میں سارا پچھلا اندوختہ کھا کر ختم کر ڈالو گے۔ صرف آئندہ تخم ریزی کے لیے کچھ تھوڑا سا باقی رہ جائے گا۔ یہ سات سال…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 48 ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ خوشحالی کے سات سالوں کے بعد سات سال تک خشک سالی کا سماں ہوگا جس کی وجہ سے ملک میں شدید قحط پڑجائے گا۔ يَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ حضرت یوسف نے خواب کی تعبیر یہ بتائی کہ سات سال تک ملک میں بہت خوشحالی ہوگی فصلیں بہت اچھی ہوں گی مگر ان سات سالوں کے بعد سات سال ایسے آئیں گے جن میں خشک سالی کے سبب شدید قحط پڑجائے گا۔ اس مسئلے کی تدبیر آپ نے یہ بتائی کہ پہلے سات سال کے دوران صرف ضرورت کا اناج استعمال کرنا اور باقی سٹوں کے اندر ہی محفوظ کرتے جانا اور جب قحط کا زمانہ آئے تو ان سٹوں سے نکال کر بقدر…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 48–49

48 اس آیت کے مطابق سیدنا یوسف نے جو خوشخبری سنائی یہ بادشاہ کے خواب یا اس کی تعبیر کا حصہ نہیں تاہم اللہ نے جو علم آپ کو عطا فرمایا تھا۔ اس کے مطابق آپ نے لوگوں کو یہ بشارت بھی دے دی کہ ان چودہ سالوں کے بعد پندرہواں سال ایسا آئے گا جس میں خوب باران رحمت ہوگی اور جن جن چیزوں کو نچوڑ کر ان سے روغن یا رس حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ایسے سب غلوں اور پھلوں کی افراط سے پیداوار ہوگی۔ کھیتی باڑی بکثرت ہوگی۔ جانوروں کے تھن دودھ سے بھر جائیں گے اور بالخصوص انگور وغیرہ کو نچوڑ کر لوگ شراب کشید کریں گے۔ یہ آخری بات سائل کے حسب حال بیان فرمائی کیونکہ وہ یہی کام کرتا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

96۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) آخر نبی ہی تھے یا اس وقت ہونے والے نبی تھے آپ (علیہ السلام) کے اخلاق کی بلندی کا کیا کہنا ساقی سے اس کی مجرمانہ غفلت پر کسی قسم کے شکوہ وشکایت کے بجائے پوری خوش دلی کے ساتھ اسے تعبیر بتادیتے ہیں۔ اور تعبیر ہی پر اکتفا نہیں کرتے ساتھ ہی ساتھ اور بلا سوال و درخواست انتظام قحط کی تدبیر بھی بتائے جاتے ہیں ! توریت کے طول طویل بیان کے لئے ملاحظہ ہو (پیدائش 41: 25۔ 26)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 43–52

آیت نمبر 43 تا 52 ترجمہ : مصر کے بادشاہ ریان بن ولید نے کہا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات فربہ گایوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں (عجاف) عجفاء کی جمع ہے اور سات ہری بالیں ہیں اور دوسری سات خشک بالیں ہیں اور سوکھی بالیں ہری بالوں پر لپٹی ہوئی ہیں اور سوکھی بالیں ہری بالوں پر غالب آگئی ہیں، اے درباریو تم میرے خواب کی تعبیر بتاؤ، اگر تم تعبیر بتاسکتے ہو تو بتاؤ درباریوں نے خواب دیا یہ منتشر خیالات کے خواب ہیں اور ہم منتشر خیالات کے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے، اور اس نوجوان نے جو دو نوجوانوں میں سے (جیل سے) رہا ہوا تھا اور وہ ساقی تھا جس کو ایک مدت دراز کے بعد یوسف (علیہ السلام) کا حال یاد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم یاتي من بعد ذلک سبع شداد یاکلن ما قدمتم لھن پھر اس کے بعد سات برس بہت سخت آئیں گے کہ جو تم نے ان کیلئے پہلے سے جمع کر رکھا ہوگا ‘ اس کو کھا جائیں گے۔ یعنی ان سالوں میں لوگ پچھلا اندوختہ کھا جائیں گے۔ خواب کے ساتھ تعبیر کے مطابق بنانے کیلئے کھانے کی نسبت قحط کے سالوں کی طرف کی ‘ ورنہ کھانے والے لوگ ہوتے ہیں ‘ سال نہیں کھایا کرتے۔ الا قلیلا مما تحصنون مگر تھوڑا سا حصہ (کھانے سے محفوظ رکھا) جو بیج کیلئے تو بچا رکھو گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 48–49

(48۔ 49) پھر ان خوشحالی کے ساتھ سالوں کے بعدقحط کے سخت ترین سات سال آئیں گے جو اس خوشحالی کے تمام جمع کردہ ذخیرہ کو کھاجائیں گے جس کو تم نے ان قحط کے سالوں کے لیے جمع کر رکھا تھا، البتہ تھوڑا سا جو محفوظ کرلو گے۔ اور پھر ان سات سالوں کے بعد ایک سال ایسا آئے گا جس میں مصر والوں کے لیے خوب بارش اور پیداوار ہوگی اور انگوروں کا رسل بھی نچوڑیں گے اور زیتون وغیرہ کا تیل بھی نکالیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ۔۔ :”تُحْصِنُوْنَ“ ”حِصْنٌ“ قلعے کو کہتے ہیں، مراد حفاظت سے رکھنا ہے، یعنی خوش حالی کے سات سالوں کا ذخیرہ تم لوگ قحط کے سات سالوں میں چٹ کر جاؤ گے، مگر وہ تھوڑا سا جو تم آئندہ سال کے بیج کے لیے بڑی محنت سے بچا کر محفوظ رکھو گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 48 اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : سبع شداد یعنی قحط والے سال۔ یاکلن مجاز ہے اور معنی ہوگا یاکلن أھلھن، ما قدمتم لھن یعنی جو تم نے اپنے لیے ذخیرہ کیا ہوا ہوگا۔ جس طرح کہ کہنے والے کا قول : نھارک یا مغرور سھو وغفلۃ ولیلک نوم والردی لک لازم اے مغرور ! تیرا دن بھول اور غفلت ہے اور تیری رات نیند ہے اور گھٹیا پن تجھے لازم ہے۔ (سہود غفلت کی نسبت دن کی طرف اور نیند کی نسبت رات کی طرف) حالانکہ دن نہیں بھولتا اور رات نہیں سوتی بلکہ دن میں بھولا جاتا ہے اور رات میں سویا جاتا ہے۔ حضرت زید بن اسلم نے اپنے باپ سے بیان کیا : حضرت یوسف (علیہ السلام) دو آدمیوں کا کھانا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 47–49

1:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے تعجب کیا یوسف (علیہ السلام) کے اور ان کے صبر اور ان کے کرم پر اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ جب ان سے دبلی اور موٹی گائیوں کے بارے میں پوچھا گیا اگر میں ان کی جگہ پر ہوتا اور اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے جب ان کے پاس قاصد آیا تھا تو میں بھاگ جاتا دروازے کی طرف (یعنی جیل سے نکل جانے میں جلدی کرتا) لیکن انہوں نے ارادہ کیا کہ ان کے لئے ایک عذر ہوجائے (یعنی وہ بےقصور ثابت ہوجائیں۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) ان کو خواب کی تعبیر دینے پر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ثُمَّ : پھر ] [ يَاْتِيْ : آئیں گے ] [ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ : اس کے بعد ] [سَبْعٌ شِدَادٌ: سات شدید (سال)] [ يَّاْكُلْنَ : وہ کھائیں گے ] [ مَا : اس کو جو ] [ قَدَّمْتم : تم لوگوں نے آگے بھیجا (یعنی بچا رکھا)] [لَهُنَّ : ان (سالوں) کے لئے ] [اِلَّا : مگر ] [ قَلِيْلًا : تھوڑا سا ] [ مِّمَا : اس میں سے جو ] [ تُحْصِنُوْنَ : تم لوگ محفوظ رکھو گے (ہم کے لئے)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 44–50

بادشاہ کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کو طلب کرنا اور آپ کا تحقیق حال کے بغیر جیل سے باہر آنے سے انکار فرمانا جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ کے خواب کی تعبیر دے دی اور جو شخص تعبیر پوچھنے کے لیے آیا تھا اس نے واپس جا کر تعبیر بتادی تو لوگوں کی سمجھ میں بات آگئی اور بادشاہ نے سمجھ لیا کہ واقعی یہ تعبیر بتانے والا کوئی صاحب علم ہے جو تعبیر خواب کے فن میں ماہر ہے۔ اس نے صرف تعبیر ہی نہیں دی بلکہ معیشت پر قابو پانے کا طریقہ بھی بتادیا کہ پہلے سات سال کی پیداوار کو محفوظ رکھنا اور دانوں کو بالوں کے اندر ہی رہنے دینا تاکہ اسے کیڑا نہ کھاجائے اس پر بادشاہ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ملاقات کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 43–49

شاہ مصر کا خواب دیکھنا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اس کی تعبیر بتانا قال اللہ تعالیٰ وقال الملک انی اری سبع بقرت .... الیٰ .... وفیہ یعصرون۔ (ربط) حو جل شانہ جب کوئی کام کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ایسے اسباب بھی پیدا فرما دیتے ہیں جن کی طرف آدمی کا خیال بھی نہیں جاتا چناچہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو قید خانہ سے نجات دلانا منظور ہوا تو بادشاہ مصر ریان بن ولید کو ایک خواب دکھایا جو ان کی رہائی اور ظاہری عروج کا سبب بنا اور بادشاہ نے ایسا عجیب خواب دیکھا جس کی تعبیر سے تمام معتبر عاجز آگئے اس خواب کی تعبیر کسی کی سمجھ میں نہیں آئی تو اس وقت اس ساقی کو یوسف (علیہ السلام) یاد آئے اور اس نے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 47–49

42:۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے شاہ مصر کے خواب کی تعبیر اس طرح بیان فرمائی کہ پہلے سات سال تک تم لوگ حسب عادت کھیتی باڑی کرو گے اور غلہ اگاؤ گے لیکن ایسا کرنا کہ خوشوں سے دانے نہ نکالنا بلکہ خوشوں ہی کا ذخیرہ کرلینا تاکہ غلہ خراب نہ ہو اور اسے کیڑا نہ لگ جائے البتہ کھانے کے لیے جس قدر غلہ درکار ہو وہ خوشوں سے نکال لینا۔ ” ثُمَّ یَاْتِیْ الخ “ پھر اس کے بعد سات سال سخت قحط کے آئیں گے ان میں تم اپنا پہلے سات سالوں کا تمام ذخیرہ ختم کر ڈالو گے پھر اس کے بعد خوشحالی کا دور شروع ہوگا، بارش خوب ہوگی اور پھل میوے اور غلے وافر پیدا ہوں گے۔ خواب سے سات سال خوشحالی اور غلہ کی فراوانی کے اور پھر سات…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 43–49

بادشاہ کا خواب گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ساتھی قیدیوں کو ان کے خوابوں کی بالکل سچی تعبیر بتائی۔ پھر جو شخص بری ہو کر اپنی ڈیوٹی پر واپس جانے والا تھا اس کو بادشاہ سے سفارش کے لئے بھی کہا مگر وہ شاہی دربار میں پہنچ کر یوسف (علیہ السلام) کی بات کو فراموش کر بیٹھا۔ پھر سات ، نو یا بارہ سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بادشاہ مصر کو ایک خواب آیا جس سے وہ پریشان ہوگیا اور اس نے اپنے درباریوں سے اس خواب کی تعبیر دریافت کی درباریاس کی تعبیر سے عاجز آگئے اور کہنے لگے کہ یہ بےمعنی خواب ہے اس قسم کے پریشان خواب اکثر آیا کرتے ہیں مگر بادشاہ کی تسلی نہ ہوئی۔ اس دوران میں قید سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَہُنَّ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ۝ 48 أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے اور اس سے بطور تشبیہ مسافر کو اتاوی کہہ دیتے ہیں ۔ الغرض اتیان کے معنی " آنا " ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 48–50

2 ؎ یعنی وہ جو تخم ریزی کیلئے رکھ چھوڑو گے یا جو بڑی احتیاط سے جمع رکھا جاتا ہے۔ 12 منہ 2 ؎ حساب کتاب سے بھی واقف ہوں یا یہ کہ حفاظت کے طریقے خوب جانتا ہوں۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 47–49

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا ج فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْہُ فِیْ سُنْبُلِہٖٓ اِلاَّ قَلِیْلاً مِّمَّا تَاْکُلُوْنَ ۔ ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْ م بَعْدِ ذٰلِکَ سَبْعٌ شِدَادٌیَّاْکُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَھُنَّ اِلاَّ قَلِیْلاً مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ ۔ ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْ م بَعْدِ ذٰلِکَ عَامٌ فِیْہِ یُغَاثُ النَّاسُ وَفِیْہِ یَعْصِرُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 47، 48، 49) (آپ نے فرمایا، تم سات سال برابر کاشت کرو گے، تو جو تم کاٹو گے اسے رہنے دو اس کے خوشوں میں، مگر تھوڑا سا (ضرورت کے لیے نکال لو) جسے تم کھائو۔ پھر آئیں گے اس خوشحالی کے بعد سات سال بہت سخت۔ وہ کھا جائیں گے جو ذخیرہ تم نے پہلے جمع…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 46–49

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ رہائی پانے والے قیدی کا جیل میں آنا اور یوسف (علیہ السلام) کو آواز دینا۔ بادشاہ کا غلام جو حضرت یوسف کا قید میں ساتھی تھا بھاگم بھاگ یوسف (علیہ السلام) کی بیرک کے دروازے پر پہنچ کر آواز دیتا ہے کہ اے سچ بولنے والے یوسف ہمیں اس خواب کی تعبیر بتلا کہ سات موٹی گائیں ہیں جنہیں پتلی دبلی سات گائیں کھائے جا رہی ہیں اور سات سبزو شاداب بالیاں ہیں اور سات بالیاں سوکھی ہوئی ہیں۔ ازراہ کرم مجھے ان کی حقیقت بتلا تاکہ میں واپس جا کر لوگوں کو بتلاؤں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خواب کی تعبیر بتلاتے ہوئے فرمایا ” کہ پہلے تم سات سال کھیتی باڑی کرو گے۔ ان سات سالوں میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

48: ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْ کُلْنَ (پھر اس کے بعد سات بہت سخت سال آئیں گے جو کھا جائیں گئے) یہاں یَاْکُلْنَمیں کھانے کی نسبت مجازاً سالوں کی طرف کردی۔ مَاقَدَّمْتُمْ لَھُنَّ (جو تم نے ان کے لئے پہلے سے جمع کر رکھا ہوگا) یعنی سرسبزی والے سالوں میں اِلَّا قَلِیلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ (مگر تھوڑا جو تم بچا کر رکھو گے) مگر تھوڑا جو تم جمع کروگے اور چھپا کر رکھو گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

48۔” ثم یات یمن بعد ذلک سبع شداد “ قحط کے سالوں کا نام شداد رکھا ہے کیونکہ وہ لوگوں پر صحت ہوتے ہیں ۔ ” یاکلن “ یعنی فنا کردیں گے۔ ” ما قدمتم “ ان سالوں میں وہ غلہ کھایا جائے گا جو تم نے پہلے سے تیار کر رکھا تھا۔ کھانے کی نسبت السنین کی طرف کی ہے بطور توشع کے۔” الا قیلا مما تحصنون “ جو تم بیج کے لیے ذخیرہ کرلو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 44–49

44۔ 49۔ اوپر کی آیت میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ بادشاہ مصر نے ایک خواب دیکھا تھا کہ سات گائیں موٹی موٹی ہیں جن کو سات گائیں دبلی دبلی کھا رہی ہیں اور سات بالیں ہری ہری ہیں جن کو سوکھی بالیں کھا گئیں جس کی تعبیر اپنے اہل دربار اور کاہنوں سے اس نے دریافت کی تھی ان لوگوں نے بادشاہ کے سوال کا یہ جواب دیا کہ یہ خواب آپ کا محض خیال ہے جس کی تعبیر ہمارے علم و قیاس سے باہر ہے ہم کچھ نہیں بتلا سکتے غرض انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اس خواب کی تعبیر ہی نہیں ہے بلکہ یہ کہا کہ { وما نحن بتاویل الاحلام بعلمین } جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اس قدر علم نہیں ہے کہ اس کی تعبیر بیان کریں اور مطلب اس گفتگو سے ان کا یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

ثم یاتی من بعد ذلک) ’ د پھر سا کے بعد آئیں گے۔ “ یعنی شادبای کے ان سات سالوں کے بعد (سبع شداد) ” خشک سالی اور سخت قحط کے سات سال آئیں گے۔ “ (یاکلن ماقدمتم لھن) (یعنی قحط کے یہ سات سال) ’ دوہ سب کچھ کھا جائیں گے جو کچھ تم نے ذخیرہ کیا ہوگا “ خواہ کتنا ہی زیادہ ذخیرہ کیوں نہ کیا ہو۔ (الا قلیلاً مما تحصنون) ” مگر تھوڑا سا جو روک رکھو گے تم بیج کے واسطے “ یعنی جنہیں تم اصلی فصل کی تیاری کے لئے روک کر رکھو گے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 42–49

فانساہ الشیطن کے دو مفہوم قول باری ہے وقال للذین ظن انہ تاج منھما اذکرنی عند ربک فانساہ الشیطن ذکر ربہ فلبث فی السجن بضع سنین ۔ پھر ان میں سے جس کے متعلق خیال تھا کہ وہ رہا ہوجائے گا اس سے یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ اپنے رب شاہ مصر سے میرا ذکر کرنا۔ مگر شیطان نے اسے ایسا غفلت میں ڈالا کہ وہ اپنے رب شاہ مصر سے اس کا ذکر کرنا بھول گیا اور یوسف کئی سال قید میں پڑا رہا ۔ یہاں ظن یقین کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اس لیے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خواب کی اس تعبیر کے وقوع پذیرہونے کا یقین تھا جو آپ نے اسے بتائی تھی ۔ یہاں ظن بمعنی یقین کے استعمال کی مثال یہ آیت ہے۔ انی ظنت انی ملاق حسابیہ مجھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

82۔ سالوں کے جمع شدہ غلہ کھاجانے کا مطلب : یہ اسناد مجازی ہے۔ یعنی قحط کے ان سات سالوں میں تم اپنا وہ سب غلہ کھالوگے جو تم نے اس سے پہلے جمع کر رکھا ہوگا۔ کیونکہ سال کوئی ایسی چیز نہیں جو غلہ کھا سکے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس دوران انسان اور جانور وہ جمع شدہ غلہ کھالیں گے۔ (معارف القرآن وغیرہ) سو اس سے خواب کے دوسرے حصے کی تعبیر بتائی گئی کہ سات متواتر سال نہایت قحط کے آئیں گے جو اس سارے ذخیرے کو چٹ کرجائیں گے جو تم نے ان کے لیے جمع کیا ہوگا بجز ایک تھوڑے سے حصے کے۔ کہ وہ محفوظ رہیگا اور مشکل وقت میں تم لوگوں کو کام آئیگا۔ 83۔ قحط کے زمانہ میں کام آنے والے غلے کے استثناء کا ذکر وبیان : چنانچہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–57

انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔ تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 43–49

آیات 43 تا 49 اسرار و معارف اللہ کریم کا اپنا نظام ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کوشش فرمائی تو ساقی کو شیطن نے بات ہی بھلادی مگر جب رہائی کا وقت آیا تو اللہ کریم کی طرف سے غیبی سامان ہونے لگا کہ شاہ مصرنے ایک عجیب خواب دیکھا اور صبح دم بہت گھبرایا ہوا اٹھا درباری علماء یا بخومی وکاہن جمع کئے اور کہنے لگا کہ میں نے خواب میں سات موٹے بیل دیکھے جنہیں دوسرے سات کمزور اور دبلے پتلے بیل کھا رہے تھے اور سات سرسبز بالیں دیکھی ہیں جن کے ساتھ دوسری سات خشک تھیں اس کی تعبیر بتائی جائے۔ وہ سب بھی حیران ہوگئے بات کسی کے پلے نہ پڑی اور کہہ دیا کہ حضور ! یہ محض پریشان خیالی ہے آپ اسے بھول جائیے ۔ یہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(12:48) سبع شداد۔ سات سال بہت سخت۔ یاکلن۔ مضارع جمع مؤنث غائب اکل سے وہ کھائیں جائیں گی۔ یعنی یہ سات سال قحط کے کھا جائیں گے (جوان سالوں میں استعمال کے لئے تم نے ذخیرہ کر رکھا ہوگا۔ ماقدمتم۔ جو تم نے پہلے سے رکھ چھوڑا ہوگا۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ تقدیم (تفعیل) مصدر جس کے معنی پہلے سے کرنا ۔ پہلے سے بھیجنا۔ پہلے زمانہ میں کر چکنے کے ہیں ۔ ما تحصنون۔ جو تم بچا رکھو گے۔ جو تم محفوظ رکھو گے۔ احصان (افعال) سے مضارع جمع مذکر حاضر۔ الا قلیلا مما تحصنون۔ صرف وہی تھوڑا سا رہ جائے گا جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے۔ حصن مادہ۔ اس کے تمام مشتقات میں حفاظت۔ بچاؤ۔ احتیاط کا پہلو ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 43–49

لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 49 الملک بادشاہ سبع سات بقرات (بقرۃ) ، گائیں سمان موٹی تازی، فربہ عجاف دبلی پتلی سنبلت (سنبلۃ) گیہوں کی بالیں جس میں دانہ ہوتا ہے خضرت ہرا بھرا یبست خشک افتونی مجھے بتاؤ رویائی میرا خواب تعبرون تم تعبیر دیتے ہو اضغاث پریشان خیالات ، فضول خیالات احلم (حلم) ۔ خیالات اداکر یاد کیا بعدامۃ مدت کے بعد ارسلون مجھے بھیج دے ارجع میں لوٹوں گا تزرعون تم کھیتی باڑی کرو گے داب لگاتار مسلسل حسدتم تم نے کھیتی کاٹی ذروہ اس کو چھوڑ دو سبع شداد سخت سات (سال) قدمتم تم نے آگے بھیجا تحصنون تم بچاؤ گے عام سال یاغث بارش برسائی جائے گی یعصرون وہ نچوڑیں گے تشریح : آیت نمبر 43 تا 49 کائنات…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 44–49

بادشاہ مصر کی خواب کی تعبیر کا جواب مع تدبیر کے اوپر کی آیت میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ انہوں نے کہا :'' یہ بھی کچھ خواب ہے، یونہی دماغی بخارات ہیں اور ایسے خوابوں کی تعبیر ہم نہیں جانتے ''۔ ساقی کو مدت دراز کے بعد یوسف (علیہ السلام) کا پیام یاد آیا تو بادشاہ سے کہا :'' میں اس کی تعبیر بتاؤں گا، مجھے قید خانہ تک جانے دیجئے۔ وہاں ایک شخص ہے کہ علم تعبیر کو خوب جانتا ہے ''۔ بادشاہ یہ خبر سن کر نہایت خوش ہوا اور فرمایا کہ جلدی اٹھ اور خبر لا۔ تو ساقی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس گیا اور زمین خدمت کو بوسہ دے کر عرض کیا کہ اے صدیق ! یعنی بڑے سچے ہمیں ذرا ایک خواب کی تعبیر تو بتایئے۔ ہمارے بادشاہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 36–56

[17] یعنی عملاً یوسف (علیہ السلام) کو ملک کے سیاہ وسفید کا مالک بنادیا۔ تورات میں ہے کہ بادشاہ نے اپنے درباریوں سے کہا کہ ہم ایسا آدمی کہاں پاسکتے ہیں جیسا یہ ہے اور جس میں اللہ کی روح بول رہی ہے۔ پھر یوسف (علیہ السلام) سے کہا، '' دیکھ میں نے ساری زمین مصر پر تجھے حکومت بخشی۔ فقط ایک تخت نشینی ہی میں میں تجھ سے اوپر رہوں گا۔ '' اور اس نے اپنی انگوٹھی اتار کر یوسف (علیہ السلام) کو پہنا دی اور گلے میں سونے کا طوق ڈالا اور حکم دیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو صاحب مملکت کے لقب سے پکارا جائے۔ (پیدائش 37: 41)

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 44–49

تعبیر کا ایک اصول : (ف 1) حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خوابوں کی جو تعبیریں ، بتائی ہیں ، ان کو اصل خواب کی ہیئت کے ساتھ گہرا تعلق ہے ، اور معلوم ہوتا ہے کہ ان خوابوں کی یہی تعبیریں ہوسکتی ہیں ، مثلا جو شراب نچوڑ رہا ہے ، وہ ساقی ہے جس کے سر پر سے پرندے روٹیاں نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں ، وہ سولی دیا جائے گا اور پرندوں کا طعمہ بنے گا ، اسی طرح بادشاہ کا خواب جو قحط کی پیشگوئی ہے کس قدر واضح ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تعبیر کا علم گو وجدان ہے لیکن یہ مسلم ہے کہ خواب کی کیفیت اور تعبیر میں ایک ربط ہونا چاہئے ، یہ ربط جس قدر صحیح ہوگا اسی قدر صحت کا گمان غالب ہوگا ، یہ ایک اصول ہے جس نے فن تعبیر پر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

48 ۔ پھر ان سات سال کے بعد سات سال ایسے سخت آئیں گے کہ جو کچھ تم نے دخیرہ کر رکھا ہوگا اس کو یہ سخت سال کھا جائیں گے الا یہ کہ تھوڑا سا غلہ بچ جائے گا جس کو تم احتیاط سے بچا لو گے۔ یعنی سات سال کے بعد سات سال سخت قحط کے آئیں گے اس میں جو کچھ اندوختہ تم نے کر رکھا ہوگا وہ سب کھالو گے سوائے اس کے کہ کچھ تخم پاشی کے لئے بچا لو تو بچا لو اور بیچ ڈالنے کے لئے جتنا بچ جائے اتنا بچ جائے ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خواب کی تعبیر بتائی اور نیک مشورہ بھی دیا اور ساقی کو بھولنے کا طعنہ بھی نہیں دیا تعبیر بھی بےتکلف بتادی اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ایسے ہوا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 44–49

ف 1۔ دو جواب اس لیے دیے کہ اول جواب سے بادشاہ کے قلب سے پریشانی اور وسواس دور کرنا ہے اور دوسرے جواب سے اپناعذر ظاہر کرنا ہے خلاصہ یہ کہ اول تو ایسی خواب قابل تعبیر نہیں دوسرے ہم اس فن سے واقف نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سات سال گزرنے کے بعد قحط کے سال ائٓیں گے ان کی تیاری کرو ۔ 60 اس کے بعد سات برس بہت سخت مصیبت کے آئیں گے وہ تمہارا جمع کیا ہوا تمام ذخیہ ختم کردیں گے جو تم نے پہلے سات سالوں میں جمع کیا ہوگا مگر ہاں تھوڑا سا جو تم روک رکھو گے بچ رہے گا تاکہ وہ ان سخت سالوں کے گزر جانے کے بعد خوش حالی کے سال میں بیج وغیرہ کے کام دے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–49

Said in verse 48 was: ثُمَّ يَأْتِي مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَأْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ (Then there shall come, after that, seven hard years which shall eat up what you have stored for them). Since, seen in the dream was that seven lean cows ate up the seven fat ones, therefore, while giving his interpretation of the dream, he considered it appropriate to say that the years of the famine will eat up what they had stored over the past years. Though, an year is no eatable, the sense is that the people and animals will eat up during the time of famine whatever grain was stored…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–49

41. The literal meaning of yasiroon is:“they will press.”Here it has been used to denote that state of verdure which was going to prevail after the famine years because of rainfall and flood in the Nile. For, when the land will be watered, there will be abundance of seed to press oil, and abundance of fruit to press juice and abundance of fodder for cattle to press milk out of them. It should be noted that Prophet Joseph not only interpreted the king’s dream but also told them how to preserve and reserve grain during the first seven years of prosperity for the subsequent seven years of…

Read the full tafseer →