Explained with ayahs 43–49
شاہ مصر کا خواب اور تلاش تعبیر میں یوسف ؑ تک رسائی
قدرت الٰہی نے یہ مقرر رکھا تھا کہ حضرت یوسف ؑ قید خانے سے بعزت و اکرام پاکیزگی برات اور عصمت کے ساتھ نکلیں۔ اس کے لیے قدرت نے یہ سبب بنایا کہ شاہ مصر نے ایک خواب دیکھا جس سے بھونچکا سا ہوگیا۔ دربار منعقد کیا اور تمام امراء، رؤسا، کاہن، منجم اور علماء کو خواب کی تعبیر بیان کرنے والوں کو جمع کیا۔ اور اپنا خواب بیان کر کے ان سب سے تعبیر دریافت کی۔ لیکن کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اور سب نے لاچار ہو کر یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ کوئی باقاعدہ لائق تعبیر سچا خواب نہیں جس کی تعبیر ہو سکے۔ یہ تو یونہی پریشان خواب مخلوط خیالات اور فضول توہمات کا خاکہ ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
سورة یُوْسُف 41
متن میں لفظ ”یعصرون“ استعمال ہوا ہے جس کے لفظی معنی ”نچوڑنے“ کے ہیں۔ اس سے مقصود یہاں سر سبزی و شادابی کی وہ کیفیت بیان کرنا ہے جو قحط کے بعد باران رحمت اور دریائے نیل کے چڑھاؤ سے رونما ہونے والی تھی۔ جب زمین سیراب ہوتی ہے تو تیل دینے والے بیج اور رس دینے والے پھل اور میوے خوب پیدا ہوتے ہیں، اور مویشی بھی چاہ اچھا ملنے کی وجہ سے خوب دودھ دینے لگتے ہیں۔
حضرت یوسف ؑ نے اس تعبیر میں صرف بادشاہ کے خواب کا مطلب بتانے ہی پر اکتفا نہ کیا، بلکہ ساتھ ساتھ یہ بھی بتادیا کہ خوشحالی کے ابتدائی سات برسوں میں آنے والے قحط کے لیے کیا پیش بندی کی جائے اور غلہ کو محفوظ رکھنے کا کیا بندوبست کیا…
Read the full tafseer →بادشاہ کے خواب میں تو بظاہر اتنا ہی معلوم ہوا تھا کہ سات سال اچھی پیداوار کے ہوں گے پھر سات سال قحط کے مگر یوسف ؑ نے اس پر ایک اضافہ یہ بھی بیان فرمایا کہ قحط کے سال کے بعد پھر ایک سال خوب بارش اور پیداوار کا ہوگا، اس کا علم یوسف ؑ کو یا تو اس سے ہوا کہ جب قحط کے سال کل سات ہی ہیں تو عادۃ اللہ کے مطابق آٹھواں سال بارش اور پیداوار کا ہوگا اور حضرت قتادہ ؒ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی یوسف ؑ کو اس پر مطلع کردیا تاکہ تعبیر خواب سے بھی کچھ زیادہ خبر ان کو پہنچنے جس سے یوسف ؑ کا فضل و کمال ظاہر ہو کر ان کی رہائی کا سبب بنے اور اس پر مزید یہ ہوا کہ حضرت یوسف ؑ نے صرف تعبیر خواب ہی پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
47۔ 49:۔ قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِيْنَ دَاَبًا ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِيْ سُنْۢبُلِهٖٓ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ۔ ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ۔ ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِيْهِ يُغَاثُ النَّاسُ وَفِيْهِ يَعْصِرُوْنَ۔
" تزرعون " ہے تو خبر اسلوب میں لیکن ہے یہ امر کے مفہوم میں۔ ہم دوسرے مقام میں یہ بتا چکے ہیں کہ جب موقع و محل رہنمائی، مشورہ اور ہدایت دینے کا ہو تو ایسے مواقع میں امر کی بجائے خبر کا اسلوب ہی موزوں رہتا ہے۔ قرآن میں اس کی نظیریں بہت ہیں۔
خواب کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
48۔ 1 حضرت یوسف ؑ کو اللہ تعالیٰ نے علم تعبیر سے بھی نوازی تھا، اس لئے وہ اس خواب کی تہ تک فورا پہنچ گئے انہوں نے موٹی تازہ سات گایوں سے سات سال مراد لئے جن میں خوب پیداوار ہوگی، اور سات دبلی پتلی گایوں سے اس کے برعکس سات سال خشک سالی کے۔ اسی طرح سات سبز خوشوں سے مراد لیا کہ زمین خوب پیداوار دے گی اور سات خشک خوشوں کا مطلب یہ ہے کہ ان سات سالوں میں زمین کی پیداوار نہیں ہوگی۔ اور پھر اس کے لئے تدبیر بھی بتلائی کہ سات سال تم متواتر کاشتکاری کرو اور جو غلہ تیار ہو، اسے کاٹ کر بالیوں سمیت ہی سنبھال کر رکھو تاکہ ان میں غلہ زیادہ محفوظ رہے، پھر جب سات سال قحط کے آئیں گے تو یہ غلہ تمہارے کام آئے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
31: حضرت یوسف ؑ نے خواب کی جو تعبیر دی اس کا خلاصہ یہ تھا کہ آئندہ ساتھ سال تک تو موسم ٹھیک رہے گا جس کے نتیجے میں لوگ خوب غلہ اگائیں گے لیکن اس کے بعد سات سال تک زبردست قحط پڑے گا سات موٹی تازی گائیں جو خواب میں نظر آئی ہیں ان سے مراد سات خوشحالی کے سال ہیں اور جو سات دبلی پتلی گائیں دیکھی گئی ہیں ان سے قحط کے سات سالوں کی طرف اشارہ ہے۔ اب ان سات قحط کے سالوں کا پہلے سے انتظام کرنے کے لیے حضرت یوسف ؑ نے یہ تدبیر بتائی کہ خوشحالی کے سات سالوں میں جتنا غلہ اگے اس میں سے تھوڑا تھوڑا تو اپنے روز مرہ کے کھانے کے لیے نکال لیا جائے اور باقی غلے کو اس کی بالیوں ہی میں پڑا رہنے دیا جائے۔ تاکہ وہ سڑ…
Read the full tafseer →یہاں حضرت یوسف خواب کی تعبیر بھی بتاتے ہیں اور ساتھ ہی تجاویز اور مشورے بھی دیتے ہیں۔
یوسف نے کہا سات برس تک لگاتار تم کھیتی باڑی کرتے رہوگے ، یعنی مسلسل اور پے در پے۔ یہ سرسبز اور شاداب سال ہوں گے اور ان کی طرف " بقرات سمان " سے اشارہ کیا گیا تھا۔
اس دوران میں جو فصلیں تم کاٹو ان میں سے بس تھوڑا سا حصہ ، جو تمہاری خوراک کے کام آئے ، نکالو اور باقی کو اس کی بالیوں ہی میں رہنے دو ۔ یعنی ان سالوں میں جو فصل تم کاٹو اسے خوشوں کے اندر چھوڑ دو تاکہ وہ حشرات ارض اور دوسرے موسمی اثرات سے محفوظ رہیں۔ ہاں جسے تم نے استعمال کرنا ہے اسے صاف کرو لیکن استعمال شدہ حصہ تھوڑا ہونا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
2 یوسف (علیہ السلام) نے تعبیر بتلانے میں دیر نہ کی نہ کوئی شرط لگائی، نہ اس شخص کو شرمندہ کیا کہ تجھ کو اتنی مدت کے بعد اب میرا خیال آیا۔ اس سے انبیاء (علیہم السلام) کے اخلاق و مروت کا اندازہ ہوتا ہے۔ پھر وہ صرف خواب کی تعبیر مانگتا تھا۔ آپ نے تین چیزیں عطا فرمائیں۔ تعبیر، تدبیر، تبشیر، آپ کے کلام کا حاصل یہ تھا کہ سات موٹی گائیں اور سات ہری بالیں سات برس ہیں، جن میں متواتر خوشحالی رہے گی، کھیتوں میں خوب پیداوار ہوگی، حیوانات و نباتات خوب بڑھیں گے، اس کے بعد سات سال قحط ہوگا جس میں سارا پچھلا اندوختہ کھا کر ختم کر ڈالو گے۔ صرف آئندہ تخم ریزی کے لیے کچھ تھوڑا سا باقی رہ جائے گا۔ یہ سات سال…
Read the full tafseer →فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِيْ سُنْۢبُلِهٖٓ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ
آپ نے صرف اس خواب کی تعبیر ہی نہیں بتائی بلکہ مسئلے کی تدبیر بھی بتادی اور تدبیر بھی ایسی جو شاہی مشیروں کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتی تھی۔ آج کے سائنسی تجربات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اناج کو محفوظ کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ اسے سٹوں کے اندر ہی رہنے دیا جائے اور ان سٹوں کو محفوظ کرلیا جائے۔ اس طرح سے اناج خراب نہیں ہوتا اور اسے کیڑوں مکوڑوں سے بچانے کے لیے کسی اضافی preservative کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔
Read the full tafseer →47 سیدنا یوسف کا خواب کی تعبیر اس کا علاج اور پیش آنیوالے سب حالات بتلا دینا :۔ سیدنا یوسف (علیہ السلام) نے فوراً اس خواب کی تعبیر بتادی۔ پھر صرف تعبیر ہی نہیں بتائی بلکہ اس پیش آنے والی مصیبت کا ساتھ ہی ساتھ علاج بھی تجویز فرما دیا اور یہی وہ پیغمبرانہ فراست یا اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ علم تھا جو آپ کے انتہائی بلندیوں پر پہنچ جانے کا پہلا زینہ ثابت ہوا۔ آپ نے اس ساقی کو بتایا کہ دیکھو ! تم پر سات سال خوشحالی کا دور آئے گا۔ اس دور میں تم کفایت شعاری سے کام لینا۔ جتنا غلہ ان سالوں میں پیدا ہو اس میں سے بقدر ضرورت استعمال کرنا، باقی غلہ بالیوں میں ہی رہنے دینا۔ ان سات سالوں کے بعد سات سال قحط…
Read the full tafseer →95۔ یہ واضح رہے کہ مصر تمامتر ایک زرعی ملک تھا۔ ملاحظہ ہوں انگریزی تفسیر القرآن کے حاشیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–52
آیت نمبر 43 تا 52
ترجمہ : مصر کے بادشاہ ریان بن ولید نے کہا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات فربہ گایوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں (عجاف) عجفاء کی جمع ہے اور سات ہری بالیں ہیں اور دوسری سات خشک بالیں ہیں اور سوکھی بالیں ہری بالوں پر لپٹی ہوئی ہیں اور سوکھی بالیں ہری بالوں پر غالب آگئی ہیں، اے درباریو تم میرے خواب کی تعبیر بتاؤ، اگر تم تعبیر بتاسکتے ہو تو بتاؤ درباریوں نے خواب دیا یہ منتشر خیالات کے خواب ہیں اور ہم منتشر خیالات کے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے، اور اس نوجوان نے جو دو نوجوانوں میں سے (جیل سے) رہا ہوا تھا اور وہ ساقی تھا جس کو ایک مدت دراز کے بعد یوسف (علیہ السلام) کا حال یاد…
Read the full tafseer →قال یوسف نے کہا : سات موٹی گائیں اور سبز بالیں تو ارزانی اور کثرت پیداوار کے سات سال ہیں اور سات دبلی اور خشک بالیں قحط کے سات برس ہیں۔
تزرعون سبع سنین دابا تم سات سال متواتر غلہ بونا۔ دَأْبٌ معمول ‘ عادت۔ بعض علماء کے نزدیک دَأْبٌ سے مراد ہے : انتہائی محنت اور کوشش۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا : یہ جملہ اگرچہ خبریہ ہے مگر مقصد حکم دینا ہے (امر بصورت خبر بھی کبھی آتا ہے) ۔
فما حصدتم فذروہ في سنبلہ پھر جو (فصل) کاٹو ‘ اس کو بالیوں میں ہی رہنے دینا (تاکہ گھن نہ لگ جائے) ۔
الا قلیلا مما تاکلون مگر تھوڑا سا جو تمہارے کھانے میں آئے (اس کو بالیوں سے نکال لینا) یعنی پیداوار کے سات سالوں میں جتنا غلّہ…
Read the full tafseer →(47) یوسف ؑ نے فرمایا اچھا میں تعبیر بتا دیتا ہوں سات موٹی گائیں وہ سات خوش حالی اور پیداوار کے سال ہیں اور ایسے ہی سات سبز بالیں وہ پیداوار اور بارش اور فراخی کے سال ہیں اور سات کمزور گائیں وہ قحط سالی کے سال ہیں اور سات خشک بالیں وہ اس قحط سالی کے سات سالوں میں گرانی اور قحط کی طرف اشارہ ہیں، اس تعبیر کے بعد یوسف ؑ نے ان کی قحط سالی کے زمانہ سے حفاظت کا طریقہ بھی بتادیا، لہذا تم ان خوشحالی کے سات سالوں میں ہر سال خوب غلہ بونا اور جو فصل کاٹو اسے بالوں ہی میں رہنے دینا، صاف مت کرنا تاکہ وہ غلہ گھن وغیرہ سے محفوظ ہے سوائے اس کے جو تھوڑا بہت تمہارے استعمال میں آئے۔
Read the full tafseer →قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِيْنَ دَاَبًا۔۔ : ”دَاَبًا“ ”تَزْرَعُوْنَ“ کی ضمیر سے حال ہے، یعنی ”دَاءِبِیْنَ“ مسلسل پے در پے محنت سے کاشت کرنے والے۔ یوسف ؑ نے تعبیر کے ساتھ ہی حل بھی بتایا۔ یہاں ”تَزْرَعُوْنَ“ بمعنی ”اِزْرَعُوْا“ ہے، یعنی ”سات سال مسلسل محنت سے کاشت کرو“ کیونکہ آگے آ رہا ہے کہ جو کچھ کاٹو اسے سٹوں میں رہنے دو۔ زیادہ تاکید کرنی ہو تو امر کو مضارع کی صورت میں لاتے ہیں، جیسے فرمایا : (وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ) [ البقرۃ : 83 ] ”اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو گے۔“ آج سے ہزاروں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 47
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : قال تزرعون جب اس نے آپ کو خواب کے بارے میں بتایا تو آپ نے اس کے سامنے اس کی تفسیر کرنا شروع کی، آپ نے فرمایا : سات موٹی تازہ گاؤں اور شادات خوشوں سے مراد سات سرسبز و شاداب سال ہیں۔ اور دبلی پتلی اور لاغر گائیں اور خشک خوشے سات قحط والے سال ہیں۔ تزرعون سبع سنین دابًا یعنی لگاتار، مسلسل، یہ مصدر علی غیر المصدر ہے کیونکہ تزعون کا معنی تدأبون کعادتکم فی الزراعۃ سبع سنین یعنی تم اپنی عادت کے مطابق سات سال کاشت کرتے رہو گے۔ ایک قول یہ ہے : یہ حال ہے یعنی دائبین۔ ایک قول یہ ہے : سبع سنین کی یہ صفت ہے یعنی دائبۃ۔ ابو حاتم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
1:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے تعجب کیا یوسف (علیہ السلام) کے اور ان کے صبر اور ان کے کرم پر اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ جب ان سے دبلی اور موٹی گائیوں کے بارے میں پوچھا گیا اگر میں ان کی جگہ پر ہوتا اور اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے جب ان کے پاس قاصد آیا تھا تو میں بھاگ جاتا دروازے کی طرف (یعنی جیل سے نکل جانے میں جلدی کرتا) لیکن انہوں نے ارادہ کیا کہ ان کے لئے ایک عذر ہوجائے (یعنی وہ بےقصور ثابت ہوجائیں۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) ان کو خواب کی تعبیر دینے پر…
Read the full tafseer →[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ تَزْرَعُوْنَ : تم لوگ کھیتی اگائو گے ] [ سَبْعَ سِنِيْنَ : سات سال ] [دَاَبًا : لگاتار ] [ فَمَا : پھر جو ] [ حَصَدْتم : تم لوگ کاٹو ] [ فَذَرُوْهُ : تو چھوڑ دو اس کا ] [فِيْ سُنْبۢلِهٖٓ: اس کے خوشے میں ] [ اِلَّا : مگر ] [ قَلِيْلًا : تھوڑا سا ] [ مِّمَا : جن میں سے ] [ تَاْكُلُوْنَ : تم لوگ کھائو گے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–50
بادشاہ کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کو طلب کرنا اور آپ کا تحقیق حال کے بغیر جیل سے باہر آنے سے انکار فرمانا
جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ کے خواب کی تعبیر دے دی اور جو شخص تعبیر پوچھنے کے لیے آیا تھا اس نے واپس جا کر تعبیر بتادی تو لوگوں کی سمجھ میں بات آگئی اور بادشاہ نے سمجھ لیا کہ واقعی یہ تعبیر بتانے والا کوئی صاحب علم ہے جو تعبیر خواب کے فن میں ماہر ہے۔ اس نے صرف تعبیر ہی نہیں دی بلکہ معیشت پر قابو پانے کا طریقہ بھی بتادیا کہ پہلے سات سال کی پیداوار کو محفوظ رکھنا اور دانوں کو بالوں کے اندر ہی رہنے دینا تاکہ اسے کیڑا نہ کھاجائے اس پر بادشاہ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ملاقات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–49
شاہ مصر کا خواب دیکھنا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اس کی تعبیر بتانا
قال اللہ تعالیٰ وقال الملک انی اری سبع بقرت .... الیٰ .... وفیہ یعصرون۔
(ربط) حو جل شانہ جب کوئی کام کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ایسے اسباب بھی پیدا فرما دیتے ہیں جن کی طرف آدمی کا خیال بھی نہیں جاتا چناچہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو قید خانہ سے نجات دلانا منظور ہوا تو بادشاہ مصر ریان بن ولید کو ایک خواب دکھایا جو ان کی رہائی اور ظاہری عروج کا سبب بنا اور بادشاہ نے ایسا عجیب خواب دیکھا جس کی تعبیر سے تمام معتبر عاجز آگئے اس خواب کی تعبیر کسی کی سمجھ میں نہیں آئی تو اس وقت اس ساقی کو یوسف (علیہ السلام) یاد آئے اور اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
42:۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے شاہ مصر کے خواب کی تعبیر اس طرح بیان فرمائی کہ پہلے سات سال تک تم لوگ حسب عادت کھیتی باڑی کرو گے اور غلہ اگاؤ گے لیکن ایسا کرنا کہ خوشوں سے دانے نہ نکالنا بلکہ خوشوں ہی کا ذخیرہ کرلینا تاکہ غلہ خراب نہ ہو اور اسے کیڑا نہ لگ جائے البتہ کھانے کے لیے جس قدر غلہ درکار ہو وہ خوشوں سے نکال لینا۔ ” ثُمَّ یَاْتِیْ الخ “ پھر اس کے بعد سات سال سخت قحط کے آئیں گے ان میں تم اپنا پہلے سات سالوں کا تمام ذخیرہ ختم کر ڈالو گے پھر اس کے بعد خوشحالی کا دور شروع ہوگا، بارش خوب ہوگی اور پھل میوے اور غلے وافر پیدا ہوں گے۔ خواب سے سات سال خوشحالی اور غلہ کی فراوانی کے اور پھر سات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–49
بادشاہ کا خواب
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ساتھی قیدیوں کو ان کے خوابوں کی بالکل سچی تعبیر بتائی۔ پھر جو شخص بری ہو کر اپنی ڈیوٹی پر واپس جانے والا تھا اس کو بادشاہ سے سفارش کے لئے بھی کہا مگر وہ شاہی دربار میں پہنچ کر یوسف (علیہ السلام) کی بات کو فراموش کر بیٹھا۔ پھر سات ، نو یا بارہ سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بادشاہ مصر کو ایک خواب آیا جس سے وہ پریشان ہوگیا اور اس نے اپنے درباریوں سے اس خواب کی تعبیر دریافت کی درباریاس کی تعبیر سے عاجز آگئے اور کہنے لگے کہ یہ بےمعنی خواب ہے اس قسم کے پریشان خواب اکثر آیا کرتے ہیں مگر بادشاہ کی تسلی نہ ہوئی۔ اس دوران میں قید سے…
Read the full tafseer →قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِيْنَ دَاَبًا 0ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْہُ فِيْ سُنْۢبُلِہٖٓ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ 47
زرع
الزَّرْعُ : الإنبات، وحقیقة ذلک تکون بالأمور الإلهيّة دون البشريّة . قال : أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ [ الواقعة/ 64]
( ز ر ع ) الزرع
اس کے اصل معنی انبات یعنی اگانے کے ہیں اور یہ کھیتی اگانا در اصل قدرت کا کام ہے اور انسان کے کسب وہنر کو اس میں دخل نہیں اسی بنا پر آیت کریمہ : أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ [ الواقعة/ 64] بھلا بتاؤ کہ جو تم بولتے ہو کیا اسے تم اگاتے ہو یا اگانے والے ہیں ۔
دأب
الدَّأْب : إدامة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
1 ؎ حضرت یوسف کا تعبیر دینا عرصہ کے بعد یاد آیا تب اس نے دربار سے عرض کیا کہ مجھے اجازت دو کہ میں قید خانہ میں جا کر ایک قیدی سے تعبیر لوں 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا ج فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْہُ فِیْ سُنْبُلِہٖٓ اِلاَّ قَلِیْلاً مِّمَّا تَاْکُلُوْنَ ۔ ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْ م بَعْدِ ذٰلِکَ سَبْعٌ شِدَادٌیَّاْکُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَھُنَّ اِلاَّ قَلِیْلاً مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ ۔ ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْ م بَعْدِ ذٰلِکَ عَامٌ فِیْہِ یُغَاثُ النَّاسُ وَفِیْہِ یَعْصِرُوْنَ ۔
(سورۃ یوسف : 47، 48، 49)
(آپ نے فرمایا، تم سات سال برابر کاشت کرو گے، تو جو تم کاٹو گے اسے رہنے دو اس کے خوشوں میں، مگر تھوڑا سا (ضرورت کے لیے نکال لو) جسے تم کھائو۔ پھر آئیں گے اس خوشحالی کے بعد سات سال بہت سخت۔ وہ کھا جائیں گے جو ذخیرہ تم نے پہلے جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ رہائی پانے والے قیدی کا جیل میں آنا اور یوسف (علیہ السلام) کو آواز دینا۔
بادشاہ کا غلام جو حضرت یوسف کا قید میں ساتھی تھا بھاگم بھاگ یوسف (علیہ السلام) کی بیرک کے دروازے پر پہنچ کر آواز دیتا ہے کہ اے سچ بولنے والے یوسف ہمیں اس خواب کی تعبیر بتلا کہ سات موٹی گائیں ہیں جنہیں پتلی دبلی سات گائیں کھائے جا رہی ہیں اور سات سبزو شاداب بالیاں ہیں اور سات بالیاں سوکھی ہوئی ہیں۔ ازراہ کرم مجھے ان کی حقیقت بتلا تاکہ میں واپس جا کر لوگوں کو بتلاؤں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خواب کی تعبیر بتلاتے ہوئے فرمایا ” کہ پہلے تم سات سال کھیتی باڑی کرو گے۔ ان سات سالوں میں…
Read the full tafseer →47: قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا (فرمایا تم زراعت کرو گے سات سال متواتر) یہ خبر ہے مگر معنی امر کا ہے جیسا اس آیت میں تؤمنون باللّٰہ ورسولہ وتجاھدون ] الصف : 11[ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لائو اور جہاد کرو) اسکی دلیل یہ قول ہے فذروہ فی سنبلہ ہے۔
نکتہ : امر کو صورت خبر میں اسلئے ذکر کیا جاتا ہے تاکہ مامور بہٖ کے وجود میں مبالغہ ہو گویا اس کو موجود سمجھ کر اس کے متعلق خبر دی جاری ہے۔ دَاَبًا (مسلسل)
قراءت : یہ سکون ہمزہ کے ساتھ ہے اور حفص اس کو فتحہ سے پڑھتے ہیں۔ اور یہ دونوں دأب فی العمل کے مصدر ہیں۔ یہ دأبا المأمورین سے حال ہے ای دائبین۔ ہمیشگی کرنے والے فَمَا…
Read the full tafseer →47۔” قال تزرعون سبع سنین دایا “ یہ خبر امر کے معنی میں ہے یعنی سات سال اپنی عادت کے موافق کا شتکاری کرو۔” داب “ بمعنی عادت ہے اور بعض نے کہا ہے کہ خوب محنت اور کوشش سے ، اور عاصم نے حفص کی روایت میں ” دابا “ ہمزہ کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دو لغتیں ہیں ۔ کہا جاتا ہے ” رایت فی الدمر اداب دابا ودابا “ جب اس میں کوشش کرے۔” فما حصدتم فذروہ فی سنبلہ “ گندم کو خوشے میں رکھنے کا حکم دیا تا کہ لمبی مدت پڑی رہے خراب نہ ہو ۔ ” الا قلیلا مما تاکلون “ تم کھانے کے لیے تھوڑا چھوڑو، ان کو حکم دیا کہ وہ زیادہ محفوظ کریں اور تھوڑا بقدر ضرورت کھائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
44۔ 49۔ اوپر کی آیت میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ بادشاہ مصر نے ایک خواب دیکھا تھا کہ سات گائیں موٹی موٹی ہیں جن کو سات گائیں دبلی دبلی کھا رہی ہیں اور سات بالیں ہری ہری ہیں جن کو سوکھی بالیں کھا گئیں جس کی تعبیر اپنے اہل دربار اور کاہنوں سے اس نے دریافت کی تھی ان لوگوں نے بادشاہ کے سوال کا یہ جواب دیا کہ یہ خواب آپ کا محض خیال ہے جس کی تعبیر ہمارے علم و قیاس سے باہر ہے ہم کچھ نہیں بتلا سکتے غرض انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اس خواب کی تعبیر ہی نہیں ہے بلکہ یہ کہا کہ { وما نحن بتاویل الاحلام بعلمین } جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اس قدر علم نہیں ہے کہ اس کی تعبیر بیان کریں اور مطلب اس گفتگو سے ان کا یہ…
Read the full tafseer →اس خواب کی تعبیر بتانے کے سات ھساتھ جناب یوسف نے اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔ شادابی کے سالوں کے دوران قحط سالی کا مقابلہ کرنے کے لئے انہیں کیسے تیایر کرنی چاہیے اور کیا کیا تدابیر اختیار کرنی چاہئیں، چناچہ فرمایا : (تزرعون سبع سنین داباً ) ” تم لگاتار سات سال تک (شادابی کی وجہ سے) کھیتی باڑی کرتے رہو گے “ (فما حصد تم) ” پس جو فصلیں تم کاٹو “ (قذروہ) ” تو اس (فصل) کو چھوڑو دو ‘۔ (فی سنبلہ) ” اس کے خوشوں میں “ کیونکہ اس سے غلہ زیادہ عرصہ تک باقی رہ سکتا ہے اور تلف ہونے کا امکان بعید تر ہوتا ہے (الا قیلاً مما تاکلون) ’ دتھوڑے غلے کے سوا جو تم کھاتے ہو۔ “ یعنی شادابی کے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–49
فانساہ الشیطن کے دو مفہوم
قول باری ہے وقال للذین ظن انہ تاج منھما اذکرنی عند ربک فانساہ الشیطن ذکر ربہ فلبث فی السجن بضع سنین ۔ پھر ان میں سے جس کے متعلق خیال تھا کہ وہ رہا ہوجائے گا اس سے یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ اپنے رب شاہ مصر سے میرا ذکر کرنا۔ مگر شیطان نے اسے ایسا غفلت میں ڈالا کہ وہ اپنے رب شاہ مصر سے اس کا ذکر کرنا بھول گیا اور یوسف کئی سال قید میں پڑا رہا ۔ یہاں ظن یقین کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اس لیے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خواب کی اس تعبیر کے وقوع پذیرہونے کا یقین تھا جو آپ نے اسے بتائی تھی ۔ یہاں ظن بمعنی یقین کے استعمال کی مثال یہ آیت ہے۔ انی ظنت انی ملاق حسابیہ مجھے…
Read the full tafseer →80۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کمال اخلاق کا ایک نمونہ و مثال :
سو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کمال اخلاق یہاں پر بھی ملاحظہ ہو کہ نہ تو آپ نے اس شخص سے کوئی گلہ شکوہ کیا کہ تم کو اتنا عرصہ اپنے مالک سے میرے بارے میں کلمہ خیرکہنے کی بھی توفیق نہ ہوئی۔ اور اب مطلب پڑنے پر فورا میرے پاس پہنچ گئے ہو۔ اور نہ ہی ایسی کوئی شرط رکھی کہ پہلے مجھے جیل سے رہاکرو۔ پھر میں اس کی تعبیر بتلاؤنگا وغیرہ وغیرہ۔ اور مزیدیہ کہ ان لوگوں نے تو صرف تعبیرپوچھی تھی مگر آپ نے ازخود ان کو تدبیر بھی بتلادی۔ تاکہ وہ لوگ اس کے مطابق پیش بندی کرلیں اور آنے والے اس ہولناک قحط کی ضرررسانیوں سے بچنے اور محفوظ رہنے کا سامان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–57
انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب
ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔
تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–49
آیات 43 تا 49
اسرار و معارف
اللہ کریم کا اپنا نظام ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کوشش فرمائی تو ساقی کو شیطن نے بات ہی بھلادی مگر جب رہائی کا وقت آیا تو اللہ کریم کی طرف سے غیبی سامان ہونے لگا کہ شاہ مصرنے ایک عجیب خواب دیکھا اور صبح دم بہت گھبرایا ہوا اٹھا درباری علماء یا بخومی وکاہن جمع کئے اور کہنے لگا کہ میں نے خواب میں سات موٹے بیل دیکھے جنہیں دوسرے سات کمزور اور دبلے پتلے بیل کھا رہے تھے اور سات سرسبز بالیں دیکھی ہیں جن کے ساتھ دوسری سات خشک تھیں اس کی تعبیر بتائی جائے۔ وہ سب بھی حیران ہوگئے بات کسی کے پلے نہ پڑی اور کہہ دیا کہ حضور ! یہ محض پریشان خیالی ہے آپ اسے بھول جائیے ۔ یہ…
Read the full tafseer →ف 1 ۔ یا سات سال تک لگا تار کھیتی کرو گے۔ (ابن کثیر) ۔
2 ۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ غلہ خراب نہ ہوگا اور اس کے چھلکے بھی جانوروں کے لئے محفوظ رہیں گے۔
Read the full tafseer →(12:47) تزرعون۔ تم کاشت کرو گے۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ زرع (باب فتح) سے بمعنی کھیتی کرنا۔ اگانا۔
دابا۔ داب یداب (نصر ۔ فتح) کا مصدر ہے جس کے معنی لگاتار کسی کام میں لگنے اور مشقت برداشت کرنے کے ہیں۔ اور اسی سبب سے اس کا استعمال عادت اور طریقے کے معنی میں ہوتا ہے۔ یہاں دابا بمعنی حسب طریقہ سابق ۔ حسب عادت ۔ حسب (دستور کا شت کئے جاؤ) ۔ قرآن مجید میں ہے کہ : کداب ال فرعون والذین من قبلہم کذبوا بایت ربھم (8:54) آل فرعون اور ان سے قبل کے لوگوں کی طرح (یعنی ان کے طریقہ کے مانند) انہوں نے (کفار مکہ نے) بھی اپنے رب کی آیات کو جھٹلایا۔
ما حصدتم۔ جو کچھ بھی تم کاٹو۔ (جو فصل تم برداشت کرو) حصاد سے (باب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–49
لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 49
الملک بادشاہ سبع سات بقرات (بقرۃ) ، گائیں سمان موٹی تازی، فربہ عجاف دبلی پتلی سنبلت (سنبلۃ) گیہوں کی بالیں جس میں دانہ ہوتا ہے خضرت ہرا بھرا یبست خشک افتونی مجھے بتاؤ رویائی میرا خواب تعبرون تم تعبیر دیتے ہو اضغاث پریشان خیالات ، فضول خیالات احلم (حلم) ۔ خیالات اداکر یاد کیا بعدامۃ مدت کے بعد ارسلون مجھے بھیج دے ارجع میں لوٹوں گا تزرعون تم کھیتی باڑی کرو گے داب لگاتار مسلسل حسدتم تم نے کھیتی کاٹی ذروہ اس کو چھوڑ دو سبع شداد سخت سات (سال) قدمتم تم نے آگے بھیجا تحصنون تم بچاؤ گے عام سال یاغث بارش برسائی جائے گی یعصرون وہ نچوڑیں گے
تشریح : آیت نمبر 43 تا 49
کائنات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
بادشاہ مصر کی خواب کی تعبیر کا جواب مع تدبیر کے
اوپر کی آیت میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ انہوں نے کہا :'' یہ بھی کچھ خواب ہے، یونہی دماغی بخارات ہیں اور ایسے خوابوں کی تعبیر ہم نہیں جانتے ''۔ ساقی کو مدت دراز کے بعد یوسف (علیہ السلام) کا پیام یاد آیا تو بادشاہ سے کہا :'' میں اس کی تعبیر بتاؤں گا، مجھے قید خانہ تک جانے دیجئے۔ وہاں ایک شخص ہے کہ علم تعبیر کو خوب جانتا ہے ''۔ بادشاہ یہ خبر سن کر نہایت خوش ہوا اور فرمایا کہ جلدی اٹھ اور خبر لا۔ تو ساقی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس گیا اور زمین خدمت کو بوسہ دے کر عرض کیا کہ اے صدیق ! یعنی بڑے سچے ہمیں ذرا ایک خواب کی تعبیر تو بتایئے۔ ہمارے بادشاہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–56
[17] یعنی عملاً یوسف (علیہ السلام) کو ملک کے سیاہ وسفید کا مالک بنادیا۔ تورات میں ہے کہ بادشاہ نے اپنے درباریوں سے کہا کہ ہم ایسا آدمی کہاں پاسکتے ہیں جیسا یہ ہے اور جس میں اللہ کی روح بول رہی ہے۔ پھر یوسف (علیہ السلام) سے کہا، '' دیکھ میں نے ساری زمین مصر پر تجھے حکومت بخشی۔ فقط ایک تخت نشینی ہی میں میں تجھ سے اوپر رہوں گا۔ '' اور اس نے اپنی انگوٹھی اتار کر یوسف (علیہ السلام) کو پہنا دی اور گلے میں سونے کا طوق ڈالا اور حکم دیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو صاحب مملکت کے لقب سے پکارا جائے۔ (پیدائش 37: 41)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
تعبیر کا ایک اصول :
(ف 1) حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خوابوں کی جو تعبیریں ، بتائی ہیں ، ان کو اصل خواب کی ہیئت کے ساتھ گہرا تعلق ہے ، اور معلوم ہوتا ہے کہ ان خوابوں کی یہی تعبیریں ہوسکتی ہیں ، مثلا جو شراب نچوڑ رہا ہے ، وہ ساقی ہے جس کے سر پر سے پرندے روٹیاں نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں ، وہ سولی دیا جائے گا اور پرندوں کا طعمہ بنے گا ، اسی طرح بادشاہ کا خواب جو قحط کی پیشگوئی ہے کس قدر واضح ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تعبیر کا علم گو وجدان ہے لیکن یہ مسلم ہے کہ خواب کی کیفیت اور تعبیر میں ایک ربط ہونا چاہئے ، یہ ربط جس قدر صحیح ہوگا اسی قدر صحت کا گمان غالب ہوگا ، یہ ایک اصول ہے جس نے فن تعبیر پر…
Read the full tafseer →47 ۔ یوسف (علیہ السلام) نے جواب دیا تم سات سال خوب زراعت کرنا پھر جو فصل کاٹو اس کو بالوں ہی میں رہنے دینا مگر ہاں جو تھوڑی سی مقدارتم کھائو اس کو بالوں سے نکا ل لینا ۔ یعنی کھانے سے جو غلہ بچائو اس کو بالوں ہی میں رکھو تا کہ گھن وغیرہ نے لگے اور غلہ محفوظ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
ف 1۔ دو جواب اس لیے دیے کہ اول جواب سے بادشاہ کے قلب سے پریشانی اور وسواس دور کرنا ہے اور دوسرے جواب سے اپناعذر ظاہر کرنا ہے خلاصہ یہ کہ اول تو ایسی خواب قابل تعبیر نہیں دوسرے ہم اس فن سے واقف نہیں۔
Read the full tafseer →یوسف (علیہ السلام) نے خواب کی تعبیر اور اس کی صحیح تدبیر بتلا دی کہ سات سال خوب کھیتی کرو
۔ 59 خواب کی تعبیر یہ ہوئی کہ سات موٹی تازی گائیوں اور سات ہری بھری بالیوں سے مراد سات سال تک خوب کھیتی باڑی اور فصلیں ہوں گی اور بہت خوش حالی کے ساتھ سال ہوں گے اور سات دبلی پتلی گائیوں اور سات سوکھی بالیوں کا مطلب یہ ہے کہ پہلے سات سالوں کے بعد مزید سال سال آئیں گے جن می بہت قحط سالی ہوگی اور بد حالی پھیلے گی اور پہلے سات سالوں کا رکھا ہوا ہی اس دور میں کام آئے گا جو آئے گا اور تدبیر اس کی یہ بتائی کہ ” سات سال تم لگاتار کھیتی باڑی کرتے رہو اور جو کچھ کاٹو اسے اس کی بالیوں میں ہی رہنے دو اور صرف اتنی…
Read the full tafseer →Obviously, the dream of the king had told him only about seven years of good crops followed by seven years of famine. But, Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) also added to it that, following the year of drought, there will be an year of good rains and crops. Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) came to know about it either because the total number of years of famine were no more than seven whereby, as the customary practice of Allah would have it, the eighth year would be that of rains and crops. According to early commentator, Qatadah, Allah Tai a had Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) know about it through a…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
41. The literal meaning of yasiroon is:“they will press.”Here it has been used to denote that state of verdure which was going to prevail after the famine years because of rainfall and flood in the Nile. For, when the land will be watered, there will be abundance of seed to press oil, and abundance of fruit to press juice and abundance of fodder for cattle to press milk out of them. It should be noted that Prophet Joseph not only interpreted the king’s dream but also told them how to preserve and reserve grain during the first seven years of prosperity for the subsequent seven years of…
Read the full tafseer →