Yusuf 12:40

Yusuf · from ayah 40

12:40

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَاٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ ؕ— اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ ؕ— اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ ؕ— ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ۟مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسۡمَآءً سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡـتُمۡ وَ اٰبَآؤُكُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ‌ؕ اِنِ الۡحُكۡمُ اِلَّا لِلّٰهِ‌ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ‌ؕ ذٰلِكَ الدِّيۡنُ الۡقَيِّمُ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ

جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ خدا نے ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ (سن رکھو کہ) خدا کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

You worship not besides Him except [mere] names you have named them, you and your fathers, for which Allah has sent down no authority. Legislation is not but for Allah. He has commanded that you worship not except Him. That is the correct religion, but most of the people do not know.

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 5 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:40

اُس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کر رہے ہو وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی فرماں روائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے اس کا حکم ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو یہی ٹھیٹھ سیدھا طریق زندگی ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ خدا نے ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ (سن رکھو کہ) خدا کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس کے سوا تم جن کی پوجا پاٹ کر رہے ہو وه سب نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے خود ہی گھڑ لئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی، فرمانروائی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے، اس کا فرمان ہے کہ تم سب سوائے اس کے کسی اور کی عبادت نہ کرو، یہی دین درست ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس کے سوا جس جس کی تم عبادت کرتے ہو، ان کی حقیقت چند ناموں سے زیادہ نہیں ہے جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لیے ہیں۔ اللہ نے ان کے حق میں کوئی دلیل نہیں اتاری۔ حاکمت اللہ کے سوا کسی کو حاصل ہیں ہے، اسی نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا سیدھا دین ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم اس کے سوا نہیں پوجتے مگر نرے نام (فرضی نام) جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے تراش لیے ہیں اللہ نے ان کی کوئی سند نہ اتاری، حکم نہیں مگر اللہ کا اس نے فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو یہ سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تم (حقیقت میں) اﷲ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے ہو مگر چند ناموں کی جو خود تم نے اور تمہارے باپ دادا نے (اپنے پاس سے) رکھ لئے ہیں، اﷲ نے ان کی کوئی سند نہیں اتاری۔ حکم کا اختیار صرف اﷲ کو ہے، اسی نے حکم فرمایا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، یہی سیدھا راستہ (درست دین) ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تم اس کے سوا عبادت نہیں کرتے مگر چند ناموں کی، جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے ان کے بارے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ حکم اللہ کے سوا کسی کا نہیں، اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا اور کسی کی عبادت مت کرو، یہی سیدھا دین ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ کے سواج نہیں تم پوجتے ہو وہ تو ایسے نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباء و اجداد نے رکھ لیے ہیں، ان کے لئے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ اللہ کے سوا یہاں کسی کی فرماں روائی نہیں۔ اس نے یہی حکم دیا ہے کہ اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی دین برحق ہے۔ لیکن اکثر لوگ یہ باتیں جانتے نہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تم اس کے سوا نہیں پوجتے ہو مگر چند ناموں کو جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ چھوڑے ہیں۔ اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ اختیار و اقتدار صرف اللہ ہی کا ہے۔ اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی پرستش نہ کرو۔ یہی دین قیم ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس کے سوا جن کی بھی پوجا تم لوگ کرتے ہو، وہ محض کچھ ایسے نام ہیں جن کو گھڑ لیا خود تم لوگوں نے، اور تمہارے باپ دادوں نے (اور بس) اللہ نے نہیں اتاری ان کے لئے کسی بھی طرح کی کوئی سند، فرمانروائی کا حق تو صرف اللہ ہی کے لئے ہے، اس نے حکم فرمایا ہے کہ تم لوگ عبادت (و بندگی) نہیں کرو، مگر اسی (وحدء لاشریک) کی، یہی ہے سیدھا راستہ، لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

تم لوگ تو اسے چھوڑ کر بس (چند) ناموں کی عبادت کرتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لئے ہیں۔ اللہ نے کوئی بھی دلیل اس پر نہیں اتاری ہے۔ حکم (اور حکومت) صرف اللہ ہی کا حق ہے۔ اسی نے حکم دیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی پرستش نہ کرو یہی دین مستقم ہے۔ لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

نہیں پوجتے تم اس (اللہ) کے سوا مگر چند ناموں کو جو موسوم کر رکھے ہیں تم لوگوں نے اور تمہارے آباء و اَجداد نے نہیں اتاری اللہ نے ان کے لیے کوئی سند۔ اختیار مطلق تو صرف اللہ ہی کا ہے اس نے حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی مت کرو یہی ہے دین سیدھا (اور ہمیشہ سے قائم و دائم) لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جن چیزوں کی تم اللہ کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں۔ جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے ان کی کوئی سند نازل نہیں کی، سن لو کہ اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے، اس نے فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Those whom you serve beside Him are merely idle names that you and your fathers have fabricated, without Allah sending down any sanction for them. All authority to govern rests only with Allah. He has commanded that you serve none but Him. This is the Right Way of life, though most people are altogether unaware.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Whatever you worship, other than Him, are nothing but names you have coined, you and your fathers. Allah has sent down no authority for them. Sovereignty belongs to none but Allah. He has ordained that you shall not worship anyone but Him. This is the only right path. But most of the people do not know.

— Muhammad Taqi Usmani

Whatever you worship, other than Him, are nothing but names you have coined, you and your fathers. Allah has sent down no authority for them. Sovereignty belongs to none but Allah. He has ordained that you shall not worship anyone but Him. This is the only right path. But most of the people do not know.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"You do not worship besides Him but only names which you have named (forged) - you and your fathers - for which Allah has sent down no authority. The command is for none but Allah. He has commanded that you worship none but Him; that is the straight religion, but most men know not."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Those whom ye worship beside Him are but names which ye have named, ye and your fathers. Allah hath revealed no sanction for them. The decision rests with Allah only, Who hath commanded you that ye worship none save Him. This is the right religion, but most men know not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

You worship not besides Him except [mere] names you have named them, you and your fathers, for which Allah has sent down no authority. Legislation is not but for Allah. He has commanded that you worship not except Him. That is the correct religion, but most of the people do not know.

— Saheeh International

What you worship instead of God are no more than empty names that you and your fathers have given to certain things. God has not given any authority to such names. Judgment belongs to no one but God. He has commanded you to worship nothing but Him. This is the only true religion, but most people do not know.

— Muhammad Sarwar

You do not serve besides Him but names which you have named, you and your fathers; Allah has not sent down any authority for them; judgment is only Allah's; He has commanded that you shall not serve aught but Him; this is the right religion but most people do not know:

— Muhammad Habib Shakir

Ye worship not, beside Him, but names ye have named, ye and your fathers: Allah hath not sent down for them any warranty. Judgment is but Allah's; He hath commanded that ye worship not except Him. That is the right religion, but most of the mankind know not.

— Abdul Majid Daryabadi

"If not Him, ye worship nothing but names which ye have named,- ye and your fathers,- for which Allah hath sent down no authority: the command is for none but Allah: He hath commanded that ye worship none but Him: that is the right religion, but most men understand not...

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:40

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 39–40

شاہی باورچی اور ساقی کے خواب کی تعبیر اور پیغام توحید یوسف ؑ سے وہ اپنے خواب کی تعبیر پوچھنے آئے ہیں۔ آپ نے انہیں تعبیر خواب بتادینے کا اقرار کرلیا ہے۔ لیکن اس سے پہلے انہیں توحید کا وعظ سنا رہے ہیں اور شرک سے اور مخلوق پرستی سے نفرت دلا رہے ہیں۔ فرما رہے ہیں کہ وہ اللہ واحد جس نے ہر چیز پر قبضہ کر رکھا ہے جس کے سامنے تمام مخلوق پست و عاجز لاچار بےبس ہے۔ جس کا ثانی شریک اور ساجھی کوئی نہیں۔ جس کی عظمت و سلطنت چپے چپے اور ذرے ذرے پر ہے وہی ایک بہتر ؟ یا تمہارے یہ خیالی کمزور اور ناکارے بہت سے معبود بہتر ؟ پھر فرمایا کہ تم جن جن کی پوجا پاٹ کر رہے ہو بےسند ہیں۔ یہ نام اور ان کے لیے عبادت یہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 37–41

سورة یُوْسُف 34 یہ تقریر جو اس پورے قصے کی جان ہے اور خود قرآن میں بھی توحید کی بہترین تقریروں میں سے ہے، بائیبل اور تلمود میں کہیں اس کی طرف ادنی اشارہ تک نہیں ہے۔ وہ حضرت یوسف ؑ کو محض ایک دانشمند اور پرہیزگار آدمی کی حیثیت سے پیش کرتی ہیں۔ مگر قرآن صرف یہی نہیں کہ ان کی سیرت کے ان پہلوؤں کو بھی بائیبل اور تلمود کی بہ نسبت بہت زیادہ روشن کر کے پیش کرتا ہے، بلکہ اس کے علاوہ وہ ہم کو یہ بھی بتاتا ہے کہ حضرت یوسف ؑ اپنا ایک پیغمبرانہ مشن رکھتے تھے اور اس کی دعوت و تبلیغ کا کام انہوں نے قید خانہ ہی میں شروع کردی تھی۔ یہ تقریر ایسی نہیں ہے کہ اس پر سے یونہی سرسری طور پر گزر جائے۔ اس کے متعدد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–40

اس کے بعداول کفر کی برائی اور ملت کفر سے اپنی بیزاری بیان کی اور پھر یہ بھی جتلا دیا کہ خاندان نبوت ہی کا ایک فرد اور انہی کی ملت حق کا پابند ہوں میرے آباء و اجداد ابراہیم واسحاق و یعقوب ہیں یہ خاندانی شرافت بھی عادۃ انسان کا اعتماد پیدا کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے اس کے بعد بتلایا کہ ہمارے لئے کسی طرح جائز نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو اس کی خدائی صفات میں شریک سمجھیں پھر فرمایا کہ یہ دین حق کی توفیق ہم پر اور سب لوگوں پر اللہ تعالیٰ ہی کا فضل ہے کہ اس نے سلامت فہم عطا فرما کر قبول حق ہمارے لئے آسان کردیا مگر بہت سے لوگ اس نعمت کی قدر اور شکر نہیں کرتے پھر انہی قیدیوں سے سوال کیا کہ اچھا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 39–40

39۔ 40:۔ يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ۔ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اَسْمَاۗءً سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ ۭ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ ۭ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۔ دعوت توحید : " یصاحبی السجن " کے خطاب میں جو بلاغت اور دل نوازی ہے وہ بالکل واضح ہے۔ بسا اوقات مصیبت کا اشتراک بھی شرکائے مصیبت کے دلوں میں ہمدردی، محبت، اخلاص اور باہمی خیر خواہی و خیرسگالی کے جذبات نہایت زور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

40۔ 1 اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ ان کا نام معبود تم نے خود ہی رکھ لیا ہے، دراں حالیکہ وہ معبود ہیں نہ ان کی بابت کوئی دلیل اللہ نے اتاری ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان معبودوں کے جو مختلف نام تم نے تجویز کر رکھے ہیں۔ مثلا خواجہ غریب نواز، گنج بخش کرنی والا، کرماں والا وغیرہ یہ سب تمہارے خود ساختہ ہیں۔ ان کی کوئی دلیل اللہ نے نہیں اتاری۔ 40۔ 2 یہی دین، جس کی طرف میں تمہیں بلا رہا ہوں، جس میں صرف ایک اللہ کی عبادت ہے، درست اور رقیم ہے جس کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ 40۔ 3 جس کی وجہ سے اکثر لوگ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں (وَمَاوَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ باللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ) 12۔ یوسف :16) ' ان…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 38–42

27: آقا سے مراد بادشاہ ہے۔ حضرت یوسف ؑ نے جس قیدی کے بارے میں یہ فرمایا تھا کہ وہ چھوٹ جائے گا اور واپس جا کر حسب معمول اپنے آقا کو شراب پلائے گا اس سے آپ نے یہ بات فرمائی کہ تم اپنے آقا یعنی بادشاہ سے میرا تذکلرہ کرنا کہ ایک شخص بےگناہ جیل میں پڑا ہوا ہے۔ اس کے معاملے پر آپ کو توجہ کرنی چاہیے مگر جیسا کہ آگے بیان فرمایا گیا ہے اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ شخص بادشاہ سے یہ بات کہنا بھول گیا جس کی وجہ سے انہیں کئی سال اور جیل میں رہنا پڑا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس کے بعد حضرت یوسف ایک قدم اور آگے بڑھتے ہیں۔ اور اب وہ ذرا کھل کر جاہلیت کے افکار اور اوہام پر تنقید فرماتے ہیں : مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اَسْمَاۗءً سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ : اس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کر رہے ہو ، وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباء و اجداد نے رکھ لیے ہیں ، اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی۔ یہ ارباب ، خواہ وہ انسانوں میں سے ہوں یا غیر انسان ہوں ، مثلا فرشتے ، ارواح اور شیاطین یا دوسری کائناتی قوتیں جو اللہ کے تابع ہیں ، یہ کسی معنی میں بھی رب نہیں ہیں۔ اور انہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی یوں ہی بےسند اور بےٹھکانے کچھ نام رکھ چھوڑے ہیں جن کے نیچے حقیقت ذرہ برابر نہیں۔ ان ہی نام کے خداؤں کی پوجا کر رہے ہو۔ ایسے جہل پر انسان کو شرمانا چاہیے۔ 6 یعنی قدیم سے اللہ انبیاء (علیہم السلام) کی زبانی یہ ہی حکم بھیجتا رہا کہ خدا کی عبادت میں کسی کو شریک مت کرو۔ (وَسْـَٔــلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَآ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً يُّعْبَدُوْنَ ) 43 ۔ الزخرف :45) 1 یعنی توحید خالص کے راستہ میں ایچ پیچ کچھ نہیں۔ سیدھی اور صاف سڑک ہے جس پر چل کر آدمی بےکھٹکے خدا تک پہنچتا ہے۔ لیکن بہت لوگ حماقت یا تعصب سے ایسی سیدھی بات کو بھی نہیں سمجھتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ ۭ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ قانون بنانے اور اس کے مطابق حکم چلانے کا اختیار صرف اللہ کا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

39 شرک اور تقلید آباء :۔ علاوہ ازیں یہ دوسرے آقا یا معبود جن کی عبادت کی جاتی ہے۔ ان کی اصلیت اس کے سوا کچھ نہیں کہ کسی ایک آدمی نے ایسے مشرکانہ عقائد گھڑ کر کسی معبود یا آستانے کے نام منسوب کردیے۔ پھر یہی عقائد نسلاً بعد نسل ان کی اولاد میں منتقل ہوتے چلے گئے اور بزرگوں کی اندھی عقیدت نے ایسے عقائد کو مذہبی جامہ پہنا دیا۔ کسی نے یہ تحقیق کرنے کی زحمت ہی گوارا نہ کی کہ کسی الہامی کتاب میں ان کی کچھ دلیل ہے بھی یا نہیں لوگوں کی اکثریت ایسی ہی ہے جو بلاتحقیق اپنے آباؤ اجداد کی اندھی تقلید میں ان معبودوں کے ساتھ ایسے عقائد وابستہ کیے چلی آرہی ہے اور ان کے نام کی نذریں اور قربانیاں دیتی ہے تاکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

80۔ یعنی تمہارے ان گڑھے ہوئے معبودوں کی حقیقت ہی کیا ؟ ان کا وجود خارجی بہ حیثیت معبود ہے کہاں ؟ یہ تو صرف چند گڑھے ہوئے نام ہیں حقیقت سے بالکل خالی۔ نام جو اور جتنے چاہو گڑھ لو کوئی ثبوت ادنی سا بھی تو ان کی خدائی کا لاؤ (آیت) ” وابآؤ کم “۔ میں اشارہ ہے کہ دین شرک محض اندھی تقلید کے بل پر چل رہا ہے۔ 81۔ (نہ عقلی نہ نقلی “۔ یعنی شرک پر دلیل کوئی سی بھی قائم نہیں۔ تم دلیل توحید پر مانگتے ہو حالانکہ کوئی معمولی سی دلیل شرک پر تو لاؤ۔ (آیت) ” بھا “۔ میں ضمیر غیر اللہ کی معبودیت کی طرف ہے۔ اے بعباد تھا (جلالین) 82۔ حکم تکوینی صرف اسی کا چل رہا ہے کائنات کا کون سا شعبہ ہوا، پانی، آگ، بادل موت،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 36–42

آیت نمبر 36 تا 42 ترجمہ : چناچہ (یوسف کو) جیل میں ڈال دیا گیا اور اس کے ساتھ دو اور نوجوان بھی جیل خانہ میں داخل ہوئے جو بادشاہ کے غلام تھے، ایک ان میں سے بادشاہ کا ساقی تھا اور دوسرا شاہی مطبخ کا ذمہ دار، ان دونوں کو معلوم ہوا کہ (یوسف) خوابوں کی تعبیر بتاتے ہیں تو دونوں نے مشورہ کیا کہ ہم اس کو ضرور آزمائیں گے، ان میں سے ایک نے جو کہ ساقی تھا کہا میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں انگور نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے مطبخ کے ذمہ دار نے کہا میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اس میں سے پرندے کھا رہے ہیں، ہمیں آپ اس کی تعبیر بتائیے، ہم آپ کو نیک آدمی سمجھتے ہیں، (یوسف (علیہ السلام) نے) ان کو یہ بتاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ما تعبدون من دونہ الا اسماء سمیتموھا انتم واباؤکم تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر چند بےحقیقت ناموں کی ہی پوجا کرتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ چھوڑے ہیں۔ اَسْمَآء سے مراد ہیں : وہ چیزیں جو الوہیت کے معنی سے خالی ہیں۔ ستمیتُم کا دوسرا مفعول محذوف ہے ‘ یعنی جن کا نام تم نے اور تمہارے باپ دادا نے الٰہ اور رب رکھ چھوڑا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم ایسے اسماء کی پوجا کرتے ہو جن کا کوئی واقعی وجود نہیں۔ تم خیال کرتے ہو کہ وہ بتوں میں حلول کئے ہوئے ہیں یا مجرد اور (مادّی دنیا سے) الگ ہیں۔ ما انزل اللہ بھا من سلطن اللہ نے ان کی کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یعنی ان کے وجود یا ان کے مستحق الوہیت ہونے کی کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(40) تم لوگ تو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر چند مردہ بتوں کی عبادت کرتے ہو، جن کو تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے معبود ٹھہرا لیا ہے اللہ تعالیٰ نے تو ان کی عبادت کے بارے میں کوئی کتاب اور حجت یعنی دلیل عقلی ونقلی نہیں بھیجی۔ اور اوامرو نواہی کے حکم کے دینے اور دنیا وآخرت میں فیصلہ فرمانے کا اختیار صرف اللہ ہی کو ہے، اس نے تمام آسمانی کتابوں میں اسی چیز کا حکم دیا ہے کہ بجز اس کے اور کسی کی عبادت مت کرو یہ توحید خداوندی اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ سیدھا راستہ ہے یعنی دین اسلام اور مصر والے اس طریقہ کو نہیں جانتے اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اَسْمَاۗءً۔۔ : ان کے ذہن میں ایک رب اور کئی ارباب کے موازنے کی سوچ ابھارنے کے بعد اب صاف لفظوں میں کئی ارباب کا باطل ہونا بیان فرمایا کہ تم جن معبودوں کی عبادت کرتے ہو حقیقت میں وہ کہیں موجود ہی نہیں ہیں، محض فرضی اور خیالی چیزیں ہیں، جن کے نام تم نے اور تمہارے آبا و اجداد نے رکھ لیے ہیں۔ حکم تو اللہ کے سوا کسی کا ہے ہی نہیں، نہ قدری حکم نہ شرعی، یعنی نہ کائنات کے نظام میں اس کے سوا کسی کا کوئی حکم چلتا ہے، مثلاً یہ کہ اللہ تعالیٰ سورج کو چلنے کا حکم دے اور یہ اسے روک دے، یا وہ کسی کو مارنا چاہے اور یہ اسے مرنے نہ دے اور نہ شریعت اور عبادت میں اس کے سوا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 39–40

آیت نمبر 39 تا 40 یٰصاحبی السجن یعنی اے قید خانے کے دوباسیو۔ آپ نے صحبت کا ذکر اس لیے کیا کہ وہ اس میں لمبی دیر مقیم رہے جس طرح کہ اصحاب الجنۃ اور اصحاب النار کہا جاتا ہے۔ ارباب متفرقون یعنی بچپن، بڑھاپے اور جوانی میں، یا اس سے مراد تعداد میں متفرق ہونا ہوگا۔ خیر ام اللہ الواحد القھار ایک قول کے مطابق خطاب ان دونوں جوانوں اور دیگر قیدیوں کے لیے ہے اور ان کے سامنے ایسے بت تھے جن کی وہ پوجا کرتے تھے تو آپ نے حجت کو لازم کرنے کے لیے یہ ارشاد فرمایا یعنی کئی معبود کوئی تفع ونقصان نہیں دے سکتے خیر ام اللہ الواحد القھار جس نے ہر چیز پر غلبہ پایا۔ اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے آٰللہ خیر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 39–40

ایک اللہ کے در کو مضبوطی سے تھام لو : 1:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ جب اللہ نے نبی یوسف (علیہ السلام) نے پہچان لیا کہ ان میں سے ایک مقتول ہے تو ان دونوں کو بلایا ان کے حصے کی طرف جو ان کے آقا کی طرف سے ملنا تھا اور جو انہیں ملنا تھا ان کے آخرت سے۔ 2:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” یصاحبی السجن “ کے بارے میں فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) ان کو ایسے ہی کہتے تھے۔ 3:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ان الحکم الا للہ، امر الا تعبدوا الا ایاہ “ کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[مَا تَعْبُدُوْنَ : تم لوگ بندگی نہیں کرتے ] [ مِنْ دُوْنِهٖٓ : اس کے علاوہ (کسی کی)] [اِلَّآ : مگر ] [اَسْمَاۗءً : کچھ ایسے ناموں کی ] [سَمَّيْتموْهَآ : تم لوگوں نے نام رکھے جن کے ] [ انتم : تم نے ] [وَاٰبَاۗؤُكُمْ : اور تمہارے آباء اجداد نے ] [مَآ انزَلَ : نہیں اتاری ] [اللّٰهُ : اللہ نے ] [بِهَا : جس کی ] [ مِنْ سُلْطٰنٍ : کوئی بھی سند ] [ ان : نہیں ہے [ الْحُكْمُ : فیصلے کا اختیار ] [ اِلَّا : مگر ] [ للّٰهِ : اللہ کا ] [ اَمَرَ : اس نے حکم دیا ] [اَلَّا تَعْبُدُوْٓا : کہ بندگی مت کرو ] [اِلَّآ : مگر ] [اِيَّاهُ : اس کی ہی ] [ذٰلِكَ : یہ ] [ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ : ہی سیدھا دین ہے ] […

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 38–41

حضرت یوسف (علیہ السلام) کا دونوں قیدیوں کے خواب کی تعبیر دینا توحید کی دعوت دے کر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان دونوں جوانوں کے خوابوں کی تعبیر بتائی فرمایا کہ دیکھو تم میں سے ایک شخص اپنے آقا کو شراب پلائے گا (یہ وہی شخص تھا جو بادشاہ کا ساقی تھا جو پہلے بھی بادشاہ کو شراب پلایا کرتا تھا) اور اس کے علاوہ جو دوسرا آدمی ہے اس کو سولی دی جائے گی۔ یعنی سولی پر لٹکا کر قتل کیا جائے گا اور سولی اتارے جانے سے پہلے (جو وہ لٹکا رہے گا) اس کے سر میں سے پرندے نوچ نوچ کر کھاتے رہیں گے۔ تم نے جو خواب دریافت کیا ان کی یہ تعبیر ہے اور جو میں نے تعبیر دی اسی کے مطابق فیصلہ ہوگا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 36–42

قصہ یوسف (علیہ السلام) باساقی و خباز درجیل خانہ بر تبلیغ و دعوت اظہار نبوت قال اللہ تعالیٰ ودخل معہ السجن فتین .... الیٰ .... فلبث فی السجن یضع سنین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یوسف (علیہ السلام) کی دعا رب السجن احب الی مما یدعونی الیہ اور اس کی قبولیت و استجابت کا ذکر کیا ہے دعا میں یہ درخواست تھی کہ اے پروردگار ایسے زنانخانہ اور محل سرائے سے تو جیل بہتر ہے بارگاہ خداوندی میں یوسف علیہا لسلام کی دعا بلفظہ قول ہوئی کہ زنان خانہ سے نکال کر جیل خانہ بھیج دئیے گئے اب وقت آیا کہ ولنعلمہ من تاویل الاحادیث۔ کا ظہور ہو کہ جیل خانہ میں پہنچ کر لوگوں کے خوابوں کی تعبیریں دیں اور ان کو توحید اور اسلام کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 39–40

36:۔ اب جیل کے دونوں ساتھیوں کو حکیمانہ انداز میں اسلام کی دعوت دی اور فرمایا تم خود ہی اپنی خداداد عقل سے سوچو کہ بہت سے خدا اچھے ہیں جن کے سامنے زانوئے عبودیت تہ کرے اور جن کے سامنے سر نیاز مندی جھکائے اور جن سے اپنی حاجتیں مانگے یا صرف ایک خدا اچھا ہے جو ہر چیز پر قادر ہے اور ساری کائنات پر قاہر ہے۔ بالفاظ دیگر بہت سے بیچارے اور عاجز معبودوں کی محتاجی بھلی یا ایک قادر و توانا خدا کی ؟۔” مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ الخ “ اللہ کے سوا جن معبودوں کو تم کارساز اور متصرف و مختار سمجھ کر پکارتے ہو یہ سب تمہارے اور تمہارے آباء و اجداد کے خود ساختہ ہیں۔ تم لوگوں نے ان کو بلا دلیل و حجت معبود بنا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 39–42

ربط آیات گزشتہ درس میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ دو دوسرے قیدی بھی تھے جن میں سے ایک نانبائیوں کا انچارج اور دوسرا شراب پلانے والا تھا۔ یہ قیدی یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ آپ کے حسن سلوک ، زہد اور تقویٰ کی بنا پر مانوس ہوگئے اور پھر انہوں نے آپ سے اپنے اپنے خواب کی تعبیر بھی پوچھی۔ بعض فرماتے ہیں کہ مذکورہ قیدیوں کو خواب نہیں آیا تھا بلکہ وہ خواب کی تعبیر کی آڑ میں یوسف (علیہ السلام) کا امتحان لینا چاہتے تھے ، تاہم راحج بات یہی ہے کہ انہوں نے خواب دیکھا تھا۔ البتہ بائیبل کی روایت ہے کہ قید خانے کا افسر بھی یوسف (علیہ السلام) سے مانوس ہوگیا تھا ، وہ آپ پر اعتماد کرتا تھا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلَّآ اَسْمَاۗءً سَمَّيْتُمُوْہَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللہُ بِہَا مِنْ سُلْطٰنٍ۝ 0ۭ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلہِ۝ 0ۭ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاہُ۝ 0ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۝ 40 عبادت العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان : عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود . وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 36–44

3 ؎ اصلی خواب میں جس کو رویا صادقہ کہتے ہیں انسان کی روح کو عالم غیب کی چیزیں جو ہنوز عالم ظہور میں نہیں آئیں دکھائی دے جاتی ہیں لیکن قوت متوہمہ ان معانی مجردہ کو ان کے مناسب اشکال میں ڈھال کر دکھاتی ہے پھر اس کے حل کا نام تعبیر ہے۔ یہ کام اسی سے عمدہ بن سکتا ہے جس کو عالم قدس سے مناسبت ہوتی ہے اور اس مناسبت کے آثار چہرے پر بھی نمودار ہوتے ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے نورانی چہرے سے انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ بھی انہیں مقدس لوگوں میں سے ہے اس لئے ان سے تعبیر پوچھی 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 39–40

یٰـصَاحِبْیِ السِّجْنِ ئَ اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰہُ الْوَاحِدُالْقَھَّار۔ ط مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلاَّ ٓ اَسْمَآئً سَمَّیْتُمُوْھَآ اَنْتُمْ وَاٰبَآؤْکُمْ مَّـآ اَنْزَلَ اللّٰہُ بِھَا مِنْ سُلْطٰنٍ ط اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ لِلّٰہِ ط اَمَرَاَلاَّ تَعْبُدُوْٓا اِلاَّ اِیَّاہُ ط ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 39، 40) (اے میرے جیل کے دونوں ساتھیو ! کیا الگ الگ بہت سے رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ تعالیٰ جو سب پر غالب ہے۔ تم اسے چھوڑ کر بندگی نہیں کرتے ہو، مگر چند ناموں کی جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ عقیدۂ توحید اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک شرک کی نفی نہ کی جائے۔ اس لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) توحید کے اثبات کے ساتھ شرک کی نفی کرنا ضروری خیال کرتے ہیں۔ مصر کے معاشرہ میں لوگ اپنے بڑوں کو رب کے لفظ سے پکارا کرتے تھے جیسا کہ اب بھی ہندوستان اور ایران میں ہزاروں شرک زدہ لوگ اپنے اپنے بزرگوں کو خداوند یا خدائیگان کہا کرتے ہیں۔ پاکستان میں مدفون بزرگوں، خاص کر حضرت علی ہجویری کو داتا اور بابا فرید آف پاکپتن کو فرید گنج، سندھ میں شہباز قلندر کو لجپال یعنی عزت دینے اور حفاظت کرنے والا کہتے ہیں۔ کسی نے وشنو، کسی نے برہما، کسی نے مہادیو، کسی نے ابو الہول،…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

40: مَاتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ (نہیں تم اللہ تعالیٰ کے سواء عبادت کرتے) تعبدون سے ان دونوں اور جو مصری ان کے اہل دین تھے سب کو خطاب کیا ہے ہٗ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے۔ اِلَّآاَسْمَآئً سَمَّیْتُمُوْھَآ اَنْتُمْ وَاٰبَآؤُکُمْ (مگر محض نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آبائو و اجداد نے تجویز کرلیے ہیں) تم نے ان کو ٰالِھَۃ کہا جو الوھیت کے حقدار نہیں۔ پھر ستم برستم یہ کہ تم نے ان کی پوجا شروع کردی گویا کہ تم محض ان ناموں کو پوجتے ہوجنکے مسمیات نہیں ہیں۔ سمیتموھاؔ کا مطلب سمیتم بھا ہے۔ جیسے کہتے ہیں سمیتہ زیدًا و سمیتہ بزید۔ دونوں کا معنی میں نے اس کا نام زید رکھا ہے۔ مَّآاَنْزَلَ اللّٰہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

40۔” ما تعبلون من دونہ “ اللہ کے علاوہ اور جمع کے لفظ کو ذکر کیا ہے اور خطاب کی ابتداء دو سے کی ہے اس لیے کہ تمام قید والے مرد تھے اور ہر وہ مشرک شخص جو ان دونوں جیسی حالت پر تھا۔ ” الا سماء سمیتموھا “ مبعود اور رب یہ معنی سے خالی ہیں ۔ ان ناموں کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ” انتم وابائو کم ما انزل اللہ بھا من سلطن “ حجت و برہانت ان الحکم نہیں ہے قضاء اور امر و نہی الا اللہ امرالا تعبدوا الا ایاہ ذلک الدین القیم مستقم ولکن اکثر الناس لا یعلمون “ پھر ان کے خواب کی تعبیر دیتے ہوئے فرمایا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 39–40

39۔ 40۔ یوسف (علیہ السلام) نے کفر کی مذمت کی اور توحید کا حال اور خداوند جل جلالہ کے اوصاف بیان کر کے یہ نصیحت فرمائی کہ اے میرے قید کے مصاحبہ ذرا غور کرو کہ یہ بت پرستی بہتر ہے یا حق پرستی اور یہ تمہارے کئی جدا جدا معبود اچھے ہیں۔ یا وہ خدائے برتر کہ جو اپنی ذات اور صفات میں اکیلا اور ساری خدائی میں اسی کا بول بالا ہے اس کے قہر کے آگے کسی کی کچھ نہیں چل سکتی پھر فرمایا کہ تم جو ان بتوں کی پرستش کرتے ہو اس کی پوری سند نہیں ہے یہ بت تو تمہارے جعلی معبود ہیں تم نے اور تمہارے باپ دادا نے پتھر کی مورتیں تراش کر ان کے جدا جدا نام رکھ چھوڑے ہیں اور اسی کو پوجنے لگے ہیں ورنہ ان میں کوئی طاقت اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

بنا بریں یوسف نے فرمایا : (ماتعبدون من دونہ الا اسما سمیتموھا انتم وباء کم ) ” تم اللہ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کترے ہو، وہ صرف نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں “ یعنی تم نے ان کو معبود کا نام دے دیا ہے حالانکہ یہ کچھ بھی نہیں اور نہ ان میں الوہیت کی صفات میں سے کوئی صفت ہے۔ (ما انزل اللہ بھا من سلطن) ” اللہ نے ان پر کوئی دلیل نازل نہیں کی “ بلکہ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے ان کی عبادت کی ممانعت نازل کر کے ان کا باطل ہونا واضح کیا ہے اور جب اللہ تعالیٰ نے ان معبود ان باطل کے حق میں کوئی دلیل نازل نہیں کی اس لئے کوئی طریقہ، کوئی وسیلہ اور کوئی دلیل ایسی نہیں جس سے ان کا استحقاق…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 37–41

یوسف (علیہ السلام) کی تعبیر خواب میں حکمت تبلیغ قول باری ہے قال لا باتیکما طعام ترزقا نہ الا نبا تکما بتاویلہ قبل ان یا تیکما ۔ یوسف نے کہا ۔ یہاں جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں ان خوابوں کی تعبیر بتادوں گا ۔ تا آخر آیت ۔ ابن جریج کا قول ہے کہ حضرت یوسف نے دونوں قیدی ساتھیوں کے خوابوں کی تعبیر فوری طور پر بتانے سے اس لیے پہلو تھی کی تھی کہ ان میں سے ایک کے خواب کی تعبیر بری تھی اس لیے آپ نے انہیں تعبیر بتانے کی بجائے ان سے وہ گفتگو کی جو آیت میں درج ہے لیکن دونوں نے اس وقت تک آپ کا پیچھا نہ چھوڑا جب تک آپ نے انہیں تعبیر نہ بتادی ۔ ایک قول کے مطابق آپ نے تعبیر بتانے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

71۔ معبودان من دون اللہ محض من گھڑت نام ہیں اور بس : سو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا تمہارے خود ساختہ معبود محض نام ہیں جن کو تم نے خود گھڑا ہے۔ کہ اس کے سوا ان کی حقیقت کچھ بھی نہیں۔ جو کہ کہیں " عزی " ہیں اور کہیں " اساف " و " نائلہ "۔ کہیں فلانی دیوی اور فلاں دیوتا۔ اور کہیں " کانواں والی سرکار " اور " بلیوں والی سرکار " وغیرہ وغیرہ۔ سو ان سب کی ان خود ساختہ ناموں کے سوا اور کوئی اصل اور حقیقت نہیں۔ والیعاذ باللہ العظیم۔ سو ان خود ساختہ معبودوں کی نہ کوئی اصل ہے نہ حقیقت سوائے ادہام و خرافات کی پیروی اور ظن و گمان پر مبنی ڈھکوسلوں کے۔ حالانکہ عقل سلیم اور فطرت مستقیم کا تقاضایہی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–57

انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔ تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 36–42

آیات 36 تا 42 اسرار و معارف حضرت جب جیل میں پہنچے تو آپ کا شہرہ بھی پہنچا اور قید میں مصائب میں مبتلاء لوگوں کو بھی ذوق زیارت ہوا تو آپ ان میں اپنے کمالات بیان فرماتے اور انھیں اپنی طرف متوجہ فرماتے کہ انبیاء پر تو یہ فرض ہوتا ہے کہ اپنے کمالات نبوت کا اظہار فرما کر لوگوں کو راہ حق کی طرف دعوت دیں۔ اہل اللہ کا اظہار کمالات اور ولی اللہ بھی اگر اگر اظہار فرماتے ہیں تو ان کی غرض یہی ہوتی ہے ۔ کہ صاحب حال سے اپنی شہرت کی طلب کی توقع رکھنا درست نہیں۔ صاحب مظہری (رح) نے یہاں حضرت مجددالف ثانی (رح) کی مثال دی ہے کہ آپ اظہار فرماتے تھے تو اللہ کی بیشمار مخلوق نے استفادہ کیا جبکہ ان کے خلاف باتیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(12:40) ما تعبدون من دونہ الا اسمائ۔ یعنی اس کے سوا تم جن چیزوں کی پرستش کرتے ہو وہ محض چند نام ہیں (جن کو تم نے اور تمہارے آباد و اجداد نے من گھڑت نام دے رکھے ہیں) بھا۔ میں ضمیر ھا واحد مؤنث غائب کا مرجع وہ معبود ان باطل ہیں جن کو مشرکین نے ازخود نامزد کر رکھا ہے۔ سلطان۔ حجت۔ سند۔ الذین القیم۔ موصوف و صفت وہ دین جو دلائل عقلیہ و نقلیہ سے ثابت ہو۔ درست ، ٹھیک ، سیدھا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 36–40

لغات القرآن آیت نمبر 36 تا 40 دخل داخل ہوا فتین (فتی) دونوجوان احدھما ان دونوں میں سے ایک اعصر میں نچوڑ رہا ہوں خمر شراب احمل میں اٹھاتا ہوں راسی اپنا سر خبز روٹی تاکل الطیر پرندے کھا رہے ہیں نبئنا ہمیں بتا دے تاویلہ اس کی تعبیر لا یا تیکما تم دونوں کے پاس نہیں آئے گا ترزقنہ جو رقز تمہیں دیا جاتا ہے نبات میں بتا دوں گا علمنی اس نے مجھے سکھایا ترکت میں نے چھوڑا ملۃ ملت، طریقہ یصاحبی اے میرے دونوں ساتھیوں ارباب (رب) ، مختلف پروردگار القھار زبردست اسماء نام سمیتموا تم نے نام رکھے سلطن کوئی دلیل، کوئی سند، ایاہ اسی کی القیم سیدھا، سچا تشریح : آیت نمبر 36 تا 40 بے گناہی کے باوجود جب حضرت یوسف کو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 39–40

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے میرے قید کے مصاحبو ! ذرا اتنا غور کرو کہ بت پرستی بہتر ہے یا حق پرستی اور یہ تمہارے کئی جدا جدا معبود اچھے ہیں یا ایک زبردست۔ جو در حقیقت خدائی کے قابل ہے اور اس کے سوا کسی میں معبودیت کی صلاحیت نہیں۔ پھر فرمایا کہ تم ان بتوں کی پرستش کرتے ہو اس کی پوری سند نہیں ہے۔ یہ بت تو تمہارے جعلی معبود ہیں۔ تم نے اور تمہارے باپ دادا نے پتھر کی مورتیں تراش کر ان کے جدا جدا نام رکھ چھوڑے ہیں اور اسی کو پوجنے لگے ہیں، ورنہ ان میں کوئی طاقت اور قدرت نہیں ہے جو معبود بننے کے لائق ہوسکیں۔ اگر سارے جہان کو پیدا کیا تو اسی اللہ نے اور اگر حکومت اور قبضہ سارے جہان پر ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 36–56

[17] یعنی عملاً یوسف (علیہ السلام) کو ملک کے سیاہ وسفید کا مالک بنادیا۔ تورات میں ہے کہ بادشاہ نے اپنے درباریوں سے کہا کہ ہم ایسا آدمی کہاں پاسکتے ہیں جیسا یہ ہے اور جس میں اللہ کی روح بول رہی ہے۔ پھر یوسف (علیہ السلام) سے کہا، '' دیکھ میں نے ساری زمین مصر پر تجھے حکومت بخشی۔ فقط ایک تخت نشینی ہی میں میں تجھ سے اوپر رہوں گا۔ '' اور اس نے اپنی انگوٹھی اتار کر یوسف (علیہ السلام) کو پہنا دی اور گلے میں سونے کا طوق ڈالا اور حکم دیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو صاحب مملکت کے لقب سے پکارا جائے۔ (پیدائش 37: 41)

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 38–42

ذریعہ حضوری : (ف 1) : حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دونوں خواب دیکھنے والوں کو تعبیر بتلائی ایک سے کہا تو ساقی گری کے عہدہ کو سنبھالے گا اور دوسرے سے کہا تو سولی دیا جائے گا ، اور پرندے تیرا گوشت نوش نوچ کے کھائیں گے ، جس کے متعلق انہیں خیال تھا کہ یہ فرعون مصر کا ساقی ہوگا ، اس سے کہا کہ مجھے یاد رکھیو ، اور موقع پا کر بادشاہ سے میرا ذکر کی جو اتفاق کی بات ہے کہ وہ رہا ہو کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے عہد کو بھول گیا ، اور اس طرح مدت تک آپ کو جیل میں رہنا پڑا ۔ بعض لوگوں نے (آیت) ” فانسہ الشیطن “ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی جانب منسوب کیا ہے یعنی یہ مقام نبوت کے منافی ہے کہ آپ پیغمبر ہو کر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

40 ۔ تم لوگ تو خدا کو چند ایسے بےاصل اور بےحقیقت ناموں کی پرستش کرتے ہو جن کو تم نے اور تمہارے باپ دادائوں نے گھڑ لیا ہے اور آپ ہی ٹھرا لیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معبود ہونے پر کوئی دلیل اور کوئی سند نہیں اتاری سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کی فرماں روائی نہیں اور اس کے سوا نہ کسی کو حکم دینے کا اختیار ہے اس نے یہ حکم دیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی عبادت نہ کرو یہی صحیح اور سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ یعنی وہ ٹھا کر کہ جن کے نام تم نے رکھ چھوڑے ہیں وہ تو بیکار محض ہیں ایسی حالت میں سوائے ناموں کے اور کیا رکھا ہے اور حکومت ہے اللہ تعالیٰ کی اور اسی کا حکم چلتا ہے تو اس کے حکم کی…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جن کو تم پکارتے ہو وہ کیا ہیں ؟ چند نام جو تم نے اور تمہارے آباء نے رکھ لئے ہیں ۔ 51 ” تم ایک اللہ کے سوا جن ہستیوں کی بندگی کرتے ہو ان کی حقیقت اس کے سوا کیا ہے کہ محض چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آبائو اجداد نے رکھ لئے ہیں۔ “ اگر یہ اللہ کے نیک بندے تھے تو وہ اپنا وقت گزار کر دنیا سے رخصت ہوگئے اللہ نے تو یہ اختیارات کسی کو تفویض ہی نہیں کئے اور اگر یہ صرف نام ہی نام ہیں تو ظاہر ہے کہ تم نے گھڑے ہیں یا تمہارے آبائو اجداد نے گھڑ لئے ہیں۔ ” اللہ نے تو ان کے لئے کوئی سند نہیں اتاری۔ “ کہ فلاں میرا ولی تم کو اولاد دے گا اور فلاں بارش برسائے گا اور فلاں کا کام دولت تقسیم کرنا ہے اور فلاں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–40

After that, he declares his abhorrence for disbelief and his disengagement from the community of disbelievers. Then, with it, he also stresses that he is a member of the House of Prophets and it is their Community that he adheres to and that he is a scion of the House of Ibrahim, Ishaq and Ya` qub (علیہم السلام) . We mentioned confidence a little earlier. Customarily, this kind of inherited nobility, a common family trait, is also a source of creating confidence in a person. After that he said: And it is not for us that we associate any partners with Allah. Then, he said that the Taufiq of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–41

34. This discourse, which is the soul of this story, and is one of the best on the doctrine of Tauhid in the Quran itself, finds no place at all in the Bible and the Talmud. This is because they regard him merely as a wise and pious man and not as a Prophet. That is why Rev. Rodwell has, in regard to this passage, accused Muhammad (peace be upon him) of putting his own doctrine and conviction into the mouth of Joseph (peace be upon him). But the Quran not only puts forward and presents these two aspects of his life in a much better and clearer way but also presents him as a Prophet, who had…

Read the full tafseer →