خواب اور اس کی تعبیر
اب اللہ کے برگزیدہ پیغمبر ان کے خواب کی تعبیر بتلا رہے ہیں لیکن یہ نہیں فرماتے کہ تیری خواب کی یہ تعبیر ہے اور تیرے خواب کی یہ تعبیر ہے تاکہ ایک رنجیدہ نہ ہوجائے اور موت سے پہلے اس پر موت کا بوجھ نہ پڑجائے۔ بلکہ مبہم کر کے فرماتے ہیں تم دو میں سے ایک تو اپنے بادشاہ کا ساقی بن جائے گا یہ دراصل یہ اس کے خواب کی تعبیر ہے جس نے شیرہ انگور تیار کرتے اپنے تئیں دیکھا تھا۔ اور دوسرے جس نے اپنے سر پر روٹیاں دیکھی تھیں۔ اس کے خواب کی تعبیر یہ دی کہ اسے سولی دی جائے گی اور پرندے اس کا مغز کھائیں گے۔ پھر ساتھ ہی فرمایا کہ یہ اب ہو کر ہی رہے گا۔ اس لیے کہ جب تک خواب کی تعبیر بیان نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
سورة یُوْسُف 34
یہ تقریر جو اس پورے قصے کی جان ہے اور خود قرآن میں بھی توحید کی بہترین تقریروں میں سے ہے، بائیبل اور تلمود میں کہیں اس کی طرف ادنی اشارہ تک نہیں ہے۔ وہ حضرت یوسف ؑ کو محض ایک دانشمند اور پرہیزگار آدمی کی حیثیت سے پیش کرتی ہیں۔ مگر قرآن صرف یہی نہیں کہ ان کی سیرت کے ان پہلوؤں کو بھی بائیبل اور تلمود کی بہ نسبت بہت زیادہ روشن کر کے پیش کرتا ہے، بلکہ اس کے علاوہ وہ ہم کو یہ بھی بتاتا ہے کہ حضرت یوسف ؑ اپنا ایک پیغمبرانہ مشن رکھتے تھے اور اس کی دعوت و تبلیغ کا کام انہوں نے قید خانہ ہی میں شروع کردی تھی۔
یہ تقریر ایسی نہیں ہے کہ اس پر سے یونہی سرسری طور پر گزر جائے۔ اس کے متعدد…
Read the full tafseer →یوسف ؑ اپنی تبلیغ و دعوت کے بعد ان لوگوں کے خوابوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ تم میں سے ایک تو رہا ہوجائے گا اور پھر اپنی ملازمت پر بھی برقرار رہ کر بادشاہ کو شراب پلائے گا اور دوسرے پر جرم ثابت ہو کر اس کو سولی دی جائے گی اور جانور اس کا گوشت نوچ نوچ کر کھائیں گے
پیغمبرانہ شفقت کی عجیب مثال
ابن کثیر ؒ نے فرمایا کہ اگرچہ ان دونوں کے خواب الگ الگ تھے اور ہر ایک کی تعبیر متعین تھی اور یہ بھی متعین تھا کہ شاہی ساقی بری ہو کر اپنی ملازمت پر پھر فائز ہوگا اور باورچی کو سولی دی جائے گی مگر پیغمبرانہ شفقت و شرافت کی وجہ سے متعین کر کے نہیں بتلایا کہ تم میں سے فلاں کو سولی دی جائے گی تاکہ وہ…
Read the full tafseer →يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ اَمَّآ اَحَدُكُمَا فَيَسْقِيْ رَبَّهٗ خَمْرًا ۚ وَاَمَّا الْاٰخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّيْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ ۭ قُضِيَ الْاَمْرُ الَّذِيْ فِيْهِ تَسْتَفْتِيٰنِ۔
خوابوں کی تعبیر : حضرات انبیاء علیہم السلا کے دل و دماغ پر سب سے زیادہ حاوی اور غالب چونکہ اللہ کے دین کی دعوت ہی ہوتی ہے اس وجہ سے جب کبھی اور جہاں کہیں بھی اس کا موقع ان کو ہاتھ آجاتا ہے وہ اس سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ حضرت یوسف نے جب دیکھا کہ ان کے زندان کے ساتھ حسن ظن اور اعتماد کے ساتھ ان کی طرف متوجہ ہوئے ہیں تو پہلے تو انہوں نے ان کو خدا کی توحید کی دعوت پہنچائی اس کے بعد انہیں ان کے خوابوں کی تعبیر بھی…
Read the full tafseer →41۔ 1 توحید کا وعظ کرنے کے بعد اب حضرت یوسف ؑ ان کے بیان کردہ خوابوں کی تعبیر بیان فرما رہے ہیں۔
41۔ 2 یہ وہی شخص ہے جس نے خواب میں اپنے آپ کو انگور کا شیرہ کرتے ہوئے دیکھا تھا تاہم آپ نے دونوں میں سے کسی ایک کی تعبین نہیں کی تاکہ مرنے والا پہلے ہی غم و حزن میں مبتلا نہ ہوجائے۔
41۔ 3 یہ وہ شخص ہے جس نے اپنے سر پر خواب میں روٹیاں اٹھائے دیکھا تھا۔
41۔ 4 یعنی تقدیر الٰہی میں پہلے سے یہ بات ثبت ہے اور جو تعبیر میں نے بتلائی ہے۔ لا محالہ واقع ہو کر رہے گا۔ جیسا کہ حدیث میں ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ ' خواب، جب تک اس کی تعبیر نہ کی جائے، پرندے کے پاؤں پر ہے۔ جب اس کی تعبیر کردی جائے تو واقع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
27: آقا سے مراد بادشاہ ہے۔ حضرت یوسف ؑ نے جس قیدی کے بارے میں یہ فرمایا تھا کہ وہ چھوٹ جائے گا اور واپس جا کر حسب معمول اپنے آقا کو شراب پلائے گا اس سے آپ نے یہ بات فرمائی کہ تم اپنے آقا یعنی بادشاہ سے میرا تذکلرہ کرنا کہ ایک شخص بےگناہ جیل میں پڑا ہوا ہے۔ اس کے معاملے پر آپ کو توجہ کرنی چاہیے مگر جیسا کہ آگے بیان فرمایا گیا ہے اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ شخص بادشاہ سے یہ بات کہنا بھول گیا جس کی وجہ سے انہیں کئی سال اور جیل میں رہنا پڑا۔
Read the full tafseer →حضرت یوسف نے اچھے انجام پانے والے اور برے انجام تک پہنچنے والے کا یہاں تعین نہیں فرمایا کیونکہ انہوں نے مناسب نہیں سمجھا کہ برا انجام پانے والے کو ذاتی طور پر مخاطب کریں البتہ انہوں نے تاکید سے کہہ دیا کہ انجام یہی ہوگا۔ یہ امر فیصلہ شدہ ہے جس طرح فیصلہ ویسا ہی ہونے والا ہے۔ حضرت یوسف ایک ناکردہ گناہ قیدی تھے ۔ بادشاہ نے ان کی قید کا حکم بغیر سوچ اور تحقیق کے صادر فرما دیا تھا۔ شاید اس کے حاشیہ نشینوں نے عزیز مصری کی بیوی کے واقعہ کو اس طرح اس کے سامنے پیش کیا کہ اس میں حضرت یوسف کو گناہ گار کر کے پیش کیا ہوک ، جس طرح با اثر طبقات عموماً ایسا کرلیتے ہیں۔ چناچہ حضرت یوسف نے اس موقعہ پر یہ…
Read the full tafseer →2 فرض تبلیغ ادا کرنے کے بعد یوسف (علیہ السلام) نے ان کے خوابوں کی تعبیر بیان فرمائی، کہ جس نے خواب میں شراب پلاتے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ وہ بیداری میں بادشاہ کو شراب پلائے گا۔ اور جس نے سر پر سے جانوروں کو روٹیاں کھاتے دیکھا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سولی دیا جائے گا۔ پھر جانور اس کے سر سے نوچ نوچ کر کھائیں گے۔ قضا و قدر کا فیصلہ یہ ہی ہے جو کسی کے ٹالے ٹل نہیں سکتا۔ جو بات تم پوچھتے تھے وہ میں نے بتلا دی۔ یہ بالکل طے شدہ امر ہے۔ جس میں تخلف نہیں ہوسکتا چناچہ ایسا ہی ہوا۔ ساقی زہر خورانی کی تہمت سے بری ہوگیا، اور خباز (نانبائی) کو جرم ثابت ہونے کی وجہ سے سزائے موت دی گئی۔
Read the full tafseer →آیت 41 يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ اَمَّآ اَحَدُكُمَا فَيَسْقِيْ رَبَّهٗ خَمْرًا
یہاں پر رب کا لفظ بادشاہ کے لیے استعمال ہوا ہے۔ یہ اس شخص کے خواب کی تعبیر ہے جس نے خود کو شراب کشید کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ یہ شخص پہلے بھی بادشاہ کا ساقی تھا مگر اس پر کوئی الزام لگا اور اسے جیل بھیج دیا گیا۔ حضرت یوسف نے خبر دے دی کہ اس کے خواب کے مطابق وہ اس الزام سے بری ہو کر اپنے پرانے عہدے پر بحال ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →40 خوابوں کی تعبیر :۔ اس طرح موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیدنا یوسف نے ان دونوں سوال کرنے والوں کو دل نشین پیرایہ میں اصول دین سمجھا دیئے پھر ان کے خوابوں کی تعبیر بتانا شروع کی اور ساقی سے کہا کہ تمہارے خواب کی تعبیر یہ ہے کہ تم اپنی سابقہ ملازمت پر بحال کردیئے جاؤ گے اور نانبائی سے کہا کہ تمہیں سولی پر چڑھا دیا جائے گا اور تمہاری موت کے بعد پرندے نوچ نوچ کر تمہارا گوشت کھائیں گے۔ یعنی ساقی پر الزام غلط ثابت ہوا اور نانبائی حقیقتاً مجرم قرار دیا گیا ہے۔ یہ تعبیر سن کر نانبائی کہنے لگا کہ مجھے ایسی خواب نہیں آئی تھی میں تو ویسے ہی اس طرح کے خواب کی تعبیر پوچھنا چاہتا تھا سیدنا یوسف نے فرمایا :…
Read the full tafseer →85۔ (جیسا کہ پہلے پلاتا رہتا تھا) یہ خطاب ساقی سے ہے۔۔ خواب کی تعبیر اب جاکر شروع ہوتی ہے۔ اتنی مفصل اور حکیمانہ دعوت توحید کے بعد توریت میں ایک لفظ بھی اس وعظ کا نہیں۔ توریت میں ہے :۔ ” تب یوسف بولا اس کی تعبیر یہ ہے کہ یہ تین ڈالیاں تین دن ہیں اور فرعون اب سے تین دن میں تیری روبکاری کرے گا اور تجھے تیرا منصب پھیر دے گا اور تو آگے کی طرح جب تو فرعون کا ساقی تاھ اس کے ہاتھ میں پھر جام دے گا۔ “ (پیدائش 40: 13) (آیت) ” ربہ “۔ رب سے مراد ظاہر ہے کہ اس ساقی کا آقا یا بادشاہ مصر ہے اور قرآن مجید میں رب آقائی مجازی کے معنی میں کثرت سے آیا ہے۔
86۔ یہ تعبیر نان پز کے خواب کی تھی۔ توریت میں ہے :۔ ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
آیت نمبر 36 تا 42
ترجمہ : چناچہ (یوسف کو) جیل میں ڈال دیا گیا اور اس کے ساتھ دو اور نوجوان بھی جیل خانہ میں داخل ہوئے جو بادشاہ کے غلام تھے، ایک ان میں سے بادشاہ کا ساقی تھا اور دوسرا شاہی مطبخ کا ذمہ دار، ان دونوں کو معلوم ہوا کہ (یوسف) خوابوں کی تعبیر بتاتے ہیں تو دونوں نے مشورہ کیا کہ ہم اس کو ضرور آزمائیں گے، ان میں سے ایک نے جو کہ ساقی تھا کہا میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں انگور نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے مطبخ کے ذمہ دار نے کہا میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اس میں سے پرندے کھا رہے ہیں، ہمیں آپ اس کی تعبیر بتائیے، ہم آپ کو نیک آدمی سمجھتے ہیں، (یوسف (علیہ السلام) نے) ان کو یہ بتاتے…
Read the full tafseer →یٰصاحبي السجن اما احد کما فیسقی ربہ خمرا واما الاخر فیصلب فتاکل الطیر من راسہ اے جیل خانہ کے دونوں ساتھیو ! تم میں سے ایک (یعنی ساقی) تو اپنے آقا (یعنی بادشاہ) کو شراب پلائے گا اور دوسرے (یعنی باورچی) کو صلیب دی جائے گی اور پرندے اس کے سر کو (نوچ نوچ کر) کھائیں گے۔ انگور کے تین خوشوں سے تین روز کی طرف اشارہ ہے یعنی جیل خانہ کے اندر تین روز رہے گا ‘ تین روز کے بعد بادشاہ اس کو طلب کرلے گا اور سابق عہدہ پر دوبارہ مقرر کر دے گا اور تین ٹوکریوں سے بھی تین دن کی طرف اشارہ ہے یعنی باورچی جیل خانہ میں تین روز رہے گا ‘ تین روز کے بعد جیل خانہ سے نکلوا کر اس کو صلیب پر چڑھا دیا جائے گا۔
میں کہتا ہوں :…
Read the full tafseer →(41) اب حضرت یوسف ؑ ان غلاموں کو خواب کی تعبیر بتاتے ہیں کہ تم میں سے ساقی تو جرم سے بری ہو کر اپنی اصلی جگہ اور اصلی کام پر چلا جائے گا اور اپنے آقا کو پہلے کی طرح شراب پلایا کرے گا اور نانبائی جیل سے نکال کر سولی پر لٹکایا جائے گا، نانبائی کے بارے میں یہ خواب کی تعبیر سن کر دونوں غلام گھبرائے اور کہنے لگے ہمیں تو ایسی چیز نظر نہیں آئی، حضرت یوسف ؑ نے ان سے فرمایا جس کے بارے تم پوچھتے ہو اور جو کچھ تم نے بیان کیا اور جو میں نے اس کا جواب دیا ہے وہ اسی طرح ہو کر رہے گا خواہ تمہیں یہ حقیقت نظرآئی ہو یا نہ۔
Read the full tafseer →يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ۔۔ : تعبیر بیان کرتے وقت یوسف ؑ کے حسن ادا کو ملاحظہ فرمائیں، ایک تو دونوں میں سے ایک کو متعین کرکے نہیں فرمایا کہ تیرے خواب کا یہ نتیجہ ہے اور تیرے خواب کا یہ، حالانکہ جواب سے ظاہر تھا کہ ساقی نے عہدے پر بحال ہونا ہے اور دوسرے نے سولی چڑھنا ہے، بلکہ فرمایا تم میں سے ایک کی تعبیر یہ ہے اور ایک کی یہ۔ پھر اس بات کو بھی سامنے رکھیے کہ پہلے وہ تعبیر بتائی جو خوش خبری والی تھی، دوسری بعد میں بتائی۔ مقصد یہ تھا کہ دل شکنی میں جتنی بھی دیر ہو سکے کی جائے اور خوشی کی خبر جتنی جلد ہو سکے پہنچائی جائے۔
قُضِيَ الْاَمْرُ الَّذِيْ فِيْهِ تَسْتَفْتِيٰنِ : یعنی یہ فیصلہ ہوچکا جو اب ٹل…
Read the full tafseer →آیت نمبر 41
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : امآ احد کما فیسقی ربہ خمرًا یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ساقی کو کہا : تو تین دن کے بعد بادشاہ کو شراب پلانے والی سابقہ ڈیوٹی پر واپس چلا جائے گا اور دوسرے سے کہا : تجھے تین دن تک بلایا جائے گا اور سولی چڑھا دیا جائے گا پرندے تیرے سر سے (نوچ) کھائیں گے، اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے کوئی (خواب) نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا : تو نے دیکھا ہے یا نہیں قضی الامر الذی فیہ تستفتیٰن (اٹل) فیصلہ ہوچکا ہے اس بات کا جس کے متعلق تم دریافت کرتے ہو۔ اہل زبان نے بیان کیا ہے کہ سقی اور اسقی دونوں لغتیں ہیں معنی دونوں کا ایک ہے، جس طرح…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک ساتھی (یوسف (علیہ السلام) کے پاس) آیا اور کہا آپ بتائیے اس خواب کے بارے میں اور اس میں سے انگور نکلے تو میں نے ان کو نچوڑا پھر بادشاہ کو بلایا۔ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا تم جیل میں تین دن رہو گے تو نکل جائے گا اور اس (بادشاہ) کو شراب پلائے گا۔
2:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” فیسقی ربہ خمرا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس میں رب سے مراد ہے اس کا آقا۔
جھوٹا خواب بیان کرنا :
3:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ یوسف (علیہ السلام) کے جیل کے ساتھیوں…
Read the full tafseer →[يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ : اے جیل کے دونوں ساتھیو ] [ اَمَآ : وہ جو ہے ] [ اَحَدُكُمَا : تم دونوں کا یک ] [ فَيَسْقِيْ : تو وہ پلائے گا ] [رَبَّهٗ : اپنے آقا کو ] [خَمْرًا : شراب ] [ وَاَمَا : اور وہ جو ہے ] [ الْاٰخَرُ : دوسرا ] [ فَيُصْلَبُ : تو وہ پھانسی دیا جائے گا ] [فَتَاْكُلُ : پھر کھائیں گے ] [الطَّيْرُ : پرندے ] [ مِنْ رَّاْسِهٖ : اس کے سر میں سے ] [ قُضِيَ : فیصلہ کیا گیا ] [ الْاَمْرُ : کام کا ] [ الَّذِي : وہ ] [ فِيْهِ : جس کے بارے میں ] [تَسْتَفْتِيٰنِ : تم دونوں پوچھتے ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا دونوں قیدیوں کے خواب کی تعبیر دینا
توحید کی دعوت دے کر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان دونوں جوانوں کے خوابوں کی تعبیر بتائی فرمایا کہ دیکھو تم میں سے ایک شخص اپنے آقا کو شراب پلائے گا (یہ وہی شخص تھا جو بادشاہ کا ساقی تھا جو پہلے بھی بادشاہ کو شراب پلایا کرتا تھا) اور اس کے علاوہ جو دوسرا آدمی ہے اس کو سولی دی جائے گی۔
یعنی سولی پر لٹکا کر قتل کیا جائے گا اور سولی اتارے جانے سے پہلے (جو وہ لٹکا رہے گا) اس کے سر میں سے پرندے نوچ نوچ کر کھاتے رہیں گے۔ تم نے جو خواب دریافت کیا ان کی یہ تعبیر ہے اور جو میں نے تعبیر دی اسی کے مطابق فیصلہ ہوگا۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
قصہ یوسف (علیہ السلام) باساقی و خباز درجیل خانہ بر تبلیغ و دعوت اظہار نبوت
قال اللہ تعالیٰ ودخل معہ السجن فتین .... الیٰ .... فلبث فی السجن یضع سنین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یوسف (علیہ السلام) کی دعا رب السجن احب الی مما یدعونی الیہ اور اس کی قبولیت و استجابت کا ذکر کیا ہے دعا میں یہ درخواست تھی کہ اے پروردگار ایسے زنانخانہ اور محل سرائے سے تو جیل بہتر ہے بارگاہ خداوندی میں یوسف علیہا لسلام کی دعا بلفظہ قول ہوئی کہ زنان خانہ سے نکال کر جیل خانہ بھیج دئیے گئے اب وقت آیا کہ ولنعلمہ من تاویل الاحادیث۔ کا ظہور ہو کہ جیل خانہ میں پہنچ کر لوگوں کے خوابوں کی تعبیریں دیں اور ان کو توحید اور اسلام کی…
Read the full tafseer →37:۔ دونوں قیدیوں کو دعوت اسلام دینے اور ان پر مسئلہ توحید واضح کرنے کے بعد ان کے خوابوں کی تعبیر بیان فرمائی کہ ان میں سے ایک یعنی ساقی دوبارہ دربار شاہی میں اپنی ملازمت پر بحال ہوجائے گا اور اپنے آقا کو شراب پلانے کی خدمت انجام دے گا کیونکہ اس کا جرم ثابت نہیں ہوسکے گا۔ لیکن دوسرا یعنی شاہ کا باورچی مجرم ثابت ہوگا اس لیے اسے سولی پر لٹکایا جائے گا اور پرندے اس کا بھیجا نوچ کھائیں گے۔ ” قُضِیَ الْاَمْرُ الخ “ تمہارے خوابوں کی جو تعبیر میں نے بیان کی ہے وہ لا محالہ ہو کر رہے گی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے مذکورہ تعبیر وحی سے بیان کی تھی یا علم تعبیر کی بنا پر۔ آپ چونکہ نبی تھے اس لیے آپ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
ربط آیات
گزشتہ درس میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ دو دوسرے قیدی بھی تھے جن میں سے ایک نانبائیوں کا انچارج اور دوسرا شراب پلانے والا تھا۔ یہ قیدی یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ آپ کے حسن سلوک ، زہد اور تقویٰ کی بنا پر مانوس ہوگئے اور پھر انہوں نے آپ سے اپنے اپنے خواب کی تعبیر بھی پوچھی۔ بعض فرماتے ہیں کہ مذکورہ قیدیوں کو خواب نہیں آیا تھا بلکہ وہ خواب کی تعبیر کی آڑ میں یوسف (علیہ السلام) کا امتحان لینا چاہتے تھے ، تاہم راحج بات یہی ہے کہ انہوں نے خواب دیکھا تھا۔ البتہ بائیبل کی روایت ہے کہ قید خانے کا افسر بھی یوسف (علیہ السلام) سے مانوس ہوگیا تھا ، وہ آپ پر اعتماد کرتا تھا…
Read the full tafseer →يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ اَمَّآ اَحَدُكُمَا فَيَسْقِيْ رَبَّہٗ خَمْرًا 0ۚ وَاَمَّا الْاٰخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّيْرُ مِنْ رَّاْسِہٖ 0ۭ قُضِيَ الْاَمْرُ الَّذِيْ فِيْہِ تَسْتَفْتِيٰنِ 41ۭ
سقی
السَّقْيُ والسُّقْيَا : أن يعطيه ما يشرب، والْإِسْقَاءُ :
أن يجعل له ذلک حتی يتناوله كيف شاء، فالإسقاء أبلغ من السّقي، لأن الإسقاء هو أن تجعل له ما يسقی منه ويشرب، تقول : أَسْقَيْتُهُ نهرا، قال تعالی: وَسَقاهُمْ رَبُّهُمْ شَراباً طَهُوراً
[ الإنسان/ 21] ، وقال : وَسُقُوا ماءً حَمِيماً [ محمد/ 15]
( س ق ی ) السقی
والسقیا کے معنی پینے کی چیز دینے کے ہیں اور اسقاء کے معنی پینے کی چیز پیش کردینے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
3 ؎ اصلی خواب میں جس کو رویا صادقہ کہتے ہیں انسان کی روح کو عالم غیب کی چیزیں جو ہنوز عالم ظہور میں نہیں آئیں دکھائی دے جاتی ہیں لیکن قوت متوہمہ ان معانی مجردہ کو ان کے مناسب اشکال میں ڈھال کر دکھاتی ہے پھر اس کے حل کا نام تعبیر ہے۔ یہ کام اسی سے عمدہ بن سکتا ہے جس کو عالم قدس سے مناسبت ہوتی ہے اور اس مناسبت کے آثار چہرے پر بھی نمودار ہوتے ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے نورانی چہرے سے انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ بھی انہیں مقدس لوگوں میں سے ہے اس لئے ان سے تعبیر پوچھی 12 منہ
Read the full tafseer →یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّآ اَحَدُکُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّہٗ خَمْرًا ج وَاَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْکُلُ الطَّیْرُمِنْ رَّاْسِہٖ ط قُضِیَ الْاَمْرُالَّذِیْ فِیْہِ تَسْتَفْتِیٰن۔ (سورۃ یوسف : 41)
(اے زنداں کے ساتھیو ! تم میں سے ایک تو اپنے آقا کو شراب پلائے گا، رہا دوسرا تو اس کو سولی دی جائے گی، پھر پرندے اس کا سر نوچ نوچ کر کھائیں گے، فیصلہ ہوگیا اس بات کا جس کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے۔ )
انبیاء (علیہم السلام) چونکہ لوگوں کی اصلاح کے لیے مبعوث ہوتے ہیں اس لیے سب سے زیادہ جو خیال ان کے ذہن پر حاوی رہتا ہے وہ تبلیغ و دعوت ہے۔ جب بھی اس کا موقع نکلتا ہے وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ حضرت…
Read the full tafseer →ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے قید کے ساتھیوں کو عقیدۂ توحید سمجھانے اور شرک کی نفی کرنے کے بعد ان کے خواب کی تعبیر بتلاتے ہیں۔ اب پھر دلربا لہجے میں فرمایا کہ اے میرے قید کے ساتھیو ! تم میں سے ایک تو جیل سے رہا ہو کر اپنی ڈیوٹی پر بحال ہوگا اور اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا۔ اور دوسرا تختۂ دار پر لٹکایا جائے گا۔ اس کا سر پرندے نوچیں گے۔ جن خوابوں کی تعبیر تم پوچھ رہے ہو ان کی حقیقت یہ ہے اور ایسا ہی ہوگا۔ کیونکہ اس کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ یہ بات پہلے بھی عرض کی جاچکی ہے کہ پیغمبر ظاہری حسن و جمال اور صالح کردار ہونے کے ساتھ انتہائی ذہین اور سمجھ دار ہوا کرتا ہے۔ چناچہ…
Read the full tafseer →تعبیر خواب :
41: یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّآ اَحَدُکُمَا (اے میرے جیل کے ساتھیو ! تم میں سے ایک) یہاں سے خواب کی تعبیر شروع فرمائی احدکما سے ساقی مراد ہے۔ فَیَسْقِیْ رَبَّہٗ خَمْرًا (وہ اپنے آقا کو شراب پلائیگا) یعنی اپنے عہدے پر واپس لوٹ جائے گا۔ وَاَمَّا الْاٰخَرُ (اور پھر دوسرا) یعنی نانبائی فَیُصْلَبُ فَتَاْ کُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِہٖ (پس اس کو سولی دی جائے گی اور پرندے اس کو سر کی طرف سے کھائیں گے) روایت تفسیر میں ہے کہ آپ نے پہلے کو کہا تم نے جو انگور کی بیل اور اسکی خوبصورتی دیکھی ہے۔ اس سے مراد بادشاہ ہے اور اس کے ہاں تیری اچھی حالت ہے۔ باقی تین شاخیں اس سے مراد تین دن ہیں جو…
Read the full tafseer →41۔” یا صاحبی السجن اما احد کما “ ایک ان میں سے ساقی تھا۔” فیسقی ربہ خمرا “ اور تین گچھے جو خواب میں دیکھے تھے اس سے مراد یہ تھا کہ تین دن قید میں رہے گا پھر بادشاہ کو بلوالے گا ۔ ” وما الاخر “ یعنی خانسامہ ۔ اس کو بھی تین دن بعد بادشاہ بلوائے گا ۔ پھر اس کے بارے میں حکم دے گا ” فیصلب فتا کل الطیبر من راسہ “ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جب انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کی یہ بات سنی تو کہنے لگے کہ ہم نے کچھ نہیں دیکھا ہم تو وقت گزاری کر رہے تھے تو یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا ” قضی الامر الذی فیہ تستفتیان “ یعنی اس معاملہ سے فراغت ہوچکی جس کے بارے میں تم سوال کر رہے تھے اور تمہارے بارے میں اللہ کا…
Read the full tafseer →41۔ ساقی اور نان بائی اور بادشاہ مصر ان تین کافر شخصوں کے خواب اور تعبیر کا ذکر ان آیتوں اور آگے کی آیتوں میں آچکا ہے اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ کافر مشرک یا فاسق فاجر شخصوں کے سب خواب جھوٹے ہوتے ہیں۔ اسی واسطے صحیح مذہب علمائے اہل سنت کا یہی قرار پایا ہے کہ اہل اسلام نیک لوگوں کا خواب اکثر صحیح ہوتا ہے اور کافر مشرک فاسق فاجر لوگوں کا خواب بھی کبھی کبھی صحیح ہوتا ہے اور صحاح کی کتابوں میں حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور مسند امام احمد وغیرہ میں حضرت عائشہ ؓ کی حدیثیں جو ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مرض وفات کے وقت خاص اہل اسلام کو خوشخبری دی ہے اور یہ…
Read the full tafseer →پس یوسف نے قید کے دونوں ساتھیوں کو اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت اور اخلاص کی طرف دعوت دی، تو یہ احتمال بھی ہے کہ ان دونوں ساتھیوں نے یوسف کی دعوت قبول اور آپ کی اطاعت اختیار کرلی ہو اور اللہ کی نعمت کا ان پر اتمام ہوگیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنے شرک پر جمے رہے ہوں اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوگئی ہو۔ پھر یوسف نے ان دونوں کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کے مطابق ان کے خوابوں کی تعبیر بتانا شروع کی۔ فرمایا : (یصاحبی السجن اما احدکما) ” میرے جیل خانے کے رفیقو ! تم میں سے ایک “ یہ وہ شخص تھا جس نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ شراب نکال رہا ہے۔ اس کے بارے میں یوسف نے بتایا کہ وہ قید سے آزاد ہوگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
یوسف (علیہ السلام) کی تعبیر خواب میں حکمت تبلیغ
قول باری ہے قال لا باتیکما طعام ترزقا نہ الا نبا تکما بتاویلہ قبل ان یا تیکما ۔ یوسف نے کہا ۔ یہاں جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں ان خوابوں کی تعبیر بتادوں گا ۔ تا آخر آیت ۔ ابن جریج کا قول ہے کہ حضرت یوسف نے دونوں قیدی ساتھیوں کے خوابوں کی تعبیر فوری طور پر بتانے سے اس لیے پہلو تھی کی تھی کہ ان میں سے ایک کے خواب کی تعبیر بری تھی اس لیے آپ نے انہیں تعبیر بتانے کی بجائے ان سے وہ گفتگو کی جو آیت میں درج ہے لیکن دونوں نے اس وقت تک آپ کا پیچھا نہ چھوڑا جب تک آپ نے انہیں تعبیر نہ بتادی ۔ ایک قول کے مطابق آپ نے تعبیر بتانے سے…
Read the full tafseer →74۔ حسن ادب اور لطف تخاطب کا ایک عمدہ نمونہ :
حسن ادب اور لطف تخاطب ملاحظہ ہو کہ ان دونوں میں سے ہر ایک کا انجام جدا اور واضح ہونے کے باوجود ان کو صراحت کے ساتھ یوں نہیں فرمایا کہ تم رہا ہوگے اور تم کو پھانسی دی جائے گی۔ بلکہ عموم کے صیغے کے ساتھ فرماتے ہیں کہ تم میں سے ایک کے ساتھ یہ معاملہ ہوگا اور ایک ساتھ یہ تاکہ دل شکن بات کو صراحت کے ساتھ اپنی زبان پر بھی نہ لائیں۔ کیونکہ شان تبشیرو تیسیر ہے نہ کہ تنفیر اور تندخوئی وترشروئی۔ العیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف حضرت یوسف (علیہ السلام) دعوت حق سے جب فارغ ہوئے تو حسب وعدہ ان دونوں کی خواب کی تعبیربتلادی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–57
انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب
ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔
تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
آیات 36 تا 42
اسرار و معارف
حضرت جب جیل میں پہنچے تو آپ کا شہرہ بھی پہنچا اور قید میں مصائب میں مبتلاء لوگوں کو بھی ذوق زیارت ہوا تو آپ ان میں اپنے کمالات بیان فرماتے اور انھیں اپنی طرف متوجہ فرماتے کہ انبیاء پر تو یہ فرض ہوتا ہے کہ اپنے کمالات نبوت کا اظہار فرما کر لوگوں کو راہ حق کی طرف دعوت دیں۔
اہل اللہ کا اظہار کمالات
اور ولی اللہ بھی اگر اگر اظہار فرماتے ہیں تو ان کی غرض یہی ہوتی ہے ۔ کہ صاحب حال سے اپنی شہرت کی طلب کی توقع رکھنا درست نہیں۔ صاحب مظہری (رح) نے یہاں حضرت مجددالف ثانی (رح) کی مثال دی ہے کہ آپ اظہار فرماتے تھے تو اللہ کی بیشمار مخلوق نے استفادہ کیا جبکہ ان کے خلاف باتیں…
Read the full tafseer →ف 1 ۔ یعنی یہ قضائے الٰہی ہے جو ٹل نہیں سکتی۔ یہاں پر لفظ ” قضی “ سے معلوم ہوتا ہے کہ ظن بمعنی یقین ہے بعض نے لکھا ہے۔ خواب کی تعبیر اجتہادی تھی لہٰذا ظن اپنے اصلی معنی میں ہے۔ (ابن کثیر۔ روح) ۔ موضح میں ہے ” ظن “ فرمایا : معلوم ہوا کہ تعبیر خواب یقین نہیں اتکل ہے مگر پیغمبر اٹکل کرے تو ” بیشک “ ہے۔ (موضح) ۔
Read the full tafseer →(12:41) یسقی۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ وہ پلائیگا۔ سقی مصدر (باب ضرب) ۔ ربہ۔ اپنے مالک کو۔
یصلب۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب صلب مصدر (ضرب) وہ سولی دیا جائے گا۔
قضی الامر۔ بات فیصلہ ہوچکی ہے۔ یہ مار (اسی طرح) مقدر ہوچکا ہے۔
تستفتین۔ تم دونوں پوچھتے ہو۔ تم دونوں فتویٰ طلب کرتے ہو۔ استفتاء (استفعال) سے مضارع تثنیہ مذکر حاضر۔ فتی مادہ۔ قرآن مجید میں آیا ہے یستفتونک فی النساء (4:127) اور رہ تم سے یتیم عورتوں کے بارے میں فتوی مانگتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 42
(یسفی پلائے گا، سیراب کرے گا) (یصلب پھانسی دیا جائے گا) (تاکل الطیر پرندے کھائیں گے) ( قضی فیصلہ کردیا گیا) ( تستفتین تم دونوں پوچھتے ہو) (ظن گمان کیا) (ناج نجات پانے والا) (بضع سنین چند سال)
تشریح : آیت نمبر 41 تا 42
گزشتہ آیات میں اس بات کو وضاحت سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ قید کے دوران مزید دوق یدیوں کو لایا گیا ہے۔ ان میں سے ایک تو بادشاہ کا ساقی تھا جو اس کو شراب پلایا کرتا تھا۔ دوسرا باورچی تھا دونوں پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے باہمی سازش سے کھانے میں زہر ملا کر بادشاہ کو مارنے کی سازش کی ہے ان دونوں کے خلاف تحقیقات جاری تھیں اور ان دونوں کو کوئی…
Read the full tafseer →ساقی اور باورچی کی تعبیر
خواب کی تعبیر یہ ہے کہ ساقی تو تین دن رہ کر چھوٹ جائے گا اور اپنے مربی کو یعنی بادشاہ کو بدستور سابق شراب پلایا کرے گا، اور اپنی خدمت پر مامور ہوجاوے گا اور دوسرے کی تعبیر یہ ہے کہ یعنی باورچی کی کہ وہ سولی پر لٹکایا جائے گا اور بہت دن تک اس کو لٹکا رہنے دیں گے۔ پرندے اس کی کھوپڑی میں سے بھیجا کھائیں گے۔ وہ یہ تعبیر سن کر متحیر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم نے تو جھوٹی بندش کی تھی خواب تو کچھ دیکھا نہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اب کیا ہوسکتا ہے۔ اب تو جو کچھ ہونا تھا اور جو کچھ میں نے جواب دیا میرے جواب کے موافق ضرور واقعی ہوگا اور یاد رکھو اس میں ہرگز خلاف نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–56
[17] یعنی عملاً یوسف (علیہ السلام) کو ملک کے سیاہ وسفید کا مالک بنادیا۔ تورات میں ہے کہ بادشاہ نے اپنے درباریوں سے کہا کہ ہم ایسا آدمی کہاں پاسکتے ہیں جیسا یہ ہے اور جس میں اللہ کی روح بول رہی ہے۔ پھر یوسف (علیہ السلام) سے کہا، '' دیکھ میں نے ساری زمین مصر پر تجھے حکومت بخشی۔ فقط ایک تخت نشینی ہی میں میں تجھ سے اوپر رہوں گا۔ '' اور اس نے اپنی انگوٹھی اتار کر یوسف (علیہ السلام) کو پہنا دی اور گلے میں سونے کا طوق ڈالا اور حکم دیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو صاحب مملکت کے لقب سے پکارا جائے۔ (پیدائش 37: 41)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
ذریعہ حضوری :
(ف 1) : حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دونوں خواب دیکھنے والوں کو تعبیر بتلائی ایک سے کہا تو ساقی گری کے عہدہ کو سنبھالے گا اور دوسرے سے کہا تو سولی دیا جائے گا ، اور پرندے تیرا گوشت نوش نوچ کے کھائیں گے ، جس کے متعلق انہیں خیال تھا کہ یہ فرعون مصر کا ساقی ہوگا ، اس سے کہا کہ مجھے یاد رکھیو ، اور موقع پا کر بادشاہ سے میرا ذکر کی جو اتفاق کی بات ہے کہ وہ رہا ہو کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے عہد کو بھول گیا ، اور اس طرح مدت تک آپ کو جیل میں رہنا پڑا ۔
بعض لوگوں نے (آیت) ” فانسہ الشیطن “ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی جانب منسوب کیا ہے یعنی یہ مقام نبوت کے منافی ہے کہ آپ پیغمبر ہو کر…
Read the full tafseer →41 اے قید خانہ کے رفیقو ! تم دونوں میں سے ایک تو بدستور اپنے آقا اور اپنے بادشاہ کو شراب پلایا کرے گا اور دوسرا تم میں کا سولی دیا جائے گا اور اس کے سر کو پرندے نوچ نوچ کر کھائیں گے جو بات تم دریافت کرتے تھے اس کا فیصلہ کیا جا چکا ۔ یعنی تم دونوں میں سے شرابی بری ہوجائے گا اور نانبائی کو سولی ہوگی چناچہ مقدمہ میں ایک بری ہوا دوسرے کو سولی ہوئی۔
Read the full tafseer →ف 6۔ چناچہ بعد تنقیح مقدمہ ایک بری ثابت ہوا دوسرا مجرم دونوں جیل خانہ سے بلائے گئے ایک رہائی کے لیے دوسرا سزا کے لیے۔
Read the full tafseer →قید کے ساتھیوں کے خواب کی تعبیران کو بتائی جا رہی ہے
۔ 52 یوسف (علیہ السلام) نے توحید الٰہی کا سبق یاد کرانے کے بعد ان کے خواب کی طرف رغبت فرمائی ہے اور ان کو بتایا کہ وہ شخص جس نے اپنے آقا کو شراب پلانے کی ذمہ داری قبول کی تھی وہ اب بھی اپنی ذمہ داری پر بحال کردیا جائے گا اور وہ جس کے سر پر روٹیاں رکھی تھیں وہ یقینا سزا پائے گا اور سولی پر لٹکایا جائے گا ” اور پرند اس کا سرکھائیں گے۔ “ اور یہ تعبیر نان پز کے خواب کی تھی چناچہ تورات میں بھی ہے کہ ” یوسف نے جواب دیا اور کہا کہ اس کی تعبیر یہ ہے کہ تین ٹوکریاں تین دن ہیں فرعون اب سے تین دن میں تیرا سر تیرے تن سے جدا کر دے گا اور ایک درخت پر تجھ…
Read the full tafseer →After having made his call to truth, Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) turned to the dreams mentioned by two of his prison mates declaring that one of the two of them will get his release, return to his job and keep serving wine to his master. As for the other, the crime against him will stand proved and he will be crucified and birds will eat from his head.
An Example of Prophetic Compassion
Ibn Kathir has said: Though the dreams of both these prisoners were separate, and fixed was the interpretation of each, and also fixed was the fate that the royal cup-bearer will be acquitted and return to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
34. This discourse, which is the soul of this story, and is one of the best on the doctrine of Tauhid in the Quran itself, finds no place at all in the Bible and the Talmud. This is because they regard him merely as a wise and pious man and not as a Prophet. That is why Rev. Rodwell has, in regard to this passage, accused Muhammad (peace be upon him) of putting his own doctrine and conviction into the mouth of Joseph (peace be upon him). But the Quran not only puts forward and presents these two aspects of his life in a much better and clearer way but also presents him as a Prophet, who had…
Read the full tafseer →