Yusuf 12:39

Yusuf · from ayah 39

12:39

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ۟ؕيٰصَاحِبَىِ السِّجۡنِ ءَاَرۡبَابٌ مُّتَفَرِّقُوۡنَ خَيۡرٌ اَمِ اللّٰهُ الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُؕ‏

میرے جیل خانے کے رفیقو! بھلا کئی جدا جدا آقا اچھے یا (ایک) خدائے یکتا وغالب؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

O [my] two companions of prison, are separate lords better or Allah, the One, the Prevailing?

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 5 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:39

اے زنداں کے ساتھیو، تم خود ہی سوچو کہ بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب غالب ہے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

میرے جیل خانے کے رفیقو! بھلا کئی جدا جدا آقا اچھے یا (ایک) خدائے یکتا وغالب؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے میرے قید خانے کے ساتھیو! کیا متفرق کئی ایک پروردگار بہتر ہیں؟ یا ایک اللہ زبردست طاقتور؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے میرے قید خانے کے ساتھیو ! کیا بہت سے متفرق رب بہتر ہیں، یا وہ ایک اللہ جس کا اقتدار سب پر چھایا ہوا ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے میرے قیدخانہ کے دونوں ساتھیو! کیا جدا جدا رب اچھے یا ایک اللہ جو سب پر غالب،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے میرے قید خانہ کے دونوں ساتھیو! (بتاؤ) کیا الگ الگ بہت سے معبود بہتر ہیں یا ایک اﷲ جو سب پر غالب ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے قید خانے کے دو ساتھیو ! کیا الگ الگ رب بہتر ہیں یا اللہ، جو اکیلا ہے، نہایت زبردست ہے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے میرے قید کے ساتھیو ! (ذرا سوچا) کیا متفرق رب بہتر ہیں یا ایک ہی اللہ جو سب پر غالب ہے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے میرے جیل کے دونوں ساتھیو ! کیا الگ الگ بہت سے رب بہتر ہیں، یا اکیلا اللہ ہی سب پر حاوی و غالب ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جیل کے میرے دونوں ساتھیو ! (تم ہی بتاؤ کہ) کیا کئی مختلف معبود بہتر ہیں، یا ایک اللہ ؟ جو یکتا اور سب پر غالب ہے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اے یاران مجلس جدا جدا معبود اچھے یا اللہ اکیلا سب پر غالب۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے میرے جیل کے دونوں ساتھیو ! کیا بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا اکیلا اللہ سب پر حاوی و غالب

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

) میرے جیل کے رفیقو ! بھلا کئی جدا جدا آقا اچھے یا ایک اللہ واحد اور غالب ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Fellow-prisoners! Is it better that there be diverse lords, or just Allah, the One, the Irresistible?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O my fellow prisoners, are different gods better or Allah, the One, the All-Dominant?

— Muhammad Taqi Usmani

O my fellow prisoners, are different gods better or Allah, the One, the All-Dominant?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"O two companions of the prison! Are many different lords (gods) better or Allah, the One, the Irresistible"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O my fellow-prisoners! Are divers lords better, or Allah the One, Almighty?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O [my] two companions of prison, are separate lords better or Allah, the One, the Prevailing?

— Saheeh International

"My fellow-prisoners can many different masters be considered better than One All-dominant God?

— Muhammad Sarwar

O my two mates of the prison! are sundry lords better or Allah the One, the Supreme?

— Muhammad Habib Shakir

O My two fellow-prisoners! are sundry lords better of Allah, the One, the Subduer

— Abdul Majid Daryabadi

"O my two companions of the prison! (I ask you): are many lords differing among themselves better, or the One Allah, Supreme and Irresistible?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:39

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 39–40

شاہی باورچی اور ساقی کے خواب کی تعبیر اور پیغام توحید یوسف ؑ سے وہ اپنے خواب کی تعبیر پوچھنے آئے ہیں۔ آپ نے انہیں تعبیر خواب بتادینے کا اقرار کرلیا ہے۔ لیکن اس سے پہلے انہیں توحید کا وعظ سنا رہے ہیں اور شرک سے اور مخلوق پرستی سے نفرت دلا رہے ہیں۔ فرما رہے ہیں کہ وہ اللہ واحد جس نے ہر چیز پر قبضہ کر رکھا ہے جس کے سامنے تمام مخلوق پست و عاجز لاچار بےبس ہے۔ جس کا ثانی شریک اور ساجھی کوئی نہیں۔ جس کی عظمت و سلطنت چپے چپے اور ذرے ذرے پر ہے وہی ایک بہتر ؟ یا تمہارے یہ خیالی کمزور اور ناکارے بہت سے معبود بہتر ؟ پھر فرمایا کہ تم جن جن کی پوجا پاٹ کر رہے ہو بےسند ہیں۔ یہ نام اور ان کے لیے عبادت یہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 37–41

سورة یُوْسُف 34 یہ تقریر جو اس پورے قصے کی جان ہے اور خود قرآن میں بھی توحید کی بہترین تقریروں میں سے ہے، بائیبل اور تلمود میں کہیں اس کی طرف ادنی اشارہ تک نہیں ہے۔ وہ حضرت یوسف ؑ کو محض ایک دانشمند اور پرہیزگار آدمی کی حیثیت سے پیش کرتی ہیں۔ مگر قرآن صرف یہی نہیں کہ ان کی سیرت کے ان پہلوؤں کو بھی بائیبل اور تلمود کی بہ نسبت بہت زیادہ روشن کر کے پیش کرتا ہے، بلکہ اس کے علاوہ وہ ہم کو یہ بھی بتاتا ہے کہ حضرت یوسف ؑ اپنا ایک پیغمبرانہ مشن رکھتے تھے اور اس کی دعوت و تبلیغ کا کام انہوں نے قید خانہ ہی میں شروع کردی تھی۔ یہ تقریر ایسی نہیں ہے کہ اس پر سے یونہی سرسری طور پر گزر جائے۔ اس کے متعدد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–40

اس کے بعداول کفر کی برائی اور ملت کفر سے اپنی بیزاری بیان کی اور پھر یہ بھی جتلا دیا کہ خاندان نبوت ہی کا ایک فرد اور انہی کی ملت حق کا پابند ہوں میرے آباء و اجداد ابراہیم واسحاق و یعقوب ہیں یہ خاندانی شرافت بھی عادۃ انسان کا اعتماد پیدا کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے اس کے بعد بتلایا کہ ہمارے لئے کسی طرح جائز نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو اس کی خدائی صفات میں شریک سمجھیں پھر فرمایا کہ یہ دین حق کی توفیق ہم پر اور سب لوگوں پر اللہ تعالیٰ ہی کا فضل ہے کہ اس نے سلامت فہم عطا فرما کر قبول حق ہمارے لئے آسان کردیا مگر بہت سے لوگ اس نعمت کی قدر اور شکر نہیں کرتے پھر انہی قیدیوں سے سوال کیا کہ اچھا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 39–40

39۔ 40:۔ يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ۔ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اَسْمَاۗءً سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ ۭ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ ۭ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۔ دعوت توحید : " یصاحبی السجن " کے خطاب میں جو بلاغت اور دل نوازی ہے وہ بالکل واضح ہے۔ بسا اوقات مصیبت کا اشتراک بھی شرکائے مصیبت کے دلوں میں ہمدردی، محبت، اخلاص اور باہمی خیر خواہی و خیرسگالی کے جذبات نہایت زور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

39۔ 1 قید خانے کے ساتھی۔ اسلئے قرار دیا کہ یہ سب ایک عرصے سے جیل میں محبوس چلے آ رہے تھے۔ 39۔ 2 تفریق ذات، صفات اور عدد کے لحاظ سے ہے۔ یعنی وہ رب، جو ذات کے لحاظ سے ایک دوسرے سے متفرق، صفات میں ایک دوسرے سے مختلف اور تعداد میں باہم متنافی ہیں، وہ بہتر ہیں یا اللہ، جو اپنی ذات وصفات میں متفرد ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے اور وہ سب پر غالب اور حکمران ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 38–42

27: آقا سے مراد بادشاہ ہے۔ حضرت یوسف ؑ نے جس قیدی کے بارے میں یہ فرمایا تھا کہ وہ چھوٹ جائے گا اور واپس جا کر حسب معمول اپنے آقا کو شراب پلائے گا اس سے آپ نے یہ بات فرمائی کہ تم اپنے آقا یعنی بادشاہ سے میرا تذکلرہ کرنا کہ ایک شخص بےگناہ جیل میں پڑا ہوا ہے۔ اس کے معاملے پر آپ کو توجہ کرنی چاہیے مگر جیسا کہ آگے بیان فرمایا گیا ہے اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ شخص بادشاہ سے یہ بات کہنا بھول گیا جس کی وجہ سے انہیں کئی سال اور جیل میں رہنا پڑا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ان نہایت ہی مختصر ، واضح اور فیصلہ کن کلمات کے اندر دین اسلام کے پورے نشانات راہ نقش کرکے رکھ دیے ہیں۔ اس دین کے پورے عناصر ترکیبی بیان کردیے گئے ہیں۔ حضرت یوسف ان نشانات اور ان عناصر کی براہ راست دعوت نہیں دیتے بلکہ ان کو ایک موضوع غور و فکر کے طور پر ان کے سامنے رکھتے ہیں۔ يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ : " اے زندان کے ساتھیو ، تم خود ہی سوچو کہ بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہے ؟ " یہ ایک ایسا سوال ہے کہ براہ راست انسانی فطرت کی گہرائیوں میں لگتا ہے اور فطرت انسانی کو خوب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی مختلف انواع و اشکال کے چھوٹے بڑے دیوتا جن پر تم نے خدائی اختیارات تقسیم کر رکھے ہیں ان سے لو لگانا بہتر ہے یا اس اکیلے زبردست خدا سے جس کو ساری مخلوق پر کلی اختیار اور کامل تصرف و قبضہ حاصل ہے اور جس کے آگے نہ کسی کا حکم چل سکتا ہے نہ اختیار، نہ اسے کوئی بھاگ کر ہرا سکتا ہے نہ مقابلہ کر کے مغلوب کرسکتا ہے۔ خود سوچو کہ سر عبودیت ان میں سے کس کے سامنے جھکایا جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 38–39

آیت 38 وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَاۗءِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ آپ کی اس بات سے موروثی اور شعوری عقائد کا فرق سمجھ میں آتا ہے۔ یعنی ایک تو وہ عقائد و نظریات ہیں جو بچہ اپنے والدین سے اپناتا ہے ‘ جیسے ایک مسلمان گھرانے میں بچے کو موروثی طور پر اسلام کے عقائد ملتے ہیں۔ اللہ اور رسول کا نام وہ بچپن ہی سے جانتا ہے ‘ ابتدائی کلمے اس کو پڑھا دیے جاتے ہیں ‘ نماز بھی سکھا دی جاتی ہے۔ لیکن اگر وہ شعور کی عمر کو پہنچنے کے بعد اپنے آزادانہ انتخاب کے نتیجے میں اپنے علم اور غور و فکر سے کوئی عقیدہ اختیار کرے گا تو وہ اس کا شعوری عقیدہ ہوگا۔ چناچہ حضرت یوسف نے اپنے اس شعوری عقیدے کا ذکر کیا کہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 38–39

38 یہ دونوں قیدی چونکہ پہلے ملازم تھے اس لیے انھیں ان کے حسب حال ہی دلیل پیش کی اور انھیں اس بات کی خوب سمجھ آسکتی تھی کہ بہت سے آقاؤں کی غلامی سے ایک آقا کی غلامی بہرحال بہتر ہوتی ہے بالخصوص اس صورت میں جبکہ آقا بھی ایسا ہو جو سب دوسروں سے بڑھ کر طاقت ور اور غالب ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

79۔ مخاطبہ مشرکوں سے تھا جنہوں نے ہر ہر شعبہ زندگی میں اپنے لئے الگ الگ دیوی دیوتا مقرر کر رکھے تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) ان سے دریافت فرماتے ہیں کہ اس تعدد وتفرق پر بھی کبھی غور کیا ہے ؟ بندگی ایک خدائے واحد وزبردست کی بھلی یا اتنے ایک دیویوں اور دیوتاؤں کی ؟ (آیت) ” القھار “۔ یعنی وہ جو سب پر غالب اور کوئی اس پر غالب نہ ہو۔ ای الغالب الذی لایغالبہ احد (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 36–42

آیت نمبر 36 تا 42 ترجمہ : چناچہ (یوسف کو) جیل میں ڈال دیا گیا اور اس کے ساتھ دو اور نوجوان بھی جیل خانہ میں داخل ہوئے جو بادشاہ کے غلام تھے، ایک ان میں سے بادشاہ کا ساقی تھا اور دوسرا شاہی مطبخ کا ذمہ دار، ان دونوں کو معلوم ہوا کہ (یوسف) خوابوں کی تعبیر بتاتے ہیں تو دونوں نے مشورہ کیا کہ ہم اس کو ضرور آزمائیں گے، ان میں سے ایک نے جو کہ ساقی تھا کہا میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں انگور نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے مطبخ کے ذمہ دار نے کہا میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اس میں سے پرندے کھا رہے ہیں، ہمیں آپ اس کی تعبیر بتائیے، ہم آپ کو نیک آدمی سمجھتے ہیں، (یوسف (علیہ السلام) نے) ان کو یہ بتاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یٰصاحبي السجنء ارباب متفرقون خیر ام اللہ الواحد القھار اے جیل کے ساتھیو ! کیا متعدد و متفرق رب بہتر ہیں یا ایک اللہ جو سب پر غالب ہے۔ مُتَفَرِّقُوْنَ مختلف ‘ متعدد جو عاجز اور ممکن ہونے میں ایک جیسے ہیں (سب عاجز اور سب ممکن ‘ معدوم الاصل ‘ فنا پذیر ہیں) خواہ سونے ‘ چاندی ‘ لوہے ‘ پتھر وغیرہ کی مورتیاں ہوں یا ملائکہ ‘ جن ‘ انسان وغیرہ ہوں۔ الْوَاحِدُ اپنی ذات وصفات میں اکیلا ‘ بےہمتا ‘ بےمثال۔ نہ اس کی ذات وصفات میں کوئی اس جیسا ہے نہ افعال میں۔ القَھَّارُ سب پر غالب ‘ جس کا کوئی مقابل اور مقادم نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(39) لیکن اہل مصر اس ذات پر ایمان نہیں لاتے اے قیدیو ! یا قید خانہ کے رکھوالو ! ذرا سوچ کر بتلاؤ کہ بہت سے معبودوں کی عبادت اچھی ہے یا ایک معبود برحق کی جو کہ وحدہ لاشریک اور سب سے زبردست اور تمام مخلوق پر غالب ہے، اس کی عبادت بہتر ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ :”صَاحِبَیِ“ اصل میں ”صَاحِبَیْنِ“ تھا جو ”صَاحِبٌ“ (ساتھی) کی تثنیہ ہے۔ ”السِّجْنِ“ کی طرف مضاف کیا تو نون تثنیہ گرگیا اور یاء کو کسرہ دے کر آگے ملا دیا گیا، یہ یاء متکلم کی نہیں، اس لیے معنی ہے ”اے قید خانے کے دو ساتھیو !“ یہ الفاظ اکٹھے رہنے کی وجہ سے انس کا بھی اظہار کر رہے ہیں، کیونکہ کوئی قریب ہوتا ہے تو انس ہی سے ہوتا ہے جو دعوت کے لیے ضروری ہے، مگر درحقیقت ایک دوسرے سے الگ الگ ہونے کا بھی کہ ہم تم قید خانے میں اکٹھے رہنے والے ساتھی ہیں، اس کے باوجود اصل ساتھی نہیں، کیونکہ وہ تعلق صرف ایمان والوں کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ۔۔ : مصر کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 39–40

آیت نمبر 39 تا 40 یٰصاحبی السجن یعنی اے قید خانے کے دوباسیو۔ آپ نے صحبت کا ذکر اس لیے کیا کہ وہ اس میں لمبی دیر مقیم رہے جس طرح کہ اصحاب الجنۃ اور اصحاب النار کہا جاتا ہے۔ ارباب متفرقون یعنی بچپن، بڑھاپے اور جوانی میں، یا اس سے مراد تعداد میں متفرق ہونا ہوگا۔ خیر ام اللہ الواحد القھار ایک قول کے مطابق خطاب ان دونوں جوانوں اور دیگر قیدیوں کے لیے ہے اور ان کے سامنے ایسے بت تھے جن کی وہ پوجا کرتے تھے تو آپ نے حجت کو لازم کرنے کے لیے یہ ارشاد فرمایا یعنی کئی معبود کوئی تفع ونقصان نہیں دے سکتے خیر ام اللہ الواحد القھار جس نے ہر چیز پر غلبہ پایا۔ اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے آٰللہ خیر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 39–40

ایک اللہ کے در کو مضبوطی سے تھام لو : 1:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ جب اللہ نے نبی یوسف (علیہ السلام) نے پہچان لیا کہ ان میں سے ایک مقتول ہے تو ان دونوں کو بلایا ان کے حصے کی طرف جو ان کے آقا کی طرف سے ملنا تھا اور جو انہیں ملنا تھا ان کے آخرت سے۔ 2:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” یصاحبی السجن “ کے بارے میں فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) ان کو ایسے ہی کہتے تھے۔ 3:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ان الحکم الا للہ، امر الا تعبدوا الا ایاہ “ کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ : اے جیل کے دونوں ساتھیو ] [ءَ : کیا ] [اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ : الگ الگ کئی پرورش کرنے والے ] [ خَيْرٌ: بہتر ہیں [ اَمِ : یا ] [ اللّٰهُ الْوَاحِدُ : واحد اللہ [ الْقَهَارُ : جو پوری طرح غالب ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 38–41

حضرت یوسف (علیہ السلام) کا دونوں قیدیوں کے خواب کی تعبیر دینا توحید کی دعوت دے کر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان دونوں جوانوں کے خوابوں کی تعبیر بتائی فرمایا کہ دیکھو تم میں سے ایک شخص اپنے آقا کو شراب پلائے گا (یہ وہی شخص تھا جو بادشاہ کا ساقی تھا جو پہلے بھی بادشاہ کو شراب پلایا کرتا تھا) اور اس کے علاوہ جو دوسرا آدمی ہے اس کو سولی دی جائے گی۔ یعنی سولی پر لٹکا کر قتل کیا جائے گا اور سولی اتارے جانے سے پہلے (جو وہ لٹکا رہے گا) اس کے سر میں سے پرندے نوچ نوچ کر کھاتے رہیں گے۔ تم نے جو خواب دریافت کیا ان کی یہ تعبیر ہے اور جو میں نے تعبیر دی اسی کے مطابق فیصلہ ہوگا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 36–42

قصہ یوسف (علیہ السلام) باساقی و خباز درجیل خانہ بر تبلیغ و دعوت اظہار نبوت قال اللہ تعالیٰ ودخل معہ السجن فتین .... الیٰ .... فلبث فی السجن یضع سنین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یوسف (علیہ السلام) کی دعا رب السجن احب الی مما یدعونی الیہ اور اس کی قبولیت و استجابت کا ذکر کیا ہے دعا میں یہ درخواست تھی کہ اے پروردگار ایسے زنانخانہ اور محل سرائے سے تو جیل بہتر ہے بارگاہ خداوندی میں یوسف علیہا لسلام کی دعا بلفظہ قول ہوئی کہ زنان خانہ سے نکال کر جیل خانہ بھیج دئیے گئے اب وقت آیا کہ ولنعلمہ من تاویل الاحادیث۔ کا ظہور ہو کہ جیل خانہ میں پہنچ کر لوگوں کے خوابوں کی تعبیریں دیں اور ان کو توحید اور اسلام کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 39–40

36:۔ اب جیل کے دونوں ساتھیوں کو حکیمانہ انداز میں اسلام کی دعوت دی اور فرمایا تم خود ہی اپنی خداداد عقل سے سوچو کہ بہت سے خدا اچھے ہیں جن کے سامنے زانوئے عبودیت تہ کرے اور جن کے سامنے سر نیاز مندی جھکائے اور جن سے اپنی حاجتیں مانگے یا صرف ایک خدا اچھا ہے جو ہر چیز پر قادر ہے اور ساری کائنات پر قاہر ہے۔ بالفاظ دیگر بہت سے بیچارے اور عاجز معبودوں کی محتاجی بھلی یا ایک قادر و توانا خدا کی ؟۔” مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ الخ “ اللہ کے سوا جن معبودوں کو تم کارساز اور متصرف و مختار سمجھ کر پکارتے ہو یہ سب تمہارے اور تمہارے آباء و اجداد کے خود ساختہ ہیں۔ تم لوگوں نے ان کو بلا دلیل و حجت معبود بنا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 39–42

ربط آیات گزشتہ درس میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ دو دوسرے قیدی بھی تھے جن میں سے ایک نانبائیوں کا انچارج اور دوسرا شراب پلانے والا تھا۔ یہ قیدی یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ آپ کے حسن سلوک ، زہد اور تقویٰ کی بنا پر مانوس ہوگئے اور پھر انہوں نے آپ سے اپنے اپنے خواب کی تعبیر بھی پوچھی۔ بعض فرماتے ہیں کہ مذکورہ قیدیوں کو خواب نہیں آیا تھا بلکہ وہ خواب کی تعبیر کی آڑ میں یوسف (علیہ السلام) کا امتحان لینا چاہتے تھے ، تاہم راحج بات یہی ہے کہ انہوں نے خواب دیکھا تھا۔ البتہ بائیبل کی روایت ہے کہ قید خانے کا افسر بھی یوسف (علیہ السلام) سے مانوس ہوگیا تھا ، وہ آپ پر اعتماد کرتا تھا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ ءَ اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ۝ 39ۭ صحب الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة، ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] ( ص ح ب ) الصاحب ۔ کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت اور ہمت کے ہو جس کے متعلق کہ شاعر نے کہا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 36–44

3 ؎ اصلی خواب میں جس کو رویا صادقہ کہتے ہیں انسان کی روح کو عالم غیب کی چیزیں جو ہنوز عالم ظہور میں نہیں آئیں دکھائی دے جاتی ہیں لیکن قوت متوہمہ ان معانی مجردہ کو ان کے مناسب اشکال میں ڈھال کر دکھاتی ہے پھر اس کے حل کا نام تعبیر ہے۔ یہ کام اسی سے عمدہ بن سکتا ہے جس کو عالم قدس سے مناسبت ہوتی ہے اور اس مناسبت کے آثار چہرے پر بھی نمودار ہوتے ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے نورانی چہرے سے انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ بھی انہیں مقدس لوگوں میں سے ہے اس لئے ان سے تعبیر پوچھی 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 39–40

یٰـصَاحِبْیِ السِّجْنِ ئَ اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰہُ الْوَاحِدُالْقَھَّار۔ ط مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلاَّ ٓ اَسْمَآئً سَمَّیْتُمُوْھَآ اَنْتُمْ وَاٰبَآؤْکُمْ مَّـآ اَنْزَلَ اللّٰہُ بِھَا مِنْ سُلْطٰنٍ ط اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ لِلّٰہِ ط اَمَرَاَلاَّ تَعْبُدُوْٓا اِلاَّ اِیَّاہُ ط ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 39، 40) (اے میرے جیل کے دونوں ساتھیو ! کیا الگ الگ بہت سے رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ تعالیٰ جو سب پر غالب ہے۔ تم اسے چھوڑ کر بندگی نہیں کرتے ہو، مگر چند ناموں کی جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 38–39

فہم القرآن ربط کلام : قیدیوں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خطاب جاری ہے۔ ارشاد فرماتے ہیں کہ خوابوں کی تعبیر جاننا، اللہ اور آخرت پر ایمان لانا۔ میرے رب نے مجھے سکھلایا ہے۔ ان الفاظ سے یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جیل جانے سے پہلے نبوت کے منصب پر فائز کردیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی دعوت کی وضاحت اور سلسلۂ نبوت کو اپنے آباء حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کے ساتھ جوڑتے ہوئے فرماتے ہیں ہم اس کو ہرگز جائز نہیں سمجھتے کہ اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک کریں۔ بیشک وہ جاندار ہو یا غیر جاندار۔ ” من شیءٍ “ کے الفاظ میں مردہ اور زندہ تمام…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

39: یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ (اے میرے جیل کے ساتھیو) اے سکان جیل جیسا کہتے ہیں اصحاب النار ] البقرہ : 81[ دوزخی و اصحاب الجنۃ ] البقرہ : 82[ جنت والے۔ ئَ اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَھَّارُ (کیا متفرق رب زیادہ بہتر ہیں یا اللہ اکیلا زبردست) تفرقؔ سے مراد تعداد میں اختلاف و کثرت ہے یعنی کیا متفرق ارباب کا ہونا کہ ایک تم میں سے ایک خدا کو پوجے اور دوسرا دوسرے کو یہ زیادہ بہتر ہے یا ایک ہی رب جو اکیلا زبردست ہو اور وہ کسی سے مغلوب نہ ہوتا ہو اور ربوبیت میں بھی اس کے ساتھ کوئی سہیم و شریک نہ ہو۔ یہ مثال ہے جو آپ نے اللہ تعالیٰ وحدہ ٗلا شریک کی عبادت اور بتوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر : 39۔” یا صاحبی السجن “ ان دونوں کو قید کا ساتھی بنایاکیون کہ وہ بھی قید میں تھے جیسا کہ جنت کے رہائشیوں کو اصحاب الجنہ اور جہنم کے باشندگان کو اصحاب النار کہا جاتا ہے۔ ” ارباب متفرقون “ یعنی مختلف معبود کوئی سونے کا کوئی چاندی کا کوئی لوہے کا اور کوئی اعلیٰ اور ادنیٰ اور اوسط ۔ جدا جدا نہ نفع دے سکیں نہ نقصان ۔ ” خیر ام اللہ الواحد القھار “ جس کا کوئی ثانی نہیں ۔ ” القھار “ جو ہر چیز پر غالب ہے ، پھر بتوں کے عجز کو بیان کرتے ہوئے فرمایا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 39–40

39۔ 40۔ یوسف (علیہ السلام) نے کفر کی مذمت کی اور توحید کا حال اور خداوند جل جلالہ کے اوصاف بیان کر کے یہ نصیحت فرمائی کہ اے میرے قید کے مصاحبہ ذرا غور کرو کہ یہ بت پرستی بہتر ہے یا حق پرستی اور یہ تمہارے کئی جدا جدا معبود اچھے ہیں۔ یا وہ خدائے برتر کہ جو اپنی ذات اور صفات میں اکیلا اور ساری خدائی میں اسی کا بول بالا ہے اس کے قہر کے آگے کسی کی کچھ نہیں چل سکتی پھر فرمایا کہ تم جو ان بتوں کی پرستش کرتے ہو اس کی پوری سند نہیں ہے یہ بت تو تمہارے جعلی معبود ہیں تم نے اور تمہارے باپ دادا نے پتھر کی مورتیں تراش کر ان کے جدا جدا نام رکھ چھوڑے ہیں اور اسی کو پوجنے لگے ہیں ورنہ ان میں کوئی طاقت اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

پھر یوسف نے نہایت صراحت کے ساتھ ان دونوں کو توحید کی دعوت دی۔ فرمایا : (یصاحبی السجن ارباب متفرقون خیر ام اللہ الواحد القھار) ” اے قید کے ساتھیو ! کیا متفرق معبود بہتر ہیں یا ایک غالب اللہ “ یعنی عاجز اور کمزور معبود جو کسی کو نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان، جو کسی کو عطا کرسکتے ہیں نہ محروم کرسکتے ہیں یہ معبود شجرو و حجر، فرشتوں، مردہ ہستیوں اور دیگر مختلف قسم کے معبودوں میں بکھرے ہوئے اور منقسم ہیں جن کو ان مشرکین نے معبود بنا رکھا ہے کیوا یہ معبود ان اچھے ہیں (ام اللہ) ” یا اللہ “ جو صفات کمال کا مالک ہے (الواحد) وہ اپنی ذات وصفات اور افعال میں یکتا ہے۔ ان تمام امور میں اس کا کوئی شریک نہیں۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 37–41

یوسف (علیہ السلام) کی تعبیر خواب میں حکمت تبلیغ قول باری ہے قال لا باتیکما طعام ترزقا نہ الا نبا تکما بتاویلہ قبل ان یا تیکما ۔ یوسف نے کہا ۔ یہاں جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں ان خوابوں کی تعبیر بتادوں گا ۔ تا آخر آیت ۔ ابن جریج کا قول ہے کہ حضرت یوسف نے دونوں قیدی ساتھیوں کے خوابوں کی تعبیر فوری طور پر بتانے سے اس لیے پہلو تھی کی تھی کہ ان میں سے ایک کے خواب کی تعبیر بری تھی اس لیے آپ نے انہیں تعبیر بتانے کی بجائے ان سے وہ گفتگو کی جو آیت میں درج ہے لیکن دونوں نے اس وقت تک آپ کا پیچھا نہ چھوڑا جب تک آپ نے انہیں تعبیر نہ بتادی ۔ ایک قول کے مطابق آپ نے تعبیر بتانے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 38–39

66۔ باپ دادا کی پیروی مشروط بالحق ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ باپ دادا کی پیروی مطلوب و محمود ہے جبکہ وہ حق پر ہوں۔ کہ وہ پیروی ان کی نہیں بلکہ اصل میں حق ہی کی پیروی ہوتی ہے۔ پس اپنے باپ دادا اور بڑے بزرگ جب راہ حق وصواب پر ہوں تو ان کی اتباع و پیروی کرنا مذموم نہیں، بلکہ محمود و مطلوب ہے۔ اور یہ اندھی تقلید کے زمرے میں نہیں آئے گا بلکہ اتباع حق وصدق کے ہی قبیل سے ہوگا۔ اور حق وصدق کی اتباع و پیروی دین حق کا تقاضا بلکہ اصل دین ہے۔ اور اسی پر سارا مدارو انحصار ہے سعادت دارین کا۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید۔ سو عقیدہ توحید عقل سلیم اور فطرت مستقیم کا تقاضا ہے کہ شرک کے لیے کوئی دلیل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–57

انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔ تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 36–42

آیات 36 تا 42 اسرار و معارف حضرت جب جیل میں پہنچے تو آپ کا شہرہ بھی پہنچا اور قید میں مصائب میں مبتلاء لوگوں کو بھی ذوق زیارت ہوا تو آپ ان میں اپنے کمالات بیان فرماتے اور انھیں اپنی طرف متوجہ فرماتے کہ انبیاء پر تو یہ فرض ہوتا ہے کہ اپنے کمالات نبوت کا اظہار فرما کر لوگوں کو راہ حق کی طرف دعوت دیں۔ اہل اللہ کا اظہار کمالات اور ولی اللہ بھی اگر اگر اظہار فرماتے ہیں تو ان کی غرض یہی ہوتی ہے ۔ کہ صاحب حال سے اپنی شہرت کی طلب کی توقع رکھنا درست نہیں۔ صاحب مظہری (رح) نے یہاں حضرت مجددالف ثانی (رح) کی مثال دی ہے کہ آپ اظہار فرماتے تھے تو اللہ کی بیشمار مخلوق نے استفادہ کیا جبکہ ان کے خلاف باتیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(12:39) یصحبی السجن۔ صاحبی۔ دو ساتھی۔ دو رفیق۔ صاحبی اصل میں صاحبینی (میرے دو ساتھی) تھا۔ منادی ۔ (صاحبین) ی (ضمیر واحد متکلم) کی طرف مضاف ہوا۔ یصحبی السجن اے قید خانہ کے میرے دو ساتھیو ! ء ارباب۔ رب کی جمع ۔ ء ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا جدا جدا بہت سے رب بہتر ہیں یا کہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہو۔ یعنی جدا جدا بہت سارے رب بہتر نہیں ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ ایک اللہ ہو جو سب پر غالب ہو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 36–40

لغات القرآن آیت نمبر 36 تا 40 دخل داخل ہوا فتین (فتی) دونوجوان احدھما ان دونوں میں سے ایک اعصر میں نچوڑ رہا ہوں خمر شراب احمل میں اٹھاتا ہوں راسی اپنا سر خبز روٹی تاکل الطیر پرندے کھا رہے ہیں نبئنا ہمیں بتا دے تاویلہ اس کی تعبیر لا یا تیکما تم دونوں کے پاس نہیں آئے گا ترزقنہ جو رقز تمہیں دیا جاتا ہے نبات میں بتا دوں گا علمنی اس نے مجھے سکھایا ترکت میں نے چھوڑا ملۃ ملت، طریقہ یصاحبی اے میرے دونوں ساتھیوں ارباب (رب) ، مختلف پروردگار القھار زبردست اسماء نام سمیتموا تم نے نام رکھے سلطن کوئی دلیل، کوئی سند، ایاہ اسی کی القیم سیدھا، سچا تشریح : آیت نمبر 36 تا 40 بے گناہی کے باوجود جب حضرت یوسف کو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 39–40

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے میرے قید کے مصاحبو ! ذرا اتنا غور کرو کہ بت پرستی بہتر ہے یا حق پرستی اور یہ تمہارے کئی جدا جدا معبود اچھے ہیں یا ایک زبردست۔ جو در حقیقت خدائی کے قابل ہے اور اس کے سوا کسی میں معبودیت کی صلاحیت نہیں۔ پھر فرمایا کہ تم ان بتوں کی پرستش کرتے ہو اس کی پوری سند نہیں ہے۔ یہ بت تو تمہارے جعلی معبود ہیں۔ تم نے اور تمہارے باپ دادا نے پتھر کی مورتیں تراش کر ان کے جدا جدا نام رکھ چھوڑے ہیں اور اسی کو پوجنے لگے ہیں، ورنہ ان میں کوئی طاقت اور قدرت نہیں ہے جو معبود بننے کے لائق ہوسکیں۔ اگر سارے جہان کو پیدا کیا تو اسی اللہ نے اور اگر حکومت اور قبضہ سارے جہان پر ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 36–56

[17] یعنی عملاً یوسف (علیہ السلام) کو ملک کے سیاہ وسفید کا مالک بنادیا۔ تورات میں ہے کہ بادشاہ نے اپنے درباریوں سے کہا کہ ہم ایسا آدمی کہاں پاسکتے ہیں جیسا یہ ہے اور جس میں اللہ کی روح بول رہی ہے۔ پھر یوسف (علیہ السلام) سے کہا، '' دیکھ میں نے ساری زمین مصر پر تجھے حکومت بخشی۔ فقط ایک تخت نشینی ہی میں میں تجھ سے اوپر رہوں گا۔ '' اور اس نے اپنی انگوٹھی اتار کر یوسف (علیہ السلام) کو پہنا دی اور گلے میں سونے کا طوق ڈالا اور حکم دیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو صاحب مملکت کے لقب سے پکارا جائے۔ (پیدائش 37: 41)

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 38–42

ذریعہ حضوری : (ف 1) : حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دونوں خواب دیکھنے والوں کو تعبیر بتلائی ایک سے کہا تو ساقی گری کے عہدہ کو سنبھالے گا اور دوسرے سے کہا تو سولی دیا جائے گا ، اور پرندے تیرا گوشت نوش نوچ کے کھائیں گے ، جس کے متعلق انہیں خیال تھا کہ یہ فرعون مصر کا ساقی ہوگا ، اس سے کہا کہ مجھے یاد رکھیو ، اور موقع پا کر بادشاہ سے میرا ذکر کی جو اتفاق کی بات ہے کہ وہ رہا ہو کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے عہد کو بھول گیا ، اور اس طرح مدت تک آپ کو جیل میں رہنا پڑا ۔ بعض لوگوں نے (آیت) ” فانسہ الشیطن “ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی جانب منسوب کیا ہے یعنی یہ مقام نبوت کے منافی ہے کہ آپ پیغمبر ہو کر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

39 ۔ اے قید خانہ کے رفیقو ! کیا بہت سے متفرق اور الگ الگ معبود عبادت کرنے کو اچھے ہیں یا ایک اللہ تعالیٰ جو سب سے زبردست اور یکتا ہے وہ بہتر ہے ۔ یعنی بہت سے معبود قراردینا بہتر یا اکیلا برحق معبود بہتر ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 38–39

ف 2۔ یعنی توحید اس مذہب کا رکن اعظم ہے۔ 3۔ کیونکہ اس کی بدولت دنیا وآخرت کی فلاح ہے۔ 4۔ یعنی توحید کی قدر اور اس کو اختیار نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے یاران مجلس ! ذرا غور کرو کہ جدا جدا بہتر ہیں یا اللہ اکیلا ہی بہتر ہے ؟ ۔ 50 پھر انہی قیدیوں سے دریافت فرمایا کہ اچھا تم ہی بتائو کہ انسان سے پروردگاروں کا پرستار ہو یہ بہتر ہے یا یہ کہ صرف ایک اللہ کا بندہ بنے جس کا قہر و قوت سب پر غالب ہے۔ آپ کی تقریر کا مقصد تو ان دو ساتھیوں کے دلوں کو نور ایمان سے منور کرنا ہے۔ ذرا اس حکیمانہ انداز دعوت کو ملاحظہ فرمائیے کہ کس طرح قدم بہ قدم ان کو منزل ہدایت کی طرف لے جا رہے ہیں۔ فرمایا میرا مسلک تو وہ ہے جو میں نے تم سے بیان کردیا اور وہ صرف میرا ہی مسلک نہیں بلکہ سب جلیل القدر ہستیاں جنج کے نام سے تم خوب واقف ہو ان کا بھی یہی مسلک تھا۔ اس کے بعد یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–40

After that, he declares his abhorrence for disbelief and his disengagement from the community of disbelievers. Then, with it, he also stresses that he is a member of the House of Prophets and it is their Community that he adheres to and that he is a scion of the House of Ibrahim, Ishaq and Ya` qub (علیہم السلام) . We mentioned confidence a little earlier. Customarily, this kind of inherited nobility, a common family trait, is also a source of creating confidence in a person. After that he said: And it is not for us that we associate any partners with Allah. Then, he said that the Taufiq of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–41

34. This discourse, which is the soul of this story, and is one of the best on the doctrine of Tauhid in the Quran itself, finds no place at all in the Bible and the Talmud. This is because they regard him merely as a wise and pious man and not as a Prophet. That is why Rev. Rodwell has, in regard to this passage, accused Muhammad (peace be upon him) of putting his own doctrine and conviction into the mouth of Joseph (peace be upon him). But the Quran not only puts forward and presents these two aspects of his life in a much better and clearer way but also presents him as a Prophet, who had…

Read the full tafseer →