Explained with ayahs 37–38
جیل خانہ میں خوابوں کی تعبیر کا سلسلہ اور تبلیغ توحید
حضرت یوسف ؑ اپنے دونوں قیدی ساتھیوں کو تسکین دیتے ہیں کہ میں تمہارے دونوں خوابوں کی صحیح تعبیر جانتا ہوں اور اس کے بتانے میں مجھے کوئی بخل نہیں۔ اس کی تعبیر کے واقعہ ہونے سے پہلے ہی میں تمہیں وہ بتادوں گا۔ حضرت یوسف کے اس فرمان اور اس وعدے سے تو یہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف، تنہائی کی قید میں تھے کھانے کے وقت کھول دیا جاتا تھا اور ایک دوسرے سے مل سکتے تھے اس لیے آپ نے ان سے یہ وعدہ کیا اور ممکن ہے کہ اللہ کی طرف سے تھوڑی تھوڑی کر کے دونوں خوابوں کی پوری تعبیر بتلائی گی ہو۔ ابن عباس سے یہ اثر مروی ہے گو بہت غریب ہے۔ پھر فرماتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
سورة یُوْسُف 34
یہ تقریر جو اس پورے قصے کی جان ہے اور خود قرآن میں بھی توحید کی بہترین تقریروں میں سے ہے، بائیبل اور تلمود میں کہیں اس کی طرف ادنی اشارہ تک نہیں ہے۔ وہ حضرت یوسف ؑ کو محض ایک دانشمند اور پرہیزگار آدمی کی حیثیت سے پیش کرتی ہیں۔ مگر قرآن صرف یہی نہیں کہ ان کی سیرت کے ان پہلوؤں کو بھی بائیبل اور تلمود کی بہ نسبت بہت زیادہ روشن کر کے پیش کرتا ہے، بلکہ اس کے علاوہ وہ ہم کو یہ بھی بتاتا ہے کہ حضرت یوسف ؑ اپنا ایک پیغمبرانہ مشن رکھتے تھے اور اس کی دعوت و تبلیغ کا کام انہوں نے قید خانہ ہی میں شروع کردی تھی۔
یہ تقریر ایسی نہیں ہے کہ اس پر سے یونہی سرسری طور پر گزر جائے۔ اس کے متعدد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
اس کے بعداول کفر کی برائی اور ملت کفر سے اپنی بیزاری بیان کی اور پھر یہ بھی جتلا دیا کہ خاندان نبوت ہی کا ایک فرد اور انہی کی ملت حق کا پابند ہوں میرے آباء و اجداد ابراہیم واسحاق و یعقوب ہیں یہ خاندانی شرافت بھی عادۃ انسان کا اعتماد پیدا کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے اس کے بعد بتلایا کہ ہمارے لئے کسی طرح جائز نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو اس کی خدائی صفات میں شریک سمجھیں پھر فرمایا کہ یہ دین حق کی توفیق ہم پر اور سب لوگوں پر اللہ تعالیٰ ہی کا فضل ہے کہ اس نے سلامت فہم عطا فرما کر قبول حق ہمارے لئے آسان کردیا مگر بہت سے لوگ اس نعمت کی قدر اور شکر نہیں کرتے پھر انہی قیدیوں سے سوال کیا کہ اچھا…
Read the full tafseer →اللہ پر ایمان نہ رکھنے والوں کی ملت کو چھوڑ کر جس ملت کو انہوں نے اختیار فرمایا، یہ اس کا بیان ہے۔ اس پورے سلسلۃ الذہب کی وضاحت اس وجہ سے ضروری تھی کہ مخاطب کہیں اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں کہ حضرت یوسف جس ملت کی ان کو دعوت دے رہے ہیں یہ ان کی کوئی نو ایجاد ملت ہے بلکہ ان پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجائے کہ یہ وہی ملت ہے جس کو حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہم السلام) جیسے اکابر و مشاہیر نے اختیار فرمایا۔ ان اکابر کے نام تمام اطراف و دیار میں پھیلے ہوئے تھے اور عجب نہیں کہ حضرت یوسف کے یہ زندان کے ساتھ بھی ان ناموں سے آشنا رہے ہوں۔
ملت توحید کی تاریخی و فطری عظمت : مَا كَانَ…
Read the full tafseer →38۔ 1 اجداد کو بھی آباء کہا، اس لئے کہ وہ بھی آباء ہی ہیں۔ پھر ترتیب میں جد اعلٰی (ابراہیم علیہ السلام) پھر جد اقرب (اسحاق علیہ السلام) اور پھر باپ (یعقوب علیہ السلام) کا ذکر کیا، یعنی پہلے۔ پہلی اصل، پھر دوسری اصل اور پھر تیسری اصل بیان کی۔
38۔ 2 وہی توحید کی دعوت اور شرک کی تردید ہے جو ہر نبی کی بنیادی اور اولین تعلیم اور دعوت ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
27: آقا سے مراد بادشاہ ہے۔ حضرت یوسف ؑ نے جس قیدی کے بارے میں یہ فرمایا تھا کہ وہ چھوٹ جائے گا اور واپس جا کر حسب معمول اپنے آقا کو شراب پلائے گا اس سے آپ نے یہ بات فرمائی کہ تم اپنے آقا یعنی بادشاہ سے میرا تذکلرہ کرنا کہ ایک شخص بےگناہ جیل میں پڑا ہوا ہے۔ اس کے معاملے پر آپ کو توجہ کرنی چاہیے مگر جیسا کہ آگے بیان فرمایا گیا ہے اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ شخص بادشاہ سے یہ بات کہنا بھول گیا جس کی وجہ سے انہیں کئی سال اور جیل میں رہنا پڑا۔
Read the full tafseer →نشانات کفر بتانے کے بعد یوسف (علیہ السلام) ان نوجوانوں کے سامنے نشانات ایمان بھی رکھتے ہیں ، جن پر وہ اور ان کے آباء چل رہے ہیں۔
میں نے اپنے بزرگوں ابراہیم ، اسحاق ، اور یعقوب کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ ہمارا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو شریک ٹھہرائیں۔
ملت اسلامیہ مکمل توحید کی ملت ہے ، اور اس میں اللہ کے ساتھ شرک کا شائبہ تک موجود نہیں ہے۔ توحید کی طرف ہدایت کرنا اللہ کی طرف سے فضل و کرم ہے۔ اور یہ فضل و کرم اس قدر عام ہے کہ ہر شخص اس کو قبول کرسکتا ہے اور حاصل کرسکتا ہے۔ کیونکہ اس کا رجحان اور اس کے اصول انسان کی فطرت کے اندر موجود ہیں۔ اور اس کے اشارات اور براہین انسانی ماحول کے اندر…
Read the full tafseer →3 یعنی ہمارا خالص توحید اور ملت ابراہیمی پر قائم رہنا نہ صرف ہمارے حق میں بلکہ سارے جہان کے حق میں رحمت و فضل ہے، کیونکہ خاندان ابراہیمی ہی کی شمع سے سب لوگ اپنے دلوں کے چراغ روشن کرسکتے ہیں لیکن افسوس ہے کہ بہت سے لوگ خدا کی اس نعمت عظیمہ کی قدر نہیں کرتے۔ چاہیے یہ تھا کہ اس کا احسان مان کر راہ توحید پر چلتے وہ الٹی ناشکری کر کے شرک و عصیان کی راہ اختیار کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
آیت 38 وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَاۗءِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ
آپ کی اس بات سے موروثی اور شعوری عقائد کا فرق سمجھ میں آتا ہے۔ یعنی ایک تو وہ عقائد و نظریات ہیں جو بچہ اپنے والدین سے اپناتا ہے ‘ جیسے ایک مسلمان گھرانے میں بچے کو موروثی طور پر اسلام کے عقائد ملتے ہیں۔ اللہ اور رسول کا نام وہ بچپن ہی سے جانتا ہے ‘ ابتدائی کلمے اس کو پڑھا دیے جاتے ہیں ‘ نماز بھی سکھا دی جاتی ہے۔ لیکن اگر وہ شعور کی عمر کو پہنچنے کے بعد اپنے آزادانہ انتخاب کے نتیجے میں اپنے علم اور غور و فکر سے کوئی عقیدہ اختیار کرے گا تو وہ اس کا شعوری عقیدہ ہوگا۔ چناچہ حضرت یوسف نے اپنے اس شعوری عقیدے کا ذکر کیا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
38 یہ دونوں قیدی چونکہ پہلے ملازم تھے اس لیے انھیں ان کے حسب حال ہی دلیل پیش کی اور انھیں اس بات کی خوب سمجھ آسکتی تھی کہ بہت سے آقاؤں کی غلامی سے ایک آقا کی غلامی بہرحال بہتر ہوتی ہے بالخصوص اس صورت میں جبکہ آقا بھی ایسا ہو جو سب دوسروں سے بڑھ کر طاقت ور اور غالب ہو۔
Read the full tafseer →76۔ اپنی عالی نسبی کا ذکر ایسے موقع پر بالکل جائز ہے مقصد اس سے سامعین کے دل میں جذبہ شوق و توجہ کو ترقی دینا تھا۔ یوسف (علیہ السلام) خود تو اس وقت تک اپنے مخاطبین کی نظر میں ایک معمولی اور گمنام شخص تھے بخلاف اس کے ان کے ان آباوادجداد کا نام اس وقت بھی بہ حیثیت موحد وداعی دین توحید کے مشہور ہوچکا تھا اور ان کی شہرت حدود کنعان سے باہر اچھی خاصی پھیل چکی تھی۔
77۔ (خواہ کسی حیثیت سے ہو) اس میں شرک کی ہمہ جہتی نفی آگئی اور شرک کی ہر قسم سے انکار آگیا۔ بت پرستی، ستارہ پرستی، آتش پرستی، نیچر پرستی وغیرہ سب سے (آیت) ” من شیء “۔ اسی نفی کامل کے لئے ہے۔ (آیت) ” لنا “۔ سے مراد گروہ انبیاء بھی لی گئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
آیت نمبر 36 تا 42
ترجمہ : چناچہ (یوسف کو) جیل میں ڈال دیا گیا اور اس کے ساتھ دو اور نوجوان بھی جیل خانہ میں داخل ہوئے جو بادشاہ کے غلام تھے، ایک ان میں سے بادشاہ کا ساقی تھا اور دوسرا شاہی مطبخ کا ذمہ دار، ان دونوں کو معلوم ہوا کہ (یوسف) خوابوں کی تعبیر بتاتے ہیں تو دونوں نے مشورہ کیا کہ ہم اس کو ضرور آزمائیں گے، ان میں سے ایک نے جو کہ ساقی تھا کہا میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں انگور نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے مطبخ کے ذمہ دار نے کہا میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اس میں سے پرندے کھا رہے ہیں، ہمیں آپ اس کی تعبیر بتائیے، ہم آپ کو نیک آدمی سمجھتے ہیں، (یوسف (علیہ السلام) نے) ان کو یہ بتاتے…
Read the full tafseer →واتبعت ملۃ اباء ي ابرھیم واسحق و یعقوب اور اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی اختیار کی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اِنِّیْ تَرَکْتُ سے الگ مستقل کلام ہو ‘ جو دعوت کی تمہید اور خانوادۂ نبوت سے اپنے کو ظاہر کرنے کیلئے آپ نے فرمایا ہو تاکہ وہ دونوں قیدی رغبت سے سنیں اور آپ کے بیان کا اعتبار کریں۔ اسی جگہ سے یہ بات نکلتی ہے کہ اگر کسی جگہ کسی عالم کے مرتبے سے لوگ واقف نہ ہوں اور وہ اپنی دعوت پھیلانی چاہے تو اگر وہ اپنے اوصاف کسی قدر بیان کر دے تاکہ اس کی بات کی وقعت پیدا ہوجائے تو ناجائز نہیں ‘ اس تدبیر سے لوگوں کو اس کے علم سے فائدہ اندوز ہونے کا موقع مل جائے گا۔ یہ بات خود…
Read the full tafseer →(38) ہمارے لیے کسی طرح یہ مناسب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان بتوں میں سے کسی کو شریک عبادت قرار دے دیں اور یہ دین مستقیم اور نبوت واسلام جس کی بدولت اللہ تعالیٰ نے ہمیں عزت دی ہے یہ ہم پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور دوسرے لوگوں پر بھی ان کی طرف اس نے ہمیں رسول بنا کر بھیجا، یا یہ کہ مومنین پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ان کو ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی۔
Read the full tafseer →وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَاۗءِيْٓ۔۔ : پھر انھیں اپنا اور اپنے آباء کا تعارف کروایا، کیونکہ داعی کی شخصیت بھی دعوت قبول کرنے میں مددگار ہوتی ہے، چناچہ فرمایا کہ میں نے اپنے آباء ابراہیم، اسحاق اور یعقوب ؑ کی ملت اور ان کے دین کی پیروی کی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ہم کسی صورت اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک کریں، خواہ وہ آدمی ہو یا فرشتہ، جن ہو یا بھوت پری، بت ہو یا قبر، پتھر ہو یا درخت، چاند سورج ہوں یا ستارے، غرض کسی کو بھی ہم ہرگز اللہ کا شریک نہیں بنا سکتے۔ ”مَا كَانَ لَنَآ“ میں نفی کی ”كَانَ“ کے ساتھ تاکید کا یہی معنی ہے۔ نیک آباء کی پیروی سعادت ہے، جب کہ گمراہ آباء کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
آیت نمبر 36 تا 38
ودخل معہ السجن فتیٰن۔ فتیٰن کا تثینہ ہے : اور یہ یائی ہے اور عربوں کا قول : الفتوشاذ ہے۔ وہب اور دیگر لوگوں نے کہا : حضرت یوسف (علیہ السلام) کو قید کرکے قید خانے کی طرف گدھے پر سوار کرکے لایا گیا اور کہا گیا : ھذا جزاء من یعصی سیدتہ یہ سزا ہے اس کی جس نے اپنی مالکن کی نافرمانی کی، جبکہ آپ فرما رہے تھے : یہ آگ کے لباس، تارکول کی قمیض، پیپ کے پینے اور زقوم کھانے کی نسبت زیادہ آسان ہے۔
جب حضرت یوسف (علیہ السلام) قید خانہ پہنچے تو آپ نے اس میں کچھ ایسے لوگ پائے جن کی امیدیں ختم ہوچکی تھیں اور ان کی آزمائش وابتلا انتہائی سخت ہوچکی تھی تو آپ نے ان سے فرمایا : صبر کرو اور خوش رہو…
Read the full tafseer →1:۔ ترمذی نے اور آپ نے اس کو حسن کہا والحاکم وابن ابی حاتم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بلاشبہ کریم بیٹا کریم کا اور کریم بیٹاکریم کا وہ یوسف بیٹا یعقوب کا وہ بیٹا اسحاق کا وہ بیٹا ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے۔
2:۔ ابن ابی حاتم والحاکم رحمہما اللہ نے ابو الاحوص (رح) سے روایت کیا کہ اسماء بن خارجہ فزاری نے ایک آدمی سے فخر کیا اور کہا کہ میں الاشیاخ الکرام (یعنی عزت والے شیوخ) کی اولاد میں سے ہوں عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا وہ تو یوسف بیٹا یعقوب کا اور وہ بیٹا اسحاق ذبیح اللہ کا اور وہ بیٹا اسحاق ذبیح اللہ کا اور وہ بیٹا ابراہیم خلیل اللہ کا…
Read the full tafseer →[وَاتَّبَعْتُ : اور میں نے پیروی کی ] [ مِلَّةَ اٰبَاۗءِيْٓ: اپنے آباء اجداد کے دین کی ] [اِبْرٰهِيْمَ : جو ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے ] [وَاِسْحٰقَ : اور اسحاق (علیہ السلام) کا ہے ] [ وَيَعْقُوْبَ : اور یعقوب (علیہ السلام) کا ہے ] [ مَا كَان : نہیں ہے ] [ لَنَآ : ہمارے لئے ] [ ان : کہ ] [ نُّشْرِكَ : ہم شریک کریں ] [ بِاللّٰهِ : اللہ کے ساتھ ] [ مِنْ شَيْءٍ : کسی بھی چیز کو ] [ذٰلِكَ : یہ ] [مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ : اللہ کے فضل میں سے ہے ] [ عَلَيْنَا : ہم پر ] [ وَعَلَي النَاسِ : اور لوگوں پر [ وَلٰكِنَّ : اور لیکن ] [اَكْثَرَ النَاسِ : لوگوں کی اکثر ] [ لَا يَشْكُرُوْنَ : شکر نہیں کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا دونوں قیدیوں کے خواب کی تعبیر دینا
توحید کی دعوت دے کر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان دونوں جوانوں کے خوابوں کی تعبیر بتائی فرمایا کہ دیکھو تم میں سے ایک شخص اپنے آقا کو شراب پلائے گا (یہ وہی شخص تھا جو بادشاہ کا ساقی تھا جو پہلے بھی بادشاہ کو شراب پلایا کرتا تھا) اور اس کے علاوہ جو دوسرا آدمی ہے اس کو سولی دی جائے گی۔
یعنی سولی پر لٹکا کر قتل کیا جائے گا اور سولی اتارے جانے سے پہلے (جو وہ لٹکا رہے گا) اس کے سر میں سے پرندے نوچ نوچ کر کھاتے رہیں گے۔ تم نے جو خواب دریافت کیا ان کی یہ تعبیر ہے اور جو میں نے تعبیر دی اسی کے مطابق فیصلہ ہوگا۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
قصہ یوسف (علیہ السلام) باساقی و خباز درجیل خانہ بر تبلیغ و دعوت اظہار نبوت
قال اللہ تعالیٰ ودخل معہ السجن فتین .... الیٰ .... فلبث فی السجن یضع سنین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یوسف (علیہ السلام) کی دعا رب السجن احب الی مما یدعونی الیہ اور اس کی قبولیت و استجابت کا ذکر کیا ہے دعا میں یہ درخواست تھی کہ اے پروردگار ایسے زنانخانہ اور محل سرائے سے تو جیل بہتر ہے بارگاہ خداوندی میں یوسف علیہا لسلام کی دعا بلفظہ قول ہوئی کہ زنان خانہ سے نکال کر جیل خانہ بھیج دئیے گئے اب وقت آیا کہ ولنعلمہ من تاویل الاحادیث۔ کا ظہور ہو کہ جیل خانہ میں پہنچ کر لوگوں کے خوابوں کی تعبیریں دیں اور ان کو توحید اور اسلام کی…
Read the full tafseer →35:۔ اور میں اپنے آباء کرام حضرت ابراہیم، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کی ملت حنیفیہ کا پیرو اور متبع ہوں جو اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبر تھے جو دنیا میں اللہ کی توحید پھیلانے اور دنیا سے شرک کو مٹانے آئے تھے اس لیے ہمارے تو یہ شایانِ شان ہی نہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کریں۔ ” ذٰلِکَ مِنْ فَضْلِ اللہِ الخ “ یہ توحید ہم پر اور دوسرے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے مگر اکثر لوگ اس کا شکر ادا نہیں کرتے اور شرک سے باز نہیں آتے یعنی ان اکثرھم لا یشکرون اللہ علی ھذہ النعم التی انعم بھا علیھم لانھم ترکوا عبادتہ و عبدوا غیرہ (خازن ج 3 ص 284) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
تبدیلی رائے
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ عزیز مصر اور اس کی بیوی کے خاندان پر یوسف (علیہ السلام) کی عصمت اور بنلد کردار ی کی بہت سی نشانیاں ظاہر ہوائیں جس کی بناء پر انہیں یقین ہوگیا کہ قمیص پھٹنے کے واقعہ میں قصور زلیخا کا ہے ، اور یوسف (علیہ السلام) بالکل بےگناہ ہیں اس کے باوجود انہوں نے فیصلہ کیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو کچھ عرصہ کے لئے قد کردیا جائے۔ اس مقام پر ثم بدالھم کے ال فاظ آئے ہیں۔ بدا کے دو معنی آتے ہیں یعنی ظاہر کرنا اور رائے کا بدلنا یہاں پر دونوں معنی مراد لئے جاسکتے ہیں۔ ان پر حقیقت حال بھی پوری طرح ظاہر وہ گئی کہ یوسف (علیہ السلام) بےگناہ ہیں مگر اس کے باوجود ان کی رائے…
Read the full tafseer →وَاتَّبَعْتُ مِلَّۃَ اٰبَاۗءِيْٓ اِبْرٰہِيْمَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ 0ۭ مَا كَانَ لَنَآ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللہِ مِنْ شَيْءٍ 0ۭ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللہِ عَلَيْنَا وَعَلَي النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُوْنَ 38
تبع
يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38]
( ت ب ع) تبعہ واتبعہ
کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
3 ؎ اصلی خواب میں جس کو رویا صادقہ کہتے ہیں انسان کی روح کو عالم غیب کی چیزیں جو ہنوز عالم ظہور میں نہیں آئیں دکھائی دے جاتی ہیں لیکن قوت متوہمہ ان معانی مجردہ کو ان کے مناسب اشکال میں ڈھال کر دکھاتی ہے پھر اس کے حل کا نام تعبیر ہے۔ یہ کام اسی سے عمدہ بن سکتا ہے جس کو عالم قدس سے مناسبت ہوتی ہے اور اس مناسبت کے آثار چہرے پر بھی نمودار ہوتے ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے نورانی چہرے سے انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ بھی انہیں مقدس لوگوں میں سے ہے اس لئے ان سے تعبیر پوچھی 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
قَالَ لاَ یَاْ تِیْکُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰـنِہٖٓ اِلاَّ نَبَّاْتُکُمَا بِتَاْوِیْلِہٖ قَبْلَ اَنْ یَّا تِیَکُمَا ط ذٰلِکُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ ط اِنِّیْ تَرَکْتُ مِلَّۃَ قَوْمٍ لاَّیُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ ۔ وَاتَّبَعْتُ مِلَّۃَ اٰبُآئِ یْٓ اِبْرٰھِیْمَ وَاِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ ط مَاکَانَ لَنَآ اَنْ نُّشْرِکَ بِاللّٰہِ مِنْ شَیٌ ئٍ ط ذٰلِکَ مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ عَلَیْنَا وَعَلیَ النَّاسِ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لاَیَشْکُرُوْنَ ۔
(سورۃ یوسف : 37، 38)
(حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا یہاں جو کھانا تمہیں ملتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں ان خوابوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
فہم القرآن
ربط کلام : قیدیوں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خطاب جاری ہے۔
ارشاد فرماتے ہیں کہ خوابوں کی تعبیر جاننا، اللہ اور آخرت پر ایمان لانا۔ میرے رب نے مجھے سکھلایا ہے۔ ان الفاظ سے یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جیل جانے سے پہلے نبوت کے منصب پر فائز کردیا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ اپنی دعوت کی وضاحت اور سلسلۂ نبوت کو اپنے آباء حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کے ساتھ جوڑتے ہوئے فرماتے ہیں ہم اس کو ہرگز جائز نہیں سمجھتے کہ اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک کریں۔ بیشک وہ جاندار ہو یا غیر جاندار۔ ” من شیءٍ “ کے الفاظ میں مردہ اور زندہ تمام…
Read the full tafseer →38: وَاتَّبَعْتُ مِلَّۃَ اٰبَآ ئِ یْ اِبْرٰھِیْمَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ (اور میں نے اتباع کی اپنے باپ دادا ابراہیم و اسحاق و یعقوب کے مذہب کی) وہ ملت حنیفیہ ہے۔ ہمؔ کا لفظ تاکید مزید کیلئے لایا گیا ہے۔ اور آباء کا تذکرہ اس لئے کیا تاکہ ان کے سامنے ظاہر کریں کہ میں خانوادئہ نبوت سے تعلق رکھتا ہوں۔ تاکہ وہ دونوں پہچان لیں کہ آپ نبی مرسل ہیں اور اخبار غیب آپ کو وحی سے معلوم ہوتے ہیں تاکہ اسطرح سے ان کو اور زیادہ رغبت ہو اور آپ کی اتباع کرنا آسان ہوجائے۔ اوپر والی آیت میں ترکتؔ کا مطلب ابتدائی ترک یعنی اختیار ہی نہ کرنا مراد ہے یہ مراد نہیں کہ پہلے کرتا تھا پھر چھوڑ دیا۔ َمَاکَان لَنَآ (ہمارے…
Read the full tafseer →تفسیر 38۔” واتبعت ملۃ آبائی ابراھیم و اسحاق و یعقوب “ یہ ظاہر ہے کہ آپ (علیہ السلام) انبیاء (علیہم السلام) کی اولاد میں سے ہیں ۔ ” ما کان لنا ان نشرک باللہ من شیئ “ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں شرک سے بچایا ہے۔” ذلک “ یہ توحید اور علم ۔
” من فضل اللہ علینا و علی الناس “ جو ان کیلئے ہدایت کو بیان کیا ” ولکن اکثر الناس لا یشکرون “ پھر ان کو اسلام کی طرف بلاتے ہوئے فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
37۔ 38۔ یوسف (علیہ السلام) نے ساقی اور باورچی سے جنہوں نے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی تھی پہلے تو یہ فرمایا کہ تمہارا کھانا جس وقت آئے گا اس سے پہلے میں تمہارے خواب کی تعبیر کہہ دوں گا اور جو کچھ میں کہوں گا نہ تو وہ جادو کے زور سے کہوں گا اور نہ علم نجوم اور نہ تعلیم شیطان سے بلکہ اس علم کے ذریعہ سے بتلاؤں گا جس کی تعلیم مجھ کو میرے پروردگار عالم نے کی ہے اور جو علم خداوند جل شانہ نے عطا کیا ہے اس سے میں تعبیر بتلاؤں گا اس کے بعد پھر آپ نے دین اسلام کی تلقین کرنی شروع کی اور بت پرستی کی مذمت بیان کی کہ میں بچپن سے اس قوم کے میل جول میں تھا جو نہ تو خدا پر ایمان رکھتے تھے اور نہ آخرت پر ان کا…
Read the full tafseer →(واتبعت ملۃ ابآءی ابراہیم و اسحاق ویعقوب) ” اور میں نے پیروی کی اپنے باپ دادا کی ملت کی، ابراہیم اسحاق اور یعقوب کی “ اس کے بعد یوسف نے ملت ابراہیم کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ماکان لنا ان نشرک باللہ من شیء) ” ہمارے لائق نہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائیں “ یعنی ہم اللہ تعالیٰ کو ایک مانتے ہیں اور اسی کے لئے دین اور عبودیت کو خالص کرتے ہیں۔ (ذلک من فضل اللہ علینا و علی الناس) ” یہ ہم پر اللہ کی بہترین نوازش اور اس کا فضل و احسان ہے۔ “ یہ احسان ان لوگوں پر بھی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہماری طرح راہ ہدایت پر گامزن کیا ہے، کیونکہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کی اس نوازش اور عنایت سے بڑھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
یوسف (علیہ السلام) کی تعبیر خواب میں حکمت تبلیغ
قول باری ہے قال لا باتیکما طعام ترزقا نہ الا نبا تکما بتاویلہ قبل ان یا تیکما ۔ یوسف نے کہا ۔ یہاں جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں ان خوابوں کی تعبیر بتادوں گا ۔ تا آخر آیت ۔ ابن جریج کا قول ہے کہ حضرت یوسف نے دونوں قیدی ساتھیوں کے خوابوں کی تعبیر فوری طور پر بتانے سے اس لیے پہلو تھی کی تھی کہ ان میں سے ایک کے خواب کی تعبیر بری تھی اس لیے آپ نے انہیں تعبیر بتانے کی بجائے ان سے وہ گفتگو کی جو آیت میں درج ہے لیکن دونوں نے اس وقت تک آپ کا پیچھا نہ چھوڑا جب تک آپ نے انہیں تعبیر نہ بتادی ۔ ایک قول کے مطابق آپ نے تعبیر بتانے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
66۔ باپ دادا کی پیروی مشروط بالحق ہے :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ باپ دادا کی پیروی مطلوب و محمود ہے جبکہ وہ حق پر ہوں۔ کہ وہ پیروی ان کی نہیں بلکہ اصل میں حق ہی کی پیروی ہوتی ہے۔ پس اپنے باپ دادا اور بڑے بزرگ جب راہ حق وصواب پر ہوں تو ان کی اتباع و پیروی کرنا مذموم نہیں، بلکہ محمود و مطلوب ہے۔ اور یہ اندھی تقلید کے زمرے میں نہیں آئے گا بلکہ اتباع حق وصدق کے ہی قبیل سے ہوگا۔ اور حق وصدق کی اتباع و پیروی دین حق کا تقاضا بلکہ اصل دین ہے۔ اور اسی پر سارا مدارو انحصار ہے سعادت دارین کا۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید۔ سو عقیدہ توحید عقل سلیم اور فطرت مستقیم کا تقاضا ہے کہ شرک کے لیے کوئی دلیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–57
انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب
ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔
تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
آیات 36 تا 42
اسرار و معارف
حضرت جب جیل میں پہنچے تو آپ کا شہرہ بھی پہنچا اور قید میں مصائب میں مبتلاء لوگوں کو بھی ذوق زیارت ہوا تو آپ ان میں اپنے کمالات بیان فرماتے اور انھیں اپنی طرف متوجہ فرماتے کہ انبیاء پر تو یہ فرض ہوتا ہے کہ اپنے کمالات نبوت کا اظہار فرما کر لوگوں کو راہ حق کی طرف دعوت دیں۔
اہل اللہ کا اظہار کمالات
اور ولی اللہ بھی اگر اگر اظہار فرماتے ہیں تو ان کی غرض یہی ہوتی ہے ۔ کہ صاحب حال سے اپنی شہرت کی طلب کی توقع رکھنا درست نہیں۔ صاحب مظہری (رح) نے یہاں حضرت مجددالف ثانی (رح) کی مثال دی ہے کہ آپ اظہار فرماتے تھے تو اللہ کی بیشمار مخلوق نے استفادہ کیا جبکہ ان کے خلاف باتیں…
Read the full tafseer →ف 3 ۔ یعنی آدمی ہو یا فرشتہ، جن ہو یا بھوت اور پری بت ہو یا قبر یا پتھر ہو یا درخت، کسی کو خدا کا سانجھی نہ ٹھہرائیں۔ (وحیدی) ۔
4 ۔ بلکہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک گردانئے ہیں اور ان کی عبادت کرکے اپنے آپ کو ذلت کے گڑھے میں گرات ہیں۔ (وحیدی) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ہمارا اس دین (توحید) پر رہنا سب لوگوں کے حق میں فضیلت ہے تاکہ ہم سے راہ سیکھیں۔ (از موضح) ۔ مطلب یہ کہ نبی ﷺ پر تو یہ فضل و عنایت بلا واسطہ ہوتا ہے لیکن لوگوں پر نبی و کے واسطہ سے۔ (روح) ۔
Read the full tafseer →(12:38) ما کان لنا ان نشرک باللہ من شیئ۔ ہمیں زیب نہیں دیتا کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک ٹھہرائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
لغات القرآن آیت نمبر 36 تا 40
دخل داخل ہوا فتین (فتی) دونوجوان احدھما ان دونوں میں سے ایک اعصر میں نچوڑ رہا ہوں خمر شراب احمل میں اٹھاتا ہوں راسی اپنا سر خبز روٹی تاکل الطیر پرندے کھا رہے ہیں نبئنا ہمیں بتا دے تاویلہ اس کی تعبیر لا یا تیکما تم دونوں کے پاس نہیں آئے گا ترزقنہ جو رقز تمہیں دیا جاتا ہے نبات میں بتا دوں گا علمنی اس نے مجھے سکھایا ترکت میں نے چھوڑا ملۃ ملت، طریقہ یصاحبی اے میرے دونوں ساتھیوں ارباب (رب) ، مختلف پروردگار القھار زبردست اسماء نام سمیتموا تم نے نام رکھے سلطن کوئی دلیل، کوئی سند، ایاہ اسی کی القیم سیدھا، سچا
تشریح : آیت نمبر 36 تا 40
بے گناہی کے باوجود جب حضرت یوسف کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
یوسف (علیہ السلام) نے ساقی اور باورچی سے جنہوں نے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی تھی۔ پہلے تو یہ فرمایا کہ تمہارا کھانا کس وقت آئے گا، اس سے پہلے میں اس کھانے کے انجام کی تم کو خبر دوں گا یعنی اس کا رنگ اور مزا اور تاثیر تم کو بتلادوں گا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کی تعبیر دینے دینے سے پہلے اپنے معجزے کا اظہار اور توحید کی دعوت شروع کردی اور یہ ظاہر فرمادیا کہ علم میں آپ کا درجہ اس سے زیادہ ہے۔ جتنا وہ لوگ آپ کی نسبت اعتقاد رکھتے ہیں۔ آپ غیب کی خبریں دینے پر قدرت رکھتے تھے۔ اس وقت معجزے کا اظہار اس لئے فرمایا کہ آپ جانتے تھے کہ ان دونوں میں عنقریب ایک سولی دیا جائے گا تو آپ نے چاہا اس کو کفر سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–56
[17] یعنی عملاً یوسف (علیہ السلام) کو ملک کے سیاہ وسفید کا مالک بنادیا۔ تورات میں ہے کہ بادشاہ نے اپنے درباریوں سے کہا کہ ہم ایسا آدمی کہاں پاسکتے ہیں جیسا یہ ہے اور جس میں اللہ کی روح بول رہی ہے۔ پھر یوسف (علیہ السلام) سے کہا، '' دیکھ میں نے ساری زمین مصر پر تجھے حکومت بخشی۔ فقط ایک تخت نشینی ہی میں میں تجھ سے اوپر رہوں گا۔ '' اور اس نے اپنی انگوٹھی اتار کر یوسف (علیہ السلام) کو پہنا دی اور گلے میں سونے کا طوق ڈالا اور حکم دیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو صاحب مملکت کے لقب سے پکارا جائے۔ (پیدائش 37: 41)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
ذریعہ حضوری :
(ف 1) : حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دونوں خواب دیکھنے والوں کو تعبیر بتلائی ایک سے کہا تو ساقی گری کے عہدہ کو سنبھالے گا اور دوسرے سے کہا تو سولی دیا جائے گا ، اور پرندے تیرا گوشت نوش نوچ کے کھائیں گے ، جس کے متعلق انہیں خیال تھا کہ یہ فرعون مصر کا ساقی ہوگا ، اس سے کہا کہ مجھے یاد رکھیو ، اور موقع پا کر بادشاہ سے میرا ذکر کی جو اتفاق کی بات ہے کہ وہ رہا ہو کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے عہد کو بھول گیا ، اور اس طرح مدت تک آپ کو جیل میں رہنا پڑا ۔
بعض لوگوں نے (آیت) ” فانسہ الشیطن “ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی جانب منسوب کیا ہے یعنی یہ مقام نبوت کے منافی ہے کہ آپ پیغمبر ہو کر…
Read the full tafseer →38 ۔ اور میں نے اپنے باپ دادا جو ابراہیم (علیہ السلام) و اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) ہیں ان کے مذہب اور ان کے طریقہ کی پیروی اختیار کر رکھی ہے ہم کو یہ بات ہرگز زیبا نہیں کہ ہم خدا کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک قرار دیں ۔ یہ عقیدۂ توحید ہم پر اور دوسرے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے لیکن اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی قدر نہیں کرتے۔ یعنی جس دین کی میں تم کو تبلیغ کر رہا ہوں یہ وہی ملت ابراہیمی اور اسلام ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہم السلام) کا مذہب تھا میں بھی اسی کا پیرو ہوں ۔ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کسی کو شریک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
ف 2۔ یعنی توحید اس مذہب کا رکن اعظم ہے۔
3۔ کیونکہ اس کی بدولت دنیا وآخرت کی فلاح ہے۔
4۔ یعنی توحید کی قدر اور اس کو اختیار نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →میں اس دین کی پیروی کرتا ہوں جو انبیاء کرام کو دیا گیا اور وہ میرے آبائو اجداد ہی تھے
۔ 49 ساتھیو ! اس وقت جو بات میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں یہ کوئی رمل ، جعفر یا کہانت کا فن نہیں بلکہ یہ تو میرے پروردگار کی تعلیم ہے جو اس نے براہ راست مجھے سکھائی ہے اور انہیں یہ بھی بتا دیا کہ میرا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جسے پہلی دفعہ میں ہی اختیار کئے ہوئے ہوں بلکہ میرے جلیل القادر آبائو اجداد جن کے نام سے دنیا واقف ہے ان کا بھی یہی عقیدہ تھا۔ آپ حیران ہوں گے کہ آج تک یوسف (علیہ السلام) کو مختلف مشکلات سے واسطہ پڑا لیکن انہوں نے کسی کو یہ نہیں بتایا کہ میں کس خاندان کا چشم و چراغ ہوں۔ سب سے پہلے ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
After that, he declares his abhorrence for disbelief and his disengagement from the community of disbelievers. Then, with it, he also stresses that he is a member of the House of Prophets and it is their Community that he adheres to and that he is a scion of the House of Ibrahim, Ishaq and Ya` qub (علیہم السلام) . We mentioned confidence a little earlier. Customarily, this kind of inherited nobility, a common family trait, is also a source of creating confidence in a person. After that he said: And it is not for us that we associate any partners with Allah. Then, he said that the Taufiq of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
34. This discourse, which is the soul of this story, and is one of the best on the doctrine of Tauhid in the Quran itself, finds no place at all in the Bible and the Talmud. This is because they regard him merely as a wise and pious man and not as a Prophet. That is why Rev. Rodwell has, in regard to this passage, accused Muhammad (peace be upon him) of putting his own doctrine and conviction into the mouth of Joseph (peace be upon him). But the Quran not only puts forward and presents these two aspects of his life in a much better and clearer way but also presents him as a Prophet, who had…
Read the full tafseer →