Explained with ayahs 37–38
جیل خانہ میں خوابوں کی تعبیر کا سلسلہ اور تبلیغ توحید
حضرت یوسف ؑ اپنے دونوں قیدی ساتھیوں کو تسکین دیتے ہیں کہ میں تمہارے دونوں خوابوں کی صحیح تعبیر جانتا ہوں اور اس کے بتانے میں مجھے کوئی بخل نہیں۔ اس کی تعبیر کے واقعہ ہونے سے پہلے ہی میں تمہیں وہ بتادوں گا۔ حضرت یوسف کے اس فرمان اور اس وعدے سے تو یہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف، تنہائی کی قید میں تھے کھانے کے وقت کھول دیا جاتا تھا اور ایک دوسرے سے مل سکتے تھے اس لیے آپ نے ان سے یہ وعدہ کیا اور ممکن ہے کہ اللہ کی طرف سے تھوڑی تھوڑی کر کے دونوں خوابوں کی پوری تعبیر بتلائی گی ہو۔ ابن عباس سے یہ اثر مروی ہے گو بہت غریب ہے۔ پھر فرماتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
سورة یُوْسُف 34
یہ تقریر جو اس پورے قصے کی جان ہے اور خود قرآن میں بھی توحید کی بہترین تقریروں میں سے ہے، بائیبل اور تلمود میں کہیں اس کی طرف ادنی اشارہ تک نہیں ہے۔ وہ حضرت یوسف ؑ کو محض ایک دانشمند اور پرہیزگار آدمی کی حیثیت سے پیش کرتی ہیں۔ مگر قرآن صرف یہی نہیں کہ ان کی سیرت کے ان پہلوؤں کو بھی بائیبل اور تلمود کی بہ نسبت بہت زیادہ روشن کر کے پیش کرتا ہے، بلکہ اس کے علاوہ وہ ہم کو یہ بھی بتاتا ہے کہ حضرت یوسف ؑ اپنا ایک پیغمبرانہ مشن رکھتے تھے اور اس کی دعوت و تبلیغ کا کام انہوں نے قید خانہ ہی میں شروع کردی تھی۔
یہ تقریر ایسی نہیں ہے کہ اس پر سے یونہی سرسری طور پر گزر جائے۔ اس کے متعدد…
Read the full tafseer →ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِيْ رَبِّيْ اور یہ کوئی رمل، جفر کا فن یا کہانت وغیرہ کا شعبدہ نہیں، بلکہ میرا رب بذریعہ وحی مجھے بتلا دیتا ہے میں اس کی اطلاع دیدیتا ہوں اور یہ ایک کھلا معجزہ تھا جو دلیل نبوت اور اعتماد کا بہت بڑا سبب ہے
Read the full tafseer →قَالَ لَا يَاْتِيْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖٓ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِيْـلِهٖ قَبْلَ اَنْ يَّاْتِيَكُمَا ۭ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِيْ رَبِّيْ ۭ اِنِّىْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ۔
خواب کی تعبیر اور دین کی دعوت : حضرت یوسف نے فرمایا کہ کھانا تقسیم ہونے سے پہلے پہلے میں تم کو ان خوابوں کی تعبیر بتا دوں گا۔ جیل بالخصوص اس زمانے کی جیل کی افسردہ اور ایک رنگ زندگی میں کھانے کی تقسیم وغیرہ جیسے ایک آدھ واقعے ہی ایسے ہوسکتے ہیں جو زندگی میں ذرا تغیر کی علامت سمجھے جاتے ہوں گے اس وجہ سے حضرت یوسف نے اسی کا حوالہ دے کر خوابوں کی…
Read the full tafseer →37۔ 1 یعنی میں جو تعبیر بتلاؤں گا، وہ کاہنوں اور نجومیوں کی طرح ظن وتخمین پر مبنی نہیں ہوگی، جس میں خطا اور نیکی دونوں کا احتمال ہوتا ہے۔ بلکہ میری تعبیر یقینی علم پر مبنی ہوگی جو اللہ کی طرف سے مجھے عطا کیا گیا ہے، جس میں غلطی کا امکان ہی نہیں۔
37۔ 2 یہ الہام اور علم الٰہی (جن سے آپ کو نوازا گیا) کی وجہ بیان کی جا رہی ہے کہ میں نے ان لوگوں کا مذہب چھوڑ دیا جو اللہ اور آخرت پر یقین نہیں رکھتے، اس کے صلے میں اللہ تعالیٰ کے یہ انعامات مجھ پر ہوئے۔
Read the full tafseer →25: اس کا مطلب بعض مفسرین نے تو یہ بتایا ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے انہیں اطمینان دلایا کہ میں تمہارے ان خوابوں کی تعبیر ابھی تھوڑی دیر میں بتاؤں گا۔ اور جو ھانا تمہیں جیل سے ملنے والا ہے۔ اس کے تمہارے پاس پہنچنے سے پہلے ہی بتادوں گا اور بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسا علم عطا فرمایا ہے کہ جو کھانا تمہیں جیل سے ملنے والا ہو اس کے آنے سے پہلے ہی میں تمہیں بتاسکتا ہوں کہ اس مرتبہ کونسا کھانا تمہیں دیا جائے گا یعنی اللہ تعالیٰ مجھے بہت سی باتیں وحی کے ذریعے بتا دیتے ہیں۔ یہ بات آپ نے اسلیے ارشاد فرمائی کہ آپ ان دونون کو توحید کی دعوت دینا چاہتے تھے اور ان کو آپ…
Read the full tafseer →اسے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف کی بات کس قدر دل نشین ہے اور وہ بات سے کس طرح بات نکالتے چلے جاتے ہیں اور کس قدر نرمی اور لطافت کے ساتھ بات کرتے ہیں۔ اس پورے قصے میں حضرت یوسف کی بات چیت کی یہ امتیازی خصوصیت ہے۔
قَالَ لَا يَاْتِيْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖٓ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِيْـلِهٖ قَبْلَ اَنْ يَّاْتِيَكُمَا ۭ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِيْ رَبِّيْ : یوسف نے کہا یہاں جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں ان خوابوں کی تعبیر بتا دوں گا۔ یہ ان علوم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھ عطا کیے ہیں۔
یہ تاکید اس بات کا اظہار کر رہی ہے کہ حضرت یوسف کو اس معاملے میں ایک خاص علم دیا…
Read the full tafseer →2 یوسف (علیہ السلام) نے اول ان کو تسلی دی کہ بیشک خوابوں کی تعبیر تمہیں بہت جلد معلوم ہوا چاہتی ہے روز مرہ جو کھانا تم کو ملتا ہے اس کے آنے سے پیشتر میں تعبیر بتلا کر فارغ ہوجاؤں گا۔ لیکن تعبیر خواب سے زیادہ ضروری اور مفید ایک چیز پہلے تم کو سناتا ہوں۔ وہ یہ کہ تعبیر وغیرہ کا یہ علم مجھ کو کہاں سے حاصل ہوا۔ سو یاد رکھو کہ میں کوئی پیشہ ور کاہن یا منجم نہیں بلکہ میرے علم کا سرچشمہ وحی اور الہام ربانی ہے جو مجھ کو حق تعالیٰ نے اس کی بدولت عطا فرمایا کہ میں نے ہمیشہ سے کافروں اور باطل پرستوں کے دین و ملت کو چھوڑے رکھا اور اپنے مقدس آباؤ اجداد (حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب) جیسے انبیاء…
Read the full tafseer →آیت 37 قَالَ لَا يَاْتِيْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖٓ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِيْـلِهٖ قَبْلَ اَنْ يَّاْتِيَكُمَا
جیل میں قیدیوں کے کھانے کے اوقات مقرر ہوں گے۔ آپ نے فرمایا کہ آپ لوگ اب تعبیر کے بارے میں فکر مت کرو ‘ وہ تو میں کھانا آنے سے پہلے پہلے آپ لوگوں کو بتادوں گا لیکن میں تم لوگوں سے اس کے علاوہ بھی بات کرنا چاہتا ہوں ‘ لہٰذا اس وقت تم لوگ میری بات سنو۔ حضرت یوسف کا یہ طریقہ ایک داعی حق کے لیے راہنمائی کا ذریعہ ہے۔ ایک داعی کی ہر وقت یہ کوشش ہونی چاہیے کہ تبلیغ کے لیے حق بات لوگوں تک پہنچانے کے لیے جب اور جہاں موقع میسر آئے اس سے فائدہ اٹھائے۔ چناچہ حضرت یوسف نے دیکھا کہ لوگ میری…
Read the full tafseer →37 سیدنا یوسف کا قیدیوں کو اسلام کے اصول سمجھانا :۔ سیدنا یوسف نے انھیں جواب دیا کہ خواب کی تعبیر تو میں تمہیں بتا ہی دوں گا اور جس وقت تمہارا کھانا آیا کرتا ہے اس سے پہلے ہی بتادوں گا اور اس سے پہلے یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ خوابوں کی تعبیر کا علم جو اللہ نے مجھے سکھایا ہے تو یہ مجھ پر اللہ کا خاص احسان ہے اور اللہ کا فضل و احسان ان لوگوں پر ہی ہوا کرتا ہے جو اللہ ہی کے ہو کر رہتے ہیں۔ اسی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتے۔ میں ان لوگوں (مصریوں) کا دین ہرگز قبول نہیں کرتا جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ روز آخرت پر، بلکہ میں تو اپنے…
Read the full tafseer →73۔ آپ نے فرمایا کہ ابھی تمہارا کھانا آنے بھی نہ پائے گا کہ میں خواب کی تعبیر بتادوں گا بس ایک ذرا دم لو۔ اور اس درمیان میں آپ کو موقع تبلیغ کا ہاتھ آگیا۔ (آیت) ” بتاویلہ “۔ میں ضمیر ان بیان شدہ خوابوں کے مجموعہ کی طرف ہے۔ ای بتاویل ماقصصتماعلی (بیضاوی)
74۔ نہ کہ علم جو تش نجوم کہانت وغیرہ کا کوئی شعبہ جس کا مصرجاہلی میں اتنا زور تھا) آپ (علیہ السلام) نے پہلے تو مصری سائلوں کے اس ممکن خیال کو مٹایا کہ آپ (علیہ السلام) کا ملکہ تعبیر بھی جو تشیوں وغیرہ کے عملیات کے قسم کا ہے اور پھر آپ اپنے ذاتی کمال کی نفی کرکے اپنے علم کو تمامترافضال الہی کا ثمرہ قراردے رہے ہیں۔ اور یوں دین حق کی تبلیغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
آیت نمبر 36 تا 42
ترجمہ : چناچہ (یوسف کو) جیل میں ڈال دیا گیا اور اس کے ساتھ دو اور نوجوان بھی جیل خانہ میں داخل ہوئے جو بادشاہ کے غلام تھے، ایک ان میں سے بادشاہ کا ساقی تھا اور دوسرا شاہی مطبخ کا ذمہ دار، ان دونوں کو معلوم ہوا کہ (یوسف) خوابوں کی تعبیر بتاتے ہیں تو دونوں نے مشورہ کیا کہ ہم اس کو ضرور آزمائیں گے، ان میں سے ایک نے جو کہ ساقی تھا کہا میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں انگور نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے مطبخ کے ذمہ دار نے کہا میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اس میں سے پرندے کھا رہے ہیں، ہمیں آپ اس کی تعبیر بتائیے، ہم آپ کو نیک آدمی سمجھتے ہیں، (یوسف (علیہ السلام) نے) ان کو یہ بتاتے…
Read the full tafseer →قال یا یاتینکما طعام ترزقنہ الا نبا تکما بتاویلہ قبل ان یاتیکما یوسف نے کہا : جو کھانا تمہارے کھانے کیلئے (تمہارے گھروں سے یا جیل خانہ کے مطبخ سے) آتا ہے ‘ وہ آنے نہیں پاتا ‘ اس کے آنے سے پہلے ہی میں اس کی حقیقت اور کیفیت تم کو بتادیا کرتا ہوں۔
بعض کا قول ہے کہ لاَ یَأتِیْکُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِہٖ سے مراد ہے : خواب میں کھانے کا آنا اور تاوِیْلِہ سے مراد ہے : بیداری میں اس کی تعبیر دینا اور قَبْلَ اَنْ یَّأتِیَکُمَا سے مراد ہے : خواب میں نظر آنے والے واقعہ کا بیداری میں ظہور پذیر ہونا۔ یعنی خواب میں تمہارے کھانے کیلئے آتا ہوا جو کھانا تم کو نظر آتا ہے ‘ خارج میں ایسا واقعہ ہونے سے پہلے میں اس…
Read the full tafseer →(37) حضرت یوسف ؑ نے ان دونوں سے فرمایا اور یوسف ؑ کو جو علم کا معجزہ حاصل تھا اس سے بھی ان لوگوں کو آشنا کرنا چاہا کہ دیکھو جو کھانا تمہارے پاس آتا ہے کہ تمہیں کھانے کے لیے وہ ملتا ہے اس کے آنے سے پہلے ہی میں اس کی حقیقت اور رنگت تمہیں بتلا دیا کرتا ہوں تو پھر تمہارے خوابوں کی تعبیر سے کیوں کرواقف نہ ہوں گا، یہ بتلانا اس علم کی بدولت ہے جو میرے پروردگار نے مجھے دیا ہے میں نے تو ایسے لوگوں کے مذہب کی اتباع کی ہی نہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے اور موت کے بعد کی زندگی کے بھی منکر ہیں۔
میں نے تو اپنے ان بزرگوار باپ داداؤں کے مذہب کو اختیار کر رکھا ہے یعنی حضرت ابراہیم ؑ اسحاق ؑ ، یعقوب ؑ۔
Read the full tafseer →قَالَ لَا يَاْتِيْكُمَا طَعَامٌ۔۔ : یوسف ؑ اس سے پہلے بھی اللہ کے دین اور توحید پر قائم تھے، قید میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکمت رکھی کہ دنیا کے معاملات سے فراغت اور خلوت نصیب ہوئی، ذکر وفکر کا موقع زیادہ ملا، کفار کے تعلق سے دل خالی ہوا تو سینہ علم نبوت کے نور سے اور زیادہ روشن ہوگیا۔ اب ان دونوں کو یوسف ؑ سے خواب کی تعبیر پوچھنے کی ضرورت پڑی تو یوسف ؑ نے ضروری سمجھا کہ پہلے انھیں توحید اور آخرت پر ایمان کی دعوت دیں، بعد میں خواب کی تعبیر بتائیں، اس لیے ان سے بات کا کچھ وقت لے لیا، مگر ساتھ ہی ان کی تسلی کردی تاکہ وہ گھبرا نہ جائیں، کہا کہ کھانا جو تمہیں دیا جاتا ہے، اس کے آنے سے پہلے پہلے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
آیت نمبر 36 تا 38
ودخل معہ السجن فتیٰن۔ فتیٰن کا تثینہ ہے : اور یہ یائی ہے اور عربوں کا قول : الفتوشاذ ہے۔ وہب اور دیگر لوگوں نے کہا : حضرت یوسف (علیہ السلام) کو قید کرکے قید خانے کی طرف گدھے پر سوار کرکے لایا گیا اور کہا گیا : ھذا جزاء من یعصی سیدتہ یہ سزا ہے اس کی جس نے اپنی مالکن کی نافرمانی کی، جبکہ آپ فرما رہے تھے : یہ آگ کے لباس، تارکول کی قمیض، پیپ کے پینے اور زقوم کھانے کی نسبت زیادہ آسان ہے۔
جب حضرت یوسف (علیہ السلام) قید خانہ پہنچے تو آپ نے اس میں کچھ ایسے لوگ پائے جن کی امیدیں ختم ہوچکی تھیں اور ان کی آزمائش وابتلا انتہائی سخت ہوچکی تھی تو آپ نے ان سے فرمایا : صبر کرو اور خوش رہو…
Read the full tafseer →1:۔ ابوسعید وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” قال لا یاتیکما طعام ترزقنہ “ کے بارے میں فرمایا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کو فورا تعبیر بتانے کو ناپسند کیا تو انہوں نے ان کے جواب کے علاوہ (دوسرا) جواب دیا تاکہ وہ جان لیں کہ ان کے پاس ایک خاص علم ہے اور بادشاہ جب کسی انسان کے قتل کا ارادہ کرتا تھا تو اس کے لئے مخصوص کھانا تیار کیا جاتا تھا اور اس کو اس کھانے کی طرف بلایا جاتا ہے پس ان دونوں نے یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” لا یاتیکما طعام ترزقنہ سے لے کر ” تشکرون “ تک (یعنی نہیں آئے گا تمہارے پاس کھانا جو تمہیں کھلایا…
Read the full tafseer →[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ لَا يَاْتِيْكُمَا : نہیں آئے گا تم دونوں کے پاس ] [ طَعَامٌ: وہ کھانا ] [تُرْزَقٰنِهٖٓ : جو تم دونوں کو دیا جاتا ہے ] [اِلَّا : مگر (یہ کہ) ] [ نَبَّاْتُكُمَا : میں نے خبر دی تم دونوں کو ] [بِتَاْوِيْـلِهٖ : اس کے انجام کی ] [ قَبْلَ : اس سے پہلے ] [ ان : کہ ] [يَاْتِيَكُمَا : وہ آئے تمہارے پاس ] [ ذٰلِكُمَا : یہ ] [مِمَا : اس میں سے جس کا ] [ عَلَّمَنِيْ : علم دیا مجھ کو ] [ رَبِيْ : میرے رب نے ] [ انى: بیشک میں نے ] [تَرَكْتُ : چھوڑا ] [مِلَّةَ قَوْمٍ : اس قوم کے مذہب کو ] [لَّا يُؤْمِنُوْنَ : جو ایمان نہیں لاتے ] [بِاللّٰهِ : اللہ پر ] [ وَهُمْ : اور…
Read the full tafseer →تعبیر دینے سے پہلے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا تبلیغ فرمانا اور توحید کی دعوت دینا
سیدنا حضرت یوسف (علیہ السلام) سے جب دونوں جوانوں نے اپنے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی تو ان سے فرمایا کہ میں کھانا آنے سے پہلے تمہارے خوابوں کی تعبیر بتادوں گا لیکن اس سے پہلے تم مجھے پہچانو کہ میں کون ہوں ‘ عالم مبلغ اور داعی کا کام یہی ہے کہ وہ اپنے دعوت کے کام کے لیے طریقے سوچتا رہے اور راستہ نکالے اور ایسے موقع پر تو خاص طور پر موقع نکل آتا ہے جب کسی بےراہ کو مبلغ اور داعی کی ضرورت پڑجائے ‘ جب وہ اپنی حاجت لے کر آئے تو اس کو غنیمت جانے اور پہلے اپنی دعوت حق والی بات کہے ‘ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اسی پر عمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
قصہ یوسف (علیہ السلام) باساقی و خباز درجیل خانہ بر تبلیغ و دعوت اظہار نبوت
قال اللہ تعالیٰ ودخل معہ السجن فتین .... الیٰ .... فلبث فی السجن یضع سنین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یوسف (علیہ السلام) کی دعا رب السجن احب الی مما یدعونی الیہ اور اس کی قبولیت و استجابت کا ذکر کیا ہے دعا میں یہ درخواست تھی کہ اے پروردگار ایسے زنانخانہ اور محل سرائے سے تو جیل بہتر ہے بارگاہ خداوندی میں یوسف علیہا لسلام کی دعا بلفظہ قول ہوئی کہ زنان خانہ سے نکال کر جیل خانہ بھیج دئیے گئے اب وقت آیا کہ ولنعلمہ من تاویل الاحادیث۔ کا ظہور ہو کہ جیل خانہ میں پہنچ کر لوگوں کے خوابوں کی تعبیریں دیں اور ان کو توحید اور اسلام کی…
Read the full tafseer →34:۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور خیال آیا کہ خوابوں کی تعبیر بیان کرنے سے پہلے ان کو مسئلہ توحید سمجھا دیں تاکہ تبلیغ کا حق بھی ادا ہوجائے اور ان کی صحبت کا حق بھی۔ چناچہ دونوں سے فرمایا فکر مت کرو میں قبل اس کے کہ تمہارا کھانا تمہارے پاس پہنچے تمہارے خوابوں کی تعبیر تمہیں بتا دوں گا۔ ” ذٰلِکُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ “ یہ تعبیر کا علم ان علوم و معارف میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائے ہیں۔” اِنِّیْ تَرَکْتُ مِلَّۃَ قَوْمٍ الخ “ یہ ما قبل کے لیے بمنزلہ علت ہے ان اللہ خصہ بھذا العلم لانہ ترک ملۃ قوم لا یؤمنون باللہ الخ (قرطبی ج 9 ص 191) ۔ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
تبدیلی رائے
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ عزیز مصر اور اس کی بیوی کے خاندان پر یوسف (علیہ السلام) کی عصمت اور بنلد کردار ی کی بہت سی نشانیاں ظاہر ہوائیں جس کی بناء پر انہیں یقین ہوگیا کہ قمیص پھٹنے کے واقعہ میں قصور زلیخا کا ہے ، اور یوسف (علیہ السلام) بالکل بےگناہ ہیں اس کے باوجود انہوں نے فیصلہ کیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو کچھ عرصہ کے لئے قد کردیا جائے۔ اس مقام پر ثم بدالھم کے ال فاظ آئے ہیں۔ بدا کے دو معنی آتے ہیں یعنی ظاہر کرنا اور رائے کا بدلنا یہاں پر دونوں معنی مراد لئے جاسکتے ہیں۔ ان پر حقیقت حال بھی پوری طرح ظاہر وہ گئی کہ یوسف (علیہ السلام) بےگناہ ہیں مگر اس کے باوجود ان کی رائے…
Read the full tafseer →قَالَ لَا يَاْتِيْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِہٖٓ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِيْـلِہٖ قَبْلَ اَنْ يَّاْتِيَكُمَا 0ۭ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِيْ رَبِّيْ 0ۭ اِنِّىْ تَرَكْتُ مِلَّۃَ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَہُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ہُمْ كٰفِرُوْنَ 37
طعم
الطَّعْمُ : تناول الغذاء، ويسمّى ما يتناول منه طَعْمٌ وطَعَامٌ. قال تعالی: وَطَعامُهُ مَتاعاً لَكُمْ [ المائدة/ 96] ، قال : وقد اختصّ بالبرّ فيما روی أبو سعید «أنّ النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أمر بصدقة الفطر صاعا من طَعَامٍ أو صاعا من شعیر» «2» . قال تعالی: وَلا طَعامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ [ الحاقة/ 36] ،
( ط ع م ) الطعم
( س) کے معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
3 ؎ اصلی خواب میں جس کو رویا صادقہ کہتے ہیں انسان کی روح کو عالم غیب کی چیزیں جو ہنوز عالم ظہور میں نہیں آئیں دکھائی دے جاتی ہیں لیکن قوت متوہمہ ان معانی مجردہ کو ان کے مناسب اشکال میں ڈھال کر دکھاتی ہے پھر اس کے حل کا نام تعبیر ہے۔ یہ کام اسی سے عمدہ بن سکتا ہے جس کو عالم قدس سے مناسبت ہوتی ہے اور اس مناسبت کے آثار چہرے پر بھی نمودار ہوتے ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے نورانی چہرے سے انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ بھی انہیں مقدس لوگوں میں سے ہے اس لئے ان سے تعبیر پوچھی 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
قَالَ لاَ یَاْ تِیْکُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰـنِہٖٓ اِلاَّ نَبَّاْتُکُمَا بِتَاْوِیْلِہٖ قَبْلَ اَنْ یَّا تِیَکُمَا ط ذٰلِکُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ ط اِنِّیْ تَرَکْتُ مِلَّۃَ قَوْمٍ لاَّیُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ ۔ وَاتَّبَعْتُ مِلَّۃَ اٰبُآئِ یْٓ اِبْرٰھِیْمَ وَاِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ ط مَاکَانَ لَنَآ اَنْ نُّشْرِکَ بِاللّٰہِ مِنْ شَیٌ ئٍ ط ذٰلِکَ مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ عَلَیْنَا وَعَلیَ النَّاسِ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لاَیَشْکُرُوْنَ ۔
(سورۃ یوسف : 37، 38)
(حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا یہاں جو کھانا تمہیں ملتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں ان خوابوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا بےبسی اور بےچارگی کے عالم میں بدکاری کے مقابلے میں جیل کو ترجیح دینا۔
حقائق جاننے اور عزیز مصر کی بیوی کے اعتراف جرم کے باوجودمصر کا حکمران طبقہ اور زعماء اپنی عورتوں کے ہاتھوں اس قدر مجبورہوا کہ انہوں نے نسوانی رائے عامہ کے خوف سے حضرت یوسف (علیہ السلام) جیسے عظیم کردار کے حامل، شرم وحیا کے پیکر، دیانت و امانت کے امین اور احساس ذمہ داری کے نگہبان کو جیل کی کال کوٹھڑی میں بند کردیا۔ جس کے بارے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ان لوگوں نے سب حقائق جاننے اور دیکھنے کے باوجود ایک مدت تک حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جیل میں بند…
Read the full tafseer →37: قَالَ لَایَاْتِیْکُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِہٖٓ اِلَّا نَبَّاْتُکُمَا بِتَاْوِیْلِہٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْ تِیَکُمَا 1 (کہا جو کھانا تمہارے کھانے کے لئے آتا ہے اس کے آنے سے پہلے اسکی حقیقت بتلا دیتا ہوں) اسکی ماہیت و کیفیت کیونکہ اس مشکل کی تفسیر کے مشابہ قبل ان یأ تیکما ہے۔ جب انہوں نے آپ سے تعبیرپوچھی اور آپ کی تعریف احسان سے کی تو آپ کی بصیرت نے اس کو بھانپ لیا۔ اور اس سے اپنے ایسے وصف تک پہنچ گئے جو علماء کے علم سے بہت بلند ہے اور وہ غیب کی اطلاع ہے اور آپ نے ان کو متنبہ کیا کہ ان کی طرف لایا جانے والا کھانا ہر روز ان کو بتلایا جاتا ہے کہ آج یہ کھانا اس طرح سے آئے گا۔ اور وہ اسی طرح ہی…
Read the full tafseer →حضرت یوسف (علیہ السلام) کا معجزہ
تفسیر : 37۔” قال لا یاتیکما طعام ترزفانہ “ بعض نے کہا ہے کہ نیندمراد ہے کہ نیند میں جو کھانا بھی تمہارے پاس آئے گا ” الا نباتکما بتاویلہ “ بیداری میں ، اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد بیداری میں ہے۔ اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد بیداری میں ہے۔ فرماتے ہیں کہ تمہارا گھر سے جو کھانا آئے گا اور تم اس کو کھائو گے تو میں تمہیں اس کے آنے سے پہلے اس کے رنگ اور مقدار اور وقت کا بتادوں گا ۔ ” قبل ان باتیکما “ تم تک پہنچتے سے پہلے کہ کون سا کھانا اور کتنا اور کب کھائو گے۔ یہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزہ کی طرح ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا ” وانبئکم بما تاکلون وما تدخرون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
37۔ 38۔ یوسف (علیہ السلام) نے ساقی اور باورچی سے جنہوں نے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی تھی پہلے تو یہ فرمایا کہ تمہارا کھانا جس وقت آئے گا اس سے پہلے میں تمہارے خواب کی تعبیر کہہ دوں گا اور جو کچھ میں کہوں گا نہ تو وہ جادو کے زور سے کہوں گا اور نہ علم نجوم اور نہ تعلیم شیطان سے بلکہ اس علم کے ذریعہ سے بتلاؤں گا جس کی تعلیم مجھ کو میرے پروردگار عالم نے کی ہے اور جو علم خداوند جل شانہ نے عطا کیا ہے اس سے میں تعبیر بتلاؤں گا اس کے بعد پھر آپ نے دین اسلام کی تلقین کرنی شروع کی اور بت پرستی کی مذمت بیان کی کہ میں بچپن سے اس قوم کے میل جول میں تھا جو نہ تو خدا پر ایمان رکھتے تھے اور نہ آخرت پر ان کا…
Read the full tafseer →(قال) یوسف نے ان کی درواست کا جواب دیتے ہوئے فرمایا، (لا یاتیکما طعام ترزقنہ الا نباتکما بتاویلہ قبل ان یاتیکما) ” جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو ان کی تعبیر بتادوں گا۔ “ یعنی تمہیں دلی اطمینان ہونا چاہیے کہ میں تمہیں تمہارے خواب کی تعبیر ضرور بتاؤں گا میں تمہارا کھانا آنے سے بھی پہلے تمہیں تمہارے خواب کی تعبیر بتادوں گا۔
شاید یوسف یہ ارادہ رکھتے تھے کہ اس حال میں، جب کہ ان قیدیوں نے حضرت یوسف کی حاجت محسوس کی وہ ان قدیوں کو ایمان کی دعوت دیں، تاکہ یہ حال ان کی دعوت کے لئے زیادہ مفید اور ان قیدیوں کے لئے زیادہ قابل قبول ہو۔ پھر یوسف سے فرمایا : (ذلکما)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
یوسف (علیہ السلام) کی تعبیر خواب میں حکمت تبلیغ
قول باری ہے قال لا باتیکما طعام ترزقا نہ الا نبا تکما بتاویلہ قبل ان یا تیکما ۔ یوسف نے کہا ۔ یہاں جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں ان خوابوں کی تعبیر بتادوں گا ۔ تا آخر آیت ۔ ابن جریج کا قول ہے کہ حضرت یوسف نے دونوں قیدی ساتھیوں کے خوابوں کی تعبیر فوری طور پر بتانے سے اس لیے پہلو تھی کی تھی کہ ان میں سے ایک کے خواب کی تعبیر بری تھی اس لیے آپ نے انہیں تعبیر بتانے کی بجائے ان سے وہ گفتگو کی جو آیت میں درج ہے لیکن دونوں نے اس وقت تک آپ کا پیچھا نہ چھوڑا جب تک آپ نے انہیں تعبیر نہ بتادی ۔ ایک قول کے مطابق آپ نے تعبیر بتانے سے…
Read the full tafseer →63۔ خواب کی تعبیر اور دین کی دعوت :
(الا نباتکما بتاویلہ) کی ضمیر مجرور کے مرجع اور اس ارشاد کے مفہوم ومطلب میں دواحتمال ہیں۔ ایک یہ کہ اس کا مرجع خواب ہو۔ کما ہوالمتبادر، یعنی میں تم کو تمہارا کھانا آنے سے پہلے ہی اس خواب کی تعبیر بتادوں گا۔ پس تم گھبرانا نہیں کہ کوئی لمبی بات میں تم سے نہیں کروں گا۔ پس دین کے بارے میں مختصر اور ضروری بات کرنے بعد تم کو جلد ہی تمہارے اس خواب کی تعبیر بتادوں گا۔ اور بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ ضمیرکامرجع طعام ہے۔ یعنی یہ کہ میں وہ کھانا تمہارے پاس آنے سے پہلے ہی اس کی حقیقت تمہیں بتا دونگا کہ وہ کیا ہے اور کیسا ہے۔ پس میں جو بات دین کے بارے میں تم کو کہنا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–57
انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب
ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔
تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
آیات 36 تا 42
اسرار و معارف
حضرت جب جیل میں پہنچے تو آپ کا شہرہ بھی پہنچا اور قید میں مصائب میں مبتلاء لوگوں کو بھی ذوق زیارت ہوا تو آپ ان میں اپنے کمالات بیان فرماتے اور انھیں اپنی طرف متوجہ فرماتے کہ انبیاء پر تو یہ فرض ہوتا ہے کہ اپنے کمالات نبوت کا اظہار فرما کر لوگوں کو راہ حق کی طرف دعوت دیں۔
اہل اللہ کا اظہار کمالات
اور ولی اللہ بھی اگر اگر اظہار فرماتے ہیں تو ان کی غرض یہی ہوتی ہے ۔ کہ صاحب حال سے اپنی شہرت کی طلب کی توقع رکھنا درست نہیں۔ صاحب مظہری (رح) نے یہاں حضرت مجددالف ثانی (رح) کی مثال دی ہے کہ آپ اظہار فرماتے تھے تو اللہ کی بیشمار مخلوق نے استفادہ کیا جبکہ ان کے خلاف باتیں…
Read the full tafseer →ف 2 ۔ اللہ تعالیٰ نے قید میں یہ حکمت رکھی کہ ان کا دل کافروں کی محبت سے ٹوٹا تو دل پر اللہ کا علم روشن ہوا۔ چاہا کہ اول ان کو دین کی بات سناویں پیچھتے تعبیر خواب کہیں اس واسطے تسلی کردی تا نہ گھبراویں۔ کہا کھانے کے وقت تک وہ بھی بتلا دوں گا۔ (کذافی الموضح) ۔
Read the full tafseer →(12:37) لا یاتیکما۔ مضارع منفی مجزوم بوجہ عمل لا۔ نہی صیغہ واحد مذکر غائب کما۔ ضمیر تثنیہ مفعول وہ نہیں آئے گا تم دونوں کے پاس
ترزقنہ۔ تم دونوں کو وہ یعنی کھانا کھلایا جاتا ہے۔ مضارع مجہول تثنیہ مذکر حاضر ہ ضمیر واحد مذکر غائب طعام کی طرف راجع ہے۔
نباتکما۔ میں تم دونوں کو آگاہ کردوں گا۔ ماضی (بمعنی مضارع) واحد متکلم۔ کما ضمیر تثنیہ مذکر حاضر۔
یاتیکما۔ مضارع منصوب واحد مذکر غائب کما ضمیر مفعول تثنیہ مذکر حاضر ۔ منصوب بوجہ عمل ان (پیشتر اس کے کہ) تمہارے پاس (طعام) آئے۔
ذلکما مما علمنی ربی۔ یہ (تعبیر) منجملہ اس علم کے ہے جو اللہ نے مجھے سکھایا ہے (یہ کہانت اور قیافہ شناسی نہیں ہے) ۔
ترکت۔ میں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
لغات القرآن آیت نمبر 36 تا 40
دخل داخل ہوا فتین (فتی) دونوجوان احدھما ان دونوں میں سے ایک اعصر میں نچوڑ رہا ہوں خمر شراب احمل میں اٹھاتا ہوں راسی اپنا سر خبز روٹی تاکل الطیر پرندے کھا رہے ہیں نبئنا ہمیں بتا دے تاویلہ اس کی تعبیر لا یا تیکما تم دونوں کے پاس نہیں آئے گا ترزقنہ جو رقز تمہیں دیا جاتا ہے نبات میں بتا دوں گا علمنی اس نے مجھے سکھایا ترکت میں نے چھوڑا ملۃ ملت، طریقہ یصاحبی اے میرے دونوں ساتھیوں ارباب (رب) ، مختلف پروردگار القھار زبردست اسماء نام سمیتموا تم نے نام رکھے سلطن کوئی دلیل، کوئی سند، ایاہ اسی کی القیم سیدھا، سچا
تشریح : آیت نمبر 36 تا 40
بے گناہی کے باوجود جب حضرت یوسف کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
یوسف (علیہ السلام) نے ساقی اور باورچی سے جنہوں نے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی تھی۔ پہلے تو یہ فرمایا کہ تمہارا کھانا کس وقت آئے گا، اس سے پہلے میں اس کھانے کے انجام کی تم کو خبر دوں گا یعنی اس کا رنگ اور مزا اور تاثیر تم کو بتلادوں گا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کی تعبیر دینے دینے سے پہلے اپنے معجزے کا اظہار اور توحید کی دعوت شروع کردی اور یہ ظاہر فرمادیا کہ علم میں آپ کا درجہ اس سے زیادہ ہے۔ جتنا وہ لوگ آپ کی نسبت اعتقاد رکھتے ہیں۔ آپ غیب کی خبریں دینے پر قدرت رکھتے تھے۔ اس وقت معجزے کا اظہار اس لئے فرمایا کہ آپ جانتے تھے کہ ان دونوں میں عنقریب ایک سولی دیا جائے گا تو آپ نے چاہا اس کو کفر سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–56
[17] یعنی عملاً یوسف (علیہ السلام) کو ملک کے سیاہ وسفید کا مالک بنادیا۔ تورات میں ہے کہ بادشاہ نے اپنے درباریوں سے کہا کہ ہم ایسا آدمی کہاں پاسکتے ہیں جیسا یہ ہے اور جس میں اللہ کی روح بول رہی ہے۔ پھر یوسف (علیہ السلام) سے کہا، '' دیکھ میں نے ساری زمین مصر پر تجھے حکومت بخشی۔ فقط ایک تخت نشینی ہی میں میں تجھ سے اوپر رہوں گا۔ '' اور اس نے اپنی انگوٹھی اتار کر یوسف (علیہ السلام) کو پہنا دی اور گلے میں سونے کا طوق ڈالا اور حکم دیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو صاحب مملکت کے لقب سے پکارا جائے۔ (پیدائش 37: 41)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
مسلمان قیدی کے فرائض دینی :
(ف 1) اللہ کے نیک بندے جہاں کہیں ہوں اپنے فرائض تبلیغ سے غافل نہیں رہتے ، اور اپنے کردار وعمل سے یہ ثابت کرتے رہتے ہیں کہ ہم نیکی کے داعی ، اور بھلائی کے مناء ہیں ۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) جیل میں بھیجدئیے گئے کیونکہ انہوں نے عزیز ، مصر کی محبت کو ٹھکرا دیا تھا اور ہوائے نفس کی مخالفت کی تھی ان کے ساتھ دو اور قیدی تھے ، انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شراب کو نچوڑ رہا ہے ، اور دوسرے کے سر پر روٹیاں ہیں ۔ جنہیں پرندے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو نیک و صالح سمجھ کر تعبیر دریافت کی ، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ میں ضرور تعبیر بتلاؤں گا پہلے…
Read the full tafseer →37 ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خواب کی تعبیر بتانے سے پہلے فرمایا کہ جو کھانا تم کو روز مرہ کھانے کو ملتا ہے اس کھانے کے پہنچنے سے پہلے پہلے تمہیں تمہارے خواب کی تعبیر بتادوں گا یہ تعبیر کا بتادینا اس علم کی وجہ سے ہے جو میرے پروردگار نے مجھے سکھایا ہے۔ میں نے ان لوگوں کا مذہب نظر انداز کردیا ہے اور اختیار نہیں کیا ہے جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ لوگ آخرت کے بھی منکر ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حق تعالیٰ نے قید خانہ میں یہ حکمت رکھی کہ ان کا دل کافروں کی محبت سے لوٹا تو دل پر اللہ کا علم روشن ہوا ، چاہا کہ ان کو دین کی بات سنا دیں پیچھے تعبیر خواب کہیں اس واسطے تسلی…
Read the full tafseer →ف 1۔ حضرت یوسف نے چاہا کہ جب یہ میرے معتقد ہیں تو ان کو دعوت ایمان اول کرنا چاہیے تھا اس لیے اول اپنا نبی ہونا ایک معجزہ سے ثابت کیا آگے اثبات توحید ہے یعنی جب میرا کمال اور نبوت دلیل سے ثابت ہے تو جس طریق کو میں اختیار کروں اور اس کو صحیح بتلاوں وہ حق ہوگا سو وہ طریق یہ ہے۔
Read the full tafseer →قید خانہ کے ساتھیوں کا خواب اور اس کی تعبیر
۔ 48 دو نئے قیدی آتے ہیں جو بادشاہ کے خاص خدمت گار تھے اور دونوں اپنا اپنا اپنا خواب بیان کرتے ہیں۔ وہ خواب کیا تھا ؟ ایک نے کہا ” مجھے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ میں شراب کے لئے نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا مجھے ایسا دکھائی دیا ہے کہ سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور پرند ان کو کھا رہے ہیں۔ ہمیں بتلائو اس بات کا نتیجہ کیا نکلنے والا ہے ؟ “ ہم دیکھتے ہیں کہ تم بڑے نیک آدمی ہو۔ خواب سن کر حضرت یوسف (علیہ السلام) معلوم کرلیتے ہیں کہ ایک کی رہائی قریب ہے لیکن دوسرے کی موت قریب ہے۔ پس چاہتے ہیں کہ فرصت کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ کریں اور تعلیم حق سے انہیں آشنا…
Read the full tafseer →ذَٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِي رَبِّي (This is of the knowledge my Lord has given me). He is saying that this has nothing to do with the art of divination through computation of figures and lines (Um al-jafr and 'am al-raml - not Jafar and Ramal, soothsaying or any other occult act of conjuring). Instead of all that, this is what my Rabb tells me - and I pass on the information. And this was an open miracle which is proof positive of prophethood and a major cause of confidence.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
34. This discourse, which is the soul of this story, and is one of the best on the doctrine of Tauhid in the Quran itself, finds no place at all in the Bible and the Talmud. This is because they regard him merely as a wise and pious man and not as a Prophet. That is why Rev. Rodwell has, in regard to this passage, accused Muhammad (peace be upon him) of putting his own doctrine and conviction into the mouth of Joseph (peace be upon him). But the Quran not only puts forward and presents these two aspects of his life in a much better and clearer way but also presents him as a Prophet, who had…
Read the full tafseer →