Yusuf 12:36

Yusuf · from ayah 36

12:36

وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ ؕ— قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا ۚ— وَقَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ ؕ— نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ ۚ— اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ ۟وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجۡنَ فَتَيٰنِ‌ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّىۡۤ اَرٰٮنِىۡۤ اَعۡصِرُ خَمۡرًا‌ ۚ وَقَالَ الۡاٰخَرُ اِنِّىۡۤ اَرٰٮنِىۡۤ اَحۡمِلُ فَوۡقَ رَاۡسِىۡ خُبۡزًا تَاۡكُلُ الطَّيۡرُ مِنۡهُ‌ ؕ نَبِّئۡنَا بِتَاۡوِيۡلِهٖ ۚ اِنَّا نَرٰٮكَ مِنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ

اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی داخل زندان ہوئے۔ ایک نے ان میں سے کہا کہ (میں نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ شراب (کے لیے انگور) نچوڑ رہا ہوں۔ دوسرے نے کہا کہ (میں نے بھی خواب دیکھا ہے) میں یہ دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور جانور ان میں سے کھا رہے (ہیں تو) ہمیں ان کی تعبیر بتا دیجیئے کہ ہم تمہیں نیکوکار دیکھتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And there entered the prison with him two young men. One of them said, "Indeed, I have seen myself [in a dream] pressing wine." The other said, "Indeed, I have seen myself carrying upon my head [some] bread, from which the birds were eating. Inform us of its interpretation; indeed, we see you to be of those who do good."

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 5 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:36

قید خانہ میں دو غلام اور بھی اس کے ساتھ داخل ہوئے ایک روز اُن میں سے ایک نے اُس سے کہا "میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں شراب کشید کر رہا ہوں" دوسرے نے کہا "میں نے دیکھا کہ میرے سر پر روٹیاں رکھی ہیں اور پرندے ان کو کھا رہے ہیں" دونوں نے کہا "ہمیں اس کی تعبیر بتائیے، ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ایک نیک آدمی ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی داخل زندان ہوئے۔ ایک نے ان میں سے کہا کہ (میں نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ شراب (کے لیے انگور) نچوڑ رہا ہوں۔ دوسرے نے کہا کہ (میں نے بھی خواب دیکھا ہے) میں یہ دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور جانور ان میں سے کھا رہے (ہیں تو) ہمیں ان کی تعبیر بتا دیجیئے کہ ہم تمہیں نیکوکار دیکھتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس کے ساتھ ہی دو اور جوان بھی جیل خانے میں داخل ہوئے، ان میں سے ایک نے کہا کہ میں نے خواب میں اپنے آپ کو شراب نچوڑتے دیکھا ہے، اور دوسرے نے کہا میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں اپنے سر پر روٹی اٹھائے ہوئے ہوں جسے پرندے کھا رہے ہیں، ہمیں آپ اس کی تعبیر بتایئے، ہمیں تو آپ خوبیوں والے شخص دکھائی دیتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یوسف کے ساتھ دو اور نوجوان قید خانے میں داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک نے (ایک دن یوسف سے) کہا کہ : میں (خواب میں) اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں۔ اور دوسرے نے کہا کہ : میں (خواب میں) یوں دیکھتا ہوں کہ میں نے اپنے سر پر روٹی اٹھائی ہوئی ہے (اور) پرندے اس میں سے کھا رہے ہیں۔ ذرا ہمیں اس کی تعبیر بتاؤ، ہمیں تم نیک آدمی نظر آتے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اس کے ساتھ قیدخانہ میں دو جوان داخل ہوئے ان میں ایک بولا میں نے خواب میں دیکھا کہ شراب نچوڑتا ہوں اور دوسرا بولا میں نے خواب دیکھا کہ میرے سر پر کچھ روٹیاں ہیں جن میں سے پرند کھاتے ہیں، ہمیں اس کی تعبیر بتایے، بیشک ہم آپ کو نیکو کار دیکھتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ان کے ساتھ دو جوان بھی قید خانہ میں داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک نے کہا: میں نے اپنے آپ کو (خواب میں) دیکھا ہے کہ میں (انگور سے) شراب نچوڑ رہا ہوں، اور دوسرے نے کہا: میں نے اپنے آپ کو (خواب میں) دیکھا ہے کہ میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں، اس میں سے پرندے کھا رہے ہیں۔ (اے یوسف!) ہمیں اس کی تعبیر بتائیے، بیشک ہم آپ کو نیک لوگوں میں سے دیکھ رہے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور قید خانے میں اس کے ساتھ دو جوان داخل ہوئے، دونوں سے ایک نے کہا بیشک میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ کچھ شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا بیشک میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ میں اپنے سر پر کچھ روٹی اٹھائے ہوئے ہوں، جس سے پرندے کھا رہے ہیں، ہمیں اس کی تعبیر بتا۔ بیشک ہم تجھے احسان کرنے والوں سے دیکھتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یوسف کے ساتھ دو اور نوجوان بھی قیدخانہ میں داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ میں نے خواب دیکھا۔ کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں۔ اور دوسرے نے کہا کہ میں نے یہ خواب دیکھا ہے کہ میں نے سر پر روٹیاں اٹھائی ہوئی ہیں۔ جنہیں پرندے کھا رہے ہیں۔ (پھر دونوں کہنے لگے) ہمیں اس کی تعبیر بتاے ئے ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ایک نیک آدمی ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس کے ساتھ دو اور جوان بھی جیل خانہ میں داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ میں اپنے آپ کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں اپنے کو دیکھتا ہوں کہ میں اپنے سر پر روٹی اٹھائے ہوئے ہوں جس میں سے چڑیاں کھا رہی ہیں۔ آپ ہمیں اس کی تعبیر بتائیے۔ ہم آپ کو خوب کاروں میں سمجھتے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جیل میں ان کے ساتھ دو اور جوان بھی داخل ہوگئے ان میں سے ایک نے (ایک دن حضرت یوسف سے) کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں شراب کشید کر رہا ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ میں نے اپنے سر پر روٹیاں اٹھا رکھی ہیں، اور پرندے ان سے (نوچ نوچ کر) کھا رہے ہیں، آپ ہمیں اس کی تعبیر بتلا دیجئے، بیشک ہم آپ کو نیکوکاروں میں سے دیکھتے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور (یوسف ؑ کے) ساتھ جیل خانہ میں دو (اور) جوان داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ میں اپنے کو (خواب میں) کیا دیکھتا ہوں کہ میں (انگور کا) شیرہ نچوڑ رہا ہوں۔ اور دوسرے نے کہا کہ میں کیا دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر (خوان میں) روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اس میں سے (نوچ نوچ کر) کھا رہے ہیں۔ آپ ہم کو اس کی تعبیر بتائیے بیشک ہم تو آپ کو بزرگوں میں پاتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور داخل ہوئے آپ کے ساتھ جیل میں دو نوجوان ان میں سے ایک نے کہا کہ میں نے اپنے آپ کو خواب میں دیکھا ہے کہ میں شراب کشید کر رہا ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور پرندے اس میں سے کھا رہے ہیں ہمیں ان خوابوں کی تعبیر بتا دیجیے ہم آپ کو بہت نیکوکار دیکھتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی جیل میں داخل ہوئے۔ ایک نے ان میں سے کہا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ شراب کے لیے انگور نچوڑ رہا ہوں۔ دوسرے نے کہا کہ میں نے بھی خواب دیکھا ہے کہ میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور جانور ان میں سے کھا رہے ہیں تو آپ ہمیں ان کی تعبیر بتا دیجئے کہ ہم تمہیں نیکو کار دیکھتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And with Joseph two other slaves entered the prison. One of them said: "I saw myself pressing wine in a dream"; and the other said: "I saw myself carrying bread on my head of which the birds were eating." Both said: "Tell us what is its interpretation; for we consider you to be one of those who do good."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And two men entered the prison with him. One of them said, :I have seen myself (in dream) pressing wine. And the other said, :I saw myself carrying bread on my head of which the birds were eating. Let us know its interpretation. We see you are a man of good deeds.

— Muhammad Taqi Usmani

And two men entered the prison with him. One of them said, :I have seen myself (in dream) pressing wine. And the other said, :I saw myself carrying bread on my head of which the birds were eating. Let us know its interpretation. We see you are a man of good deeds.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And there entered with him two young men in the prison. One of them said: "Verily, I saw myself (in a dream) pressing wine." The other said: "Verily, I saw myself (in a dream) carrying bread on my head and birds were eating thereof." (They said): "Inform us of the interpretation of this. Verily, we think you are one of the doers of good."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And two young men went to prison with him. One of them said: I dreamed that I was pressing wine. The other said: I dreamed that I was carrying upon my head bread whereof the birds were eating. Announce unto us the interpretation, for we see thee of those good (at interpretation).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And there entered the prison with him two young men. One of them said, "Indeed, I have seen myself [in a dream] pressing wine." The other said, "Indeed, I have seen myself carrying upon my head [some] bread, from which the birds were eating. Inform us of its interpretation; indeed, we see you to be of those who do good."

— Saheeh International

Two young men were also sent to serve prison sentences (for different reasons). One of them said, "I had a dream in which I was brewing wine." The other one said, "In my dream I was carrying some bread on my head and birds were eating that bread." They asked Joseph if he would interpret their dreams. They said, "We believe you to be a righteous person."

— Muhammad Sarwar

And two youths entered the prison with him. One of them said: I saw myself pressing wine. And the other said: I saw myself carrying bread on my head, of which birds ate. Inform us of its interpretation; surely we see you to be of the doers of good.

— Muhammad Habib Shakir

And there entered with him into the prison two pages. One of them said: verlly I saw myself pressing wine; and the other said: verily I saw myself carrying upon my head bread whereof the birds were eating. declare unto us the interpretation thereof, verily we see thee of the well-doers.

— Abdul Majid Daryabadi

Now with him there came into the prison two young men. Said one of them: "I see myself (in a dream) pressing wine." said the other: "I see myself (in a dream) carrying bread on my head, and birds are eating, thereof." "Tell us" (they said) "The truth and meaning thereof: for we see thou art one that doth good (to all)."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:36

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

جیل خانہ میں بادشاہ کے باورچی اور ساقی سے ملاقات اتفاق سے جس روز حضرت یوسف ؑ کو جیل خانہ جانا پڑا اسی دن باشاہ کا ساقی اور نان بائی بھی کسی جرم میں جیل خانے بھیج دیئے گئے۔ ساقی کا نام بندار تھا اور باورچی کا نام بحلث تھا۔ ان پر الزام یہ تھا کہ انہوں نے کھانے پینے میں بادشاہ کو زہر دینے کی سازش کی تھی۔ قید خانے میں بھی نبی اللہ حضرت یوسف ؑ کی نیکیوں کی کافی شہرت تھی۔ سچائی، امانت داری، سخاوت، خوش خلقی، کثرت عبادت، اللہ ترسی، علم و عمل، تعبیر خواب، احسان و سلوک وغیرہ میں آپ مشہور ہوگئے تھے۔ جیل خانے کے قیدیوں کی بھلائی ان کی خیر خواہی ان سے مروت و سلوک ان کے ساتھ بھلائی اور احسان ان کی دلجوئی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یُوْسُف 31 غالبا اس وقت جب کہ حجرت یوسف ؑ قید کیے گئے ان کی عمر بیس اکیس سال سے زیادہ نہ ہوگی۔ تلمود میں بیان کیا گیا ہے کہ قید خانے سے چھوٹ کر جب وہ مصر کے فرمانروا ہوئے تو ان کی عمر تیس سال تھی، اور قرآن کہتا ہے کہ قید خانے میں وہ بضع سنین یعنی کئی سال رہے۔ بضع کا اطلاق عربی زبان میں دس تک کے عدد کے لیے ہوتا ہے۔ سورة یُوْسُف 32 یہ دو غلام جو قید خانہ میں حضرت یوسف ؑ کے ساتھ داخل ہوئے تھے ان کے متعلق بائیبل کی روایت ہے کہ ان میں سے ایک شاہ مصر کے ساقیوں کا سردار تھا اور دوسرا شاہی نان بائیوں کا افسر۔ تلمود کا بیان ہے کہ ان دونوں کو شاہ مصر نے اس قصور پر جیل بھیجا تھا کہ ایک دعوت کے موقع…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور یوسف ؑ کے ساتھ (یعنی اسی زمانے میں) اور بھی دو غلام (بادشاہ کے) جیل خانے میں داخل ہوئے (جن میں ایک ساقی تھا دوسرا روٹی پکانے والا باورچی اور ان کی قید کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے کھانے میں اور شراب میں زہر ملاکر بادشاہ کو دیا ہے ان کا مقدمہ زیر تحقیق تھا اس لئے قید کر دئیے گئے انہوں نے جو حضرت یوسف ؑ میں بزرگی کے آثار پائے تو) ان میں سے ایک نے (حضرت یوسف ؑ سے) کہا کہ میں اپنے آپ کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ (جیسے) شراب (بنانے کے لئے انگور کا شیرہ) نچوڑ رہا ہوں (اور بادشاہ کو وہ شراب پلا رہا ہوں) اور دوسرے نے کہا کہ میں اپنے کو اس طرح دیکھتا ہوں کہ (جیسے) اپنے سر پر روٹیاں لئے جاتا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَيٰنِ ۭ قَالَ اَحَدُهُمَآ اِنِّىْٓ اَرٰىنِيْٓ اَعْصِرُ خَمْرًا ۚ وَقَالَ الْاٰخَرُ اِنِّىْٓ اَرٰىنِيْٓ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِيْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّيْرُ مِنْهُ ۭ نَبِّئْنَا بِتَاْوِيْـلِهٖ ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ۔ " فتیان " یعنی دو نوجوان، قرآن میں یہ تصریح نہیں ہے کہ دو نوجوان کون تھے۔ تورات کی روایت باور کیجیے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک بادشاہ کا ساقی تھا دوسرا نان پر۔ اِنِّىْٓ اَرٰىنِيْٓ اَعْصِرُ خَمْرًا۔ عربی زبان میں یہ اسلوب موجود ہے کہ بعض اوقات کسی شے کو اس کی غایت کے اعتبار سے تعبیر کرتے ہیں۔ انگور نچوڑنے کا مقصد اگر اس سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

36۔ 1 یہ دونوں نوجوان شاہی دربار سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک شراب پلانے پر معمور تھا اور دوسرا نان بھائی تھا، کسی حرکت پر دونوں کو قید میں ڈال دیا تھا۔ حضرت یوسف ؑ اللہ کے پیغمبر تھے، دعوت و تبلیغ کے ساتھ ساتھ عبادت و ریاضت تقویٰ و راست بازی اور اخلاق و کردار کے لحاظ سے جیل میں دیگر تمام قیدیوں سے ممتاز تھے علاوہ ازیں خوابوں کی تعبیر کا خصوصی علم اور ملکہ اللہ نے ان کو عطا فرمایا تھا۔ ان دونوں نے خواب دیکھا تو قدرتی طور پر حضرت یوسف ؑ کی طرف انہوں نے رجوع کیا اور کہا ہمیں آپ محسنین میں سے نظر آتے ہیں، ہمیں ہمارے خوابوں کی تعبیر بتائیں۔ محسن کے ایک معنی بعض نے یہ بھی کئے ہیں کہ خواب کی تعبیر آپ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

24: روایات میں ہے کہ ان دونوں میں سے ایک بادشاہ کو شراب پلایا کرتا تھا۔ اور دوسرا اس کا باورچی تھا، اور ان پر الزام یہ تھا کہ انہوں نے بادشاہ کو زہر دینے کی کوشش کی ہے اس الزام میں ان پر مقدمہ چل رہا تھا جس کی وجہ سے انہیں قید خانے میں بھیجا گیا۔ حضرت یوسف ؑ سے ان کی ملاقات ہوئی اور انہوں نے اپنے خوابوں کی تعبیر ان سے پوچھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

عنقریب سیاق کلام میں یہ بات ظاہر ہوگی کہ یہ لوگ بادشاہ کے خواص اور خدام میں سے تھے۔ یہاں قرآن مجید میں حضرت یوسف کے زمانہ قید کے حالات تفصیل سے بیان نہیں کیے گئے ، لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ قید خانے میں آپ کی طہارت اخلاق اور نیکی اور سنجیدگی اور وقار اس قدر عام ہوگیا کہ تمام قیدیوں میں آپ ایک مثال بن گئے۔ تمام قیدیوں کے لیے معتمد اعلی بن گئے ، ان قیدیوں میں وہ لوگ بھی تھے جو شاہی عتاب کی وجہ سے قید خانے میں پڑے تھے۔ کیونکہ شاہی محل اور شاہی دربار میں دربار میں ان سے کچھ قصور سرزد ہوگئے ہوں گے۔ چناچہ ان پر عارضی طور پر عتاب وارد ہوگیا تھا۔ بہرحال قرآن واقعات قصے کو جلدی آگے بڑھانے کے لیے باقی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی اسی زمانہ میں دو جوان قیدی جیل خانہ میں لائے گئے۔ جن میں ایک بادشاہ مصر (ریان بن الولید) کا نانبائی اور دوسرا ساقی (شراب پلانے والا تھا) ۔ دونوں بادشاہ کو زہر دینے کے الزام میں ماخوذ تھے۔ قید خانہ میں یوسف (علیہ السلام) کی مروت و امانت، راست گوئی، حسن اخلاق، کثرت عبادت، معرفت تعبیر اور ہمدردی خلائق کا چرچا تھا۔ یہ دونوں قیدی حضرت یوسف سے بہت مانوس ہوگئے اور بڑی محبت کا اظہار کرنے لگے۔ ایک روز دونوں نے اپنا اپنا خواب بیان کیا۔ ساقی نے کہا میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ بادشاہ کو شراب پلا رہا ہوں۔ نانبائی نے کہا کہ میرے سر پر کئی ٹوکرے ہیں جس میں سے پرندے نوچ کر کھا رہے ہیں۔ یوسف (علیہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 36 وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَيٰنِ جب حضرت یوسف کو جیل بھیجا گیا تو اتفاقاً اسی موقع پر دو اور قیدی بھی آپ کے ساتھ جیل میں داخل کیے گئے۔ نَبِّئْنَا بِتَاْوِيْـلِهٖ ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ دوسرے قیدیوں سے بالکل مختلف ہیں۔ آپ اعلیٰ اخلاق اور قابل رشک کردار کے مالک ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ آپ ہمارے خوابوں کے سلسلے میں ضرور ہماری راہنمائی فرمائیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

36 دو قیدیوں کا اپنے اپنے خوابوں کی تعبیر پوچھنا :۔ اسی زمانہ میں دو اور قیدی قید خانہ میں ڈالے گئے، ان میں ایک شاہ مصر کا نانبائی تھا اور دوسرا اس کا ساقی یعنی شراب پلانے والا تھا۔ ان دونوں پر الزام یہ تھا کہ انہوں نے بادشاہ کو زہر دینے کی کوشش کی ہے اور بقول بعض مفسرین الزام یہ تھا کہ انہوں نے ایک دعوت کے موقعہ پر صفائی کا پورا خیال نہیں رکھا تھا۔ کچھ دنوں کے بعد ان دونوں نے ایک ہی رات الگ الگ خواب دیکھا اور چونکہ سیدنا یوسف پورے قیدخانہ میں اپنی پاک سیرت، بلندی اخلاق اور اعلیٰ کردار کی وجہ سے مشہور ہوچکے تھے۔ لہذا ان قیدیوں نے اپنے اپنے خواب کی تعبیر معلوم کرنے کے لیے انہی کی طرف رجوع کیا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

69۔ ان میں سے ایک بادشاہ کا ساقی تھا دوسرا شاہی نان پر۔ الزام دونوں پر یہ تھا کہ انہوں نے بادشاہ کو زہر دینا چاہا تھا۔ تحقیقات اسی جرم کی ہورہی تھی اور یہ لوگ جیل کی حوالات میں بند کردیئے گئے۔ توریت میں ہے :۔ ” بعد ان باتوں کے یوں ہوا کہ شاہ مصر کا ساقی اور نان پر اپنے خداوند شاہ مصر کے مجرم ہوئے اور فرعون اپنے دو سرداروں پر جن میں ایک ساقیوں کا دوسرا نان پزوں کا داروغہ تھا غصے ہوا اور اس نے ان کو نگہبانی کے لئے جلوداروں کے سردار کے گھر میں اسی جگہ جہاں یوسف بند تھا قید خانہ میں ڈالا۔ “ (پیدائش 40: 8۔ 11) معہ یعنی اسی زمانہ میں۔ یہ لازم نہیں کہ یہ دونوں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ ہی ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 36–42

آیت نمبر 36 تا 42 ترجمہ : چناچہ (یوسف کو) جیل میں ڈال دیا گیا اور اس کے ساتھ دو اور نوجوان بھی جیل خانہ میں داخل ہوئے جو بادشاہ کے غلام تھے، ایک ان میں سے بادشاہ کا ساقی تھا اور دوسرا شاہی مطبخ کا ذمہ دار، ان دونوں کو معلوم ہوا کہ (یوسف) خوابوں کی تعبیر بتاتے ہیں تو دونوں نے مشورہ کیا کہ ہم اس کو ضرور آزمائیں گے، ان میں سے ایک نے جو کہ ساقی تھا کہا میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں انگور نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے مطبخ کے ذمہ دار نے کہا میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اس میں سے پرندے کھا رہے ہیں، ہمیں آپ اس کی تعبیر بتائیے، ہم آپ کو نیک آدمی سمجھتے ہیں، (یوسف (علیہ السلام) نے) ان کو یہ بتاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ودخل معہ السجن قتین اور یوسف کے ساتھ قیدخانہ میں دو جوان اور بھی داخل ہوئے تھے (ان کو بھی قید کردیا گیا تھا) یہ دونوں ریان بن ولید بن ثروان شاہ مصر کے غلام تھے ‘ ایک باورچی یعنی منصرم باورچی خانہ تھا اور دوسرا ساقی یعنی منصرم آبدار خانہ۔ بادشاہ نے ناراض ہو کر ان کو بھی قید کردیا تھا اور اتفاقاً ان کی قید بھی حضرت یوسف ہی کے ساتھ ہوئی تھی۔ مَعَ کے لفظ سے یہی معلوم ہو رہا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ کچھ لوگوں نے بادشاہ کو ہلاک کرنے کی سازش کی اور بادشاہ کو زہر دینے کیلئے شاہی باورچی کو مالی لالچ دے کر اپنے ساتھ ملا لیا۔ اقرار کے بعد ساقی نے تو سازش میں شریک ہونے سے انکار کردیا اور باورچی نے رشوت لے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(36) اور حضرت یوسف ؑ کے قید کے زمانہ میں یعنی ان کے جانے کے پانچ سال بعد بادشاہ کے دو غلام بھی جیل میں داخل ہوئے، ایک ان میں سے بادشاہ کا ساقی تھا اور دوسرا نانبائی، بادشا ان دونوں پر ناراض ہوا اور قید میں بھیج دیا ان میں سے ساقی نے حضرت یوسف ؑ سے کہا کہ میں نے خود کو خواب میں انگور کا شیرہ نچوڑتے ہوئے دیکھا ہے کہ بادشاہ کو شراب بنا کر پلا رہا ہوں، اور تفصیل خواب کی یہ ہے گویا کہ میں انگوروں کے باغ میں داخل ہوا اور وہاں ایک عمدہ انگوروں کی بیل پر نظر پڑی جس کی تین شاخیں ہیں اور ایک شاخ پر انگوروں کے خوشے لٹک رہے ہیں تو میں اس سے انگور توڑ کر نچوڑ رہا ہوں اور انھیں بادشاہ کو پلا رہا ہوں۔ یہ سن…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَيٰنِ۔۔ : ”فَتَيٰنِ“ ”فَتًی“ کی تثنیہ ہے، دو نوجوان، یہ لفظ عام طور پر غلام یا خادم پر بھی بول لیا جاتا ہے۔ یہ دونوں بادشاہ کے خاص خادم تھے، بہت جلد دونوں یوسف ؑ کے حسن اخلاق سے متاثر اور ان سے مانوس ہوگئے۔ یوسف ؑ کے ہر ایک کی بےلوث خدمت کرنے نے ان پر یہ حقیقت واضح کردی کہ یہ بندہ ہر ایک کی خیر خواہی اور خدمت کسی بھی معاوضے کی امید یا کسی طمع کے بغیر کرتا ہے، اسی کا نام احسان ہے اور ایسا کرنے والا محسن ہوتا ہے، جیسا کہ بنی اسرائیل نے قارون سے کہا تھا : (وَاَحْسِنْ كَمَآ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَيْكَ) [ القصص : 77 ] ”اور احسان کر جیسے اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے۔“…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 36–38

آیت نمبر 36 تا 38 ودخل معہ السجن فتیٰن۔ فتیٰن کا تثینہ ہے : اور یہ یائی ہے اور عربوں کا قول : الفتوشاذ ہے۔ وہب اور دیگر لوگوں نے کہا : حضرت یوسف (علیہ السلام) کو قید کرکے قید خانے کی طرف گدھے پر سوار کرکے لایا گیا اور کہا گیا : ھذا جزاء من یعصی سیدتہ یہ سزا ہے اس کی جس نے اپنی مالکن کی نافرمانی کی، جبکہ آپ فرما رہے تھے : یہ آگ کے لباس، تارکول کی قمیض، پیپ کے پینے اور زقوم کھانے کی نسبت زیادہ آسان ہے۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) قید خانہ پہنچے تو آپ نے اس میں کچھ ایسے لوگ پائے جن کی امیدیں ختم ہوچکی تھیں اور ان کی آزمائش وابتلا انتہائی سخت ہوچکی تھی تو آپ نے ان سے فرمایا : صبر کرو اور خوش رہو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

حضرت یوسف (علیہ السلام) کو تعبیر خواب علم دیا گیا :۔ 1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ودخل معہ السجن فتین “ کے بارے میں فرمایا دو آدمیوں کو قید کیا گیا ایک ان میں سے بادشاہ کے مطبخ کا نگران تھا اور دوسرا اس کو شراب پلانے والا تھا۔ بادشاہ کے دوغلام جیل میں تھے : 2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم (رح) نے محمد بن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ودخل معہ السجن فتین “ کے بارے میں فرمایا بڑے بادشاہ ریان بن ولید کے یہ دونوں غلام تھے ان میں سے ایک اس کی شراب پلانے پر مقرر تھا اور دوسرا اس کے بعض دوسرے کاموں پر (مقرر تھا) بادشاہ ان دونوں پر ناراض ہوگیا ان میں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَدَخَلَ : اور داخل ہوئے ] [ مَعَهُ : ان (علیہ السلام) کے ساتھ ] [ السِّجْنَ : قید خانہ میں ] [ فَتَيٰنِ : دو نوجون ] [ قَالَ : کہا ] [ اَحَدُهُمَآ : دونوں کے ایک نے ] [ انىٓ: کہ میں ] [اَرٰىنِيْٓ : دیکھتا ہوں خود کو ] [اَعْصِرُ : (کہ) میں نچوڑتا ہوں ] [ خَمْرًا : شراب ] [ وَقَالَ : اور کہا ] [ الْاٰخَرُ : دوسرے نے ] [ انىٓ : کہ میں ] [اَرٰىنِيْٓ: دیکھتا ہوں خود کو ] [اَحْمِلُ : (کہ) میں اٹھاتا ہوں ] [فَوْقَ رَاْسِيْ : اپنے سر کے اوپر ] [ خُبْزًا : کچھ روٹی ] [ تَاْكُلُ : کھاتے ہیں ] [ الطَّيْرُ : پرندے ] [ مِنْهُ : اس میں سے ] [ نَبِئْنَا : تو خبردے ہم کو ] [ بِتَاْوِيْـلِهٖ : اس کے انجام…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 34–36

جیل میں دو قیدیوں کا خواب دیکھنا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) سے تعبیر دینے کی درخواست کرنا جیسا کہ اوپر معلوم ہوا عزیز مصر کے مشورہ دینے والوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جیل میں بھجوا دیا۔ اسی موقع پر دو جوان بھی جیل میں داخل ہوئے تھے اور ان کے علاوہ پہلے سے بھی قیدی موجود تھے سیدنا حضرت یوسف (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے نبی تھے ‘ عبادت گزار تھے خوش اخلاق تھے قیدیوں کے ساتھ اچھی طرح پیش آتے تھے صالحین کے چہرے پر تو نور ہوتا ہی ہے پھر یہاں تو نور نبوت بھی تھا اور ظاہری حسن و جمال بھی بےمثال تھا قیدی لوگ دلدادہ ہوگئے یہاں تک کہ جیلر بھی بہت زیادہ متاثر ہوا اور کہنے لگا کہ اگر میں خود مختار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 36–42

قصہ یوسف (علیہ السلام) باساقی و خباز درجیل خانہ بر تبلیغ و دعوت اظہار نبوت قال اللہ تعالیٰ ودخل معہ السجن فتین .... الیٰ .... فلبث فی السجن یضع سنین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یوسف (علیہ السلام) کی دعا رب السجن احب الی مما یدعونی الیہ اور اس کی قبولیت و استجابت کا ذکر کیا ہے دعا میں یہ درخواست تھی کہ اے پروردگار ایسے زنانخانہ اور محل سرائے سے تو جیل بہتر ہے بارگاہ خداوندی میں یوسف علیہا لسلام کی دعا بلفظہ قول ہوئی کہ زنان خانہ سے نکال کر جیل خانہ بھیج دئیے گئے اب وقت آیا کہ ولنعلمہ من تاویل الاحادیث۔ کا ظہور ہو کہ جیل خانہ میں پہنچ کر لوگوں کے خوابوں کی تعبیریں دیں اور ان کو توحید اور اسلام کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

33:۔ یہ ساتواں حال ہے۔ اسی اثناء میں شاہ مصر ریان بن ولید اپنے باورچی اور ساقی پر ناراض ہوگیا۔ وجہ یہ تھی کہ شاہ مصر کے دشمنوں نے اسے ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا اور شاہ کے باورچی اور ساقی کو رشوت دے کر کھانے اور شراب میں زہر ملا کر شاہ کو پلانے پر آمادہ کرلیا۔ بعد میں ساقی نادم ہوا اور اس نے زہر دینے سے انکار کردیا لیکن باورچی اپنے عہد پر قائم رہا۔ جب کھانا اور شراب شاہ کے سامنے حاضر کیا گیا تو ساقی نے شاہ سے کہا کہ یہ کھانا مت کھائیے کیونکہ وہ زہر آلود ہے۔ اور باورچی نے شراب کے بارے میں یہی الفاظ کہہ دئیے۔ شاہ نے دونوں کو جیل بھیج کر تحقیقات کا حکم دے یا۔ ساقی نے خواب دیکھا کہ وہ انگور نچوڑ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 36–38

تبدیلی رائے گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ عزیز مصر اور اس کی بیوی کے خاندان پر یوسف (علیہ السلام) کی عصمت اور بنلد کردار ی کی بہت سی نشانیاں ظاہر ہوائیں جس کی بناء پر انہیں یقین ہوگیا کہ قمیص پھٹنے کے واقعہ میں قصور زلیخا کا ہے ، اور یوسف (علیہ السلام) بالکل بےگناہ ہیں اس کے باوجود انہوں نے فیصلہ کیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو کچھ عرصہ کے لئے قد کردیا جائے۔ اس مقام پر ثم بدالھم کے ال فاظ آئے ہیں۔ بدا کے دو معنی آتے ہیں یعنی ظاہر کرنا اور رائے کا بدلنا یہاں پر دونوں معنی مراد لئے جاسکتے ہیں۔ ان پر حقیقت حال بھی پوری طرح ظاہر وہ گئی کہ یوسف (علیہ السلام) بےگناہ ہیں مگر اس کے باوجود ان کی رائے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَدَخَلَ مَعَہُ السِّجْنَ فَتَيٰنِ۝ 0ۭ قَالَ اَحَدُہُمَآ اِنِّىْٓ اَرٰىنِيْٓ اَعْصِرُ خَمْرًا۝ 0ۚ وَقَالَ الْاٰخَرُ اِنِّىْٓ اَرٰىنِيْٓ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِيْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّيْرُ مِنْہُ۝ 0ۭ نَبِّئْنَا بِتَاْوِيْـلِہٖ۝ 0ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِـنِيْنَ۝ 36 فتی الفَتَى الطّريُّ من الشّباب، والأنثی فَتَاةٌ ، والمصدر فَتَاءٌ ، ويكنّى بهما عن العبد والأمة . قال تعالی: تُراوِدُ فَتاها عَنْ نَفْسِهِ [يوسف/ 30] (ت ی ) الفتیٰ کے معنی نوجوان کے ہیں اس کی مونث فتاۃ اور مصدر فتاء ہے بعدہ کنایہ کے طور پر یہ دونوں لفظ ( فتی اور فتاۃ ) غلام اور لونڈی کے معنی میں استعمال ہونے لگے ہیں ۔ قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 36–44

3 ؎ اصلی خواب میں جس کو رویا صادقہ کہتے ہیں انسان کی روح کو عالم غیب کی چیزیں جو ہنوز عالم ظہور میں نہیں آئیں دکھائی دے جاتی ہیں لیکن قوت متوہمہ ان معانی مجردہ کو ان کے مناسب اشکال میں ڈھال کر دکھاتی ہے پھر اس کے حل کا نام تعبیر ہے۔ یہ کام اسی سے عمدہ بن سکتا ہے جس کو عالم قدس سے مناسبت ہوتی ہے اور اس مناسبت کے آثار چہرے پر بھی نمودار ہوتے ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے نورانی چہرے سے انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ بھی انہیں مقدس لوگوں میں سے ہے اس لئے ان سے تعبیر پوچھی 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَدَخَلَ مَعَہُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ ط قَالَ اَحَدُھُمَآ اِنِّیْ ٓ اَرٰنِیْ ٓ اَعْصِرُخَمْرًا ج وَقَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْ ٓ اَرٰنِیْ ٓ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْکُلُ الطَّیْرُمِنْہُ ط نَبِّئْنَا بِتَاوِیْلِہٖ ج اِنَّا نَرٰکَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 36) ( اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ دو اور جوان بھی جیل خانہ میں داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ میں اپنے آپ کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں جس میں سے پرندے کھا رہے ہیں، آپ ہمیں اس کی تعبیر بتایئے، بیشک ہم آپ کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 36–37

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا بےبسی اور بےچارگی کے عالم میں بدکاری کے مقابلے میں جیل کو ترجیح دینا۔ حقائق جاننے اور عزیز مصر کی بیوی کے اعتراف جرم کے باوجودمصر کا حکمران طبقہ اور زعماء اپنی عورتوں کے ہاتھوں اس قدر مجبورہوا کہ انہوں نے نسوانی رائے عامہ کے خوف سے حضرت یوسف (علیہ السلام) جیسے عظیم کردار کے حامل، شرم وحیا کے پیکر، دیانت و امانت کے امین اور احساس ذمہ داری کے نگہبان کو جیل کی کال کوٹھڑی میں بند کردیا۔ جس کے بارے میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ان لوگوں نے سب حقائق جاننے اور دیکھنے کے باوجود ایک مدت تک حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جیل میں بند…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جیل کے دو نوجوانوں کے خواب : 36: وَدَخَلَ مَعَہُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ (اور یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ قید خانہ میں دو نوجوان داخل ہوئے) یہ بادشاہ کے غلام تھے۔ ایک اس کا خباز اور دوسرا ساقی۔ ان پر بادشاہ کو زہردینے کا الزام تھا۔ وہ بھی قید خانہ میں اسی گھڑی لائے گئے جب یوسف (علیہ السلام) کو داخل کیا گیا کیونکہ معؔ کا کلمہ صحبت کو ظاہر کرتا ہے جیسا کہو خرجت مع الامیر اس سے مقصد امیر کے ساتھ مل کر جانا ہے۔ پس ان کا قید میں داخلہ آپ کے متصل ہوناضروری ہے۔ قَالَ اَحَدُھُمَآ (ان میں سے ایک نے کہا) ساقی نے کہا اِنّیْ اَرٰنِیْ (بیشک میں نے اپنے بارے میں دیکھا) اَعْصِرُ خَمْرًا (کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

بادشاہ کے ساقی اور خانسامہ کا واقعہ تفسیر : 36۔” ودخل معہ السحبن فتیان “ یہ مصر کے بڑے بادشاہ ریان بن ولید بن شروان کے دو نوجوان تھے ، ایک اس کی روٹیاں پکانے والا اور خانسامہ تھا اور دوسرا اس کا ساقی تھا۔ بادشاہ کسی بات سے ان دونوں پر غصہ ہوا اور ان کو قید کرا دیا ۔ اس ناراضگی کی وجہ یہ تھی کہ مصر کی ایک جماعت نے بادشاہ کو مارنے کا پروگرام بنایا تو ان دونوں سے مال کا وعدہ کیا کہ یہ بادشاہ کے کھانے اور شراب میں زہر ملا دیں ۔ انہوں نے ابتداء قبول کرلیا ، پھر ساقی نے انکار کردیا اور خانسامہ نے رشوت قبول کر کے کھانے میں زہر ملا دیا ۔ جب کھانا لایا گیا تو ساقی کہنے لگا اے بادشاہ ! کھانا نہ کھانا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

36۔ یہاں اتنی بات محذوف ہے کہ جب عزیز مصر کی صلاح یوسف (علیہ السلام) کے قید کرنے پر جم گئی اور یوسف (علیہ السلام) قید خانہ میں داخل ہوئے تو دو شخص اور بھی بادشاہ مصر کے دربار کے ان کے ہمراہ قید ہوئے ایک تو بادشاہ کا ساقی تھا آب دار خانہ شاہی کا اہتمام اس کے ہاتھ میں تھا۔ بادشاہ کو شراب پلانے پر مقرر تھا اور دوسرا باورچی خانہ کا داروغہ تھا۔ شاہی کھانے کا انتظام اس کے سپرد تھا ان دونوں کو اہل مصر نے اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ بادشاہ کو شراب اور کھانے میں زہر دے دیں اور اس کی رشوت میں جس قدر روپیہ چاہیں ہم سے لے لیں ایک روز بادشاہ کو کھانے کے وقت کچھ شبہ پیدا ہوا دونوں سے دریافت کیا یہ کھانا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

ودخل معہ السجن فتین) ” اور ان کے ساتھ دو اور جون بھی قید خانے میں داخل ہوئے۔ “ جب یوسف قید خانے میں ڈالے گئے تو ان کے ساتھ دو اور نوجوان بھی قید کئے گئے۔ ان دونوں نوجوان قیدیوں نے خواب دیکھا، انہوں نے تعبیر پوچھنے کی غرض سے اپنا اپنا خواب یوسف کو سنایا (قال احمدھما انی ارینی اعصر خمرا وقال الاخر انی ارئنی احمل فوق راسی خبزا) ” ان میں سے ایک نے کہا، میں دیکھتا ہوں کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا، میں دیکھتا ہوں کہ میں اپنے سر پر روٹی اٹھا رہا ہوں “ اور یہ روٹی (تاکل الطیرمنہ) ” پرندے کھا رہے ہیں۔ “ (نبئنا بتاویلہ) ” ہمیں اس کی تعبیر بتا دیجئے۔ ‘ یعنی اس کی تفسیر سے ہمیں آگاہ کیجیے کہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے قال احدھما انی ارانی اعصرخموا ً ۔ ایک روز ان میں سے ایک نے کہا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں شراب کشید کر رہا ہوں ایک قول کے مطابق فقرے میں کچھ الفاظ پوشیدہ ہیں یعنی عصیر العنیب الخمر شراب تیار کرنے کے لیے انگور کا رس اس کے لیے مائع شراب میں کشید کا عمل نہیں ہوسکتا ۔ ایک قول کے مطابق میں ایسی چیز کشید کررہا ہوں جو آخر کار شراب میں تبدیل ہوجائے گی ۔ اس چیز یعنی رس کو خمر کے نام سے موسوم کردیا ۔ اگرچہ فی الحال وہ شراب نہیں تھی ۔ یہ اطلاق مجاز کے طور پر کیا گیا ہے انگور سے شراب کی کشید اس طرح بھی درست ہے کہ انگور کو مٹکے میں ڈال کر رکھ دیاجائے یہاں تک کہ اس میں ابا ل آ جائے اور جوش…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

61۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے جیل میں دوساتھیوں کا ذکر وبیان : ان میں سے ایک بادشاہ کا ساقی تھا اور دوسرا اس کے نانبائیوں کا انچارج۔ ان دونوں پر بادشاہ کو زہر کھلانے کا الزام تھا۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل۔ جامع البیان وغیرہ) سو جیل کے ان دونوں ساتھیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پاکیزہ اور مقدس شخصیت سے متاثر ہوکر ان کے سامنے اپنے اپنے خواب پیش کیے اور ان سے ان کی تعبیر پوچھی۔ ان میں سے ایک نے یہ خواب دیکھا تھا کہ وہ انگورنچوڑ رہا ہے اور دوسرے نے یہ کہ اس نے اپنے سر پر روٹیوں کا ایک ٹوکرا اٹھا رکھا ہے جس سے پرندے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔ ان دونوں کے اپنے یہ خواب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–57

انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔ تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 36–42

آیات 36 تا 42 اسرار و معارف حضرت جب جیل میں پہنچے تو آپ کا شہرہ بھی پہنچا اور قید میں مصائب میں مبتلاء لوگوں کو بھی ذوق زیارت ہوا تو آپ ان میں اپنے کمالات بیان فرماتے اور انھیں اپنی طرف متوجہ فرماتے کہ انبیاء پر تو یہ فرض ہوتا ہے کہ اپنے کمالات نبوت کا اظہار فرما کر لوگوں کو راہ حق کی طرف دعوت دیں۔ اہل اللہ کا اظہار کمالات اور ولی اللہ بھی اگر اگر اظہار فرماتے ہیں تو ان کی غرض یہی ہوتی ہے ۔ کہ صاحب حال سے اپنی شہرت کی طلب کی توقع رکھنا درست نہیں۔ صاحب مظہری (رح) نے یہاں حضرت مجددالف ثانی (رح) کی مثال دی ہے کہ آپ اظہار فرماتے تھے تو اللہ کی بیشمار مخلوق نے استفادہ کیا جبکہ ان کے خلاف باتیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 ۔ ان میں سے ایک بادشاہ کا ساقی یعنی شراب قلقہ تھا۔ اور دوسرا نائبائی۔ مگر اس نے خلاف ِ عادت دیکھا کہ جن اور سر سے نوچتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بادشاہ کو زہر دینے کی تہمت میں قید ہوئے تھے آخر ننابائی پر ثابت ہوئی۔ (کذافی الموضح) ۔ 1 ۔ یا تو خواب کی تعبیر خوب کرتا ہے یا یہ کہ تو قیدیوں سے احسان (نیک سلوک) کرنے والا ہے۔ لفظ محسن کے یہ دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(12:36) ارنی۔ میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں۔ اری رؤیۃ سے مضارع واحد متکلم نون وقایہ ی واحد متکلم کی ضمیر۔ اعصر۔ میں نچوڑتا ہوں عصر یعصر (ضرب) عصر سے جس کے معنی نچوڑنے کے ہیں۔ نبئنا۔ ہمیں آگاہ کر۔ تبنئۃ (تفعیل) مصدر۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم امر واحد مذکر حاضر۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 36–40

لغات القرآن آیت نمبر 36 تا 40 دخل داخل ہوا فتین (فتی) دونوجوان احدھما ان دونوں میں سے ایک اعصر میں نچوڑ رہا ہوں خمر شراب احمل میں اٹھاتا ہوں راسی اپنا سر خبز روٹی تاکل الطیر پرندے کھا رہے ہیں نبئنا ہمیں بتا دے تاویلہ اس کی تعبیر لا یا تیکما تم دونوں کے پاس نہیں آئے گا ترزقنہ جو رقز تمہیں دیا جاتا ہے نبات میں بتا دوں گا علمنی اس نے مجھے سکھایا ترکت میں نے چھوڑا ملۃ ملت، طریقہ یصاحبی اے میرے دونوں ساتھیوں ارباب (رب) ، مختلف پروردگار القھار زبردست اسماء نام سمیتموا تم نے نام رکھے سلطن کوئی دلیل، کوئی سند، ایاہ اسی کی القیم سیدھا، سچا تشریح : آیت نمبر 36 تا 40 بے گناہی کے باوجود جب حضرت یوسف کو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

ساقی اور نانبائی کا خواب جب یوسف (علیہ السلام) قید خانہ میں داخل ہوئے تو دو شخص اور بھی بادشاہ مصر کے دربار کے ان کے ہمراہ قید ہوئے۔ ایک تو بادشاہ کا ساقی تھا بادشاہ کو شراب پلانے پر مقرر تھا اور دوسرا باورچی خانہ کا داروغہ تھا شاہی کھانے کا انتظام اس کے سپرد تھا۔ بادشاہ کے دل میں ان دونوں کی طرف سے شک آگیا تھا اور یہ خیال تھا کہ یہ زہر دیں گے۔ اسی لئے ان کو قید کا حکم کیا تھا۔ یوسف (علیہ السلام) کا قاعدہ یہ تھا کہ قید خانہ میں قیدیوں کی خبر گیری کیا کرتے تھے اور ان کے خوابوں کی تعبیر بتایا کرتے تھے یہاں تک کہ ایک دن ان دونوں قیدیوں نے بھی خواب دیکھا۔ ساقی نے تو یہ خواب دیکھا کہ میں انگور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 36–56

[17] یعنی عملاً یوسف (علیہ السلام) کو ملک کے سیاہ وسفید کا مالک بنادیا۔ تورات میں ہے کہ بادشاہ نے اپنے درباریوں سے کہا کہ ہم ایسا آدمی کہاں پاسکتے ہیں جیسا یہ ہے اور جس میں اللہ کی روح بول رہی ہے۔ پھر یوسف (علیہ السلام) سے کہا، '' دیکھ میں نے ساری زمین مصر پر تجھے حکومت بخشی۔ فقط ایک تخت نشینی ہی میں میں تجھ سے اوپر رہوں گا۔ '' اور اس نے اپنی انگوٹھی اتار کر یوسف (علیہ السلام) کو پہنا دی اور گلے میں سونے کا طوق ڈالا اور حکم دیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو صاحب مملکت کے لقب سے پکارا جائے۔ (پیدائش 37: 41)

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 35–37

مسلمان قیدی کے فرائض دینی : (ف 1) اللہ کے نیک بندے جہاں کہیں ہوں اپنے فرائض تبلیغ سے غافل نہیں رہتے ، اور اپنے کردار وعمل سے یہ ثابت کرتے رہتے ہیں کہ ہم نیکی کے داعی ، اور بھلائی کے مناء ہیں ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) جیل میں بھیجدئیے گئے کیونکہ انہوں نے عزیز ، مصر کی محبت کو ٹھکرا دیا تھا اور ہوائے نفس کی مخالفت کی تھی ان کے ساتھ دو اور قیدی تھے ، انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شراب کو نچوڑ رہا ہے ، اور دوسرے کے سر پر روٹیاں ہیں ۔ جنہیں پرندے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو نیک و صالح سمجھ کر تعبیر دریافت کی ، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ میں ضرور تعبیر بتلاؤں گا پہلے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

36 ۔ اور یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ اتفاقا ً اور بھی دو نوجوان قید خانے میں داخل ہوئے ان دونوں میں سے ایک نے کہا کہ میں اپنے کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں انگور سے شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں اپنے کو دیکھتا ہوں کہ میں نے اپنے سر پر روٹیاں اٹھا رکھی ہیں اور ان روٹیوں میں سے پرندے نوچ نوچ کر رکھا رہے ہیں ۔ اے یوسف (علیہ السلام) ! ہم کو ہمارے خواب کی تعبیر بتا دیجئے ہم آپ کو نیکو کاروں میں دیکھتے ہیں۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جیل خانے بھیجا گیا تو اسی زمانے میں دو اور نوجوان جو بادشاہ کے غلام تھے وہ بھی ایک الزام کے ماتحت جیل خانے میں داخل کئے گئے ان دونوں میں سے ایک تو بادشاہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 33–36

ف 2۔ یوسف (علیہ السلام) کا یہ فرمانا الاتصرف عنی۔ منافی عصمت کے نہیں کیونکہ یہ عصمت بھی تو بدولت حفاظت خداوندی ہی کے ہے چونکہ انبیاء کی نظر اصلی موثر کی طرف ہوتی ہے اس لیے ان کو اپنی عصمت پر اعتماد اور ناز نہیں ہوتا اور یوسف کا یہ کہنا الاتصرف مقصود اس سے یہ ہے کہ اصرف عنی اس لیے اس کے بعد فاستجاب فرمایا اور اس استجابت کا بیان خود قرآن میں ہے فصرف عنہ۔ فائدہ۔ سجن میں جانا جزو استجابت نہیں جیسا کہ مشہور ہے کہ قید کی دعا کی اس لیے قید میں گئے کیونکہ قید کی درخواست تو نہیں کی صرف فعل قبیح کا سجن سے اقبح ہونا بیان کیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ دو مزید آدمی بھی داخل ہوئے ان کا بیان ۔ 47 اتفاق یہ ہوا کہ جب عزیز مصر نے یوسف کو زندان میں بھجوایا تو اس روز یا اس وقت دو آدمی اور بھی کسی جرم میں جیل خانہ میں بھجوائے گئے ان میں سے ایک بادشاہ کا ساقی تھا اور دوسرا نان پڑ۔ الزام دونوں پر یہ تھا کہ انہوں نے بادشاہ کو زہر دینا چاہا تھا۔ تحقیقات اس جرم کی ہو رہی تھیں اور یہ لوگ جیل کے اندر حوالات میں بند کردیئے گئے چناچہ تورات میں ہے کہ ” بعد ان باتوں کے یوں ہوا کہ شاہ مصر کا ساقی اور نان پر۔ اپنے خداوند شاہ مصر کے مجرم ہوئے اور فرعون اپنے دو سرداروں پر جن میں ایک ساقیوں کا اور دوسرا نان پزوں کا داروغہ تھا غصے ہوا اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Mentioned in the verses cited above is a supplementary event relating to the story of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) . It has been repeatedly stressed that the Holy Qur’ an is no book of history, or of stories and tales. When a story or historical event is mentioned in it, the sole objective is to pro-vide some lesson, good counsel or crucial guidance on various facets of human life. In the entire Qur’ an and throughout the events relating to many prophets, it is the story of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) alone which has been described by the Qur’ an continuously - otherwise, it has…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

31. At the time when Prophet Joseph was sent to prison, he probably was about twenty years old. This has been inferred from two statements in the Quran and the Talmud. The Quran (Ayat 42) says that....he remained in the prison for a decade or so and the Talmud says that ...Joseph was thirty years old when he was elevated to his honorable and trustworthy position. 32. One of the two prisoners, according to the Bible, was the chief of the butlers of the king of Egypt, and the other the chief of the bakers. And according to the Talmud, they were condemned to the prison because during a feast…

Read the full tafseer →