Yusuf 12:35

Yusuf · from ayah 35

12:35

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰی حِیْنٍ ۟۠ثُمَّ بَدَا لَهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا رَاَوُا الۡاٰيٰتِ لَيَسۡجُنُـنَّهٗ حَتّٰى حِيۡنٍ

پھر باوجود اس کے کہ وہ لوگ نشان دیکھ چکے تھے ان کی رائے یہی ٹھہری کہ کچھ عرصہ کے لیے ان کو قید ہی کردیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then it appeared to them after they had seen the signs that al-'Azeez should surely imprison him for a time.

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 4 of surah · Ruku 14 of juzع

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:35

پھر ان لوگوں کو یہ سوجھی کہ ایک مدت کے لیے اسے قید کر دیں حالانکہ وہ (اس کی پاکدامنی اور خود اپنی عورتوں کے برے اطوار کی) صریح نشانیاں دیکھ چکے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر باوجود اس کے کہ وہ لوگ نشان دیکھ چکے تھے ان کی رائے یہی ٹھہری کہ کچھ عرصہ کے لیے ان کو قید ہی کردیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر ان تمام نشانیوں کے دیکھ لینے کے بعد بھی انہیں یہی مصلحت معلوم ہوئی کہ یوسف کو کچھ مدت کے لئے قید خانہ میں رکھیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر ان لوگوں نے (یوسف کی پاکدامنی کی) بہت سی نشانیاں دیکھ لینے کے بعد بھی مناسب یہی سمجھا کہ انہیں ایک مدت تک قید خانے بھیج دیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر سب کچھ نشانیاں دیکھ دکھا کر پچھلی مت انہیں یہی آئی کہ ضرور ایک مدت تک اسے قیدخانہ میں ڈالیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر انہیں (یوسف علیہ السلام کی پاک بازی کی) نشانیاں دیکھ لینے کے بعد بھی یہی مناسب معلوم ہوا کہ اسے ایک مدت تک قید کر دیں (تاکہ عوام میں اس واقعہ کا چرچا ختم ہو جائے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر اس کے بعد کہ وہ کئی نشانیاں دیکھ چکے، ان کے سامنے یہ بات آئی کہ اسے ایک وقت تک ضرور ہی قید کردیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(یوسف کی بریت اور عورتوں کی بد اطواری کے) کئی دلائل مل جانے کے بعد بھی ان لوگوں نے یہی مناسب سمجھا کہ یوسف کچھ مدت کے لئے قید میں ڈال دیا جائے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر نشانیاں دیکھ چکنے کے بعد انہیں مصلحت یہی معلوم ہوئی کہ اس کو کچھ مدت کے لیے قید کردیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(یوسف کی پاک دامنی اور ان عورتوں کی فریب کاریوں کا) مختلف نشانیاں دیکھ لینے کے بعد بھی، ان لوگوں کو یہی سوجھی کہ وہ جیل میں ڈال دیں اس (پتلئہ عفت و پاکدامنی) کو، ایک مدت تک کے لئے،

— مولانا اسحاق مدنی

پھر ان لوگوں کو بعد اس کے کہ وہ ثبوت دیکھ چکے تھے یہی مصلحت معلوم ہوئی کہ (یوسف ؑ کو) ایک مدت کے لئے قید میں رکھیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر ان لوگوں کو یہ بات سوجھی ساری نشانیاں دیکھ لینے کے بعد کہ اس کو کچھ عرصہ کے لیے جیل میں ڈال دیا جائے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر باوجود اس کے کہ وہ لوگ نشان دیکھ چکے تھے، ان کی رائے یہی ٹھہری کہ کچھ عرصہ کے لیے ان کو قید ہی کردیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then it occurred to them to cast Joseph into prison for a while even though they had seen clear signs (of Joseph's innocence and of the evil ways of their ladies).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Later on, even after having seen the clear signs (of his innocence), they deemed it proper to imprison him for some time.

— Muhammad Taqi Usmani

Later on, even after having seen the clear signs (of his innocence), they deemed it proper to imprison him for some time.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then it occurred to them, after they had seen the proofs (of his innocence), to imprison him for a time.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And it seemed good to them (the men-folk) after they had seen the signs (of his innocence) to imprison him for a time.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then it appeared to them after they had seen the signs that al-'Azeez should surely imprison him for a time.

— Saheeh International

Even after Joseph had been found innocent of any crime, the King and his people decided to imprison him for an appointed time (so that people would forget the incident).

— Muhammad Sarwar

Then it occurred to them after they had seen the signs that they should imprison him till a time.

— Muhammad Habib Shakir

Thereafter it occurred to them even after they had, the signs, to imprison him for a season.

— Abdul Majid Daryabadi

Then it occurred to the men, after they had seen the signs, (that it was best) to imprison him for a time.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:35

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

جیل خانہ اور یوسف ؑ حضرت یوسف ؑ کی پاک دامنی کا راز سب پر کھل گیا۔ لیکن تاہم ان لوگوں نے مصلحت اسی میں دیکھی کہ کچھ مدت تک حضرت یوسف ؑ کو جیل خانہ مییں رکھیں۔ بہت ممکن ہے کہ اس میں ان سب نے یہ مصلحت سوچی ہو کہ لوگوں میں یہ بات پھیل گئی ہے کہ عزیز کی بیوی اس کی چاہت میں مبتلا ہے۔ جب ہم یوسف کو قید کردیں گے وہ لوگ سمجھ لیں گے کہ قصور اسی کا تھا اسی نے کوئی ایسی نگاہ کی ہوگی۔ یہی وجہ تھی کہ جب شاہ مصر نے آپ کو قید خانے سے آزاد کرنے کے لیے اپنے پاس بلوایا تو آپ نے وہیں سے فرمایا کہ میں نہ نکلوں گا جب تک میری برات اور میری پاکدامنی صاف طور پر ظاہر نہ ہوجائے اور آپ حضرات اس کی پوری تحقیق نہ کرلیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یُوْسُف 30 اس طرح حضرت یوسف ؑ کا قید میں ڈالا جانا درحقیقت ان کی اخلاقی فتح اور مصر کے پورے طبقہ امراء و حکام کی اخلاقی شکست کا اتمام و اعلان تھا۔ اب حضرت یوسف ؑ کوئی غیر معروف اور گمنام آدمی نہ رہے تھے۔ سارے ملک میں، اور کم از کم دارالسلطنت میں تو عام و خاص سب ان سے واقف ہوچکے تھے۔ جس شخص کی دلفریب شخصیت پر ایک دو نہیں، اکثر و بیشتر بڑے گھرانوں کی خواتین فریفتہ ہوں، اور جس کے فتنہ روزگار حسن سے اپنے گھر بگڑتے دیکھ کر مصر کے حکام نے اپنی خیریت اسی میں دیکھی ہو کہ اسے قید کردیں، ظاہر ہے کہ ایسا شخص چھپا نہیں رہ سکتا تھا۔ یقینا گھر گھر اس کا چرچا پھیل گیا ہوگا۔ عام طور پر لوگ اس بات سے بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰيٰتِ لَيَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰي حِيْنٍ یعنی پھر عزیز اور اس کے مشیروں نے مصلحت اس میں سمجھی کہ کچھ عرصہ کے لئے یوسف ؑ کو قید میں رکھا جائے چناچہ جیل خانہ میں بھیج دئیے گئے

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگے کا مضمون۔ آیات 35 تا 53:۔ حضرت یوسف کی آزمائش کا نیا دور : یہاں سے حضرت یوسف کی آزمائش کا نیا دور شروع ہوتا ہے۔ اگرچہ عزیز بھی اور زلیخا کے عزیزوں اور رشتہ داروں پر بھی اصل حقیقت پوری طرح واضح تھی لیکن انہوں نے مصلحت اسی میں سمجھی کہ کچھ دنوں کے لیے حضرت یوسف کو جیل بھجوا دیں۔ انہوں نے خیال کیا ہوگا کہ اس طرح لوگوں کی زبانیں بھی کچھ عرصہ کے بعد بند ہوجائیں گی اور نگاہوں سے دور ہوجانے کے سبب سے زلیخا کا خبط بھی جاتا رہے گا۔ جیل میں حضرت یوسف کے دو ساتھی خواب دیکھتے ہیں۔ وہ خواب کی تعبیر حضرت یوسف سے پوچھتے ہیں۔ حضرت یوسف اس خواب کی تعبیر بتانے کی راہ کھلتی ہے جس کے بعد بادشاہ ان کا ایسا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 34–35

35۔ 1 عفت و پاک دامنی واضح ہوجانے کے باوجود یوسف ؑ کو حوالہ زنداں کرنے میں یہی مصلحت ان کے پیش نظر ہوسکتی تھی کہ عزیز مصر حضرت یوسف ؑ کو اپنی بیوی سے دور رکھنا چاہتا ہوگا تاکہ وہ دوبارہ یوسف ؑ کو اپنے دام میں پھنسانے کی کوشش نہ کرے جیسا کہ وہ ایسا ارادہ رکھتی تھی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 34–35

23: یعنی اگرچہ حضرت یوسف ؑ کی بےگناہی اور پارسائی کے بہت سے دلائل ان لوگوں کے سامنے آچکے تھے، لیکن عزیز مصر نے اپنی بیوی کو بدنامی سے بچانے اور اس واقعے کا چرچا ختم کرنے کے لئے مناسب سمجھا کہ کچھ عرصے تک انہیں قید خانے ہی میں بند رکھا جائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ سبق اس قصے کی تیسر کڑی ہے اور حضرت یوسف کی مشکلات زندگی بھی تیسری اور آخری کڑی ہے۔ اس کڑی کے بعد حضرت یوسف کی زندگی کے مشکل دن ختم ہونے والے ہیں۔ اب آرام اور سکون ہی ہوگا۔ اب حضرت یوسف کی زندگی کا امتحان دوسرے انداز میں ہوگا۔ پہلے مصائب میں ان کی آزمائش تھی ، اب عیش و آرام اور اقتدار کی زندگی میں ان کی آزمائش ہوگ۔ اس کڑی میں ان کی آزمائش جیل جانے میں ہو رہی ہے یہ عجیب آزمائش ہے کہ وہ الزام سے بری ہوگئے ہیں پھر بھی جیل میں ہیں ، ایک گناہ گار تو صبر کرلیتا ہے کیونکہ اس کو علم ہوتا ہے کہ اس نے قصور کیا ہے لیکن ایک بےگناہ جب قید ہوتا ہے تو اس کے لیے سزا ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ اگرچہ دل میں اسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی باوجودیکہ حضرت یوسف کی برأت نزاہت کے بہت سے نشان دیکھ چکے تھے۔ پھر بھی ان کی مصلحت یہ ہوئی کہ یوسف کو ایک مدت تک قید میں رکھا جائے۔ تاکہ عام لوگ سمجھیں کہ قصور یوسف ہی کا تھا، عورت بیچاری مفت میں بدنام ہوئی۔ گویا عورت نے قید کی جو دھمکی دی تھی اسے پورا کرا کے چھوڑا۔ ان لوگوں کی غرض تو یہ ہوئی کہ عورت سے یہ بدنامی زائل ہو، یعنی ایک مدت تک یوسف اس کی نظر سے دور رہیں، اور عورت کا مطلب یہ ہوگا کہ شاید قید کی سختیاں اٹھا کر یوسف کچھ نرم پڑجائیں۔ اس طرح اپنا مطلب نکال سکوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 35 ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰيٰتِ لَيَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰي حِيْنٍ اس تقریب میں جو کچھ ہوا اس معاملے کو پوشیدہ رکھنا ممکن نہیں تھا چناچہ ارباب اختیار نے جب یہ سارے حالات دیکھے تو انہیں عافیت اور مصلحت اسی میں نظر آئی کہ حضرت یوسف کو وقتی طور پر منظر سے ہٹا دیا جائے اور اس کے لیے مناسب یہی ہے کہ کچھ عرصے کے لیے انہیں جیل میں ڈال دیا جائے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

35 مصر کی عدالتوں پر بڑے لوگوں کا دباؤ :۔ یعنی پورے شہر کے رؤساء اور اعیان سلطنت پر یہ بات واضح ہوچکی تھی کہ سیدنا یوسف بالکل بےقصور ہیں اور مجرم زلیخا ہے۔ اس کے باوجود اس ملک کی عدالت نے یہ فیصلہ دیا کہ یوسف ہی کو کسی نامعلوم مدت کے لیے قید میں ڈال دیا جائے۔ کیونکہ اب اصل مجرم صرف زلیخا نہ رہی تھی بلکہ اعیان سلطنت کی بیگمات بھی اس جرم میں اس کی ہم نوا اور برابر کی شریک بن چکی تھیں۔ اس واقعہ سے جہاں مردوں کی اپنی بیگمات کے سامنے بےبسی پر روشنی پڑتی ہے وہاں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کی انصاف کرنے والی عدالتیں بھی جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے اصول پر اپنے فیصلے کیا کرتی تھیں اور نامعلوم مدت اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

68۔ (اور یہ غالبا رفع بدنامی کے خیال سے) ایک عبرانی غلام کے ہاتھوں ایک مصری امیر زادی کی کتنی بدنامی ہوچکی تھی اس کے لیے انتظاما یہ ضروری معلوم ہوا کہ ایک مدت تک کے لئے خود اس غلام کو عام نگاہوں اور چرچوں سے دور کہیں محبوس کردیاجائے۔ (آیت) ” لھم “۔ یعنی خود عزیز اور اس کے مشیروں کو۔ یعنی للعزیز و اصحابہ فی الرای (معالم) ای للعزیز و اصحابہ المتصدین للحل والعقد (روح) (آیت) ” من بعد ماراو الایت “۔ یعنی بعد اس کے کہ انہیں شہادتیں یوسف (علیہ السلام) کی پاکدامنی اور بےقصوری کی مل چکی تھیں اور وہ خود بھی اس پر یقین کرچکے تھے۔ ہندوستان کی سرزمین پر بھی رامائن میں قصہ اسی طرح کا مذکور ہے کہ رامچندر جی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 30–35

آیت نمبر 30 تا 35 ترجمہ : اور شہر مصر کی عورتیں آپس میں چرچا کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام کے پیچھے پڑی ہوئی ہے محبت نے اس کو بےقرار کر رکھا ہے، اس کی محبت اس کے دل کے نہاں خانوں میں پیوست ہوگئی ہے، ہمارے نزدیک تو وہ اس سے محبت کرنے کے معاملہ میں صریح غلطی پر ہے جب عزیز کی بیوی نے ان کی مکارانہ باتیں یعنی انکی بدگوئی کی باتیں سنیں تو ان کو بلاوا بھیج دیا اور ان کیلئے چھری سے کاٹ کر کھایا جانے والا کھانا تیار کرایا اس کھانے کو متکئا اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کو کھاتے وقت تکیہ لگا لیتے ہیں۔ دوسرا ترجمہ : اور ان کیلئے مسندوں سے آراستہ مجلس تیار کرائی اور وہ کھانا ترنج تھا، اور ان میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم بدالھم من بعد ما راوا الایت لیسجننہ حتی حین پھر مختلف نشانیاں دیکھنے کے بعد ان لوگوں کی یہی رائے ہوئی کہ یوسف کو ایک مدت کیلئے قید میں رکھیں۔ لَھُمْ یعنی عزیز اور اس کے ساتھیوں کی پھر یہ رائے ہوئی۔ مِنْ مبَعْدِ مَا رَاَوْا الْاٰیٰتِ یعنی حضرت یوسف کی پاکدامنی اور برأت کی نشانیاں دیکھنے کے بعد۔ بچہ کا کلام اور قمیص کا پیچھے سے پھٹنا اور عورتوں کا ہاتھوں کو کاٹنا اور حضرت یوسف کا ان سے باعصمت رہنا ‘ جب انہوں نے دیکھ لیا تو یہ رائے قرار پائی کہ کچھ مدت کیلئے حضرت یوسف کو قید کردیا جائے۔ زلیخا کا شوہر زن پرست تھا ‘ شوہر کی لگام زلیخا کے ہاتھ میں تھی ‘ وہ جس طرف چاہتی موڑ دیتی ‘ اس نے شوہر کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(35) پھر عزیز کو حضرت یوسف ؑ کی قیمص کے پھٹنے اور لڑکے کے فیصلے سے یہی مناسب معلوم ہوا کہ چندسالوں تک ان کو قید میں رکھیں یا یہ کہ اتنے وقت تک قید میں رکھیں جب تک کہ لوگوں کی باتیں ختم نہ ہوجائیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ۔۔ : جب شہر میں ان واقعات کا چرچا ہوا اور عزیز مصر کی بیوی کی محبت میں دیوانگی اور یوسف ؑ کی پاک دامنی پر استقامت کی شہرت پھیلی تو اہل حل و عقد اس نتیجے پر پہنچے کہ یوسف ؑ کو ہر صورت کچھ وقت کے لیے قید کردیں، تاکہ ایک گھر میں رہنے کی وجہ سے میل ملاقات ختم ہوجائے اور آہستہ آہستہ اس واقعہ کی شہرت بھی ختم ہوجائے۔ اس فیصلے سے عزیز مصر پر اس کی بیوی اور دوسری عورتوں کا تسلط اور اس کی بےغیرتی اور دیوثی بھی صاف ظاہر ہوتی ہے کہ اس نے یوسف ؑ کو تو قید میں ڈال دیا مگر عورتوں سے پوچھا تک نہیں کہ تمہارے منہ میں کتنے دانت ہیں۔ اس سے اس وقت کے معاشرے کی اخلاقی حالت معلوم…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 34–35

آیت نمبر 35 اس میں چار مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1 ۔ ثم بدالھم یعنی عزیز اور اس کے مشیروں کے لیے ظاہر ہوا من بعد ماراوا الاٰیٰت اس سے مراد حضرت یوسف (علیہ السلام) کی برات کی علامات اور نشایناں ہیں، جس طرح کہ قمیض کا پیچھے سے پھٹنا، گواہ کی گواہی، ہاتھوں کا کٹنا، حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ملاقات سے ان عورتوں کا قلت صبر وغیرہ۔ اس کے باوجود انہوں نے یہ مناسب سمجھا کہ وہ آپ کو قید کردیں تاکہ وہ اس قصہ کو عام لوگوں میں مشہور ہونے سے چھپا سکیں اور قید کو حضرت یوسف (علیہ السلام) اور زلیخا کے درمیان حائل کعسکیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ آیات سے مراد وہ برکات ہیں جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ان میں رہائش…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ثم بدالہم من بعد ما راوالایت “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا تجھ سے پہلے کسی نے اس کے بارے میں مجھ سے سوال نہیں کیا۔ نشانیوں میں سے یہ ہیں قمیص کا پھٹا ہونا اور عورت کا اثر آپ کے جسم میں ہونا اور چھریوں سے عورتوں کا ہاتھ کاٹنا اور عزیز کی بیوی کا اپنے خاوند سے کہنا یوسف کو جیل میں نہیں بھیجے گا، تو لوگ اس کو سچا مانیں گے (یعنی یوسف کو ) ۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ نشانیاں یہ تھیں قمیص کا پھٹ جانا اور چہرے میں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ثُمَّ : پھر ] [ بَدَا : آشکارا ہوا ] [ لَهُمْ : ان لوگوں کے لئے ] [ مِّنْۢ بَعْدِ مَا : اس کے بعد (بھی کہ) جو ] [ رَاَوُا : ان لوگوں نے دیکھا ] [الْاٰيٰتِ : نشانیوں کو (یعنی یوسف (علیہ السلام) کی بیگناہی کے ثبوتوں کو)] [ لَيَسْجُنُنَّهٗ : کہ وہ لازماً قید میں رکھیں گے ان (علیہ السلام) کو ] [ حَتّٰي حِيْنٍ : ایک مدت تک ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 34–36

جیل میں دو قیدیوں کا خواب دیکھنا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) سے تعبیر دینے کی درخواست کرنا جیسا کہ اوپر معلوم ہوا عزیز مصر کے مشورہ دینے والوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جیل میں بھجوا دیا۔ اسی موقع پر دو جوان بھی جیل میں داخل ہوئے تھے اور ان کے علاوہ پہلے سے بھی قیدی موجود تھے سیدنا حضرت یوسف (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے نبی تھے ‘ عبادت گزار تھے خوش اخلاق تھے قیدیوں کے ساتھ اچھی طرح پیش آتے تھے صالحین کے چہرے پر تو نور ہوتا ہی ہے پھر یہاں تو نور نبوت بھی تھا اور ظاہری حسن و جمال بھی بےمثال تھا قیدی لوگ دلدادہ ہوگئے یہاں تک کہ جیلر بھی بہت زیادہ متاثر ہوا اور کہنے لگا کہ اگر میں خود مختار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–35

قصی دعوت زلیخا زنان مصر رامشتمل بر اعتراف عصمت و عفت یوسف (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ وقال نسوۃ فی المدینۃ امرات العزیز .... الیٰ .... لیسجننہ حتی حین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان فرمایا کہ جب عزیز مصر پر یہ واضح ہوگیا کہ یوسف (علیہ السلام) بالکل بےقصود ہیں اور یہ سب اس کی بیوی کا خود ساختہ مکر اور فریب ہے تو عزیز مصر نے یوسف (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ اعرض عن ھذا۔ کہ اے یوسف (علیہ السلام) اس بات سے درگزر کر اور کسی سے اس کا ذکر نہ کر اور بیوی سے کہا کہ واستغفری لذنبک۔ کہ یوسف (علیہ السلام) سے اپنے قصور کی معافی مانگ۔ عزیز مصر کا مقصود یہ تھا کہ یہ قصہ پوشیدہ رہے اور اس کا چرچا نہ ہو مگر ”…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 33–35

32:۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دل میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی، میرے آقا ! جس گناہ کی یہ مجھے دعوت دے رہی ہیں اس سے مجھے قید ہوجانا زیادہ پسند ہے، میرے اللہ ! اگر تو نے ان مکار عورتوں کے فریب سے مجھے نہ بچایا تو میرے دل میں ان کی رغبت پیدا ہوجائے گی اور میں نادانوں میں سے ہوجاؤں گا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) قادر و متصرف نہ تھے اسی لیے وہ گناہ سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی توفیق اور دستگیری کی محتاج تھے۔ ” فَا سْتَجَابَ لَہٗ رَبُّہٗ الخ “ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور عورتوں کے مکر سے ان کو بچا لیا۔ ” ثُمَّ بَدَا لَھُمْ الخ “ یہ ” فَصَرَفَ عَنْہُ کَیدَھُنَّ “ کا بیان ہے۔ عزیز مصر نے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 32–35

ربط آیات جب مصر میں یہ مشہور ہوگیا کہ عزیز مصر کی بیوی نے اپنے غلام کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی ہے تو اونچے طبقے کی عورتوں نے زلیخا کو بدنام کرنا شروع کردیا۔ اس کے جواب میں زلخیا نے ایک مجلس طعام کا اہتمام کیا جسمیں تمام معزز خواتین بیگمات اور امیر زادیوں کو مدعو کیا۔ اس معاشرے کے رواج کے مطابق بڑی پرتکلف دعوت کی گئی جس میں چھری کانٹا بھی استعمال کے لئے رکھا گیا۔ زلیخا کا مقصد یہ ھتا کہ جس غلام کے نام پر یہ عورتیں اسے بدنام کر رہی ہیں اسے خود بھی ایک نظر دیکھ لیں او اس کے بعد فیصلہ کریں کہ میری مجبوری کیا ہے جب وہ سب عورتیں کھانے کے لئے بیٹھ گئیں تو زلیخا نے کسی بہانے سے یوسف (علیہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ بَدَا لَہُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰيٰتِ لَيَسْجُنُنَّہٗ حَتّٰي حِيْنٍ۝ 35 ۧ بدا بَدَا الشیء بُدُوّاً وبَدَاءً أي : ظهر ظهورا بيّنا، قال اللہ تعالی: وَبَدا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ ما لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ [ الزمر/ 47] ( ب د و ) بدا ( ن ) الشئ یدوا وبداء کے معنی نمایاں طور پر ظاہر ہوجانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ وَبَدا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ ما لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ [ الزمر/ 47] اور ان کیطرف سے وہ امر ظاہر ہوجائے گا جس کا ان کو خیال بھی نہ تھا ۔ سجن السَّجْنُ : الحبس في السِّجْنِ ، وقرئ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ [يوسف/ 33] ( س ج ن ) السجن ( مصدرن ) قید خانہ میں بند…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

2 ؎ یوسف کی بزرگی اور پارسائی کے نشان اور وجوہ دیکھنے کے بعد لازم تھا کہ فوراً قید سے رہا کرتے مگر اپنی کسی مصلحت سے چند روز اور قید رکھنا مناسب جانا۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 34–35

فَاسْتَجَابَ لَہٗ رَبُّہٗ فَصَرَفَ عَنْہُ کَیْدَھُنَّ ط اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ (سورۃ یوسف : 34) (تو اس کے رب نے اس کی دعا قبول فرمائی اور دور کردیا اس سے ان عورتوں کے مکر و فریب کو، بیشک وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ ) حضرت یوسف (علیہ السلام) نے گزشتہ آیت کریمہ میں جو دعا مانگی تھی کہ الٰہی ان عورتوں کے مکر و فریب سے مجھے نجات دے دے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا۔ جب تک وہ باہر رہے، اللہ تعالیٰ نے انھیں استقامت عطا فرمائی اور جب انھیں جیل بھیج دیا گیا تو اب جیل کی دیواریں ان کی پاکدامنی کی دیواریں بن گئیں۔ ثُمَّ بَدَا لَھُمْ مِّنْ م بَعْدِمَارَااَوُا الْاٰیٰتِ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 33–35

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بےبسی کے عالم میں مانگی ہوئی دعا قبول ہوئی ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) زر خرید غلام اور غریب الوطن ہونے کی وجہ سے ہر طرف سے بےبس اور مجبور تھے۔ اگر فرار کا راستہ اختیار کرتے تو ان کے سامنے جیل خانہ یا موت تھی۔ دوسری طرف ایک نہیں کئی عورتیں بےحیائی کے چنگل میں پھنسانا چاہتی تھیں۔ یوسف (علیہ السلام) جائیں تو جائیں کہاں۔ مزید یہ کہ اس عورت نے ذلیل کرنے یا جیل کی کال کوٹھڑی میں ڈالنے کی دھمکی دی تھی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر اس کا اظہار کیا کہ جس بےشرمی اور بےحیائی کی تو مجھے دعوت دیتی ہے اور اس کے نہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بےگناہ کی جیل کا فیصلہ : 35: ثُمَّ بَدَالَھُمْ (پھرعزیز اور اس کے ساتھیوں کی رائے ہوئی) اس کا فاعل مضمر ہے کیونکہ لیسجننّہٗ سے اسکی تفسیر اس پر دلالت کر رہی ہے۔ مطلب یہ ہے پھر ان کی یہ رائے بنی۔ ھم ؔ کی ضمیر عزیز اور اس کے عزیز۔ مِّنْم بَعْدِ مَا رَاَوُاالْاٰیٰتِ (اس کے بعد کہ انہوں نے مختلف نشانیاں دیکھیں) آیات سے مراد وہ گواہیاں تھیں جو آپ کی براءت کے سلسلہ میں سامنے آئیں۔ نمبر 1۔ قدّ قمیص نمبر 2۔ قطع الایدی نمبر 3۔ شھادۃ الصبی وغیرہ۔ لَیَسْجُنُنَّہٗ (ضرور اس کو قید میں ڈالا جائے) نکتہ چینی پر پردہ ڈالنے۔ موجودہ حالت کا عذر پیش کرنے کیلئے اور یہ صرف عورت کے حکم کی پیروی کی وجہ سے تھا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

35۔” ثم بدالھم “ یعنی عزیز اور اس کے ساتھیوں کے لیے رائے میں کیونکہ انہوں نے ارادہ کیا تھا کہ یوسف (علیہ السلام) سے اعراض کر کے ان کا قصہ بند کردیں پھر ان کو یہ بات ظاہر ہوئی کہ یوسف (علیہ السلام) کو قید کردیں ۔ ” من بعد ما رائو الآیات “ جو یوسف (علیہ السلام) کی برأت پر دلالت کرنے والی نہیں جیسے قمیص کا پیچھے سے چاک ہونا اور بچے کا کلام کرنا اور عورتوں کی عقل مغلوب ہونے کی وجہ سے ہاتھوں کو کاٹنا ” لیسجننہ حتیٰ حین “۔ جیل میں ڈالنے کی میعاد کتنی تھی عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ یہاں تک کہ لوگوں کی باتیں ختم ہوجائیں ۔ عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ سات سال اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ پانچ سال ، سدی (رح)…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

35۔ اوپر کی آیت میں اللہ پاک نے یوسف (علیہ السلام) کی دعا اور اس کے مقبول ہونے کا حال بیان فرما کر اب یہ کیفیت قید کی بیان فرمائی کہ جب اس بات کا چرچا ہر ایک رئیس و امیر کے گھر میں ہونے لگا اور ہر شخص کی زبان پر یہی مذکور تھا کہ زلیخا عزیز مصر کی بیوی اپنے شوہر کے غلام پر دل و جان سے فریفتہ ہے اور اس کی محبت میں دیوانی ہو رہی ہے اور اس نے آپ اپنی خواہش ان پر ظاہر کی۔ اس پر عزیز مصر اپنے صلاح کاروں کی صلاح اور مشورے سے اس بات پر آمادہ ہوا کہ یوسف (علیہ السلام) کو قید میں رکھنا چاہیے حالانکہ سارے لوگ جان چکے تھے اور کھلی کھلی شہادت اور نشانیاں موجود تھیں کہ اس مقدمہ میں یوسف (علیہ السلام) کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(بدالھم) ” ان پر ظاہر ہوا۔ “ (من بعد ما راوا الایت) ایسی نشانیاں دیکھنے کے بعد جو یوسف کی برأت پر دلالت کرتی تھیں (لیسجنتہ حتی حین) ” کہ ایک وقت تک ان کو قید میں رکھیں “ تاکہ اس طرح خبر منقطع ہوجائے اور لوگ اس واقعہ کو بھول جائیں، کیونکہ جب کوئی خبر شائع ہوجاتی ہے تو اس کا ذکر عام ہونے لگتا ہے اور وجود اسباب کے باعث یہ خبر پھیلتی چلی جاتی ہے۔ جب اسباب معدوم ہوجاتے ہیں اس واقعہ کو بھلا دیا جاتا ہے۔۔۔ چناچہ انہوں نے اس میں یہی مصلحت دیکھی تو یوسف کو قید خانے میں ڈال دیا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 26–35

شاہد کون تھا ؟ قول باری ہے وشھد شاھدمن اھلھا ان کان قمیصہ قد من قبل فصدقت وھو من الکاذبین ۔ اس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے قرینے کی شہادت پیش کی کہ اگر یوسف کا قیمص آگے سے پھٹا ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت ابوہریرہ ؓ ، سعید بن جبیر اور ہلال بن یسار سے مروی ہے کہ پن گھوڑے میں پڑا ہوا ایک بچہ تھا ۔ جس نے یہ گواہی پیش کی ۔ حضرت ابن عباس سے ایک اور روایت کے مطابق ، نیز حسن ، ابن ملیکہ اور عکرمہ سے مروی ہے کہ یہ ایک مرد تھا جس نے شہادت پیش کی تھی ۔ عکرمہ کا قول ہے کہ عزیز مصرنے جب حضرت یوسف کو دروازے پر پھٹی ہوئی قمیص کے ساتھ دیکھا تو اس نے اپنے ایک چچا زاد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 33–35

58۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عفت و عظمت شان کا ایک مظہر و نمونہ : کہ اس عورت کی اس دھمکی سے بھی آپ ذرا مرعوب نہیں ہوئے۔ سبحان اللہ۔ کتنا اونچا اور کس قدر پاکیزہ ہوتا ہے حضرات انبیائے کرام کا باطن کہ طرح طرح کے مخاوف اور ہولناک خطرات بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پائے استقلال واستقامت میں ذرہ برابر کوئی لغزش وجنبش پیدا نہ کرسکے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین۔ یہاں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ابتلاء و آزمائش کا ایک نیادور شروع ہوتا ہے کہ اپنی ہوی وہوس میں ناکامی کے بعداب وہ عورت انتقام لینے پر آمادہ ہوگئی اور اس کے لیے اس نے آنجناب کو اتنی بڑی صاف وصریح اور کھلی دھمکی دے ڈالی۔ اور وہ تھی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–57

انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔ تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–35

آیات 30 تا 35 اسرار و معارف جب کوئی بات وقوع پذیر ہوتی ہے ترکب چھپتی ہے ۔ آخر اس کی سن گن تو نکل ہی جاتی ہے چناچہ یہ بات بھی درباری امراء کی بیویوں تک پہنچی تو انھیں بہت حیرت ہوئی کہ عجیب بات ہے کہ ایک امیر کی بیوی اور خادم پہ عاشق ہوجائے یا ایک زرخرید غلام کی محبت کی اسیر ہوجائے یہ تو بہت ہی نامناسب بات ہے۔ عزیز مصر کی بیوی اور یہ کردار تو بہت ہی غلط کام ہے ۔ لیکن ایک حدتک اندر سے وہ بھی بیقرار تھیں کہ دیکھیں کہ دیکھیں تو سہی وہ حسین ہے کیساجس پر عزیز مصر کی بیوی فدہ ہوگئی ۔ لہٰذا انھوں نے اس طرح کی باتیں بنائیں کہ زلیخا سن کر خود ہی یہ چاہے گی کہ ہم بھی دیکھ سکیں تاکہ اسے طعنہ دینے سے با…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 ۔ یعنی حضرت یوسف ( علیہ السلام) کی عفت و نزاہت اور پاکدامنی کے نشان اور دلائل و شواہد۔ 9 ۔ یعنی غیر معین عرصہ تک۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 34–35

(12:34) استجاب۔ اس نے قبول کیا۔ اس نے مانا۔ استجابۃ (افتعال) سے جس کے معنی قبول کرنے اور ماننے کے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 33–35

لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 35 السجن (جیل، قید خانہ) احب (زیادہ محبوب ہے، زیادہ پسندیدہ ہے) الی (میری طرف، مجھے ) یدعون (وہ بلاتے ہیں ) الا تصرف (اگر تو نہیں پھیرتا ہے ) اصب میں مبتلا ہوجاؤں گا کان میں ہوجاؤں گا حین زمانہ، وقت تشریح : آیت نمبر 33 تا 35 زلیخا (عزیز مصر کی بیوی) صاف الفاظ میں کہہ چکی تھی کہ یوسف کو ہر حال میں میری بات ماننا پڑے گی۔ اگر اس نے میری ابت نہ مانی تو میں اس کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ضرور پہنچا دوں گی حضرت یوسف زلیخا اور بیگمات مصر کی بےتکی اور فضول باتوں سے بہت رنجیدہ تھے۔ آخر کار حضرت یوسف اللہ کی بارگاہ میں جھک گئے اور نہایت عزجزی کے ساتھ عرض کیا۔ الٰہی ! یہ عورتیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 33–35

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے عصمت بچانے کی غرض سے قید کی دعا مانگی اور قبول ہوئی اور قید خانے گئے یوسف (علیہ السلام) نے ان باتوں سے تنگ دل ہوکر یوں کیا '' یا الہی ! ان کی باتوں سے اور ان کے مکروں سے مجھے تو یہ بات اچھی معلوم ہوتی ہے کہ قید میں جاؤں۔ ان کی درخواستوں کے منظور کرنے سے مجھے روحانی تکلیف ہے اور قید خانے میں اگر تکلیف ہوگی تو جسمانی۔ ان کی مجلس میں تیری نافرمانی کا اندیشہ ہے وہاں یہ کھٹکا تو نہ ہوگا۔ یا الہی ! اگر تو مجھے ان کے مکر سے نہ بچائے گا اور تیری حفاظت میرے شامل حال نہ ہوگی مجھے اتنی طاقت نہیں کہ میں ان کی طرف میلان نہ کروں۔ بلکہ مجھے یہ پختہ اندیشہ ہے کہ میں ان کی بات مان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 32–35

[16] یعنی اپنی ناک بچانے کے لئے انھیں مصلحت اسی میں نظر آئی کہ کچھ عرصے کے لئے یوسف (علیہ السلام) کو جیل بھیجوا دیں۔ انہوں نے خیال کیا ہوگا کہ اس طرح کچھ مدت کے بعد عزیز کی بیوی کے دل سے یوسف (علیہ السلام) کا خیال بھی نکل جائے گا اور جو لوگ اس میں دلچسپی لے رہے ہیں ان کی توجہ بھی ہٹ جائے گی اور وہ خیال کریں گے کہ قصور یوسف (علیہ السلام) ہی کا تھا چناچہ اس کو سزا ملی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 35–37

مسلمان قیدی کے فرائض دینی : (ف 1) اللہ کے نیک بندے جہاں کہیں ہوں اپنے فرائض تبلیغ سے غافل نہیں رہتے ، اور اپنے کردار وعمل سے یہ ثابت کرتے رہتے ہیں کہ ہم نیکی کے داعی ، اور بھلائی کے مناء ہیں ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) جیل میں بھیجدئیے گئے کیونکہ انہوں نے عزیز ، مصر کی محبت کو ٹھکرا دیا تھا اور ہوائے نفس کی مخالفت کی تھی ان کے ساتھ دو اور قیدی تھے ، انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شراب کو نچوڑ رہا ہے ، اور دوسرے کے سر پر روٹیاں ہیں ۔ جنہیں پرندے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو نیک و صالح سمجھ کر تعبیر دریافت کی ، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ میں ضرور تعبیر بتلاؤں گا پہلے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

35 پھر عزیر اور اس کے متعلقین کو باوجود صداقت کے نشان دیکھ لینے کے یہی مصلحت ہوئی کہ یوسف (علیہ السلام) کو ایک زمانہ خاص تک جیل خانہ میں رکھاجائے یعنی یوسف (علیہ السلام) کی پاک دامنی اور بےگناہی دیکھ لینے کے بعد پھر بھی سیاسی مصلحت یہی معلوم ہوئی کہ ایک بےگناہ کو جیل میں ڈال دیاجائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اگرچہ نشان سب دیکھ چکے کہ گناہ عورت کا ہے تو بھی ان کو قید کیا تاکہ بد نامی خلق میں عورت سے اترے یا اس واسطے کہ اس کی نظر سے دور رہیں 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 33–36

ف 2۔ یوسف (علیہ السلام) کا یہ فرمانا الاتصرف عنی۔ منافی عصمت کے نہیں کیونکہ یہ عصمت بھی تو بدولت حفاظت خداوندی ہی کے ہے چونکہ انبیاء کی نظر اصلی موثر کی طرف ہوتی ہے اس لیے ان کو اپنی عصمت پر اعتماد اور ناز نہیں ہوتا اور یوسف کا یہ کہنا الاتصرف مقصود اس سے یہ ہے کہ اصرف عنی اس لیے اس کے بعد فاستجاب فرمایا اور اس استجابت کا بیان خود قرآن میں ہے فصرف عنہ۔ فائدہ۔ سجن میں جانا جزو استجابت نہیں جیسا کہ مشہور ہے کہ قید کی دعا کی اس لیے قید میں گئے کیونکہ قید کی درخواست تو نہیں کی صرف فعل قبیح کا سجن سے اقبح ہونا بیان کیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حکمائے وقت نے یہی اچھا سمجھا کہ یوسف کو کچھ وقت کے لئے قید میں بھیج دیا جائے ۔ 46 ایک عبرانی غلام کے ہاتھوں ایک مصری امیر زادی کی کتنی بدنامی ہوچکی تھی اور اب وہ اس دام محبت میں اکیلی نہ تھی بلکہ اس ضیافت کے بعد حسن یوسف کے چرچے گھر گھر ہونے لگے نہ صرف عزیز مصر کی بیوی بلکہ سارے متمول گھرانوں کی رئیس زادیاں آپ کے دام محبت کا دم بھرنے لگیں تو حکومت کے ارباب بسط و کشاد نے پاکدامن اور بےگناہ یوسف کو قید کرنے ہی میں مصلحت سمجھی ” اگرچہ وہ لوگ نشانیاں دیکھ چکے تھے “ یعنی حقیقت حال ان پر اچھی طرح واضح تھی کہ یوسف بالکل بےگناہ ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ ان گناہگار نگاہوں کی سرزنش کرتے اور انہیں معتوب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

So, said at the end of the verse (35) was: ثُمَّ بَدَا لَهُم مِّن بَعْدِ مَا رَ‌أَوُا الْآيَاتِ لَيَسْجُنُنَّهُ حَتَّىٰ حِينٍ Later on, even after having seen the signs, they [ the ` Aziz of Misr and his advisers ] deemed it proper [ or expedient ] to imprison him for a time. Thus, to the prison he was sent.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

30. It occurred to them to imprison Prophet Joseph in order to save face after they had seen clear proofs of his innocence and of the guilt of their own women, for no other alternative was left, in their opinion, to undo the scandal that was spreading fast in the land. But it did not occur to them that in fact his imprisonment was his moral victory and the moral defeat of the rulers and the dignitaries of Egypt. By that time, Prophet Joseph had not remained an unknown person, for all and sundry had heard stories of his beauty and piety, and of the love the ladies had shown towards him.…

Read the full tafseer →