Explained with ayahs 30–34
داستان عشق اور حسینان مصر
اس داستان کی خبر شہر میں ہوئی، چرچے ہونے لگے، چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب و حقارت سے اس قصے کو دوہرایا کہ دیکھو عزیر کی بیوی ہے اور ایک غلام پر جان دے رہی ہے، اس کی محبت کو اپنے دل میں جمائے ہوئے ہے۔ شغف کہتے ہیں حد سے گذری ہوئی قاتل محبت کو اور شغف اس سے کم درجے کی ہوتی ہے۔ دل کے پردوں کو عورتیں شغاف کہتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ عزیز کی بیوی صریح غلطی میں پڑی ہوئی ہے۔ ان غیبتوں کا پتہ عزیز کی بیوی کو بھی چل گیا۔ یہاں لفظ مکر اس لیے بولا گیا ہے کہ بقول بعض خود ان عورتوں کا یہ فی الواقع ایک کھلا مکر تھا۔ انہیں تو دراصل حسن یوسف کے دیدار کی تمنا تھی یہ تو صرف ایک حیلہ بنایا…
Read the full tafseer →سورة یُوْسُف 29
دفع کرنا اس معنی میں ہے کہ یوسف ؑ کی سیرت صالحہ کو ایسی مضبوط بخشش دی گئی جس کے مقابلہ میں ان عورتوں کی ساری تدبیریں ناکام ہو کر رہ گئیں۔ نیز اس معنی میں بھی ہے کہ مشیت الہی نے جیل کا دروازہ ان کے لیے کھلوا دیا۔
Read the full tafseer →(آیت) فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ ۭ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ یعنی ان کی دعاء ان کے رب نے قبول فرما لی اور ان عورتوں کے مکر و حیلہ کو ان سے دور رکھا بیشک وہ بڑا سننے والا اور بڑا جاننے والا ہے،
اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کے جال سے بچانے کے لئے یہ سامان فرما دیا کہ عزیز مصر اور اس کے دوستوں کو اگرچہ یوسف ؑ کی بزرگی اور تقویٰ و طہارت کی کھلی نشانیاں دیکھ کر ان کی پاکی کا یقین ہوچکا تھا مگر شہر میں اس واقعہ کا چرچا ہونے لگا اس کو ختم کرنے کے لئے ان کو مصلحت اس میں نظر آئی کہ کچھ عرصہ کے لئے یوسف ؑ کو جیل میں بند کردیا جائے تاکہ اپنے گھر میں ان شبہات کا کوئی…
Read the full tafseer →فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ ۭ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۔
دعا کی قبولیت : حضرت یوسف کی زبان سے یہ دعا اس وقت نکلی ہے جب وہ اپنی پوری طاقت اپنے ایمان و اخلاق کی حفاظت کے لیے نچوڑ چکے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ ان بیگمات کی پیدا کی ہوئی پرفتن زندگی کے مقابل میں جیل کی پر محن زندگی کو قبول کرنے پر راضی ہیں۔ جب بندہ اس حد تک اپنی استقامت دکھا دینے کے بعد اپنے آپ کو اپنے رب کے آگے ڈال دیتا ہے اور اس سے مدد مانگتا ہے تو اس کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے اور فوراً قبول ہوتی ہے۔ چناچہ حضرت یوسف کی دعا بھی قبول ہوئی اور شیطان کے ان نسوانی پھندوں سے انہوں نے نجات پائی۔ انہ ھو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
35۔ 1 عفت و پاک دامنی واضح ہوجانے کے باوجود یوسف ؑ کو حوالہ زنداں کرنے میں یہی مصلحت ان کے پیش نظر ہوسکتی تھی کہ عزیز مصر حضرت یوسف ؑ کو اپنی بیوی سے دور رکھنا چاہتا ہوگا تاکہ وہ دوبارہ یوسف ؑ کو اپنے دام میں پھنسانے کی کوشش نہ کرے جیسا کہ وہ ایسا ارادہ رکھتی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
23: یعنی اگرچہ حضرت یوسف ؑ کی بےگناہی اور پارسائی کے بہت سے دلائل ان لوگوں کے سامنے آچکے تھے، لیکن عزیز مصر نے اپنی بیوی کو بدنامی سے بچانے اور اس واقعے کا چرچا ختم کرنے کے لئے مناسب سمجھا کہ کچھ عرصے تک انہیں قید خانے ہی میں بند رکھا جائے۔
Read the full tafseer →اللہ نے ان کی سازشوں کو کس طرح پھیرا ، یہ کہ وہ ان سے مایوس ہوگئیں ، انہوں نے بہت سی چالیں چلیں اور تجربات کیے مگر وہ ان کے دام میں نہ آئے کہ عنقا را بلند است آشیانہ۔ یہ بھی صورت تھی کہ ان فتنہ سامانیوں کا حضرت پر اثر ہی نہ ہوتا ، اللہ سمیع وعلیم ہے وہ تو سب کچھ دیکھ رہا ہے ، سن رہا ہے ، یہاں آ کر حضرت یوسف زندگی کے اس دوسرے امتحان اور آزمائش میں کامیاب رہے۔ (بفضل اللہ و رحمتہ)
Read the full tafseer →7 یعنی ان کو عصمت و عفت پر پوری طرح ثابت قدم رکھا کسی کا فریب چلنے نہ دیا۔
8 یعنی سب کی دعائیں سنتا ہے اور خبر رکھتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اپنے مانگے سے قید میں پڑے لیکن اللہ تعالیٰ نے اتنا ہی قبول فرمایا کہ ان کا فریب دفع کردیا، باقی قید ہونا قسمت میں۔ آدمی کو چاہیے کہ گھبرا کر اپنے حق میں برائی نہ مانگے، پوری بھلائی مانگے گو ہوگا وہی جو قسمت میں ہے۔ " ترمذی میں ہے کہ ایک شخص کو حضور ﷺ نے یہ دعا مانگتے سنا۔ " اَللَّہُمَّ اِنِّی اَسْاَلُکَ الصَّبْرَ ۔ " (اے اللہ میں تجھ سے صبر مانگتا ہوں) آپ نے فرمایا " سألت اللّٰہ البلاء فاسئلہ العافیۃ " (تو نے اللہ سے بلا طلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
وَلَىِٕنْ لَّمْ يَفْعَلْ مَآ اٰمُرُهٗ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِيْنَ
اس عورت کا دھڑلے سے خصوصی دعوت کا اہتمام کرنا اور اس میں سب کو فخر سے بتانا کہ دیکھ لو یہ ہے وہ شخص جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کرتی تھیں اور پھر پوری بےحیائی سے اعلان کرنا کہ ایک دفعہ تو یہ مجھ سے بچ گیا ہے مگر کب تک ؟ آخر کار اسے میری بات ماننا ہوگی ! اس سے تصور کیا جاسکتا ہے کہ ان کی اس انتہائی اونچی سطح کی سوسائٹی کی مجموعی طور پر اخلاقی حالت کیا تھی !
Read the full tafseer →34 یعنی سیدنا یوسف کو اللہ تعالیٰ نے ایسا عزم و استقلال بخشا کہ کسی عورت کا ان پر جادو نہ چل سکا۔
Read the full tafseer →66۔ (یعنی آپ (علیہ السلام) کو عصمت وعفاف کے مقام بلند سے ذرا بھی ہٹنے نہ دیا) فاستجاب لہ ربہ “۔ آپ (علیہ السلام) کی دعا وہ کون سی تھی جو قبول ہوئی ؟ وہ دعا بھی ثبات عصمت کی تھی کہ ایسے تقوی شکن حالات میں بھی میرے قدم ثبات کو ذرا بھی لغزچش نہ ہو۔
67۔ بڑا سننے والا دعاؤں اور ظاہر الفاظ کا اور خوب جاننے والا دلوں کے احوال و اسرار کا۔ قرآن مجید پیغمبر پرستی کے امکان پر بار بار ضرب لگاتا جاتا ہے۔ ہر اصلی بڑائی کو اللہ ہی کی جانب منسوب کرتا رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
آیت نمبر 30 تا 35
ترجمہ : اور شہر مصر کی عورتیں آپس میں چرچا کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام کے پیچھے پڑی ہوئی ہے محبت نے اس کو بےقرار کر رکھا ہے، اس کی محبت اس کے دل کے نہاں خانوں میں پیوست ہوگئی ہے، ہمارے نزدیک تو وہ اس سے محبت کرنے کے معاملہ میں صریح غلطی پر ہے جب عزیز کی بیوی نے ان کی مکارانہ باتیں یعنی انکی بدگوئی کی باتیں سنیں تو ان کو بلاوا بھیج دیا اور ان کیلئے چھری سے کاٹ کر کھایا جانے والا کھانا تیار کرایا اس کھانے کو متکئا اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کو کھاتے وقت تکیہ لگا لیتے ہیں۔
دوسرا ترجمہ : اور ان کیلئے مسندوں سے آراستہ مجلس تیار کرائی اور وہ کھانا ترنج تھا، اور ان میں…
Read the full tafseer →فاستجاب لہ ربہ پس اللہ نے یوسف کی دعا قبول کرلی۔ حضرت یوسف نے کہا تھا : وَاِلاَّ تَصْرِفْ عَنِّیْ کَیْدَھُنَّ یہ لفظ درپردہ دعا کو متضمن تھا۔
فصرف عنہ کیدھن انہ ھو السیمع العلیم پس اس کی طرف سے ان عورتوں کے مکر کو پلٹ دیا (عصمت پر حضرت یوسف کو ثابت قدم رکھا کہ انہوں نے لذت آگیں گناہ پر قیدخانہ کو ترجیح دی) بلاشبہ وہ (اہل التجا کو دعاؤں کو) سننے والا اور (ان کے احوال و مصالح کو) بخوبی جاننے والا ہے۔
Read the full tafseer →(34) چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور عورتوں کے مکر و فریب سے ان کو دور رکھا، بیشک وہ دعاؤں کا سننے والا اور ان کی قبولیت کو جاننے والا ہے یا کہ ان عورتوں کی باتوں کا سننے والا اور ان کے داؤ پیچ کو جاننے والا ہے۔
Read the full tafseer →فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ۔۔ : اس کے پروردگار نے اس کی دعا قبول کرکے ان سب عورتوں کا مکر و فریب اس سے ہٹا دیا، چناچہ اس کے بعد کوئی واقعہ پیش نہیں آیا کہ کسی عورت نے انھیں پھسلانے کی کوشش کی ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ جمال یوسفی پر ہیبت نبوت کی زرہ ڈال دی گئی، جیسا کہ ہمارے نبی ﷺ کو ایسی دعوت دینے کی کسی عورت کو کبھی جرأت ہی نہیں ہوئی، حالانکہ ان کے حسن و جمال کا اندازہ ہی نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
آیت نمبر 35
اس میں چار مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ ثم بدالھم یعنی عزیز اور اس کے مشیروں کے لیے ظاہر ہوا من بعد ماراوا الاٰیٰت اس سے مراد حضرت یوسف (علیہ السلام) کی برات کی علامات اور نشایناں ہیں، جس طرح کہ قمیض کا پیچھے سے پھٹنا، گواہ کی گواہی، ہاتھوں کا کٹنا، حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ملاقات سے ان عورتوں کا قلت صبر وغیرہ۔ اس کے باوجود انہوں نے یہ مناسب سمجھا کہ وہ آپ کو قید کردیں تاکہ وہ اس قصہ کو عام لوگوں میں مشہور ہونے سے چھپا سکیں اور قید کو حضرت یوسف (علیہ السلام) اور زلیخا کے درمیان حائل کعسکیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ آیات سے مراد وہ برکات ہیں جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ان میں رہائش…
Read the full tafseer →1:۔ ابن منذر (رح) نے بکر بن عبداللہ (رح) سے روایت کیا کہ عزیز مصر کی عورت یوسف (علیہ السلام) کے پاس آئی جب اس عورت نے ان کو دیکھا تو ان کو پہچان لیا اور کہنے لگی سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں کہ جس نے غلام کو اپنے اطاعت کی وجہ سے بادشاہ بنادیا اور بادشاہ کو اپنی نافرمانی کی وجہ سے غلام بنادیا۔
Read the full tafseer →[فَاسْتَجَابَ : تو قبول کی ] [ لَهٗ : ان (علیہ السلام) کی بات ] [ رَبُّهٗ : ان (علیہ السلام) کے رب نے ] [ فَصَرَفَ : پس اس نے پھیر دیا ] [ عَنْهُ : ان (علیہ السلام) سے ] [ كَيْدَهُنَّ : ان عورتوں کی چالبازی کو ] [ انهٗ : بیشک وہ ] [هُوَ السَّمِيْعُ : ہی سننے والا ہے ] [الْعَلِيْمُ : جاننے والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
جیل میں دو قیدیوں کا خواب دیکھنا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) سے تعبیر دینے کی درخواست کرنا
جیسا کہ اوپر معلوم ہوا عزیز مصر کے مشورہ دینے والوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جیل میں بھجوا دیا۔ اسی موقع پر دو جوان بھی جیل میں داخل ہوئے تھے اور ان کے علاوہ پہلے سے بھی قیدی موجود تھے سیدنا حضرت یوسف (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے نبی تھے ‘ عبادت گزار تھے خوش اخلاق تھے قیدیوں کے ساتھ اچھی طرح پیش آتے تھے صالحین کے چہرے پر تو نور ہوتا ہی ہے پھر یہاں تو نور نبوت بھی تھا اور ظاہری حسن و جمال بھی بےمثال تھا قیدی لوگ دلدادہ ہوگئے یہاں تک کہ جیلر بھی بہت زیادہ متاثر ہوا اور کہنے لگا کہ اگر میں خود مختار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
قصی دعوت زلیخا زنان مصر رامشتمل بر اعتراف عصمت و عفت یوسف (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ وقال نسوۃ فی المدینۃ امرات العزیز .... الیٰ .... لیسجننہ حتی حین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان فرمایا کہ جب عزیز مصر پر یہ واضح ہوگیا کہ یوسف (علیہ السلام) بالکل بےقصود ہیں اور یہ سب اس کی بیوی کا خود ساختہ مکر اور فریب ہے تو عزیز مصر نے یوسف (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ اعرض عن ھذا۔ کہ اے یوسف (علیہ السلام) اس بات سے درگزر کر اور کسی سے اس کا ذکر نہ کر اور بیوی سے کہا کہ واستغفری لذنبک۔ کہ یوسف (علیہ السلام) سے اپنے قصور کی معافی مانگ۔
عزیز مصر کا مقصود یہ تھا کہ یہ قصہ پوشیدہ رہے اور اس کا چرچا نہ ہو مگر ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
32:۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دل میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی، میرے آقا ! جس گناہ کی یہ مجھے دعوت دے رہی ہیں اس سے مجھے قید ہوجانا زیادہ پسند ہے، میرے اللہ ! اگر تو نے ان مکار عورتوں کے فریب سے مجھے نہ بچایا تو میرے دل میں ان کی رغبت پیدا ہوجائے گی اور میں نادانوں میں سے ہوجاؤں گا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) قادر و متصرف نہ تھے اسی لیے وہ گناہ سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی توفیق اور دستگیری کی محتاج تھے۔ ” فَا سْتَجَابَ لَہٗ رَبُّہٗ الخ “ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور عورتوں کے مکر سے ان کو بچا لیا۔ ” ثُمَّ بَدَا لَھُمْ الخ “ یہ ” فَصَرَفَ عَنْہُ کَیدَھُنَّ “ کا بیان ہے۔ عزیز مصر نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
ربط آیات
جب مصر میں یہ مشہور ہوگیا کہ عزیز مصر کی بیوی نے اپنے غلام کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی ہے تو اونچے طبقے کی عورتوں نے زلیخا کو بدنام کرنا شروع کردیا۔ اس کے جواب میں زلخیا نے ایک مجلس طعام کا اہتمام کیا جسمیں تمام معزز خواتین بیگمات اور امیر زادیوں کو مدعو کیا۔ اس معاشرے کے رواج کے مطابق بڑی پرتکلف دعوت کی گئی جس میں چھری کانٹا بھی استعمال کے لئے رکھا گیا۔ زلیخا کا مقصد یہ ھتا کہ جس غلام کے نام پر یہ عورتیں اسے بدنام کر رہی ہیں اسے خود بھی ایک نظر دیکھ لیں او اس کے بعد فیصلہ کریں کہ میری مجبوری کیا ہے جب وہ سب عورتیں کھانے کے لئے بیٹھ گئیں تو زلیخا نے کسی بہانے سے یوسف (علیہ…
Read the full tafseer →فَاسْتَجَابَ لَہٗ رَبُّہٗ فَصَرَفَ عَنْہُ كَيْدَہُنَّ 0ۭ اِنَّہٗ ہُوَالسَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ 34
استجاب
والاستجابة قيل : هي الإجابة، وحقیقتها هي التحري للجواب والتهيؤ له، لکن عبّر به عن الإجابة لقلة انفکاکها منها، قال تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ [ الأنفال/ 24]
( ج و ب ) الجوب
الاستاأبتہ بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی اجابتہ ( افعال ) کے ہے اصل میں اس کے معنی جواب کے لئے تحری کرنے اور اس کے لئے تیار ہونے کے ہیں لیکن اسے اجابتہ سے تعبیر کرلیتے ہیں کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتے ۔ قرآن میں ہے : اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ [ الأنفال/ 24] کہ خدا اور اس کے رسول کا حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
1 ؎ پھل تراش کر کھانے کو 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
فَاسْتَجَابَ لَہٗ رَبُّہٗ فَصَرَفَ عَنْہُ کَیْدَھُنَّ ط اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔
(سورۃ یوسف : 34)
(تو اس کے رب نے اس کی دعا قبول فرمائی اور دور کردیا اس سے ان عورتوں کے مکر و فریب کو، بیشک وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ )
حضرت یوسف (علیہ السلام) نے گزشتہ آیت کریمہ میں جو دعا مانگی تھی کہ الٰہی ان عورتوں کے مکر و فریب سے مجھے نجات دے دے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا۔ جب تک وہ باہر رہے، اللہ تعالیٰ نے انھیں استقامت عطا فرمائی اور جب انھیں جیل بھیج دیا گیا تو اب جیل کی دیواریں ان کی پاکدامنی کی دیواریں بن گئیں۔
ثُمَّ بَدَا لَھُمْ مِّنْ م بَعْدِمَارَااَوُا الْاٰیٰتِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بےبسی کے عالم میں مانگی ہوئی دعا قبول ہوئی ہے۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) زر خرید غلام اور غریب الوطن ہونے کی وجہ سے ہر طرف سے بےبس اور مجبور تھے۔ اگر فرار کا راستہ اختیار کرتے تو ان کے سامنے جیل خانہ یا موت تھی۔ دوسری طرف ایک نہیں کئی عورتیں بےحیائی کے چنگل میں پھنسانا چاہتی تھیں۔ یوسف (علیہ السلام) جائیں تو جائیں کہاں۔ مزید یہ کہ اس عورت نے ذلیل کرنے یا جیل کی کال کوٹھڑی میں ڈالنے کی دھمکی دی تھی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر اس کا اظہار کیا کہ جس بےشرمی اور بےحیائی کی تو مجھے دعوت دیتی ہے اور اس کے نہ…
Read the full tafseer →34: فَاسْتَجَابَ لَہٗ رَبُّہٗ جب یوسف (علیہ السلام) کی دعا میں طلب صرف کی دعا تھی تو بارگاہ الٰہی سے جواب ملا۔ اس کے رب نے اسکی دعا کو قبول کرلیا۔ استجاب اجاب کے معنی میں ہے۔ فَصَرَفَ عَنْہُ کَیْدَ ھُنَّ اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (پس پھیر دیا اسنے ان کے فریب کو بیشک وہی ہر بات کو سننے والاجاننے والا ہے) پناہ مانگنے والوں کی التجائوں کو سننے والا اور یوسف (علیہ السلام) اور ان عورتوں کے حال کو جاننے والا ہے۔
Read the full tafseer →34۔” فاستجاب لہ ربہ فصرف عنہ کیدھن انہ ھو السمیع العلیم “ ان کے بلاوے کو سننے والا اور ان کے مکر کو جاننے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
32۔ 34۔ اوپر کی آیت میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ عورتوں کے تذکرہ کی خبر جب زلیخا کو پہنچی تو اس نے ایک محفل آراستہ کر کے ان عورتوں کو بلایا اور فراغت طعام کے بعد ترنج اور چھری دی کہ کاٹ کاٹ کر کھائیں اور اسی اثنا میں یوسف (علیہ السلام) کو ان کے سامنے بلایا۔ یوسف (علیہ السلام) کے جمال کو دیکھ کر ساری عورتیں حیرت میں آگئیں اور اپنی اپنی انگلیاں کاٹ لیں اور بےساختہ کہہ اٹھیں کہ یہ تو بشر نہیں معلوم ہوتا یہ کوئی بزرگ فرشتہ ہے اس پر یہ بات زلیخا نے کہی کہ جسے تم فرشتہ سمجھ رہی ہو اور جس کے حسن کو دیکھ کر آپے سے باہر ہوگئیں اور کسی کے ہوش ٹھکانے نہ رہے یہ وہی شخص ہے جس پر میں بدل و جان فریفتہ ہوں اسی کی…
Read the full tafseer →فاستجاب لہ ربہ) ” تو اس کے رب نے اس کی دعا قبول کرلی۔ “ جب یوسف نے دعا مانگی، اللہ تعالیٰ نے اسے قبول فرما لیا (فصرف عنہ کیدھن) ” پس ان سے ان عورتوں کا فریب پھیر دیا “ وہ عورت جناب یوسف پر ڈورے ڈال کر ان کو اپنے دام فریب میں پھانسنے کی کوشش کرتی رہی اور اس سلسلے میں وہ تمام وسائل استعمال کرتی رہی جو اس کی قدرت و اختیار میں تھے۔ یہاں تک کہ یوسف نے اس کو مایوس کردیا اور اللہ تعالیٰ نے اس مکرو فریب کو یوسف سے رفع کردیا۔ (انہ ھو السمیع) اللہ تعالیٰ دعا مانگنے والے کی دعا کو سنتا ہے (العلیم) اور اس کی نیک نیت اور کمزور فطرت کو خوب جانتا ہے جو اس کی مدد، معاونت اور اس کے لطف و کرم کا تقاضا کرتی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
شاہد کون تھا ؟
قول باری ہے وشھد شاھدمن اھلھا ان کان قمیصہ قد من قبل فصدقت وھو من الکاذبین ۔ اس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے قرینے کی شہادت پیش کی کہ اگر یوسف کا قیمص آگے سے پھٹا ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت ابوہریرہ ؓ ، سعید بن جبیر اور ہلال بن یسار سے مروی ہے کہ پن گھوڑے میں پڑا ہوا ایک بچہ تھا ۔ جس نے یہ گواہی پیش کی ۔ حضرت ابن عباس سے ایک اور روایت کے مطابق ، نیز حسن ، ابن ملیکہ اور عکرمہ سے مروی ہے کہ یہ ایک مرد تھا جس نے شہادت پیش کی تھی ۔ عکرمہ کا قول ہے کہ عزیز مصرنے جب حضرت یوسف کو دروازے پر پھٹی ہوئی قمیص کے ساتھ دیکھا تو اس نے اپنے ایک چچا زاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
58۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عفت و عظمت شان کا ایک مظہر و نمونہ :
کہ اس عورت کی اس دھمکی سے بھی آپ ذرا مرعوب نہیں ہوئے۔ سبحان اللہ۔ کتنا اونچا اور کس قدر پاکیزہ ہوتا ہے حضرات انبیائے کرام کا باطن کہ طرح طرح کے مخاوف اور ہولناک خطرات بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پائے استقلال واستقامت میں ذرہ برابر کوئی لغزش وجنبش پیدا نہ کرسکے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین۔ یہاں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ابتلاء و آزمائش کا ایک نیادور شروع ہوتا ہے کہ اپنی ہوی وہوس میں ناکامی کے بعداب وہ عورت انتقام لینے پر آمادہ ہوگئی اور اس کے لیے اس نے آنجناب کو اتنی بڑی صاف وصریح اور کھلی دھمکی دے ڈالی۔ اور وہ تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–57
انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب
ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔
تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
آیات 30 تا 35
اسرار و معارف
جب کوئی بات وقوع پذیر ہوتی ہے ترکب چھپتی ہے ۔ آخر اس کی سن گن تو نکل ہی جاتی ہے چناچہ یہ بات بھی درباری امراء کی بیویوں تک پہنچی تو انھیں بہت حیرت ہوئی کہ عجیب بات ہے کہ ایک امیر کی بیوی اور خادم پہ عاشق ہوجائے یا ایک زرخرید غلام کی محبت کی اسیر ہوجائے یہ تو بہت ہی نامناسب بات ہے۔ عزیز مصر کی بیوی اور یہ کردار تو بہت ہی غلط کام ہے ۔ لیکن ایک حدتک اندر سے وہ بھی بیقرار تھیں کہ دیکھیں کہ دیکھیں تو سہی وہ حسین ہے کیساجس پر عزیز مصر کی بیوی فدہ ہوگئی ۔ لہٰذا انھوں نے اس طرح کی باتیں بنائیں کہ زلیخا سن کر خود ہی یہ چاہے گی کہ ہم بھی دیکھ سکیں تاکہ اسے طعنہ دینے سے با…
Read the full tafseer →ف 7 ۔ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اپنے مانگے یہ قید پڑے لیکن اللہ تعالیٰ نے اتنا ہی قبول فرمایا کہ ان کا فریب دفع کیا اور قید ہونا تھا قسمت میں، آدمی کو چاہیے کہ گھبرا کر اپنے حق میں برائی نہ مانگے پوری بھلائی مانگے گو کہ وہی ہوتا ہے جو قسمت میں ہوتا ہے۔ (موضح) ۔ منقول ہے کہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) کی طرف اللہ تعالیٰ نے وحی کی : یوسف ( علیہ السلام) تم نے خود ہی اپنے اوپر زیادتی کی ہے کہ جیل کو پسند کیا۔ اگر تم یہ دعا کرتے کہ اللہ مجھے عافیت محبوب ہے تو تمہیں عافیت مل جاتی۔ ترمذی میں حضرت معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دعا کی : اللھم اسئلک الصبر “۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا : میاں تم نے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
(12:34) استجاب۔ اس نے قبول کیا۔ اس نے مانا۔ استجابۃ (افتعال) سے جس کے معنی قبول کرنے اور ماننے کے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 35
السجن (جیل، قید خانہ) احب (زیادہ محبوب ہے، زیادہ پسندیدہ ہے) الی (میری طرف، مجھے ) یدعون (وہ بلاتے ہیں ) الا تصرف (اگر تو نہیں پھیرتا ہے ) اصب میں مبتلا ہوجاؤں گا کان میں ہوجاؤں گا حین زمانہ، وقت
تشریح : آیت نمبر 33 تا 35
زلیخا (عزیز مصر کی بیوی) صاف الفاظ میں کہہ چکی تھی کہ یوسف کو ہر حال میں میری بات ماننا پڑے گی۔ اگر اس نے میری ابت نہ مانی تو میں اس کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ضرور پہنچا دوں گی حضرت یوسف زلیخا اور بیگمات مصر کی بےتکی اور فضول باتوں سے بہت رنجیدہ تھے۔ آخر کار حضرت یوسف اللہ کی بارگاہ میں جھک گئے اور نہایت عزجزی کے ساتھ عرض کیا۔ الٰہی ! یہ عورتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
حضرت یوسف (علیہ السلام) نے عصمت بچانے کی غرض سے قید کی دعا مانگی اور قبول ہوئی اور قید خانے گئے
یوسف (علیہ السلام) نے ان باتوں سے تنگ دل ہوکر یوں کیا '' یا الہی ! ان کی باتوں سے اور ان کے مکروں سے مجھے تو یہ بات اچھی معلوم ہوتی ہے کہ قید میں جاؤں۔ ان کی درخواستوں کے منظور کرنے سے مجھے روحانی تکلیف ہے اور قید خانے میں اگر تکلیف ہوگی تو جسمانی۔ ان کی مجلس میں تیری نافرمانی کا اندیشہ ہے وہاں یہ کھٹکا تو نہ ہوگا۔ یا الہی ! اگر تو مجھے ان کے مکر سے نہ بچائے گا اور تیری حفاظت میرے شامل حال نہ ہوگی مجھے اتنی طاقت نہیں کہ میں ان کی طرف میلان نہ کروں۔ بلکہ مجھے یہ پختہ اندیشہ ہے کہ میں ان کی بات مان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
[16] یعنی اپنی ناک بچانے کے لئے انھیں مصلحت اسی میں نظر آئی کہ کچھ عرصے کے لئے یوسف (علیہ السلام) کو جیل بھیجوا دیں۔ انہوں نے خیال کیا ہوگا کہ اس طرح کچھ مدت کے بعد عزیز کی بیوی کے دل سے یوسف (علیہ السلام) کا خیال بھی نکل جائے گا اور جو لوگ اس میں دلچسپی لے رہے ہیں ان کی توجہ بھی ہٹ جائے گی اور وہ خیال کریں گے کہ قصور یوسف (علیہ السلام) ہی کا تھا چناچہ اس کو سزا ملی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
(ف 1) حضرت یوسف (علیہ السلام) نے عزیزہ مصر کا تو یہ جواب دیا ، کہ میں جیل میں جانا پسند کرتا ہوں مگر بہ دعوت معصیت قبول نہیں اور ان عورتوں کے متعلق جو دیدہ حیرت بن کر یوسف کو تک رہی تھیں ، اور چاہتی نہیں کہ کسی طرح ہماری کوئی ادا اسے پسند آجائے ، یہ دعا مانگی ، کہ اللہ ان نازک مواقع پر تو ہی ہے جو اپنے بندوں کو گناہوں سے بچاتا ہے ، جب چاروں طرف سے معصیت کے بادل گھر آئیں ، تو وہی ہے جو پاکدامنی کی توفیق مرحمت فرماتا ہے حقیقت یہ ہے کہ اس مقام پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا دعا کرنا اور برائی سے متاثر نہ ہونا انتہا درجے کی خدا پرستی ہے ۔
غور کرو ، خوش جمال عورتوں کا براجما بیٹھا ہے ، اور عشق و…
Read the full tafseer →34 پھر اس کے رب نے اس کی دعا قبول فرمالی اور ان عورتوں کے فریب اور دائوں پیچ کو حضر ت یوسف (علیہ السلام) سے دور کردیا بیشک اللہ تعالیٰ بڑا سننے والا خوب جاننے والا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اپنے مانگے سے قید میں پڑے لیکن اللہ تعالیٰ نے اتنا ہی قبول فرمایا کہ ان کا فریب رفع کیا اور قید ہونا تھا قسمت میں
آدمی کو چاہئے کہ گھبرا کر اپنے حق میں برائی نہ مانگے پوری بھلائی مانگے کہ وہی ہوگا جو قسمت میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
ف 2۔ یوسف (علیہ السلام) کا یہ فرمانا الاتصرف عنی۔ منافی عصمت کے نہیں کیونکہ یہ عصمت بھی تو بدولت حفاظت خداوندی ہی کے ہے چونکہ انبیاء کی نظر اصلی موثر کی طرف ہوتی ہے اس لیے ان کو اپنی عصمت پر اعتماد اور ناز نہیں ہوتا اور یوسف کا یہ کہنا الاتصرف مقصود اس سے یہ ہے کہ اصرف عنی اس لیے اس کے بعد فاستجاب فرمایا اور اس استجابت کا بیان خود قرآن میں ہے فصرف عنہ۔
فائدہ۔ سجن میں جانا جزو استجابت نہیں جیسا کہ مشہور ہے کہ قید کی دعا کی اس لیے قید میں گئے کیونکہ قید کی درخواست تو نہیں کی صرف فعل قبیح کا سجن سے اقبح ہونا بیان کیا۔
Read the full tafseer →یوسف کی دعا قبول ہوگئی اور عورتوں کی ساری مکاریاں رک گئیں
۔ 45 ” ’ یکھو ! اس کے پروردگار نے اس کی دعا قبول کرلی۔ “ اور آپ کو معصیت و عفاف کے بلند مقام سے ذرا بھی ہٹنے نہ دیا۔ آپ کی دعا وہ کو سنی دعا تھی جو قبول ہوئی ؟ وہ دعا یقینا ثبات عصمت کی تھی کہ ایسے تقویٰ شکن حالات میں بھی میرے قدم ثبات کو ذرا بھی لغزش نہ ہو اور حسن عریاں کی کوئی یورش آپ کو متزلزل نہ کرسکے اور بحمد للہ وہ حرف بہ حرف پوری ہوگئی کہ بلاشبہ وہی ذات کبریا دعائوں کا سننے والا اور ہر انسان کے ہر حال سے بخوبی واقف ہے۔
عزیز مصر پر یوسف (علیہ السلام) کی سچائی ظاہر ہوگئی اس لئے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی تھی لیکن اس کی بیوی کا…
Read the full tafseer →After that, said in verse 34 was:
فَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّهُ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
So, his Lord accepted his prayer and turned their guile away from him. Surely, He is the All-Hearing, the All-Knowing.
To protect him from the guile of these women, Allah Ta ala made his own wise arrangements. Though the ` Aziz of Misr and his inner circle was already convinced of the great spiritual qualities of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) his piety, fear of Allah and chastity, but rumours of the incident had started circulating in the city. To put a check on this,…
Read the full tafseer →29. Allah warded off their guile from Prophet Joseph by strengthening his character in such a way as to make ineffective all their devices to ensnare him, This also implies that Allah opened the door of prison for him in order to keep him safe from their tricks and temptations.
Read the full tafseer →