Yusuf 12:33

Yusuf · from ayah 33

12:33

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ ۚ— وَاِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَاَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ ۟قَالَ رَبِّ السِّجۡنُ اَحَبُّ اِلَىَّ مِمَّا يَدۡعُوۡنَنِىۡۤ اِلَيۡهِ‌ۚ وَاِلَّا تَصۡرِفۡ عَنِّىۡ كَيۡدَهُنَّ اَصۡبُ اِلَيۡهِنَّ وَاَكُنۡ مِّنَ الۡجٰهِلِيۡنَ‏

یوسف نے دعا کی کہ پروردگار جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اس کی نسبت مجھے قید پسند ہے۔ اور اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور نادانوں میں داخل ہوجاؤں گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

He said, "My Lord, prison is more to my liking than that to which they invite me. And if You do not avert from me their plan, I might incline toward them and [thus] be of the ignorant."

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 4 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:33

یوسفؑ نے کہا "اے میرے رب، قید مجھے منظور ہے بہ نسبت اس کے کہ میں وہ کام کروں جو یہ لوگ مجھ سے چاہتے ہیں اور اگر تو نے ان کی چالوں کو مجھ سے دفع نہ کیا تو میں ان کے دام میں پھنس جاؤں گا اور جاہلوں میں شامل ہو رہوں گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یوسف نے دعا کی کہ پروردگار جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اس کی نسبت مجھے قید پسند ہے۔ اور اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور نادانوں میں داخل ہوجاؤں گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

یوسف نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار! جس بات کی طرف یہ عورتیں مجھے بلا رہی ہیں اس سے تو مجھے جیل خانہ بہت پسند ہے، اگر تو نے ان کا فن فریب مجھ سے دور نہ کیا تو میں تو ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا اور بالکل نادانوں میں جا ملوں گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

یوسف نے دعا کی کہ : یا رب ! یہ عورتیں مجھے جس کام کی دعوت دے رہی ہیں، اس کے مقابلے میں قید خانہ مجھے زیادہ پسند ہے۔ اور اگر تو نے مجھے ان کی چالوں سے محفوظ نہ کیا تو میرا دل بھی ان کی طرف کھنچنے لگے گا، اور جو لوگ جہالت کے کام کرتے ہیں، ان میں میں بھی شامل ہوجاؤں گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یوسف نے عرض کی اے میرے رب! مجھے قید خانہ زیادہ پسند ہے اس کام سے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اور اگر تو مجھ سے ان کا مکر نہ پھیرے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوں گا اور نادان بنوں گا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اب زنانِ مصر بھی زلیخا کی ہم نوا بن گئی تھیں) یوسف ؑ نے (سب کی باتیں سن کر) عرض کیا: اے میرے رب! مجھے قید خانہ اس کام سے کہیں زیادہ محبوب ہے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اور اگر تو نے ان کے مکر کو مجھ سے نہ پھیرا تو میں ان کی (باتوں کی) طرف مائل ہو جاؤں گا اور میں نادانوں میں سے ہو جاؤں گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا اے میرے رب ! مجھے قید خانہ اس سے زیادہ محبوب ہے جس کی طرف یہ سب مجھے دعوت دے رہی ہیں اور اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور جاہلوں سے ہوجاؤں گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یوسف نے کہا : اے میرے پروردگار ! جس چیز کی طرف مجھے بلارہی ہیں اس سے تو مجھے قید ہی زیادہ پسند ہے اور اگر تو نے ان کے مکر کو مجھ سے دور نہ رکھا تو میں ان کی طرف جھک جاؤں گا اور جاہلوں سے ہوجاؤں گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے دعا کی اے میرے رب ! قید خانہ مجھے اس چیز کے مقابل میں زیادہ محبوب ہے جس کی یہ مجھے دعوت دے رہی ہیں اور اگر تو نے ان کے چرتر کو مجھ سے دفع نہ کیا تو میں ان کی طرف مائل اور جذبات سے مغلوب ہوجانے والوں میں سے ہوجاؤں گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(یوسف نے اپنے رب کے حضور) عرض کیا اے میرے رب، مجھے جیل جانا زیادہ محبوب ہے، بہ نسبت اس کام کے، جس کی طرف یہ عورتیں مجھے بلا رہی ہیں، اور اگر تو نے دور نہ فرمایا مجھ سے ان کے مکر (و فریب کے اس جال) کو، تو میں مائل ہوجاؤں گا ان کی طرف، اور شامل ہو بیٹھوں گا جاہلوں میں،

— مولانا اسحاق مدنی

(یوسف ؑ نے) عرض کی کہ اے میرے پروردگار قیدخانہ مجھے گوارا تر ہے بہ مقابلہ اس (کام) کے جس کی طرف مجھے یہ لوگ بلارہی ہیں۔ اور اگر تو ان کے چرتر کو مجھ سے دفع نہ کردے گا تو میں انہی کی (صلاح کی) طرف مائل ہوجاؤں گا اور نادانوں میں شامل ہوجاؤں گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یوسف نے دعا کی : اے میرے پروردگار ! مجھے قید زیادہ پسند ہے اس چیز سے جس کی طرف یہ مجھے بلا رہی ہیں اور اگر تو نے مجھ سے دور نہ کردیا ان کی چالوں کو تو (ہو سکتا ہے) میں بھی ان کی طرف مائل ہوجاؤں اور جاہلوں میں سے ہوجاؤں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یوسف نے دعا کی کہ پروردگار ! جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اس کی بجائے مجھے قید پسند ہے اور اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور نادانوں میں شمار ہوجاؤں گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Joseph said: "My Lord! I prefer imprisonment to what they ask me to do. And if You do not avert from me the guile of these women, I will succumb to their attraction and lapse into ignorance."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He (Yusuf) said, :My Lord, the prison is dearer to me than what these women invite me to do. If You do not turn their guile away from me, I shall get inclined towards them and shall be among the ignorant.

— Muhammad Taqi Usmani

He (Yusuf) said, :My Lord, the prison is dearer to me than what these women invite me to do. If You do not turn their guile away from me, I shall get inclined towards them and shall be among the ignorant.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "O my Lord! Prison is dearer to me than that to which they invite me. Unless You turn away their plot from me, I will feel inclined towards them and be one of the ignorant."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: O my Lord! Prison is more dear than that unto which they urge me, and if Thou fend not off their wiles from me I shall incline unto them and become of the foolish.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He said, "My Lord, prison is more to my liking than that to which they invite me. And if You do not avert from me their plan, I might incline toward them and [thus] be of the ignorant."

— Saheeh International

Joseph said, "Lord, prison is dearer to me than that which women want me to do. Unless You protect me from their guile, I shall be attracted to them in my ignorance".

— Muhammad Sarwar

He said: My Lord! the prison house is dearer to me than that to which they invite me; and if Thou turn not away their device from me, I will yearn towards them and become (one) of the ignorant.

— Muhammad Habib Shakir

He said: my Lord: prison is dearer to me than that to which these women call me; and if Thou avertest not their guile from me should incline toward them and become of the Ignorant.

— Abdul Majid Daryabadi

He said: "O my Lord! the prison is more to my liking than that to which they invite me: Unless Thou turn away their snare from me, I should (in my youthful folly) feel inclined towards them and join the ranks of the ignorant."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:33

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 30–34

داستان عشق اور حسینان مصر اس داستان کی خبر شہر میں ہوئی، چرچے ہونے لگے، چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب و حقارت سے اس قصے کو دوہرایا کہ دیکھو عزیر کی بیوی ہے اور ایک غلام پر جان دے رہی ہے، اس کی محبت کو اپنے دل میں جمائے ہوئے ہے۔ شغف کہتے ہیں حد سے گذری ہوئی قاتل محبت کو اور شغف اس سے کم درجے کی ہوتی ہے۔ دل کے پردوں کو عورتیں شغاف کہتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ عزیز کی بیوی صریح غلطی میں پڑی ہوئی ہے۔ ان غیبتوں کا پتہ عزیز کی بیوی کو بھی چل گیا۔ یہاں لفظ مکر اس لیے بولا گیا ہے کہ بقول بعض خود ان عورتوں کا یہ فی الواقع ایک کھلا مکر تھا۔ انہیں تو دراصل حسن یوسف کے دیدار کی تمنا تھی یہ تو صرف ایک حیلہ بنایا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یُوْسُف 28 یہ آیات ہمارے سامنے ان حالات کا ایک عجیب نقشہ پیش کرتی ہیں جن میں اس وقت حضرت یوسف ؑ مبتلا تھے۔ انیس بیس سال کا ایک خوبصورت نوجوان ہے جو بدویانہ زندگی سے بہترین تندرستی اور بھری جوانی لیے ہوئے آیا ہے۔ غریبی، جلاوطنی اور جبری غلامی کے مراحل سے گزرنے کے بعد قسمت اسے دنیا کی سب سے بڑی متمدن سلطنت کے پایہ تخت میں ایک بڑے رئیس کے ہاں لے آئی ہے۔ یہاں پہلے تو خود اس گھر کی بیگم یہ اس کے پیچھے پڑجاتی ہے جس سے اس کا شب و روز کا سابقہ ہے۔ پھر اس کے حسن کا چرچا سارے دارالسلطنت میں پھیلتا ہے اور شہر بھر کے امیر گھرانوں کی عورتیں اس پر فریفتہ ہوجاتی ہیں۔ اب ایک طرف وہ ہے اور دوسری طرف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اور قرآن کریم کے بعض الفاظ جو آگے آتے ہیں ان سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے مثلا يَدْعُوْنَنِي اور كَيْدِكُنَّ جن میں چند عورتوں کا قول بصیغہ جمع ذکر کیا گیا ہے، حضرت یوسف ؑ نے جب یہ دیکھا کہ یہ عورتیں بھی اس کی موافقت اور تائید کر رہی ہیں اور ان کے مکر وکید سے بچنے کی ظاہری کوئی تدبیر نہ رہی تو پھر اللہ جل شانہ کی طرف ہی رجوع فرمایا اور بارگاہ رب العزت میں عرض کیا رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَيَّ مِمَّا يَدْعُوْنَنِيْٓ اِلَيْهِ ۚ وَاِلَّا تَصْرِفْ عَنِّيْ كَيْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَيْهِنَّ وَاَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِيْنَ یعنی اے میرے پالنے والے یہ عورتیں مجھے جس کام کی طرف دعوت دیتی ہیں اس سے تو مجھے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَيَّ مِمَّا يَدْعُوْنَنِيْٓ اِلَيْهِ ۚ وَاِلَّا تَصْرِفْ عَنِّيْ كَيْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَيْهِنَّ وَاَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِيْن۔ حضرت یوسف کی دعا : یہ دھمکی تو زلیخا نے حضرت یوسف کو مرعوب کرنے کے لیے دی تھی کہ اس سے ڈر کر وہ اس کی خواہش پوری کرنے پر آمادہ ہو ہی جائیں گے لیکن حضرت یوسف نے ہوس کے ان پھندوں کے مقابل میں جیل کی بیڑیوں کو بسا غنیمت جانا۔ انہوں نے فوراً دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے کہ پروردگار ! ان کی دعوت ہوس کے مقابلے میں یہ جیل مجھے کہیں زیادہ عزیز و محبوب ہے اور ساتھ ہی ناز اور اعتماد کا یہ فقرہ بھی فرما گئے کہ اگر تو نے ان کے ان فتنوں سے اب مجھے نہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

33۔ 1 حضرت یوسف ؑ نے یہ دعا اپنے دل میں کی۔ اس لئے کہ ایک مومن کے لئے دعا بھی ایک ہتھیار ہے۔ حدیث میں آتا ہے، سات آدمیوں کو قیامت والے دن عرش کا سایہ عطا فرمائے گا، ان میں سے ایک وہ شخص ہے جسے ایک ایسی عورت دعوت گناہ دے جو حسن و جمال سے بھی آراستہ ہو اور جاہ و منصب کی حامل ہو۔ لیکن وہ اس کے جواب میں کہہ دے کہ میں تو ' اللہ ' سے ڈرتا ہوں (صحیح بخاری)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 32–33

22: بعض روایات میں ہے ان عورتوں نے جو پہلے زللیخا کو ملامت کر رہی تھیں، حضرت یوسف ؑ کو دیکھنے کے بعد الٹی حضرت یوسف ؑ کو نصیحنت کرنی شروع کردی کہ تمہیں اپنی مالکہ کا کہنا ماننا چاہیے اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان عورتوں میں بھی کچھ نے انہیں تنہائی میں نصیحت کے بہانے بلا کر گناہ کی دعوت دینی شروع کی۔ اس لیے حضرت یوسف ؑ نے اپنی دعا میں صرف زلیخا کا نہیں بلکہ تمام عورتوں کا ذکر فرمایا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

حضرت یوسف اب صرف عزیز کی بیوی کے خلاف دست بدعا نہیں بلکہ مصر کے اس اعلی طبقے کی عورتیں اب ان کے پیچھے پڑگئی ہیں ، اپنی حرکات اور اپنی باتوں کی وجہ سے تمام عورتیں ان پر بچھی جا رہی ہیں اب وہ اللہ کے سامنے دست بدعا ہوتے ہیں اور ان فتنوں کے مقابلے میں وہ اللہ کی نصرت طلب کرتے ہیں اور اس بات سے ڈرتے ہیں کہ انہیں ہر طرف سے ورغلایا جا رہا ہے اور کسی بھی وقت ان سے کمزوری ظاہر نہ ہونے اس لیے وہ ان حالات میں اور ایسی سخت آزمائش میں خوف کھا رہے ہیں۔ وَاِلَّا تَصْرِفْ عَنِّيْ كَيْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَيْهِنَّ وَاَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِيْنَ : " یہ اس انسان کی پکار ہے جسے اپنی شریعت کا احساس ہے ، وہ جانتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 معلوم ہوتا ہے کہ زلیخا کا مایوسانہ غصہ اور مظلومانہ انداز بیان اس کی ہم جنسوں پر اثر کر گیا۔ یا پہلے ہی سے کچھ ملی بھگت ہوگی، بہرحال لکھا ہے کہ اب عورتوں نے یوسف کو سمجھانا شروع کیا کہ تم کو اپنی محسنہ اور سیدہ کا کہنا ماننا چاہیے۔ آخر اس غریب پر اتنا ظلم کیوں کرتے ہو، پھر یہ بھی سوچ لو کہ نافرمانی کا نتیجہ کیا ہوگا۔ خواہ مخواہ مصیبت سر پر لینے سے کیا فائدہ۔ کہتے ہیں کہ بظاہر زبان سے وہ زلیخا کی سفارش کر رہی تھیں مگر دل ہر ایک کا یوسف کو اپنی طرف کھینچنا چاہتا تھا۔ یوسف نے جب دیکھا کہ یہ عورت بری طرح پیچھے پڑی ہے اور شیطان ہر طرف اپنا جال بچھانے لگا ہے تو نہایت عزم و استقلال اور پیغمبرانہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 32–34

وَلَىِٕنْ لَّمْ يَفْعَلْ مَآ اٰمُرُهٗ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِيْنَ اس عورت کا دھڑلے سے خصوصی دعوت کا اہتمام کرنا اور اس میں سب کو فخر سے بتانا کہ دیکھ لو یہ ہے وہ شخص جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کرتی تھیں اور پھر پوری بےحیائی سے اعلان کرنا کہ ایک دفعہ تو یہ مجھ سے بچ گیا ہے مگر کب تک ؟ آخر کار اسے میری بات ماننا ہوگی ! اس سے تصور کیا جاسکتا ہے کہ ان کی اس انتہائی اونچی سطح کی سوسائٹی کی مجموعی طور پر اخلاقی حالت کیا تھی !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

32 مصری تہذیب کی فحاشی کا نمونہ :۔ غور فرمائیے۔ یہ دور سیدنا یوسف کے لیے کس قدر ابتلاء کا دور تھا۔ پہلے ایک عورت پیچھے پڑی تھی۔ اب شہر بھر کے رؤسا کی حسین و جمیل بیگمات آپ کے پیچھے پڑگئیں جو زبانی تو سیدنا یوسف کو زلیخا کی بات مان لینے اور قید سے بچ جانے کی تلقین کر رہی تھیں مگر حقیقتاً ان میں سے ہر ایک انھیں اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ آپ کا شہر میں آزادانہ چلنا پھرنا بھی مشکل ہوگیا تھا۔ اب آپ کے سامنے دو ہی راستے رہ گئے تھے۔ ایک یہ کہ ان عورتوں کی بات مان لیں اور دوسرے یہ کہ قید ہونا گوارا کرلیں۔ ضمناً اس واقعہ سے اس دور کی اخلاقی حالت پر بھی خاصی روشنی پڑتی ہے کہ بےحیائی کس قدر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

64۔ زلیخانے ابھی ابھی قید کی دھمکی دی تھی اس پر یوسف (علیہ السلام) دعا میں عرض کرتے ہیں کہ پروردگار ! مجھے جیل کی سختیاں گوارا ہیں اور ان لوگوں کی نفسانی مشوروں پر عمل گوارا نہیں۔ اللہ اکبر کیا مقام تھا عصمت یوسفی کا۔ خوب خیال رہے حضرت یوسف (علیہ السلام) جیل جانے کی دعا نہیں کررہے ہیں۔ جیل جانا اپنا مقصود نہیں قراردے رہے ہیں صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ معصیت کا صدور تو مجھے جیل کی سختیوں سے بھی ناگوار تر ہے۔ بعض عارفوں نے لکھا ہے کہ مصیبت کو معصیت پر اختیار کرنا صدیقین کا شیوہ ہے اور اپنے تقوی و تحمل پر بھروسہ نہ رکھنا بلکہ معصیت کے دواعی واسباب سے بھاگتے رہنا سعادت مندوں کا شعار ہے۔ 65۔ کمال عبدیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 30–35

آیت نمبر 30 تا 35 ترجمہ : اور شہر مصر کی عورتیں آپس میں چرچا کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام کے پیچھے پڑی ہوئی ہے محبت نے اس کو بےقرار کر رکھا ہے، اس کی محبت اس کے دل کے نہاں خانوں میں پیوست ہوگئی ہے، ہمارے نزدیک تو وہ اس سے محبت کرنے کے معاملہ میں صریح غلطی پر ہے جب عزیز کی بیوی نے ان کی مکارانہ باتیں یعنی انکی بدگوئی کی باتیں سنیں تو ان کو بلاوا بھیج دیا اور ان کیلئے چھری سے کاٹ کر کھایا جانے والا کھانا تیار کرایا اس کھانے کو متکئا اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کو کھاتے وقت تکیہ لگا لیتے ہیں۔ دوسرا ترجمہ : اور ان کیلئے مسندوں سے آراستہ مجلس تیار کرائی اور وہ کھانا ترنج تھا، اور ان میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال رب السجن احب الی مما یدعونني یوسف نے کہا : اے میرے رب ! جس چیز کی طرف وہ مجھے بلا رہی ہیں ‘ اس سے تو مجھے جیل خانہ زیادہ پسند ہے۔ یعنی زنا سے تو جیل اچھی۔ دعوت گناہ صراحۃً اگرچہ صرف زلیخا نے دی تھی لیکن اشارہ دوسری عورتوں کی طرف سے بھی تھا کہ حضرت یوسف مان لیں ‘ اسلئے دعوت کی نسبت سب عورتوں کی طرف کردی۔ یا اس وجہ سے دعوت کی نسبت سب عورتوں کی طرف کی کہ نافرمانی کے نتیجۂ بد سے ان عورتوں نے یوسف کو ڈرایا تھا اور فرمان پذیری ہی کو حضرت یوسف کے حق میں بہتر قرار دیا تھا۔ بعض علماء کا قول ہے کہ ہر عورت نے حضرت یوسف کو اپنی طرف کھینچنا چاہا تھا۔ بعض علماء نے کہا : اگر حضرت یوسف قید خانہ کو پسند…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(33) حضرت یوسف ؑ نے جب یہ دیکھا تو اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اے میرے پروردگار جس فضول کام کی طرف یہ مجھے بلارہی ہیں اس سے تو جیل میں جانا ہی مجھے بہتر ہے۔ اور اگر آپ انکے داؤ پیچ کو مجھ سے دفع نہ کریں گے تو ان کی صلاح کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور آپ کی نعمت سے نادان ہوجاؤں گا یا یہ کہ نادانی کا کام کر بیٹھوں گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَيَّ ً۔۔ : یوسف ؑ کے لیے یہ سخت امتحان کا وقت تھا، ان کے سامنے ایک طرف معصیت، یعنی اللہ کی نافرمانی ہے جس کے نتیجے میں ان کی ہر طرح ناز برداری ہوتی۔ دوسری طرف مصیبت ہے جو قید کی صورت میں ہے اور عزیز مصر کی بیوی قسم کھا کر (لام تاکید اور نون تاکید قسم کا فائدہ دیتے ہیں) اپنی حکم عدولی کی صورت میں قید کروانے کا عزم ظاہر کر رہی ہے۔ اس امتحان میں اللہ کے خاص بندے کبھی معصیت الٰہی کو ترجیح نہیں دیتے، بلکہ مصیبت قبول کرکے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردیتے ہیں۔ ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (سَبْعَۃٌ یُظِلُّھُمُ اللّٰہُ فِيْ ظِلِّہِ یَوْمَ لَا ظِلَّ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 33 تا 34 قال رب السجن احب الی ممایدعوننی الیہ، السجن اصل میں دخول السجن ہے مضاف کو حذف کردیا گیا یہ قول زجاج اور نحاس کا ہے۔ احب الی یعنی یہ میرے لیے معصیت ونافرمانی میں مبتلا ہونے کی نسبت زیادہ آسان ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جیل میں داخل ہونا کوئی پسندیدہ اور محبوب بات ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے عرض کیا : السجن احب الی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی فرمائی : اے یوسف ! السجن احب الی کہہ کے تو نے اپنے آپ کو قید کرلیا، اگر میرے نزدیک پسندیدہ ہے تو میں آپ کو عافیت دے دیتا۔ ابوحاتم نے بیان کیا ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے السجن کو سین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور بیان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

عزت بچانے کے لئے جیل کی زندگی پسند کرنا : 1:۔ سعید (رح) نے اپنی تفسیر میں وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عیینہ (رح) سے روایت کیا کہ دعا کی توثیق دی جاتی ہے مقدر کے مطابق کیا تو نے نہیں دیکھا کہ یوسف نے عرض کیا (آیت) ” رب السجن احب الی “ پھر کہا تھا کہ اپنے آقا کے پاس میرا ذکر کردینا تو جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور ان کے سامنے ایک چٹان سے پردہ ہٹادیا اور (یوسف (علیہ السلام) سے فرمایا آپ کیا دیکھتے ہیں فرمایا ایک چیونٹی کو دیکھ رہا ہوں جو چٹان کو کاٹ تو رہی ہے ؟ تو جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ آپ کے رب فرماتے ہیں کہ میں اس (چیونٹی) کو نہیں بھولا پھر تجھ کو کیسے بھولوں گا میں نے تجھے اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ رَبِ : اے میرے رب ] [ السِّجْنُ : قید خانہ ] [اَحَبُّ : زیادہ پسندیدہ ہے ] [ اِلَيَّ : میرے لیے ] [مِمَا : اس سے ] [ يَدْعُوْنَنِيْٓ: یہ عورتیں بلاتی ہیں مجھ کو ] [اِلَيْهِ : جس کی طرف ] [وَاِلَّا تَصْرِفْ : اور اگر تو نے نہ پھیرا ] [ عَنِيْ : مجھ سے ] [ كَيْدَهُنَّ : ان کی چالبازی کو ] [اَصْبُ : ان کی چالبازی کو ] اِلَيْهِنَّ : ان عورتوں کی طرف ] [ وَاَكُنْ : اور میں ہو جائوں گا ] [ مِّنَ الْجٰهِلِيْنَ : جاہلوں میں سے ] ص ب و [صُبُوًّا : (ن) (1) کسی کے لئے مشتاق ہونا۔ کسی کی طرف مائل ہونا۔ زیر مطالعہ آیت 33 ۔ (2) بچپن کی طرف مائل ہونا۔ نابالغ ہونا۔]…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 31–33

حضرت یوسف (علیہ السلام) کا دعا کرنا کہ اے میرے رب ان عورتوں کے مطالبہ کے مطابق عمل کرنے کی بجائے میرے لئے جیل بہتر ہے اس کے بعد جیل میں تشریف لے جانا پہلے معلوم ہوچکا کہ عزیز مصر کی بیوی نے اپنے شوہر کو دروازہ کے قریب دیکھ کر یہ مشورہ دے دیا تھا کہ اسے جیل میں ڈالا جائے یا درد ناک سزا دی جائے ‘ پھر جب شہر کی دوسری عورتیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کا حسن و جمال دیکھ کر مبہوت ہوگئیں اور عزیز مصر کی بیوی نے ان سے کہا کہ دیکھو تم مجھ پر طعن وتشنیع کر رہی تھیں خود تمہارا کیا حال بنا اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ اگر اس نے میری بات نہ مانی تو اس کو جیل جانا پڑے گا تو اب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–35

قصی دعوت زلیخا زنان مصر رامشتمل بر اعتراف عصمت و عفت یوسف (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ وقال نسوۃ فی المدینۃ امرات العزیز .... الیٰ .... لیسجننہ حتی حین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان فرمایا کہ جب عزیز مصر پر یہ واضح ہوگیا کہ یوسف (علیہ السلام) بالکل بےقصود ہیں اور یہ سب اس کی بیوی کا خود ساختہ مکر اور فریب ہے تو عزیز مصر نے یوسف (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ اعرض عن ھذا۔ کہ اے یوسف (علیہ السلام) اس بات سے درگزر کر اور کسی سے اس کا ذکر نہ کر اور بیوی سے کہا کہ واستغفری لذنبک۔ کہ یوسف (علیہ السلام) سے اپنے قصور کی معافی مانگ۔ عزیز مصر کا مقصود یہ تھا کہ یہ قصہ پوشیدہ رہے اور اس کا چرچا نہ ہو مگر ”…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 33–35

32:۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دل میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی، میرے آقا ! جس گناہ کی یہ مجھے دعوت دے رہی ہیں اس سے مجھے قید ہوجانا زیادہ پسند ہے، میرے اللہ ! اگر تو نے ان مکار عورتوں کے فریب سے مجھے نہ بچایا تو میرے دل میں ان کی رغبت پیدا ہوجائے گی اور میں نادانوں میں سے ہوجاؤں گا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) قادر و متصرف نہ تھے اسی لیے وہ گناہ سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی توفیق اور دستگیری کی محتاج تھے۔ ” فَا سْتَجَابَ لَہٗ رَبُّہٗ الخ “ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور عورتوں کے مکر سے ان کو بچا لیا۔ ” ثُمَّ بَدَا لَھُمْ الخ “ یہ ” فَصَرَفَ عَنْہُ کَیدَھُنَّ “ کا بیان ہے۔ عزیز مصر نے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 32–35

ربط آیات جب مصر میں یہ مشہور ہوگیا کہ عزیز مصر کی بیوی نے اپنے غلام کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی ہے تو اونچے طبقے کی عورتوں نے زلیخا کو بدنام کرنا شروع کردیا۔ اس کے جواب میں زلخیا نے ایک مجلس طعام کا اہتمام کیا جسمیں تمام معزز خواتین بیگمات اور امیر زادیوں کو مدعو کیا۔ اس معاشرے کے رواج کے مطابق بڑی پرتکلف دعوت کی گئی جس میں چھری کانٹا بھی استعمال کے لئے رکھا گیا۔ زلیخا کا مقصد یہ ھتا کہ جس غلام کے نام پر یہ عورتیں اسے بدنام کر رہی ہیں اسے خود بھی ایک نظر دیکھ لیں او اس کے بعد فیصلہ کریں کہ میری مجبوری کیا ہے جب وہ سب عورتیں کھانے کے لئے بیٹھ گئیں تو زلیخا نے کسی بہانے سے یوسف (علیہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَيَّ مِمَّا يَدْعُوْنَنِيْٓ اِلَيْہِ۝ 0 ۚ وَاِلَّا تَصْرِفْ عَنِّيْ كَيْدَہُنَّ اَصْبُ اِلَيْہِنَّ وَاَكُنْ مِّنَ الْجٰہِلِيْنَ۝ 33 سجن السَّجْنُ : الحبس في السِّجْنِ ، وقرئ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ [يوسف/ 33] ( س ج ن ) السجن ( مصدرن ) قید خانہ میں بند کردینا ۔ اور آیت ۔ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ [يوسف/ 33] اے میرے پروردگار قید خانہ میں رہنا مجھے زیادہ پسند ہے ۔ حب والمحبَّة : إرادة ما تراه أو تظنّه خيرا، وهي علی ثلاثة أوجه : - محبّة للّذة، کمحبّة الرجل المرأة، ومنه : وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً [ الإنسان/ 8] . - ومحبّة للنفع،…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْٓ اِلَیْہِ ج وَالِاَّ تَصْرِفْ عَنِّیْ کَیْدَھُنَّ اَصْبُ اِلَیْھِنَّ وَاَکُنْ مِّنَ الْجٰھِلِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 33) (یوسف ( علیہ السلام) نے دعا کی اے میرے رب قیدخانہ کی صعوبتیں مجھے زیادہ پسند ہیں اس گناہ سے جس کی طرف لوگ مجھے بلاتے ہیں اور اگر تو نے ان کے چرتر کو مجھ سے دفع نہ کیا تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور جذبات سے مغلوب ہوجانے والوں میں سے ہوجاؤں گا۔ ) چند حقائق اس آیت کریمہ میں پہلی ہی نظر میں چند حقیقتیں اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہیں جن میں سب سے پہلی حقیقت یہ ہے کہ ایک مومن کا مزاج جو ایمان و عمل کے سائے میں تیار ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 33–35

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بےبسی کے عالم میں مانگی ہوئی دعا قبول ہوئی ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) زر خرید غلام اور غریب الوطن ہونے کی وجہ سے ہر طرف سے بےبس اور مجبور تھے۔ اگر فرار کا راستہ اختیار کرتے تو ان کے سامنے جیل خانہ یا موت تھی۔ دوسری طرف ایک نہیں کئی عورتیں بےحیائی کے چنگل میں پھنسانا چاہتی تھیں۔ یوسف (علیہ السلام) جائیں تو جائیں کہاں۔ مزید یہ کہ اس عورت نے ذلیل کرنے یا جیل کی کال کوٹھڑی میں ڈالنے کی دھمکی دی تھی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر اس کا اظہار کیا کہ جس بےشرمی اور بےحیائی کی تو مجھے دعوت دیتی ہے اور اس کے نہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

33۔ جب یوسف (علیہ السلام) نے اسکی یہ دھمکی سنی تو بارگاہ الٰہی میں درخواست پیش کردی۔ دعائے مستجاب : قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْ اِلَیْہِ (اے میرے رب مجھے قید اسکی بنسبت محبوب ہے جس کی طرف یہ دعوت دیتی ہیں) دعوت کا اسناد تمام کی طرف اس لئے کیا کیونکہ وہ راعیل کی سفارشی بنی تھیں ماعلیک لواجبت مولا تک یا ہر ایک نے فدا ہو کر خفیہ یوسف کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کی۔ پس انہوں نے بارگاہ الٰہی میں التجاء کی اے باری تعالیٰ قید و بند مجھے معصیت کے ارتکاب سے زیادہ پسند ہے۔ وَاِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ کَیْدَ ھُنَّ (اگر آپ نے ان کے فریب کو میری طرف سے نہ ہٹایا) ان سے بچنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

33۔” قال رب “ اے میرے رب ” السجن احب الی مما یدعوننی الیہ ‘ ‘ بعض نے کہا ہے کہ بلا واتو صرف اس عورت کی طرف سے تھا لیکن یوسف (علیہ السلام) نے ان سب کی طرف نسبت کردی ۔ صراحت کی جگہ کنایہ استعمال کرلیا اور بعض نے کہا ہے کہ ان سب نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنی طرف بلایا تھا اور بعض نے کہا ہے کہ اگر یوسف (علیہ السلام) یہ نہ کہتے کہ قید مجھے زیادہ محبوب ہے تو قید میں نہ مبتلا ہوتے اور زیادہ مناسب یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرے۔” والا تصرف عنی کیدھن اصب ایھن “ ان کی طرف مائل ہوں گا اور ان کی اتباع کروں گا ۔ کہا جاتا ہے ” صبا فلان الی کذایصبوا صبواً وصبواً و صبوۃ “ جب کسی کی طرف مائل و…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 32–34

32۔ 34۔ اوپر کی آیت میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ عورتوں کے تذکرہ کی خبر جب زلیخا کو پہنچی تو اس نے ایک محفل آراستہ کر کے ان عورتوں کو بلایا اور فراغت طعام کے بعد ترنج اور چھری دی کہ کاٹ کاٹ کر کھائیں اور اسی اثنا میں یوسف (علیہ السلام) کو ان کے سامنے بلایا۔ یوسف (علیہ السلام) کے جمال کو دیکھ کر ساری عورتیں حیرت میں آگئیں اور اپنی اپنی انگلیاں کاٹ لیں اور بےساختہ کہہ اٹھیں کہ یہ تو بشر نہیں معلوم ہوتا یہ کوئی بزرگ فرشتہ ہے اس پر یہ بات زلیخا نے کہی کہ جسے تم فرشتہ سمجھ رہی ہو اور جس کے حسن کو دیکھ کر آپے سے باہر ہوگئیں اور کسی کے ہوش ٹھکانے نہ رہے یہ وہی شخص ہے جس پر میں بدل و جان فریفتہ ہوں اسی کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

تب یوس فنے اپنے رب سے پناہ مانگی اور ان عورتوں کے مکر و فریب کے مقابلے میں اپنے رب سے مدد کے طلب گار ہئے (قال رب السجن احب الی مما یدعننی الیہ) ” انہوں نے کہا، اب رب ! مجھے قید اس سے زیادہ پسند ہے جس طرح یہ مجھے بلا رہی ہیں “ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ ان عورتوں نے یوسف کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی مالکہ کا حکم مانیں اور ان عورتوں نے یوسف کو فریب سے پھسلانا شروع کردیا تھا۔ اس لئے یوسف نے اس لذت کے مقابل ی میں، جو اخروی عذاب کی موجب ہے، قید خانے اور دنیاوی عذاب کو پسند کیا۔ (ولا تصرف عنی کیدھن اصب الیھن) ” اور اگر تو نے ان عورتوں کی چالوں اور مکر و فریب کو مجھ سے دور نہ کیا تو میں ان کی طرف مائل…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 26–35

شاہد کون تھا ؟ قول باری ہے وشھد شاھدمن اھلھا ان کان قمیصہ قد من قبل فصدقت وھو من الکاذبین ۔ اس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے قرینے کی شہادت پیش کی کہ اگر یوسف کا قیمص آگے سے پھٹا ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت ابوہریرہ ؓ ، سعید بن جبیر اور ہلال بن یسار سے مروی ہے کہ پن گھوڑے میں پڑا ہوا ایک بچہ تھا ۔ جس نے یہ گواہی پیش کی ۔ حضرت ابن عباس سے ایک اور روایت کے مطابق ، نیز حسن ، ابن ملیکہ اور عکرمہ سے مروی ہے کہ یہ ایک مرد تھا جس نے شہادت پیش کی تھی ۔ عکرمہ کا قول ہے کہ عزیز مصرنے جب حضرت یوسف کو دروازے پر پھٹی ہوئی قمیص کے ساتھ دیکھا تو اس نے اپنے ایک چچا زاد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 33–35

58۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عفت و عظمت شان کا ایک مظہر و نمونہ : کہ اس عورت کی اس دھمکی سے بھی آپ ذرا مرعوب نہیں ہوئے۔ سبحان اللہ۔ کتنا اونچا اور کس قدر پاکیزہ ہوتا ہے حضرات انبیائے کرام کا باطن کہ طرح طرح کے مخاوف اور ہولناک خطرات بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پائے استقلال واستقامت میں ذرہ برابر کوئی لغزش وجنبش پیدا نہ کرسکے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین۔ یہاں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ابتلاء و آزمائش کا ایک نیادور شروع ہوتا ہے کہ اپنی ہوی وہوس میں ناکامی کے بعداب وہ عورت انتقام لینے پر آمادہ ہوگئی اور اس کے لیے اس نے آنجناب کو اتنی بڑی صاف وصریح اور کھلی دھمکی دے ڈالی۔ اور وہ تھی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–57

انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔ تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–35

آیات 30 تا 35 اسرار و معارف جب کوئی بات وقوع پذیر ہوتی ہے ترکب چھپتی ہے ۔ آخر اس کی سن گن تو نکل ہی جاتی ہے چناچہ یہ بات بھی درباری امراء کی بیویوں تک پہنچی تو انھیں بہت حیرت ہوئی کہ عجیب بات ہے کہ ایک امیر کی بیوی اور خادم پہ عاشق ہوجائے یا ایک زرخرید غلام کی محبت کی اسیر ہوجائے یہ تو بہت ہی نامناسب بات ہے۔ عزیز مصر کی بیوی اور یہ کردار تو بہت ہی غلط کام ہے ۔ لیکن ایک حدتک اندر سے وہ بھی بیقرار تھیں کہ دیکھیں کہ دیکھیں تو سہی وہ حسین ہے کیساجس پر عزیز مصر کی بیوی فدہ ہوگئی ۔ لہٰذا انھوں نے اس طرح کی باتیں بنائیں کہ زلیخا سن کر خود ہی یہ چاہے گی کہ ہم بھی دیکھ سکیں تاکہ اسے طعنہ دینے سے با…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 ۔ ” یہاں صیغہ تفضیل (احب) اپنے اصلی معنی میں نہیں ہے بلکہ دو مصیبتوں میں سے ” اہوں “ کو اختیار فرما رہے ہیں۔ “ یہ ہے اصل تقویٰ ۔ حدیث میں ہے کہ سات آدمی ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سایہ میں جگہ دے گا جس دن کہ اس کے سایہ کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔ عادل حکمران، وہ نوجوان جس نے اللہ کی عبادت میں نشوونماپائی۔ وہ شخص جو مسجد سے جب بھی باہر جاتا ہے اس کا دل مسجد میں اٹکا رہتا ہے یہاں تک واپس آجائے۔ وہ دو آدمی جنہوں نے اللہ ہی کی رضا جوئی کے لئے آپس میں ایک دوسرے سے محبت کی، اسی محبت پر جمع ہوئے اور اسی محبت پر جدا ہوئے۔ وہ آدمی جس نے اپنا صدقہ اس قدر چھپا کردیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(12:33) رب۔ ای یاربی۔ اے میرے رب۔ احب۔ افعل التفضیل کا صیغہ ۔ زیادہ پیارا۔ زیادہ عزیز۔ یدعوننی۔ یدعون مضارع جمع مؤنث غائب دعوۃ سے (باب نصر) فی ضمیر مفعول واحد متکلم ۔ وہ مجھے بلاتی ہیں۔ الا تصرف عنی۔ الا۔ ان لا۔ صرف عن۔ کسی کو کسی چیز سے پھیر دینا۔ ہٹا دینا۔ لاتصرف مضارع منفی واحد مذکر حاضر۔ الا تصرف عننی۔ اگر تو (ان کے چرتر کو) مجھ سے پھیر نہ دیگا ہٹا نہ دے گا ۔ یا دور نہ کر دے گا۔ اصب۔ صبا یصبوا (باب نصر) صبوۃ وصبو۔ کسی چیز کی طرف مائل ہونا۔ اصب مضارع واحد متکلم۔ میں مائل ہوجاؤں گا۔ اصب اصل میں اصبو تھا۔ جواب شرط کی وجہ سے واؤ حذف ہوگیا۔ اکن اصل میں اکون تھا۔ مضارع واح دمتکلم ۔ جواب شرط…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 33–35

لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 35 السجن (جیل، قید خانہ) احب (زیادہ محبوب ہے، زیادہ پسندیدہ ہے) الی (میری طرف، مجھے ) یدعون (وہ بلاتے ہیں ) الا تصرف (اگر تو نہیں پھیرتا ہے ) اصب میں مبتلا ہوجاؤں گا کان میں ہوجاؤں گا حین زمانہ، وقت تشریح : آیت نمبر 33 تا 35 زلیخا (عزیز مصر کی بیوی) صاف الفاظ میں کہہ چکی تھی کہ یوسف کو ہر حال میں میری بات ماننا پڑے گی۔ اگر اس نے میری ابت نہ مانی تو میں اس کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ضرور پہنچا دوں گی حضرت یوسف زلیخا اور بیگمات مصر کی بےتکی اور فضول باتوں سے بہت رنجیدہ تھے۔ آخر کار حضرت یوسف اللہ کی بارگاہ میں جھک گئے اور نہایت عزجزی کے ساتھ عرض کیا۔ الٰہی ! یہ عورتیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 33–35

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے عصمت بچانے کی غرض سے قید کی دعا مانگی اور قبول ہوئی اور قید خانے گئے یوسف (علیہ السلام) نے ان باتوں سے تنگ دل ہوکر یوں کیا '' یا الہی ! ان کی باتوں سے اور ان کے مکروں سے مجھے تو یہ بات اچھی معلوم ہوتی ہے کہ قید میں جاؤں۔ ان کی درخواستوں کے منظور کرنے سے مجھے روحانی تکلیف ہے اور قید خانے میں اگر تکلیف ہوگی تو جسمانی۔ ان کی مجلس میں تیری نافرمانی کا اندیشہ ہے وہاں یہ کھٹکا تو نہ ہوگا۔ یا الہی ! اگر تو مجھے ان کے مکر سے نہ بچائے گا اور تیری حفاظت میرے شامل حال نہ ہوگی مجھے اتنی طاقت نہیں کہ میں ان کی طرف میلان نہ کروں۔ بلکہ مجھے یہ پختہ اندیشہ ہے کہ میں ان کی بات مان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 32–35

[16] یعنی اپنی ناک بچانے کے لئے انھیں مصلحت اسی میں نظر آئی کہ کچھ عرصے کے لئے یوسف (علیہ السلام) کو جیل بھیجوا دیں۔ انہوں نے خیال کیا ہوگا کہ اس طرح کچھ مدت کے بعد عزیز کی بیوی کے دل سے یوسف (علیہ السلام) کا خیال بھی نکل جائے گا اور جو لوگ اس میں دلچسپی لے رہے ہیں ان کی توجہ بھی ہٹ جائے گی اور وہ خیال کریں گے کہ قصور یوسف (علیہ السلام) ہی کا تھا چناچہ اس کو سزا ملی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 32–34

(ف 1) حضرت یوسف (علیہ السلام) نے عزیزہ مصر کا تو یہ جواب دیا ، کہ میں جیل میں جانا پسند کرتا ہوں مگر بہ دعوت معصیت قبول نہیں اور ان عورتوں کے متعلق جو دیدہ حیرت بن کر یوسف کو تک رہی تھیں ، اور چاہتی نہیں کہ کسی طرح ہماری کوئی ادا اسے پسند آجائے ، یہ دعا مانگی ، کہ اللہ ان نازک مواقع پر تو ہی ہے جو اپنے بندوں کو گناہوں سے بچاتا ہے ، جب چاروں طرف سے معصیت کے بادل گھر آئیں ، تو وہی ہے جو پاکدامنی کی توفیق مرحمت فرماتا ہے حقیقت یہ ہے کہ اس مقام پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا دعا کرنا اور برائی سے متاثر نہ ہونا انتہا درجے کی خدا پرستی ہے ۔ غور کرو ، خوش جمال عورتوں کا براجما بیٹھا ہے ، اور عشق و…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

33 حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار جس بری بات کی طرف یہ عورتیں مجھے بلاتی ہیں اس سے تو جیل خانہ جانہ ہی مجھ کو زیادہ پسند یدہ ہے اور اگر تو نے ان کی فریب کاریوں کو مجھ سے دفع نہ کیا اور نہ ان کے دائوں پیچ کو دور نہ رکھا تو مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں ان کی طرف مائل نہ ہوجائو اور پھر میں جاہلوں میں سے ہوجائو یعنی ان عورتوں کے کید کو اگر مجھ سے دور نہ کیا تو میں نادانوں جاہلوں کا سا کام نہ کر بیٹھوں اگر مجھے قید خانے بھی جانا پڑے تو میں کسی معاصی کے مرتکب ہونے سے قیدکو بہتر سمجھتا ہوں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جو خطرہ ظاہر کیا وہ عصمت کے منافی نہیں ہے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے قید…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 33–36

ف 2۔ یوسف (علیہ السلام) کا یہ فرمانا الاتصرف عنی۔ منافی عصمت کے نہیں کیونکہ یہ عصمت بھی تو بدولت حفاظت خداوندی ہی کے ہے چونکہ انبیاء کی نظر اصلی موثر کی طرف ہوتی ہے اس لیے ان کو اپنی عصمت پر اعتماد اور ناز نہیں ہوتا اور یوسف کا یہ کہنا الاتصرف مقصود اس سے یہ ہے کہ اصرف عنی اس لیے اس کے بعد فاستجاب فرمایا اور اس استجابت کا بیان خود قرآن میں ہے فصرف عنہ۔ فائدہ۔ سجن میں جانا جزو استجابت نہیں جیسا کہ مشہور ہے کہ قید کی دعا کی اس لیے قید میں گئے کیونکہ قید کی درخواست تو نہیں کی صرف فعل قبیح کا سجن سے اقبح ہونا بیان کیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یوسف نے یہ سنا اور اپنے رب کے ہاں بدست دعا ہوگیا کہ اے اللہ ! مجھے قید خانہ منظور ۔ 43 جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے کہ امراۃ العزیز نے گویا یوسف (علیہ السلام) کو ایک طرح کی دھمکی دے دی اور جب یوسف (علیہ السلام) نے اس کی یہ دھمکی سنی اور ان عورتوں میں بھی ضرور ایسی ہوں گی جنہوں نے یوسف کو سمجھایا کہ یوسف نادان نہ بنو ! اپنی جوانی اور حسن پر رحم کرو تم کتنے خوش قسمت ہو کہ مصر کی ایک امیر ترین اور حسین ترین عورت تجھ دل سے چاہتی ہے تم کیوں بضد ہو تم اس کی درخواست کو منظور کرلو اور تم تو ویسے بھی اس کے غلام ہو اور جو کچھ وہ تم کو کہے وہ کرنا ہی ہوگا۔ یہ صورتحال دیکھو کہ آپ دست بدعا ہوگئے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

And some words of the Holy Qur'an which appear later (33) also support it, for example: يَدْعُونَنِي (yad unani: these women invite me) and: كَيْدَهُنَّ (kaidahunna: their guile) where the statement of some women has been mentioned in the plural form. When Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) saw that these women were also supporting Zulaikha and there remained no other visible way to stay safe against their guile, he turned to his ultimate resort, to Allah jalla thana'uh, and before Him, he said: رَ‌بِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ ۖ وَإِلَّا تَصْرِ‌فْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

28. In order to grasp the full significance of this prayer of Prophet Joseph, we should try to form a mental picture of the circumstances in which he was placed at that time. In the light of this passage the picture will be something like this. There is the handsome young man of twenty in the prime of his life, who has brought health and vigor of youth from the desert into Egypt, after passing through the ordeal of forced slavery and exile. Fortune has placed him in the house of one of the highest dignitaries in the capital of the most civilized country of the world at the time. There this…

Read the full tafseer →