Explained with ayahs 30–34
داستان عشق اور حسینان مصر
اس داستان کی خبر شہر میں ہوئی، چرچے ہونے لگے، چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب و حقارت سے اس قصے کو دوہرایا کہ دیکھو عزیر کی بیوی ہے اور ایک غلام پر جان دے رہی ہے، اس کی محبت کو اپنے دل میں جمائے ہوئے ہے۔ شغف کہتے ہیں حد سے گذری ہوئی قاتل محبت کو اور شغف اس سے کم درجے کی ہوتی ہے۔ دل کے پردوں کو عورتیں شغاف کہتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ عزیز کی بیوی صریح غلطی میں پڑی ہوئی ہے۔ ان غیبتوں کا پتہ عزیز کی بیوی کو بھی چل گیا۔ یہاں لفظ مکر اس لیے بولا گیا ہے کہ بقول بعض خود ان عورتوں کا یہ فی الواقع ایک کھلا مکر تھا۔ انہیں تو دراصل حسن یوسف کے دیدار کی تمنا تھی یہ تو صرف ایک حیلہ بنایا…
Read the full tafseer →سورة یُوْسُف 27
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت مصر کے اونچے طبقوں کی اخلاقی حالت کیا تھی۔ ظاہر ہے کہ عزیز کی بیوی نے جن عورتوں کو بلایا ہوگا وہ امراء و رؤسا اور بڑے عہدہ داروں کے گھر کی بیگمات ہی ہوں گی۔ ان عالی مرتبہ خواتین کے سامنے وہ اپنے محبوب نوجوان کو پیش کرتی ہے اور اس کی خوبصورت جوانی دکھا کر انہیں قائل کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ ایسے جوان رعنا پر میں مر نہ مٹتی تو آخر اور کیا کرتی۔ پھر یہ بڑے گھروں کی بہو بیٹیاں خود بھی اپنے عمل سے گویا اس امر کی تصدیق فرماتی ہیں کہ واقعی ان میں سے ہر ایک ایسے حالات میں وہی کچھ کرتی جو بیگم عزیز نے کیا۔ پھر شریف خواتین کی اس بھری مجلس میں معزز میزبان…
Read the full tafseer →(آیت) قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِيْ لُمْتُنَّنِيْ فِيْهِ ۭ وَلَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ ۭ وَلَىِٕنْ لَّمْ يَفْعَلْ مَآ اٰمُرُهٗ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِيْنَ
وہ عورت بولی کہ دیکھ لو وہ شخص یہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے برا بھلا کہتی تھیں اور واقعی میں نے اس سے اپنا مطلب حاصل کرنے کی خواہش کی تھی مگر یہ پاک صاف رہا اور آئندہ یہ میرا کہنا نہ مانے گا تو بیشک جیل خانے بھیجا جائے اور بےعزت بھی ہوگا،
اس عورت نے جب یہ دیکھا کہ میرا راز ان عورتوں پر فاش تو ہو ہی چکا ہے اس لئے ان کے سامنے ہی یوسف ؑ کو ڈرانے دھمکانے لگی بعض مفسرین نے بیان کیا ہے کہ اس وقت یہ سب…
Read the full tafseer →قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِيْ لُمْتُنَّنِيْ فِيْهِ ۭ وَلَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ ۭ وَلَىِٕنْ لَّمْ يَفْعَلْ مَآ اٰمُرُهٗ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِيْن۔
زلیخا کی دھمکی : ان عورتوں کی شکست سے زلیخا کے دل سے اپنی شکست کا غم جاتا رہا۔ اس نے بڑے تیکھے انداز میں ان عورتوں سے کہا کہ یہی ہے وہ جس کے بارے میں تم نے مجھے طعن و طنز کا نشانہ بنا لیا تھا۔ اب تو تمہیں اندازہ ہوا کہ اس کو جیتنا کوئی آسان کام نہیں تھا ! اس میں شبہ نہیں کہ میں نے اس کا دل مٹھی میں لینے کی پوری کوشش کی لیکن یہ اپنے کو بچالے گیا۔ لیکن صاف کہے دیتی ہوں کہ اگر اس نے میرا کہا نہ کیا تو لازماً…
Read the full tafseer →32۔ 1 جب زلیخا نے دیکھا اس کی چال کامیاب رہی ہے اور عورتیں یوسف ؑ کے جلوہ حسن آراء سے مد ہوش ہوگئیں تو کہنے لگی، کہ اس کی ایک جھلک سے تمہارا یہ حال ہوگیا ہے تو کیا تم اب بھی مجھے اس کی محبت میں گرفتار ہونے پر طعنہ زنی کروگی ؟ یہی وہ غلام ہے جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کرتی ہو۔
32۔ 2 عورتوں کی مد ہوشی دیکھ کر اس کو مزید حوصلہ ہوگیا اور شرم و حیا کے سارے حجاب دور کر کے اس نے اپنے برے ارادے کا ایک مرتبہ پھر اظہار کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
22: بعض روایات میں ہے ان عورتوں نے جو پہلے زللیخا کو ملامت کر رہی تھیں، حضرت یوسف ؑ کو دیکھنے کے بعد الٹی حضرت یوسف ؑ کو نصیحنت کرنی شروع کردی کہ تمہیں اپنی مالکہ کا کہنا ماننا چاہیے اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان عورتوں میں بھی کچھ نے انہیں تنہائی میں نصیحت کے بہانے بلا کر گناہ کی دعوت دینی شروع کی۔ اس لیے حضرت یوسف ؑ نے اپنی دعا میں صرف زلیخا کا نہیں بلکہ تمام عورتوں کا ذکر فرمایا۔
Read the full tafseer →قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِيْ لُمْتُنَّنِيْ فِيْهِ " عزیز کی بیوی نے کہا " دیکھ لیا ، یہ ہے وہ شخص جس کے معاملہ میں تم مجھ پر باتیں بناتی تھیں " دیکھ لیا تم نے۔ ذرا اپنی حالت کو تو دیکھ ، بتاؤ تم کیوں حیران و پریشان اور حواس باختہ ہوگئی ہو۔
وَلَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ : " بیشک میں نے اسے رجھانے کی کوشش کی تھی مگر یہ بچ نکلا " اس نے مجھے اسی طرح حواس باختہ کردیا ہے ، میں نے اسے ورغلانے کی بہت کوشش کی مگر یہ بچ نکلتا ہے۔ یہ میری تمام کوششوں اور فتنہ سامانیوں کے مقابلے میں اپنے اصول پر جما ہوا ہے لیکن ۔۔۔ تعجب یہ ہے کہ اس کی مصری معاشرے میں اونچے طبقے کی یہ عورت علانیہ تمام…
Read the full tafseer →3 اب زلیخا کو موقع ملا کہ عورتوں کے طعن وتشنیع کا تیر ان ہی کی طرف لوٹا دے۔ گویا اس وقت " فَذٰلِکُنّ الَّذِی لُمْتُنَّنِی فیہِ " کہہ کر وہ اس شعر کا خلاصہ ادا کر رہی تھی۔
این است کہ خوں خوردہ و دل بردہ بسے را
بسم اللہ اگر تاب ظر ہست کسے را
4 مجمع کا رنگ دیکھ کر زلیخا بالکل ہی کھلی پڑی اور واقعہ کا صاف صاف اظہار کردیا کہ بیشک میں نے ان کا دل لینا چاہا تھا، مگر اس بندہ خدا نے ایسا مضبوط تھامے رکھا کہ کسی طرح نہ دیا۔ یہ خدا تعالیٰ نے شہر کی عورتوں کے مجمع میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی کمال عصمت و عفت اور غایت نزاہت و طہارت کا اقبالی ثبوت پیش کردیا۔ زلیخا کا حال اس وقت وہ ہی تھا جو کسی نے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
وَلَىِٕنْ لَّمْ يَفْعَلْ مَآ اٰمُرُهٗ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِيْنَ
اس عورت کا دھڑلے سے خصوصی دعوت کا اہتمام کرنا اور اس میں سب کو فخر سے بتانا کہ دیکھ لو یہ ہے وہ شخص جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کرتی تھیں اور پھر پوری بےحیائی سے اعلان کرنا کہ ایک دفعہ تو یہ مجھ سے بچ گیا ہے مگر کب تک ؟ آخر کار اسے میری بات ماننا ہوگی ! اس سے تصور کیا جاسکتا ہے کہ ان کی اس انتہائی اونچی سطح کی سوسائٹی کی مجموعی طور پر اخلاقی حالت کیا تھی !
Read the full tafseer →31 زلیخا کی دھمکی :۔ عورتوں کے یہ الفاظ دراصل زلیخا کے اس معاملہ میں سچا ہونے کا اعلان تھا۔ اب وہ ان عورتوں میں سر اٹھا کر کہنے لگی کہ بتلاؤ میں اس معاملہ میں کس قدر قصوروار تھی اور اب میں برملا کہتی ہوں کہ میں اس کے سامنے اپنا نقد دل ہار چکی ہوں اور اب میں اسے اپنی طرف مائل کرنے پر مجبور بھی کروں گی اور اگر اس نے پھر بھی میری بات کی طرف توجہ نہ دی تو میں اسے کسی دوسرے حیلے بہانے جیل بھجوا دوں گی یا اسے میری بات ماننا ہوگی یا پھر وہ ذلیل قید و بند کی مصیبت جھیلے گا۔
Read the full tafseer →61۔ (تو اب تو قائل ہوئیں اور جسے معمولی کنعانی غلام سمجھ رہی تھیں وہ کیسا حسین و جمیل جوان رعنا نکلا ! )
62۔ یوسف صدیق (علیہ السلام) کی پاک دامانی پر یہ مزید بلیغ شہادت زلیخا کی زبان سے ہے۔ (آیت) ” فاستعصم “۔ استعصام۔ نام ہے کمال پاکبازی اور شدت احتیاط کا۔ الاستعصام بناء مبالغۃ یدل علی الاعتناء البلیغ والتحفظ الشدید (کشاف)
63۔ یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دھمکانے اور سنانے کو کہا اور دوسری حسین و جمیل خاتونیں امیرزادیاں اور وزیرزادیاں بھی عجب نہیں جو یوسف (علیہ السلام) کو سمجھانے بجھانے لگی ہوں کہ یہ کیسی حماقت ہے جو ایسی حسین وناز نین مالکہ کو اپنے سے ناخوش کررہے ہو۔ (آیت) ” لیسجنن۔ تاریخ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
آیت نمبر 30 تا 35
ترجمہ : اور شہر مصر کی عورتیں آپس میں چرچا کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام کے پیچھے پڑی ہوئی ہے محبت نے اس کو بےقرار کر رکھا ہے، اس کی محبت اس کے دل کے نہاں خانوں میں پیوست ہوگئی ہے، ہمارے نزدیک تو وہ اس سے محبت کرنے کے معاملہ میں صریح غلطی پر ہے جب عزیز کی بیوی نے ان کی مکارانہ باتیں یعنی انکی بدگوئی کی باتیں سنیں تو ان کو بلاوا بھیج دیا اور ان کیلئے چھری سے کاٹ کر کھایا جانے والا کھانا تیار کرایا اس کھانے کو متکئا اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کو کھاتے وقت تکیہ لگا لیتے ہیں۔
دوسرا ترجمہ : اور ان کیلئے مسندوں سے آراستہ مجلس تیار کرائی اور وہ کھانا ترنج تھا، اور ان میں…
Read the full tafseer →قالت فذلکن الذی لمتنني فیہ زلیخا نے کہا : یہی وہ (کنعانی غلام) ہے (جس کی صورت تم نے اپنے ذہنوں میں بنا رکھی تھی اور) جس کی محبت کے بارے میں تم نے مجھے برا کہا تھا۔ یعنی تم نے اس کے جمال کی صحیح تصویر کشی اپنے خیال میں کی ہی نہ تھی ‘ اس کے حسن کا اندازہ کیا ہی نہ تھا ورنہ مجھے اس کے عشق میں معذور سمجھتیں۔
ولقد راودتہ عن نفسہ فاستعصم اور میں نے ہی اس کو (اپنی طرف مائل کرنے کیلئے) پھسلایا تھا مگر یہ بچا رہا۔ اس نے اپنی عصمت کو بچانے کیلئے میری درخواست قبول کرنے سے انکار کردیا۔
زلیخا نے ان عورتوں کے سامنے اس وقت اپنی حرکت کا اقرار کیا جب اس کو معلوم ہوگیا کہ میری مجبوری ان کی نظر میں ثابت ہوگئی…
Read the full tafseer →(32) تب زلیخا نے ان عورتوں سے کہا کہ یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے لعن طعن کرتی ہو اور واقعی میں نے ان کو اپنی طرف دعوت دی تھی اور اپنا مطلب حاصل کرنے کی خواہش کی تھی، مگر یہ عفت وپاک دامنی کے ساتھ علیحدہ رہے اور اگر آئندہ کو میرا کہنا نہ مانے گا تو جیل بھیجا جائے گا اور بےعزت بھی ہوگا، وہ سب عورتیں بھی حضرت یوسف ؑ سے کہنے لگیں کہ تمہیں اپنی محسنہ سے ایسی بےاعتنائی مناسب نہیں۔
Read the full tafseer →قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِيْ۔۔ : ”ذٰلِکُنَّ“ میں اسم اشارہ ”ذَا“ ہی ہے، جس کے ساتھ مخاطب کی ضمیر یہ دیکھ کر لگائی جاتی ہے کہ مخاطب مرد ہے یا عورت، ایک ہے یا دو یا زیادہ، مثلاً آپ ایک شخص سے مخاطب ہیں اور اسے کسی آدمی کی طرف اشارہ کر کے کچھ بتانا چاہتے ہیں تو کہیں گے : ”ذٰلِکَ الرَّجُلُ الْمَذْکُوْرُ“ یہ وہ مذکور آدمی ہے۔ اگر کسی عورت سے بات کر رہے ہوں گے تو کہیں گے : ”ذٰلِکِ الرَّجُلُ الْمَذْکُوْرُ“ یہ وہ مذکور آدمی ہے۔ اگر آپ یہی بات کہنا چاہتے ہوں اور آپ کے مخاطب دو ہوں تو کہیں گے : ”ذٰلِکُمَا الرَّجُلُ الْمَذْکُوْرُ“ یہ وہ مذکور آدمی ہے۔ جیسا کہ یوسف ؑ نے قید کے دو ساتھیوں سے فرمایا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
آیت نمبر 30 تا 32
وقال نسوۃ فی المدینہ، نسوۃ کو نون کے ضمہ کے ساتھ نسوہ بھی پڑھا گیا ہے۔ یہ اعمش، مفصل اور سلمی کی قرأت ہے اس کی جمع کثرت نساء ہے اس کو قالت نسوہ اور قال نسوہ دونوں طرح پڑھنا جائز ہے جیسے قالت الاعراب اور قال الاعراب یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کہ ابل مصر میں یہ قصہ مشہورہوگیا اور عورتوں نے گفتگو کی۔ ایک قال یہ ہے : یہ عزیز مصر کے ساقی کی بیوی تھی، اس کے نان بائی کی بیوی تھی، اس کے قیدی ساتھی کی بیوی تھی وغیرہ۔ ایک قول یہ ہے : حاجب کی بیوی تھی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے۔ تراعدفتٰھا عن نفسہٖ کلام عرب میں الفتی تو جوان کو کہتے ہیں جبکہ عورت فتاۃ کہلاتی ہے قد شغفھا حبا ایک…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاستعصم “ یعنی وہ (بڑے کام سے) رک گیا۔
2:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاستعصم “ کا معنی ہے فاستعصی۔
Read the full tafseer →[قَالَتْ : اس نے کہا ] [ فَذٰلِكُنَّ : تو یہ ہے ] [ الَّذِي : وہ ] [ لُمْتُنَّنِيْ : تم لوگوں نے ملامت کی مجھ پر ] [فِيْهِ : جس (کے بارے) میں ] [وَلَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ : اور بیشک میں نے پھسلایا ہے اس کو ] [عَنْ نَّفْسِهٖ : اپنے نفس کو (تھامنے سے)] [فَاسْتَعْصَمَ : تو وہ باز رہا ] [وَلَىِٕنْ : اور بیشک اگر ] [ لَمْ يَفْعَلْ : اس نے یہ کہا ] [ مَآ : وہ جو ] [ اٰمُرُهٗ : میں نے کہا اس کو ] [ لَيُسْجَنَنَّ : تو وہ لازماً قید کیا جائے گا ] [وَلَيَكُوْنًا : ور وہ لازماً ہوگا ] [ مِّنَ الصّٰغِرِيْنَ : حقیر ہونے والوں میں سے ]
(آیت۔ 32) لَیَکُوْنًا دراصل نون خفیفہ کے ساتھ لَیَکُوْنَنْ ہے۔ اس کو تنوین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا دعا کرنا کہ اے میرے رب ان عورتوں کے مطالبہ کے مطابق عمل کرنے کی بجائے میرے لئے جیل بہتر ہے اس کے بعد جیل میں تشریف لے جانا
پہلے معلوم ہوچکا کہ عزیز مصر کی بیوی نے اپنے شوہر کو دروازہ کے قریب دیکھ کر یہ مشورہ دے دیا تھا کہ اسے جیل میں ڈالا جائے یا درد ناک سزا دی جائے ‘ پھر جب شہر کی دوسری عورتیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کا حسن و جمال دیکھ کر مبہوت ہوگئیں اور عزیز مصر کی بیوی نے ان سے کہا کہ دیکھو تم مجھ پر طعن وتشنیع کر رہی تھیں خود تمہارا کیا حال بنا اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ اگر اس نے میری بات نہ مانی تو اس کو جیل جانا پڑے گا تو اب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
قصی دعوت زلیخا زنان مصر رامشتمل بر اعتراف عصمت و عفت یوسف (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ وقال نسوۃ فی المدینۃ امرات العزیز .... الیٰ .... لیسجننہ حتی حین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان فرمایا کہ جب عزیز مصر پر یہ واضح ہوگیا کہ یوسف (علیہ السلام) بالکل بےقصود ہیں اور یہ سب اس کی بیوی کا خود ساختہ مکر اور فریب ہے تو عزیز مصر نے یوسف (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ اعرض عن ھذا۔ کہ اے یوسف (علیہ السلام) اس بات سے درگزر کر اور کسی سے اس کا ذکر نہ کر اور بیوی سے کہا کہ واستغفری لذنبک۔ کہ یوسف (علیہ السلام) سے اپنے قصور کی معافی مانگ۔
عزیز مصر کا مقصود یہ تھا کہ یہ قصہ پوشیدہ رہے اور اس کا چرچا نہ ہو مگر ”…
Read the full tafseer →31:۔ زلیخان نے جب عورتوں کی فریفتگی اور وارفتگی دیکھی تو فورًا بول اٹھی کہ دیکھا یوسف کو دیکھ کر تم خود مبہوم و مدہوش ہوگئی ہو اور یہی میری قصور ہے جس پر تم مجھے ملامت کرتی ہو۔ ” وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّہٗ “ اس میں شک نہیں کہ میں نے یوسف کے اسی بےمثال حسن و جمال پر فریفتہ ہو کر اسے ورغلانے کی کوشش کی ہے۔ ” فَاسْتَعْصَمْ “ لیکن وہ صاف بچ گیا ہے اور گناہ سے محفوظ و معصوم رہا ہے۔ یہ زلیخا کی زبان سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عصمت اور پاکدامنی کی شہادت ہے۔ ” وَ لَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ “ اب تک تو یوسف میرے کہنے میں نہیں آیا لیکن یاد رکھے اگر وہ میری بات نہیں مانے گا تو اسے قید کردیا جائے گا اور اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
ربط آیات
جب مصر میں یہ مشہور ہوگیا کہ عزیز مصر کی بیوی نے اپنے غلام کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی ہے تو اونچے طبقے کی عورتوں نے زلیخا کو بدنام کرنا شروع کردیا۔ اس کے جواب میں زلخیا نے ایک مجلس طعام کا اہتمام کیا جسمیں تمام معزز خواتین بیگمات اور امیر زادیوں کو مدعو کیا۔ اس معاشرے کے رواج کے مطابق بڑی پرتکلف دعوت کی گئی جس میں چھری کانٹا بھی استعمال کے لئے رکھا گیا۔ زلیخا کا مقصد یہ ھتا کہ جس غلام کے نام پر یہ عورتیں اسے بدنام کر رہی ہیں اسے خود بھی ایک نظر دیکھ لیں او اس کے بعد فیصلہ کریں کہ میری مجبوری کیا ہے جب وہ سب عورتیں کھانے کے لئے بیٹھ گئیں تو زلیخا نے کسی بہانے سے یوسف (علیہ…
Read the full tafseer →قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِيْ لُمْتُنَّنِيْ فِيْہِ 0ۭ وَلَقَدْ رَاوَدْتُّہٗ عَنْ نَّفْسِہٖ فَاسْتَعْصَمَ 0ۭ وَلَىِٕنْ لَّمْ يَفْعَلْ مَآ اٰمُرُہٗ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِيْنَ 32
( لمتنّ ) ، فيه إعلال بالحذف لمناسبة البناء علی السکون فهو فعل معتل أجوف حذفت عينه لذلک، وزنه فلتنّ.
لوم
اللَّوْمُ : عذل الإنسان بنسبته إلى ما فيه لوم . يقال : لُمْتُهُ فهو مَلُومٌ. قال تعالی: فَلا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنْفُسَكُمْ [إبراهيم/ 22] ، فَذلِكُنَّ الَّذِي لُمْتُنَّنِي فِيهِ [يوسف/ 32] ، وَلا يَخافُونَ لَوْمَةَ لائِمٍ [ المائدة/ 54] فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ [ المؤمنون/ 6] ، فإنه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
1 ؎ پھل تراش کر کھانے کو 12 منہ
Read the full tafseer →قَالَتْ فَذٰلِکُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْہِ ط وَلَقَدْ رَاوَدْتُّہٗ عَنْ نَّفْسِہٖ فَاسْتَعْصَمَ ط وَلَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَآ اٰمُرُہٗ لَیُسْجَنَنَّ وَلَیَکُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 32)
(زلیخا نے کہا کہ یہ ہے وہ جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کیا کرتی تھیں، بخدا میں نے اسے بہت پھسلایا لیکن وہ بچا ہی رہا، اگر یہ میرا کہنا نہ مانے گا تو قید کیا جائے گا اور بہت ذلیل و خوار ہوگا۔ )
زلیخا کی دھمکی
زلیخا نے جب دیکھا کہ بیگمات کی ساری کاوشیں ناکام ہوگئیں، نہ ان کا سمجھانا بجھانا کام آیا، نہ ان کی عشوہ طرازیاں اسے بہکا سکیں۔ اس نے فاتحانہ انداز میں کہا کہ دیکھ لیا تم نے، اس شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ عزیز مصر کے معاملہ کو رفع دفع کرنے کے باوجود بات امراء کے گھروں تک پہنچی۔
جوں جوں بات امراء کے گھرانوں میں پہنچتی گئی ہر عورت نے اپنے اپنے انداز سے اس پر تبصرہ کیا۔ سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عزیز مصر کی بیوی کس قدر جذباتی اور بیوقوف ہے کہ وہ زر خرید غلام پر فریفتہ ہوچکی ہے۔
” شَغَفَھَاحُبًّا “ کے بارے میں اہل لغت نے لکھا ہے کہ اس سے مراد دل کے اندر وہ خلا، حلقہ یا وہ ہلکی سی جھلی ہے جو دل کے اوپر دکھائی دیتی ہے۔
اس کا معنٰی دل پر محبت کی چوٹ لگنا بھی لیا گیا ہے۔ مراد یہ ہے کہ عزیز مصر کی بیوی پر حضرت یوسف کی غالب ہوچکی تھی اور وہ اپنے زر خرید غلام کے…
Read the full tafseer →فریب کاری کا نیا جال :
32: قَالَتْ فَذٰلِکُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْہِ (اس نے کہا یہی وہ شخص ہے کہ جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کرتی تھیں) اس نے کہا یہ وہی کنعانی غلام ہے۔ جس کی ایک صورت تم نے اپنے ذہنوں میں بنا رکھی تھی۔ اور پھر تم مجھے اس پر ملامت کرتی تھیں۔ تمہارے ذہن میں اس کا حقیقی تصور آیا ہی نہ تھا۔ ورنہ اسکی وجہ سے میرے فتنہ میں مبتلا ہونے پر تم مجھے معذور قرار دیتیں۔ وَلَقَدْ رَا وَدْتُّہٗ عَنْ نَّفْسِہٖ فَاسْتَعْصَمَ (واقعہ میں میں نے ہی اس کو اپنی طرف میلان کیلئے پھسلایا تھا مگر وہ بچا رہا) استعصام مبالغہ کا وزن ہے۔ اور انتہائی بلیغ انداز میں باز رہنے پر دلالت کرتا ہے اور…
Read the full tafseer →تفسیر : 32۔” قالت “ راعیل نے کہا ” فذا لکن الذی لمتننی فیہ “ یعنی اس کی محبت میں مجھے ملامت نہ کیجئے ، پھر اپنے فعل کی صراحت کی ۔” ولقدراودتہ عن نفسہ فاستعصم “ ان کے سامنے صراحت اس لیے کردی کہ اس کو ان کی ملامت کا خوف نہ تھا کیونکہ ان کی کیفیت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھ کر وہی ہوئی تھی جو اس کی ہوئی تھی ۔ تو ان عورتوں نے یوسف (علیہ السلام) کو کہا اپنے مولیٰ کی اطاعت کر ، تو راعیل نے کہا ” ولئن لم یفعل ما آمرہ “ اور اگر اس نے میری دعوت میں میری بات نہ مانی ” لیسجنن “ یعنی اس کو قید کی سزا دی جائے گی ۔
” ولیکونا من الصاغرین “ ذلیل لوگوں میں سے اور نون تاکید ثقیل اور خفیف پڑھاجاتا ہے اور وقف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
32۔ 34۔ اوپر کی آیت میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ عورتوں کے تذکرہ کی خبر جب زلیخا کو پہنچی تو اس نے ایک محفل آراستہ کر کے ان عورتوں کو بلایا اور فراغت طعام کے بعد ترنج اور چھری دی کہ کاٹ کاٹ کر کھائیں اور اسی اثنا میں یوسف (علیہ السلام) کو ان کے سامنے بلایا۔ یوسف (علیہ السلام) کے جمال کو دیکھ کر ساری عورتیں حیرت میں آگئیں اور اپنی اپنی انگلیاں کاٹ لیں اور بےساختہ کہہ اٹھیں کہ یہ تو بشر نہیں معلوم ہوتا یہ کوئی بزرگ فرشتہ ہے اس پر یہ بات زلیخا نے کہی کہ جسے تم فرشتہ سمجھ رہی ہو اور جس کے حسن کو دیکھ کر آپے سے باہر ہوگئیں اور کسی کے ہوش ٹھکانے نہ رہے یہ وہی شخص ہے جس پر میں بدل و جان فریفتہ ہوں اسی کی…
Read the full tafseer →جب ان عورتوں کے سامنے یوسف کا ظاہری جمال متحقق ہوگیا اور یوسف ان کو بہت ہی اچھے لگے، تو عزیز مصر کی بیوی پر ان کا بہت کچھ عذر ظاہر ہوگیا۔ پھر اس نے چاہا کہ وہ ان عورتوں کو یوسف کے باطنی جمال۔۔۔ یعنی عفت کامل۔۔۔ کا نظارہ کروائے چناچہ اس عورت نے کسی چیز کے پروا کئے بغیر، کیونکہ آج عورتوں کی طرف سے ملامت منقطع ہوگئی تھی یوسف سے اپنی شدید محبت کا اعلان کرتے ہوئے کہا : (قذ لکن الذی لمتننی فیہ ولقد راودتہ عن نفسہ فاستعصم) ” یہ وہی ہے کہ طعنہ دیا تھا تم نے مجھ کو اس کے بارے میں اور میں نے پھسلایا تھا اس کو اس کے جی سے، پس اس نے اپنے کو بچا لیا “ یعنی اس نے اپنے آپ کو بچا لیا گویا وہ اب بھی یوسف کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
شاہد کون تھا ؟
قول باری ہے وشھد شاھدمن اھلھا ان کان قمیصہ قد من قبل فصدقت وھو من الکاذبین ۔ اس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے قرینے کی شہادت پیش کی کہ اگر یوسف کا قیمص آگے سے پھٹا ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت ابوہریرہ ؓ ، سعید بن جبیر اور ہلال بن یسار سے مروی ہے کہ پن گھوڑے میں پڑا ہوا ایک بچہ تھا ۔ جس نے یہ گواہی پیش کی ۔ حضرت ابن عباس سے ایک اور روایت کے مطابق ، نیز حسن ، ابن ملیکہ اور عکرمہ سے مروی ہے کہ یہ ایک مرد تھا جس نے شہادت پیش کی تھی ۔ عکرمہ کا قول ہے کہ عزیز مصرنے جب حضرت یوسف کو دروازے پر پھٹی ہوئی قمیص کے ساتھ دیکھا تو اس نے اپنے ایک چچا زاد…
Read the full tafseer →56۔ عزیز مصر کی بیوی کا اپنے لیے مجبوری ومعذوری کا استدلال :
سواب تم خود ہی بتاؤکہ کیا میں نے جو کچھ اس ضمن میں کیا اس میں میں معذور اور مجبور نہیں ہوں ؟ سو اس طرح اس عورت نے اپنے لیے مجبوری اور معذوری کا استدلال کیا اور اپنی بےقصوری کے لیے بہانہ ڈھونڈا کہ اس حسن بےمثال پر اگر میں فریفتہ نہ ہوتی تو اور کیا کرتی ؟ سو ان عورتوں کے اس اظہار پر عزیز مصر کی بیوی نے بڑے تیکھے انداز میں ان سے کہا کہ یہی ہے وہ چیز جس کی بناء پر تم نے مجھے طعن وتشنیع کا نشانہ بنالیا تھا ؟ اب تم یہ دیکھ کر خود بتاؤکہ میں ایسے نہ کرتی تو اور کیا کرتی ؟ اور میں اس طرح اس صورت سے کس طرح بچتی ؟
57۔ عزیز مصر کی بیوی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–57
انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب
ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔
تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
آیات 30 تا 35
اسرار و معارف
جب کوئی بات وقوع پذیر ہوتی ہے ترکب چھپتی ہے ۔ آخر اس کی سن گن تو نکل ہی جاتی ہے چناچہ یہ بات بھی درباری امراء کی بیویوں تک پہنچی تو انھیں بہت حیرت ہوئی کہ عجیب بات ہے کہ ایک امیر کی بیوی اور خادم پہ عاشق ہوجائے یا ایک زرخرید غلام کی محبت کی اسیر ہوجائے یہ تو بہت ہی نامناسب بات ہے۔ عزیز مصر کی بیوی اور یہ کردار تو بہت ہی غلط کام ہے ۔ لیکن ایک حدتک اندر سے وہ بھی بیقرار تھیں کہ دیکھیں کہ دیکھیں تو سہی وہ حسین ہے کیساجس پر عزیز مصر کی بیوی فدہ ہوگئی ۔ لہٰذا انھوں نے اس طرح کی باتیں بنائیں کہ زلیخا سن کر خود ہی یہ چاہے گی کہ ہم بھی دیکھ سکیں تاکہ اسے طعنہ دینے سے با…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ ان کے روبرو یہ بات کہی تا وہ بھی سمجھا دیں اور حضرت یوسف ( علیہ السلام) ڈر کر قبرل کریں۔ (موضح) ۔ حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے لئے یہ سخت امتحان کا وقت تھا اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ اس زمانہ میں مصر کے اونچے طبقہ کی اخلاقی حالت کیا تھی۔ عزیزِ مصر کی بیوی نے جن عورتوں کو اپنے ہاں دعوت دی وہ عام گھرانوں کی معمولی عورتیں نہ ہوں گی بلکہ امراء روسا اور بڑے افسروں کی کھاتی پیتی بیگمات ہی ہوں گی۔ دعوت کے بہانے وہ ان عورتوں کو یوسف ( علیہ السلام) کے حسن کا قاتل کرنے کے کوشش کرتی ہے پھر وہ بیگمات بھی ایسی ہی تھیں کہ انہوں نے عزیز مصر کی بیگم کو معذور سمجھا۔ یہی نہیں بلکہ عزیز مصر کی بیگم اسے…
Read the full tafseer →(12:32) لمتننی۔ لمتن۔ ماضی جمع مؤنث حاضر۔ نی مفعول لوم سے (باب نصر) تم عورتوں نے مجھے ملامت کی۔ لومۃ ملامت۔ لائم ملامت کرنے والا۔ لومۃ لائم (5:54) ملامت گر کی ملامت۔ فیہ۔ جس کے بارے میں۔
ذلکن۔ ذ اسم اشارہ ۔ یہ ۔ یہی۔ کن ضمیر جمع مؤنث غائب خطاب کے لئے ہے۔ ولکن الذی۔ اے عورتوں یہی ہے وہ شخص۔
استعصم۔ اس نے بچا لیا۔ اس نے تھام لیا۔ اس نے روک لیا۔ استعصام (استفعالٌ سے ماضی ۔ واحد مذکر غائب۔
لئن لم یفعل۔ لام غیر عاملہ ہے۔ ان لم یفعل۔ اگر اس نے نہ کیا۔
ما امرہ۔ ما موصولہ ہے۔ اور ضمیر ہ کا مرجع ہے۔ ای ما امرہ بہ جس کا میں حکم دوں یا ما مصدریہ ہے۔ اور ہ ضمیر یوسف کی طرف راجع ہے۔ ای ولئن لم یفعل امری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 32
نسوۃ (امراۃ کی جمع ہے) عورتیں، خواتین، المدینۃ (شہر) تراود (آمادہ کرتی ہے۔ مانگتی ہے ) فتی (نوجوان) شغفت (دیوانہ کردیا ہے۔ اس کو پھیر دیا ہے ۔ حب (محبت) انا لنری (بےشک ہم البتہ دیکھتے ہیں، دیکھتی ہیں) ضلل مبین (کھلی گمراہی میں) سمعت (اس عورت نے سنا) مکر (دھوکہ، فریب، تدبیر) ارسلت (بھیجا، بلوا بھیجا) اعتدت (تیاری کی) متکا (بیٹھنے کی جگہ، تکئے لگی جگہ اتت (دیدیا) کل واحدۃ (ہر ایک) سکین (چھری، چاقو) اخرج (نکل) راینہ (انہوں نے اس کو دیکھا) اکبرنہ (وہ عورتیں حیران رہ گئیں) قطعن (کاٹ ڈالا ان عورتوں نے ایدیھن (اپنے ہاتھ کو) قلن (ان عورتوں نے کہا ) حاش للہ (اللہ کی قسم،…
Read the full tafseer →اس پر یہ بات زلیخا نے کہی کہ جسے تم فرشتہ سمجھ رہی ہو اور جس کے حسن کو دیکھ کر آپے سے باہر ہوگئیں، ہوش ٹھکانے نہ رہے، یہ وہی شخص ہے جس کا چرچا تمام مصر میں پھیلا ہوا ہے اور تم نے مجھے ملامت کی کہ زلیخا ایک ادنی غلام پہ عاشق ہے۔ اب تمہیں انصاف سے کہو یہ یہ شخص لائق اس کے ہے یا نہیں کہ اس کو پیار کیا جائے اور اس کی محبت کا بیج دل میں بویا جائے۔ پھر یہ ظاہر کیا کہ یوسف (علیہ السلام) کی جیسی صورت ہے ویسی ہی سیرت بھی ہے۔ میں نے ان سے محبت کی ابتدا کی اور میں نے خود ان کو اپنی طرف بلایا تھا مگر یہ شخص راضی نہ ہوا معصوم رہا گناہ کا مرتکب نہ ہوا۔ پھر زلیخا نے شرم کو بالائے طاق رکھ کر صاف صاف کہ دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
[16] یعنی اپنی ناک بچانے کے لئے انھیں مصلحت اسی میں نظر آئی کہ کچھ عرصے کے لئے یوسف (علیہ السلام) کو جیل بھیجوا دیں۔ انہوں نے خیال کیا ہوگا کہ اس طرح کچھ مدت کے بعد عزیز کی بیوی کے دل سے یوسف (علیہ السلام) کا خیال بھی نکل جائے گا اور جو لوگ اس میں دلچسپی لے رہے ہیں ان کی توجہ بھی ہٹ جائے گی اور وہ خیال کریں گے کہ قصور یوسف (علیہ السلام) ہی کا تھا چناچہ اس کو سزا ملی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
(ف 1) حضرت یوسف (علیہ السلام) نے عزیزہ مصر کا تو یہ جواب دیا ، کہ میں جیل میں جانا پسند کرتا ہوں مگر بہ دعوت معصیت قبول نہیں اور ان عورتوں کے متعلق جو دیدہ حیرت بن کر یوسف کو تک رہی تھیں ، اور چاہتی نہیں کہ کسی طرح ہماری کوئی ادا اسے پسند آجائے ، یہ دعا مانگی ، کہ اللہ ان نازک مواقع پر تو ہی ہے جو اپنے بندوں کو گناہوں سے بچاتا ہے ، جب چاروں طرف سے معصیت کے بادل گھر آئیں ، تو وہی ہے جو پاکدامنی کی توفیق مرحمت فرماتا ہے حقیقت یہ ہے کہ اس مقام پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا دعا کرنا اور برائی سے متاثر نہ ہونا انتہا درجے کی خدا پرستی ہے ۔
غور کرو ، خوش جمال عورتوں کا براجما بیٹھا ہے ، اور عشق و…
Read the full tafseer →32 زلیخا کہنے لگی یہی تو وہ شخص ہے جس کے بارے میں تم مجھ کو ملامت کر رہی تھیں اور برا بھلا کہہ رہی تھیں اور واقعی میں نے اس سے اپنی خواہش پوری کرنے کے لئے اس کو پھسلایا اور پانی طرف مائل کرنا چاہا تھا مگر یہ بالکل محفوظ رہا اس نے اپنے کو بالکل پاک صاف رکھا اور جو کام میں اس سے کہہ رہی ہوں اگر آئندہ بھی اس کی تعمیل نہ کرے گا تو وہ ضرور قید کیا جائے گا اور وہ ضرور بےعزت ہوگا۔
زلیخا نے بہت سمجھداری سے بات کی پہلے تو یہ سمجھایا کہ اگر میں اس پرفریقتہ ہوئی تو کچھ دیکھ بھال کر ہوئی ہوں پھر یوسف (علیہ السلام) کی پاکدامی اور اپنی ارادت کا اقرار کیا آخر میں دھمکی دی کہ جیل خانے بھیجاجائے گا۔
حضرت شاہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
ف 1۔ مطلب یہ کہ ایسا حسن و جمال آدمی میں کب ہوتا ہے فرشتے البتہ ایسے نورانی ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →۔ 42 امراۃ العزیز نے یہ معرکہ سر کرلیا۔ اس نے جب دیکھا کہ یہ سب کی سب بےخود ہوچکی ہیں تو فاتحانہ انداز میں کہا یہی وہ یوسف ہے جس کے عشق کے طعنے تم مجھے دیا کرتی ہو تم تو اس کے حسن کی ایک جھلک کی بھی تاب نہ لاسکیں کیا اب بھی مجھ پر زبان طعن دراز کرو گی ؟ کیا اب بھی مجھے نادان اور بیوقوف کہو گی ؟ اس نے دھڑلے سے کہا کہ ” بلاشبہ میں نے اس کے دل کو اپنے قابو میں لینا چاہا تھا مگر وہ بےقابو نہ ہوا۔ “ غور کرو کہ اب وہ کس بیباکی کے ساتھ یوسف کو ورغلانے اور اس کو اپنے دام فریب میں لانے کی ناپاک کوشش کا ذکر کر رہی ہے۔ اسے یہ خیال بھی نہ آیا کہ کیا کہہ رہی ہے ؟ نہیں اس کو معلوم تھا کہ وہ جو کچھ کہہ رہی…
Read the full tafseer →Then, in verse 32, it was said:
قَالَتْ فَذَٰلِكُنَّ الَّذِي لُمْتُنَّنِي فِيهِ ۖ وَلَقَدْ رَاوَدتُّهُ عَن نَّفْسِهِ فَاسْتَعْصَمَ ۖ وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَا آمُرُهُ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًا مِّنَ الصَّاغِرِينَ
` She [ Zulaikha ] said: 'So, [ see ] this is the one you blamed me for. Yes, I seduced him, but he abstained. And should he [ in future ] not follow my command, he shall be [ surely ] imprisoned and shall be disgraced [ too ].'
When Zulaikha realized that her secret lay disclosed before those women anyway, she started threatening Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) right before them.…
Read the full tafseer →27. This open demonstration of her love and declaration of her immoral designs show that the moral condition of the higher class of the Egyptian society had declined to the lowest ebb. It is quite obvious that the women whom she had invited must have been ladies belonging to the upper most stratum of the society. The very fact that she presented her beloved before them without any hesitation, in order to convince them of his beauty and youth that had urged her to fall in love with him, shows that there was nothing uncommon in this demonstration. Then these ladies did not reproach her but…
Read the full tafseer →