Explained with ayahs 30–34
داستان عشق اور حسینان مصر
اس داستان کی خبر شہر میں ہوئی، چرچے ہونے لگے، چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب و حقارت سے اس قصے کو دوہرایا کہ دیکھو عزیر کی بیوی ہے اور ایک غلام پر جان دے رہی ہے، اس کی محبت کو اپنے دل میں جمائے ہوئے ہے۔ شغف کہتے ہیں حد سے گذری ہوئی قاتل محبت کو اور شغف اس سے کم درجے کی ہوتی ہے۔ دل کے پردوں کو عورتیں شغاف کہتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ عزیز کی بیوی صریح غلطی میں پڑی ہوئی ہے۔ ان غیبتوں کا پتہ عزیز کی بیوی کو بھی چل گیا۔ یہاں لفظ مکر اس لیے بولا گیا ہے کہ بقول بعض خود ان عورتوں کا یہ فی الواقع ایک کھلا مکر تھا۔ انہیں تو دراصل حسن یوسف کے دیدار کی تمنا تھی یہ تو صرف ایک حیلہ بنایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
سورة یُوْسُف 26
یعنی ایسی مجلس جس میں مہمانوں کے لیے تکیے لگے ہوئے تھے۔ مصر کے آثار قدیمہ سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ ان کی مجلسوں میں تکیوں کا استعمال بہت ہوتا تھا۔
بائیبل میں اس ضیافت کا کوئی ذکر نہیں ہے البتہ تلمود میں یہ واقعہ بیان کیا گیا ہے، مگر وہ قرآن سے بہت مختلف ہے۔ قرآن کے بیان میں جو زندگی، جو روح، جو فطریت اور جو اخلاقیت پائی جاتی ہے اس سے تلمود کا بیان بالکل خالی ہے۔
Read the full tafseer →معارف و مسائل
(آیت) فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَيْهِنَّ یعنی جب زلیخا نے ان عورتوں کے مکر کا حال سنا تو ان کو ایک کھانے کی دعوت پر بلا بھیجا،
یہاں ان عورتوں کے تذکرہ کرنے کو زلیخا نے مکر کہا ہے حالانکہ بظاہر انہوں نے کوئی مکر نہیں کیا تھا مگر چونکہ خفیہ خفیہ اس کی بدگوئی کرتی تھیں اس لئے اس کو مکر سے تعبیر کیا،
وَاَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً یعنی ان کے لئے مسند تکیوں سے مجلس آراستہ کی وَّاٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّيْنًا یعنی جب یہ عورتیں آگئیں اور ان کے سامنے مختلف قسم کے کھانے اور پھل حاضر کئے جن میں بعض چیزیں چاقو سے تراش کر کھانے کی تھیں اس لئے ہر ایک کو ایک…
Read the full tafseer →فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَيْهِنَّ وَاَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّاٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّيْنًا وَّقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ ۚ فَلَمَّا رَاَيْنَهٗٓ اَكْبَرْنَهٗ وَقَطَّعْنَ اَيْدِيَهُنَّ ۡ وَقُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا ھٰذَا بَشَرًا ۭ اِنْ ھٰذَآ اِلَّا مَلَكٌ كَرِيْمٌ۔
فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ۔ یعنی جب عزیز کی بیوی نے سنا کہ ان عورتوں کو اپنی عشوہ طرازیوں، دلربائیوں اور کارفرمائیوں پر یہ ناز اور یہ غرہ ہے تو اس کے دل کو بڑی چوٹ لگی اور اس نے یہ چاہا کہ یہ بھی ذرا یوسف پر اپنے ہنر آزما دیکھیں تاکہ انہیں بھی اپنی قدروقیمت کا اندازہ ہوجائے۔ چناچہ اس نے…
Read the full tafseer →31۔ 1 زنان مصر کی غائبانہ باتوں اور طعن و ملامت کو مکر سے تعبیر کیا گیا، جس کی وجہ سے بعض مفسرین نے یہ بیان کیا ہے کہ ان عورتوں کو بھی یوسف کے بےمثال حسن و جمال کی اطلاعات پہنچ چکی تھیں۔
چناچہ وہ اس پیکر حسن کو دیکھنا چاہتی تھیں چناچہ وہ اپنے اس مکر خفیہ تدبیر میں کامیاب ہوگئیں اور امرأۃ العزیز نے یہ بتلانے کے لیے کہ میں جس پر فریفتہ ہوئی ہوں، محض ایک غلام یا عام آدمی نہیں ہے بلکہ ظاہر و باطن کے ایسے حسن سے آراستہ ہے کہ اسے دیکھ کر نقد دل و جان ہار جانا کوئی انہونی بات نہیں، لہذا ان عورتوں کی ضیافت کا اہتمام کیا اور انھیں دعوت طعام دی۔
31۔ 2 یعنی ایسی نشست گاہیں بنائیں جن میں تکئے لگے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
20: ان عورتوں کی اس بات کو مکر شاید اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ کسی خیر خواہی کی وجہ سے یہ باتیں نہیں بنا رہی تھیں۔ بلکہ محض زلیخا کو بدنام کرنا مقصود تھا۔ اور کچھ بعید نہیں کہ انہوں نے حضرت یوسف ؑ کے حسن و جمال کی شہرت سن کر یہ باتیں اسی لیے کی ہوں کہ زلیخا ان کو بھی دیدار کا موقع فراہم کردے۔
21: ان کی مہمان نوازی کے لیے پھل دسترخوان پر رکھے گئے تھے۔ اور چاقو انہیں کاٹنے کے لیے دیا گیا تھا۔ لیکن شاید زلیخا کو یہ اندازہ تھا کہ جب یہ عورتیں حضرت یوسف ؑ کو دیکھیں گیں تو یہ چاقو بےخودی کی حالت میں خود ان کے ہاتھوں پر چل جائے گا۔ چنانچہ آگے بیان فرمایا گیا ہے کہ واقعی جب انہوں نے حضرت یوسف ؑ کو دیکھا…
Read the full tafseer →اس نے ان عورتوں کو اپنے محل میں ایک دعوت میں بلایا ، اس دعوت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعوت نہایت ہی ترقی یافتہ لوگوں کی دعوت تھی۔ ایسی ہی عورتوں کو محلات میں دعوتیں دی جاتی ہیں۔ اور نہایت ہی پر تکلف کھانے پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت مشرقی روایات کے مطابق تکیہ لگا کر کھانا کھایا جاتا تھا۔ چناچہ اس نے کھانے کے لیے ایسی جگہ تیار کی جہاں یہ عورتیں تکیوں سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھیں۔ پھر ہر ایک کو چھری دی گئی تاکہ وہ اس کے ساتھ کھانا کھائے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں مصر تہذیب و تمدن کے اعتبار سے بہت ہی آگے نکل گیا تھا اور محلات میں لوگ پر تعیش زندگی بسر کرتے تھے۔ کیونکہ…
Read the full tafseer →7 عورتوں کی گفتگو کو مکرو (فریب) اس لیے کہا کہ مکاروں کی طرح چھپ چھپ کر یہ باتیں کرتی تھیں۔ اور زلیخا پر طعن کر کے گویا اپنی پارسائی کا اظہار مقصود تھا۔ حالانکہ یوسف کے بےمثال حسن و جمال کا شہرہ جس عورت کے کان میں پڑتا تھا، اس کی دید کا اشتیاق دل میں چٹکیاں لینے لگتا تھا۔ کچھ بعید نہیں کہ زلیخا پر طعن وتشنیع اور نکتہ چینی کرنے والیوں کے دلوں میں یہ ہی غرض پوشیدہ ہو کہ زلیخا کو غصہ دلا کر کسی ایسی حرکت پر آمادہ کردیں جو یوسف کے دیدار کا سبب بن جائے۔ یا زلیخا کے دل میں اس کی نفرت بٹھا کر اپنی طرف مائل کرنے کا موقع نکالیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ زلیخانے بعض عورتوں کو اس معاملہ میں اپنا راز دار…
Read the full tafseer →آیت 31 فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ
عزیز مصر کی بیوی نے جب سنا کہ شہر میں اس کے خلاف اس طرح کے چرچے ہو رہے ہیں اور مصر کی عورتیں ایسی طعن آمیز باتیں کر رہی ہیں تو اس نے بھی جوابی کارروائی کا منصوبہ بنا لیا۔ یہ اس معاشرے کے انتہائی اعلیٰ سطح کے لوگوں کی بات تھی اور اس کا چرچا بھی اسی سطح پر ہو رہا تھا۔ اسے بھی اپنے ارد گرد سب لوگوں کے کردار کا پتا تھا کہاں کیا خرابی ہے اور کس کے ہاں کتنی گندگی ہے وہ سب جانتی تھی۔ چناچہ اس نے اس اعلیٰ سوسائٹی کے اجتماعی کردار کا بھانڈا بیچ چورا ہے میں پھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔
اَرْسَلَتْ اِلَيْهِنَّ وَاَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً
اس نے کھانے کی ایک پر تکلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
29 شہر کی عورتوں کی چہ میگوئیاں اور زلیخا کو طعنے :۔ جس بات کا عزیز مصر کو خطرہ تھا وہ ہو کے رہی۔ رفتہ رفتہ یہ بات شہر کی عورتوں میں پھیل ہی گئی کہ عزیز مصر کی بیوی زلیخا اپنے غلام پر عاشق ہے۔ اس نے اسے اپنے دام تزویر میں پھنسانا چاہا تھا۔ لیکن وہ اس کے ہتھے نہیں چڑھ سکا۔ اتنی بات تو حقیقت تھی، پھر اس بات پر عورتوں کے تبصرے کرنا بالخصوص عورتوں کا ہی میدان ہے۔ وہ کئی لحاظ سے زلیخا کو مطعون کر رہی تھیں۔ ایک یہ کہ وہ اس درجہ گھٹیا عورت ہے کہ اپنے غلام پر عاشق ہوگئی ہے اور دوسرے یہ کہ وہ اتنی بدھو ہے کہ اگر وہ یوسف پر فریفتہ ہو ہی گئی تھی تو اسے اپنی طرف مائل بھی نہ کرسکی۔ ورنہ ایک نوجوان کو اپنی…
Read the full tafseer →56۔ خواتین مصر کے طبقہ امراء میں اس وقت اونچی اونچی مسندوں پر بیٹھنے اور مہمانوں کے بٹھانے کا رواج عام تھا۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی (آیت) ” فلما سمعت بمکرھن “۔ زلیخا کو بھی آخر ان لوگوں کی زبان درازیوں کی خبر پہنچی اور انہیں نیچا دکھانے کی نئی تدبیر سوجھی سب کو دعوت میں اپنے ہاں بلابھیجا مکر یہاں لعن طعن طنز وتعریض کے معنی میں ہے۔ ھو اغتیابھن ایاھا وسوء مقالتھن (بحر)
57۔ یوسف (علیہ السلام) بہرحال خادم تو اب تک تھے انہیں گھر کی مالکہ نے آواز دی کہ سامنے آجاؤ۔ آگئے نظریں نیچی کئے ہوئے چہرہ نور عصمت سے جگمگایا ہوا اور شہر کی ایک سے ایک بڑھ کر حسین و جمیل وزیر زادیوں امیر زادیوں کا مجمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
آیت نمبر 30 تا 35
ترجمہ : اور شہر مصر کی عورتیں آپس میں چرچا کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام کے پیچھے پڑی ہوئی ہے محبت نے اس کو بےقرار کر رکھا ہے، اس کی محبت اس کے دل کے نہاں خانوں میں پیوست ہوگئی ہے، ہمارے نزدیک تو وہ اس سے محبت کرنے کے معاملہ میں صریح غلطی پر ہے جب عزیز کی بیوی نے ان کی مکارانہ باتیں یعنی انکی بدگوئی کی باتیں سنیں تو ان کو بلاوا بھیج دیا اور ان کیلئے چھری سے کاٹ کر کھایا جانے والا کھانا تیار کرایا اس کھانے کو متکئا اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کو کھاتے وقت تکیہ لگا لیتے ہیں۔
دوسرا ترجمہ : اور ان کیلئے مسندوں سے آراستہ مجلس تیار کرائی اور وہ کھانا ترنج تھا، اور ان میں…
Read the full tafseer →فلما سمعت بمکرھن ارسلت الیھن جب زلیخا نے ان کے غیبت کرنے کی خبر سنی تو ان کے پاس (دعوت کا پیام دے کر) کسی کو بھیجا۔ مکر سے مراد ہے : خفیہ بات۔ مکر بھی مکار چھپاتا ہے اور غیبت بھی پس پشت چھپا کر کی جاتی ہے۔
ابن اسحاق نے کہا : مکر سے مکر ہی مراد ہے۔ عورتوں نے زلیخا کے متعلق یہ بات اس لئے کہی تھی کہ زلیخا ان کو بلوا کر حضرت یوسف کا نظارہ کرا دے کیونکہ حضرت یوسف کے حسن و جمال کا تذکرہ زلیخا ان سے کرتی تھی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ زلیخا نے اپنا راز ان سے کہہ دیا تھا اور ان سے چھپانے کی تاکید کردی تھی مگر وعدۂ اخفاء کرنے کے بعد بھی انہوں نے راز فاش کردیا اسی لئے اس کو مکر کہا۔ اَرْسَلَتْ کا مفعول…
Read the full tafseer →(31) سو جب زلیخا نے ان عورتوں کی بات سنی تو ان کو دعوت پر بلایا اور ان کے ٹیک کے لیے تکیے لگائے، جب وہ آئیں تو ان کے سامنے گوشت اور روٹی رکھی اور گوشت کات کر کھانے کے لیے ان کو ایک ایک چاقو بھی دیا کیوں کہ بغیر چاقو سے کاٹ کر اس زمانہ میں گوشت نہیں کھاتے تھے اور ان تمام کاروائیوں کے بعد زلیخا نے حضرت یوسف ؑ سے کہا کہ ذرا ان کے سامنے تو آجاؤ چناچہ جب ان ان عورتوں نے حضرت یوسف ؑ کو دیکھا کر گھبرا گئیں اور حیران ہوگئی اور حضرت یوسف ؑ کے حسن و جمال کی بنا پر حیرانی اور دہشت میں چاقو سے اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور کہنے لگیں ماشاء اللہ یہ شخص آدمی ہرگز نہیں یہ تو اپنے پروردگار کا کوئی بزرگ فرشتہ ہے۔
Read the full tafseer →فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَيْهِنَّ۔۔ : اس آیت کی تفسیر اکثر بلکہ تقریباً سبھی مفسرین نے یہ کی ہے اور اس کے لیے جس تاویل کی ضرورت پڑی وہ بھی کرتے گئے ہیں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ جب شہر میں اس واقعہ کی شہرت ہوئی تو عورتوں نے طعن و تشنیع اور ملامت کے تیر برسانا شروع کردیے کہ عزیز مصر کی بیوی اپنے غلام کو پھسلا رہی ہے اور اس کی اتنی دیوانی ہوگئی ہے جو اس کی حیثیت کے خلاف ہے۔ جب عزیز کی بیوی نے ان کی ملامت کو سنا۔ (قرآن میں لفظ ہے کہ جب اس نے ان کے مکر کو سنا۔ مکر کا سیدھا سا معنی ”فریب، سازش، خفیہ تدبیر“ ہوتا ہے، مگر ہمارے مفسرین نے اسے درست کرنے کے لیے کہا کہ وہ ظاہر تو ملامت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
آیت نمبر 30 تا 32
وقال نسوۃ فی المدینہ، نسوۃ کو نون کے ضمہ کے ساتھ نسوہ بھی پڑھا گیا ہے۔ یہ اعمش، مفصل اور سلمی کی قرأت ہے اس کی جمع کثرت نساء ہے اس کو قالت نسوہ اور قال نسوہ دونوں طرح پڑھنا جائز ہے جیسے قالت الاعراب اور قال الاعراب یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کہ ابل مصر میں یہ قصہ مشہورہوگیا اور عورتوں نے گفتگو کی۔ ایک قال یہ ہے : یہ عزیز مصر کے ساقی کی بیوی تھی، اس کے نان بائی کی بیوی تھی، اس کے قیدی ساتھی کی بیوی تھی وغیرہ۔ ایک قول یہ ہے : حاجب کی بیوی تھی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے۔ تراعدفتٰھا عن نفسہٖ کلام عرب میں الفتی تو جوان کو کہتے ہیں جبکہ عورت فتاۃ کہلاتی ہے قد شغفھا حبا ایک…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلما سمعت بمکرھن “ یعنی بمکرھن سے مراد ان کی باتیں ہیں۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلما سمعت بمکرھن “ سے مراد ہے ان کا عمل ہے اور فرمایا کہ قرآن مجید میں ہر مکر سے مراد عمل ہے۔
3:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن جریر وابن المنذر، ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واعتدت لھن متکا “ کے بارے میں فرمایا کہ ان کے لئے بیٹھنے کی جگہ تیار کی اور ان کا طریقہ یہ تھا جب وہ دستر خوان رکھتے تھے تو ہر انسان کو چھری دیتے تھے کہ جس کے ساتھ وہ کاٹ کر…
Read the full tafseer →[فَلَمَا : پھر جب ] [سَمِعَتْ : اس عورت نے سنا ] [ بِمَكْرِهِنَّ : ان عورتوں کے مکر کے بارے میں ] [ اَرْسَلَتْ : تو اس نے پیامبر بھیجا ] [ اِلَيْهِنَّ : ان عورتوں کی طرف ] [وَاَعْتَدَتْ : اور س نے تیار کی ] [ لَهُنَّ : ان کے لئے ] [ مُتَّكَاً : ایک مجلس ] [ وَّاٰتَتْ : اور اس نے دی ] [ كُلَّ وَاحِدَةٍ : ہر ایک کو ] [ مِّنْهُنَّ : ان میں سے ] [سِكِّيْنًا : ایک چھری ] [ وَّقَالَتِ : اور اس نے کہا ] [ اخْرُجْ : تو نکل ] [عَلَيْ هِنَّ : ان پر ] [فَلَمَا : پھر جب ] [ رَاَيْنَهٗٓ: عورتوں نے دیکھا ان (علیہ السلام) کو ] [ اَكْبَرْنَهٗ : تو وہ ششدر رہ گئیں ان پر ] [ وَقَطَّعْنَ : اور انھوں نے کاٹ ڈالا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا دعا کرنا کہ اے میرے رب ان عورتوں کے مطالبہ کے مطابق عمل کرنے کی بجائے میرے لئے جیل بہتر ہے اس کے بعد جیل میں تشریف لے جانا
پہلے معلوم ہوچکا کہ عزیز مصر کی بیوی نے اپنے شوہر کو دروازہ کے قریب دیکھ کر یہ مشورہ دے دیا تھا کہ اسے جیل میں ڈالا جائے یا درد ناک سزا دی جائے ‘ پھر جب شہر کی دوسری عورتیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کا حسن و جمال دیکھ کر مبہوت ہوگئیں اور عزیز مصر کی بیوی نے ان سے کہا کہ دیکھو تم مجھ پر طعن وتشنیع کر رہی تھیں خود تمہارا کیا حال بنا اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ اگر اس نے میری بات نہ مانی تو اس کو جیل جانا پڑے گا تو اب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
قصی دعوت زلیخا زنان مصر رامشتمل بر اعتراف عصمت و عفت یوسف (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ وقال نسوۃ فی المدینۃ امرات العزیز .... الیٰ .... لیسجننہ حتی حین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان فرمایا کہ جب عزیز مصر پر یہ واضح ہوگیا کہ یوسف (علیہ السلام) بالکل بےقصود ہیں اور یہ سب اس کی بیوی کا خود ساختہ مکر اور فریب ہے تو عزیز مصر نے یوسف (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ اعرض عن ھذا۔ کہ اے یوسف (علیہ السلام) اس بات سے درگزر کر اور کسی سے اس کا ذکر نہ کر اور بیوی سے کہا کہ واستغفری لذنبک۔ کہ یوسف (علیہ السلام) سے اپنے قصور کی معافی مانگ۔
عزیز مصر کا مقصود یہ تھا کہ یہ قصہ پوشیدہ رہے اور اس کا چرچا نہ ہو مگر ”…
Read the full tafseer →30:۔ زلیخا کو جب معلوم ہوا کہ عورتیں اس کو بدنام کر رہی ہیں تو اس نے شہر کی چیدہ عورتوں کو دعوت پر بلایا تاکہ وہ ان کے سامنے اپنا عذر پیش کرسکے۔ نیز اس کا منصوبہ یہ تھا کہ کسی تدبیر سے وہ بھی یوسف (علیہ السلام) پر فریفتہ ہوجائیں اور اس کی ملامت سے باز آجائیں۔ انھا لما سمعت انھن ہلمنھا علی تلک المحبۃ المفرطۃ ارادت ابداء عذرھا فاتخذت مائدۃ ودعت جماعۃ من اکابرھن الخ (کبیر ج 18 ص 127) ۔ زلیخا نے دعوت میں چالیس منتخب عورتوں کو مدعو کیا اور نہایت اعلی سجے ہوئے کمرے میں ان کے لیے جگہ بنائی اور تکیے لگا دئیے۔ اور ہر ایک ہاتھ میں پھل وغیرہ کاٹنے کے لیے ایک ایک چھری تھما دی اور یوسف (علیہ السلام) کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ربط آیات
گزشتہ درس میں یوسف (علیہ السلام) کی ابتلاء کا ذکر ہوا۔ عزیز مصر کی بیوی نے آپ پر فریضتہ ہو کر آپ پر ڈورے ڈالنے شروع کئے اور برائی کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی ، مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو برائی سے محفوظ رکھا کیونکہ آپ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندہ تھے ، اس عورت نے آپ کو کمرے میں داخل کر کے اپنا ارادہ ظاہر کیا تو یوسف (علیہ السلام) باہر کی طرف بھاگے ، اس عورت نے پیچھے سے آپ کو قمیص پکڑ کر آپ کو روکنا چاہا جس سے قمیص پھٹ گئی ، جب وہ دونوں ابہر دروازے پر پہنچے تو وہاں عزیز مصر کو موجود پایا۔ عورت نے فوراً پینترا بدلا اور یوسف (علیہ السلام) پر برائی کا الزام لگا دیا ، یوسف (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِہِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَيْہِنَّ وَاَعْتَدَتْ لَہُنَّ مُتَّكَاً وَّاٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَۃٍ مِّنْہُنَّ سِكِّيْنًا وَّقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْہِنَّ 0ۚ فَلَمَّا رَاَيْنَہٗٓ اَكْبَرْنَہٗ وَقَطَّعْنَ اَيْدِيَہُنَّ 0ۡوَقُلْنَ حَاشَ لِلہِ مَا ھٰذَا بَشَرًا 0ۭ اِنْ ھٰذَآ اِلَّا مَلَكٌ كَرِيْمٌ 31
سمع
السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا . ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
1 ؎ پھل تراش کر کھانے کو 12 منہ
Read the full tafseer →فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَکْرِھِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْھِنَّ وَاَعْتَدَتْ لَھُنَّ مُتَّکَاً وَّاٰتَتْ کُلَّ وَاحِدَۃٍ مِّنْھُنَّ سِکِّیْنًا وَّقَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْھِنَّ ج فَلَمَّا رَاَیْنَہٗٓ اَکْبَرْنَہٗ وَقَطَّعْنَ اَیْدِیَھُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلّٰہِ مَاھٰذَا بَشَرًا ط اِنْ ھٰذَٓا اِلاَّ مَلَکٌ کَرِیْمٌ۔ (سورۃ یوسف : 31)
(جب زلیخا نے ان کی یہ مکارانہ باتیں سنیں تو اس نے انھیں بلا بھیجا اور ان کے لیے تکیہ دار مجلس آراستہ کی اور ضیافت میں ہر ایک کے آگے ایک چھری رکھ دی اور یوسف ( علیہ السلام) کو کہا کہ نکل آئو ان کے سامنے۔ پس جب ان عورتوں نے یوسف ( علیہ السلام) کو دیکھا اس کی عظمت سے مبہوت رہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ عزیز مصر کے معاملہ کو رفع دفع کرنے کے باوجود بات امراء کے گھروں تک پہنچی۔
جوں جوں بات امراء کے گھرانوں میں پہنچتی گئی ہر عورت نے اپنے اپنے انداز سے اس پر تبصرہ کیا۔ سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عزیز مصر کی بیوی کس قدر جذباتی اور بیوقوف ہے کہ وہ زر خرید غلام پر فریفتہ ہوچکی ہے۔
” شَغَفَھَاحُبًّا “ کے بارے میں اہل لغت نے لکھا ہے کہ اس سے مراد دل کے اندر وہ خلا، حلقہ یا وہ ہلکی سی جھلی ہے جو دل کے اوپر دکھائی دیتی ہے۔
اس کا معنٰی دل پر محبت کی چوٹ لگنا بھی لیا گیا ہے۔ مراد یہ ہے کہ عزیز مصر کی بیوی پر حضرت یوسف کی غالب ہوچکی تھی اور وہ اپنے زر خرید غلام کے…
Read the full tafseer →پروپیگنڈے کا جواب :
31: فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَکْرِھِنَّ (جب راعیل نے ان کے فریب کو سنا) مکر سے ان کا غیر موجودگی میں یہ کہنا : امراۃ العزیز عشقت عبدھا الکنعانی اور اس کو غصہ آیا اور غیبت کو مکر خفیہ ہونے کی بناء پر کہا جیسا کہ مکار اپنا مکر خفیہ کرتا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس نے اپنا راز ان کو چھپانے کیلئے دیامگر انہوں نے ظاہر کردیا۔ اَرْسَلَتْ اِلَیْھِنَّ (اس نے ان کی طرف پیغام بھیجا) ان کو دعوت دی۔ ایک قول کے مطابق دعوت تو چالیس عورتوں کو دی جن میں پانچوں مذکورہ بھی تھیں۔ وَاَعْتَدَتْ ( اور اس نے تیار کیا) مہیا کرنا یہ عتادؔ سے باب افتعال ہے۔ لَھُنَّ مُتَّکَاً (اور ان کیلئے تکیے لگا دیے) جن…
Read the full tafseer →تفسیر 31۔” فلما سمعت “ راعیل ” بمکرھن “ ان کی باتیں ، یہ بات قتادہ اور سدی رحمہما اللہ نے کہی ہے اور ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ انہوں نے یہ بات یوسف (علیہ السلام) کو دیکھنے کے لیے مکر کرتے ہوئے کہی تھی کیونکہ یوسف (علیہ السلام) کے حسن و جمال کی شہرت ان تک پہنچ چکی تھی ۔” ارسلت الیھن “ وھب رحمہ فرماتے ہیں کہ اس نے ایک دستر خوان سجایا اور چالیس عورتوں کو دعو ت دی ، ان میں یہ عار دلانے والیاں بھی تھیں ۔ ” واعتدت لھن متکا “ یعنی جس پر وہ سہارا لے سکیں ۔
ابن عباس ، سعید بن جبیر ؓ ، حسن ، قتادہ اور مجاہد رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ ” متکا “ بمعنی کھانا ۔ اس کھانے کو ” متکا “ کا نام اس وجہ سے دیا ہے…
Read the full tafseer →31۔ مصر کے امیر امرا کی جن عورتوں نے زلیخا کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے عشق اور محبت کا طعنہ دیا تھا اس طعنہ کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں طعنہ نہیں فرمایا مکر فرمایا ہے سیرت ابن اسحاق وغیرہ میں اس کا سبب یہ بیان کیا ہے کہ حقیقت میں ان عورتوں کے طعنے میں یہ مکر تھا کہ وہ عورتیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حسن و جمال کا شہرہ سن کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی صورت کو دیکھنا چاہتی تھیں اس غرض سے انہوں نے یہ حیلہ نکالا کہ زلیخا پر طعن وتشنیع شروع کی تاکہ زلیخا اس طعن وتشنیع سے گھبرا کر ان عورتوں کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی صورت دکھلا دے کہ دیکھو یہ صورت عشق و محبت پیدا کرنے کے قابل ہے یا نہیں ہے…
Read the full tafseer →چناچہ فرمایا : (فلما سمعت بمکرھن ارسلت الیھن) ” جب اس نے ان کا فریب سنا تو ان کو بولا بھیجا “ ان کو اپنے گھر ایک ضیافت پر بلایا (واعتدت لھن متکا) ” اور ان کے لئے ایک مجلس تیار کی “ ان کے لئے ایک ایسی جگہ تیار کی جہاں مختلف اقسام کے فرش بچھے ہوئے تھے جن پر تکئے لگے ہوئے تھے اور کھانے سجے ہوئے تھے۔ علاوہ ازیں اس ضیافت میں عزیز مصر کی بیوی نے کچھ ایسے کھانے بھی پیش کئے جن میں چھری کے استعمال کی ضرورت پڑتی ہے، مثلاً لیموں وغیرہ (واتت کل واحدۃ منھن سکینا) ” اور ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں چھری دی “ تاکہ اس چھری سے وہ مخصوص کھانا کاٹ سکیں۔ (وقالت) ور یوسف سے بولی : (اخرج علیھن) ” ان کے سامنے نکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
شاہد کون تھا ؟
قول باری ہے وشھد شاھدمن اھلھا ان کان قمیصہ قد من قبل فصدقت وھو من الکاذبین ۔ اس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے قرینے کی شہادت پیش کی کہ اگر یوسف کا قیمص آگے سے پھٹا ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت ابوہریرہ ؓ ، سعید بن جبیر اور ہلال بن یسار سے مروی ہے کہ پن گھوڑے میں پڑا ہوا ایک بچہ تھا ۔ جس نے یہ گواہی پیش کی ۔ حضرت ابن عباس سے ایک اور روایت کے مطابق ، نیز حسن ، ابن ملیکہ اور عکرمہ سے مروی ہے کہ یہ ایک مرد تھا جس نے شہادت پیش کی تھی ۔ عکرمہ کا قول ہے کہ عزیز مصرنے جب حضرت یوسف کو دروازے پر پھٹی ہوئی قمیص کے ساتھ دیکھا تو اس نے اپنے ایک چچا زاد…
Read the full tafseer →53 ۔ لفظ " مکر " کے استعمال سے مقصود ؟ : سو یہاں پر ان عورتوں کی اس بدگوئی کو قرآن حکیم میں " مکر " کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ حالانکہ " مکر " پوشیدہ چیز اور خفیہ سازش کو کہا جاتا ہے۔ سو یہ شاید اس لئے کہ ان عورتوں کے اس پروپیگنڈے کے پیچھے دراصل دوسرا مقصد کارفرما تھا کہ وہ چاہتی تھیں کہ اس طرح کسی بہانے ہم بھی یوسف کو دیکھ لیں کہ آخر وہ کیا چیز ہے جس کو عزیز مصر کی بیوی اس طرح اپنا دل دے بیٹھی ہے۔ اور اس پر وہ اس طرح لٹو ہوگئی ہے۔ سو عام لوگوں سے تو دل کی ایسی کیفیت چھپ سکتی ہے مگر اس (علیم بذات الصدور) سے یہ کس طرح چھپ سکتی ہے ؟ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس لیے ان بیگمات مصر کی اس چال کو یہاں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–57
انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب
ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔
تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
آیات 30 تا 35
اسرار و معارف
جب کوئی بات وقوع پذیر ہوتی ہے ترکب چھپتی ہے ۔ آخر اس کی سن گن تو نکل ہی جاتی ہے چناچہ یہ بات بھی درباری امراء کی بیویوں تک پہنچی تو انھیں بہت حیرت ہوئی کہ عجیب بات ہے کہ ایک امیر کی بیوی اور خادم پہ عاشق ہوجائے یا ایک زرخرید غلام کی محبت کی اسیر ہوجائے یہ تو بہت ہی نامناسب بات ہے۔ عزیز مصر کی بیوی اور یہ کردار تو بہت ہی غلط کام ہے ۔ لیکن ایک حدتک اندر سے وہ بھی بیقرار تھیں کہ دیکھیں کہ دیکھیں تو سہی وہ حسین ہے کیساجس پر عزیز مصر کی بیوی فدہ ہوگئی ۔ لہٰذا انھوں نے اس طرح کی باتیں بنائیں کہ زلیخا سن کر خود ہی یہ چاہے گی کہ ہم بھی دیکھ سکیں تاکہ اسے طعنہ دینے سے با…
Read the full tafseer →ف 2 ۔ یعنی ایک ایسی محفل جس میں ٹیک لگانے کے لئے تکیوں کا اہتمام کیا گیا تھا۔ (از ابن کثیر) ۔
3 ۔ یعنی چھریاں دی تھین پھل کھانے کو لیکن ان کا حسن دیکھ کر ایسے بےخود ہوگئیں کہ چھریاں ہاتھوں پر چل گئیں اور وہ کٹ گئے۔ (کذافی الروح) ۔ بعض نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہاں ” اکبرنہ ‘ کے معنی حیض آنا کے ہیں یعنی شدت شہوت کی وجہ سے انہیں حیض آنا شروع ہوگیا۔ چناچہ واحدی فرماتے ہیں کہ جب عورت کے اندر جنسی خواہش زور پکڑتی ہے تو اسے حیض آنے لگتا ہے ابو عبیدہ، طبری اور دیگر محققتین (رح) نے اسی معنی کا انکار کیا ہے کہ آفت میں یہ معنی معروف نہیں ہے اور حضرت ابن عباس ؓ سے یہ روایت ضعیف ہے اور جو شاہد…
Read the full tafseer →(12:31) مکرھن۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان عورتوں کا مکر۔ چال۔ مکارانہ باتیں۔ (ملاحظہ ہو 3:54) الکشاف، بیضاوی، مدارک التنزیل میں مکر کو لفظ اغتیاب کا ہم معنی لکھا ہے۔ (اغتیاب بمعنی عیب گیری کرنا۔ غیبت کرنا) کیونکہ مکر بھی خفیہ ہوتا ہے اور غیبت بھی پیٹھ پیچھے کی جاتی ہے۔ لہٰذا مکر بمعنی لعن و طعن طنز و تشنیع۔
ارسلت الیہن۔ ای دعتھن۔ اس عورت نے ان عورتوں کو دعوت دی۔
اعدت۔ ماضی واحد مؤنث غائب اس نے تیار کی۔ اعتاد (افعال) سے۔ عند واعتد الشیٔ۔ تیار کرنا۔ عتد یعتد الشیٔ۔ تیار ہونا۔ آمادہ ہونا۔ العتید۔ تیار۔ ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید (50:18) وہ کوئی لفظ منہ سے نہیں نکلانے پایا۔ مگر یہ کہ اس کے آس پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 32
نسوۃ (امراۃ کی جمع ہے) عورتیں، خواتین، المدینۃ (شہر) تراود (آمادہ کرتی ہے۔ مانگتی ہے ) فتی (نوجوان) شغفت (دیوانہ کردیا ہے۔ اس کو پھیر دیا ہے ۔ حب (محبت) انا لنری (بےشک ہم البتہ دیکھتے ہیں، دیکھتی ہیں) ضلل مبین (کھلی گمراہی میں) سمعت (اس عورت نے سنا) مکر (دھوکہ، فریب، تدبیر) ارسلت (بھیجا، بلوا بھیجا) اعتدت (تیاری کی) متکا (بیٹھنے کی جگہ، تکئے لگی جگہ اتت (دیدیا) کل واحدۃ (ہر ایک) سکین (چھری، چاقو) اخرج (نکل) راینہ (انہوں نے اس کو دیکھا) اکبرنہ (وہ عورتیں حیران رہ گئیں) قطعن (کاٹ ڈالا ان عورتوں نے ایدیھن (اپنے ہاتھ کو) قلن (ان عورتوں نے کہا ) حاش للہ (اللہ کی قسم،…
Read the full tafseer →عورتوں کا مکر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا عورتوں کی مجلس میں مدعو ہونا اور ان کے حسن و جمال کو دیکھ کر عورتوں کا بد حواسی سے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالنا
مصر کے امیر امراء کی جن عورتوں نے زلیخا کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے عشق اور محبت کا طعنہ دیا تھا اس طعنہ کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں طعنہ نہیں فرمایا مکر فرمایا ہے۔ کیونکہ ان عورتوں کے طعنہ میں یہ مکر تھا کہ وہ عورتیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حسن و جمال کا شہرہ سن کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھنا چاہتی تھیں۔ اس غرض سے انہوں نے یہ حیل نکالا کہ زلیخا پر طعن وتشنیع شروع کی تاکہ زلیخا اس طعن وتشنیع سے گھبرا کر ان عورتوں کو حضرت یوسف (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
[14] ان کی گفتگو کو مکا ّرانہ اس لئے کہا کہ عزیز کی بیوی پر طعن کر کے گویا اپنی پارسائی کا اظہار مقصود تھا حالانکہ یوسف (علیہ السلام) کے حسن و جمال کا شہرہ جس عورت کے کان میں پڑتا تھا ان کی دید کا اشتیاق دل میں چٹکیاں لینے لگتا تھا۔ کچھ بعید نہیں کہ طعن وتشنیع اور نکتہ چینی کرنے والیوں میں یہی غرض پوشیدہ ہو کہ عزیز کی بیوی کو غصہ دلا کر کسی ایسی حرکت پر آمادہ کریں جو یوسف (علیہ السلام) کے دیدار کا سبب بن جائے یا عزیز کی بیوی کے دل میں یوسف (علیہ السلام) کی نفرت بٹھا کر اپنی طرف مائل کرنے کا موقعہ نکالیں۔
[15] عام طور پر واقعہ یوں سمجھا جاتا ہے کہ وہ عورتیں یوسف (علیہ السلام) کا جمال صورت دیکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
ازدیاد محبت :
(ف 1) خوشبو اور محبت ہزار پردوں میں ہو ، چھپی نہیں رہتی خاتون مصر کے عشق کا دور دور چرچا ہوگیا ، گھروں میں عورتیں طعنے دینے لگیں کہ ایسی بھی کیا محبت جو اپنے غلام سے ہو ، اور والہانہ ہو یہ صریح گمراہی اور مغلوبیت ہے ،
بات یہ ہے کہ جب تک واردات محبت سے کوئی شخص آگاہ نہیں ہوتا ، وردنہاں کا اندازہ نہیں کرسکتا ، انہیں کیا معلوم یوسف (علیہ السلام) میں کیا جادو ہے ، جو عزیز مصر ایسی شریف خاتون عزت وناموس سے بےپروا ہو کر باولی ہو رہی ہے ۔
جب امراۃ العزیز کو معلوم ہوا کہ کچھ عورتیں میرے یوسف (علیہ السلام) پر طعنہ زن ہیں ، اور میری محبت پر حرف گیر تو اس نے ایک دعوت طعام کا انتظام کیا ،…
Read the full tafseer →31 پھر جب عزیر کی بیوی نے ان عورتوں کی پُر فریب اور طعن آمیز باتیں سنیں تو ان کو کسی کے ہاتھ بلا بھیجا اور ان کے واسطے مسند بچھائی اور تکیہ لگایا اور ہر ایک کو ان میں سے ایک ایک چھری پھل کاٹنے کو دے دی جب یہ عورتیں آئیں اور کھانے میں مشغول ہوگئیں تب حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کہا ذران کے سامنے نکل کر آا پھر جب عورتوں نے یوسف (علیہ السلام) کو دیکھا تو حیران و ششد رہ گئیں اور ایسی سٹ پٹائیں کہ بجائے پھل کاٹنے کے اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور بےساختہ ان عورتوں نے کہا ما شا للہ ! یہ شخص آدمی نہیں ہے ہو نہ ہو یہ تو کوئی ذی مرتبہ فرشتہ ہے۔
یعنی جب ذلیخا کو عورتوں کی یہ باتیں معلوم ہوئیں تو اس نے ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
ف 1۔ مطلب یہ کہ ایسا حسن و جمال آدمی میں کب ہوتا ہے فرشتے البتہ ایسے نورانی ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →عورتوں کا یہ چرچا امراۃ العزیز تک بھی پہنچ گیا تو اس نے ان کی دعوت کا انتظام کر دیا
۔ 41 یہ خبر آہستہ آہستہ امراۃ العزیز تک بھی پہنچ گئی ، اس کو یہ طن بیحد شاق گزرا۔ اس نے چا ہا کہ وہ ان سے انتقام لے اور ایسا انتقام لے کہ جس بات سے وہ مجھ پر طعن کرتی ہیں اس میں ان کو بھی مبتلا کیا جائے۔ یہ سوچ کر اس سکیم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک روز اس نے شاہی خاندان او عمائدین شہر کی عورتوں کو دعوت دی اور جب سب کی سب دسترخوان پر بیٹھ گئیں اور سب کے سامنے اشیائے خوردو نوش اور آلات خوردو نوش رکھ دیئے یعنی دستر خوان لگا دیا گیا اور شرکاء دعوت نے کھانا شروع کردیا تو عزیز مصر نے یوسف کو سامنے آنے کا حم دیا۔…
Read the full tafseer →Commentary
Having explained the linkage of verse before the beginning of the pre-sent verses, we can now turn to the explanation of individual verses.
Said in verse 32 was: فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ (So, when she heard of their crafty comments, she extended an invitation to them).
Here, Zulaikha refers to the talking of women as their ` makr' or craftiness - though they had obviously planned no trick against her. But, since they spoke ill about her secretly, it was identified as ` makr.' As for the expression: وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً which follows…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
26. The ancient Egyptians used to place pillows and cushions in such feasts for the guests to recline. And this is confirmed by the archaeological remains in Egypt.
There is no mention at all of this banquet in the Bible but it has been described in the Talmud in a way quite different from that of the Quran. Needless to say that while this narrative in the Quran is natural, life like and teaches moral lessons, the one in the Talmud lacks all these things.
Read the full tafseer →