Explained with ayahs 30–34
داستان عشق اور حسینان مصر
اس داستان کی خبر شہر میں ہوئی، چرچے ہونے لگے، چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب و حقارت سے اس قصے کو دوہرایا کہ دیکھو عزیر کی بیوی ہے اور ایک غلام پر جان دے رہی ہے، اس کی محبت کو اپنے دل میں جمائے ہوئے ہے۔ شغف کہتے ہیں حد سے گذری ہوئی قاتل محبت کو اور شغف اس سے کم درجے کی ہوتی ہے۔ دل کے پردوں کو عورتیں شغاف کہتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ عزیز کی بیوی صریح غلطی میں پڑی ہوئی ہے۔ ان غیبتوں کا پتہ عزیز کی بیوی کو بھی چل گیا۔ یہاں لفظ مکر اس لیے بولا گیا ہے کہ بقول بعض خود ان عورتوں کا یہ فی الواقع ایک کھلا مکر تھا۔ انہیں تو دراصل حسن یوسف کے دیدار کی تمنا تھی یہ تو صرف ایک حیلہ بنایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
سورة یُوْسُف 26
یعنی ایسی مجلس جس میں مہمانوں کے لیے تکیے لگے ہوئے تھے۔ مصر کے آثار قدیمہ سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ ان کی مجلسوں میں تکیوں کا استعمال بہت ہوتا تھا۔
بائیبل میں اس ضیافت کا کوئی ذکر نہیں ہے البتہ تلمود میں یہ واقعہ بیان کیا گیا ہے، مگر وہ قرآن سے بہت مختلف ہے۔ قرآن کے بیان میں جو زندگی، جو روح، جو فطریت اور جو اخلاقیت پائی جاتی ہے اس سے تلمود کا بیان بالکل خالی ہے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور چند عورتوں نے جو کہ شہر میں رہتی تھیں یہ بات کہی کہ عزیز کی بی بی اپنے غلام کو اس سے اپنا (ناجائز) مطلب حاصل کرنے کے لئے پھُسلاتی ہے (کیسی کمینہ حرکت ہے کہ غلام پر گرتی ہے) اس غلام کا عشق اس کے دل میں جگہ پکڑ گیا ہے ہم تو اس کو صریح غلطی میں دیکھتے ہیں سو جب اس عورت نے ان عورتوں کی بدگوئی (کی خبر) سنی تو کسی کے ہاتھ ان کو بلا بھیجا (کہ تمہاری دعوت ہے) اور ان کے واسطے مسند تکیہ لگایا اور (جب وہ آئیں اور ان کے سامنے مختلف قسم کے کھانے اور پھل حاضر کئے جن میں بعض چیزیں چاقو سے تراش کر کھانے کی تھیں اس لئے) ہر ایک کو ان میں سے ایک ایک چاقو (بھی) دے دیا (جو ظاہر میں تو پھل تراشنے…
Read the full tafseer →وَقَالَ نِسْوَةٌ فِي الْمَدِيْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ۭ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۔
" عزیز " کا مفہوم : عزیز کے معنی غالب اور مقتدر کے ہیں۔ یہ لفظ بادشاہ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور اونچے درجہ کے بااختیار و باقتدار افسروں اور عہدہ داروں کے لیے بھی۔ چونکہ یہ شخص شاہی باڈی گارڈ کا افسر اعلیٰ تھا اس وجہ سے عورتوں نے اس لیے " عزیز " کا لفظ استعمال کیا۔
شہر کی عورتوں میں چچا۔ حضرت یوسف کے ساتھ عزیز کی بیوی کے اس عشق کا چرچا آہستہ آہستہ افسانہ بزم و انجممن بن گیا۔ شہر کی کچھ عورتوں نے، جو ہوسکتا ہے اسی طبقہ کی رہی ہوں جس…
Read the full tafseer →30۔ 1 جس طرح خوشبو کو پردوں سے چھپا یا نہیں جاسکتا، عشق و محبت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ گو عزیز مصر نے حضرت یوسف ؑ کو اسے نظر انداز کرنے کی تلقین کی اور یقیناً آپ کی زبان مبارک پر اس کا کبھی ذکر بھی نہیں آیا ہوگا اس کے باوجود یہ واقعہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا اور زنان مصر میں اس کا چرچا عام ہوگیا، عورتیں تعجب کرنے لگیں کی عشق کرنا تھا تو کسی پیکر حسن و جمال سے کیا جاتا، یہ کیا اپنے ہی غلام پر زلیخا فریفتہ ہوگئی، یہ تو اس کی ہی نادانی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
20: ان عورتوں کی اس بات کو مکر شاید اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ کسی خیر خواہی کی وجہ سے یہ باتیں نہیں بنا رہی تھیں۔ بلکہ محض زلیخا کو بدنام کرنا مقصود تھا۔ اور کچھ بعید نہیں کہ انہوں نے حضرت یوسف ؑ کے حسن و جمال کی شہرت سن کر یہ باتیں اسی لیے کی ہوں کہ زلیخا ان کو بھی دیدار کا موقع فراہم کردے۔
21: ان کی مہمان نوازی کے لیے پھل دسترخوان پر رکھے گئے تھے۔ اور چاقو انہیں کاٹنے کے لیے دیا گیا تھا۔ لیکن شاید زلیخا کو یہ اندازہ تھا کہ جب یہ عورتیں حضرت یوسف ؑ کو دیکھیں گیں تو یہ چاقو بےخودی کی حالت میں خود ان کے ہاتھوں پر چل جائے گا۔ چنانچہ آگے بیان فرمایا گیا ہے کہ واقعی جب انہوں نے حضرت یوسف ؑ کو دیکھا…
Read the full tafseer →حالات یہ ہیں کہ اس عورت اور اس کے اس غلام کے درمیان ابھی تک جدائی نہیں ہے۔ حالات روٹین کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں اور بڑے بڑے محلات میں حالات اسی طرح آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ لیکن محلات کی دیواریں ہوتی ہیں اور دیواروں کے کان ہوتے ہیں۔ قدم اور چشم ان کے اندر ہوتے ہیں ، اندر جو کچھ ہوتا ہے ، وہ لازماً باہر آتا ہے ، خصوصا اونچے اور مراعات یافتہ طبقات کے محلات ہیں۔ ان محلات کے اندر جو کچھ ہوتا ہے وہ لوگوں کی مجالس ، محافل میں اور زبانوں پر ہوتا ہے۔ لوگوں کی راتوں کے لیے یہ چٹ پٹا مسالہ ہوتا ہے۔
شہر کی عورتیں آپس میں چرچا کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام کے پیچھے پڑی ہوئی ہے ، محبت نے اس کو…
Read the full tafseer →6 یعنی شدہ شدہ شہر کی عورتوں نے کہنا شروع کیا کہ عزیز کی عورت اپنے نوجوان غلام پر مفتون ہوگئی۔ چاہتی ہے کہ اس کے نفس کو بےقابو کر دے۔ غلام کی محبت اس کے دل کی تہ میں پیوست ہوچکی ہے۔ حالانکہ ایسے معزز عہدہ دار کی بیوی کے لیے یہ سخت شرمناک کی بات ہے کہ وہ ایسے غلام پر گرنے لگے۔ ہمارے نزدیک اس معاملہ میں وہ اعلانیہ غلطی پر ہے۔
Read the full tafseer →اِنَّا لَنَرٰىهَا فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ
اس کا اپنے غلام کے ساتھ اس طرح کا معاملہ ! یہ تو بہت ہی گھٹیا بات ہے !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
29 شہر کی عورتوں کی چہ میگوئیاں اور زلیخا کو طعنے :۔ جس بات کا عزیز مصر کو خطرہ تھا وہ ہو کے رہی۔ رفتہ رفتہ یہ بات شہر کی عورتوں میں پھیل ہی گئی کہ عزیز مصر کی بیوی زلیخا اپنے غلام پر عاشق ہے۔ اس نے اسے اپنے دام تزویر میں پھنسانا چاہا تھا۔ لیکن وہ اس کے ہتھے نہیں چڑھ سکا۔ اتنی بات تو حقیقت تھی، پھر اس بات پر عورتوں کے تبصرے کرنا بالخصوص عورتوں کا ہی میدان ہے۔ وہ کئی لحاظ سے زلیخا کو مطعون کر رہی تھیں۔ ایک یہ کہ وہ اس درجہ گھٹیا عورت ہے کہ اپنے غلام پر عاشق ہوگئی ہے اور دوسرے یہ کہ وہ اتنی بدھو ہے کہ اگر وہ یوسف پر فریفتہ ہو ہی گئی تھی تو اسے اپنی طرف مائل بھی نہ کرسکی۔ ورنہ ایک نوجوان کو اپنی…
Read the full tafseer →55۔ (کہ گری بھی تو کس پر ؟ اپنے ہی خادم اور غلام پر اور وہ بھی اپنا ہم وطن وہم نسب نہیں پردیسی اور کنعانی ! ) (آیت) ” قال نسوۃ فی المدینۃ “۔ واقعہ کے چرچے سوسائٹی میں شروع ہوگئے اور سوسائٹی کی عورتوں نے حسب معمول اس میں خوب دلچپسی لی اور برابر کی وزیر زادیوں اور امیر زادیوں نے یہ طعنہ زنی شروع کردی۔ نسوۃ جمع تکسیر ہے جو قلت عدد پر دلالت کرتی ہے گویا یہ لفظ لاکر قرآن مجید نے ادھر بھی اشارہ کردیا کہ ایسی بیویوں کی تعداد کچھ بہت بڑی نہ تھی صرف گنتی کی چند تھیں جو ہر طرح بیگم وزیر کی ہمسر وہم چشم تھیں۔ (آیت) ” شغفھا “۔ شغف دل کی وہ بیماری ہے جو دل کے اندر تک پہنچ جائے۔ داء یصل الی القلب فینفذ الی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
آیت نمبر 30 تا 35
ترجمہ : اور شہر مصر کی عورتیں آپس میں چرچا کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام کے پیچھے پڑی ہوئی ہے محبت نے اس کو بےقرار کر رکھا ہے، اس کی محبت اس کے دل کے نہاں خانوں میں پیوست ہوگئی ہے، ہمارے نزدیک تو وہ اس سے محبت کرنے کے معاملہ میں صریح غلطی پر ہے جب عزیز کی بیوی نے ان کی مکارانہ باتیں یعنی انکی بدگوئی کی باتیں سنیں تو ان کو بلاوا بھیج دیا اور ان کیلئے چھری سے کاٹ کر کھایا جانے والا کھانا تیار کرایا اس کھانے کو متکئا اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کو کھاتے وقت تکیہ لگا لیتے ہیں۔
دوسرا ترجمہ : اور ان کیلئے مسندوں سے آراستہ مجلس تیار کرائی اور وہ کھانا ترنج تھا، اور ان میں…
Read the full tafseer →وقال نسوۃ فی المدینۃ اور شہر میں عورتوں نے کہا۔ نِسوۃ اسم جمع ہے ‘ یعنی جب زلیخا کی سازش اور مکاری کا قصہ
شہر میں پھیلا اور حضرت یوسف کے واقعہ کی عورتوں کو اطلاع ہوئی تو عورتوں نے کہا۔ مقاتل نے کہا کہ کہنے والی پانچ عورتیں تھیں : کمیدان کی بیوی ‘ منصرم آبدار خانہ کی بیوی ‘ مہتمم باروچی خانہ کی بیوی ‘ جیلر کی بیوی اور منصرم اصطلبل کی بیوی۔
امرات العزیز تراودفتھا عزیز کی بیوی اپنے (کنعانی) غلام کو پھسلانے اور بہکانے لگی۔
عن نفسہ اس کے نفس کی طرف سے۔ یعنی اس سے وصال کی طلبگار ہوگئی۔
قد شغفھا حبا اس غلام کا عشق اس کے دل میں گھر کر گیا ہے۔ یعنی یوسف ‘ عزیز کی بیوی کے دل کے غلاف کو پھاڑ کر اس کے دل…
Read the full tafseer →(30) غرض کہ زلیخا کی اس بات کی شہر میں شہرت ہوگئی اور چار عورتوں نے یعنی بادشاہ کے ساقی کی بیوی اور قید خانہ کے داروغہ کی بیوی اور صاحب مطبخ کی بیوی اور نگران کی بیوی نے کہا کہ زلیخا اپنے غلام سے ناجائز مطلب حاصل کرنے لیے اس کو پھسلاتی ہے اس کے دل میں یوسف ؑ کا عشق جگہ پکڑ کیا ہے ہم تو اس کو صریح غلطی میں دیکھتے ہیں کہ اپنے غلام یوسف ؑ سے عشق کرتی ہے۔
Read the full tafseer →وَقَالَ نِسْوَةٌ فِي الْمَدِيْنَةِ۔۔ : ”نِسْوَۃٌ، نِسَاءٌ“ اور ”نِسْوَانٌ“ سب ”اِمْرَأَۃٌ“ کی جمع ہیں، مگر ”اِمْرَأَۃٌ“ لفظ سے نہیں۔ (قاموس) ”نِسْوَۃٌ“ کے ”اِمْرَأَۃٌ“ کی جمع حقیقی نہ ہونے کی وجہ ہی سے فعل ”قَالَتْ نِسْوَۃٌ“ کے بجائے : ”َقَالَ نِسْوَةٌ“ آیا ہے، کیونکہ غیر حقیقی جمع ہونے کی صورت میں ایسا ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید میں ہر جگہ ”نِسَاءٌ“ آیا ہے، صرف اس آیت یا اسی سورت کی آیت (50) میں کل دو مرتبہ ”نِسْوَةٌ“ آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ”نِسْوَۃٌ“ جمع قلت کا وزن ہے، جو تین سے دس تک استعمال ہوتا ہے، بخلاف ”نِسَاءٌ“ وغیرہ کے کہ وہ کثرت کے لیے بھی آتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ عزیز کی بیوی نے چند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
آیت نمبر 30 تا 32
وقال نسوۃ فی المدینہ، نسوۃ کو نون کے ضمہ کے ساتھ نسوہ بھی پڑھا گیا ہے۔ یہ اعمش، مفصل اور سلمی کی قرأت ہے اس کی جمع کثرت نساء ہے اس کو قالت نسوہ اور قال نسوہ دونوں طرح پڑھنا جائز ہے جیسے قالت الاعراب اور قال الاعراب یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کہ ابل مصر میں یہ قصہ مشہورہوگیا اور عورتوں نے گفتگو کی۔ ایک قال یہ ہے : یہ عزیز مصر کے ساقی کی بیوی تھی، اس کے نان بائی کی بیوی تھی، اس کے قیدی ساتھی کی بیوی تھی وغیرہ۔ ایک قول یہ ہے : حاجب کی بیوی تھی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے۔ تراعدفتٰھا عن نفسہٖ کلام عرب میں الفتی تو جوان کو کہتے ہیں جبکہ عورت فتاۃ کہلاتی ہے قد شغفھا حبا ایک…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قد شغفھا حبا “ یعنی (یوسف کی محبت) اس پر غالب آگئی۔
2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” قد شغفھا حبا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس کو قتل کردیا یوسف کی محبت نے (آیت ) ” الشغف “ سے مراد ہے قتل کرنے والی محبت اور ” الشغف “ اس سے کم محبت کو بھی کہتے ہیں۔ اور ” الشغاف “ سے مراد ہے دل کا پردہ۔
شغفھا حبا کی تفسیر :
3:۔ الطستی نافع بن ازرق (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” قد شغفھا حبا “ کے بارے میں بتائیے فرمایا شغاف…
Read the full tafseer →[وَقَالَ : اور کہا ] [نِسْوَةٌ: کچھ عورتوں نے ] [فِي الْمَدِيْنَةِ : اس شہر میں ] [ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ : (کہ) عزیز کی عورت ] [ تُرَاوِدُ : پھسلاتی ہے ] [فَتٰىهَا : اپنے نو عمر خادم کو ] [عَنْ نَّفْسِهٖ : اپنے نفس (کو تھامنے) سے ] [قَدْ شَغَفَهَا : وہ دل پر چھا گیا ہے اس کے ] [ حُبًّا : بلحاظ محبت کے ] [انا : بیشک ہم ] [لَنَرٰىهَا : ضرور دیکھتی ہیں اس کو ] [ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ : ایک کھلی گمراہی میں ]
ش غ
[شَعْفًا : (ف) (1) دل کی جھلی کو صدمہ پہنچانا (2) کسی کے دل پر چھا جنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 30]
ترکیب : (آیت۔ 39) ۔ نِسْوَۃٌ عاقل کی جمع مکسر ہے۔ اس کے لئے قَالَتْ اور قَالَ دونوں جائز…
Read the full tafseer →شہر کی عورتوں کا عزیز مصر کی بیوی پر طعن کرنا اور ان کا جواب دینے کے لیے عورتوں کو بلانا ‘ پھر ان کا اپنے ہاتھوں کو کاٹ لینا
عزیز مصر نے تو معاملہ کو وقتی طور پر رفع دفع کردیا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کہہ دیا کہ اس قصے کو یہیں تک رہنے دینا آگے مت بڑھانا لیکن خبر کسی طرح شہر کی عورتوں کو پہنچ گئی وہ آپس میں چرچا کرنے لگیں کہ دیکھو عزیز مصر کی بیوی کو کیا ہوا بڑے گھر کی عورت ہے لیکن اپنے غلام کو اپنا مطلب نکالنے کے لیے پھسلا رہی ہے۔ غلام اس لئے کہا کہ اس کا شوہر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خرید کر لایا تھا اس میں اس طرف اشارہ تھا کہ اول تو یہ عورت شوہر والی ہے اسے اپنے شوہر کے علاوہ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
قصی دعوت زلیخا زنان مصر رامشتمل بر اعتراف عصمت و عفت یوسف (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ وقال نسوۃ فی المدینۃ امرات العزیز .... الیٰ .... لیسجننہ حتی حین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان فرمایا کہ جب عزیز مصر پر یہ واضح ہوگیا کہ یوسف (علیہ السلام) بالکل بےقصود ہیں اور یہ سب اس کی بیوی کا خود ساختہ مکر اور فریب ہے تو عزیز مصر نے یوسف (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ اعرض عن ھذا۔ کہ اے یوسف (علیہ السلام) اس بات سے درگزر کر اور کسی سے اس کا ذکر نہ کر اور بیوی سے کہا کہ واستغفری لذنبک۔ کہ یوسف (علیہ السلام) سے اپنے قصور کی معافی مانگ۔
عزیز مصر کا مقصود یہ تھا کہ یہ قصہ پوشیدہ رہے اور اس کا چرچا نہ ہو مگر ”…
Read the full tafseer →29:۔ یہ پندرہ احوال میں سے چھٹا حال ہے۔ زلیخا کے اس واقعہ کی خبر آگ کی طرح سارے شہر میں پھیل گئی اور مصر کی ہر عورت کی زبان پر یہ الفاظ تھے کہ عزیز مصر کی بیوی اپنے غلام کو برائی پر اکسانے کی کوشش کرتی ہے اور اس پر دل و جان سے فریفتہ ہوچکی ہے۔ ” قَدْ شَغَفَھَا حُبًّا “ یوسف کی محبت زلیخا کے دل کے پردے کو چاک کر کے اس کے دل کی گہرائیوں میں اتر چکی ہے۔ خرق حبہ شغاف قلبھا حتی وصل الی الفؤاد (مدارک ج 2 ص ص 168) ۔ ” لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ “۔ وہ نری بےعقل اور صریح غلطی میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ربط آیات
گزشتہ درس میں یوسف (علیہ السلام) کی ابتلاء کا ذکر ہوا۔ عزیز مصر کی بیوی نے آپ پر فریضتہ ہو کر آپ پر ڈورے ڈالنے شروع کئے اور برائی کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی ، مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو برائی سے محفوظ رکھا کیونکہ آپ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندہ تھے ، اس عورت نے آپ کو کمرے میں داخل کر کے اپنا ارادہ ظاہر کیا تو یوسف (علیہ السلام) باہر کی طرف بھاگے ، اس عورت نے پیچھے سے آپ کو قمیص پکڑ کر آپ کو روکنا چاہا جس سے قمیص پھٹ گئی ، جب وہ دونوں ابہر دروازے پر پہنچے تو وہاں عزیز مصر کو موجود پایا۔ عورت نے فوراً پینترا بدلا اور یوسف (علیہ السلام) پر برائی کا الزام لگا دیا ، یوسف (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →وَقَالَ نِسْوَۃٌ فِي الْمَدِيْنَۃِ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىہَا عَنْ نَّفْسِہٖ 0 ۚ قَدْ شَغَفَہَا حُبًّا 0ۭ اِنَّا لَنَرٰىہَا فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 30
نِّسَاءُ
والنِّسْوَان والنِّسْوَة جمعُ المرأةِ من غير لفظها، کالقومِ في جمعِ المَرْءِ ، قال تعالی: لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ إلى قوله : وَلا نِساءٌ مِنْ نِساءٍ [ الحجرات/ 11] ما بال النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ [يوسف/ 50]
النساء
والنسوان والنسوۃ یہ تینوں امراءۃ کی جمع من غیر لفظہ ہیں ۔ جیسے مرء کی جمع قوم آجاتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ إلى قوله : وَلا نِساءٌ مِنْ نِساءٍ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
2 ؎ وہ یعنی تیرا شوہر۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَقَالَ نِسْوَۃٌ فِی الْمَدِیْنَۃِ اِمْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُفَتٰـھَا عَنْ نَّفْسِہٖ ج قَدْشَغَفَھَا حُبًّا ط اِنَّا لَنَرٰھَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (سورۃ یوسف : 30)
(اور شہر کی عورتیں کہنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام پر ڈورے ڈال رہی ہے تاکہ اس سے مطلب براری کرے۔ یوسف ( علیہ السلام) کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے۔ ہم اس کو کھلی گمراہی میں دیکھ رہی ہیں۔ )
عزیز کے معنی مقتدر اور زبردست کے ہیں۔ اس لفظ کا اطلاق مقتدرِ اعلیٰ پر بھی ہوتا ہے اور اونچے درجے کے بااختیار افسروں پر بھی۔ زلیخا کا خاوند چونکہ شاہی باڈی گارڈ کا افسرِ اعلیٰ تھا اور اس کا شمار صاحب اختیار لوگوں میں ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ عزیز مصر کے معاملہ کو رفع دفع کرنے کے باوجود بات امراء کے گھروں تک پہنچی۔
جوں جوں بات امراء کے گھرانوں میں پہنچتی گئی ہر عورت نے اپنے اپنے انداز سے اس پر تبصرہ کیا۔ سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عزیز مصر کی بیوی کس قدر جذباتی اور بیوقوف ہے کہ وہ زر خرید غلام پر فریفتہ ہوچکی ہے۔
” شَغَفَھَاحُبًّا “ کے بارے میں اہل لغت نے لکھا ہے کہ اس سے مراد دل کے اندر وہ خلا، حلقہ یا وہ ہلکی سی جھلی ہے جو دل کے اوپر دکھائی دیتی ہے۔
اس کا معنٰی دل پر محبت کی چوٹ لگنا بھی لیا گیا ہے۔ مراد یہ ہے کہ عزیز مصر کی بیوی پر حضرت یوسف کی غالب ہوچکی تھی اور وہ اپنے زر خرید غلام کے…
Read the full tafseer →شہری عورتوں کا پروپیگنڈا :
30: وَقَالَ نِسْوَۃٌ (عورتوں نے کہا) عورتوں کی جماعت جنکی تعداد پانچ تھی۔ ساقی کی بیوی، خباز کی بیوی، جانوروں کے نگران کی بیوی، قید خانہ کے نگران اعلیٰ کی بیوی۔ دربان شاہی کی بیوی۔ النسوۃ ؔ یہ اسم مفرد ہے اور امرأۃ کی جمع ہے۔ اس میں تانیث حقیقی نہیں اسی لئے قالت نہیں کہا۔ بلکہ قال کہا گیا اس میں دو لغتیں ہیں نون کے کسرہ اور ضمہ کے ساتھ فِی الْمَدِیْنَۃِ ( شہر میں) مصر میں امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ (عزیز کی بیوی) عزیز سے قطفیر مراد ہے۔ عرب کے لوگ العزیز بادشاہ کیلئے بولتے ہیں۔ تُرَ اوِدُفَتٰھَا (اپنے غلام کو پھسلاتی ہے) کہا جاتا ہے فتای و فتاتی یعنی میرا غلام اور میری…
Read the full tafseer →یوسف (علیہ السلام) کی پاکدامنی کا مصر میں چرچا
30۔” وقال نسوۃ فی المدینۃ “ یوسف (علیہ السلام) اور اس عورت کا واقعہ شہر مصر میں پھیل گیا اور عورتوں میں باتیں ہونے لگیں ۔ یہ کل پانچ عورتیں تھیں ، بادشاہ کے دربان کی بیوی اور جانوروں کے رکھوالے کی بیوی ، نان بائی کی بیوی ، شراب پلانے والی کی بیوی اور قیدی کے درواغہ کی بیوی ۔ یہ بات مقاتل (رح) نے کہی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ مصر کے معزز لوگوں کی بیویاں تھیں ۔ ” امراۃ العزیز تر او دفتاھا “ امراء ۃ عزیز مصر اپنے کنعانی غلام کو پھسلانے لگی ” عن نفسہ “ اس سے زنا کا مطالبہ کرتی ہے۔ ” قد شغفھا حبا ‘ ‘ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس کی محبت نے اس کے دل پر…
Read the full tafseer →30۔ اللہ پاک نے اس آیت میں اس بات کی خبر دی کہ باوجود اس کے عزیز مصر نے کوشش کی کہ یوسف زلیخا کا قصہ شہر میں مشہور نہ ہو مگر بحکم قضا وقدر تمام گھروں میں اس کا چرچا ہونے لگا اور ہر رئیس و آمر کی عورتیں آپس میں اس بات کا چرچا کرنے لگیں کہ عزیز مصر کی عورت زلیخا ایک جوان پر دل و جان سے فریفتہ ہے اور وہ جوان وہی ہے جس کو اس کے شوہر نے خرید کیا ہے اس کی محبت میں دیوانی ہوگئی ہے غلام کی محبت زلیخا کے تمام رگ و ریشوں میں سرایت کرگئی ہے اسے اچھا برا کچھ نہیں سوجھتا وہ بالکل بہک گئی ہے۔ دل پر ایک جھلی جو لپٹی ہوئی ہے اس کو شفاف کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ زلیخا کے دل کو یوسف کی محبت اور الفت نے گھیر لیا…
Read the full tafseer →یعنی اس واقعے کی خبر مشہور ہوگئی اور تمام شہر میں پھیل گئی اور اس بارے میں عورتوں نے چہ میگوئیاں کیں اور عزیز مصر کی بیوی کو ملامت کرنے لگیں اور کہنے لگیں : (امرات العزیز تراود فتھا عن نفسہ قد شغفھا حباً ) ” عزیز کی بیوی، پھسلاتی ہے اپنے غلام کو اس کے جی سے، اس کا دل اس کی محبت میں فریفتہ ہوگیا ہے “ یہ کام بہت برا ہے یہ عورت ایک انتہائی معزز شخص کی معزز بیوی ہے، بایں ہمہ وہ اپنے غالم پر ڈورے ڈالتی رہی ہے جو زیردست اور اس کی خدمت پر مامور تھا، اس کے باوجود اس عورت کے دل میں اس غلام کی محبت جاگزیں ہوگئی (قد شغفھا حباً ) ” اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی۔ “ یعنی یوسف کی محبت عورت کے دل کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
شاہد کون تھا ؟
قول باری ہے وشھد شاھدمن اھلھا ان کان قمیصہ قد من قبل فصدقت وھو من الکاذبین ۔ اس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے قرینے کی شہادت پیش کی کہ اگر یوسف کا قیمص آگے سے پھٹا ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت ابوہریرہ ؓ ، سعید بن جبیر اور ہلال بن یسار سے مروی ہے کہ پن گھوڑے میں پڑا ہوا ایک بچہ تھا ۔ جس نے یہ گواہی پیش کی ۔ حضرت ابن عباس سے ایک اور روایت کے مطابق ، نیز حسن ، ابن ملیکہ اور عکرمہ سے مروی ہے کہ یہ ایک مرد تھا جس نے شہادت پیش کی تھی ۔ عکرمہ کا قول ہے کہ عزیز مصرنے جب حضرت یوسف کو دروازے پر پھٹی ہوئی قمیص کے ساتھ دیکھا تو اس نے اپنے ایک چچا زاد…
Read the full tafseer →51 ۔ عزیز مصر کی بیوی کے خلاف پروپیگنڈے کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ شہر کی عورتوں نے عزیز مصر کی بیوی کے خلاف چرچا اور پروپیگنڈا شروع کردیا کہ وہ اپنے غلام پر لٹو ہوگئی ہے " شغف " اصل میں " شغاف " سے ماخوذ ہے اور " شغاف " اس پردہ کو کہتے ہیں جو دل پر محیط ہوتا ہے۔ اس لیے " شغفہ فلان " کے معنی ہوتے ہیں کہ " وہ اس دل کے پردے تک پہنچ گیا " یعنی " اس دل میں اتر گیا " اس میں گھر کر گیا " وغیرہ۔ سو اس مفہوم کو ظاہر کرنے کی غرض سے ہم نے اس کا ترجمہ ان لفظوں میں کیا ہے۔ والحمدللہ۔ بہرکیف شہر کی عورتوں نے عزیز مصر کی بیوی کے خلاف یہ چہ میگوئیاں اور پروپیگنڈا شروع کردیا کہ یہ کیسی عورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–57
انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب
ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔
تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
آیات 30 تا 35
اسرار و معارف
جب کوئی بات وقوع پذیر ہوتی ہے ترکب چھپتی ہے ۔ آخر اس کی سن گن تو نکل ہی جاتی ہے چناچہ یہ بات بھی درباری امراء کی بیویوں تک پہنچی تو انھیں بہت حیرت ہوئی کہ عجیب بات ہے کہ ایک امیر کی بیوی اور خادم پہ عاشق ہوجائے یا ایک زرخرید غلام کی محبت کی اسیر ہوجائے یہ تو بہت ہی نامناسب بات ہے۔ عزیز مصر کی بیوی اور یہ کردار تو بہت ہی غلط کام ہے ۔ لیکن ایک حدتک اندر سے وہ بھی بیقرار تھیں کہ دیکھیں کہ دیکھیں تو سہی وہ حسین ہے کیساجس پر عزیز مصر کی بیوی فدہ ہوگئی ۔ لہٰذا انھوں نے اس طرح کی باتیں بنائیں کہ زلیخا سن کر خود ہی یہ چاہے گی کہ ہم بھی دیکھ سکیں تاکہ اسے طعنہ دینے سے با…
Read the full tafseer →ف 1 ۔ کہ اپنے غلام کے عشق میں دیوانی ہو رہی ہے۔ (از بن کثیر) ۔
Read the full tafseer →(12:30) تراود۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ وہ بلاتی ہے۔ وہ پھسلاتی ہے۔ خواہش رکھتی ہے۔ ملاحظہ ہو 12:23 اور 12:26 ۔
فتھا۔ اس کا غلام۔ مضاف مضاف الیہ۔ الفتی۔ نوجوان۔ فتاۃ۔ نوجوان عورت فتاء مصدر۔ بعدہ ہر دو فتی وفتاہ غلام اور لونڈی کے معنی میں استعمال ہونے لگے۔
شغفھا۔ شغف واحد مذکر غائب۔ ماضی ۔ شغف یشغف (فتح) شغف سے۔ جس کے معنی محبت کا دل کے پردوں میں اتر جانے کے ہیں۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب وہ (آدمی) اس عورت کے دل میں اتر گیا۔ اس نے اس کو فریفتہ کرلیا۔ شغاف کے معنی پردہ دل کے ہیں قد شغفھا حبا اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرچکی ہے۔ حبا۔ بوجہ تمیز کے منصوب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 32
نسوۃ (امراۃ کی جمع ہے) عورتیں، خواتین، المدینۃ (شہر) تراود (آمادہ کرتی ہے۔ مانگتی ہے ) فتی (نوجوان) شغفت (دیوانہ کردیا ہے۔ اس کو پھیر دیا ہے ۔ حب (محبت) انا لنری (بےشک ہم البتہ دیکھتے ہیں، دیکھتی ہیں) ضلل مبین (کھلی گمراہی میں) سمعت (اس عورت نے سنا) مکر (دھوکہ، فریب، تدبیر) ارسلت (بھیجا، بلوا بھیجا) اعتدت (تیاری کی) متکا (بیٹھنے کی جگہ، تکئے لگی جگہ اتت (دیدیا) کل واحدۃ (ہر ایک) سکین (چھری، چاقو) اخرج (نکل) راینہ (انہوں نے اس کو دیکھا) اکبرنہ (وہ عورتیں حیران رہ گئیں) قطعن (کاٹ ڈالا ان عورتوں نے ایدیھن (اپنے ہاتھ کو) قلن (ان عورتوں نے کہا ) حاش للہ (اللہ کی قسم،…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس بات کی خبر دی کہ باوجود اس کے کہ عزیز مصر نے کوشش کی کہ یوسف وزلیخا کا قصہ شہر میں مشہور نہ ہو مگر بحکم قضا و قدر تمام گھروں میں اس کا چرچا ہونے لگا۔ اور ہر رئیس و امیر کی عورتیں آپس میں اس بات کا چرچا کرنے لگیں کہ عزیز مصر کی عورت زلیخا ایک جوان پر دل وجان سے فریفتہ ہے اور وہ جوان وہی ہے جس کو اس کے شوہر نے خرید کیا ہے۔ اس کی محبت میں دیوانی ہوگئی ہے۔ غلام کی محبت زلیخا کے تمام رگ و ریشوں میں سرایت کرگئی ہے۔ اسے اچھا برا کچھ نہیں سوجھتا وہ بالکل بہک گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
[14] ان کی گفتگو کو مکا ّرانہ اس لئے کہا کہ عزیز کی بیوی پر طعن کر کے گویا اپنی پارسائی کا اظہار مقصود تھا حالانکہ یوسف (علیہ السلام) کے حسن و جمال کا شہرہ جس عورت کے کان میں پڑتا تھا ان کی دید کا اشتیاق دل میں چٹکیاں لینے لگتا تھا۔ کچھ بعید نہیں کہ طعن وتشنیع اور نکتہ چینی کرنے والیوں میں یہی غرض پوشیدہ ہو کہ عزیز کی بیوی کو غصہ دلا کر کسی ایسی حرکت پر آمادہ کریں جو یوسف (علیہ السلام) کے دیدار کا سبب بن جائے یا عزیز کی بیوی کے دل میں یوسف (علیہ السلام) کی نفرت بٹھا کر اپنی طرف مائل کرنے کا موقعہ نکالیں۔
[15] عام طور پر واقعہ یوں سمجھا جاتا ہے کہ وہ عورتیں یوسف (علیہ السلام) کا جمال صورت دیکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
ازدیاد محبت :
(ف 1) خوشبو اور محبت ہزار پردوں میں ہو ، چھپی نہیں رہتی خاتون مصر کے عشق کا دور دور چرچا ہوگیا ، گھروں میں عورتیں طعنے دینے لگیں کہ ایسی بھی کیا محبت جو اپنے غلام سے ہو ، اور والہانہ ہو یہ صریح گمراہی اور مغلوبیت ہے ،
بات یہ ہے کہ جب تک واردات محبت سے کوئی شخص آگاہ نہیں ہوتا ، وردنہاں کا اندازہ نہیں کرسکتا ، انہیں کیا معلوم یوسف (علیہ السلام) میں کیا جادو ہے ، جو عزیز مصر ایسی شریف خاتون عزت وناموس سے بےپروا ہو کر باولی ہو رہی ہے ۔
جب امراۃ العزیز کو معلوم ہوا کہ کچھ عورتیں میرے یوسف (علیہ السلام) پر طعنہ زن ہیں ، اور میری محبت پر حرف گیر تو اس نے ایک دعوت طعام کا انتظام کیا ،…
Read the full tafseer →30 یہ واقعہ شہر میں مشہور ہوگیا اور شہر کی چند عورتوں نے آپس میں تذکرہ کیا اور یہ بات کہی کہ عزیر کی بیوی اپنے غلام سے ناجائز خواہش پوری کرنے کی غرض سے اس کو پھسلاتی ہے یوسف کا عشق اس کے دل میں پیوست ہوگیا ہے اور یوسف (علیہ السلام) کی محبت نے اس کے دل میں گھر کرلیا ہے یقینا ہم اس کو صریح غلطی میں دیکھتی ہیں۔
یعنی جب شہر میں یہ چرچا پھیلا تو کچھ عورتوں نے آپس میں اس قسم کا تذکرہ کیا کہ ہم تو عزیر کی بیوی کو کھلی غلطی میں مبتلا پاتی ہیں کہ وہ غلام پر فریفتہ ہوگئی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی غلام اس قابل کیا ہوگا 12
بعض اہل تحقیق نے کہا ہے کہ یہ عورتیں بڑی چالاک تھیں ان کو اعتراض یہ تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
ف 11۔ ایک شیرخوار بچہ تھا جو یوسف (علیہ السلام) کے معجزہ سے بول پڑا اگر یوسف اس وقت نبی نہ ہوں تو اس خارق کو اصطلاح میں بجائے معجزہ کے ارہاص کہیں گے۔
12۔ اس شاہد نے جو فیصلہ بتایا یہ کوئی حجت شرعی نہیں حجت کافیہ تو صرف اس کا نطق ہے لیکن حاضرین کے مذاق کے موافق اس کیا بیان کردینا حجت اصلیہ کے لیے زیادہ موید ہوگیا۔
Read the full tafseer →عزیز مصر نے کوشش کی کہ بات دب جائے لیکن شہر میں عورتوں نے چہ مگوئیاں شروع کر دیں
۔ 40 عزیز مصر نے اگرچہ فضیحت و رسوائی سے بچنے کے لئے اس معاملہ کو یہیں پر ختم کردیا مگر بات پوشیدہ نہ رہ سکی اور شدہ شدہ شاہی خاندان کی عورتوں میں یہ چرچا ہونے ہی لگا کہ عزیز مصر کی بیوی کس قدر بےحیاء ہے کہ اپنے غلام پر ریجھ گئی ہے۔ اتنے بڑے مرتبہ کی عورت اور غلام سے اختلاط کا ارادہ ہے ؟ اس طرح جب امرا العزیز کی وارفتگی کا چرچا عام ہونے لگا اور بڑے بڑے رئوسا کی بیگمات جہاں اکٹھی ہوتیں تو ان کا موضوع سخن امراۃ العزیز کی داستان محبت ہوتی اور طعن وتشنیع ان کی یہ نہ تھی کہ اس نے کسی غیر مرد کی طرف توجہ کی بلکہ یہ تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
So, after having pointed out to Zulaikha her error, the ` Aziz of Misr said to Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) : يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَـٰذَا :'O Yusuf, ignore this matter' - that is, do not speak about it before others so there be no disgrace because of this. Then he addressed Zulaikha and said: وَاسْتَغْفِرِي لِذَنبِكِ ۖ إِنَّكِ كُنتِ مِنَ الْخَاطِئِين (and you [ 0 woman ] seek forgiveness for your sin. Surely, you were of the sinners). This obviously means that she should seek forgiveness from her hus-band. And it could also mean that she should seek forgiveness from Sayyidna Yusuf (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
26. The ancient Egyptians used to place pillows and cushions in such feasts for the guests to recline. And this is confirmed by the archaeological remains in Egypt.
There is no mention at all of this banquet in the Bible but it has been described in the Talmud in a way quite different from that of the Quran. Needless to say that while this narrative in the Quran is natural, life like and teaches moral lessons, the one in the Talmud lacks all these things.
Read the full tafseer →