Yusuf 12:29

Yusuf · from ayah 29

12:29

یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا ٚ— وَاسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ ۖۚ— اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِـِٕیْنَ ۟۠يُوۡسُفُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰذَا ۚ وَاسۡتَغۡفِرِىۡ لِذَنۡۢبِكِ ۖ ‌ۚ اِنَّكِ كُنۡتِ مِنَ الۡخٰطِٮئِيۡنَ

یوسف اس بات کا خیال نہ کر۔ اور (زلیخا) تو اپنے گناہوں کی بخشش مانگ، بےشک خطا تیری ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Joseph, ignore this. And, [my wife], ask forgiveness for your sin. Indeed, you were of the sinful."

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 3 of surah · Ruku 13 of juzع

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:29

یوسفؑ، اس معاملے سے درگزر کر اور اے عورت، تو اپنے قصور کی معافی مانگ، تو ہی اصل میں خطا کار تھی"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یوسف اس بات کا خیال نہ کر۔ اور (زلیخا) تو اپنے گناہوں کی بخشش مانگ، بےشک خطا تیری ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یوسف اب اس بات کو آتی جاتی کرو اور (اے عورت) تو اپنے گناه سے توبہ کر، بیشک تو گنہگاروں میں سے ہے۔

— مولانا محمد جوناگڑہی

یوسف ! تم اس بات کا خیال نہ کرو، اور اے عورت ! تو اپنے گناہ کی معافی مانگ، یقینی طور پر تو ہی خطاکار تھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے یوسف! تم اس کا خیال نہ کرو اور اے عورت! تو اپنے گناہ کی معافی مانگ بیشک تو خطاواروں میں ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے یوسف! تم اس بات سے درگزر کرو اور (اے زلیخا!) تو اپنے گناہ کی معافی مانگ، بیشک تو ہی خطاکاروں میں سے تھی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یوسف ! اس معاملے سے درگزر کر اور (اے عورت !) تو اپنے گناہ کی معافی مانگ، یقینا تو ہی خطا کاروں سے تھی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر یوسف سے کہا : اس بات کو جانے دو اور اپنی بیوی سے کہا : تو اپنے گناہ کی معافی مانگ۔ بلاشبہ تو ہی خطاکار ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یوسف اس کو چھوڑو، اور تو اپنے گناہ کی معافی مانگ، بیشک تو ہی خطاوار ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اور اس شخص نے حضرت یوسف سے کہا کہ) درگزر کرو تم اے یوسف، اب اس معاملے سے، اور تم معافی مانگو اپنے گناہ کی (اے عورت !) کہ یقینا تو بڑی خطاکار (عورت) ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اے یوسف ؑ (اب) تم اسے جانے دو۔ اور تو اے عورت تو اپنے قصور پر معافی مانگ بیشک تو ہی (سرتاسر) خطا وار ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یوسف ! اس معاملے سے درگزر کرو اور تم اپنے گناہ کی معافی مانگو یقیناً قصور وار تم ہی ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یوسف ! اس بات کا خیال نہ کر اور زلیخا ! تو اپنے گناہوں کی بخشش مانگ، بیشک خطا تیری ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Joseph, disregard this. And you - woman - ask forgiveness for your sin, for indeed it is you who has been at fault."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O Yusuf, ignore this matter, and you (O woman,) seek forgiveness for your sin, for you were guilty infact.

— Muhammad Taqi Usmani

O Yusuf, ignore this matter, and you (O woman,) seek forgiveness for your sin, for you were guilty infact.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"O Yusuf! Turn away from this! (O woman!) Ask forgiveness for your sin, verily, you were of the sinful."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O Joseph! Turn away from this, and thou, (O woman), ask forgiveness for thy sin. Lo! thou art of the faulty.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Joseph, ignore this. And, [my wife], ask forgiveness for your sin. Indeed, you were of the sinful."

— Saheeh International

Joseph, stay away from such affairs and you, woman, ask forgiveness for your sin; the guilt is yours."

— Muhammad Sarwar

O Yusuf! turn aside from this; and (O my wife)! ask forgiveness for your fault, surely you are one of the wrong-doers.

— Muhammad Habib Shakir

Yusuf! turn away therefrom; and, thou woman! ask forgiveness for thy sin; verily thou hast been of the guilty.

— Abdul Majid Daryabadi

"O Joseph, pass this over! (O wife), ask forgiveness for thy sin, for truly thou hast been at fault!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:29

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 25–29

الزام کی مدافعت اور بچے کی گواہی حضرت یوسف اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے دروازے کی طرف دوڑے اور یہ عورت آپ کو پکڑنے کے ارادے سے آپ کے پیچھے بھاگی۔ پیچھے سے کرتا اس کے ہاتھ میں آگیا۔ زور سے اپنی طرف گھسیٹا۔ جس سے حضرت یوسف پیچھے کی طرف گر جانے کی قریب ہوگئے لیکن آپ نے آگے کو زور لگا کر دوڑ جاری رکھی اس میں کرتا پیچھے سے بالکل بےطرح پھٹ گیا اور دونوں دروازے پر پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ عورت کا خاوند موجود ہے۔ اسے دیکھتے ہی اس نے چال چلی اور فوراً ہی سارا الزام یوسف کے سر تھوپ دیا اور اپنی پاک دامنی بلکہ عصمت اور مظلومیت جتانے لگی۔ سوکھا سامنہ بنا کر اپنے خاوند سے اپنی بپتا اور پھر پاکیزگی بیان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 28–29

سورة یُوْسُف 25A بائیبل میں اس قصے کو جس بھونڈے طریقہ سے بیان کیا گیا ہے، وہ ملاحظہ ہو، " تب اس عورت نے اس کا پیراہن پکڑ کر کہا کہ میرے ساتھ ہم بستر ہو، وہ اپنا پیراہن اس کے ہاتھ میں چھوڑ کر بھاگا اور باہر نکل گیا۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ اپنا پیراہن اس کے ہاتھ میں چھوڑ کر بھاگ گیا تو اس نے اپنے گھر کے آدمیوں کو بلا کر ان سے کہا کہ دیکھو وہ ایک عبری کو ہم سے مذاق کرنے کے لیے ہمارے پاس لے آیا ہے۔ یہ مجھ سے ہم بستر ہونے کو اندر گھس آیا اور میں بلند آواز سے چلانے لگی۔ جب اس نے دیکھا کہ میں زور زور سے چلا رہی ہوں تو اپنا پیراہن میرے پاس چھوڑ کر بھاگا اور باہر نکل گیا۔ اور وہ اس کا پیراہن اس کے آقا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

عزیز مصر نے زلیخا کو اس کی خطا بتلانے کے بعد یوسف ؑ سے کہايُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا یعنی اے یوسف تم اس واقعہ کو نظرانداز کرو اور کسی سے نہ کہو تاکہ رسوائی نہ ہو، پھر زلیخا کو خطاب کر کہا۫وَاسْتَغْفِرِيْ لِذَنْۢبِكِ ښ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِــِٕيْنَ یعنی خطا سراسر تمہاری ہے تم اپنی غلطی کی معافی مانگو اس سے بظاہر یہ مراد ہے کہ وہ اپنے شوہر سے معافی مانگے اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ یوسف ؑ سے معافی مانگے کہ خود خطاء کی اور تہمت ان کے سر ڈالی، فائدہیہاں یہ بات غور طلب ہے کہ شوہر کے سامنے اپنی بیوی کی ایسی خیانت اور بےحیائی ثابت ہوجانے پر اس کا مشتعل نہ ہونا اور پورے سکون و اطمینان سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

يُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا ۫وَاسْتَغْفِرِيْ لِذَنْۢبِكِ ښ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِــِٕيْنَ۔ بیوی کو شوہر کی ڈانٹ : صحیح صورت حالس امنے آجانے کے بعد اس نے حضرت یوسف کو مخاطب کر کے تو اطمینان دلایا کہ تم اس کی بکواس کی کوئی پرواہ نہ کرو۔ اس سے اعراض کرو۔ اور خوبیوں کو کطاب کرکے ڈانٹا کہ تو ہی خطاوار ہے اس وجہ سے اپنے گناہ کی معافی چاہ۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ توبہ اور استغفار کے مشرکانہ ادیان میں بھی ہمیشہ بڑی اہمیت حاصل رہی ہے یہ الگ بات ہے کہ ان کا استغفار اپنے دیوتاؤں کے سامنے ہوتا ہے جن کی کوئی حقیقت نہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

29۔ 1 یعنی اس کا چرچا مت کرو۔ 29۔ 2 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عزیز مصر پر حضرت یوسف ؑ کی پاک دامنی واضح ہوگئی تھی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–29

19: عزیز مصر کو یقین ہوگیا تھا کہ شرارت اس کی بیوی ہی کی تھی۔ لیکن شاید بدنامی کے خوف سے اس نے بات کو پوشیدہ رکھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یوسف کی طرف متوجہ ہو کر بھی یہی کہا گیا۔ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا : " درگزر کر۔ یعنی اس بات کو یہیں چھوڑ دے ، اس کا تذکرہ نہ کر ، حالات کو جوں کا توں رکھو۔ اس قسم کے معاشرے میں یہ اہم بات ہے۔ اور عورت جو رنگے ہاتھوں پکڑی گئی تھی اس کے لیے یہی تبصرہ کہ تم خطا کار ہو لہذا اپنے گناہوں پر معافی مانگو۔ یہ ہیں اس وقت کے سرکردہ بیوروکریٹ اور بڑوں کے حاشیہ نشین۔ ہر جاہلیت میں یہ لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ اب پردہ گرتا ہے اور یہ منظر ختم ہوتا ہے۔ سیاق کلام میں اس مرحلے کو اپنے تام حالات ، تاثرات اور اشارات کے ساتھ پیش کردیا گیا ، لیکن اس نازک مرحلے کو حیوانی لذتیت سے پاک رکھا گیا اور نہایت ہی انسانی اور شریفانہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 27–29

5 اگر گواہ شیر خوار بچہ تھا جیسا کہ بعض معتبر روایات میں ہے تب تو اس کا بولنا اور ایسی گواہی دینا جو انجام کار یوسف کے حق میں مفید ہو، خود مستقل دلیل یوسف کی سچائی کی تھی۔ کرتہ کا آگے یا پیچھے سے پھٹا ہونا شہادت سے زائد بطور ایک علامت اور قرینہ کے سمجھنا چاہیے۔ اور اگر گواہ کوئی مرد دانا تھا تو بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ خارجی طریقہ سے حقیقت حال پر مطلع ہوچکا تھا مگر اس نے نہایت دانائی سے ایسے پیرایہ میں شہادت دی جو دفعتاً کسی کی جانبداری پر بھی محمول نہ ہو اور آخرکار یوسف کی برأت ثابت کر دے۔ جو پیرایہ اظہار واقعہ کا اس نے اختیار کیا وہ غیر جانبداروں کے نزدیک نہایت معقول تھا۔ کیونکہ اگر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 29 يُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا اس کے بعد وہ اپنی بیوی سے مخاطب ہوا اور بولا :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 29–31

29 شہر کی عورتوں کی چہ میگوئیاں اور زلیخا کو طعنے :۔ جس بات کا عزیز مصر کو خطرہ تھا وہ ہو کے رہی۔ رفتہ رفتہ یہ بات شہر کی عورتوں میں پھیل ہی گئی کہ عزیز مصر کی بیوی زلیخا اپنے غلام پر عاشق ہے۔ اس نے اسے اپنے دام تزویر میں پھنسانا چاہا تھا۔ لیکن وہ اس کے ہتھے نہیں چڑھ سکا۔ اتنی بات تو حقیقت تھی، پھر اس بات پر عورتوں کے تبصرے کرنا بالخصوص عورتوں کا ہی میدان ہے۔ وہ کئی لحاظ سے زلیخا کو مطعون کر رہی تھیں۔ ایک یہ کہ وہ اس درجہ گھٹیا عورت ہے کہ اپنے غلام پر عاشق ہوگئی ہے اور دوسرے یہ کہ وہ اتنی بدھو ہے کہ اگر وہ یوسف پر فریفتہ ہو ہی گئی تھی تو اسے اپنی طرف مائل بھی نہ کرسکی۔ ورنہ ایک نوجوان کو اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

53۔ انکشاف حقیقت کے بعد عزیز پہلے تو عورتوں کی چالبازی پر نفرت کرتا ہے پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف مخاطب ہو کرنیم معذرت کے انداز میں کہتا ہے جو ہونا تھا ہوچکا اب تم بھی اس پر خاک ڈالو نہ اس کا چرچادوسروں سے کرونہ اس کا غبار اپنے دل میں رکھو۔ 54۔ (کہ اول تو خود اتنی بڑی جرأت کر گزری اور پھر خواہ مخواہ ایک بیگناہ کو پھانس دینا چاہا) (آیت) ” واستغفری لذنبک “۔ پھر سوال یہ پیدا ہوا ہے کہ قصور کی معافی کس سے مانگی جائے ؟ ایک جواب یہ دیا گیا ہے کہ خدا سے۔ دوسرا جواب یہ منقول ہے کہ اپنے شوہر سے۔ مصریوں کے مشرکانہ عقائد پر نظر کرتے ہوئے پہلا قول ضعیف اور دوسرا قول صحیح معلوم ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–29

آیت نمبر 21 تا 29 ترجمہ : اور اس مصری شخص نے جس نے یوسف کو خریدا تھا جس کا نام قِطْفیر اور (لقب) عزیز تھا، اپنی بیوی زلیخا سے کہا اس کو عزت اور احترام کے ساتھ رکھنا (یعنی اس کو عزت کا مقام دینا اور اچھی طرح دیکھ بھال کرنا) بعید نہیں کہ ہمارے لئے نفع بخش ثابت ہو یا ہم اس کو اپنا بیٹا ہی بنالیں اور عزیز عنّین (نامرد) تھا، اور جس طرح ہم نے یوسف کو قتل اور کنویں سے نجات دی اور عزیز مصر کے دل کو اس کی طرف مائل کیا، اسی طرح ہم نے یوسف کو ملک مصر میں اقتدار عطا کیا حتی کہ وہ پہنچے جس مرتبہ پر پہنچے، (اور ہم نے ان کو قدرت دی) تاکہ ہم اس کو خوابوں کی تعبیر سکھائیں (لِنعلِّمَہٗ ) کا عطف لنملکہٗ محذوف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یوسف اعرض عن ھذا اے یوسف ! اس قصہ سے درگذر کرو۔ کسی سے اس کا تذکرہ نہ کرنا ‘ کہیں یہ واقعہ پھیل نہ جائے۔ واستغفری لذنبک ان کنت من الخطئین اور (اے زلیخا ! ) تو اپنے گناہ کی معافی طلب کر ‘ یقیناً تو ہی قصوروار ہے۔ یعنی قصور وار لوگوں میں سے ہے۔ الخاطِئین ‘ خطأً سے اسم فاعل جمع مذکر ہے۔ خطأً کا معنی ہے : قصداً گناہ کیا۔ الخاطِئین مذکر کا صیغہ ہے اور بظاہر مؤنث کا صیغہ ہونا چاہئے تھا کیونکہ زلیخا عورتوں میں سے تھی ‘ مگر یہاں صرف خطاوار عورتوں کی جماعت مراد نہیں ہے بلکہ مرد خطاوار ہو یا عورت ‘ سب کی جماعت مراد ہے اور مذکر کو مؤنث پر تغلیب دے کر مذکر کا صیغہ استعمال کیا ہے ‘ جیسے دوسری آیت ہے :…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(29) پھر اس کے بھائی نے کہا اے یوسف ! اس بات کو جانے دو اور اس کا سرعام چرچا نہ کرتا پھر اس کے بھائی نے عورت کی طرف متوجہ ہو کر کہا کہ اے عورت ! تو اپنے قصور کی معافی مانگ اور اپنے خاوند سے اپنے برے ارادہ کی معذارت کرواقعی تو اپنے خاوند کی خائن ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا۔۔ : عزیز مصر نے حقیقت حال جان لینے کے بعد یوسف ؑ سے کہا کہ یوسف ! اس معاملے سے در گزر کرو (تاکہ بات نہ پھیلے، بلاشبہ تمہاری سچائی اور پاک بازی ثابت ہوگئی ہے)۔ ادھر اپنی بیوی سے کہا کہ تو اپنے گناہ کے لیے استغفار کر، معافی مانگ، یقیناً تو ہی خطاکاروں سے تھی۔ ”مُخْطِئٌ“ اور ”خَاطِئٌ“ کا یہی فرق ہے، پہلا وہ شخص ہے جس سے بھول کر خطا ہوجائے نہ کہ دانستہ طور پر اور ”خَاطِئٌ“ وہ ہے جو جان بوجھ کر غلط کام کرے، جیسے فرمایا : (اِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِـــــِٕيْنَ) [ القصص : 8 ] ”بیشک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر خطا کار تھے۔“ بظاہر یہ عزیز…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 26–29

آیت نمبر 26 تا 29 قال ھی راودتنی عن نفسی وشھد شاھد من اھلھا اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ علماء نے کہا : جب اس عورت نے اپنے آپ کی برات ظاہر کردی تو پتہ چلا وہ محبت میں سچی نہ تھی کیونکہ محب کی شان تو محبوب کو ترجیح دینا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : ھی راودتنی عن نفسی تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس کے بہتان اور جھوٹ کے مقابلے میں سچ بیان کیا۔ نوف شامی وغیرہ نے کہا ہے : گویا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس واقعہ سے پردہ اٹھایا اور جب اس نے آپ سے بغاوت کی تو آپ کو غصہ آیا اور آپ نے سچ کہہ دیا۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ وشھدشاھد من اھلھا کیونکہ جب ان دونوں کے قول میں تعارض واقع ہو تو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ نے فرمایا (آیت) ” یوسف اعرض عن ھذا “ یعنی اے یوسف اس کام اور بات سے (منہ پھیر لے) (آیت) ” واستغفری لذنبک “ اور اے عورت تو اپنے رب سے مغفرت طلب کر۔ 2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یوسف اعرض عن ھذا “ یعنی اس کا ذکر نہ کر۔ 3:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” واستغفری لذنبک انک کنت من الخطئن “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے حلم (یعنی بادشاہ مصر نے حلم کا مظاہرہ کرتے ہوئے عورت سے کہا کہ اپنے جرم کی معافی مانگ بیشک تو خطاکاروں سے ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يُوْسُفُ : (اے) یوسف ] [ اَعْرِضْ : آپ (علیہ السلام) اعراض کریں ] [عَنْ ھٰذَا : اس سے ] [ ۫وَاسْتَغْفِرِيْ : اور (اے عورت) تو مغفرت مانگ ] [ لِذَنْۢبِكِ : اپنے گناہ کے لئے ] [انكِ : بیشک تو (ہی)] [ كُنْتِ : ہے ] [ مِنَ الْخٰطِــِٕيْنَ : خطا کرنے والوں میں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 26–29

معاملہ کی صورت حال سمجھنے کے بعد عزیز مصر نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف توجہ کی اور اس نے درخواست کی کہ (یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا) اے یوسف اس بات سے اعراض کرنا یعنی اسے یہیں تک رہنے دینا اور آگے مت بڑھانا کسی سے نہ کہنا ‘ پھر اپنی بیوی سے کہا واسْتَغْفِرِیْ لِذَنْبِکِ (کہ تو اپنے گناہ کے لیے استغفار کر) (اِنَّکِ کُنْتِ مِنَ الْخٰطِءِیْنَ ) (بلاشبہ تو خطا کرنے والوں میں سے ہے) معاملہ کی صورت حال سے اور گواہ کی گواہی سے ثابت ہوگیا کہ تو ہی گناہ گاروں میں سے ہے ‘ اصل گناہ تو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بچنے اور پرہیز کرنے اور راہ فرار اختیار کرنے کی وجہ سے نہ ہوسکا لیکن گناہ کے لیے جو اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 21–29

ذکر الطاف و عنایات خداوندی با یوسف صدیق (علیہ السلام) و قصہ او بازن عزیز مصر قال اللہ تعالیٰ وقال الذی اشترہ من مصر ..... الیٰ .... انک کنت من الخطئین۔ (ربط) آغاز سورت میں حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ارادہ خداوندی یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو اپنا برگزیدہ بندہ بنائے اور علم تعبیران کو سکھائے اور ان کے آباؤ اجداد کی طرح ان پر اپنی نعمتیں پوری کرے بعد ازاں بھائیوں کا ماجرا ذکر کیا کہ بھائی کو لے جا کر کنوئیں میں ڈالا اور غلام بن اکر گنتی کے دراہم میں فروخت کردیا۔ اب ان آیات میں حق جل شانہ اپنے الطاف و عنایات کا ذکر کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی رحمت سے یوسف (علیہ السلام) کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 28–29

28:۔ عزیز مصر نے جب دیکھا کہ اس دانا آدمی کے قول کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ پیچھے پھٹا ہوا ہے تو سمجھ گیا کہ قصور میری بیوی کا ہے اور اپنی بیوی سے خطاب کر کے صاف کہہ دیا کہ تم عورتیں بڑی مکار ہوتی ہو اور اپنا گناہ دوسروں کے سر تھوپنے کے لیے کیسے کیسے پاپڑ بیلتی ہو۔ ساتھ ہی حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کہا کہ بیشک تم بےقصور ہو مگر اب جانے دو اور اس معاملے کو طول نہ دو یہ میری عزت کا سوال ہے اور اپنی بیوی سے کہا کہ تم قصور وار ہو ایک تو تم نے برے فعل کا ارادہ کیا اور پھر ایک پاکدامن پر تہمت لگائی اس لیے ان گناہوں کی اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو۔ اللہ تعالیٰ نے خود عزیز مصر کی زبان سے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 25–29

قمیض کا پھٹ جانا گزشتہ درس میں یوسف (علیہ السلام) کی ابتداء کا ذکر ہوچکا ہے کہ عزیز مصر کی بیوی نے آپ پر فریضتہ ہو کر ڈرے ڈالنے شروع کئے اور برائی پر آمادہ کرنا چاہا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت فرمائی۔ جب اس عورت نے دروازے بند کر لئے تو یوسف (علیہ السلام) نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی اور عورت بھی آپ کے پیچھے بھاگی۔ اس واقعہ کو قرآن پاک نے اس طرح بیان کیا ہے۔ واستبقا الباب اور وہ دونوں (یوسف اور زلیخا ) دروازے کی طرف دوڑے ۔ آگے آگے یوسف (علیہ السلام) تھے اور پیچھے پیچھے عزیز مصر کی بیوی تھی۔ یوسف (علیہ السلام) تو برائی سے بچنے کے لئے بھاگے جب عورت انہیں برائی پر آمادہ کرنے کے لئے پکڑنا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا۝ 0۫ وَاسْتَغْفِرِيْ لِذَنْۢبِكِ۝ 0ۚۖ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِــِٕيْنَ۝ 29ۧ اعرض وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى مُبدیا عَرْضَهُ. قال : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] ، فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ ( ع ر ض ) العرض اعرض عنی اس نے مجھ سے روگردانی کی اعراض کیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] تو وہ ان سے منہ پھیرے ۔ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ [ النساء/ 63] تم ان سے اعراض بر تو اور نصیحت کرتے رہو ۔ استغفار الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، والاسْتِغْفَارُ : طلب ذلک بالمقال والفعال، وقوله : اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 25–29

وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِیْصَہٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَھَا لَدَا الْبَابِ ط قَالَتْ مَاجَزَآئُ مَنْ اَرَادَ بِاَھْلِکَ سُوْٓئً ا اِلَّآ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْعَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ قَالَ ھِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَھِدَشَاہِدٌ مِّنْ اَھْلِھَا ج اِنْ کَانَ قَمِیْصُہٗ قُدَّمِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَھُوَمِنَ الْکٰذِبِیْنَ ۔ وَاِنْ کَانَ قَمِیْصُہٗ قُدَّمِنْ دُبُرٍ فَکَذَبَتْ وَھُوَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ فَلَمَّا رَاٰقَمِیْصَہٗ قُدَّمِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّہٗ مِنْ کَیْدِکُنَّ ط اِنَّ کَیْدَکُنَّ عَظِیْمٌ۔ یُوْسُفُ اَعرِضْ عَنْ ھٰذَا سکتۃ وَاسْتَغْفِرِیْ لَذِمنْبِکِ جاِنَّکِ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 25–29

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا بےحیائی سے بچتے ہوئے دروازے کی طرف بھاگنا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنی عفت و عصمت بچاتے ہوئے دروازے کی طرف دوڑے۔ ان کو پکڑنے کے لیے عزیز مصر کی بیوی پیچھے بھاگتی ہے۔ لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) دوڑتے ہوئے دروازے تک پہنچ گئے۔ پیچھے سے عزیز مصر کی بیوی نے ان کیقمیص کھینچی۔ اس حالت میں حضرت یوسف دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوئے جونہی دروازہ کھلا۔ دونوں نے عزیز مصر کو دروازے کے سامنے پایا۔ اپنے خاوند کو دیکھ کر عورت نے اپنی کرتوت کو یوسف (علیہ السلام) کے ذمہ لگاتے ہوئے اپنے خاوند سے مطالبہ کیا کہ اس مجرم کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

29: یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا (اے یوسف اس قصہ سے درگزر کر) حرف نداء کو حذف کردیا۔ کیونکہ قریب کو پکارا۔ بات کو آئی گئی کرنے کیلئے اس نے کہا اس معاملے کو سرے سے چھوڑو۔ اور چھپائو اور کسی کے سامنے ظاہر نہ کرنا۔ (گھریلو معاملہ ہے رسوائی نہ ہو) پھر راعیل کو مخاطب ہو کر کہا وَاسْتَغْفِرِیْ لِذَنْچبِکِ اِنَّکِ کُنْتِ مِنَ الْخٰطِئِیْنَ ( اور تو اپنے گناہ کی معافی مانگ یقینا تو ہی قصور وارلوگوں میں سے ہے) یعنی اس گروہ سے جو جان بوجھ کر گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں۔ عرب کہتے ہیں۔ خطیٔ اذا أذنب متعمدًا جب جان بوجھ کر گناہ کرے۔ الخاطئین مذکر لائے مذ کر کو مؤنث پر تغلیب دیکر یہ صیغہ بول دیا۔ عزیز مصر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

29۔” یوسف “ اے یوسف ( علیہ السلام) ” اعرض عن ھذا “ یعنی اس بات کو بھول جائو ۔ اس کا تذکرہ کسی اور سے نہ کرنا کہیں بات پھیل نہ جائے ۔ اور بعض نے کہا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ آپ اس کی پروا نہ کریں آپ کا عذر اور پاک دامنی ظاہر ہوگئی ہے ۔ پھر اپنی بیوی کو کہا ” واستغفری لذنبک “ اللہ کی طرف توبہ کر ” انک کنت من الخاطنین “ گناہ گاروں میں سے اور بعض نے کہا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اور راعیل کو یہ بات اس شاہد نے کہی تھی اور ” استغفری لذنبک ‘ سے اس کی مراد یہ تھی کہ اپنے خاوند سے سوال کر کہ وہ تجھے سزا نہ دے اور تجھ سے درگزر کرے۔ ” انک کنت من الخاطبین “ گنا ہ گاروں میں سے ہے، یہاں تک کہ تو نے نوجوان کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 28–29

28۔ 29۔ جب یوسف (علیہ السلام) کے سچے ہونے پر گواہی گزری اور دیکھنے پر یہ بات ظاہر ہوئی کہ یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا ہے تو عزیز مصر کو یقین ہوگیا کہ یوسف (علیہ السلام) کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے یہ سارا فریب اسی عورت کا ہے اس پر اس نے کہا کہ عورتیں اس باب میں نہایت مکار ہوتی ہے۔ صحیح مسلم میں ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر مرد کے لئے عورت احتیاط کرنے اور بچنے کی چیز ہے۔ نسائی نے اس روایت میں اتنا اور بڑھایا ہے کہ مرد کے حق میں عورت بڑے فتنہ اور فساد میں پڑجانے کی چیز ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری و مسلم میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–29

آیات 23 تا 29:۔ یہ عظیم آزمائش اس سے بہت بڑی تھی جو جناب یوسف (علیہ السلام) کو اپنے بھائیوں کی طرف سے پیش آئی اور اس پر ان کا صبر کرنا بہت بڑے اجر کا موجب بنا، کیونکہ اس قبیح فعل کے وقوع کے لیے کثیر اسباب کے باوجود انہوں نے صبر کو اختیار کیا اور اللہ تعالیٰ کی محبت کو ان اسباب پر مقدم رکھا۔ اس لیے ان کا یہ صبر اختیار تھا اور ان کو اپنے بھائیوں کے ہاتھوں جو آزمائش پیش آئی وہاں ان کا صبر اضطراری تھا۔ جیسے مرض اور دیگر تکالیف بندے کے اختیار کے بغیر اسے لاحق ہوتی ہیں جن میں طوعاً یا کرہاً صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں اور آزمائش کا یہ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) عزیز مصر کے گھر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 26–35

شاہد کون تھا ؟ قول باری ہے وشھد شاھدمن اھلھا ان کان قمیصہ قد من قبل فصدقت وھو من الکاذبین ۔ اس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے قرینے کی شہادت پیش کی کہ اگر یوسف کا قیمص آگے سے پھٹا ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت ابوہریرہ ؓ ، سعید بن جبیر اور ہلال بن یسار سے مروی ہے کہ پن گھوڑے میں پڑا ہوا ایک بچہ تھا ۔ جس نے یہ گواہی پیش کی ۔ حضرت ابن عباس سے ایک اور روایت کے مطابق ، نیز حسن ، ابن ملیکہ اور عکرمہ سے مروی ہے کہ یہ ایک مرد تھا جس نے شہادت پیش کی تھی ۔ عکرمہ کا قول ہے کہ عزیز مصرنے جب حضرت یوسف کو دروازے پر پھٹی ہوئی قمیص کے ساتھ دیکھا تو اس نے اپنے ایک چچا زاد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

50 ۔ عزیز مصر کی بےغیرتی کا ایک مظہر و نمونہ : کہ بیوی سے اتنا بڑا سنگین جرم ثابت ہوجانے کے باوجود اس شخص کا اس کو اس قدر نرم الفاظ سے خطاب کرنا اس شخص کے بےغیرت اور بےحس ہونے کا ایک کھلا اور واضح ثبوت ہے۔ اسی لیے صاحب البحر کہتے ہیں کہ مصر کی مٹی ہی ایسی بےغیرت ہے۔ اسی لیے وہاں شیر پیدا نہیں ہوتا۔ اور اگر کہیں اور سے اسے وہاں لے جایا جائے تو وہ فوری طور پر مرجاتا ہے (حاشیہ جامع البیان) لیکن علامہ رشید رضا مرحوم نے اپنی تفسیر المنار میں صاحب بحر کے اس زعم اور دعوے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کا یہ دعوی کسی صحیح بنیاد پر قائم نہیں، اور (كَيْدِكُنَّ ) جمع کا صیغہ لاکر یہ بھی بتادیا کہ ایسی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–57

انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔ تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–29

آیات 21 تا 29 اسرار و معارف چنانچہ قافلہ والے اس خزانے کوے کرمصرپہنچے اور فروخت کا بہت اہتمام کیا حتی کہ شاہی محل تک شہرہ پہنچا کہ ایک غلام بکنے کو ہے جس کے حسن کی چمک سورج کو ماند کرتی ہے ۔ قافلوں کا طریقہ کار یہ ہوتا تھا کہ جس شہر میں پہنچتے قیام کرتے اور مال کی خوب شہرت کرکے ایک خاص روز فروخت کے لئے مقرر کردیتے کہ لوگ زیادہ جمع ہوں اور اچھی قیمت لگے ۔ چناچہ خوب خوب بولیاں لگیں ۔ آخرعزیز مصر نے جس کا نام قطفیر تھا خرید لیا اور آپ کے وزن کے برابر سونا مشک اور اتنا ہی ریشمی کپڑاقیمت میں ادا کردیا۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ وزیر تھا اور حکمران عمالقہ میں سے تھا جس کا نام ریان بن اسید تھا۔ لیکن اگر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 28–29

ف 6 ۔ یعنی حضرت یوسف ( علیہ السلام) سے کہا کہ اس معاملہ سے درگزر کرو تاکہ بات نہ پھیلے بلاشبہ تمہاری صداقت اور پاک بازی ثابت ہوگئی ہے۔ (ابن کثیر) ۔ 7 ۔ اپنی بیوی سے کہا کہ تم اپنے گناہ کی معافی مانگ۔ (موضح) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 28–29

(12:28) کیدکن۔ تم عورتوں کی چال کید مصدر۔ اسم مصدر۔ اچھی تدبیر۔ بری تدبیر۔ مکر و فریب ۔ واؤ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 23–29

لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 29 راودت (اس نے بہکایا۔ پھسلایا) عن نفسہ (اپنے نفس سے۔ اپنی طرف ) غلقت (بند کردیئے ) ابواب (دروازے) ھیت لک (آ۔ اپنا کام ر) معاذ اللہ (اللہ کی پناہ) احسن (زیادہ بہتر) مثوا (ٹھکانا۔ مقام لایفلح (فلاح نہیں پاتا۔ کامیاب نہیں ہوتا) ھمت (ارادہ کیا (مونث) ھم (ارادہ کیا) لولات (اگر نہ ہوتا (حرف شرط ہے) ان را (یہ کہ دیکھا) برھان (دلیل ۔ نشانی) لنصرف (تاکہ ہم دور کردیں۔ پھیر دیں ) السوء (برائی ) الفحشاء (فحش ) بےحیائی کے کام المخلصین (خالص کرنے والے) استبقا (وہ دونوں آگے پیچھے دوڑے) فدت (پھاڑ دیا) (دبر) پیچھے۔ (پشت کے حصے کو دبر کہتے ہیں) الفیا (الفا (ماضی کا صیغہ) دونوں نے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 28–29

جب یوسف (علیہ السلام) کے سچے ہونے پر گواہی گزری اور دیکھنے پر یہ بات ظاہر ہوئی کہ یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا ہے تو عزیز مصر کو یقین ہوگیا کہ یوسف (علیہ السلام) کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے۔ یہ سارا فریب اسی عورت کا ہے۔ اس پر اس نے کہا کہ عورتیں اس باب میں نہایت مکار ہوتی ہیں۔ پھر عزیز مصر نے یوسف (علیہ السلام) کو مخاطب ٹھراکر کہا کہ تم ان باتوں سے درگزر کرو اور اس قصہ کا چرچا نہ کرو۔ اور زلیخا سے کہا کہ خطا تیری ہے تو توبہ اور استغفار کر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 28–31

[14] ان کی گفتگو کو مکا ّرانہ اس لئے کہا کہ عزیز کی بیوی پر طعن کر کے گویا اپنی پارسائی کا اظہار مقصود تھا حالانکہ یوسف (علیہ السلام) کے حسن و جمال کا شہرہ جس عورت کے کان میں پڑتا تھا ان کی دید کا اشتیاق دل میں چٹکیاں لینے لگتا تھا۔ کچھ بعید نہیں کہ طعن وتشنیع اور نکتہ چینی کرنے والیوں میں یہی غرض پوشیدہ ہو کہ عزیز کی بیوی کو غصہ دلا کر کسی ایسی حرکت پر آمادہ کریں جو یوسف (علیہ السلام) کے دیدار کا سبب بن جائے یا عزیز کی بیوی کے دل میں یوسف (علیہ السلام) کی نفرت بٹھا کر اپنی طرف مائل کرنے کا موقعہ نکالیں۔ [15] عام طور پر واقعہ یوں سمجھا جاتا ہے کہ وہ عورتیں یوسف (علیہ السلام) کا جمال صورت دیکھ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 29–31

ازدیاد محبت : (ف 1) خوشبو اور محبت ہزار پردوں میں ہو ، چھپی نہیں رہتی خاتون مصر کے عشق کا دور دور چرچا ہوگیا ، گھروں میں عورتیں طعنے دینے لگیں کہ ایسی بھی کیا محبت جو اپنے غلام سے ہو ، اور والہانہ ہو یہ صریح گمراہی اور مغلوبیت ہے ، بات یہ ہے کہ جب تک واردات محبت سے کوئی شخص آگاہ نہیں ہوتا ، وردنہاں کا اندازہ نہیں کرسکتا ، انہیں کیا معلوم یوسف (علیہ السلام) میں کیا جادو ہے ، جو عزیز مصر ایسی شریف خاتون عزت وناموس سے بےپروا ہو کر باولی ہو رہی ہے ۔ جب امراۃ العزیز کو معلوم ہوا کہ کچھ عورتیں میرے یوسف (علیہ السلام) پر طعنہ زن ہیں ، اور میری محبت پر حرف گیر تو اس نے ایک دعوت طعام کا انتظام کیا ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

29 اے یوسف (علیہ السلام) تو اس واقعہ کو نظر انداز کردے اور اے عورت تو یوسف (علیہ السلام) سے اپناہ گناہ کی معافی مانگ یقینا سر تا سر تو ہی خطاکاروں میں سے ہے یعنی کرتہ دیکھا گیا اور عزیر کو عورت کے مکروفریب اور اسکی خطا کا یقین آگیا چناچہ اس نے یوسف (علیہ السلام) کو تو یہ سمجھایا کہ درگزر کرو اور اس واقعہ کو شہرت نہ دو خوامخواہ میری بدنامی ہوگی اور زلیخا سے کہا کہ یوسف (علیہ السلام) سے یا خدا سے اپنے گناہ کی معای مانگ بلاشبہ تو ہی خطا کار ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 26–30

ف 11۔ ایک شیرخوار بچہ تھا جو یوسف (علیہ السلام) کے معجزہ سے بول پڑا اگر یوسف اس وقت نبی نہ ہوں تو اس خارق کو اصطلاح میں بجائے معجزہ کے ارہاص کہیں گے۔ 12۔ اس شاہد نے جو فیصلہ بتایا یہ کوئی حجت شرعی نہیں حجت کافیہ تو صرف اس کا نطق ہے لیکن حاضرین کے مذاق کے موافق اس کیا بیان کردینا حجت اصلیہ کے لیے زیادہ موید ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

عزیز مصر نے یوسف (علیہ السلام) سے درگزر کرنے کی اپیل کی ۔ 39 قرآن کریم کی تصریح پر غور کرو کہ اس نے شاہد کے متعلق کیا کہا ؟ صرف یہ کہ وہ اس عورت کے اپنے ہی عزیزوں میں سے ایک تھا اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا کیوں ؟ اس لئے کہ جو بات قرآن کریم واضح کرنی چاہتا تھا وہ اتنی تھی کہ یوسف کی پاکیزگی اور راست بازی نے گھر کے تمام آدمیوں کو اس کا معتقد بنا دیا تھا حتیٰ کہ خود عورت کے ایک رشتہ دار نے اپنی رشتہ داری کا لحاظ نہ کیا یوسف کی حمایت میں سچائی ظاہر کردی اور یہی وہ سبق تھا جس کو قرآن کریم ہماری زندگی کے لئے اجاگر کرنا چاہتا تھا کہ وہاں کا معاملہ تو جو ہونا تھا ہوگیا تم غور کرو کہ ایک کافر معاشرہ کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 29–30

So, after having pointed out to Zulaikha her error, the ` Aziz of Misr said to Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) : يُوسُفُ أَعْرِ‌ضْ عَنْ هَـٰذَا :'O Yusuf, ignore this matter' - that is, do not speak about it before others so there be no disgrace because of this. Then he addressed Zulaikha and said: وَاسْتَغْفِرِ‌ي لِذَنبِكِ ۖ إِنَّكِ كُنتِ مِنَ الْخَاطِئِين (and you [ 0 woman ] seek forgiveness for your sin. Surely, you were of the sinners). This obviously means that she should seek forgiveness from her hus-band. And it could also mean that she should seek forgiveness from Sayyidna Yusuf (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–31

26. The ancient Egyptians used to place pillows and cushions in such feasts for the guests to recline. And this is confirmed by the archaeological remains in Egypt. There is no mention at all of this banquet in the Bible but it has been described in the Talmud in a way quite different from that of the Quran. Needless to say that while this narrative in the Quran is natural, life like and teaches moral lessons, the one in the Talmud lacks all these things.

Read the full tafseer →