Yusuf 12:28

Yusuf · from ayah 28

12:28

فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَیْدِكُنَّ ؕ— اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْمٌ ۟فَلَمَّا رَاٰ قَمِيۡصَهٗ قُدَّ مِنۡ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنۡ كَيۡدِكُنَّ‌ؕ اِنَّ كَيۡدَكُنَّ عَظِيۡمٌ

اور جب اس کا کرتا دیکھا (تو) پیچھے سے پھٹا تھا (تب اس نے زلیخا سے کہا) کہ یہ تمہارا ہی فریب ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ تم عورتوں کے فریب بڑے (بھاری) ہوتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

So when her husband saw his shirt torn from the back, he said, "Indeed, it is of the women's plan. Indeed, your plan is great.

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 3 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:28

جب شوہر نے دیکھا کہ یوسفؑ کا قمیص پیچھے سے پھٹا ہے تو اس نے کہا "یہ تم عورتوں کی چالاکیاں ہیں، واقعی بڑ ے غضب کی ہوتی ہیں تمہاری چالیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب اس کا کرتا دیکھا (تو) پیچھے سے پھٹا تھا (تب اس نے زلیخا سے کہا) کہ یہ تمہارا ہی فریب ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ تم عورتوں کے فریب بڑے (بھاری) ہوتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

خاوند نے جو دیکھا کہ یوسف کا کرتا پیٹھ کی جانب سے پھاڑا گیا ہے تو صاف کہہ دیا کہ یہ تو تم عورتوں کی چال بازی ہے، بیشک تمہاری چال بازی بہت بڑی ہے۔

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر جب شوہر نے دیکھا کہ ان کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہے تو اس نے کہا کہ : یہ تم عورتوں کی مکاری ہے، واقعی تم عورتوں کی مکاری بڑی سخت ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر جب عزیز نے اس کا کر ُتا پیچھے سے چرا دیکھا بولا بیشک یہ تم عورتوں کا چرتر (فریب) ہے بیشک تمہارا چرتر (فریب) بڑا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر جب اس (عزیزِ مصر) نے ان کا قمیض دیکھا (کہ) وہ پیچھے سے پھٹا ہوا تھا تو اس نے کہا: بیشک یہ تم عورتوں کا فریب ہے۔ یقیناً تم عورتوں کا فریب بڑا (خطرناک) ہوتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو جب اس نے اس کی قمیص دیکھی کہ پیچھے سے پھاڑی گئی ہے تو اس نے کہا یقینا یہ تم عورتوں کے فریب سے ہے، بیشک تم عورتوں کا فریب بہت بڑا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر جب عورت کے خاوند (عزیز مصر) نے یوسف کی قمیص دیکھی تو پیچھے سے پھٹی تھی۔ (یہ دیکھ کر وہ اپنی بیوی سے) کہنے لگا : یہ تو تم عورتوں کا ایک چلتر ہے۔ واقعی تمہارے چلتر بڑے (خطرناک) ہوتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو جب اس نے اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہو ادیکھا تو بول اٹھا کہ بیشک یہ تمہارا ہی چرتر ہے اور تمہارے چرتر بڑے ہی فتنہ ہوتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

چناچہ جب اس کے شوہر نے دیکھا کہ یوسف کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا ہے، تو اس نے (اپنی بیوی کو مخاطب کرتے ہوئے) کہا کہ بیشک یہ تم عورتوں ہی کی فریب کاری کا ایک حصہ ہے، واقعی تمہاری فریب کاریاں بڑے غضب کی ہوتی ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

سو جب (عزیز نے) ان کا پیراہن پیچھے سے پھٹاہو دیکھا تو بول اٹھا بیشک یہ (سب) تم عورتوں کا چرتر ہے بیشک تم عورتوں کا چرتر غضب کا ہوتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر جب اس (عزیز مصر) نے دیکھا کہ آپ کی قمیص پھٹی ہوئی ہے پیچھے سے تو اس نے کہا کہ یہ تم عورتوں کی چالوں میں سے (ایک چال) ہے یقیناً تم عورتوں کے فریب بہت بڑے ہوتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب اس کا کرتا دیکھا تو پیچھے سے پھٹا تھا تب اس نے (زلیخا سے) کہا کہ یہ تمہارا ہی فریب ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ تم عورتوں کے فریب بڑے بھاری ہوتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

So when the husband saw Joseph's shirt torn from behind he exclaimed: "Surely, this is one of the tricks of you women; your tricks are indeed great.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, when he (her husband) saw his shirt ripped from behind, he said, :This is certainly your trickery, O women. Great is the trickery of you women indeed.

— Muhammad Taqi Usmani

So, when he (her husband) saw his shirt ripped from behind, he said, :This is certainly your trickery, O women. Great is the trickery of you women indeed.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So when he (her husband) saw his [Yusuf`s] shirt torn at the back, he (her husband) said: "Surely, it is a plot of you women! Certainly mighty is your plot!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So when he saw his shirt torn from behind, he said: Lo! this is of the guile of you women. Lo! the guile of you is very great.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So when her husband saw his shirt torn from the back, he said, "Indeed, it is of the women's plan. Indeed, your plan is great.

— Saheeh International

When the master saw that Joseph's shirt was torn from behind, he told his wife, "This is some of your womanly guile in which you are certainly skillful.

— Muhammad Sarwar

So when he saw his shirt rent from behind, he said: Surely it is a guile of you women; surely your guile is great:

— Muhammad Habib Shakir

So when he saw his shirt rent from behind, he said: verily it is of the guile of ye women; verily the guile of ye women is mighty.

— Abdul Majid Daryabadi

So when he saw his shirt,- that it was torn at the back,- (her husband) said: "Behold! It is a snare of you women! truly, mighty is your snare!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 25–29

الزام کی مدافعت اور بچے کی گواہی حضرت یوسف اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے دروازے کی طرف دوڑے اور یہ عورت آپ کو پکڑنے کے ارادے سے آپ کے پیچھے بھاگی۔ پیچھے سے کرتا اس کے ہاتھ میں آگیا۔ زور سے اپنی طرف گھسیٹا۔ جس سے حضرت یوسف پیچھے کی طرف گر جانے کی قریب ہوگئے لیکن آپ نے آگے کو زور لگا کر دوڑ جاری رکھی اس میں کرتا پیچھے سے بالکل بےطرح پھٹ گیا اور دونوں دروازے پر پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ عورت کا خاوند موجود ہے۔ اسے دیکھتے ہی اس نے چال چلی اور فوراً ہی سارا الزام یوسف کے سر تھوپ دیا اور اپنی پاک دامنی بلکہ عصمت اور مظلومیت جتانے لگی۔ سوکھا سامنہ بنا کر اپنے خاوند سے اپنی بپتا اور پھر پاکیزگی بیان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 28–29

سورة یُوْسُف 25A بائیبل میں اس قصے کو جس بھونڈے طریقہ سے بیان کیا گیا ہے، وہ ملاحظہ ہو، " تب اس عورت نے اس کا پیراہن پکڑ کر کہا کہ میرے ساتھ ہم بستر ہو، وہ اپنا پیراہن اس کے ہاتھ میں چھوڑ کر بھاگا اور باہر نکل گیا۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ اپنا پیراہن اس کے ہاتھ میں چھوڑ کر بھاگ گیا تو اس نے اپنے گھر کے آدمیوں کو بلا کر ان سے کہا کہ دیکھو وہ ایک عبری کو ہم سے مذاق کرنے کے لیے ہمارے پاس لے آیا ہے۔ یہ مجھ سے ہم بستر ہونے کو اندر گھس آیا اور میں بلند آواز سے چلانے لگی۔ جب اس نے دیکھا کہ میں زور زور سے چلا رہی ہوں تو اپنا پیراہن میرے پاس چھوڑ کر بھاگا اور باہر نکل گیا۔ اور وہ اس کا پیراہن اس کے آقا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

مذکورہ آیات میں سے آخری دو آیتوں میں یہ بیان ہوا کہ عزیز مصر بچہ کے اس طرح بولنے ہی سے یہ سمجھ چکا تھا کہ یوسف ؑ کی براءت ظاہر کرنے کے لئے یہ مافوق العادۃ صورت پیش آئی ہے پھر اس کے کہنے کے مطابق جب یہ دیکھا کہ یوسف ؑ کا کرتہ بھی پیچھے سے ہی پھٹا ہے تو یقین ہوگیا کہ قصور زلیخا کا ہے یوسف ؑ بری ہیں تو اس نے پہلے تو زلیخا کو خطاب کر کے کہا اِنَّهٗ مِنْ كَيْدِكُنَّ یعنی یہ سب تمہارا مکر وحیلہ ہے کہ اپنی خطا دوسرے کے سر ڈالنا چاہتی ہو پھر کہا کہ عورتوں کا مکرو حیلہ بہت بڑا ہے کہ اس کو سمجھنا اور اس سے نکلنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ ظاہر ان کا نرم ونازک اور ضعیف ہوتا ہے دیکھنے والے کو ان کی بات کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 26–28

26۔ 28:۔ قَالَ هِىَ رَاوَدَتْنِيْ عَنْ نَّفْسِيْ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا ۚ اِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ۔ وَاِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ۔ فَلَمَّا رَاٰ قَمِيْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَيْدِكُنَّ ۭ اِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيْمٌ۔ قرآن کی شہادت : جب اس نے حضرت یوسف کو متہم کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے مختصر الفاظ میں اصل حقیقت ظاہر کردی کہ اس میں میرا قصور نہیں ہے بلکہ یہی میرے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کی خبر خاندان میں بھی پھیل گئی اور یہ بھی لوگوں کو علم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 27–28

28۔ 1 یہ عزیز مصر کا قول ہے جو اس نے اپنی بیوی کی حرکت قبیحہ دیکھ کر عورتوں کی بابت کہا، یہ نہ اللہ کا قول ہے نہ ہر عورت کے بارے میں صحیح، اس لئے اسے ہر عورت پر چسپاں کرنا اور اس بنیاد پر عورت کو مکر و فریب کا پتلا باور کرانا، قرآن کا ہرگز منشا نہیں ہے۔ جیسا کہ بعض لوگ اس جملے سے عورت کے بارے میں یہ تاثر دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–29

19: عزیز مصر کو یقین ہوگیا تھا کہ شرارت اس کی بیوی ہی کی تھی۔ لیکن شاید بدنامی کے خوف سے اس نے بات کو پوشیدہ رکھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فَلَمَّا رَاٰ قَمِيْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ : جب شوہر نے دیکھا کہ یوسف کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہے ۔ تو اس کو معلوم ہوا ہوگا کہ واقعاتی شہادت کے مطابق عورت جھوٹی ہے۔ اسی نے اس کو ورغلانے کی کوشش کی ہے۔ وہی ہے جس نے اسے متہم کرنے کیسازش کی ہے۔ یہاں ترقی یافتہ سوسائٹی کی ایک جھلک نظر آتی ہے۔ اور وہ بھی صدیوں اور ہزاروں سال پرانی ترقی یافتہ سوسائٹی۔ یوں نظر آتا ہے کہ گویا وہ آج ہی کی ترقی یافتہ سوسائٹی ہے۔ اس قسم کی سوسائٹی کی پہلی خصوصیت ہی یہ ہوتی ہے کہ اس میں جنسی سکینڈل نظر انداز کردیے جاتے ہیں۔ ان کو چھپایا جاتا ہے۔ ایسے معاشروں کی یہ اہم باتیں ہیں۔ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَيْدِكُنَّ ۭ اِنَّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 27–29

5 اگر گواہ شیر خوار بچہ تھا جیسا کہ بعض معتبر روایات میں ہے تب تو اس کا بولنا اور ایسی گواہی دینا جو انجام کار یوسف کے حق میں مفید ہو، خود مستقل دلیل یوسف کی سچائی کی تھی۔ کرتہ کا آگے یا پیچھے سے پھٹا ہونا شہادت سے زائد بطور ایک علامت اور قرینہ کے سمجھنا چاہیے۔ اور اگر گواہ کوئی مرد دانا تھا تو بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ خارجی طریقہ سے حقیقت حال پر مطلع ہوچکا تھا مگر اس نے نہایت دانائی سے ایسے پیرایہ میں شہادت دی جو دفعتاً کسی کی جانبداری پر بھی محمول نہ ہو اور آخرکار یوسف کی برأت ثابت کر دے۔ جو پیرایہ اظہار واقعہ کا اس نے اختیار کیا وہ غیر جانبداروں کے نزدیک نہایت معقول تھا۔ کیونکہ اگر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

فَلَمَّا رَاٰ قَمِيْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَيْدِكُنَّ ۭ اِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيْمٌ پھر عزیز مصر نے حضرت یوسف سے کہا :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

28 عورتوں کا فتنہ :۔ جب سیدنا یوسف کی قمیص دیکھی گئی تو وہ آگے سے پھٹی ہوئی تھی۔ عزیز مصر کو معلوم ہوگیا کہ اصل مجرم اس کی بیوی ہے اور اس کا بیان محض فریب کاری ہے۔ لیکن اپنی اور اپنے خاندان کی بدنامی کی وجہ سے اس نے اپنی بیوی پر کوئی مواخذہ نہیں کیا، مبادا یہ بات پھیل جائے صرف اتنا ہی کہا کہ یہ بیان تیرا ایک چلتر تھا اور یوسف پر بہت بڑا بہتان تھا اور تم عورتوں کے چلتر بڑے گمراہ کن ہوتے ہیں۔ یوسف کی تم دہری مجرم ہو۔ ایک اسے بدکاری پر اکسایا۔ دوسرے اس پر الزام لگا دیا۔ لہذا اب اس سے معافی مانگو۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس آیت میں (اِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيْمٌ 28؀) 12 ۔ یوسف :28) عزیز مصر کا قول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

52۔ ہندی میں اسی کید کو تر یا چرتر کہتے ہیں اور ہندی ادبیات اس طرح کے قصوں سے بھرے پڑے ہیں۔ عورت میں جو ایک خاص مادہ ناز وانداز کا ہوتا ہے اور مرد کے دل میں عورت کے لیے جو طبعی کشش رکھ دی گئی ہے قدرۃ اس نے عورت کے ہاتھ میں اثر اندازی کا ایک زبردست حربہ دے دیا ہے۔ یہاں یہ قول اگرچہ عزیز مصر کی زبان سے نقل ہوا ہے اس کے اپنے تجربہ کچھ اسی قسم کے ہوں گے لیکن قرآن نے بھی اسے بلانکیر نقل کردیا ہے۔ عزیز کے مقولہ کی تائید میں فرنگی اور ہندی حکماء نے اس موضوع پر جو کچھ لکھا ہے اس کے لئے ملاحظہ ہوں حواشی تفسیر انگریزی۔ علماء نے ایک سوال یہاں پیش کیا ہے کہ قرآن ہی نے شیطان کے کید کو ضعیف بتایا ہے۔ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–29

آیت نمبر 21 تا 29 ترجمہ : اور اس مصری شخص نے جس نے یوسف کو خریدا تھا جس کا نام قِطْفیر اور (لقب) عزیز تھا، اپنی بیوی زلیخا سے کہا اس کو عزت اور احترام کے ساتھ رکھنا (یعنی اس کو عزت کا مقام دینا اور اچھی طرح دیکھ بھال کرنا) بعید نہیں کہ ہمارے لئے نفع بخش ثابت ہو یا ہم اس کو اپنا بیٹا ہی بنالیں اور عزیز عنّین (نامرد) تھا، اور جس طرح ہم نے یوسف کو قتل اور کنویں سے نجات دی اور عزیز مصر کے دل کو اس کی طرف مائل کیا، اسی طرح ہم نے یوسف کو ملک مصر میں اقتدار عطا کیا حتی کہ وہ پہنچے جس مرتبہ پر پہنچے، (اور ہم نے ان کو قدرت دی) تاکہ ہم اس کو خوابوں کی تعبیر سکھائیں (لِنعلِّمَہٗ ) کا عطف لنملکہٗ محذوف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلما را قمیصہ قد من دبر قال انہ من کیدکن پس جب اس نے یوسف کا کرتہ پیچھے سے پھٹا دیکھا (تو سمجھ گیا کہ یوسف پاکدامن اور سچا ہے اور بیوی مکار و قصوروار ہے) بولا : بلاشبہ یہ (بدی ‘ یا یہ کام ‘ یا تیرا یہ قول مَا جزاء من اَرَادَ بِاَھْلَکَ الخ) تم عورتوں کی مکاری کی وجہ سے ہے۔ خطاب بصیغۂ جمع زلیخا اور اس جیسی عورتوں کو ہے ‘ یا تمام عورتوں کو۔ ان کیدکن عظیم یقیناً تم عورتوں کا مکر بڑا ہے۔ عورتوں کا ظاہر تو کمزور نظر آتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سچی ہیں (بھولی بھالی صورت پر کون جھوٹا ہونے کا احتمال کرسکتا ہے) لیکن ان کا باطن ٹیڑھا اور گندا ہے ‘ ان کی تخلیق آدم کی (ٹیڑھی) پسلی سے ہوئی ہے ‘ ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(28) چناچہ جب اس کے بھائی یعنی خاوند نے ان کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی دیکھی تو کہنے لگا کہ تو نے اپنی برأت ظاہر کی تھی یہ تم عورتوں کی چالاکی اور باتیں ہیں، بیشک تمہاری چالاکیاں بھی غضب ہی کی ہوتی ہیں کہ بری اور غیر بری سب کو لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 26–28

قَالَ هِىَ رَاوَدَتْنِيْ عَنْ نَّفْسِيْ : یوسف ؑ اب تک خاموش تھے اور انھوں نے خاموش ہی رہنا تھا، کیونکہ اللہ کے بندوں کی صفت پردہ پوشی ہے، مگر تہمت کے بعد خاموش رہنے کا مطلب اس الزام کو قبول کرنا تھا، اس لیے یوسف ؑ نے اپنی صفائی پیش کرنا ضروری سمجھا، فرمایا اسی نے مجھے میرے نفس سے پھسلایا ہے۔ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا۔۔ : عزیز مصر اور گھر کے خصوصی افراد دونوں کی بات سن کر پس و پیش میں پڑگئے کہ کسے سچا کہیں اور کسے جھوٹا ؟ کیونکہ وقوعہ کے وقت کوئی شخص پاس موجود ہی نہ تھا۔ ایسے وقت میں اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ موقع دیکھ کر قرائن سے فیصلہ کیا جائے، اسے قرینے کی شہادت بھی کہتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 26–29

آیت نمبر 26 تا 29 قال ھی راودتنی عن نفسی وشھد شاھد من اھلھا اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ علماء نے کہا : جب اس عورت نے اپنے آپ کی برات ظاہر کردی تو پتہ چلا وہ محبت میں سچی نہ تھی کیونکہ محب کی شان تو محبوب کو ترجیح دینا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : ھی راودتنی عن نفسی تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس کے بہتان اور جھوٹ کے مقابلے میں سچ بیان کیا۔ نوف شامی وغیرہ نے کہا ہے : گویا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس واقعہ سے پردہ اٹھایا اور جب اس نے آپ سے بغاوت کی تو آپ کو غصہ آیا اور آپ نے سچ کہہ دیا۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ وشھدشاھد من اھلھا کیونکہ جب ان دونوں کے قول میں تعارض واقع ہو تو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 26–28

موضع تہمت میں صفائی پیش کرنا ضروری ہے : 1:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وشھد شاھد “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے ایک حاکم نے حکم کیا۔ 2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وشھد شاھدمن اھلھا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ ایک بچہ تھا جو (ابھی) گہوارے میں تھا۔ 3:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وشھد شاھدمن اھلھا “ سے ایک بچہ مراد ہے جو گھر میں تھا اللہ تعالیٰ نے اس کو بولنے کی توفیق دی۔ 4:۔ احمد وابن جریر والبیہقی رحمہم اللہ نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَلَمَا : پھر جب ] [ رَاٰ : اس (شوہر نے دیکھا)] [ قَمِيْصَهٗ : اس کی قمیص کو ] [ قُدَّ : کہ چیری گئی ] [ مِنْ دُبُرٍ : پیچھے سے ] [ قَالَ : تو اس نے کہا ] [ انهٗ : بیشک یہ ] [مِنْ كَيْدِكُنَّ : تم عورتوں کی چالبازی میں سے ہے ] [ ان : بیشک ] [ كَيْدَكُنَّ : تم عورتوں کی چالبازی ] [ عَظِيْمٌ : عظیم ہے ] نوٹ۔ 1: یہ واقعہ تلمود میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ فوطیفار نے جب اپنی بیوی کی شکایت سنی تو اس نے یوسف (علیہ السلام) کو خوب پٹوایا، پھر ان کے خلاف عدالت میں استغاثہ دائر کیا۔ عدالت نے یوسف (علیہ السلام) کی قمیص کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا کہ قصور عورت کا ہے کیونکہ قمیص پیچھے سے پھٹی ہے نہ کہ آگے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 26–29

معاملہ کی صورت حال سمجھنے کے بعد عزیز مصر نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف توجہ کی اور اس نے درخواست کی کہ (یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا) اے یوسف اس بات سے اعراض کرنا یعنی اسے یہیں تک رہنے دینا اور آگے مت بڑھانا کسی سے نہ کہنا ‘ پھر اپنی بیوی سے کہا واسْتَغْفِرِیْ لِذَنْبِکِ (کہ تو اپنے گناہ کے لیے استغفار کر) (اِنَّکِ کُنْتِ مِنَ الْخٰطِءِیْنَ ) (بلاشبہ تو خطا کرنے والوں میں سے ہے) معاملہ کی صورت حال سے اور گواہ کی گواہی سے ثابت ہوگیا کہ تو ہی گناہ گاروں میں سے ہے ‘ اصل گناہ تو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بچنے اور پرہیز کرنے اور راہ فرار اختیار کرنے کی وجہ سے نہ ہوسکا لیکن گناہ کے لیے جو اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 21–29

ذکر الطاف و عنایات خداوندی با یوسف صدیق (علیہ السلام) و قصہ او بازن عزیز مصر قال اللہ تعالیٰ وقال الذی اشترہ من مصر ..... الیٰ .... انک کنت من الخطئین۔ (ربط) آغاز سورت میں حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ارادہ خداوندی یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو اپنا برگزیدہ بندہ بنائے اور علم تعبیران کو سکھائے اور ان کے آباؤ اجداد کی طرح ان پر اپنی نعمتیں پوری کرے بعد ازاں بھائیوں کا ماجرا ذکر کیا کہ بھائی کو لے جا کر کنوئیں میں ڈالا اور غلام بن اکر گنتی کے دراہم میں فروخت کردیا۔ اب ان آیات میں حق جل شانہ اپنے الطاف و عنایات کا ذکر کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی رحمت سے یوسف (علیہ السلام) کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 28–29

28:۔ عزیز مصر نے جب دیکھا کہ اس دانا آدمی کے قول کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ پیچھے پھٹا ہوا ہے تو سمجھ گیا کہ قصور میری بیوی کا ہے اور اپنی بیوی سے خطاب کر کے صاف کہہ دیا کہ تم عورتیں بڑی مکار ہوتی ہو اور اپنا گناہ دوسروں کے سر تھوپنے کے لیے کیسے کیسے پاپڑ بیلتی ہو۔ ساتھ ہی حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کہا کہ بیشک تم بےقصور ہو مگر اب جانے دو اور اس معاملے کو طول نہ دو یہ میری عزت کا سوال ہے اور اپنی بیوی سے کہا کہ تم قصور وار ہو ایک تو تم نے برے فعل کا ارادہ کیا اور پھر ایک پاکدامن پر تہمت لگائی اس لیے ان گناہوں کی اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو۔ اللہ تعالیٰ نے خود عزیز مصر کی زبان سے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 25–29

قمیض کا پھٹ جانا گزشتہ درس میں یوسف (علیہ السلام) کی ابتداء کا ذکر ہوچکا ہے کہ عزیز مصر کی بیوی نے آپ پر فریضتہ ہو کر ڈرے ڈالنے شروع کئے اور برائی پر آمادہ کرنا چاہا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت فرمائی۔ جب اس عورت نے دروازے بند کر لئے تو یوسف (علیہ السلام) نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی اور عورت بھی آپ کے پیچھے بھاگی۔ اس واقعہ کو قرآن پاک نے اس طرح بیان کیا ہے۔ واستبقا الباب اور وہ دونوں (یوسف اور زلیخا ) دروازے کی طرف دوڑے ۔ آگے آگے یوسف (علیہ السلام) تھے اور پیچھے پیچھے عزیز مصر کی بیوی تھی۔ یوسف (علیہ السلام) تو برائی سے بچنے کے لئے بھاگے جب عورت انہیں برائی پر آمادہ کرنے کے لئے پکڑنا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَمَّا رَاٰ قَمِيْصَہٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّہٗ مِنْ كَيْدِكُنَّ۝ 0ۭ اِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيْمٌ۝ 28 كيد الْكَيْدُ : ضرب من الاحتیال، وقد يكون مذموما وممدوحا، وإن کان يستعمل في المذموم أكثر، وکذلک الاستدراج والمکر، ويكون بعض ذلک محمودا، قال : كَذلِكَ كِدْنا لِيُوسُفَ [يوسف/ 76] ( ک ی د ) الکید ( خفیہ تدبیر ) کے معنی ایک قسم کی حیلہ جوئی کے ہیں یہ اچھے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور برے معنوں میں بھی مگر عام طور پر برے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اسی طرح لفظ استد راج اور مکر بھی کبھی اچھے معنوں میں فرمایا : ۔ كَذلِكَ كِدْنا لِيُوسُفَ [يوسف/ 76] اسی طرح ہم نے یوسف کے لئے تدبیر کردی ۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 25–29

وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِیْصَہٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَھَا لَدَا الْبَابِ ط قَالَتْ مَاجَزَآئُ مَنْ اَرَادَ بِاَھْلِکَ سُوْٓئً ا اِلَّآ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْعَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ قَالَ ھِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَھِدَشَاہِدٌ مِّنْ اَھْلِھَا ج اِنْ کَانَ قَمِیْصُہٗ قُدَّمِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَھُوَمِنَ الْکٰذِبِیْنَ ۔ وَاِنْ کَانَ قَمِیْصُہٗ قُدَّمِنْ دُبُرٍ فَکَذَبَتْ وَھُوَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ فَلَمَّا رَاٰقَمِیْصَہٗ قُدَّمِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّہٗ مِنْ کَیْدِکُنَّ ط اِنَّ کَیْدَکُنَّ عَظِیْمٌ۔ یُوْسُفُ اَعرِضْ عَنْ ھٰذَا سکتۃ وَاسْتَغْفِرِیْ لَذِمنْبِکِ جاِنَّکِ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 25–29

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا بےحیائی سے بچتے ہوئے دروازے کی طرف بھاگنا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنی عفت و عصمت بچاتے ہوئے دروازے کی طرف دوڑے۔ ان کو پکڑنے کے لیے عزیز مصر کی بیوی پیچھے بھاگتی ہے۔ لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) دوڑتے ہوئے دروازے تک پہنچ گئے۔ پیچھے سے عزیز مصر کی بیوی نے ان کیقمیص کھینچی۔ اس حالت میں حضرت یوسف دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوئے جونہی دروازہ کھلا۔ دونوں نے عزیز مصر کو دروازے کے سامنے پایا۔ اپنے خاوند کو دیکھ کر عورت نے اپنی کرتوت کو یوسف (علیہ السلام) کے ذمہ لگاتے ہوئے اپنے خاوند سے مطالبہ کیا کہ اس مجرم کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

28: فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَہٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ (جب اس نے یوسف کا کرتہ پیچھے سے پھٹا دیکھا) یہ دیکھنے والاقطفیر تھا۔ اس کو براءت یوسفی کا علم ہوگیا۔ اور ان کی سچائی واضح ہوگئی۔ جبکہ عورت کا کذب سامنے آگیا۔ قَالَ اِنَّہٗ مِنْ کَیْدِ کُنَّ (اس نے کہا بیشک وہ (قول) تمہاری مکاری کی وجہ سے ہے) نمبر 1۔ ہٗ کی ضمیر کا مرجع اس کا قول ماجزاء من اراد باہلک سوئً ا ہے۔ نمبر 2۔ یا یہ معاملہ کہ مردوں کو قابو کرنے کا حیلہ۔ کید کنؔ سے اسی کو خطاب ہے اور اسکی لونڈیوں کو اِنَّ کَیْدَ کُنَّ عَظِیْمٌ (یقینا تم عورتوں کا مکر بڑا ہے) لیکن ان کا مکر لطیف اور بڑے حیل پر مشتمل ہوتا ہے اسی لئے وہ مردوں پر غالب آجاتی ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

28۔ ’ ’ فلما رای “ قطفیر نے ” قمیصہ قد من دبر “ اپنی بیوی کی خیانت اور یوسف کی برأت کو پہچان گیا تو ” قال انہ من کید کن ان کید کن عظیم “ بعض نے کہا ہے کہ یہ اس شاہد کا قول ہے۔ پھر قطفیر یوسف (علیہ السلام) کی طرف متوجہ ہوا ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 28–29

28۔ 29۔ جب یوسف (علیہ السلام) کے سچے ہونے پر گواہی گزری اور دیکھنے پر یہ بات ظاہر ہوئی کہ یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا ہے تو عزیز مصر کو یقین ہوگیا کہ یوسف (علیہ السلام) کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے یہ سارا فریب اسی عورت کا ہے اس پر اس نے کہا کہ عورتیں اس باب میں نہایت مکار ہوتی ہے۔ صحیح مسلم میں ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر مرد کے لئے عورت احتیاط کرنے اور بچنے کی چیز ہے۔ نسائی نے اس روایت میں اتنا اور بڑھایا ہے کہ مرد کے حق میں عورت بڑے فتنہ اور فساد میں پڑجانے کی چیز ہے۔ 1 ؎ صحیح بخاری و مسلم میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–29

آیات 23 تا 29:۔ یہ عظیم آزمائش اس سے بہت بڑی تھی جو جناب یوسف (علیہ السلام) کو اپنے بھائیوں کی طرف سے پیش آئی اور اس پر ان کا صبر کرنا بہت بڑے اجر کا موجب بنا، کیونکہ اس قبیح فعل کے وقوع کے لیے کثیر اسباب کے باوجود انہوں نے صبر کو اختیار کیا اور اللہ تعالیٰ کی محبت کو ان اسباب پر مقدم رکھا۔ اس لیے ان کا یہ صبر اختیار تھا اور ان کو اپنے بھائیوں کے ہاتھوں جو آزمائش پیش آئی وہاں ان کا صبر اضطراری تھا۔ جیسے مرض اور دیگر تکالیف بندے کے اختیار کے بغیر اسے لاحق ہوتی ہیں جن میں طوعاً یا کرہاً صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں اور آزمائش کا یہ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) عزیز مصر کے گھر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 26–35

شاہد کون تھا ؟ قول باری ہے وشھد شاھدمن اھلھا ان کان قمیصہ قد من قبل فصدقت وھو من الکاذبین ۔ اس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے قرینے کی شہادت پیش کی کہ اگر یوسف کا قیمص آگے سے پھٹا ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت ابوہریرہ ؓ ، سعید بن جبیر اور ہلال بن یسار سے مروی ہے کہ پن گھوڑے میں پڑا ہوا ایک بچہ تھا ۔ جس نے یہ گواہی پیش کی ۔ حضرت ابن عباس سے ایک اور روایت کے مطابق ، نیز حسن ، ابن ملیکہ اور عکرمہ سے مروی ہے کہ یہ ایک مرد تھا جس نے شہادت پیش کی تھی ۔ عکرمہ کا قول ہے کہ عزیز مصرنے جب حضرت یوسف کو دروازے پر پھٹی ہوئی قمیص کے ساتھ دیکھا تو اس نے اپنے ایک چچا زاد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 27–28

49 ۔ ایک فیصلہ کن قرینے کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ عورت کے خاندان کے اس شخص نے ایک فیصلہ کن قرینے کے ذکر کے طور پر کہا کہ اگر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کرتا آگے سے پھٹا ہو تو وہ قصور وار ورنہ یہ عورت قصور وار۔ حضرات مفسرین میں سے بعض کہتے ہیں کہ یہ شاید زلیخا کے خاندان کا ایک چھوٹا بچہ تھا جس نے معجزانہ طور پر یہ گواہی دی تھی۔ جیسا کہ بعض روایات میں بھی اس کا تذکرہ موجود ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ کوئی بڑا آدمی تھا جس نے ایک معقول بات ان لوگوں کے سامنے پیش کی (معالم، ابن کثیر، ابن جریر، کبیر، قرطبی، وغیرہ) جو بھی ہو بہرحال بات اس شخص کی بڑی درست اور معقول تھی۔ اور ایسی معقول اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–57

انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔ تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–29

آیات 21 تا 29 اسرار و معارف چنانچہ قافلہ والے اس خزانے کوے کرمصرپہنچے اور فروخت کا بہت اہتمام کیا حتی کہ شاہی محل تک شہرہ پہنچا کہ ایک غلام بکنے کو ہے جس کے حسن کی چمک سورج کو ماند کرتی ہے ۔ قافلوں کا طریقہ کار یہ ہوتا تھا کہ جس شہر میں پہنچتے قیام کرتے اور مال کی خوب شہرت کرکے ایک خاص روز فروخت کے لئے مقرر کردیتے کہ لوگ زیادہ جمع ہوں اور اچھی قیمت لگے ۔ چناچہ خوب خوب بولیاں لگیں ۔ آخرعزیز مصر نے جس کا نام قطفیر تھا خرید لیا اور آپ کے وزن کے برابر سونا مشک اور اتنا ہی ریشمی کپڑاقیمت میں ادا کردیا۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ وزیر تھا اور حکمران عمالقہ میں سے تھا جس کا نام ریان بن اسید تھا۔ لیکن اگر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 28–29

ف 6 ۔ یعنی حضرت یوسف ( علیہ السلام) سے کہا کہ اس معاملہ سے درگزر کرو تاکہ بات نہ پھیلے بلاشبہ تمہاری صداقت اور پاک بازی ثابت ہوگئی ہے۔ (ابن کثیر) ۔ 7 ۔ اپنی بیوی سے کہا کہ تم اپنے گناہ کی معافی مانگ۔ (موضح) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 28–29

(12:28) کیدکن۔ تم عورتوں کی چال کید مصدر۔ اسم مصدر۔ اچھی تدبیر۔ بری تدبیر۔ مکر و فریب ۔ واؤ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 23–29

لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 29 راودت (اس نے بہکایا۔ پھسلایا) عن نفسہ (اپنے نفس سے۔ اپنی طرف ) غلقت (بند کردیئے ) ابواب (دروازے) ھیت لک (آ۔ اپنا کام ر) معاذ اللہ (اللہ کی پناہ) احسن (زیادہ بہتر) مثوا (ٹھکانا۔ مقام لایفلح (فلاح نہیں پاتا۔ کامیاب نہیں ہوتا) ھمت (ارادہ کیا (مونث) ھم (ارادہ کیا) لولات (اگر نہ ہوتا (حرف شرط ہے) ان را (یہ کہ دیکھا) برھان (دلیل ۔ نشانی) لنصرف (تاکہ ہم دور کردیں۔ پھیر دیں ) السوء (برائی ) الفحشاء (فحش ) بےحیائی کے کام المخلصین (خالص کرنے والے) استبقا (وہ دونوں آگے پیچھے دوڑے) فدت (پھاڑ دیا) (دبر) پیچھے۔ (پشت کے حصے کو دبر کہتے ہیں) الفیا (الفا (ماضی کا صیغہ) دونوں نے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 28–29

جب یوسف (علیہ السلام) کے سچے ہونے پر گواہی گزری اور دیکھنے پر یہ بات ظاہر ہوئی کہ یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا ہے تو عزیز مصر کو یقین ہوگیا کہ یوسف (علیہ السلام) کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے۔ یہ سارا فریب اسی عورت کا ہے۔ اس پر اس نے کہا کہ عورتیں اس باب میں نہایت مکار ہوتی ہیں۔ پھر عزیز مصر نے یوسف (علیہ السلام) کو مخاطب ٹھراکر کہا کہ تم ان باتوں سے درگزر کرو اور اس قصہ کا چرچا نہ کرو۔ اور زلیخا سے کہا کہ خطا تیری ہے تو توبہ اور استغفار کر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 28–31

[14] ان کی گفتگو کو مکا ّرانہ اس لئے کہا کہ عزیز کی بیوی پر طعن کر کے گویا اپنی پارسائی کا اظہار مقصود تھا حالانکہ یوسف (علیہ السلام) کے حسن و جمال کا شہرہ جس عورت کے کان میں پڑتا تھا ان کی دید کا اشتیاق دل میں چٹکیاں لینے لگتا تھا۔ کچھ بعید نہیں کہ طعن وتشنیع اور نکتہ چینی کرنے والیوں میں یہی غرض پوشیدہ ہو کہ عزیز کی بیوی کو غصہ دلا کر کسی ایسی حرکت پر آمادہ کریں جو یوسف (علیہ السلام) کے دیدار کا سبب بن جائے یا عزیز کی بیوی کے دل میں یوسف (علیہ السلام) کی نفرت بٹھا کر اپنی طرف مائل کرنے کا موقعہ نکالیں۔ [15] عام طور پر واقعہ یوں سمجھا جاتا ہے کہ وہ عورتیں یوسف (علیہ السلام) کا جمال صورت دیکھ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 25–28

(ف 1) (آیت) ” ان کیدکن عظیم “۔ عزیز مصر کا مقولہ ہے کہ تمہارے چرتر بہت خطرناک ہیں ، اور وہ بھی اس زمانے کی عورتوں کے لئے عام عورتوں کے باب میں یہ صحیح نہیں ، اسلام نے عورتوں کو عفیف قرار دیا ہے ، اور ان کی عزت کی ہے ، اور واقع بھی یہی ہے کہ عورتیں عموما مردوں سے زیادہ عفیف ہوتی ہیں ، گناہ کی تحریک مردوں کی جانب سے ہوتی ہے ، اگر مرد خود پاکباز رہیں اور عورتوں کی بہتر تربیت کریں ، تو پھر اس نوع کے خطرات باقی نہیں رہتے ۔ حل لغات : کیدکن “۔ چرتر ، مکر ، فن ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

28 پھر جب عزیر ن ے یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا تو بیوی سے کہا یہ سب تم عورتوں ہی کی فریب کاری اور چالاکی ہے بیشک تمہاری چالاکیاں اور مکاریاں بڑی خوفناک اور بڑے غضب کی ہوتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 26–30

ف 11۔ ایک شیرخوار بچہ تھا جو یوسف (علیہ السلام) کے معجزہ سے بول پڑا اگر یوسف اس وقت نبی نہ ہوں تو اس خارق کو اصطلاح میں بجائے معجزہ کے ارہاص کہیں گے۔ 12۔ اس شاہد نے جو فیصلہ بتایا یہ کوئی حجت شرعی نہیں حجت کافیہ تو صرف اس کا نطق ہے لیکن حاضرین کے مذاق کے موافق اس کیا بیان کردینا حجت اصلیہ کے لیے زیادہ موید ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یوسف کا کرتہ دیکھا گیا تو پیچھے سے چاک تھا عزیز مصر نے بات کو ٹالتے ہوئے عورت کو ڈانٹ دیا ۔ 38 عزیز مصر نے یوسف کا کرتہ دیکھا تو فی الواقعہ پیچھے سے چاک تھا۔ اس لئے اس نے اصلی حالت کو اچھی طرح بھانپ لیا مگر اپنی عزت و ناموس کی خاطر معاملہ کو ختم کرتے ہوئے کہا کہ یوسف سچے تم ہی ہو ، اس عوت کے معاملہ سے درگزر کرو اور اس بات کو یہیں ختم کر دو اور پھر بیوی سے کہا تو صرف یہ کہا کہ یہ سب تیرا مکر و فریب ہے اور تم عورتوں کا مکر و فریب بہت ہی بڑا ہوتا ہے۔ بلاشبہ تو ہی خطا کار ہے لہٰذا اپنی اس حرکت بد کے لئے استغفار کرو اور معافی مانگو۔ تعجب ہے کہ اپنی بیوی کی اتنی بڑی خیانت پر مطلع ہو کر اس کا خون…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the last two (28 29) of the verses cited above, it has been stated that the ` Aziz of Misr had already realized by having heard the child speak in the manner he did that some special supernatural situation was there to demonstrate the innocence of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) . After that, according to what the child had said, when he saw that the very shirt of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) is really torn up from the back, he became certain that it was Zulaikha who was at fault and it was Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) who was innocent. So, first he addressed Zulaikha and said: إِنَّهُ مِن…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–31

26. The ancient Egyptians used to place pillows and cushions in such feasts for the guests to recline. And this is confirmed by the archaeological remains in Egypt. There is no mention at all of this banquet in the Bible but it has been described in the Talmud in a way quite different from that of the Quran. Needless to say that while this narrative in the Quran is natural, life like and teaches moral lessons, the one in the Talmud lacks all these things.

Read the full tafseer →