Yusuf 12:27

Yusuf · from ayah 27

12:27

وَاِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۟وَاِنۡ كَانَ قَمِيۡصُهٗ قُدَّ مِنۡ دُبُرٍ فَكَذَبَتۡ وَهُوَ مِنَ الصّٰدِقِيۡنَ‏

اور اگر کرتا پیچھے سے پھٹا ہو تو یہ جھوٹی اور وہ سچا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But if his shirt is torn from the back, then she has lied, and he is of the truthful."

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 3 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:27

اور اگر اس کا قمیص پیچھے سے پھٹا ہو تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر کرتا پیچھے سے پھٹا ہو تو یہ جھوٹی اور وہ سچا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اگر اس کا کرتا پیچھے کی جانب سے پھاڑا گیاہے تو عورت جھوٹی ہے اور یوسف سچوں میں سے ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر ان کی قمیص پیچھے کی طرف سے پھٹی ہے تو عورت جھوٹ بولتی ہے، اور یہ سچے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اگر ان کا کر ُتا پیچھے سے چاک ہوا تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر اس کا قمیض پیچھے سے پھٹا ہوا ہے تو یہ جھوٹی ہے اور وہ سچوں میں سے ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھاڑی گئی ہو تو عورت نے جھوٹ کہا اور یہ سچوں سے ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہے تو عورت جھوٹی ہے اور یوسف سچا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہو تو وہ جھوٹی اور یہ سچا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اگر ان کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا ہے تو (یہ اس بات کی نشانی ہوگی کہ) یہ جھوٹی ہے اور وہ سچے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر ان کا پیراہن پیچھے سے پھٹا ہو تو وہ جھوٹی اور یہ سچے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر اس کی قمیص پھٹی ہے پیچھے سے تو پھر یہ جھوٹی ہے اور وہ سچا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اگر کرتا پیچھے سے پھٹا ہو تو یہ جھوٹی اور وہ سچا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

But if his shirt is torn from behind, then she has lied, and he is truthful."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and if his shirt was ripped from behind, then she is telling a lie and he is truthful.

— Muhammad Taqi Usmani

and if his shirt was ripped from behind, then she is telling a lie and he is truthful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"But if it be that his shirt is torn from the back, then she has told a lie and he is speaking the truth!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And if his shirt is torn from behind, then she hath lied and he is of the truthful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But if his shirt is torn from the back, then she has lied, and he is of the truthful."

— Saheeh International

but if his shirt is torn from behind, she is lying and he is speaking the truth."

— Muhammad Sarwar

And if his shirt is rent from behind, she tells a lie and he is one of the truthful.

— Muhammad Habib Shakir

And if his shirt be rent from behind, then she lieth, and he is of the truth-tellers.

— Abdul Majid Daryabadi

"But if it be that his shirt is torn from the back, then is she the liar, and he is telling the truth!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:27

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 25–29

الزام کی مدافعت اور بچے کی گواہی حضرت یوسف اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے دروازے کی طرف دوڑے اور یہ عورت آپ کو پکڑنے کے ارادے سے آپ کے پیچھے بھاگی۔ پیچھے سے کرتا اس کے ہاتھ میں آگیا۔ زور سے اپنی طرف گھسیٹا۔ جس سے حضرت یوسف پیچھے کی طرف گر جانے کی قریب ہوگئے لیکن آپ نے آگے کو زور لگا کر دوڑ جاری رکھی اس میں کرتا پیچھے سے بالکل بےطرح پھٹ گیا اور دونوں دروازے پر پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ عورت کا خاوند موجود ہے۔ اسے دیکھتے ہی اس نے چال چلی اور فوراً ہی سارا الزام یوسف کے سر تھوپ دیا اور اپنی پاک دامنی بلکہ عصمت اور مظلومیت جتانے لگی۔ سوکھا سامنہ بنا کر اپنے خاوند سے اپنی بپتا اور پھر پاکیزگی بیان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یُوْسُف 25 مطلب یہ ہے کہ اگر یوسف ؑ کا قمیص سامنے سے پھٹا ہو تو یہ اس بات کی صریح علامت ہے کہ اقدام یوسف ؑ کی جانب سے تھا اور عورت اپنے آپ کو بچانے کے لیے کش مکش کر رہی تھی۔ لیکن اگر یوسف ؑ کا قمیص پیچھے سے پھٹا ہے تو اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ عورت اس کے پیچھے پڑی ہوئی تھی اور یوسف ؑ اس سے بچ کر نکل جانا چاہتا تھا۔ اس کے علاوہ قرینے کی ایک اور شہادت بھی اس شہادت میں چھپی ہوئی تھی۔ وہ یہ کہ اس شاہد نے توجہ صرف یوسف ؑ کے قمیص کی طرف دلائی۔ اس سے صاف ظاہر ہوگیا کہ عورت کے جسم یا اس کے لباس پر تشدد کی کوئی علامت سرے سے پائی ہی نہ جاتی تھی، حالانکہ اگر یہ مقدمہ اقدام زنا بالجبر کا ہوتا تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–27

حضرت یوسف ؑ اپنی پیغمبرانہ شرافت کی بناء پر غالباً اس کا راز فاش نہ فرماتے مگر جب اس نے پیش قدمی کر کے یوسف ؑ پر تہمت رکھنے کا اشارہ کیا تو مجبور ہو کر انہوں نے حقیقت کا اظہار کیا کہ هِىَ رَاوَدَتْنِيْ عَنْ نَّفْسِيْ یعنی مجھ سے اپنا مطلب نکالنے کے لئے مجھے پھسلا رہی تھی معاملہ بڑا نازک اور عزیز مصر کے لئے اس کا فیصلہ سخت دشوار تھا کہ ان میں سے کسے سچا سمجھے شہادت اور ثبوت کا کوئی موقع نہ تھا مگر اللہ تعالیٰ جس طرح اپنے برگزیدہ بندوں کو گناہ سے بچا لیتے ہیں اور ان کو معصوم و محفوظ رکھتے ہیں اسی طرح دنیا میں بھی ان کو رسوائی سے بچانے کا انتظام معجزانہ انداز سے فرما دیتے ہیں اور عموماً ایسے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 26–28

26۔ 28:۔ قَالَ هِىَ رَاوَدَتْنِيْ عَنْ نَّفْسِيْ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا ۚ اِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ۔ وَاِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ۔ فَلَمَّا رَاٰ قَمِيْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَيْدِكُنَّ ۭ اِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيْمٌ۔ قرآن کی شہادت : جب اس نے حضرت یوسف کو متہم کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے مختصر الفاظ میں اصل حقیقت ظاہر کردی کہ اس میں میرا قصور نہیں ہے بلکہ یہی میرے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کی خبر خاندان میں بھی پھیل گئی اور یہ بھی لوگوں کو علم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 27–28

28۔ 1 یہ عزیز مصر کا قول ہے جو اس نے اپنی بیوی کی حرکت قبیحہ دیکھ کر عورتوں کی بابت کہا، یہ نہ اللہ کا قول ہے نہ ہر عورت کے بارے میں صحیح، اس لئے اسے ہر عورت پر چسپاں کرنا اور اس بنیاد پر عورت کو مکر و فریب کا پتلا باور کرانا، قرآن کا ہرگز منشا نہیں ہے۔ جیسا کہ بعض لوگ اس جملے سے عورت کے بارے میں یہ تاثر دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 26–27

18: اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف ؑ کی بےگناہی عزیز مصر پر واضح کرنے کے لیے یہ انتظام فرمایا کہ خود زلیخا کے خاندان کے ایک شخص نے سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک ایسی علامت بتائی جس کی معقولیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اس کا کہنا یہ تھا کہ اگر حضرت یوسف ؑ کی قمیص سامنے کی طرف سے پھٹی ہو تو یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ وہ عورت کی طرف بڑھنا چاہتے تھے۔ عورت نے اپنے بچاؤ کے لیے ہاتھ بڑھایا، اور اس کشمکش میں ان کی قمیص پھٹ گئی۔ لیکن اگر وہ پیچھے کی طرف سے پھٹی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آگے بھاگ رہے تھے، زلیخا ان کا پیچھا کر کے انہیں روکنا چاہتی تھی اور انہیں اپنی طرف کھینچنے کی وجہ سے قمیص پھٹ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 26–27

یہاں قرآن کریم واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ اس موقعہ پر اس عورت کے رشتہ داروں میں سے کوئی موجود تھا جس نے شہادت احوال یعنی موجود قرائن پر فیصلہ دے دیا اور نزاع ختم ہوگیا۔ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا ۚ اِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ ۔ وَاِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ ۔ اس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے (قرینے کی) شہادت پیش کی کہ " اگر یوسف کی قمیص آگے سے پھٹی ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا۔ اور اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہو تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچا۔ سوال یہ ہے کہ اس شاہد نے کہاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 27–29

5 اگر گواہ شیر خوار بچہ تھا جیسا کہ بعض معتبر روایات میں ہے تب تو اس کا بولنا اور ایسی گواہی دینا جو انجام کار یوسف کے حق میں مفید ہو، خود مستقل دلیل یوسف کی سچائی کی تھی۔ کرتہ کا آگے یا پیچھے سے پھٹا ہونا شہادت سے زائد بطور ایک علامت اور قرینہ کے سمجھنا چاہیے۔ اور اگر گواہ کوئی مرد دانا تھا تو بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ خارجی طریقہ سے حقیقت حال پر مطلع ہوچکا تھا مگر اس نے نہایت دانائی سے ایسے پیرایہ میں شہادت دی جو دفعتاً کسی کی جانبداری پر بھی محمول نہ ہو اور آخرکار یوسف کی برأت ثابت کر دے۔ جو پیرایہ اظہار واقعہ کا اس نے اختیار کیا وہ غیر جانبداروں کے نزدیک نہایت معقول تھا۔ کیونکہ اگر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 27 وَاِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ اس عادلانہ اور حکیمانہ گواہی سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں اس معاشرے میں بہت سی خرابیاں تھیں جن میں سے کچھ کا ذکر آگے آئے گا وہاں اس گواہی دینے والے شخص جیسے حق گو اور انصاف پسند لوگ بھی موجود تھے جس نے قرابت دار ہوتے ہوئے بھی حق اور انصاف کی بات کی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 26–27

27 قرینہ کی شہادت :۔ لیکن سیدنا یوسف کا بیان زلیخا کے بالکل الٹ اور مبنی برحقیقت تھا۔ اب سوال یہ تھا یہ کیسے معلوم ہو کہ ان دونوں میں سچا کون ہے اور جھوٹا کون ؟ جب یہ بات گھر والوں میں پھیل گئی تو عزیز مصر کے خاندان سے ہی ایک آدمی کہنے لگا : ذرا یوسف کی قمیص کو تو دیکھو اگر وہ پیچھے سے پھٹی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یوسف آگے بھاگ رہا تھا اور زلیخا نے اسے پیچھے سے کھینچا ہے اور اس کھینچا تانی میں قمیص پھٹ گئی۔ اس صورت میں زلیخا جھوٹی ہوگی اور یوسف سچا ہوگا اور اگر قمیص آگے سے پھٹی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یوسف تقاضا کر رہا تھا اور زلیخا اپنی مدافعت کر رہی تھی۔ اس کھینچا تانی میں یوسف کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

51۔ جدید قانونی اصطلاح میں ایسی گواہی کو قرینہ کی گواہی (CircumstAntiAl Evidence) کہتے ہیں یہاں شاہد اور شہادت اپنے اصطلاحی فقہی معنی میں نہیں جو گواہ کے عاقل ہونے بالغ ہونے وقوع واقعہ کے وقت موجود ہونے وغیرہ کی بحثیں پیدا ہوں یہ گواہ تو صرف اس معنی میں تھا کہ اس نے فریقین کے متضاد بیانات کے درمیان فیصلہ کا ایک عاقلانہ طریقہ سجہا دیا۔ تفسیروں میں ایک حدیث مرفوع کے حوالہ سے آتا ہے کہ یہ گواہ ایک شیر خوار بچہ تھا بہ طور خرق عادت کے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی صفائی میں بول اٹھا۔ لیکن بہت سے ائمہ تفسیر نے اس کے برعکس یہ کہا ہے کہ یہ شخص زلیخا کے چچیرے بھائی اور حاکم وقت تھے تقرب سلطانی رکھنے والے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–29

آیت نمبر 21 تا 29 ترجمہ : اور اس مصری شخص نے جس نے یوسف کو خریدا تھا جس کا نام قِطْفیر اور (لقب) عزیز تھا، اپنی بیوی زلیخا سے کہا اس کو عزت اور احترام کے ساتھ رکھنا (یعنی اس کو عزت کا مقام دینا اور اچھی طرح دیکھ بھال کرنا) بعید نہیں کہ ہمارے لئے نفع بخش ثابت ہو یا ہم اس کو اپنا بیٹا ہی بنالیں اور عزیز عنّین (نامرد) تھا، اور جس طرح ہم نے یوسف کو قتل اور کنویں سے نجات دی اور عزیز مصر کے دل کو اس کی طرف مائل کیا، اسی طرح ہم نے یوسف کو ملک مصر میں اقتدار عطا کیا حتی کہ وہ پہنچے جس مرتبہ پر پہنچے، (اور ہم نے ان کو قدرت دی) تاکہ ہم اس کو خوابوں کی تعبیر سکھائیں (لِنعلِّمَہٗ ) کا عطف لنملکہٗ محذوف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان کان قمیصہ قد من دبر فکذبت وھو من الصدقین اور اگر کرتہ پیچھے سے پھٹا ہے تو عورت نے جھوٹ کہا اور یوسف سچا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت یوسف کے پیچھے اس کو پکڑنے دوڑی اور کرتہ پکڑ کر کھینچ لیا جس کی وجہ سے کرتہ پھٹ گیا۔ حقیقت میں یہ شہادت نہ تھی (بلکہ سچ جھوٹ معلوم کرنے کی ایک تدبیر تھی) مگر مفہوم شہادت کو چونکہ یہ قول ادا کر رہا ہے ‘ اسلئے اس کو شہادت قرار دیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(27) چناچہ اس عورت کے خاندان میں سے ایک حاکم نے فیصلہ کیا جو کہ اس کا حقیقی یا چچازاد بھائی تھا کہ اگر حضرت یوسف ؑ کی قمیص آگے سے پھٹی ہو تو یہ سچی ہے اور وہ جھوٹے ہیں۔ اور اگر حضرت یوسف ؑ کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہو تو عورت جھوٹی ہے اور یہ اپنے فرمان میں کہ اس عورت نے مجھے پھسلایا ہے سچے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 26–28

قَالَ هِىَ رَاوَدَتْنِيْ عَنْ نَّفْسِيْ : یوسف ؑ اب تک خاموش تھے اور انھوں نے خاموش ہی رہنا تھا، کیونکہ اللہ کے بندوں کی صفت پردہ پوشی ہے، مگر تہمت کے بعد خاموش رہنے کا مطلب اس الزام کو قبول کرنا تھا، اس لیے یوسف ؑ نے اپنی صفائی پیش کرنا ضروری سمجھا، فرمایا اسی نے مجھے میرے نفس سے پھسلایا ہے۔ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا۔۔ : عزیز مصر اور گھر کے خصوصی افراد دونوں کی بات سن کر پس و پیش میں پڑگئے کہ کسے سچا کہیں اور کسے جھوٹا ؟ کیونکہ وقوعہ کے وقت کوئی شخص پاس موجود ہی نہ تھا۔ ایسے وقت میں اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ موقع دیکھ کر قرائن سے فیصلہ کیا جائے، اسے قرینے کی شہادت بھی کہتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 26–29

آیت نمبر 26 تا 29 قال ھی راودتنی عن نفسی وشھد شاھد من اھلھا اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ علماء نے کہا : جب اس عورت نے اپنے آپ کی برات ظاہر کردی تو پتہ چلا وہ محبت میں سچی نہ تھی کیونکہ محب کی شان تو محبوب کو ترجیح دینا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : ھی راودتنی عن نفسی تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس کے بہتان اور جھوٹ کے مقابلے میں سچ بیان کیا۔ نوف شامی وغیرہ نے کہا ہے : گویا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس واقعہ سے پردہ اٹھایا اور جب اس نے آپ سے بغاوت کی تو آپ کو غصہ آیا اور آپ نے سچ کہہ دیا۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ وشھدشاھد من اھلھا کیونکہ جب ان دونوں کے قول میں تعارض واقع ہو تو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 26–28

موضع تہمت میں صفائی پیش کرنا ضروری ہے : 1:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وشھد شاھد “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے ایک حاکم نے حکم کیا۔ 2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وشھد شاھدمن اھلھا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ ایک بچہ تھا جو (ابھی) گہوارے میں تھا۔ 3:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وشھد شاھدمن اھلھا “ سے ایک بچہ مراد ہے جو گھر میں تھا اللہ تعالیٰ نے اس کو بولنے کی توفیق دی۔ 4:۔ احمد وابن جریر والبیہقی رحمہم اللہ نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَان : اور اگر ] [ كَان : یہ ہے (کہ)] [قَمِيْصُهٗ : اس کی قمیص ] [ قُدَّ : چیری گئی ] [ مِنْ دُبُرٍ : پیچھے سے ] [ فَكَذَبَتْ : تو عورت نے جھوٹ کہا ] [ وَهُوَ : اور یہ مرد ] [ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ : سچ کہنے والوں میں سے ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 26–29

معاملہ کی صورت حال سمجھنے کے بعد عزیز مصر نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف توجہ کی اور اس نے درخواست کی کہ (یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا) اے یوسف اس بات سے اعراض کرنا یعنی اسے یہیں تک رہنے دینا اور آگے مت بڑھانا کسی سے نہ کہنا ‘ پھر اپنی بیوی سے کہا واسْتَغْفِرِیْ لِذَنْبِکِ (کہ تو اپنے گناہ کے لیے استغفار کر) (اِنَّکِ کُنْتِ مِنَ الْخٰطِءِیْنَ ) (بلاشبہ تو خطا کرنے والوں میں سے ہے) معاملہ کی صورت حال سے اور گواہ کی گواہی سے ثابت ہوگیا کہ تو ہی گناہ گاروں میں سے ہے ‘ اصل گناہ تو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بچنے اور پرہیز کرنے اور راہ فرار اختیار کرنے کی وجہ سے نہ ہوسکا لیکن گناہ کے لیے جو اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 21–29

ذکر الطاف و عنایات خداوندی با یوسف صدیق (علیہ السلام) و قصہ او بازن عزیز مصر قال اللہ تعالیٰ وقال الذی اشترہ من مصر ..... الیٰ .... انک کنت من الخطئین۔ (ربط) آغاز سورت میں حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ارادہ خداوندی یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو اپنا برگزیدہ بندہ بنائے اور علم تعبیران کو سکھائے اور ان کے آباؤ اجداد کی طرح ان پر اپنی نعمتیں پوری کرے بعد ازاں بھائیوں کا ماجرا ذکر کیا کہ بھائی کو لے جا کر کنوئیں میں ڈالا اور غلام بن اکر گنتی کے دراہم میں فروخت کردیا۔ اب ان آیات میں حق جل شانہ اپنے الطاف و عنایات کا ذکر کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی رحمت سے یوسف (علیہ السلام) کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 26–27

27:۔ یہ شاہد چھوٹا بچہ نہیں تھا جیسا کہ مشہور ہے کیونکہ یہ کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں۔ صحیحین کی روایت میں جن تین بچوں کا مہد میں کلام کرنا ثابت ہے ان میں اس شاہد کا کوئی ذکر نہیں۔ حضرت حسن، عکرمہ، قتادہ اور مجاہد ؓ کا قول ہے کہ شاہد یوسف شیر خوار بچہ نہیں تھا بلکہ ایک دانا آدمی تھا۔ امام سدی فرماتے ہیں وہ زلیخا کا چچازاد بھائی تھا۔ قال الحسن و عکرمۃ وقتادۃ و مجاھد لم یکن صبیا ولکنہ کان رجلاً حکیماً ذا رای وقا ھو ابن عمر المراۃ فحکم (خازن ومعالم ج 3 ص 278) ۔ اس شخص نے اس معاملے میں غور وفکر کیا تو وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ یوسف بےقصور ہے کیونکہ اس کا کرتہ پیچھے پھٹا ہوا ہے اور یہ اس بات کی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 25–29

قمیض کا پھٹ جانا گزشتہ درس میں یوسف (علیہ السلام) کی ابتداء کا ذکر ہوچکا ہے کہ عزیز مصر کی بیوی نے آپ پر فریضتہ ہو کر ڈرے ڈالنے شروع کئے اور برائی پر آمادہ کرنا چاہا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت فرمائی۔ جب اس عورت نے دروازے بند کر لئے تو یوسف (علیہ السلام) نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی اور عورت بھی آپ کے پیچھے بھاگی۔ اس واقعہ کو قرآن پاک نے اس طرح بیان کیا ہے۔ واستبقا الباب اور وہ دونوں (یوسف اور زلیخا ) دروازے کی طرف دوڑے ۔ آگے آگے یوسف (علیہ السلام) تھے اور پیچھے پیچھے عزیز مصر کی بیوی تھی۔ یوسف (علیہ السلام) تو برائی سے بچنے کے لئے بھاگے جب عورت انہیں برائی پر آمادہ کرنے کے لئے پکڑنا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنْ كَانَ قَمِيْصُہٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَہُوَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ۝ 27 صدق والصِّدْقُ : مطابقة القول الضّمير والمخبر عنه معا، ومتی انخرم شرط من ذلک لم يكن صِدْقاً تامّا، بل إمّا أن لا يوصف بالصّدق، وإمّا أن يوصف تارة بالصّدق، وتارة بالکذب علی نظرین مختلفین، کقول کافر إذا قال من غير اعتقاد : محمّد رسول الله، فإنّ هذا يصحّ أن يقال : صِدْقٌ ، لکون المخبر عنه كذلك، ويصحّ أن يقال : كذب، لمخالفة قوله ضمیره، وبالوجه الثاني إکذاب اللہ تعالیٰ المنافقین حيث قالوا : نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ ... الآية [ المنافقون/ 1] ( ص دق) الصدق ۔ الصدق کے معنی ہیں دل زبان کی ہم آہنگی اور بات کو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 25–29

وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِیْصَہٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَھَا لَدَا الْبَابِ ط قَالَتْ مَاجَزَآئُ مَنْ اَرَادَ بِاَھْلِکَ سُوْٓئً ا اِلَّآ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْعَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ قَالَ ھِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَھِدَشَاہِدٌ مِّنْ اَھْلِھَا ج اِنْ کَانَ قَمِیْصُہٗ قُدَّمِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَھُوَمِنَ الْکٰذِبِیْنَ ۔ وَاِنْ کَانَ قَمِیْصُہٗ قُدَّمِنْ دُبُرٍ فَکَذَبَتْ وَھُوَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ فَلَمَّا رَاٰقَمِیْصَہٗ قُدَّمِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّہٗ مِنْ کَیْدِکُنَّ ط اِنَّ کَیْدَکُنَّ عَظِیْمٌ۔ یُوْسُفُ اَعرِضْ عَنْ ھٰذَا سکتۃ وَاسْتَغْفِرِیْ لَذِمنْبِکِ جاِنَّکِ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 25–29

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا بےحیائی سے بچتے ہوئے دروازے کی طرف بھاگنا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنی عفت و عصمت بچاتے ہوئے دروازے کی طرف دوڑے۔ ان کو پکڑنے کے لیے عزیز مصر کی بیوی پیچھے بھاگتی ہے۔ لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) دوڑتے ہوئے دروازے تک پہنچ گئے۔ پیچھے سے عزیز مصر کی بیوی نے ان کیقمیص کھینچی۔ اس حالت میں حضرت یوسف دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوئے جونہی دروازہ کھلا۔ دونوں نے عزیز مصر کو دروازے کے سامنے پایا۔ اپنے خاوند کو دیکھ کر عورت نے اپنی کرتوت کو یوسف (علیہ السلام) کے ذمہ لگاتے ہوئے اپنے خاوند سے مطالبہ کیا کہ اس مجرم کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

27: وَاِنْ کَانَ قَمِیْصُہٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَکَذَبَتْ وَھُوَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ (اگر کرتہ اس کا پھٹا ہے پیچھے سے تو اس عورت نے جھوٹ کہا اور یوسف سچوں میں سے ہے) تقدیر عبارت اس طرح ہے وشھد شاھد فقال ان کان قمیصہ الایۃ آگے سے قمیص کا پھٹنا دلالت کرتا ہے کہ وہ سچی ہے کیونکہ وہ جلدی سے اس عورت کو پانے کیلئے پیچھا کرے گا۔ پس وہ قمیص کے دامن میں الجھ کر گرے اور گریبان پھٹ جائے گا۔ اور اس لئے بھی کہ وہ اسکی طرف متوجہ ہوگا اور وہ دفاع نفس میں اس کا گریبان تھامے گی۔ پس قمیص سامنے سے پھٹے گی۔ قبل اور دبرٍ میں تنوین و تنکیر کا معنی یہ ہے کہ ایسی جہت سے جس کو قُبُلکہا جاتا ہے اور ایسی جہت جس کو دُبُر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 26–27

26۔ 27۔ اس گواہ میں مفسرین نے اختلاف کیا ہے بعضے کہتے ہیں ایک حاکم تھا جس نے یہ فیلہ کیا کہ اگر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کرتا آگے سے پھٹا ہو تو زلیخا سچی ہے اور اگر پیچھے سے پھٹا ہو تو حضرت یوسف (علیہ السلام) سچے ہیں بعضے کہتے ہیں کہ حاکم نہیں تھا بلکہ ایک عقل مند شخص تھا بعضے کہتے ہیں بادشاہ کا مصاحب تھا لیکن صحیح قول یہ ہے کہ زلیخا کے رشتہ داروں میں ایک دودھ پیتا بچہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو گویا کیا اور اس نے گواہی دی کیوں کہ اگرچہ صحیحین میں دودھ پیتے بچوں کے بولنے کا جو قصہ ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے اس کو گویا کیا اور اس نے گواہی دی کیوں کہ اگرچہ صحیحین میں دودھ پیتے بچوں کے بولنے کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–29

آیات 23 تا 29:۔ یہ عظیم آزمائش اس سے بہت بڑی تھی جو جناب یوسف (علیہ السلام) کو اپنے بھائیوں کی طرف سے پیش آئی اور اس پر ان کا صبر کرنا بہت بڑے اجر کا موجب بنا، کیونکہ اس قبیح فعل کے وقوع کے لیے کثیر اسباب کے باوجود انہوں نے صبر کو اختیار کیا اور اللہ تعالیٰ کی محبت کو ان اسباب پر مقدم رکھا۔ اس لیے ان کا یہ صبر اختیار تھا اور ان کو اپنے بھائیوں کے ہاتھوں جو آزمائش پیش آئی وہاں ان کا صبر اضطراری تھا۔ جیسے مرض اور دیگر تکالیف بندے کے اختیار کے بغیر اسے لاحق ہوتی ہیں جن میں طوعاً یا کرہاً صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں اور آزمائش کا یہ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) عزیز مصر کے گھر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 26–35

شاہد کون تھا ؟ قول باری ہے وشھد شاھدمن اھلھا ان کان قمیصہ قد من قبل فصدقت وھو من الکاذبین ۔ اس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے قرینے کی شہادت پیش کی کہ اگر یوسف کا قیمص آگے سے پھٹا ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت ابوہریرہ ؓ ، سعید بن جبیر اور ہلال بن یسار سے مروی ہے کہ پن گھوڑے میں پڑا ہوا ایک بچہ تھا ۔ جس نے یہ گواہی پیش کی ۔ حضرت ابن عباس سے ایک اور روایت کے مطابق ، نیز حسن ، ابن ملیکہ اور عکرمہ سے مروی ہے کہ یہ ایک مرد تھا جس نے شہادت پیش کی تھی ۔ عکرمہ کا قول ہے کہ عزیز مصرنے جب حضرت یوسف کو دروازے پر پھٹی ہوئی قمیص کے ساتھ دیکھا تو اس نے اپنے ایک چچا زاد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 27–28

49 ۔ ایک فیصلہ کن قرینے کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ عورت کے خاندان کے اس شخص نے ایک فیصلہ کن قرینے کے ذکر کے طور پر کہا کہ اگر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کرتا آگے سے پھٹا ہو تو وہ قصور وار ورنہ یہ عورت قصور وار۔ حضرات مفسرین میں سے بعض کہتے ہیں کہ یہ شاید زلیخا کے خاندان کا ایک چھوٹا بچہ تھا جس نے معجزانہ طور پر یہ گواہی دی تھی۔ جیسا کہ بعض روایات میں بھی اس کا تذکرہ موجود ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ کوئی بڑا آدمی تھا جس نے ایک معقول بات ان لوگوں کے سامنے پیش کی (معالم، ابن کثیر، ابن جریر، کبیر، قرطبی، وغیرہ) جو بھی ہو بہرحال بات اس شخص کی بڑی درست اور معقول تھی۔ اور ایسی معقول اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–57

انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔ تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–29

آیات 21 تا 29 اسرار و معارف چنانچہ قافلہ والے اس خزانے کوے کرمصرپہنچے اور فروخت کا بہت اہتمام کیا حتی کہ شاہی محل تک شہرہ پہنچا کہ ایک غلام بکنے کو ہے جس کے حسن کی چمک سورج کو ماند کرتی ہے ۔ قافلوں کا طریقہ کار یہ ہوتا تھا کہ جس شہر میں پہنچتے قیام کرتے اور مال کی خوب شہرت کرکے ایک خاص روز فروخت کے لئے مقرر کردیتے کہ لوگ زیادہ جمع ہوں اور اچھی قیمت لگے ۔ چناچہ خوب خوب بولیاں لگیں ۔ آخرعزیز مصر نے جس کا نام قطفیر تھا خرید لیا اور آپ کے وزن کے برابر سونا مشک اور اتنا ہی ریشمی کپڑاقیمت میں ادا کردیا۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ وزیر تھا اور حکمران عمالقہ میں سے تھا جس کا نام ریان بن اسید تھا۔ لیکن اگر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 ۔ اس عورت کا ایک ناتے دار دودھ پیتا لڑکا یہ بول اٹھا۔ (موضح) ۔ جیسا کہ مسند احمد اور مستدرک حاکم کے حوالے سے معتبر سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے مرفوعاً مروی ہے۔ کہ مہد یعنی جھوٹے میں چار بچوں نے کلام کی ہے ایک تو فرعون کی بیٹی کی ماسطہ کے لڑکے نے، اور دوسرے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے شاہد نے، تیسرے مصاحب جریج نے اور چوتھے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے۔ یہ حدیث حاکم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت کی ہے اور لکھا ہے کہ صحیح علی شرط الشیخین مگر چار لڑکوں میں حصر محل نظر ہے کیونکہ صحیحن میں ایک اور بچے کا ذکر بھی ہے جو دودھ پی رہا تھا۔ نیز مسلم میں اصحاب اخدود کے قصہ میں مذکور ہے کہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 26–27

(12:26) راودتنی۔ اس عورت نے مجھ کو پھسلایا۔ ماضی واحد مؤنث غائب ملاحظہ ہو 12:23 ۔ شھد۔ ماضی واحد مذکر غائب المشھود والشھادۃ۔ کسی چیز کا مشاہدہ کرنا۔ خواہ بصر سے ہو یا بصیرت سے اور صرف حاضر ہونے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ شہادت جب اپنی ذات کے متعلق ہو تو اس کے معنی اقرار کے ہوتے ہیں۔ مثلاً قالوا بلی شھدنا (7:172) انہوں نے کہا کہ ہاں ہم اقرار کرتے ہیں۔ اور کبھی شہادت کے معنی فیصلہ اور حکم کے ہوتے ہیں مثلاً آیت ہذا ۔ شھد شاھد من اہلہا۔ اس کے خاندان کے ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ دیا۔ (یہاں یہ آدمی موجود تو تھا نہیں۔ لہٰذا اس کا وقوعہ کو دیکھنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 23–29

لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 29 راودت (اس نے بہکایا۔ پھسلایا) عن نفسہ (اپنے نفس سے۔ اپنی طرف ) غلقت (بند کردیئے ) ابواب (دروازے) ھیت لک (آ۔ اپنا کام ر) معاذ اللہ (اللہ کی پناہ) احسن (زیادہ بہتر) مثوا (ٹھکانا۔ مقام لایفلح (فلاح نہیں پاتا۔ کامیاب نہیں ہوتا) ھمت (ارادہ کیا (مونث) ھم (ارادہ کیا) لولات (اگر نہ ہوتا (حرف شرط ہے) ان را (یہ کہ دیکھا) برھان (دلیل ۔ نشانی) لنصرف (تاکہ ہم دور کردیں۔ پھیر دیں ) السوء (برائی ) الفحشاء (فحش ) بےحیائی کے کام المخلصین (خالص کرنے والے) استبقا (وہ دونوں آگے پیچھے دوڑے) فدت (پھاڑ دیا) (دبر) پیچھے۔ (پشت کے حصے کو دبر کہتے ہیں) الفیا (الفا (ماضی کا صیغہ) دونوں نے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 26–27

دودھ پیتے بچے کی گواہی : حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ گھر میں زلیخا کے ماموں کا لڑکا چار مہینے کا بچہ ہے اس سے دریافت کرنا چاہیے۔ عزیز نے کہا چار ماہ کا بچہ کیا جانے اور کیسے بولے گا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کو گویائی دینے اور اس سے میری بےگناہی کی شہادت ادا کردینے پر قادر ہے۔ عزیز نے اس سے بچہ دریافت کیا قدرت الہی سے اس نے کہا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) بھاگتے تھے اور زلیخا پیچھے سے پکڑتی تھی اس لئے کرتا پیچھے سے پھٹا اور جان لیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) سچے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 26–27

[13] جدید قانونی اصطلاح میں ایسی قانونی شہادت کو قرینے کی شہادت (Circumstantial evidence) کہتے ہیں۔ یہ شخص گواہ تو صرف اس معنی میں تھا کہ اس نے فریقین کے متضاد بیانات کے متعلق فیصلے کا ایک عاقلانہ طریقہ بتلا دیا۔ مطلب یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کا کرتا اگر سامنے سے پھٹا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اقدام یوسف (علیہ السلام) کی جانب سے تھا اور عورت اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اگر یوسف (علیہ السلام) کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) بھاگ کر بچنا چاہتے تھے اور عورت اس کو پیچھے سے روکنا چاہتی تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 25–28

(ف 1) (آیت) ” ان کیدکن عظیم “۔ عزیز مصر کا مقولہ ہے کہ تمہارے چرتر بہت خطرناک ہیں ، اور وہ بھی اس زمانے کی عورتوں کے لئے عام عورتوں کے باب میں یہ صحیح نہیں ، اسلام نے عورتوں کو عفیف قرار دیا ہے ، اور ان کی عزت کی ہے ، اور واقع بھی یہی ہے کہ عورتیں عموما مردوں سے زیادہ عفیف ہوتی ہیں ، گناہ کی تحریک مردوں کی جانب سے ہوتی ہے ، اگر مرد خود پاکباز رہیں اور عورتوں کی بہتر تربیت کریں ، تو پھر اس نوع کے خطرات باقی نہیں رہتے ۔ حل لغات : کیدکن “۔ چرتر ، مکر ، فن ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

27 اور اگر اس کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا ہے تو یہ عورت جھوٹی ہے اور وہ یوسف (علیہ السلام) سچا ہے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے واقعہ کو سچ سچ کہہ دیا ابھی یہ باتیں ہورہی تھیں کہ اس عورت کا بھانجہ جو شیر خوار تھا اس کو کوئی گود میں لئے کھڑا تھا وہ بول اٹھا اگرچہ یہ دلیل یقینی نہ تھی صرف اس کا چھوٹی عمر میں بولنا ہی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی صداقت کے لئے ایک دلیل تھی لیکن بچہ نے ایک ایسی بات کہی جس سے بھاگنے والے اور پیچھے سے پکڑنے والے کا اندازہ ہوسکتا تھا اور اگر یہ گواہی دینے والا کوئی بڑا آدمی تھا۔ جیسے کہ بعض نے کہا ہے تو اس نے گواہی کا بڑا اچھا پیرانہ اختیار کیا اور عمدہ اور غیر جانبدار…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 26–30

ف 11۔ ایک شیرخوار بچہ تھا جو یوسف (علیہ السلام) کے معجزہ سے بول پڑا اگر یوسف اس وقت نبی نہ ہوں تو اس خارق کو اصطلاح میں بجائے معجزہ کے ارہاص کہیں گے۔ 12۔ اس شاہد نے جو فیصلہ بتایا یہ کوئی حجت شرعی نہیں حجت کافیہ تو صرف اس کا نطق ہے لیکن حاضرین کے مذاق کے موافق اس کیا بیان کردینا حجت اصلیہ کے لیے زیادہ موید ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 26–27

ایک گواہ نے بھی گواہی دی کہ اس کا کرتہ دیکھو آگے سے پھٹا ہے یا پیچھے سے ؟ ۔ 37 امراۃ العزیز کا چچا زاد بھائی ذکی ، فطین اور بہتر ہوشیار تھا۔ اس نے جب دونوں کو نظر بھر کر دیکھا تو سارا حال ان چہروں نے اس کے سامنے رکھ دیا اور کرتہ کی حالت بھی وہ دیکھ رہا تھا۔ اس نے کہا یوسف کا کرتہ دیکھو اگر وہ سامنے سے چاک ہے تو عورت راست باز ہے اور اگر پیچھے سے چاک ہے تو یوسف صادق القول ہے اور عورت جھوٹی ہے۔ یوسف کا کرتہ دیکھا گیا تو وہ پیچھے سے چاک تھا۔ بات بالکل واضح ہوگئی اور وہ عورت بھی ساکت الجواب ہوگئی۔ یہ شاہد کون تھا ؟ مفسرین نے اس کی تحقیق میں بہت کچھ لکھا ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ وہ جیسا کچھ بھی تھا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 26–27

Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) ، because of his prophetic gentleness, may not have, perhaps, disclosed her secret. But, when she took the first step and presented a charge sheet of false accusation against him, he was compelled to tell the truth: هِيَ رَ‌اوَدَتْنِي عَن نَّفْسِي (It was she who sought to seduce me). The matter was dense and delicate. For the ` Aziz of Misr, it was difficult to decide as to who should be taken as being true. That was no occasion for evidence and proof. But, Allah, great is whose majesty, has His own ways of saving His honourable servants from sin and keeping…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

25. This is what was implied in the evidence: If Joseph’s shirt is torn from the front, it means that Joseph is the aggressor and she has struggled to defend her honor. But if the shirt is rent from the back, it is obvious that he must have been running away from her and she must have been tugging from behind. The circumstantial evidence implied another thing. As the witness invited the master’s attention to Prophet Joseph’s shirt only, it meant that there was no sign at all of violence on the garments of the woman, for had he been the aggressor, there must have been some signs of violence on…

Read the full tafseer →