Explained with ayahs 25–29
الزام کی مدافعت اور بچے کی گواہی
حضرت یوسف اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے دروازے کی طرف دوڑے اور یہ عورت آپ کو پکڑنے کے ارادے سے آپ کے پیچھے بھاگی۔ پیچھے سے کرتا اس کے ہاتھ میں آگیا۔ زور سے اپنی طرف گھسیٹا۔ جس سے حضرت یوسف پیچھے کی طرف گر جانے کی قریب ہوگئے لیکن آپ نے آگے کو زور لگا کر دوڑ جاری رکھی اس میں کرتا پیچھے سے بالکل بےطرح پھٹ گیا اور دونوں دروازے پر پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ عورت کا خاوند موجود ہے۔ اسے دیکھتے ہی اس نے چال چلی اور فوراً ہی سارا الزام یوسف کے سر تھوپ دیا اور اپنی پاک دامنی بلکہ عصمت اور مظلومیت جتانے لگی۔ سوکھا سامنہ بنا کر اپنے خاوند سے اپنی بپتا اور پھر پاکیزگی بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
سورة یُوْسُف 24
اس معاملہ کی نوعیت یہ سمجھ میں آتی ہے کہ صاحب خانہ کے ساتھ خود اس عورت کے بھائی بندوں میں سے بھی کوئی شخص آ رہا ہوگا اور اس نے یہ قضیہ سن کر کہا ہوگا کہ جب یہ دونوں ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں اور موقع کا گواہ کوئی نہیں ہے تو قرینہ کی شہادت سے اس معاملہ کی یوں تحقیق کی جاسکتی ہے بعض روایات میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ موادت پیش کرنے والا ایک شیر خوار بچہ تھا جو وہاں پنگھوڑے میں لیٹا ہوا تھا اور خدا نے اسے گویائی عطا کر کے اس سے یہ شہادت دلوائی۔ لیکن یہ روایت نہ تو کسی صحیح سند سے شہادت ہے اور نہ اس معاملے میں خواہ مخواہ معجزے سے مدد لینے کی کوئی ضرورت ہی محسوس ہوتی ہے۔ اس شاہد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
حضرت یوسف ؑ اپنی پیغمبرانہ شرافت کی بناء پر غالباً اس کا راز فاش نہ فرماتے مگر جب اس نے پیش قدمی کر کے یوسف ؑ پر تہمت رکھنے کا اشارہ کیا تو مجبور ہو کر انہوں نے حقیقت کا اظہار کیا کہ هِىَ رَاوَدَتْنِيْ عَنْ نَّفْسِيْ یعنی مجھ سے اپنا مطلب نکالنے کے لئے مجھے پھسلا رہی تھی
معاملہ بڑا نازک اور عزیز مصر کے لئے اس کا فیصلہ سخت دشوار تھا کہ ان میں سے کسے سچا سمجھے شہادت اور ثبوت کا کوئی موقع نہ تھا مگر اللہ تعالیٰ جس طرح اپنے برگزیدہ بندوں کو گناہ سے بچا لیتے ہیں اور ان کو معصوم و محفوظ رکھتے ہیں اسی طرح دنیا میں بھی ان کو رسوائی سے بچانے کا انتظام معجزانہ انداز سے فرما دیتے ہیں اور عموماً ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
26۔ 28:۔ قَالَ هِىَ رَاوَدَتْنِيْ عَنْ نَّفْسِيْ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا ۚ اِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ۔ وَاِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ۔ فَلَمَّا رَاٰ قَمِيْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَيْدِكُنَّ ۭ اِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيْمٌ۔
قرآن کی شہادت : جب اس نے حضرت یوسف کو متہم کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے مختصر الفاظ میں اصل حقیقت ظاہر کردی کہ اس میں میرا قصور نہیں ہے بلکہ یہی میرے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کی خبر خاندان میں بھی پھیل گئی اور یہ بھی لوگوں کو علم…
Read the full tafseer →26۔ 1 حضرت یوسف ؑ نے جب دیکھا کہ وہ عورت تمام الزام ان پر ہی دھر رہی ہے صورت حال واضح کردی اور کہا کہ مجھے برائی پر مجبور کرنے والی یہی ہے۔ میں اس سے بچنے کے لئے باہر دروازے کی طرف بھاگتا ہوا آیا ہوں۔
26۔ 2 یہ انہی کے خاندان کا کوئی سمجھدار آدمی تھا جس نے یہ فیصلہ کیا۔ فیصلے کو یہاں شہادت کے لفظ سے تعبیر کیا گیا، کیونکہ معاملہ ابھی تحقیق طلب تھا۔ شیر خوار بچے کی شہادت والی بات مستند روایات سے ثابت نہیں۔ صحیحین میں تین شیر خوار بچوں کے بات کرنے کی حدیث ہے جن میں یہ چوتھا نہیں ہے جس کا ذکر اس مقام پر کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
18: اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف ؑ کی بےگناہی عزیز مصر پر واضح کرنے کے لیے یہ انتظام فرمایا کہ خود زلیخا کے خاندان کے ایک شخص نے سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک ایسی علامت بتائی جس کی معقولیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اس کا کہنا یہ تھا کہ اگر حضرت یوسف ؑ کی قمیص سامنے کی طرف سے پھٹی ہو تو یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ وہ عورت کی طرف بڑھنا چاہتے تھے۔ عورت نے اپنے بچاؤ کے لیے ہاتھ بڑھایا، اور اس کشمکش میں ان کی قمیص پھٹ گئی۔ لیکن اگر وہ پیچھے کی طرف سے پھٹی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آگے بھاگ رہے تھے، زلیخا ان کا پیچھا کر کے انہیں روکنا چاہتی تھی اور انہیں اپنی طرف کھینچنے کی وجہ سے قمیص پھٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
یہاں قرآن کریم واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ اس موقعہ پر اس عورت کے رشتہ داروں میں سے کوئی موجود تھا جس نے شہادت احوال یعنی موجود قرائن پر فیصلہ دے دیا اور نزاع ختم ہوگیا۔ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا ۚ اِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ ۔ وَاِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ ۔ اس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے (قرینے کی) شہادت پیش کی کہ " اگر یوسف کی قمیص آگے سے پھٹی ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا۔ اور اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہو تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچا۔
سوال یہ ہے کہ اس شاہد نے کہاں…
Read the full tafseer →4 اب یوسف کو واقعہ ظاہر کرنا پڑا کہ عورت نے میرے نفس کو بےقابو کرنا چاہا۔ میں نے بھاگ کر جان بچائی۔ یہ جھگڑا بھی چل رہا تھا کہ خود عورت کے خاندان کا ایک گواہ عجیب طریقہ سے یوسف کے حق میں گواہی دینے لگا۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شیر خوار بچہ تھا، جو خدا کی قدرت سے حضرت یوسف کی برأت و وجاہت عند اللہ ظاہر کرنے کو بول پڑا۔ اور بعض علماء کہتے ہیں کہ بچہ نہیں کوئی مرد دانا تھا جس نے ایسی پتہ کی بات کہی۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →آیت 26 قَالَ هِىَ رَاوَدَتْنِيْ عَنْ نَّفْسِيْ
صورت حال بہت نازک اور خطرناک رخ اختیار کرچکی تھی۔ حضرت یوسف کو بھی اپنے دفاع میں کچھ نہ کچھ تو کہنا تھا۔ لہٰذا آپ نے صاف صاف بتادیا کہ خود اس عورت نے مجھے گناہ پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا
اس عورت کے اپنے رشتہ داروں میں سے بھی کوئی شخص موقع پر آپہنچا۔ اس نے موقع محل دیکھ کر وقوعہ کے بارے میں بڑی مدلل اور خوبصورت قرائنی شہادت circumstancial evidence دی کہ :
اِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ
اگر عورت سے دست درازی کی کوشش ہو رہی تھی اور وہ اپنا تحفظ کر رہی تھی تو ظاہر ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
27 قرینہ کی شہادت :۔ لیکن سیدنا یوسف کا بیان زلیخا کے بالکل الٹ اور مبنی برحقیقت تھا۔ اب سوال یہ تھا یہ کیسے معلوم ہو کہ ان دونوں میں سچا کون ہے اور جھوٹا کون ؟ جب یہ بات گھر والوں میں پھیل گئی تو عزیز مصر کے خاندان سے ہی ایک آدمی کہنے لگا : ذرا یوسف کی قمیص کو تو دیکھو اگر وہ پیچھے سے پھٹی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یوسف آگے بھاگ رہا تھا اور زلیخا نے اسے پیچھے سے کھینچا ہے اور اس کھینچا تانی میں قمیص پھٹ گئی۔ اس صورت میں زلیخا جھوٹی ہوگی اور یوسف سچا ہوگا اور اگر قمیص آگے سے پھٹی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یوسف تقاضا کر رہا تھا اور زلیخا اپنی مدافعت کر رہی تھی۔ اس کھینچا تانی میں یوسف کی…
Read the full tafseer →50۔ (اور اب الٹا الزام میرے اوپر ڈالے دیتی ہے) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ مخالف کی شرارت کا ایسے وقت میں اظہار جبکہ اخفاء میں اپنے ضرر کا احتمال ہو مکارم اخلاق کے منافی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
آیت نمبر 21 تا 29
ترجمہ : اور اس مصری شخص نے جس نے یوسف کو خریدا تھا جس کا نام قِطْفیر اور (لقب) عزیز تھا، اپنی بیوی زلیخا سے کہا اس کو عزت اور احترام کے ساتھ رکھنا (یعنی اس کو عزت کا مقام دینا اور اچھی طرح دیکھ بھال کرنا) بعید نہیں کہ ہمارے لئے نفع بخش ثابت ہو یا ہم اس کو اپنا بیٹا ہی بنالیں اور عزیز عنّین (نامرد) تھا، اور جس طرح ہم نے یوسف کو قتل اور کنویں سے نجات دی اور عزیز مصر کے دل کو اس کی طرف مائل کیا، اسی طرح ہم نے یوسف کو ملک مصر میں اقتدار عطا کیا حتی کہ وہ پہنچے جس مرتبہ پر پہنچے، (اور ہم نے ان کو قدرت دی) تاکہ ہم اس کو خوابوں کی تعبیر سکھائیں (لِنعلِّمَہٗ ) کا عطف لنملکہٗ محذوف…
Read the full tafseer →قالھی روادتنی عن نفسی یوسف نے کہا : اسی نے مجھے پھسلایا تھا۔ یعنی یہی مجھ سے بدکاری کی طلبگار تھی۔
چونکہ عورت نے جھوٹ باندھا تھا اور شوہر کو ترغیب دی تھی کہ حضرت یوسف کو سزائے تازیانہ دی جائے یا قید میں ڈال دیا جائے ‘ اسلئے بطور مدافعت حضرت یوسف نے یہ راز فاش کیا۔ اگر زلیخا ایسا نہ کرتی تو آپ بھی پردہ دری نہ کرتے۔
وشھد شاھد من اھلھا اور عورت کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے شہادت دی۔ بعض نے کہا : یہ زلیخا کا چچا کا بیٹا تھا۔ بعض نے کہا : ماموں کا بیٹا تھا۔ سعید بن جبیر اور ضحاک نے کہا : شیرخوار بچہ تھا جس کو اللہ نے گویا کردیا تھا۔
بغوی نے لکھا ہے : عوفی کی روایت میں حضرت ابن عباس کا بیان بھی…
Read the full tafseer →(26) حضرت یوسف ؑ کہنے لگے یہ بالکل جھوٹ بول رہی ہے، اسی نے مجھے دعوت دی اور یہی اپنا مطلب نکالنے کے لیے مجھ کو پھسلاتی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
قَالَ هِىَ رَاوَدَتْنِيْ عَنْ نَّفْسِيْ : یوسف ؑ اب تک خاموش تھے اور انھوں نے خاموش ہی رہنا تھا، کیونکہ اللہ کے بندوں کی صفت پردہ پوشی ہے، مگر تہمت کے بعد خاموش رہنے کا مطلب اس الزام کو قبول کرنا تھا، اس لیے یوسف ؑ نے اپنی صفائی پیش کرنا ضروری سمجھا، فرمایا اسی نے مجھے میرے نفس سے پھسلایا ہے۔
وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا۔۔ : عزیز مصر اور گھر کے خصوصی افراد دونوں کی بات سن کر پس و پیش میں پڑگئے کہ کسے سچا کہیں اور کسے جھوٹا ؟ کیونکہ وقوعہ کے وقت کوئی شخص پاس موجود ہی نہ تھا۔ ایسے وقت میں اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ موقع دیکھ کر قرائن سے فیصلہ کیا جائے، اسے قرینے کی شہادت بھی کہتے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
آیت نمبر 26 تا 29
قال ھی راودتنی عن نفسی وشھد شاھد من اھلھا اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ علماء نے کہا : جب اس عورت نے اپنے آپ کی برات ظاہر کردی تو پتہ چلا وہ محبت میں سچی نہ تھی کیونکہ محب کی شان تو محبوب کو ترجیح دینا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : ھی راودتنی عن نفسی تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس کے بہتان اور جھوٹ کے مقابلے میں سچ بیان کیا۔ نوف شامی وغیرہ نے کہا ہے : گویا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس واقعہ سے پردہ اٹھایا اور جب اس نے آپ سے بغاوت کی تو آپ کو غصہ آیا اور آپ نے سچ کہہ دیا۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ وشھدشاھد من اھلھا کیونکہ جب ان دونوں کے قول میں تعارض واقع ہو تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
موضع تہمت میں صفائی پیش کرنا ضروری ہے :
1:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وشھد شاھد “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے ایک حاکم نے حکم کیا۔
2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وشھد شاھدمن اھلھا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ ایک بچہ تھا جو (ابھی) گہوارے میں تھا۔
3:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وشھد شاھدمن اھلھا “ سے ایک بچہ مراد ہے جو گھر میں تھا اللہ تعالیٰ نے اس کو بولنے کی توفیق دی۔
4:۔ احمد وابن جریر والبیہقی رحمہم اللہ نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ…
Read the full tafseer →[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [هِىَ : اس عورت نے ہی ] [رَاوَدَتْنِيْ : پھسلایا مجھ کو ] [عَنْ نَّفْسِيْ : اپنا نفس (تھامنے) سے ] [ وَشَهِدَ : اور گواہی دی ] [ شَاهِدٌ: ایک گواہی دینے والے نے ] [مِّنْ اَهْلِهَا : اس عوتت کے گھر والوں میں سے ] [ ان : اگر ] [ كَان : یہ ہے (کہ)] [ قَمِيْصُهٗ : اس کی قمیص ] [قُدَّ : چیری گئی ] [ مِنْ قُبُلٍ : سامنے سے ] [ فَصَدَقَتْ : عورت نے سچ کہا ] [ وَهُوَ : اور یہ مرد ] [ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ : جھوٹ کہنے والوں میں سے ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
معاملہ کی صورت حال سمجھنے کے بعد عزیز مصر نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف توجہ کی اور اس نے درخواست کی کہ (یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا) اے یوسف اس بات سے اعراض کرنا یعنی اسے یہیں تک رہنے دینا اور آگے مت بڑھانا کسی سے نہ کہنا ‘ پھر اپنی بیوی سے کہا واسْتَغْفِرِیْ لِذَنْبِکِ (کہ تو اپنے گناہ کے لیے استغفار کر) (اِنَّکِ کُنْتِ مِنَ الْخٰطِءِیْنَ ) (بلاشبہ تو خطا کرنے والوں میں سے ہے) معاملہ کی صورت حال سے اور گواہ کی گواہی سے ثابت ہوگیا کہ تو ہی گناہ گاروں میں سے ہے ‘ اصل گناہ تو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بچنے اور پرہیز کرنے اور راہ فرار اختیار کرنے کی وجہ سے نہ ہوسکا لیکن گناہ کے لیے جو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
ذکر الطاف و عنایات خداوندی
با یوسف صدیق (علیہ السلام) و قصہ او بازن عزیز مصر
قال اللہ تعالیٰ وقال الذی اشترہ من مصر ..... الیٰ .... انک کنت من الخطئین۔
(ربط) آغاز سورت میں حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ارادہ خداوندی یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو اپنا برگزیدہ بندہ بنائے اور علم تعبیران کو سکھائے اور ان کے آباؤ اجداد کی طرح ان پر اپنی نعمتیں پوری کرے بعد ازاں بھائیوں کا ماجرا ذکر کیا کہ بھائی کو لے جا کر کنوئیں میں ڈالا اور غلام بن اکر گنتی کے دراہم میں فروخت کردیا۔ اب ان آیات میں حق جل شانہ اپنے الطاف و عنایات کا ذکر کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی رحمت سے یوسف (علیہ السلام) کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
27:۔ یہ شاہد چھوٹا بچہ نہیں تھا جیسا کہ مشہور ہے کیونکہ یہ کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں۔ صحیحین کی روایت میں جن تین بچوں کا مہد میں کلام کرنا ثابت ہے ان میں اس شاہد کا کوئی ذکر نہیں۔ حضرت حسن، عکرمہ، قتادہ اور مجاہد ؓ کا قول ہے کہ شاہد یوسف شیر خوار بچہ نہیں تھا بلکہ ایک دانا آدمی تھا۔ امام سدی فرماتے ہیں وہ زلیخا کا چچازاد بھائی تھا۔ قال الحسن و عکرمۃ وقتادۃ و مجاھد لم یکن صبیا ولکنہ کان رجلاً حکیماً ذا رای وقا ھو ابن عمر المراۃ فحکم (خازن ومعالم ج 3 ص 278) ۔ اس شخص نے اس معاملے میں غور وفکر کیا تو وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ یوسف بےقصور ہے کیونکہ اس کا کرتہ پیچھے پھٹا ہوا ہے اور یہ اس بات کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
قمیض کا پھٹ جانا
گزشتہ درس میں یوسف (علیہ السلام) کی ابتداء کا ذکر ہوچکا ہے کہ عزیز مصر کی بیوی نے آپ پر فریضتہ ہو کر ڈرے ڈالنے شروع کئے اور برائی پر آمادہ کرنا چاہا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت فرمائی۔ جب اس عورت نے دروازے بند کر لئے تو یوسف (علیہ السلام) نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی اور عورت بھی آپ کے پیچھے بھاگی۔ اس واقعہ کو قرآن پاک نے اس طرح بیان کیا ہے۔ واستبقا الباب اور وہ دونوں (یوسف اور زلیخا ) دروازے کی طرف دوڑے ۔ آگے آگے یوسف (علیہ السلام) تھے اور پیچھے پیچھے عزیز مصر کی بیوی تھی۔ یوسف (علیہ السلام) تو برائی سے بچنے کے لئے بھاگے جب عورت انہیں برائی پر آمادہ کرنے کے لئے پکڑنا…
Read the full tafseer →قَالَ ہِىَ رَاوَدَتْنِيْ عَنْ نَّفْسِيْ وَشَہِدَ شَاہِدٌ مِّنْ اَہْلِہَا 0ۚ اِنْ كَانَ قَمِيْصُہٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَہُوَمِنَ الْكٰذِبِيْنَ 26
راود
والمُرَاوَدَةُ : أن تنازع غيرک في الإرادة، فترید غير ما يريد، أو ترود غير ما يرود، ورَاوَدْتُ فلانا عن کذا . قال : هِيَ راوَدَتْنِي عَنْ نَفْسِي[يوسف/ 26] ، وقال : تُراوِدُ فَتاها عَنْ نَفْسِهِ [يوسف/ 30] ، أي : تصرفه عن رأيه،
( ر و د ) الرود
المراودۃ ( مفاعلہ ) یہ راود یراود سے ہے اور اس کے معنی ارادوں میں باہم اختلاف اور کشیدگی کے ہیں ۔ یعنی ایک کا ارداہ کچھ ہو اور دوسرے کا کچھ اور راودت فلان عن کزا کے معنی کسی کو اس کے ارداہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
2 ؎ وہ یعنی تیرا شوہر۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِیْصَہٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَھَا لَدَا الْبَابِ ط قَالَتْ مَاجَزَآئُ مَنْ اَرَادَ بِاَھْلِکَ سُوْٓئً ا اِلَّآ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْعَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ قَالَ ھِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَھِدَشَاہِدٌ مِّنْ اَھْلِھَا ج اِنْ کَانَ قَمِیْصُہٗ قُدَّمِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَھُوَمِنَ الْکٰذِبِیْنَ ۔ وَاِنْ کَانَ قَمِیْصُہٗ قُدَّمِنْ دُبُرٍ فَکَذَبَتْ وَھُوَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ فَلَمَّا رَاٰقَمِیْصَہٗ قُدَّمِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّہٗ مِنْ کَیْدِکُنَّ ط اِنَّ کَیْدَکُنَّ عَظِیْمٌ۔ یُوْسُفُ اَعرِضْ عَنْ ھٰذَا سکتۃ وَاسْتَغْفِرِیْ لَذِمنْبِکِ جاِنَّکِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا بےحیائی سے بچتے ہوئے دروازے کی طرف بھاگنا۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنی عفت و عصمت بچاتے ہوئے دروازے کی طرف دوڑے۔ ان کو پکڑنے کے لیے عزیز مصر کی بیوی پیچھے بھاگتی ہے۔ لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) دوڑتے ہوئے دروازے تک پہنچ گئے۔ پیچھے سے عزیز مصر کی بیوی نے ان کیقمیص کھینچی۔ اس حالت میں حضرت یوسف دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوئے جونہی دروازہ کھلا۔ دونوں نے عزیز مصر کو دروازے کے سامنے پایا۔ اپنے خاوند کو دیکھ کر عورت نے اپنی کرتوت کو یوسف (علیہ السلام) کے ذمہ لگاتے ہوئے اپنے خاوند سے مطالبہ کیا کہ اس مجرم کی…
Read the full tafseer →26: جب عورت نے قید اور سزا کی تعریض کی تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنی طرف سے دفاع کو ضروری سمجھا۔ قَالَ ھِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ (یوسف (علیہ السلام) نے کہا اس نے مجھے پھسلایا تھا) اگر چالبازی نہ ہوتی تو اس کے معاملے کو چھپاتے اور اس کو اس کے خاوند کے سامنے رسوا نہ کرتے۔
گھر کا گواہ اور اس کی درست بیانی :
وَشَھِدَ شَاھِدٌ مِّنْ اَھْلِھَا (اور عورت کے گھر والوں میں سے ایک نے گواہی دی) وہ عورت کا چچا زاد بھائی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسکی زبان پر گواہی کو جاری کیا۔ جو کہ اس عورت کے خاندان کا آدمی تھا۔ تاکہ اس عورت پر پختہ دلیل بنے اور براءت یوسف کیلئے مضبوط دلیل ثابت ہو۔ نمبر 2۔ ایک قول یہ…
Read the full tafseer →26۔” قالھی راودتنی عن نفسی “ مجھ سے بےحیائی کو طلب کیا تو میں نے انکار کردیا اور بھاگ گیا اور بعض نے کہا ہے یوسف (علیہ السلام) یہ بات کرنے کا ارادہ نہ رکھتے تھے جب اس عورت نے کہا ’ ما جزاء من اراد باھلک سوئ “ تو یوسف (علیہ السلام) نے اس کو ذکر کیا اور کہا ” ھی راودتنی عن نفسی و شھد شاھد “ فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ کیا ” من اھلھا “ اس شاہد میں اختلاف ہے۔
شاہد یوسف اور پن گھوڑے میں بات کرنے والے چار بچے
سعید بن جبیر ؓ اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ پن گھوڑے میں ایک بچہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی قوت گویائی دی اور یہی ابن عباس ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ماں کی گود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
26۔ 27۔ اس گواہ میں مفسرین نے اختلاف کیا ہے بعضے کہتے ہیں ایک حاکم تھا جس نے یہ فیلہ کیا کہ اگر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کرتا آگے سے پھٹا ہو تو زلیخا سچی ہے اور اگر پیچھے سے پھٹا ہو تو حضرت یوسف (علیہ السلام) سچے ہیں بعضے کہتے ہیں کہ حاکم نہیں تھا بلکہ ایک عقل مند شخص تھا بعضے کہتے ہیں بادشاہ کا مصاحب تھا لیکن صحیح قول یہ ہے کہ زلیخا کے رشتہ داروں میں ایک دودھ پیتا بچہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو گویا کیا اور اس نے گواہی دی کیوں کہ اگرچہ صحیحین میں دودھ پیتے بچوں کے بولنے کا جو قصہ ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے اس کو گویا کیا اور اس نے گواہی دی کیوں کہ اگرچہ صحیحین میں دودھ پیتے بچوں کے بولنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
آیات 23 تا 29:۔ یہ عظیم آزمائش اس سے بہت بڑی تھی جو جناب یوسف (علیہ السلام) کو اپنے بھائیوں کی طرف سے پیش آئی اور اس پر ان کا صبر کرنا بہت بڑے اجر کا موجب بنا، کیونکہ اس قبیح فعل کے وقوع کے لیے کثیر اسباب کے باوجود انہوں نے صبر کو اختیار کیا اور اللہ تعالیٰ کی محبت کو ان اسباب پر مقدم رکھا۔ اس لیے ان کا یہ صبر اختیار تھا اور ان کو اپنے بھائیوں کے ہاتھوں جو آزمائش پیش آئی وہاں ان کا صبر اضطراری تھا۔ جیسے مرض اور دیگر تکالیف بندے کے اختیار کے بغیر اسے لاحق ہوتی ہیں جن میں طوعاً یا کرہاً صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں اور آزمائش کا یہ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) عزیز مصر کے گھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–35
شاہد کون تھا ؟
قول باری ہے وشھد شاھدمن اھلھا ان کان قمیصہ قد من قبل فصدقت وھو من الکاذبین ۔ اس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے قرینے کی شہادت پیش کی کہ اگر یوسف کا قیمص آگے سے پھٹا ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت ابوہریرہ ؓ ، سعید بن جبیر اور ہلال بن یسار سے مروی ہے کہ پن گھوڑے میں پڑا ہوا ایک بچہ تھا ۔ جس نے یہ گواہی پیش کی ۔ حضرت ابن عباس سے ایک اور روایت کے مطابق ، نیز حسن ، ابن ملیکہ اور عکرمہ سے مروی ہے کہ یہ ایک مرد تھا جس نے شہادت پیش کی تھی ۔ عکرمہ کا قول ہے کہ عزیز مصرنے جب حضرت یوسف کو دروازے پر پھٹی ہوئی قمیص کے ساتھ دیکھا تو اس نے اپنے ایک چچا زاد…
Read the full tafseer →48 ۔ ایک معقول گواہی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر عورت کے خاندان کے ایک شخص نے ایک معقول گواہی دی اور اس شخص کی بات کو شہادت (گواہی) اس لیے قرار دیا گیا کہ اس سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی براءت ثابت ہوگئی اور بعض کہتے ہیں کہ (شہد) یہاں پر " حکم " کے معنی میں ہے۔ یعنی یہ کہ ایک حاکم نے فیصلہ اس طرح دیا کہ الخ (جامع البیان وغیرہ) جو بھی ہو یہ بات بہرکیف معقول تھی۔ کیونکہ کرتے کا آگے سے پھٹا ہونا اقدام اور حملہ آور ہونے کا قرینہ اور ثبوت تھا۔ اور پیچھے سے پھٹنے کا مطلب یہ تھا کہ ان کو بھاگتے ہوئے پیچھے سے پکڑا گیا تھا۔ بہرحال اس موقعہ پر اس مکار عورت کے خاندان ہی کے ایک شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–57
انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب
ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔
تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
آیات 21 تا 29
اسرار و معارف
چنانچہ قافلہ والے اس خزانے کوے کرمصرپہنچے اور فروخت کا بہت اہتمام کیا حتی کہ شاہی محل تک شہرہ پہنچا کہ ایک غلام بکنے کو ہے جس کے حسن کی چمک سورج کو ماند کرتی ہے ۔ قافلوں کا طریقہ کار یہ ہوتا تھا کہ جس شہر میں پہنچتے قیام کرتے اور مال کی خوب شہرت کرکے ایک خاص روز فروخت کے لئے مقرر کردیتے کہ لوگ زیادہ جمع ہوں اور اچھی قیمت لگے ۔ چناچہ خوب خوب بولیاں لگیں ۔ آخرعزیز مصر نے جس کا نام قطفیر تھا خرید لیا اور آپ کے وزن کے برابر سونا مشک اور اتنا ہی ریشمی کپڑاقیمت میں ادا کردیا۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ وزیر تھا اور حکمران عمالقہ میں سے تھا جس کا نام ریان بن اسید تھا۔ لیکن اگر…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ اور میں اس سے بچنے کے لئے بھاگا اور اس نے پیچھے سے میرا کرتا کھینچ کر پھاڑ دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
(12:26) راودتنی۔ اس عورت نے مجھ کو پھسلایا۔ ماضی واحد مؤنث غائب ملاحظہ ہو 12:23 ۔
شھد۔ ماضی واحد مذکر غائب المشھود والشھادۃ۔ کسی چیز کا مشاہدہ کرنا۔ خواہ بصر سے ہو یا بصیرت سے اور صرف حاضر ہونے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ شہادت جب اپنی ذات کے متعلق ہو تو اس کے معنی اقرار کے ہوتے ہیں۔ مثلاً قالوا بلی شھدنا (7:172) انہوں نے کہا کہ ہاں ہم اقرار کرتے ہیں۔ اور کبھی شہادت کے معنی فیصلہ اور حکم کے ہوتے ہیں مثلاً آیت ہذا ۔ شھد شاھد من اہلہا۔ اس کے خاندان کے ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ دیا۔ (یہاں یہ آدمی موجود تو تھا نہیں۔ لہٰذا اس کا وقوعہ کو دیکھنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 29
راودت (اس نے بہکایا۔ پھسلایا) عن نفسہ (اپنے نفس سے۔ اپنی طرف ) غلقت (بند کردیئے ) ابواب (دروازے) ھیت لک (آ۔ اپنا کام ر) معاذ اللہ (اللہ کی پناہ) احسن (زیادہ بہتر) مثوا (ٹھکانا۔ مقام لایفلح (فلاح نہیں پاتا۔ کامیاب نہیں ہوتا) ھمت (ارادہ کیا (مونث) ھم (ارادہ کیا) لولات (اگر نہ ہوتا (حرف شرط ہے) ان را (یہ کہ دیکھا) برھان (دلیل ۔ نشانی) لنصرف (تاکہ ہم دور کردیں۔ پھیر دیں ) السوء (برائی ) الفحشاء (فحش ) بےحیائی کے کام المخلصین (خالص کرنے والے) استبقا (وہ دونوں آگے پیچھے دوڑے) فدت (پھاڑ دیا) (دبر) پیچھے۔ (پشت کے حصے کو دبر کہتے ہیں) الفیا (الفا (ماضی کا صیغہ) دونوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
دودھ پیتے بچے کی گواہی : حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ گھر میں زلیخا کے ماموں کا لڑکا چار مہینے کا بچہ ہے اس سے دریافت کرنا چاہیے۔ عزیز نے کہا چار ماہ کا بچہ کیا جانے اور کیسے بولے گا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کو گویائی دینے اور اس سے میری بےگناہی کی شہادت ادا کردینے پر قادر ہے۔ عزیز نے اس سے بچہ دریافت کیا قدرت الہی سے اس نے کہا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) بھاگتے تھے اور زلیخا پیچھے سے پکڑتی تھی اس لئے کرتا پیچھے سے پھٹا اور جان لیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) سچے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
[13] جدید قانونی اصطلاح میں ایسی قانونی شہادت کو قرینے کی شہادت (Circumstantial evidence) کہتے ہیں۔ یہ شخص گواہ تو صرف اس معنی میں تھا کہ اس نے فریقین کے متضاد بیانات کے متعلق فیصلے کا ایک عاقلانہ طریقہ بتلا دیا۔ مطلب یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کا کرتا اگر سامنے سے پھٹا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اقدام یوسف (علیہ السلام) کی جانب سے تھا اور عورت اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اگر یوسف (علیہ السلام) کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) بھاگ کر بچنا چاہتے تھے اور عورت اس کو پیچھے سے روکنا چاہتی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
(ف 1) (آیت) ” ان کیدکن عظیم “۔ عزیز مصر کا مقولہ ہے کہ تمہارے چرتر بہت خطرناک ہیں ، اور وہ بھی اس زمانے کی عورتوں کے لئے عام عورتوں کے باب میں یہ صحیح نہیں ، اسلام نے عورتوں کو عفیف قرار دیا ہے ، اور ان کی عزت کی ہے ، اور واقع بھی یہی ہے کہ عورتیں عموما مردوں سے زیادہ عفیف ہوتی ہیں ، گناہ کی تحریک مردوں کی جانب سے ہوتی ہے ، اگر مرد خود پاکباز رہیں اور عورتوں کی بہتر تربیت کریں ، تو پھر اس نوع کے خطرات باقی نہیں رہتے ۔
حل لغات :
کیدکن “۔ چرتر ، مکر ، فن ۔
Read the full tafseer →26 حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا یہ عورت خود مجھ کو اپنی طرف مائل کرنے اور اپنا مطلب نکالنے کے لئے مجھے پھسلاتی تھی اور اس عورت کے خاندان والوں میں سے ایک گواہ نے یہ گواہی دی کہ کسی کو مجرم قرار دینے سے پہلے یوسف (علیہ السلام) کا پھٹا ہوا کرتہ دیکھو اگر یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ آگے سے پھٹا ہوا ہے تو عورت سچی ہے اور یوسف (علیہ السلام) جھوٹا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
ف 11۔ ایک شیرخوار بچہ تھا جو یوسف (علیہ السلام) کے معجزہ سے بول پڑا اگر یوسف اس وقت نبی نہ ہوں تو اس خارق کو اصطلاح میں بجائے معجزہ کے ارہاص کہیں گے۔
12۔ اس شاہد نے جو فیصلہ بتایا یہ کوئی حجت شرعی نہیں حجت کافیہ تو صرف اس کا نطق ہے لیکن حاضرین کے مذاق کے موافق اس کیا بیان کردینا حجت اصلیہ کے لیے زیادہ موید ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
ایک گواہ نے بھی گواہی دی کہ اس کا کرتہ دیکھو آگے سے پھٹا ہے یا پیچھے سے ؟
۔ 37 امراۃ العزیز کا چچا زاد بھائی ذکی ، فطین اور بہتر ہوشیار تھا۔ اس نے جب دونوں کو نظر بھر کر دیکھا تو سارا حال ان چہروں نے اس کے سامنے رکھ دیا اور کرتہ کی حالت بھی وہ دیکھ رہا تھا۔ اس نے کہا یوسف کا کرتہ دیکھو اگر وہ سامنے سے چاک ہے تو عورت راست باز ہے اور اگر پیچھے سے چاک ہے تو یوسف صادق القول ہے اور عورت جھوٹی ہے۔ یوسف کا کرتہ دیکھا گیا تو وہ پیچھے سے چاک تھا۔ بات بالکل واضح ہوگئی اور وہ عورت بھی ساکت الجواب ہوگئی۔ یہ شاہد کون تھا ؟ مفسرین نے اس کی تحقیق میں بہت کچھ لکھا ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ وہ جیسا کچھ بھی تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) ، because of his prophetic gentleness, may not have, perhaps, disclosed her secret. But, when she took the first step and presented a charge sheet of false accusation against him, he was compelled to tell the truth: هِيَ رَاوَدَتْنِي عَن نَّفْسِي (It was she who sought to seduce me).
The matter was dense and delicate. For the ` Aziz of Misr, it was difficult to decide as to who should be taken as being true. That was no occasion for evidence and proof. But, Allah, great is whose majesty, has His own ways of saving His honourable servants from sin and keeping…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
24. It appears that when the master of the house came on the scene, he was accompanied by a person of his wife’s household. When he heard the story of the incident, he made this proposal: As each of them accuses the other and there is no eye witness of what happened between the two, the matter should be decided by the help of the circumstantial evidence, by examining the condition of Joseph’s shirt. Obviously this was a very reasonable way of deciding the matter, and there was, therefore, no need to resort to a miracle. According to some traditions this witness was an infant, lying in the…
Read the full tafseer →