Explained with ayahs 25–29
الزام کی مدافعت اور بچے کی گواہی
حضرت یوسف اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے دروازے کی طرف دوڑے اور یہ عورت آپ کو پکڑنے کے ارادے سے آپ کے پیچھے بھاگی۔ پیچھے سے کرتا اس کے ہاتھ میں آگیا۔ زور سے اپنی طرف گھسیٹا۔ جس سے حضرت یوسف پیچھے کی طرف گر جانے کی قریب ہوگئے لیکن آپ نے آگے کو زور لگا کر دوڑ جاری رکھی اس میں کرتا پیچھے سے بالکل بےطرح پھٹ گیا اور دونوں دروازے پر پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ عورت کا خاوند موجود ہے۔ اسے دیکھتے ہی اس نے چال چلی اور فوراً ہی سارا الزام یوسف کے سر تھوپ دیا اور اپنی پاک دامنی بلکہ عصمت اور مظلومیت جتانے لگی۔ سوکھا سامنہ بنا کر اپنے خاوند سے اپنی بپتا اور پھر پاکیزگی بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
سورة یُوْسُف 24
اس معاملہ کی نوعیت یہ سمجھ میں آتی ہے کہ صاحب خانہ کے ساتھ خود اس عورت کے بھائی بندوں میں سے بھی کوئی شخص آ رہا ہوگا اور اس نے یہ قضیہ سن کر کہا ہوگا کہ جب یہ دونوں ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں اور موقع کا گواہ کوئی نہیں ہے تو قرینہ کی شہادت سے اس معاملہ کی یوں تحقیق کی جاسکتی ہے بعض روایات میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ موادت پیش کرنے والا ایک شیر خوار بچہ تھا جو وہاں پنگھوڑے میں لیٹا ہوا تھا اور خدا نے اسے گویائی عطا کر کے اس سے یہ شہادت دلوائی۔ لیکن یہ روایت نہ تو کسی صحیح سند سے شہادت ہے اور نہ اس معاملے میں خواہ مخواہ معجزے سے مدد لینے کی کوئی ضرورت ہی محسوس ہوتی ہے۔ اس شاہد…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(اور جب اس عورت نے پھر وہی اصرار کیا تو یوسف ؑ وہاں سے جان بچا کر بھاگے اور وہ ان کو پکڑنے کے لئے ان کے پیچھے چلی) اور وہ دونوں آگے پیچھے دروازہ کی طرف دوڑے اور (دوڑنے میں جو ان کو پکڑنا چاہا تو) اس عورت نے ان کا کرتہ پیچھے سے پھاڑ ڈالا (یعنی اس نے کرتہ پکڑ کر کھینچنا چاہا اور یوسف ؑ آگے کی طرف دوڑے تو کرتہ پھٹ گیا مگر یوسف ؑ دروازے سے باہر نکل گئے) اور (عورت بھی ساتھ تھی تو) دونوں نے (اتفاقا) اس عورت کے شوہر کو دروازے کے پاس (کھڑا) پایا عورت (خاوند کو دیکھ کر سٹ پٹائی اور فورا بات بنا کر) بولی کہ جو شخص تیری بی بی کے ساتھ بدکاری کا ارادہ کرے اس کی سزا بجز اس کے اور کیا (ہو سکتی)…
Read the full tafseer →وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِيْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّاَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا الْبَابِ ۭ قَالَتْ مَا جَزَاۗءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْۗءًا اِلَّآ اَنْ يُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۔
اسباقت کے معنی ہیں دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش کرنا۔
عورت کا فریب : حضرت یوسف نے جب دیکھا کہ اس فتنہ سے جان بچانے کی کوئی شکل باقی نہیں رہی ہے تو وہ دروازے کی طرف جھپٹے کہ کھول کر باہر نکل جائیں۔ پیچھے سے عورت نے تعاقب۔ ان کو تو پکڑ نہ سکی البتہ ان کا کرتہ اس کے ہاتھ میں آگیا۔ اس کو جو زور سے اس نے کھینچا تو وہ پھٹ گیا اور ساتھ ہی یہ سانحہ پیش آیا کہ دروازہ جو کھلا تو دیکھا کہ شوہر…
Read the full tafseer →25۔ 1 جب حضرت یوسف ؑ نے دیکھا کہ وہ عورت برائی کے ارتکاب پر مصر ہے، تو وہ باہر نکلنے کے لئے دروازے کی طرف دوڑے، یوسف ؑ کے پیچھے انھیں پکڑنے کے لئے عورت بھی دوڑی۔ یوں دونوں دروازے کی طرف لپکے اور دوڑے۔
25۔ 2 یعنی خاوند کو دیکھتے ہی خود معصوم بن گئی اور مجرم تمام تر یوسف ؑ کو قرار دے کر ان کے لئے سزا بھی تجویز کردی۔ حالانکہ صورت حال اس کے برعکس تھی، مجرم خود تھی جب کہ حضرت یوسف ؑ بالکل بےگناہ اور برائی سے بچنے کے خواہش مند اور اس کے لئے کوشاں تھے۔
Read the full tafseer →17: حضرت یوسف ؑ اس عورت سے رخ موڑ کر دروازے کی طرف بھاگ رہے تھے، عورت نے پیچھے سے انہیں کھینچنا چالا، اس سے قمیص پیچھے سے پھٹ گئی۔
Read the full tafseer →وَاسْتَبَقَا الْبَابَ : " آخر کار یوسف اور وہ آگے پیچھے دروازے کی طرف بھاگے " حضرت یوسف نے اپنے آپ کو اس کے چنگل سے آزاد کرنے کے لیے بھاگنے میں عافیت سمجھی اور یہ عورت بھی ان کے پیچھے بھاگی تاکہ ان کو پکڑے کیونکہ یہ ابھی تک جنسی ہیجان میں تھی۔
وَقَدَّتْ قَمِيْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ : " اور اس نے پیچھے سے یوسف کی قمیص پھاڑ دی " اس کے کھینچنے کی وجہ سے قمیص پھٹ گئی کیونکہ اس کی کوشش یہ تھی کہ دروازے سے اسے واپس لے جائے۔
وَّاَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا الْبَابِ : " دروازے پر دونوں نے اس کے شوہر کو موجود پایا "
یہاں یہ عورت اب مکمل طور پر بالغ نظری کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ صورت حالات ایسی ہے کہ اس میں…
Read the full tafseer →2 آگے یوسف تھے کہ جلدی دروازہ کھول کر نکل جائیں۔ اور پیچھے زلیخا انھیں روکنے کے لیے تعاقب کر رہی تھیں۔ اتفاقاً یوسف کے قمیص کا پچھلا حصہ زلیخا کے ہاتھ میں آگیا۔ اس نے پکڑ کر کھینچنا چاہا۔ کھینچا تانی میں کرتہ پھٹ گیا۔ مگر یوسف جوں توں کر کے مکان سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ ادھر یہ دونوں آگے پیچھے دروازہ پر پہنچے، ادھر عورت کا خاوند عزیز مصر بھی پہنچ گیا۔ عورت نے فوراً بات بنانی شروع کی۔
3 عورت نے الزام یوسف پر رکھا کہ اس نے مجھ سے برا ارادہ کیا۔ ایسے شخص کی سزا یہ ہونی چاہیے کہ جیل خانہ بھیجا جائے یا کوئی اور سخت مار پڑے۔
Read the full tafseer →آیت 25 وَاسْتَبَقَا الْبَابَ
یعنی حضرت یوسف نے جب دیکھا کہ اس عورت کی نیت خراب ہے اور اس پر شیطنت کا بھوت سوار ہے تو آپ اس سے بچنے کے لیے دروازے کی طرف لپکے اور آپ کے پیچھے وہ بھی بھاگی تاکہ آپ کو قابو کرسکے۔
وَقَدَّتْ قَمِيْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ
آپ کو دوڑتے ہوئے دیکھ کر اس عورت نے آپ کی طرف تیزی سے لپک کر پیچھے سے آپ کو پکڑنے کی کوشش کی تو آپ کی قمیص اس کے ہاتھ میں آکر پھٹ گئی۔
وَّاَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا الْبَابِ
اس عورت نے لازماً ایسے وقت کا انتخاب کیا ہوگا جب اس کا خاوند گھر سے باہر تھا اور اس کے جلد گھر آنے کا امکان نہیں تھا ‘ مگر جونہی وہ دونوں آگے پیچھے دروازے سے باہر نکلے تو غیر متوقع…
Read the full tafseer →25 جب زلیخا نے چھیڑ چھاڑ کے ذریعہ سیدنا یوسف کے جذبات کو برانگیختہ کرنا چاہا تو آپ دروازے کی طرف بڑھے تاکہ دروازہ کھول کر باہر نکل جائیں اور زلیخا ان کے پیچھے دوڑی اور آپ کو پیچھے سے اپنے پاس کھینچنا چاہا۔ اس کشمکش میں زلیخا نے پیچھے سے سیدنا یوسف کی قمیص کو پکڑ کر کھینچا تو قمیص پیچھے سے پھٹ گئی۔ تاہم یوسف دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوگئے اور جب دروازہ کھلا تو دفعتاً عزیز مصر دروازے پر کھڑا موجود تھا۔ جس نے بچشم خود دیکھ لیا کہ دونوں ایک بند کمرے سے باہر آرہے ہیں۔ آگے یوسف ہیں اور پیچھے زلیخا، اور یہ کچھ بدکاری کے امکان کے لیے کافی ثبوت تھا یا کم از کم ایسا شبہ ضرور پڑ سکتا تھا۔
26 زلیخا کا…
Read the full tafseer →47۔ (آگے آگے آپ (علیہ السلام) کہ بھاگ کر بچنا چاہتے تھے اور پیچھے پیچھے وہ عورت کہ دوڑ کر پکڑان چاہتی تھی) آپ (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ کوئی صورت مخلصی کی نہیں تو بےتحاشا باہر نکل بھاگنے کا قصد کرلیا باوجود اس کے کہ دروازے بند تھے۔ (آیت) ” وغلقت الابواب “۔ صوفیہ عارفین نے کہا ہے کہ کشاد قفل میں اشارہ اسی طرف ہے کہ جو دنیائے حرام سے بھاگنے کی ہمت کرتا ہے اس کے لئے نجات کی راہیں غیب سے کھل جاتی ہیں اور عارف رومی (رح) کا اشارہ اپنی مثنوی کے اس شعر میں اسی منزل کی جانب ہے۔
ع . نیست رخنہ گرچہ درعالم پدید۔ ہمچو یوسف خیرہ سرباید دوید۔
48۔ (جیسا کہ اس موقع پر بالکل قدرتی ہوتا ہے جب کوئی آگے آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
آیت نمبر 21 تا 29
ترجمہ : اور اس مصری شخص نے جس نے یوسف کو خریدا تھا جس کا نام قِطْفیر اور (لقب) عزیز تھا، اپنی بیوی زلیخا سے کہا اس کو عزت اور احترام کے ساتھ رکھنا (یعنی اس کو عزت کا مقام دینا اور اچھی طرح دیکھ بھال کرنا) بعید نہیں کہ ہمارے لئے نفع بخش ثابت ہو یا ہم اس کو اپنا بیٹا ہی بنالیں اور عزیز عنّین (نامرد) تھا، اور جس طرح ہم نے یوسف کو قتل اور کنویں سے نجات دی اور عزیز مصر کے دل کو اس کی طرف مائل کیا، اسی طرح ہم نے یوسف کو ملک مصر میں اقتدار عطا کیا حتی کہ وہ پہنچے جس مرتبہ پر پہنچے، (اور ہم نے ان کو قدرت دی) تاکہ ہم اس کو خوابوں کی تعبیر سکھائیں (لِنعلِّمَہٗ ) کا عطف لنملکہٗ محذوف…
Read the full tafseer →واستبقا الباب اور دونوں (حضرت یوسف و زلیخا) دروازے کو دوڑے (حضرت یوسف آگے اور زلیخا پکڑنے کیلئے ان کے پیچھے) جب حضرت یوسف باہر نکلنے کیلئے بھاگے تو زلیخا ان کو روکنے کیلئے پیچھے سے دوڑی اور پیچھے سے کرتہ پکڑ کر کھینچا۔ الباب سے مراد ہے : آخری دروازہ جہاں سے بالکل گھر سے باہر آسکتے تھے۔ حضرت یوسف جب بھاگے تھے تو دروازوں کے قفل ٹوٹ ٹوٹ کر خود گر رہے تھے۔ آخری دروازہ پر پہنچے تو زلیخا نے کرتہ پکڑ کر کھینچا۔
وقدت قمیصہ من دبر اور عورت نے یوسف کا کرتہ پیچھے سے چیر دیا۔ قَدٌ لمبائی میں پھاڑنا ‘ قطٌّ چوڑائی میں کاٹنا یا پھاڑنا۔
والفیا سیدھا لدا الباب اور دروازہ کے بعد دونوں نے عورت کے شوہر کو پایا…
Read the full tafseer →(25) غرض کہ دونوں آگے پیچھے دروازے کی طرف دوڑے، اس وقت حضرت یوسف ؑ وہاں سے جان بچا کر نکلنے کے لیے بھاگے اور وہ دروازہ بند کرنے کے لیے دوڑی اور دوڑنے میں اس عورت نے جو حضرت یوسف ؑ سے دروازہ بند کرنے کے لیے سبقت کرنا چاہی تو حضرت یوسف ؑ کی قمیص پیچھے کی طرف پھاڑ ڈالی مگر یوسف ؑ باہر نکل گئے تو دونوں نے اتفاقا اس عورت کے شوہر کو جو کہ اس کا چچا زاد بھائی تھا دروازہ پر کھڑا پایا تو وہ عورت فورا بات بنا کر اپنے خاوند سے کہنے لگی کہ جو شخص تیری بیوی کے ساتھ بدکاری کا ارادہ کرے، اس کی سزا سوائے اس کے کیا ہوسکتی ہے۔ کہ وہ جیل بھیج دیا جائے یا اسے اور کوئی درد ناک جسمانی سزا دی جائے۔
Read the full tafseer →وَاسْتَبَقَا الْبَابَ۔۔ : علماء نے لکھا ہے کہ اس جملے کا تعلق ”وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ۔۔“ کے ساتھ ہے اور ”كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ۔۔“ درمیان میں جملہ معترضہ ہے جو یوسف ؑ کی پاک بازی کو ثابت کرنے کے لیے لایا گیا ہے اور آیت کا مفہوم یہ ہے کہ عورت نے زنا کا عزم کیا، مگر یوسف ؑ نے انکار کیا، چناچہ اسی کشمکش میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں وہ دونوں دروازے کی طرف دوڑے، آگے یوسف ؑ اور پیچھے عزیز کی بیوی۔ یوسف ؑ اس لیے کہ جلدی سے دروازہ کھول کر بھاگ جائیں اور عزیز کی بیوی دوڑی کہ پہلے پہنچ کر انھیں دروازہ کھول کر بھاگنے نہ دے۔ یہاں قابل توجہ بات یہ ہے کہ وہ دروازے جو عزیز کی بیوی نے بہت اچھی طرح بند…
Read the full tafseer →آیت نمبر 25
اللہ تعالیٰ کے ارشاد : واستبقا الباب وقدت قممیصہ من دبر میں دو مسئلے ہیں۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : واستبقا الباب کے بارے میں علماء نے کہا : یہ قرآن معجز کے ان اختصارات میں سے ہے جن میں بہت سے معانی جمع ہیں۔ اور وہ یہ ہیں کہ جب آپ نے اپنے رب کی دلیل کو دیکھا تو اس عورت سے بھاگے تو دونوں نے آگے بڑھنے کی کوشش کی وہ اس لیے دوڑی تاکہ آپ کو اپنی طرف واپس لوٹالے، اور آپ اس لیے تیز دوڑے کہ اس بھاگ جائیں تو اس نے آپ کے نکلنے سے پہلے آپ کو پالیا۔ وقدت قمیصہ من دبر اور اس عورت نے پیچھے سے آپ کی قمیض پھاڑڈالی۔ من دبر، مراد من خلفہ، ہے۔ اس نے قمیض کو اوپر سے پکڑا تو قمیض گردن کے…
Read the full tafseer →1:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” واستبقا الباب “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ یعنی یوسف (علیہ السلام) اور وہ عورت (دونوں) دروازہ کی طرف دوڑے۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ کی قرأت میں یوں ہے (آیت) ” ووجدا سیدھا “
3:۔ ابن جریر (رح) نے زیدبن ثابت (رح) سے روایت کیا کہ ” السید “ سے مراد ہے (اس عورت کا) خاوند۔
4:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” والفیا سیدھا “ سے مراد ہے اس کا خاوند اور (آیت) ” لدا الباب “ سے مراد ہے…
Read the full tafseer →[وَاسْتَبَقَا : اور وہ دونوں دوڑے ] [الْبَابَ : دروازے کو ] [وَقَدَّتْ : اور اس عورت نے چیرا ] [ قَمِيْصَهٗ : ان (علیہ السلام) کی قمیص کو ] [مِنْ دُبُرٍ : پیچھے سے ] [ وَّاَلْفَيَا : اور دونوں نے پایا ] [سَيِّدَهَا : عورت کے آقا کو ] [لَدَا الْبَابِ : دروازے کیپ اس ] [ قَالَتْ : اس عورت نے کہا ] [ مَا : کیا ] [ جَزَاۗءُ مَنْ : اس کی سزا ہے جس نے ] [ اَرَادَ : ارادہ کیا ] [ بِاَهْلِكَ : تیرے گھر والوں سے ] [ سُوْۗءًا : ایک برائی کا ] [ اِلَّآ ان : سوائے اس کے کہ ] [ يُّسْجَنَ : وہ قید کیا جائے ] [اَوْ : یا ] [عَذَابٌ اَلِيْمٌ: (سوائے) ایک دردناک عذاب (کے)]
ق د د
[قَدًّا : (ن) کسی چیز کو…
Read the full tafseer →(وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِیْصَہٗ مِنْ دُبُرٍ ) ۔ جب عزیز مصر کی بیوی نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اپنے برے مقصد کے لئے استعمال کرنا چاہا تو وہ دروازے کی طرف دوڑ پڑے پیچھے سے عورت بھی دوڑی۔ بالآخر اس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کرتہ کا پچھلا دامن پکڑ لیا چونکہ بھاگتے ہوئے آدمی کا دامن پکڑا تھا اس لئے کرتہ پھٹ گیا۔ روح المعانی میں لکھا ہے کہ قد یقد اکثر لمباؤ میں پھاڑ دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے اسی لئے ہم نے چیر نے کا ترجمہ کیا ہے۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) دروازے کی طرف بڑھے تو دروازہ بند پایا لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد ہوئی ‘ دروازے کھلتے چلے گئے اس سے معلوم ہوا کہ جب کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
ذکر الطاف و عنایات خداوندی
با یوسف صدیق (علیہ السلام) و قصہ او بازن عزیز مصر
قال اللہ تعالیٰ وقال الذی اشترہ من مصر ..... الیٰ .... انک کنت من الخطئین۔
(ربط) آغاز سورت میں حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ارادہ خداوندی یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو اپنا برگزیدہ بندہ بنائے اور علم تعبیران کو سکھائے اور ان کے آباؤ اجداد کی طرح ان پر اپنی نعمتیں پوری کرے بعد ازاں بھائیوں کا ماجرا ذکر کیا کہ بھائی کو لے جا کر کنوئیں میں ڈالا اور غلام بن اکر گنتی کے دراہم میں فروخت کردیا۔ اب ان آیات میں حق جل شانہ اپنے الطاف و عنایات کا ذکر کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی رحمت سے یوسف (علیہ السلام) کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
23:۔ زلیخا چونکہ برے کام کا پختہ ارادہ کرچکی تھی اس لیے اس کے ارادے کو لام اور قد تاکید کے دو حرفوں کے ساتھ بیان کیا گیا لیکن حضرت یوسف نے فعل بد کا ارادہ ہی نہیں کیا کیونکہ انہوں نے عظمت خداوندی کا نشان دیکھ لیا تھا اسی لیے ان کے ارادے کو برہان پر معلق فرمایا یعنی زلیخا تو ارادہ کرچکی تھی اور یوسف (علیہ السلام) بھی اگر برہانِ رب نہ دیکھتے تو ارادہ کرلیتے۔ امام ابو عبیدہ فرماتے ہیں اس میں تقدیم وتاخیر ہے۔ ” لَوْلَا اَنْ رَّاٰ بُرْھَانَ رَبِّہٖ “ شرط مؤخر ہے اور ” ھَمَّ بِھَا “ جزاء مقدم ہے قال ابو عبیدۃ ھذا علی التقدیم والتاخیر کانہ ارادو لَقَدْ ھَمَّتْ بِہٖ ولولا ان را برھان ربہ لھم بھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
قمیض کا پھٹ جانا
گزشتہ درس میں یوسف (علیہ السلام) کی ابتداء کا ذکر ہوچکا ہے کہ عزیز مصر کی بیوی نے آپ پر فریضتہ ہو کر ڈرے ڈالنے شروع کئے اور برائی پر آمادہ کرنا چاہا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت فرمائی۔ جب اس عورت نے دروازے بند کر لئے تو یوسف (علیہ السلام) نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی اور عورت بھی آپ کے پیچھے بھاگی۔ اس واقعہ کو قرآن پاک نے اس طرح بیان کیا ہے۔ واستبقا الباب اور وہ دونوں (یوسف اور زلیخا ) دروازے کی طرف دوڑے ۔ آگے آگے یوسف (علیہ السلام) تھے اور پیچھے پیچھے عزیز مصر کی بیوی تھی۔ یوسف (علیہ السلام) تو برائی سے بچنے کے لئے بھاگے جب عورت انہیں برائی پر آمادہ کرنے کے لئے پکڑنا…
Read the full tafseer →وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِيْصَہٗ مِنْ دُبُرٍ وَّاَلْفَيَا سَيِّدَہَا لَدَا الْبَابِ 0ۭ قَالَتْ مَا جَزَاۗءُ مَنْ اَرَادَ بِاَہْلِكَ سُوْۗءًا اِلَّآ اَنْ يُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 25
سبق
أصل السَّبْقِ : التّقدّم في السّير، نحو : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] ، والِاسْتِبَاقُ : التَّسَابُقُ. قال : إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ، وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] ، ثم يتجوّز به في غيره من التّقدّم، قال : ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11][ أَنْ يَسْبِقُونَا } يَفُوتُونَا فَلَا نَنْتَقِم مِنْهُمْ
( س ب ق) السبق
اس کے اصل معنی چلنے میں آگے بڑھ جانا کے ہیں ۔ قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
2 ؎ وہ یعنی تیرا شوہر۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِیْصَہٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَھَا لَدَا الْبَابِ ط قَالَتْ مَاجَزَآئُ مَنْ اَرَادَ بِاَھْلِکَ سُوْٓئً ا اِلَّآ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْعَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ قَالَ ھِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَھِدَشَاہِدٌ مِّنْ اَھْلِھَا ج اِنْ کَانَ قَمِیْصُہٗ قُدَّمِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَھُوَمِنَ الْکٰذِبِیْنَ ۔ وَاِنْ کَانَ قَمِیْصُہٗ قُدَّمِنْ دُبُرٍ فَکَذَبَتْ وَھُوَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ فَلَمَّا رَاٰقَمِیْصَہٗ قُدَّمِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّہٗ مِنْ کَیْدِکُنَّ ط اِنَّ کَیْدَکُنَّ عَظِیْمٌ۔ یُوْسُفُ اَعرِضْ عَنْ ھٰذَا سکتۃ وَاسْتَغْفِرِیْ لَذِمنْبِکِ جاِنَّکِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا بےحیائی سے بچتے ہوئے دروازے کی طرف بھاگنا۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنی عفت و عصمت بچاتے ہوئے دروازے کی طرف دوڑے۔ ان کو پکڑنے کے لیے عزیز مصر کی بیوی پیچھے بھاگتی ہے۔ لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) دوڑتے ہوئے دروازے تک پہنچ گئے۔ پیچھے سے عزیز مصر کی بیوی نے ان کیقمیص کھینچی۔ اس حالت میں حضرت یوسف دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوئے جونہی دروازہ کھلا۔ دونوں نے عزیز مصر کو دروازے کے سامنے پایا۔ اپنے خاوند کو دیکھ کر عورت نے اپنی کرتوت کو یوسف (علیہ السلام) کے ذمہ لگاتے ہوئے اپنے خاوند سے مطالبہ کیا کہ اس مجرم کی…
Read the full tafseer →برائی سے فرار اور اس میں کامیابی :
25: وَاسْتَبَقَا الْبَابَ ( اور دونوں نے دروازہ کی طرف سبقت کی) دونوں دروازے کی طرف دوڑے۔ عورت طلب مقصد کیلئے اور یوسف حفاظت کیلئے۔ جار کے محذوف اور ایصال فعل کے ساتھ ہے۔ جیسا دوسری آیات میں واختار موسیٰ قومہ ] الاعراف : 155[ نمبر 2۔ استبقا میں تضمین مانیں اور ابتد اء معنی لیں۔ یوسف نے جلدی کی اور اس سے بھاگے اور دروازے کی طرف نکلنے کیلئے جلدی کی اور عورت نے جلدی کی تاکہ نکلنے سے ان کو روکے۔ البابؔ کو یہاں واحد لائے۔ دوسرے مقام پر غلقت الا بواب فرمایا کیونکہ اس الباب سے باہروالا آخری دروازہ ہے۔ جو گھر سے نکلنے کا راستہ تھا۔ جب آپ بھاگے تو تالے کے پرزے بکھرنے…
Read the full tafseer →تفسیر 25۔” واستبقا الباب “ جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے رب کی دلیل دیکھی تو دروازے کی طرف دوڑے اور وہ عورت بھی آپ (علیہ السلام) کو پکڑنے کے لیے پیچھے بھاگی تا کہ یوسف (علیہ السلام) باہر نہ نکل سکیں ۔ یوسف (علیہ السلام) آگے بڑھے اور عورت نے آپ (علیہ السلام) کو پکڑ لیا اور پیچھے سے ان کی قمیص کو چمٹ گئی تو زلیخا نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنی طرف کھینچا تا کہ وہ باہر نہ نکل سکیں ۔” وقدت قمیصہ من دبروالفیا سیدھا لدی الباب ‘ ‘ یعنی اس عورت کا خاوند قطفیر دروازے کے پاس راعیل کے چچا کے لڑکے کے ساتھ بیٹھا تھا تو اس کو دیکھ کر ڈر گئی اور ” قالت “ اپنے خاوند کو جلدی سے کہتے ہوئے۔” ما جزاء من اراد…
Read the full tafseer →25۔ زلیخا کی جب کچھ پیش نہ چلی اور ہزاروں آرزوں اور منتوں پر بھی یوسف (علیہ السلام) اس کی طرف ملتفت نہ ہوئے اور اس کی ساری کوششیں بیکار گئیں اکیلے گھر میں جس کے ساتوں دروازے بند پڑے تھے یوسف (علیہ السلام) کو اور تو کچھ سوجھی نہیں دروازے کی طرف بھاگ چلے تاکہ مکان سے باہر نکل جائیں کہ وہاں اس عورت سے چھٹکارا ملے گا اور اس کے شر سے بچیں گے یوسف (علیہ السلام) کو بھاگتا ہوا دیکھ کر زلیخا بھی ان کے پیچھے بھاگی کہ ان کو پکڑ لیں باہر نہ جانے دیں اسی دوادوش میں یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ اس کے ہاتھ میں آگیا یوسف (علیہ السلام) کو اس کی پرواہ تو تھی نہیں کہ میرا کپڑا چھٹے گا وہ تو یہ چاہ رہے تھے کہ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
آیات 23 تا 29:۔ یہ عظیم آزمائش اس سے بہت بڑی تھی جو جناب یوسف (علیہ السلام) کو اپنے بھائیوں کی طرف سے پیش آئی اور اس پر ان کا صبر کرنا بہت بڑے اجر کا موجب بنا، کیونکہ اس قبیح فعل کے وقوع کے لیے کثیر اسباب کے باوجود انہوں نے صبر کو اختیار کیا اور اللہ تعالیٰ کی محبت کو ان اسباب پر مقدم رکھا۔ اس لیے ان کا یہ صبر اختیار تھا اور ان کو اپنے بھائیوں کے ہاتھوں جو آزمائش پیش آئی وہاں ان کا صبر اضطراری تھا۔ جیسے مرض اور دیگر تکالیف بندے کے اختیار کے بغیر اسے لاحق ہوتی ہیں جن میں طوعاً یا کرہاً صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں اور آزمائش کا یہ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) عزیز مصر کے گھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
قول باری ہے ولقد ھمت بہ وھم بھا وہ اس کی طرف بڑھی اور یوسف بھی اس کی طرف بڑھا ۔ حسن سے مروی ہے کہ وہ یعنی عزیز مصر کی بیوی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف عزیمت یعنی پکے ارادے کے ساتھ بڑھی تھی اور حضرت یوسف اس کی طرف شہوت یعنی کشش کے تحت بڑھے تھے انہوں نے عزم نہیں کیا تھا۔ ایک قول کے مطابق طرفین ایک دوسرے کی طرف کشش کے تحت بڑھے تھے اس لیے کہ محاورے کے مطابق ہم بالشی کا مفہوم اس چیز کی قربت اختیار کرنا ہوتا ہے اس سے جا کر مل جانا نہیں ہوتا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اس کی طرف بڑھنا عزم اور پکے ارادے کے تحت نہیں تھا بلکہ صرف کشش کی بنا پر تھا اس کی دلیل یہ قول باری ہے۔ معاذ اللہ انہ ربی احسن…
Read the full tafseer →46 ۔ دونوں کے دروازے کی طرف دوڑنے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ دوڑ پڑے وہ دونوں دروازے کی طرف " یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) اور زلیخا دونوں، سو یہ اسی برہان رب اور نصرت و حمایت خداوندی ہی کا ایک حصہ تھا جس سے قدرت نے آپ کو نوازا تھا کہ آپ برائی کے اس مقام سے فورا بھاگ کھڑے ہوئے۔ روایات میں ہے کہ گھر کے دروازے مقفل تھے مگر اس کے باوجود حضرت یوسف (علیہ السلام) جب بھاگ کر ان تک پہنچے تو ان کے قفل خود بخود ایک ایک کرکے کھلتے چلے گئے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ انسان برائی سے بچنے کے لیے اگر سچی نیت کے ساتھ اپنے بس کی حد تک تگ و دو اور سعی و کوشش کرے تو اللہ پاک اس کے لیے راستے خود بخود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–57
انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب
ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔
تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
آیات 21 تا 29
اسرار و معارف
چنانچہ قافلہ والے اس خزانے کوے کرمصرپہنچے اور فروخت کا بہت اہتمام کیا حتی کہ شاہی محل تک شہرہ پہنچا کہ ایک غلام بکنے کو ہے جس کے حسن کی چمک سورج کو ماند کرتی ہے ۔ قافلوں کا طریقہ کار یہ ہوتا تھا کہ جس شہر میں پہنچتے قیام کرتے اور مال کی خوب شہرت کرکے ایک خاص روز فروخت کے لئے مقرر کردیتے کہ لوگ زیادہ جمع ہوں اور اچھی قیمت لگے ۔ چناچہ خوب خوب بولیاں لگیں ۔ آخرعزیز مصر نے جس کا نام قطفیر تھا خرید لیا اور آپ کے وزن کے برابر سونا مشک اور اتنا ہی ریشمی کپڑاقیمت میں ادا کردیا۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ وزیر تھا اور حکمران عمالقہ میں سے تھا جس کا نام ریان بن اسید تھا۔ لیکن اگر…
Read the full tafseer →ف 3 ۔ علما نے لکھا ہے کہ اس جملہ کا تعلق لقد ھمت الخ کے ساتھ ہے اور ” کذلک ‘ درمیان میں جملہ معترضہ ہے جو حضرت یوسف کی نزاہت کو ثابت کرنے کیلئے لایا گیا ہے اور آیت کا مفہوم یہ ہے کہ عورت نے زنا کا عزم کیا مگر حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے انکار کیا چناچہ اسی کشمکش میں وہ دونوں دروازے کی طرف دوڑے۔ آگے حضرت یوسف ( علیہ السلام) اور پیچھے عزیز کی بیوی، حضرت یوسف ( علیہ السلام) اس لئے کہ جلدی سے دروازہ کھول کر بھاگ جائیں اور عزیز کی بیوی دوڑی کہ انہیں دروازہ کھول کر بھاگنے نہ دے۔
Read the full tafseer →(12:25) واستبقا۔ استبق یستبق استباق (افتعال) سبق مادہ سے ماضی ۔ تثنیہ مذکر غائب۔ وہ دونوں دوڑے۔ ان دونوں نے ایک دوسرے پر سبقت کی۔ استباق کے معنی ایک کا دوسرے پر سبقت لیجانا۔
قدت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ اس عورت نے پھاڑ دیا۔
قمیصہ۔ اس مرد کی قمیض کو۔ یعنی زلیخا نے یوسف (علیہ السلام) کی قمیض پھاڑ دی۔ قدد مادہ ۔
من دبر۔ پیچھے سے۔ دبر پیٹھ ۔ پشت۔
الفیا۔ ماضی ۔ تثنیہ مذکر غائب۔ انہوں نے پایا۔ الفاء (افعال) سے۔ لفی مادہ۔ القیت وجدت۔ کسی چیز کو پالینا۔ بل نتبع ما الفینا علیہ اباء نا (2:170) ہم تو اسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ داد کو پایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 29
راودت (اس نے بہکایا۔ پھسلایا) عن نفسہ (اپنے نفس سے۔ اپنی طرف ) غلقت (بند کردیئے ) ابواب (دروازے) ھیت لک (آ۔ اپنا کام ر) معاذ اللہ (اللہ کی پناہ) احسن (زیادہ بہتر) مثوا (ٹھکانا۔ مقام لایفلح (فلاح نہیں پاتا۔ کامیاب نہیں ہوتا) ھمت (ارادہ کیا (مونث) ھم (ارادہ کیا) لولات (اگر نہ ہوتا (حرف شرط ہے) ان را (یہ کہ دیکھا) برھان (دلیل ۔ نشانی) لنصرف (تاکہ ہم دور کردیں۔ پھیر دیں ) السوء (برائی ) الفحشاء (فحش ) بےحیائی کے کام المخلصین (خالص کرنے والے) استبقا (وہ دونوں آگے پیچھے دوڑے) فدت (پھاڑ دیا) (دبر) پیچھے۔ (پشت کے حصے کو دبر کہتے ہیں) الفیا (الفا (ماضی کا صیغہ) دونوں نے…
Read the full tafseer →حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھاگنے اور کرتہ کا دامن پھٹنے وغیرہ کا ذکر
مطلب یہ ہے کہ جس وقت کرتہ پکڑ کر آپ کو کھینچا تو ان کا کرتہ اس کے ہاتھ میں آگیا۔ یوسف (علیہ السلام) کو اس کی پروا تو تھی نہیں کہ میرا کرتہ پھٹے گا وہ تو یہ چاہ رہے تھے کہ کسی طرح اس عورت سے رہائی ہو۔ پیچھے کا دامن جو زلیخا کے ہاتھ میں آگیا گردن کے پاس سے بالکل نیچے تک کا حصہ تھا۔ تو اتنے میں اس کا شوہر بھی وہاں پہنچ گیا اس نے بہت ہی جلد ایک فریب بنالیا اور شوہر سے کہنے لگی کہ ایسے آدمی کی یہی سزا ہے جو تیری بیوی کے ساتھ بد کاری کا ارادہ کرے اس کو قید میں رکھنا چاہیئے۔ چونکہ یوسف (علیہ السلام) پر زلیخا دل وجان سے عاشق ہوگئی…
Read the full tafseer →[12] آگے آگے یوسف (علیہ السلام) بھاگ کر بچنا چاہتے تھے اور پیچھے پیچھے وہ عورت دوڑ کر پکڑنا چاہتی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
(ف 1) (آیت) ” ان کیدکن عظیم “۔ عزیز مصر کا مقولہ ہے کہ تمہارے چرتر بہت خطرناک ہیں ، اور وہ بھی اس زمانے کی عورتوں کے لئے عام عورتوں کے باب میں یہ صحیح نہیں ، اسلام نے عورتوں کو عفیف قرار دیا ہے ، اور ان کی عزت کی ہے ، اور واقع بھی یہی ہے کہ عورتیں عموما مردوں سے زیادہ عفیف ہوتی ہیں ، گناہ کی تحریک مردوں کی جانب سے ہوتی ہے ، اگر مرد خود پاکباز رہیں اور عورتوں کی بہتر تربیت کریں ، تو پھر اس نوع کے خطرات باقی نہیں رہتے ۔
حل لغات :
کیدکن “۔ چرتر ، مکر ، فن ۔
Read the full tafseer →25 جب ذلیخا اپنے اصرار سے باز نہ آئی حضرت یوسف (علیہ السلام) دروازے کی طرف بھاگے اور زلیخا ان کے پیچھے بھاگی اور اس عورت نے یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ کھینچے میں پیچھے سے پھاڑ ڈالا اور دونوں نے دروازے کے پاس اس عورت کے خاوند کو پایا عورت نے خاوند کو دیکھتے ہی کہا جو تیری بیوی سے بدکاری کا ارادہ کرے اس کی سزا سوائے اس کے اور کیا ہوسکتی ہے کہ یا تو وہ قید کیا جائے اور جیل خانہ بھیجا جائے یا اس کو اور کوئی درد ناک سزا دی جائے یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) گناہ سے بچنے کو بھاگے اور ذلیخا ان کو پکڑنے کو بھاگی بھاگتے میں پیچھے سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ اس کے ہاتھ میں آگیا اس نے کھینچا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
ف 6۔ امر طبعی کے درجہ میں جو کہ اختیار سے باہر ہے جیسا گرمی کے روزہ میں پانی کی طرف میلان طبعی ہوتا ہے گوروزہ توڑنے کا وسوسہ تک بھی نہیں آتا۔
7۔ یعنی اس فعل کے گناہ ہونے کی دلیل کو کہ حکم شرعی ہے۔
8۔ یعنی ان کو علم شریعت جو مقرون قوت عملیہ کے ساتھ ہے نہ ہوتا۔
9۔ کیونکہ داعی اور اسباب ایسے ہی قوی تھے۔
10۔ یعنی ارادے سے بھی بچایا اور فعل سے بھی بچایا۔
Read the full tafseer →حضرت یوسف جب دروازے کی طرف بھاگے تو عزیز مصر کی بیوی نے پیچھا کیا ، دروازہ کسی طرح کھل گیا یا کھول لیا گیا لیکن عین اس وقت کہ سامنے عزیز مصر اور اس عورت کا چچا زاد بھائی یا کوئی دوسرا عزیز کھڑے نظر آئے۔ امراۃ العزیز ابھی عشق میں خام تھی اس لئے اس نے صحیح بات کہنے کی بجائے چرتر سے کام لیا اور مصنوعی غیظ و غضب کی حالت بنا کر کہنے لگی ایسے شخص کی سزا قید خانہ یا درد ناک عذاب کے علاوہ اور کیا ہو سکتی ہے جو تیرے اہل کے ساتھ ارادئہ بد رکھتا ہو ؟ صاحب نظر اور عقل و فکر لوگ جانتے ہیں کہ ایسے نازک مواقع پر انسان اپنے آپ کو کتنا بھی چھپائے لیکن اس کا چہرہ سب کچھ بتا رہا ہوتا ہے کہ کسی نے کیا کیا کیا ہے…
Read the full tafseer →Commentary
Described in the previous verses was the time when the wife of the Aziz of Misr was busy enticing Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) into sin, and he, on his part, was trying to stay away from it. But, there was the natural struggle with that non-voluntary thought too. So, to help his honourable prophet, Allah Ta ala showed a miracle, made something appear before him which drove even that thought out from his heart - whether that ` thing' be the face of his father, Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) ، or some verse out of the Divine revelation.
Told in the present verse (25) is that…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
24. It appears that when the master of the house came on the scene, he was accompanied by a person of his wife’s household. When he heard the story of the incident, he made this proposal: As each of them accuses the other and there is no eye witness of what happened between the two, the matter should be decided by the help of the circumstantial evidence, by examining the condition of Joseph’s shirt. Obviously this was a very reasonable way of deciding the matter, and there was, therefore, no need to resort to a miracle. According to some traditions this witness was an infant, lying in the…
Read the full tafseer →