یوسف ؑ کے تقدس کا سبب
سلف کی ایک جماعت سے تو اس آیت کے بارے میں وہ مروی ہے جو ابن جریر وغیرہ لائے ہیں اور کہا گیا ہے کہ یوسف ؑ کا قصد اس عورت کے ساتھ صرف نفس کا کھٹکا تھا۔ بغوی کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کا فرمان ہے کہ جب میرا کوئی بندہ نیکی کا ارادہ کرے تو تم اس کی نیکی لکھ لو۔ اور جب اس نیکی کو کر گزرے تو اس جیسی دس گنی نیکی لکھ لو۔ اور اگر کسی برائی کا ارادہ کرے اور پھر اسے نہ کرے تو اس کے لیے نیکی لکھ لو۔ کیونکہ اس نے میری وجہ سے اس برائی کو چھوڑا ہے۔ اور اگر اس برائی کو ہی کر گزرے تو اس کے برابر اسے لکھ لو۔ اس حدیث کے الفاظ اور بھی کئی ایک ہیں اصل بخاری،…
Read the full tafseer →سورة یُوْسُف 22
برہان کے معنی ہیں دلیل اور حجت کے۔ رب کی برہان سے مراد خدا کی سجھائی ہوئی دلیل ہے جس کی بنا پر حضرت یوسف ؑ کی ضمیر نے ان کے نفس کو اس بات کا قائل کیا کہ اس عورت کی دعوت عیش قبول کرنا تجھے زیبا نہیں ہے۔ اور وہ دلیل تھی کیا ؟ اسے پچھلے فقرے میں بیان کیا جاچکا ہے، یعنی یہ کہ ”میرے رب نے تو مجھے یہ منزلت بخشی اور میں ایسا برا کام کروں، ایسے ظالموں کو کبھی فلاح نصیب نہیں ہوا کرتی“۔ یہی وہ برہان حق تھی جس نے سیدنا یوسف ؑ کو اس نوخیز جوانی کے عالم میں ایسے نازک موقع پر معصیت سے باز رکھا۔ پھر یہ جو فرمایا کہ ”یوسف ؑ بھی اس کی طرف بڑھتا اگر اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا“ تو اس سے عصمت…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور اس عورت کے دل میں ان کا خیال (عزم کے درجہ میں) جم ہی رہا تھا اور ان کو بھی اس عورت کا کچھ کچھ خیال (امر طبعی کے درجہ میں) ہو چلا تھا (جو کہ اختیار سے باہر ہے جیسے گرمی کے روزہ میں پانی کی طرف میلان طبعی ہوتا ہے گو روزہ توڑنے کا وسوسہ تک بھی نہیں آتا، البتہ) اگر اپنے رب کی دلیل کو (یعنی اس فعل کے گناہ ہونے کی دلیل کو جو کہ حکم شرعی ہے) انہوں نے دیکھا ہوتا (یعنی ان کو شریعت کا علم مع قوت عملیہ کے حاصل نہ ہوتا) تو زیادہ خیال ہوجانا عجب نہ تھا (کیونکہ اس کے وداعی اور اسباب سب قوی جمع تھے مگر) ہم نے اسی طرح ان کو علم دیا تاکہ ہم ان سے صغیرہ اور کبیرہ گناہ کو دور رکھیں (یعنی ارادہ…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ ۚ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَآ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ ۭ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْۗءَ وَالْفَحْشَاۗءَ ۭ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِيْنَ۔
" برہان رب " کا مفہوم : " برہان رب " سے مراد وہ نور یزدانی ہے جو اللہ تعالیٰ ہر انسان کی فطرت کے اندر ودیعت فرماتا ہے۔ جو خیر و شر میں امتیاز کا ذریعہ بھی ہے اور جو خیر پر ابھارتا بھی ہے اور برائی سے روکتا بھی ہے۔ یہ نور اللہ تعالیٰ بخشتا تو ہر ایک کو ہے لیکن سنت الٰہی یہ ہے کہ جو اس کی قدر کرتے اور اس کی رہنمائی قبول کرتے ہیں ان کے اندر تو یہ برابر قوی سے قوی تر ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ اتنا قوی ہوجاتا ہے کہ نہایت سخت…
Read the full tafseer →24۔ 1 بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ (لَوْلَآ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ) 12۔ یوسف :24) کا تعلق ماقبل یعنی وھم بھا سے نہیں بلکہ اس کا جواب محذوف ہے یعنی لولا ان راٰ برھان ربہ لفعل ماھم بہ اگر یوسف ؑ اللہ کی دلیل نہ دیکھتے تو جس چیز کا قصد کیا تھا وہ کر گزرتے۔ یہ ترجمہ اکثر مفسرین کی تفسیر کے مطابق ہے اور جن لوگوں نے اسے لَوْ لَا کے ساتھ جوڑ کر یہ معنی بیان کئے
ہیں کہ یوسف ؑ نے قصد ہی نہیں کیا، ان مفسرین نے اسے عربی اسلوب کے خلاف قرار دیا ہے۔ اور یہ معنی بیان کئے ہیں کہ قصد تو یوسف ؑ نے بھی کرلیا تھا لیکن ایک تو یہ اختیاری نہیں تھا بلکہ عزیز مصر کی بیوی کی ترغیب اور دباؤ اس میں…
Read the full tafseer →15: یہاں آقا سے مراد اللہ تعالیٰ بھی ہوسکتے ہیں، اور وہ عزیز مصر بھی ہوسکتا ہے جس نے انہیں اپنے گھر میں عزت سے رکھا ہوا تھا۔ اور مطلب یہ ہوگا کہ تم میرے آقا کی بیوی ہو، اور میں تمہاری بات مان کر اس کے ساتھ خیانت کیسے کرسکتا ہوں۔
16: اس آیت کی تفسیر دو طریقے سے ممکن ہے ایک یہ کہ اگر حضرت یوسف ؑ اپنے رب کی طرف سے ایک دلیل نہ دیکھ لیتے تو ان کے دل میں بھی اس عورت کی طرف جھکاؤ پیدا ہوجاتا لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں ایک دلیل نظر آگئی جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔ اس لیے ان کے دل میں اس عورت کے بارے میں کوئی برا خیال تک نہیں آیا۔ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شروع میں ان کے دل میں بھی…
Read the full tafseer →یہاں قرآن اس بات کی تصریح کرتا ہے اور قطعیت کے ساتھ تصریح کرتا ہے کہ عورت کے اس ورغلانے کے عمل اور دروازے بند کرکے حضرت یوسف کو علانیہ دعوت گناہ دینے کو حضرت یوسف نے بغیر تامل کے رد کردیا انہوں نے حدود اللہ کو یاد کیا ، اللہ کے انعامات کو یاد کیا جبکہ قرآن نے اس کی دعوت گناہ کو بھی غلیظ الفاظ کے بجائے مہذب الفاظ میں بیان کیا یعنی وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ ۚ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَآ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ : " وہ اس کی طرف بڑھی اور یوسف بھی اس کی طرف بڑھتا اگر اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا "
یہ آخری مرحلہ تھا اور تمام مفسرین نے اس پر طویل کلام کیا ہے۔ قدیم مفسرین میں سے بعض لوگوں نے اسرائیلیات…
Read the full tafseer →14 یعنی عورت نے پھانسنے کی فکر کی اور اس نے فکر کی کہ عورت کا داؤ چلنے نہ پائے اگر اپنے رب کی حجت وقدرت کا معائنہ نہ کرتا تو ثابت قدم رہنا مشکل تھا۔ بعض مفسرین نے " وَہَمَّ بِہَا " کو " وَلَقَدْ ہَمَّتْ بِہٖ " سے علیٰحدہ کر کے " لَوْ لَا اَن رَّاٰ بُرْہَانَ رَبِّہٖ " سے متعلق کیا ہے۔ جیسے " اِنْ کَادَتْ لَتُبْدِیْ بِہٖ لَوْلَا اَن رَّبَطْنَا عَلٰی قَلْبِہَا " کی ترکیب ہے۔ اس وقت مقصود یوسف کے حق میں " ہم " کا ثابت کرنا نہیں، بلکہ نفی کرنا ہے۔ ترجمہ یوں ہوگا کہ عورت نے یوسف کا ارادہ کیا اور یوسف بھی عورت کا ارادہ کرتا اگر اپنے پروردگار کی قدرت و حجت نہ دیکھ لیتا۔ بعض نے " وہم بہا " میں لفظ "…
Read the full tafseer →آیت 24 وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ ۚ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَآ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ
حضرت یوسف جوان تھے اور ممکن تھا طبع بشری کی بنیاد پر آپ کے دل میں بھی کوئی ایسا خیال جنم لیتا مگر اللہ نے اس نازک موقع پر آپ کی خصوصی مدد فرمائی اور اپنی خصوصی نشانی دکھا کر آپ کو کسی منفی خیال سے محفوظ رکھا۔ یہ نشانی کیا تھی اس کا قرآن میں کوئی ذکر نہیں البتہ تورات میں اس کی وضاحت یوں بیان کی گئی ہے کہ عین اس موقع پر حضرت یعقوب کی شکل دیوار پر ظاہر ہوئی اور آپ نے انگلی کا اشارہ کر کے حضرت یوسف کو باز رہنے کے لیے کہا۔
كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْۗءَ وَالْفَحْشَاۗءَ
یعنی ہم نے اپنی نشانی دکھا کر حضرت یوسف…
Read the full tafseer →24 عصمت انبیاء کا مفہوم :۔ جب زلیخا نے اس دعوت میں اپنے آپ کو ناکام پایا اور اس میں اپنی مزید خفت محسوس کی تو اس نے اس بدکاری کے کام کو سرانجام دینے کا تہیہ کرلیا اور خود یوسف تک پہنچ کر دست درازی شروع کردی۔ اس آڑے وقت میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا یوسف کی خاص رہنمائی فرمائی اور ان کی نگہداشت فرمائی۔ اس وقت اللہ نے سیدنا یوسف کو کون سی دلیل یا برہان دکھائی تھی وہ وہی ہے جس کا سابقہ آیات میں ذکر ہوچکا ہے۔ یعنی سیدنا یوسف اپنے سابقہ جواب اور عزم پر ہی ڈٹے رہے۔ اس طرح اللہ نے انھیں اس بدفعلی کے ارتکاب سے محفوظ رکھا۔ یہیں سے عصمت انبیاء کی حقیقت معلوم ہوجاتی ہے یعنی وہ بھی بشر ہی ہوتے ہیں اور بشری…
Read the full tafseer →42۔ (درجہ عزم واقدام عمل میں) ای قصدت المخالطۃ وعزمت علیھا عزما جازما (روح) بمعنی القصد الجازم والعقد الثابت کما ھو المراد ھھنا (روح) توریت میں ہے :۔ ” اور یوں ہوا کہ ایک دن وہ اپنے کام کے لئے گھر کے اندر گیا اور گھر کے لوگوں میں سے وہاں کوئی نہ تھا تب اس نے اس کا پیراہن پکڑ کے کہا کہ میرے ساتھ ہمبستر ہو۔ “ (پیدائش 39: 11)
43۔ (امر طبعی کے درجہ میں) خلوت کی یکجائی میں جو ان عمر تندرست مرد کا محض خیال اگر جوان حسین عورت کی طرف جائے خصوصا جبکہ پیش قدمی اور تشویق عورت کی طرف سے ہورہی ہو تو یہ عیب نہیں بلکہ دلیل ہے مرد کے صحیح وتندرست اور مرد ہونے کی۔ ای مال الی مخالط تھا بمتقتضی الطبیعۃ البشریۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
آیت نمبر 21 تا 29
ترجمہ : اور اس مصری شخص نے جس نے یوسف کو خریدا تھا جس کا نام قِطْفیر اور (لقب) عزیز تھا، اپنی بیوی زلیخا سے کہا اس کو عزت اور احترام کے ساتھ رکھنا (یعنی اس کو عزت کا مقام دینا اور اچھی طرح دیکھ بھال کرنا) بعید نہیں کہ ہمارے لئے نفع بخش ثابت ہو یا ہم اس کو اپنا بیٹا ہی بنالیں اور عزیز عنّین (نامرد) تھا، اور جس طرح ہم نے یوسف کو قتل اور کنویں سے نجات دی اور عزیز مصر کے دل کو اس کی طرف مائل کیا، اسی طرح ہم نے یوسف کو ملک مصر میں اقتدار عطا کیا حتی کہ وہ پہنچے جس مرتبہ پر پہنچے، (اور ہم نے ان کو قدرت دی) تاکہ ہم اس کو خوابوں کی تعبیر سکھائیں (لِنعلِّمَہٗ ) کا عطف لنملکہٗ محذوف…
Read the full tafseer →ولقد ھمت بہ وھم بھا عورت نے تو بلاشبہ یوسف کو مقصد بنا لیا تھا ‘ یوسف بھی اس کا ارادہ کر ہی چکے تھے۔ یعنی زلیخا کی جانب حضرت یوسف کے دل میں فطری اور طبعی میلان پیدا ہوگیا ‘ مگر آپ نے اس کو اپنے عزم سے روکا اور بازداشت کی۔ عزم اور ارادے کے ساتھ طبعی میلان کو روکنے پر لفظ معاذ اللہ دلالت کر رہا ہے۔ مراد یہ ہے کہ آپ کا ارادہ اختیاری نہ تھا ‘ میلان طبعی تھا جس کا پیدا نہ ہونے دینا انسان کے اختیار سے خارج ہے اور اس پر آدمی مکلف بھی نہیں ہے بلکہ میلان طبعی کو عزم کے ساتھ روکنے والا مستحق ستائش ہے۔ فرشتوں پر انسان کی برتری صرف اسی وجہ سے ہے کہ فرشتے فطری میلان گناہ سے خالی ہیں اور آدمی طبعی میلان…
Read the full tafseer →(24) اور اس عورت کے دل میں ان کا خیال تو جم ہی رہا تھا اور حضرت یوسف ؑ کو بھی کچھ کچھ خیال امر طبعی کے درجہ ہوچلا تھا اگر ان کے سامنے اپنے پروردگار کے گناہ دینے کا مشاہدہ نہ ہوتا جو کہ اس فعل پر لازم ہے، اور کہا گیا ہے کہ اس وقت انہوں نے اپنے والد حضرت یعقوب ؑ کی صورت کو دیکھا مگر ہم نے اسی طرح علم دیا تھا تاکہ ان سے صغیرہ اور کبیرہ گناہ کو دور رکھیں (کہ ارادہ سے بھی بچایا اور فعل سے بھی بچایا) کیوں کہ وہ ہمارے برگزیدہ بندوں میں سے تھے۔
یعنی اس کام سے معصوم و محفوظ رہنے والوں میں سے تھے۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ ۚ وَهَمَّ بِهَا : عزیز کی بیوی کا یوسف ؑ کے ساتھ ارادۂ بدی تو ”لام“ اور ”قَدْ“ سے (جو دونوں تحقیق کے لیے بمعنی قسم آتے ہیں) بلکہ سارے واقعہ ہی سے ظاہر ہے، البتہ یوسف ؑ نے ارادہ کیا یا نہیں، اس میں مفسرین کی مختلف آراء ہیں۔ بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ جس طرح روزہ دار کو ٹھنڈا پانی دیکھ کر اس کی رغبت ہوتی ہے مگر وہ روزے کی وجہ سے اس پر قابو پا لیتا ہے اور یہ ایک طبعی چیز ہے۔ اس قسم کا خیال یوسف ؑ کے دل میں آگیا ہو تو کچھ بعید نہیں مگر ”بُرْهَانَ رَبِّهٖ“ دیکھنے کی برکت سے یوسف ؑ نے اسے جھٹک دیا۔ مگر دوسری تفسیر جس پر زیادہ اطمینان ہوتا ہے، وہ یہی ہے جو ترجمے سے ظاہر ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
آیت نمبر 23 تا 24
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وراودتہ التی ھوفی بیتھا عن نفسہٖ وہ عزیز مصر کی بیوی ہے اس نے آپ سے مطالبہ کیا کہ آپ اس سے مطلب برادی کریں۔ المراودۃ کی اصل نرمی اور مہربانی کیساتھ ارادہ اور طلب ہے۔ اور الرد اور الریاد سے مراد کسی چیز کو بار بار طلب کرنا ہے۔ ایک قول کے مطابق : یہ روید سے ہے۔ کہا جاتا ہے : فلان یمشی رویدا یعنی فلاں نرمی سے چلتا ہے۔ مراودۃ سے مراد طلب میں نرمی ہے۔ مرد کے بارے میں کہا جاتا ہے : راودھاعن نفسھا اور عورت کے بارے میں : رادتہ عن نفسہ اور الرود سے مراد التانی ہے۔ کہا جاتا ہے : أرودنی یعنی اس نے مجھے مہلت دی۔ وغلقت الابواب غلق کثیر کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ غلق…
Read the full tafseer →1:۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ والحاکم اور آپ نے اس کو صحیح کہا ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب اس عورت نے اس کام کا ارادہ کیا تو اس نے اپنے آپ کو آراستہ کیا اور اپنے بستر پر چت لیٹ گئی اور انہوں نے اس (عورت) کا ارادہ کیا اور اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گئے اور اپنے لنگوٹ کو کھول لیا، آسمان سے آواز آئی اے یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے اس پرندہ کی طرح مت ہوجا جس کے پر نوچ لئے جاتے ہیں اور وہ بغیر پروں کے ہوتا ہے انہوں نے اس آواز پر کوئی نصیحت حاصل نہ کی۔ یہ ان تک کہ اللہ تعالیٰ نے برہان یعنی جبرائیل (علیہ السلام) کو یعقوب (علیہ السلام) کی صورت…
Read the full tafseer →[وَلَقَدْ هَمَّتْ : اور بیشک وہ ارادہ کرچکی تھی ] [ بِهٖ : ان (علیہ السلام) کا ] [وَهَمَّ : اور وہ (علیہ السلام) (بھی) ارادہ کرتے ] [ بِهَا : اس عورت کا ] [لَوْلَآ : اگر نہ ہوتا ] [ ان : کہ ] [ رَّاٰ : انھوں (علیہ السلام) نے دیکھا ] [ بُرْهَان رَبِهٖ : اپنے رب کی روشن دلیل کو ] [ كَذٰلِكَ : اسی طرح ہوا ] [لِنَصْرِفَ : تاکہ ہم دور رکھیں ] [عَنْهُ : ان (علیہ السلام) سے ] [السُّوْۗءَ : بُرائی کو ] [وَالْفَحْشَاۗءَ : بےحیائی کو ] [انهٗ : بیشک ] [مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِيْنَ : میرے پاک کئے ہوئے بندوں میں سے ]
ترکیب : (آیت۔ 24) لَوْلَا اَنْ رَّاٰ بُرْھَانَ رَبِّہٖ جملہ شرطیہ ہے اور وَھَمَّ…
Read the full tafseer →دونوں کا دروازہ کی طرف دوڑنا اور اللہ تعالیٰ کا یوسف (علیہ السلام) کو بچانا اور عزیز کو دروازہ پر پانا ‘ اور اس کا اپنی بیوی کو خطا کار بتانا اور استغفار کا حکم دینا
ان آیات میں عزیز مصر کی بیوی کی بد نیتی اور اس کے مطابق عزم مصمم کرنے کا ذکر ہے نیز یہ بھی فرمایا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتے تو وہ بھی ارادہ کرلیتے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو بچایا اور ان کو برائی سے اور بےحیائی کے کام سے دور رکھا۔ عزیز مصر کی بیوی نے گناہ کرنے کا مضبوط ارادہ کرلیا تھا جو اس کے عمل سے صاف ظاہر ہے اس نے دروازے بند کر لئے اور صاف لفظوں میں ھَیْتَ لَکَ (آ جا میں تیرے لئے حاضر ہوں) کہہ دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
ذکر الطاف و عنایات خداوندی
با یوسف صدیق (علیہ السلام) و قصہ او بازن عزیز مصر
قال اللہ تعالیٰ وقال الذی اشترہ من مصر ..... الیٰ .... انک کنت من الخطئین۔
(ربط) آغاز سورت میں حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ارادہ خداوندی یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو اپنا برگزیدہ بندہ بنائے اور علم تعبیران کو سکھائے اور ان کے آباؤ اجداد کی طرح ان پر اپنی نعمتیں پوری کرے بعد ازاں بھائیوں کا ماجرا ذکر کیا کہ بھائی کو لے جا کر کنوئیں میں ڈالا اور غلام بن اکر گنتی کے دراہم میں فروخت کردیا۔ اب ان آیات میں حق جل شانہ اپنے الطاف و عنایات کا ذکر کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی رحمت سے یوسف (علیہ السلام) کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
23:۔ زلیخا چونکہ برے کام کا پختہ ارادہ کرچکی تھی اس لیے اس کے ارادے کو لام اور قد تاکید کے دو حرفوں کے ساتھ بیان کیا گیا لیکن حضرت یوسف نے فعل بد کا ارادہ ہی نہیں کیا کیونکہ انہوں نے عظمت خداوندی کا نشان دیکھ لیا تھا اسی لیے ان کے ارادے کو برہان پر معلق فرمایا یعنی زلیخا تو ارادہ کرچکی تھی اور یوسف (علیہ السلام) بھی اگر برہانِ رب نہ دیکھتے تو ارادہ کرلیتے۔ امام ابو عبیدہ فرماتے ہیں اس میں تقدیم وتاخیر ہے۔ ” لَوْلَا اَنْ رَّاٰ بُرْھَانَ رَبِّہٖ “ شرط مؤخر ہے اور ” ھَمَّ بِھَا “ جزاء مقدم ہے قال ابو عبیدۃ ھذا علی التقدیم والتاخیر کانہ ارادو لَقَدْ ھَمَّتْ بِہٖ ولولا ان را برھان ربہ لھم بھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
تشریح آیات
ھیت یا ھیت اصل میں سریانی ، حورانی یا قبطی زبان کا لفظ ہے اور عربی میں اس کا معنی ھلم لک یا تعال بنتا ہے جو اسم فعل کے معنی میں آتا ہے۔ آئو قریب ہو جائو کا مفہوم دیتا ہے برہان کا معنی سند اور دلیل ہوتا ہے جس سے شک و شبہ یا ابہام وغیرہ ختم ہوجاتا ہے۔ سکون و یقین حاصل ہوتا ہے۔ لیکن اس مقام میں برہان کا معنے اور مفہوم متعین کرنے میں مفسرین کرام کے مختلف اقوال پائے جاتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ، حسن بصری ، سعید بن جبیر ، وغیرہ ہم کے نزدیک برہان یہ تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد گرامی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی صورت کو دیکھا تھا۔ دانتوں میں انگلی دبائے ہوئے۔ امام ولی…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ ہَمَّتْ بِہٖ 0ۚ وَہَمَّ بِہَا لَوْلَآ اَنْ رَّاٰ بُرْہَانَ رَبِّہٖ 0ۭ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوْۗءَ وَالْفَحْشَاۗءَ 0ۭ اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِيْنَ 24
همم
الهَمُّ الحَزَنُ الذي يذيب الإنسان . يقال : هَمَمْتُ الشّحم فَانْهَمَّ ، والهَمُّ : ما هممت به في نفسک، وهو الأصل، وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِها[يوسف/ 24]
( ھ م م ) الھم
کے معنی پگھلا دینے والے غم کے ہیں اور یہ ھممت الشحم فا نھم کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں میں نے چربی کو پگھلا یا چناچہ وہ پگھل گئی اصل میں ھم کے معنی اس ارادہ کے ہیں جو ابھی دل میں ہو قرآن میں ہے : ۔ وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
2 ؎ وہ یعنی تیرا شوہر۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَلَقَدْ ھَمَّتْ بِہٖ ج وَھَمَّ بِھَا لَوْلَآ اَنْ رَّاٰ بُرْھَانَ رَبِّہٖ ط کَذٰلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوْٓئَ وَالْفَحْشَآئَ ط اِنَّہٗ مِنْ عِبادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 24)
(اور عورت نے تو اس کا قصد کر ہی لیا تھا اور وہ بھی اس کا قصد کرلیتا، اگر اس نے اپنے رب کی واضح نشانی نہ دیکھ لی ہوتی، ہم نے ایسا ہی کیا تاکہ ہم اس سے برائی اور بےحیائی کو دور رکھیں، بیشک وہ ہمارے برگزیدہ بندوں میں سے تھا۔ )
عصمتِ انبیا کا مفہوم
اس آیت کریمہ میں سب سے پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ زلیخا نے تو گناہ کا پختہ ارادہ کررکھا تھا کیونکہ اس کے ساتھ لام اور قد کے دو لفظ تاکید کے لیے آئے ہیں جو ارادے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
پچھلی آیت میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے عظیم امتحان کا ذکر ہوا۔ اس آیت میں اس کی مزید تفصیل ہے کہ زلیخا تو گناہ کے خیال میں لگی ہوئی تھی۔ یوسف (علیہ السلام) کے دل میں بھی انسانی فطرت کے تقاضے سے کچھ کچھ غیر اختیاری میلان پیدا ہونے لگا مگر اللہ تعالیٰ نے عین اس وقت اپنی برہان یوسف (علیہ السلام) کے سامنے کردی جس کی وجہ سے غیر اختیاری میلان آگے بڑھنے کی بجائے ختم ہوگیا۔
اس آیت میں لفظ ” ہَمَّّ “ بمعنی خیال یوسف (علیہ السلام) اور زلیخا دونوں کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ یہ تو معلوم ہے کہ زلیخاکو گناہ کا خیال تھا۔ یوسف (علیہ السلام) کے متعلق بھی اسے ہی خیال کا…
Read the full tafseer →24: وَلَقَدْ ھَمَّتْ بِہٖ (تحقیق وہ عورت ان کا ارادہ کرچکی تھی) ھَمّپختہ ارادہ وَھَمَّ بِھَا اور ان کو طبعی میلان ہوا مگر عزم سے اس کو دور کیا۔ یہ حسن بصری (رح) کا قول ہے۔ شیخ ابو منصور (رح) نے کہا ھَمّخیال کے معنی میں ہے اور دل میں آنے والے خیالات پر بندے کو اختیار نہیں اور نہ ہی ان پر مؤاخذہ ہے جب تک کہ اس کو پختہ نہ کرے۔ اگر یوسف (علیہ السلام) کا ھَمّ بھی عورت کے ھَمّکی طرح ہوتا تو اللہ تعالیٰ عبادنا المخلصین کہہ کر ان کی تعریف نہ فرماتے۔
ایک قول یہ ہے کہ ارادہ کی طرف جھکائو اختیار کرنے والے تھے۔ عرب کہتے ہیں ہم بالامر۔ جب قصد کرے اور اس کا پختہ ارادہ کرے۔ اور لولا ان رٰابرہان ربہ کا جواب…
Read the full tafseer →ھمت بہ وھم بھا کی تفسیر
تفسیر : 24۔” ولقد ھمت بہ وھم بھا “۔۔۔” ھم “ بمعنی فعل کے قریب ہونا لیکن اس میں داخل نہ ہونا ، پس اس عورت کا ” ھم “ اس کا معصیت اور زنا کا پختہ ارادہ تھا اور بہر حال یوسف (علیہ السلام) کا ” ھم “ تو ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنا کمر بند کھول لیا تھا اور خائن کی جگہ بیٹھ چکے تھے اور مجاہد (رح) سے روایت ہے کہ اپنی شلوار کھول لی تھی اور کپڑے اتارنے لگے تھے اور یہ اکثر متقدمین مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے جیسے سعید بن جبیر (رح) ، حسن اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ شیطان ان دونوں کے درمیان جاری ہوچکا تھا۔ پس اس نے ایک ہاتھ یوسف (علیہ السلام) کی گردن پر اور دوسرا…
Read the full tafseer →24۔ اس آیت کی تفسیر میں علمائے مفسرین نے بڑا اختلاف کیا ہے بعضے کہتے ہیں کہ قصد کی دو قسمیں ہیں ایک قصد مضبوط ہوتا ہے جس طرح زلیخا کا قصد تھا اور ایک قصد اوپرے دل سے ہوتا ہے۔ پہلے قصد پر مواخذہ ہے دوسرے قصد پر مواخذہ نہیں ہے چناچہ حضرت یوسف کا قصد دوسری قسم کا تھا بعضوں نے کہا ہے یہ معاملہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی نبوت سے پہلے کا ہے لیکن صحیح یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ حضرت یوسف قصد کرتے اگر خدا کی طرف کی ہدایت کو نہ دیکھتے اس قول پر بعضے لوگوں نے یہ جو اعتراض کیا ہے کہ لفظ لولا کا جواب مقدم نہیں آتا اس کا جواب یہ ہے کہ بعضے نحویوں کے نزدیک تو مقدم آتا ہے اور یہ بات سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
آیات 23 تا 29:۔ یہ عظیم آزمائش اس سے بہت بڑی تھی جو جناب یوسف (علیہ السلام) کو اپنے بھائیوں کی طرف سے پیش آئی اور اس پر ان کا صبر کرنا بہت بڑے اجر کا موجب بنا، کیونکہ اس قبیح فعل کے وقوع کے لیے کثیر اسباب کے باوجود انہوں نے صبر کو اختیار کیا اور اللہ تعالیٰ کی محبت کو ان اسباب پر مقدم رکھا۔ اس لیے ان کا یہ صبر اختیار تھا اور ان کو اپنے بھائیوں کے ہاتھوں جو آزمائش پیش آئی وہاں ان کا صبر اضطراری تھا۔ جیسے مرض اور دیگر تکالیف بندے کے اختیار کے بغیر اسے لاحق ہوتی ہیں جن میں طوعاً یا کرہاً صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں اور آزمائش کا یہ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) عزیز مصر کے گھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
قول باری ہے ولقد ھمت بہ وھم بھا وہ اس کی طرف بڑھی اور یوسف بھی اس کی طرف بڑھا ۔ حسن سے مروی ہے کہ وہ یعنی عزیز مصر کی بیوی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف عزیمت یعنی پکے ارادے کے ساتھ بڑھی تھی اور حضرت یوسف اس کی طرف شہوت یعنی کشش کے تحت بڑھے تھے انہوں نے عزم نہیں کیا تھا۔ ایک قول کے مطابق طرفین ایک دوسرے کی طرف کشش کے تحت بڑھے تھے اس لیے کہ محاورے کے مطابق ہم بالشی کا مفہوم اس چیز کی قربت اختیار کرنا ہوتا ہے اس سے جا کر مل جانا نہیں ہوتا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اس کی طرف بڑھنا عزم اور پکے ارادے کے تحت نہیں تھا بلکہ صرف کشش کی بنا پر تھا اس کی دلیل یہ قول باری ہے۔ معاذ اللہ انہ ربی احسن…
Read the full tafseer →44 ۔ برھان رب سے مقصود و مراد ؟ : یعنی ایمان و یقین کی وہ قوت جو عین الیقین سے پیدا ہوتی ہے اور جس کی بناء پر زنا وغیرہ تمام برائیاں اپنی اصلی شکل میں نظر آنے لگتی ہیں اور صاحب ایمان و یقین کو ان کے ظواہر سے دھوکہ نہیں لگ سکتا۔ پس حضرت یوسف (علیہ السلام) سے اس موقع پر کسی " ھَمّ " اور قصد کا سرے سے کوئی صدور ہوا ہی نہیں۔ اس وجہ سے نہیں کہ آپ لوازم بشریت سے مبرا تھے بلکہ اس بناء پر کہ آپ نے اپنے رب کی برہان دیکھی ہوئی تھی۔ اسی لیے یہاں پر ان دونوں کے " ہم " کو " ولقد ھما " یا " ھم کل واحد منہما " جیسے مشترک الفاظ سے بیان نہیں فرمایا گیا دونوں کا ذکر الگ الگ فرمایا گیا۔ اور مزید یہ کہ اس عورت "…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–57
انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب
ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔
تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
آیات 21 تا 29
اسرار و معارف
چنانچہ قافلہ والے اس خزانے کوے کرمصرپہنچے اور فروخت کا بہت اہتمام کیا حتی کہ شاہی محل تک شہرہ پہنچا کہ ایک غلام بکنے کو ہے جس کے حسن کی چمک سورج کو ماند کرتی ہے ۔ قافلوں کا طریقہ کار یہ ہوتا تھا کہ جس شہر میں پہنچتے قیام کرتے اور مال کی خوب شہرت کرکے ایک خاص روز فروخت کے لئے مقرر کردیتے کہ لوگ زیادہ جمع ہوں اور اچھی قیمت لگے ۔ چناچہ خوب خوب بولیاں لگیں ۔ آخرعزیز مصر نے جس کا نام قطفیر تھا خرید لیا اور آپ کے وزن کے برابر سونا مشک اور اتنا ہی ریشمی کپڑاقیمت میں ادا کردیا۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ وزیر تھا اور حکمران عمالقہ میں سے تھا جس کا نام ریان بن اسید تھا۔ لیکن اگر…
Read the full tafseer →ف 2 ۔ آیت کا یہ مطلب اگرچہ اکثر مفسرین (رح) نے بیان کیا ہے مگر انسب ترجمہ جسے بہت سے محقق مفسرین نے بیان کیا ہے یہ ہے ” اور یوسف (بھی) اس (عورت) کا قصد کرلیتا اگر وہ مالک کی (قدرت کی) نشانی نہ دیکھ لیتا۔ ” یہ “ برہان رب کیا چیز تھی اس کی تعیین میں آنحضرت ﷺ سے صحبت کے ساتھ کوئی چیز ثابت نہیں ہے البتہ مفسرین (رح) نے مختلف اقوال نقل کئے ہیں ہوسکتا ہے کہ ایک نبی ﷺ کے اخلاق کی بلندی اس کی اجازت نہ دیتی ہو کہ زنا جیسے منکر فعل پر اقدام کرے اسی کو یہاں ” برہان ربی “ سے تعبیر فرمایا ہو۔
Read the full tafseer →(12:24) ھمت بہ۔ اس عورت نے اس مرد کا ارادہ کرلیا۔ الہم کا معنی پگھلادینے والے غم کے ہیں اور یہ ہممت الشحم فالہم کے محاورہ سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی ہیں : میں نے چربی کو پگھلایا چناچہ وہ پگھل گئی۔
اصل میں ہم کے معنی ارادہ کے ہیں جو ابھی دل ہی میں ہو۔ (راغب) ۔ ہم بالامر اذا قصدۃ وعزم علیہ۔ ہم کا معنی ہے کسی چیز کا قصد کرنا اور عزم کرنا۔ (الکشاف) الہم ھو المقاربۃ من الفعل من غیر دخول فیہ۔ ہم کے معنی ہیں کسی فعل سے مقدیت بغیر وہ فعل کئے کے۔ (الخازن)
ہمت بہ وہم بھا۔ اس عورت نے اس مرد کا قصد کرلیا تھا ۔ اور وہ آدمی بھی اس عورت کا قصد کرلیتا ۔ لولا ان را برھان ربہ۔ اگر اس نے اپنے رب کی روشن دلیل کو نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 29
راودت (اس نے بہکایا۔ پھسلایا) عن نفسہ (اپنے نفس سے۔ اپنی طرف ) غلقت (بند کردیئے ) ابواب (دروازے) ھیت لک (آ۔ اپنا کام ر) معاذ اللہ (اللہ کی پناہ) احسن (زیادہ بہتر) مثوا (ٹھکانا۔ مقام لایفلح (فلاح نہیں پاتا۔ کامیاب نہیں ہوتا) ھمت (ارادہ کیا (مونث) ھم (ارادہ کیا) لولات (اگر نہ ہوتا (حرف شرط ہے) ان را (یہ کہ دیکھا) برھان (دلیل ۔ نشانی) لنصرف (تاکہ ہم دور کردیں۔ پھیر دیں ) السوء (برائی ) الفحشاء (فحش ) بےحیائی کے کام المخلصین (خالص کرنے والے) استبقا (وہ دونوں آگے پیچھے دوڑے) فدت (پھاڑ دیا) (دبر) پیچھے۔ (پشت کے حصے کو دبر کہتے ہیں) الفیا (الفا (ماضی کا صیغہ) دونوں نے…
Read the full tafseer →اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب زلیخا آپ کے درپے ہوئی تو حضرت یوسف (علیہ السلام) بھاگے اور زلیخا ان کے پیچھے انہیں پکڑنے بھاگی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) جس جس دروازے پر پہنچتے جاتے تھے اس کا قفل کھل کر گر جاتا تھا۔ آخر کار زلیخا حضرت یوسف (علیہ السلام) تک پہنچی اس نے آپ کا کرتہ پیچھے سے پکڑ کر آپ کو کھینچا کہ آپ نکلنے نہ پائیں۔ مگر آپ غالب آئے۔ یوسف (علیہ السلام) اللہ کے چنے ہوئے بندوں میں سے تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی قدرت کی نشانی دکھا کر اس برائی اور بےحیائی کے کام سے روک دیا۔ برائی سے مقصود عزیز مصر کی خیانت ہے اور بےحیائی سے مقصود بد کاری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
[11] رب کی دلیل سے مراد اللہ تعالیٰ کی سجھائی ہوئی دلیل ہے جس کی بنا پر یوسف (علیہ السلام) نے اس عورت کی پیش کش کو ٹھکرا دیا اور وہ دلیل پچھلی آیت میں گزر چکی ہے کہ '' تیرا شوہر میرا آقا ہے اور اس نے مجھے اچھی طرح رکھا ہے اور میں یہ کام کروں۔ اور ایسے ظالم کبھی فلاح پایا نہیں کرتے۔ ''
Read the full tafseer →(ف 2) ھمت بہ “۔ پر دراصل وقف ہے اور ” ھم بھا “ پر نہیں ، مقصد یہ ہے کہ عزیز مصر کی بیوی لئے تو پورا پورا بدی کا ارادہ کرلیا تھا ، مگر یوسف (علیہ السلام) متوجہ نہیں ہوئے ، کیونکہ وہ برہان نبوت کو بصیرت کی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے موجودہ قرات صحیح نہیں ، اور بغرض صحت ” ھم بہا “ کے معنی تیہج نفسی کے ہیں ، جو طبعی بات ہے ، انبیاء (علیہم السلام) قوت رجولیت سے تو بہرحال دوسرے لوگوں سے زیادہ بہرہ مند ہوتے ہیں کیونکہ ان کی قوتیں بےلوث رہتی ہیں ، اور ضائع نہیں ہوتیں ، مگر اس قوت کا استعمال کبھی ناجائز طریق پر نہیں ہوتا ۔
آیت کا مقصد یہ ہوگا کہ اس دعوت معصیت پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا طبعی حدود تک…
Read the full tafseer →24 اور بلاشبہ اس عورت نے یوسف (علیہ السلام) کی جانب عزم اور پختہ قصد کیا اور یوسف (علیہ السلام) کا اس کی طرف غیر ارادی محض امر طبعی کے طورپر میلان ہوا اگر یوسف (علیہ السلام) نے اپنے رب کی دلیل کو نہ دیکھا ہوتا تو میلان بڑھ جانے کا اندیشہ تھا ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو اسی طرح ثابت قدم رکھا اور اسی طرح ان کو علم دیا تاکہ ہر قسم کی برائی اور بےحیائی سے یوسف (علیہ السلام) کو دور رکھیں بیشک وہ یوسف (علیہ السلام) ہمارے برگزیدہ اور چیدہ بندوں میں سے تھا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں نقل ہے کہ حضر ت یعقوب (علیہ السلام) کی صورت ان کو نظر آئی انگلی دانت میں باقی خیال گناہ گناہ نہیں اگر گناہ ہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
ف 6۔ امر طبعی کے درجہ میں جو کہ اختیار سے باہر ہے جیسا گرمی کے روزہ میں پانی کی طرف میلان طبعی ہوتا ہے گوروزہ توڑنے کا وسوسہ تک بھی نہیں آتا۔
7۔ یعنی اس فعل کے گناہ ہونے کی دلیل کو کہ حکم شرعی ہے۔
8۔ یعنی ان کو علم شریعت جو مقرون قوت عملیہ کے ساتھ ہے نہ ہوتا۔
9۔ کیونکہ داعی اور اسباب ایسے ہی قوی تھے۔
10۔ یعنی ارادے سے بھی بچایا اور فعل سے بھی بچایا۔
Read the full tafseer →عورت تو یوسف کے پیچھے پڑچکی تھی وہ بھی اس طرف متوجہ ہوتے اگر برہان الٰہی نہ دیکھ لیتے
۔ 33 ” اور حقیقت یہ ہے کہ وہ عورت یوسف کے پیچھے پڑچکی تھی اور یوسف بھی اس کی طرف متوجہ ہوجاتا اگر اس کے پروردگار کی دلیل اس کے سامنے نہ آگئی ہوتی۔ “ یہ وہ ترجمہ ہے جو آیت کے اس پہلے حصہ کا ہم نے اختیار کیا ہے۔
” اور اس (عورت) کے دل میں تو ان کا خیال جم ہی رہا تھا اور انہیں بھی اس (عورت) کا خیال ہو چلا تھا اور اگر اپنے پروردگار کی دلیل کو انہوں نے نہ دیکھ لیا ہوتا۔ “ (ماجدی)
” وہ اس کی طرف بڑھی اور یوسف بھی اس کی طرف بڑھتا اگر اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا۔ “ (تفہیم القرآن)
” اور اس عورت نے تو قصد کرلیا تھا…
Read the full tafseer →Commentary
Mentioned in the previous verse was the great trial and test of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) in that the wife of the ` Aziz of Misr bolted the doors and tried to invite him to sin assembling together in that effort all circumstantial temptations to attract and to make him become indulgent. But, Almighty Allah kept this righteous young person standing steadfast in such severe trial. The details of what transpired have been given in this verse. Said here is that Zulaikha was busy persuing her obsessive thought any way, but emerging in the heart of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) too,…
Read the full tafseer →22.“Evidence of his Lord”means inspiration from Allah to rouse his conscience to the fact that it was not worthy of him to yield to the temptation by the woman. As regards to the question,“What was that evidence”, it has been stated in the preceding verse, that is: My Lord has shown much kindness towards me. Should I, then, misbehave like this? Such workers of iniquity never fare well. This was the divine evidence that saved Prophet Joseph in the prime of youth from that great temptation. The significance of“And he would have desired her, if it had not been that he saw the evidence (sign) of…
Read the full tafseer →