زلیخا کی بدنیتی سے الزام تک
عزیز مصر جس نے آپ کو خریدا تھا اور بہت اچھی طرح اولاد کے مثل رکھا تھا اپنی گھر والی سے بھی تاکیداً کہا تھا کہ انہیں کسی طرح تکلیف نہ ہو عزت و اکرام سے انہیں رکھو۔ اس عورت کی نیت میں کھوٹ آجاتی ہے۔ جمال یوسف پر فریفتہ ہوجاتی ہے۔ دروازے بھیڑ کر بن سنور کر برے کام کی طرف یوسف کو بلاتی ہے لیکن حضرت یوسف بڑی سختی سے انکار کر کے اسے مایوس کردیتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ تیرا خاوند میرا سردار ہے۔ اس وقت اہل مصر کے محاورے میں بڑوں کے لیے یہی لفظ بولا جاتا تھا۔ آپ فرماتے ہیں تمہارے خاوند کی مجھ پر مہربانی ہے وہ میرے ساتھ سلوک و احسان سے پیش آتے ہیں۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ میں ان…
Read the full tafseer →سورة یُوْسُف 21
عام طور پر مفسرین اور مترجمین نے یہ سمجھا ہے کہ یہاں ”میرے رب“ کا لفظ حضرت یوسف ؑ نے اس شخص کے لیے استعمال کیا ہے جس کی ملازمت میں وہ اس وقت تھے اور ان کے اس جواب کا مطلب یہ تھا کہ میرے آقا نے تو مجھے ایسی اچھی طرح رکھا ہے، پھر میں یہ نمک حرامی کیسے کرسکتا ہوں کہ اس کی بیوی سے زنا کروں۔ لیکن مجھے اس ترجمہ و تفسیر سے سخت اختلاف ہے۔ اگرچہ عربی زبان کے اعتبار سے یہ مفہوم لینے کی بھی گنجائش ہے، کیونکہ عربی میں لفظ رب ”آقا“ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، لیکن یہ بات ایک نبی کی شان سے بہت گری ہوئی ہے کہ وہ ایک گناہ سے باز رہنے میں اللہ تعالیٰ کے بجائے کسی بندے کا لحاظ کرے۔ اور قرآن…
Read the full tafseer →(آیت) وَرَاوَدَتْهُ الَّتِيْ هُوَ فِيْ بَيْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَغَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ۔ یعنی جس عورت کے گھر میں یوسف ؑ رہتے تھے وہ ان پر مفتون ہوگئی اور ان سے اپنا مطلب حاصل کرنے کے لئے ان کو پھسلانے لگی اور گھر کے سارے دروازے بند کر دئیے اور ان سے کہنے لگی کہ جلد آجاؤ تمہیں سے کہتی ہوں
پہلی آیت میں معلوم ہوچکا ہے کہ یہ عورت عزیز مصر کی بیوی تھی مگر اس جگہ قرآن کریم نے زوجہ عزیز کا مختصر لفظ چھوڑ کر اَلَّتِيْ هُوَ فِيْ بَيْتِهَا کے الفاظ اختیار کئے اس میں اشارہ اس کی طرف ہے کہ یوسف ؑ کے گناہ سے بچنے کی مشکلات میں اس بات نے اور بھی اضافہ کردیا تھا کہ وہ اسی عورت کے گھر…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 23 تا 34: حضرت یوسف ؑ کی آزمائش کا دوسرا مرحلہ : آزمائش کا پہلا مرحلہ ختم ہوا تو ساتھ ہی دوسرا مرحلہ شروع ہوگیا۔ پہلا مرحلہ بھائیوں کے حسد اور ان کی نفرت اور عداوت کا تھا جس کے نتیجہ میں انہیں ایک اندھے کنوئیں میں پھینکا گیا۔ یہ دوسرا مرحلہ عزیز مصر کی بیوی کی طرف سے عشق و محبت کی شکل میں نمودار ہوا جس کے نتیجہ میں حضرت یوسف کو بےقصود جیل میں ڈالا گیا۔ لیکن جس طرح وہ پہلے امتحان میں کامیاب رہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اس دوسرے امتحان میں بھی ان کو نہایت شاندار کامیابی بخشی۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
وَرَاوَدَتْهُ الَّتِيْ هُوَ فِيْ بَيْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَغَلَّقَتِ…
Read the full tafseer →23۔ 1 یہاں سے حضرت یوسف ؑ کا نیا امتحان شروع ہوا عزیز مصر کی بیوی، جس کو اس کے خاوند نے تاکید کی تھی کہ یوسف ؑ کو اکرام و احترام کے ساتھ رکھے، وہ حضرت یوسف ؑ کے حسن و جمال پر فریفتہ ہوگئی اور انھیں دعوت گناہ دینے لگی، جسے حضرت یوسف ؑ نے ٹھکرا دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
14: یہ وہی عزیز مصر کی بیوی زلیخا تھی جس کا ذکر پچھلے حاشیہ میں گذرا ہے وہ حضرت یوسف ؑ کے غیر معمولی مردانہ حسن پر اتنی فریفتہ ہوئی کہ انہیں گناہ کی دعوت دے بیٹھی۔ قرآن کریم نے اس کا نام لینے کے بجائے یہ فرمایا ہے کہ جس کے گھر میں وہ رہتے تھے اس میں اشارہ یہ ہے کہ حضرت یوسف ؑ کے لیے اس کی فرمائش سے انکار اور بھی زیادہ مشکل تھا، کیونکہ وہ اسی کے گھر میں قیام پذیر تھے، اور وہ ان پر ایک سے حاکمہ کا درجہ رکھتی تھی۔
Read the full tafseer →اب حضرت یوسف (علیہ السلام) پر ان کی زندگی کا سخت ترین امتحان آتا ہے اور یہ ان کے لیے سخت ترین آزمائش ہے۔ یہ ابتلا اس وقت آتا ہے جب اللہ نے ان کو علم دے دیا ہے اور صحیح فیصلے کی توفیق دے دی ہے تاکہ وہ ان کے ذریعے ان کی مشکلات پر قابو پا لیں اور سرخرو ہو کر نکلیں۔ کیونکہ یہ صالح اور پاکیزہ نوجوان ہیں اور محسنین کے ساتھ اللہ کا یہی سلوک ہوتا ہے۔
اب ذرا ملاحظہ کیجیے اس خطرناک منظر کو :
" آخر کار یوسف اور وہ آگے پیچھے دروازے کی طرف بھاگے اور اس نے پیچھے سے یوسف کی قمیص (کھینچ کر) پھاڑ دی۔ دروازے پر دونوں نے اس کے شوہر کو موجود پایا۔ اسے دیکھتے ہی عورت کہنے لگی : "" کیا سزا ہے اس شخص کی جو تیری گھر…
Read the full tafseer →12 ادھر تو الطاف غیبیہ حضرت یوسف کی عجیب و غریب طریقہ سے تربیت فرما رہے تھے۔ ادھر عزیز کی بیوی (زلیخا) نے ان کے سامنے ایک نہایت ہی مزلۃ الاقدام موقع امتحان کھڑا کردیا۔ یعنی حضرت یوسف کے حسن و جمال پر زلیخا مفتون ہوگئی اور دلکشی و ہوشربائی کے سارے سامان جمع کر کے چاہا کہ یوسف کے دل کو ان کے قابو سے باہر کر دے۔ ایک طرف عیش و نشاط کے سامان، نفسانی جذبات پورے کرنے کے لیے ہر قسم کی سہولیتں، یوسف (علیہ السلام) کا ہر وقت زلیخا کے گھر میں موجود رہنا، اس کا نہایت محبت اور پیار سے رکھنا، تنہائی کے وقت خود عورت کی طرف سے ایک خواہش کا بیتابانہ اظہار کسی غیر کے آنے جانے کے سب دروازے بند، دوسری طرف جوانی…
Read the full tafseer →آیت 23 وَرَاوَدَتْهُ الَّتِيْ هُوَ فِيْ بَيْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ
یعنی عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی۔ قرآن میں اس کا نام مذکور نہیں البتہ تورات میں اس کا نام زلیخا بتایا گیا ہے۔
قَالَ مَعَاذ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّيْٓ اَحْسَنَ مَثْوَايَ
یہاں پر ”ربّ“ کے دونوں معنی لیے جاسکتے ہیں اللہ بھی اور آقا بھی۔ چناچہ اس فقرے کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ وہ اللہ میرا رب ہے اور اس نے میرے لیے بہت اچھے ٹھکانے کا انتظام کیا ہے میں اس کی نافرمانی کا کیسے سوچ سکتا ہوں ! دوسرے معنی میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ کا خاوند میرا آقا ہے وہ میرا محسن اور مربی بھی ہے اس نے مجھے اپنے گھر میں بہت عزت و اکرام سے رکھا ہے…
Read the full tafseer →22 سیدنا یوسف کے لئے دور ابتلاء :۔ عزیز مصر کے گھر میں قیام کے دوران جہاں سیدنا یوسف (علیہ السلام) کو مذکورہ بالا فوائد حاصل ہوئے وہاں یہی دور قیام آپ کے لیے ابتلاء و آزمائش کا دور بھی ثابت ہوا۔ آپ نہایت حسین و جمیل تھے۔ غیر شادی شدہ تھے اور نوخیز نوجوانی تھی۔ دوسری طرف عزیز مصر کی بیوی جوان تھی اور بےاولاد تھی اور اپنے جاذب لباس اور پوری رعنائیوں سے اپنا آپ پیش کر رہی تھی۔
زلیخا کا یوسف کو بدکاری کے لئے ورغلانا :۔ تیسری طرف معاشرہ متمدن قسم کا تھا جیسے آج کا مغربی معاشرہ ہے جس میں اختلاط مرد و زن کو معیوب نہیں سمجھا جاتا، پردہ کو دقیانوسی سمجھا جاتا ہے اور اگر فریقین باہمی رضا مندی سے بدکاری…
Read the full tafseer →37۔ یہ عورت جو سن میں یقیناً یوسف (علیہ السلام) سے بڑی ہوگی جیسا کہ آیۃ کریمہ (آیت) ” او نتخذہ ولدا “۔ سے اشارۃ ظاہر ہورہا ہے حضرت یوسف (علیہ السلام) پر فریفتہ ہوگئی یہاں تک کہ ان سے تعلق ناجائز پیدا کرنے پر تل گئی۔ حرامکاری آج تہذیب فرنگ میں عورت کے لئے کب عیب ہے جو اس کا عیب ہونا مضر جاہلی تہذیب میں فرض کرلیا جائے ؟ (آیت) ” التی ھو فی بیتھا “۔ قرآن مجید صاف بیتھا (اس عورت کا گھر) فرمارہا ہے۔ بیتہ (عزیز کا گھر) نہیں کہتا۔ مصری تمدن میں عورت بڑی حد تک ” آزاد “ وخود مختار تھی۔ (آیت) ” راودتہ۔۔۔ ھیت لک “۔ توریت میں ہے :۔” اور اس کے بعد یوں ہوا کہ اس کے آقا کے جورو کی آنکھ یوسف پر لگی اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
آیت نمبر 21 تا 29
ترجمہ : اور اس مصری شخص نے جس نے یوسف کو خریدا تھا جس کا نام قِطْفیر اور (لقب) عزیز تھا، اپنی بیوی زلیخا سے کہا اس کو عزت اور احترام کے ساتھ رکھنا (یعنی اس کو عزت کا مقام دینا اور اچھی طرح دیکھ بھال کرنا) بعید نہیں کہ ہمارے لئے نفع بخش ثابت ہو یا ہم اس کو اپنا بیٹا ہی بنالیں اور عزیز عنّین (نامرد) تھا، اور جس طرح ہم نے یوسف کو قتل اور کنویں سے نجات دی اور عزیز مصر کے دل کو اس کی طرف مائل کیا، اسی طرح ہم نے یوسف کو ملک مصر میں اقتدار عطا کیا حتی کہ وہ پہنچے جس مرتبہ پر پہنچے، (اور ہم نے ان کو قدرت دی) تاکہ ہم اس کو خوابوں کی تعبیر سکھائیں (لِنعلِّمَہٗ ) کا عطف لنملکہٗ محذوف…
Read the full tafseer →وراودتہ التی ھو فی بیتھا عن نفسہ وغلقت الابواب اور یوسف جس عورت کے گھر میں تھے ‘ اس عورت نے اپنا مطلب ان سے حاصل کرنے کیلئے ان کو پھسلایا اور دروازے بند کر دئیے۔
راودت کا مصدر مراودت ہے۔ اس کا مجرد رادیرود آتا ہے۔ رودٌ کا مادہ ہے ‘ رودٌ کا معنی ہے : کسی چیز کی طلب میں آنا جانا۔ اسی سے رائد بنا ہے (قافلہ یا لشکر سے پہلے پانی اور گھاس کی تلاش میں جانے والا ہر اوّل) بعض نے کہا : آہستگی کے ساتھ کسی چیز کے طلب کرنے کو رود کہتے ہیں۔ رُوَیْدَ (کچھ ڈھیل دو ) اسی سے بنا ہے ‘ یہاں مراد یہ ہے کہ زلیخا نے تدبیر اور بہانے سے حضرت یوسف سے اپنے مطلب کی درخواست کی۔ زلیخا عزیز کی بیوی تھی۔ دروازے سات تھے۔…
Read the full tafseer →(23) اور جس عورت کے گھر میں حضرت یوسف ؑ رہتے تھے وہ ان سے اپنا مطلب حاصل کرنے کے لیے ان کو پھسلانے لگی اپنے اور یوسف ؑ پر گھر کے تمام دروازے بند کردیے اور یوسف ؑ سے کہنے لگی آجاؤ میں تمہارے ہی لیے ہوں یا یہ کہ چلے آؤ اور میں تم ہی سے کہتی ہوں، حضرت یوسف ؑ نے فرمایا کہ میں ایسے کام سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں اور دوسرا یہ کہ میرا محسن عزیز جو ہے اس نے کس قدر و منزلت کے ساتھ مجھے رکھا ہے تو کیا میں اسی کے ناموس میں خیانت کروں، ایسے حق فراموشوں کو عذاب الہی سے نجات حاصل نہیں ہوا کرتی۔
Read the full tafseer →وَرَاوَدَتْهُ الَّتِيْ هُوَ فِيْ بَيْتِهَا : ”رَاوَدَ“ باب مفاعلہ سے ہے، نرمی اور ملائمت سے بار بار مطالبہ کرنا، پھسلانا، فریب سے غلط کام پر آمادہ کرنا۔ یہاں باب مفاعلہ مشارکت کے لیے نہیں بلکہ مبالغہ کے لیے ہے، یعنی بار بار اور ہر طریقے سے پھسلایا۔ کیونکہ ایک ہی گھر میں رہ کر خدمت کرنے والے غلام سے ہزار انداز سے اور بار بار اپنے شوق کا اظہار ہوسکتا ہے، مثلاً غلام کھانا لایا ہے تو حکم ہو، دور کیوں بیٹھے ہو ؟ ادھر میرے ساتھ آ کر بیٹھو وغیرہ۔”بَیْتٌ“ ”بَاتَ یَبِیْتُ“ (رات گزارنا) سے ہے، اصل میں اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں آدمی رات رہتا ہو، پھر گھر کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ اب بھی اس کا اصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
آیت نمبر 23 تا 24
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وراودتہ التی ھوفی بیتھا عن نفسہٖ وہ عزیز مصر کی بیوی ہے اس نے آپ سے مطالبہ کیا کہ آپ اس سے مطلب برادی کریں۔ المراودۃ کی اصل نرمی اور مہربانی کیساتھ ارادہ اور طلب ہے۔ اور الرد اور الریاد سے مراد کسی چیز کو بار بار طلب کرنا ہے۔ ایک قول کے مطابق : یہ روید سے ہے۔ کہا جاتا ہے : فلان یمشی رویدا یعنی فلاں نرمی سے چلتا ہے۔ مراودۃ سے مراد طلب میں نرمی ہے۔ مرد کے بارے میں کہا جاتا ہے : راودھاعن نفسھا اور عورت کے بارے میں : رادتہ عن نفسہ اور الرود سے مراد التانی ہے۔ کہا جاتا ہے : أرودنی یعنی اس نے مجھے مہلت دی۔ وغلقت الابواب غلق کثیر کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ غلق…
Read the full tafseer →حضرت یوسف (علیہ السلام) پر آزمائش کا زمانہ :
1:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما للہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” وراوتہ التی ھو فی بیتھا “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ ورغلانے والی عزیز کی بیوی تھی۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” وراوتہ التی ھو فی بیتھا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس عورت نے آپ کو اس وقت ورغلایا جب آپ مردوں کی عمر تک پہنچے۔
3:۔ عبدالرزاق والبخاری وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والطبرنی وابو الشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابو وائل (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ نے اس کو یوں پڑھا (آیت) ” ھیت لک “ ھاء اور تاء کی فتح کے ساتھ ہم نے…
Read the full tafseer →[وَرَاوَدَتْهُ : اور پھسلایا ان (علیہ السلام) کو ] [ الَّتِيْ : اس عورت نے ] [ هُوَ : وہ (یعنی یوسف (علیہ السلام) )] [فِيْ بَيْتِهَا : جس کے گھر میں تھے ] [عَنْ نَّفْسِهٖ : اپنے نفس (کو تھامنے) سے ] [ وَغَلَّقَتِ : اور اس نے بند کئے ] [الْاَبْوَابَ : دروازے ] [وَقَالَتْ : اور کہا ] [هَيْتَ لَكَ : یہاں آئو ] [ قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ مَعَاذَ اللّٰهِ : اللہ کی پناہ ] [انهٗ : بیشک وہ ] [رَبِيْٓ: میرا آقا ہے ] [ اَحْسَنَ : اس نے خوبصورت بنایا ] [مَثْوَايَ : میرے ٹھکانے کو ] [ انهٗ : حقیقت یہ ہے کہ ] [ لَا يُفْلِحُ : فلاح نہیں پاتے ] [ الظّٰلِمُوْنَ : ظلم کرنے والے ]
غ ل ق
[غَلَقًا…
Read the full tafseer →عزیز مصر کی بیوی کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے مطلب براری کے لئے پیش ہونا اور آپ کا پاک دامن رہنا
سیدنا یوسف (علیہ السلام) عزیز مصر کے گھر میں رہتے رہے وہیں پلے پڑھے جوان ہوئے بہت زیادہ حسین تھے عزیز مصر کی بیوی ان پر فریفتہ ہوگئی اور اپنا مطلب نکالنے کے لئے ان کو پھسلانے لگی ‘ اس نے نہ صرف اشاروں سے اپنا مطلب ظاہر کیا بلکہ گھر کے سارے دروازے بند کرلیے اور کہنے لگی آجاؤ میں تمہارے لئے تیار ہوں ‘ حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے لیے بڑا ہی امتحان کا موقع تھا خود بھی نوجوان تھے اور عورت پھسلا بھی رہی تھی اور وہ کوئی گری پڑی عورت نہیں عزیز مصر کی بیوی ہے پھر وہ ایک طرح سے اس کے پروردہ بھی تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
ذکر الطاف و عنایات خداوندی
با یوسف صدیق (علیہ السلام) و قصہ او بازن عزیز مصر
قال اللہ تعالیٰ وقال الذی اشترہ من مصر ..... الیٰ .... انک کنت من الخطئین۔
(ربط) آغاز سورت میں حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ارادہ خداوندی یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو اپنا برگزیدہ بندہ بنائے اور علم تعبیران کو سکھائے اور ان کے آباؤ اجداد کی طرح ان پر اپنی نعمتیں پوری کرے بعد ازاں بھائیوں کا ماجرا ذکر کیا کہ بھائی کو لے جا کر کنوئیں میں ڈالا اور غلام بن اکر گنتی کے دراہم میں فروخت کردیا۔ اب ان آیات میں حق جل شانہ اپنے الطاف و عنایات کا ذکر کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی رحمت سے یوسف (علیہ السلام) کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔…
Read the full tafseer →21:۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) حسن و جمال میں یگانہ روزگار اور یکتائے زمانہ تھے، عزیز مصر کی بیوی جس کے گھر میں وہ رہتے تھے ان پر فریفتہ ہوگئی اور انہیں گناہ پر اکسانے میں لگ گئی۔ ” عَنْ نَّفْسِہٖ “ ، ” رَاوَدَتْ “ کے متعلق ہے یعنی اس عورت نے یوسف (علیہ السلام) سے ان کے نفس کا مطالبہ کیا۔ مراد جماع کا مطالبہ ہے ای طلبت یوسف ان یواقعہا (مدارک ج 2 ص 166) ۔ ” غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ “ گھر کے تمام دروازے بند کرلئے۔ قرآن سے دروازوں کو تالے لگانے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ ” ھَیْتَ لَکَ “ یہ اسم فعل ہے بمعنی تعال و اسرع یعنی جلدی کر۔
22:۔ مفعول مطلق ہے اور اس کا فعل محذوف ای اعوذ معاذ اللہ۔ ” رَبِّیْ “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
تشریح آیات
ھیت یا ھیت اصل میں سریانی ، حورانی یا قبطی زبان کا لفظ ہے اور عربی میں اس کا معنی ھلم لک یا تعال بنتا ہے جو اسم فعل کے معنی میں آتا ہے۔ آئو قریب ہو جائو کا مفہوم دیتا ہے برہان کا معنی سند اور دلیل ہوتا ہے جس سے شک و شبہ یا ابہام وغیرہ ختم ہوجاتا ہے۔ سکون و یقین حاصل ہوتا ہے۔ لیکن اس مقام میں برہان کا معنے اور مفہوم متعین کرنے میں مفسرین کرام کے مختلف اقوال پائے جاتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ، حسن بصری ، سعید بن جبیر ، وغیرہ ہم کے نزدیک برہان یہ تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد گرامی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی صورت کو دیکھا تھا۔ دانتوں میں انگلی دبائے ہوئے۔ امام ولی…
Read the full tafseer →وَرَاوَدَتْہُ الَّتِيْ ہُوَفِيْ بَيْتِہَا عَنْ نَّفْسِہٖ وَغَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَقَالَتْ ہَيْتَ لَكَ 0ۭ قَالَ مَعَاذَ اللہِ اِنَّہٗ رَبِّيْٓ اَحْسَنَ مَثْوَايَ 0ۭ اِنَّہٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ 23
راود
والمُرَاوَدَةُ : أن تنازع غيرک في الإرادة، فترید غير ما يريد، أو ترود غير ما يرود، ورَاوَدْتُ فلانا عن کذا . قال : هِيَ راوَدَتْنِي عَنْ نَفْسِي[يوسف/ 26] ، وقال : تُراوِدُ فَتاها عَنْ نَفْسِهِ [يوسف/ 30] ، أي : تصرفه عن رأيه،
( ر و د ) الرود
المراودۃ ( مفاعلہ ) یہ راود یراود سے ہے اور اس کے معنی ارادوں میں باہم اختلاف اور کشیدگی کے ہیں ۔ یعنی ایک کا ارداہ کچھ ہو اور دوسرے کا کچھ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
2 ؎ وہ یعنی تیرا شوہر۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَرَاوَدَتْہُ الَّتِیْ ھُوَ فِیْ بَیْتِھَا عَنْ نَّفْسِہٖ وَغَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَقَالَتْ ھَیْتَ لَکَ ط قَالَ مَعَاذَاللّٰہِ اِنَّہٗ رَبِّیْٓ اَحْسَنَ مَثْوَایَ ط اِنَّہٗ لاَیُفْلِغُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 23)
(اور ڈورے ڈالنے لگی اس پر وہ عورت جس کے گھر میں آپ تھے کہ ان سے مطلب برآری کرے اور (ایک روز) اس نے تمام دروازے بند کردیئے اور کہنے لگی، آجا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا، اللہ تعالیٰ کی پناہ۔ وہ میرا رب ہے، اس نے مجھے بہت عزت کی جگہ دی ہے۔ بیشک ظالم فلاح نہیں پاتے۔ )
زلیخا کا دام ہوس، حضرت یوسف (علیہ السلام) کی دوسری آزمائش
حضرت یوسف (علیہ السلام) شفقتِ پدری کی ٹھنڈی چھائوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا عزیز مصر کے گھر امور مملکت کی تربیت پاتے ہوئے نوجوان ہونا۔
جب حضرت یوسف (علیہ السلام) جوان رعنا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عقل و دانش اور امور مملکت کی جان پہچان سے نوازا۔ جس کے بارے میں ارشاد ہو رہا ہے کہ ہم اسی طرح نیکی کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں۔ مفسرین کا خیال ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) 23 سال کے لگ بھگ عزیز مصر کے ہاں ٹھہرے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس عرصہ میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی لیاقت، دیانت اور احساس ذمہ داری سے عزیز مصر اور اس کے اہل خانہ اچھی طرح واقف ہوچکے تھے۔ وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی سیرت طیبہ سے کیوں نہ…
Read the full tafseer →مرجیہ کا غلط طرز عمل :
23: وَرَاوَدَتْہُ الَّتِیْ ھُوَفِیْ بَیْتِھَا عَنْ نَّفْسِہٖ (اور یوسف جس عورت کے گھر میں تھے اس عورت نے اپنا مطلب حاصل کرنے کیلئے ان کو پھسلایا) یعنی یوسف سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سے قربت کرے۔ المراودۃؔ یہ باب مفاعلہ ہے راد، یرود جبکہ وہ آئے اور جائے گویا مطلب اس طرح ہے۔ کہ یوسف کو دھوکا دینا چاہا ان کے نفس کے سلسلہ میں یعنی اس نے ایسی حرکت کی جو دھوکا باز اپنے ساتھی سے کوئی چیز حاصل کرنے کیلئے کرتا ہے۔ اور وہ ساتھی اس چیز کو اپنے ہاتھ سے دینا نہیں چاہتا پس یہ اس سے لینے کیلئے حیلہ بازی کرتا ہے۔ یہ اس تمحل اور آہستگی کی تعبیر ہے جو اس نے یوسف سے اپنا مطلب پورا کرنے کیلئے…
Read the full tafseer →23۔” ورادتہ التی ھو فی بیتھا عن نفسہ ‘ ‘ یعنی عزیز کی بیوی نے اور مراودۃ فعل کو طلب کرنا اور یہاں مراد یہ ہے کہ اس نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنی طرف بلایا تا کہ وہ اس سے جماع کریں۔” وغلقت الابواب “ یعنی ان کو بند کردیا ، سات دروازے تھے۔
ہیت کی مختلف قراتیں
” وقالت ھیت لک “ یعنی آ اور متوجہ ہو ، اہل کوفہ اور بصرہ نے ” ھیت لک “ ھاء اور تاء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور اہل مدینہ اور اہل شام نے ’ ’ ھیت “ ھاء کی زیر اور تاء کے زبر کے ساتھ اور ابن کئیر نے ” ھیت “ ھاء کے زبر اور تاء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور وجہ یہ ہے کہ اس کلمہ میں تین لغتیں ہیں ۔ ’ ’ ھیت وھیت و ھیت “ اور سارے ھلم بعنی ادھر آ ، کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
23۔ اس آیت میں اللہ پاک نے عزیز مصر کی بیوی کے حال کی خبر دی کہ عزیز مصر کی بیوی زلیخا جس کے گھر میں یوسف (علیہ السلام) رہتے تھے اور اس کے شوہر نے تاکید کی تھی کہ یوسف (علیہ السلام) کو اچھی طرح رکھنا کسی طرح کی تکلیف اس کو نہ ہونے پائے وہ عورت حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حسن اور جمال پر فریفتہ ہوگئی اس کا جی چاہا کہ یوسف (علیہ السلام) سے بد فعلی کرے اس لئے اس نے خوب بناؤ کیا اور بن سنور کر اپنے مکان کے ساتوں دروازے بند کر دئیے جب دیکھا کہ یوسف اس تنہائی اور دروازے بند کرنے پر بھی اس کی طرح متوجہ نہیں ہوتے تو خود اپنی زبان سے اپنے مطب کا اظہار کیا اور اپنے پاس بلایا یوسف (علیہ السلام) اس کی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
آیات 23 تا 29:۔ یہ عظیم آزمائش اس سے بہت بڑی تھی جو جناب یوسف (علیہ السلام) کو اپنے بھائیوں کی طرف سے پیش آئی اور اس پر ان کا صبر کرنا بہت بڑے اجر کا موجب بنا، کیونکہ اس قبیح فعل کے وقوع کے لیے کثیر اسباب کے باوجود انہوں نے صبر کو اختیار کیا اور اللہ تعالیٰ کی محبت کو ان اسباب پر مقدم رکھا۔ اس لیے ان کا یہ صبر اختیار تھا اور ان کو اپنے بھائیوں کے ہاتھوں جو آزمائش پیش آئی وہاں ان کا صبر اضطراری تھا۔ جیسے مرض اور دیگر تکالیف بندے کے اختیار کے بغیر اسے لاحق ہوتی ہیں جن میں طوعاً یا کرہاً صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں اور آزمائش کا یہ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) عزیز مصر کے گھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
جوانی کی اصل عمر
قول باری ہے ولما بلغ اشدہ اتیناہ حکما ً و علما ً اور جب وہ اپنی پوری جوانی کو پہنچا تو ہم نے اسے قوت فیصلہ اور علم عطا کیا ۔ ایک قول کے مطابق اٹھارہ برس سے لے کر ساٹھ برس کی عمر تک جسمانی قوت و طاقت کو اشد کہا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ بیس برس کے انسان کو اشد کہا جاتا ہے ۔ مجاہد کے قول کے مطابق تینتیس سالہ جوان کو اشد کہا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →43 ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عظمت کردار کا ایک نادر و نایاب نمونہ : سو یہاں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کردار کی عظمت و بلندی ملاحظہ ہو کہ پہل عورت کی طرف سے ہو رہی ہے۔ حالانکہ عموما معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ پھر عورت بھی وہ جو آپ کی مالکہ اور آپ کے آقا کی بیوی اور وقت کے وزیراعظم یا شاہی فوج کے سربراہ کی زوجہ ہے۔ اور مکان بھی مقفل اور بند ہے۔ دور بھی جوانی اور بھرپور جوانی کا ہے۔ اور ان تمام تر غیبات کے ساتھ رکاوٹ بننے والی اور حائل ہونے والی کوئی چیز بھی نہیں ہے مگر اس سب کے باوجود آپ کے کوہ استقامت میں ذرہ برابر کوئی جنبش تک نہیں آتی سبحان اللہ کیا کہنے اس شان عفت و استقامت اور عظمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–57
انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب
ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔
تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
آیات 21 تا 29
اسرار و معارف
چنانچہ قافلہ والے اس خزانے کوے کرمصرپہنچے اور فروخت کا بہت اہتمام کیا حتی کہ شاہی محل تک شہرہ پہنچا کہ ایک غلام بکنے کو ہے جس کے حسن کی چمک سورج کو ماند کرتی ہے ۔ قافلوں کا طریقہ کار یہ ہوتا تھا کہ جس شہر میں پہنچتے قیام کرتے اور مال کی خوب شہرت کرکے ایک خاص روز فروخت کے لئے مقرر کردیتے کہ لوگ زیادہ جمع ہوں اور اچھی قیمت لگے ۔ چناچہ خوب خوب بولیاں لگیں ۔ آخرعزیز مصر نے جس کا نام قطفیر تھا خرید لیا اور آپ کے وزن کے برابر سونا مشک اور اتنا ہی ریشمی کپڑاقیمت میں ادا کردیا۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ وزیر تھا اور حکمران عمالقہ میں سے تھا جس کا نام ریان بن اسید تھا۔ لیکن اگر…
Read the full tafseer →ف 1 ۔ یعنی اس کے ناموس میں کیونکر داخل کروں ؟ (موضح) اکثر مترجمین اور اصحاب تفسیر ؓ نے یہی مفہوم مراد لیا ہے کہ ” ربی “ سے مراد عزیز مصر ہے۔ سدی (رح) اور مجاہد (رح) سے بھی مضی منقول ہے لیکن بعض نے ” ربی “ سے اللہ تعالیٰ مراد لیا ہے۔ (فتح البیان) اور یہ دوسری رائے صحیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہ بات کسی نبی کی شان سے بعید ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو اپنا رب کہے۔ (کذافی البحر) اس مفہوم کے حق میں ایک قرینہ یہ بھی ہے کہ ھو ربی میں ھو کا مرجع قریب تر ” معاذ اللہ “ میں الہ کا لفط ہونا چاہیے نہ کہ عزیز۔
Read the full tafseer →(12:23) راودتہ۔ اس عورت نے اس کو پھسلایا۔ اس سے خواہش کی گفت و شنید کی الرود کے اصل معنی نرمی کے ساتھ بار بار کسی چیز کی طلب میں آمدورفت کے ہیں۔ راود یراود مراودۃ (مفاعلۃ) عن نفسہ وعلی نفسہ۔ کسی کو گناہ کی رغبت دلانا۔ اراد یرید ارادۃ۔ چاہنا ۔ خواہش کرنا۔ رغبت کرنا۔ ارود یرود (افعال) ارواد وروید نرمی کرنا ۔۔ فی السیر نرم رفتار سے چلنا۔
راودتہ عن نفسہ۔ وہ عورت اس کو گناہ کی رغبت دلانے لگی۔ التی ھو فی بیتھا وہ عورت جس کے گھر میں وہ تھا۔
غلقت۔ اس عورت نے بند کیا (درواہ) غلقت الابواب اس عورت نے دروازے بند کر دئیے۔
ہیت لک۔ ادھر آؤ۔ چلے آؤ۔ ہیت لک۔ لکما۔ لکم۔ لکن۔ چلے آؤ۔ تو ایک۔ تم دونو۔ تم سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–29
لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 29
راودت (اس نے بہکایا۔ پھسلایا) عن نفسہ (اپنے نفس سے۔ اپنی طرف ) غلقت (بند کردیئے ) ابواب (دروازے) ھیت لک (آ۔ اپنا کام ر) معاذ اللہ (اللہ کی پناہ) احسن (زیادہ بہتر) مثوا (ٹھکانا۔ مقام لایفلح (فلاح نہیں پاتا۔ کامیاب نہیں ہوتا) ھمت (ارادہ کیا (مونث) ھم (ارادہ کیا) لولات (اگر نہ ہوتا (حرف شرط ہے) ان را (یہ کہ دیکھا) برھان (دلیل ۔ نشانی) لنصرف (تاکہ ہم دور کردیں۔ پھیر دیں ) السوء (برائی ) الفحشاء (فحش ) بےحیائی کے کام المخلصین (خالص کرنے والے) استبقا (وہ دونوں آگے پیچھے دوڑے) فدت (پھاڑ دیا) (دبر) پیچھے۔ (پشت کے حصے کو دبر کہتے ہیں) الفیا (الفا (ماضی کا صیغہ) دونوں نے…
Read the full tafseer →زلیخا کے ساتوں دروازے بند کرنے، اور فریب کرنے، زنا کرنے پر مجبور کرنا
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عزیز مصر کی بیوی زلیخا کے حال سے خبر دی۔ کہ وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حسن و جمال پر فریفتہ ہوگئی۔ اس کا جی چاہا کہ یوسف (علیہ السلام) سے ناجائز کام کرے اور ہم صحبت ہونا چاہا۔ اپنے مکان کے ساتوں دروازے بند کردیئے، اس پر بھی یوسف (علیہ السلام) نے توجہ نہیں کی تو خود اپنی زبان سے اپنے مطلب کا اظہار کیا اور اپنے پاس بلایا۔ اس کی اس بات پر بہت پریشان ہوئے کہ میں اپنے محسن ومربی کی امانت میں خیانت کیونکر کروں۔ یہ بات ظلم صریح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
[11] رب کی دلیل سے مراد اللہ تعالیٰ کی سجھائی ہوئی دلیل ہے جس کی بنا پر یوسف (علیہ السلام) نے اس عورت کی پیش کش کو ٹھکرا دیا اور وہ دلیل پچھلی آیت میں گزر چکی ہے کہ '' تیرا شوہر میرا آقا ہے اور اس نے مجھے اچھی طرح رکھا ہے اور میں یہ کام کروں۔ اور ایسے ظالم کبھی فلاح پایا نہیں کرتے۔ ''
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
عفت نفس کی بہترین مثال :
(ف 1) جب یوسف (علیہ السلام) جوان ہوگئے ، تو عزیز مصر کی عورت نے اظہار عشق و محبت شروع کردیا ، اور ایک دن موقع پا کر مکان کے دروازے بند کردیئے ، اور دعوت دی کہ یوسف مصروف عیش ہوں ، آپ نے کمال پاکبازی سے جواب دیا ، کہ یہ کیونکر ممکن ہے عزیز مصر نے مجھ پر احسان کئے ہیں ، اور میں انہیں دھوکہ دوں ، یہ ظلم مجھ سے نہ ہو سکے گا ۔
یہ اس وقت کے تمدن کا صحیح نقشہ ہے ، کہ امراء کی عورتیں عام طور پر عصمت فروش ہوتی تھیں ، اور شہوات نفسانی میں اس درجہ غلو تھا ، کہ اپنے غلاموں سے بھی پرہیز نہیں تھا ، آج کل بھی اونچے طبقوں میں یہی کیفیت ہے کیونکہ دولت کی فراوانی کے ساتھ دینی ضبط اور…
Read the full tafseer →23 اور وہ عورت جس کے گھر میں حضرت یوسف (علیہ السلام) مقیم تھے اور رہتے تھے وہ یوسف (علیہ السلام) کو اپنی جانب مائل کرنے اور ان سے اپنا مطلب پورا کرنے کیلئے پھسلانے لگی اور تمام دروازے بند کردئیے اور بولی لو آجائو میں تم سے کہہ رہی ہوں۔
یوسف (علیہ السلام) نے جواب دیا اللہ تعالیٰ کی پناہ مزید برآں وہ تیرا شوہر میرا آقا ہے جس نے مجھ کو بڑی اچھی طرح سے رکھ چھوڑا ہے بلاشبہ ایسے احسان فراموش کبھی فلاح نہیں پاتے یعنی زلیخا یوسف (علیہ السلام) کو اپنی جانب مائل کرنے کے لئے پھسلانا شروع کیا جب ان کو اس کے ارادے کا علم ہوا تو انہوں نے خدا کی پناہ مانگی کہ یہ بہت بڑا گناہ ہے پھر یہ کہ وہ تیرا شوہر میرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ف 5۔ اس میں پہلے سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ جو کچھ آگے قصہ میں بعض امور کی تہمت آپ کی نسبت آئے گی وہ سب غلط ہوگا کیونکہ وہ صاحب حکمت تھے جس کا حاصل ہے علم نافع یعنی علم مع العمل اور ان امور کا صدور غلط ہے۔
Read the full tafseer →۔ 30 یہ عورت جو عمر میں یقینا یوسف (علیہ السلام) کی یوسف (علیہ السلام) سے بڑی تھی جیسا کہ آیت 21 میں عزیز مصر کا قول ” اونتخذہ ولدا “ سے اشارۃ ظاہر ہے۔ اس بات کے بیان کرنے سے ہماری مراد کوئی بحث اٹھانا نہیں صرف یہ عرض کرنا ہے کہ بعض باتیں بغیر کسی خارجی دلیل کے اپنے اندر اس بات کی خود دلیل ہوتی ہیں کہ اصل حقیقت حال کیا ہے اور وہاں خارجی دلائل کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی لیکن یوسف (علیہ السلام) کی سمجھ دے ہمارے علمائے کرام کو کہ انہوں نے کتنے ہی مقامات پر کبھی ان اندرونی شہادتوں پر دھیان نہیں دیا بلکہ وہ خارجی دلائل تلاش کرتے ہیں اور پھر ان خارجی دلائل کو اندرونی شہادت پر فوقیت دینے کی کوشش میں…
Read the full tafseer →Moving to verse 23, the words of the text are:
وَرَاوَدَتْهُ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا عَن نَّفْسِهِ وَغَلَّقَتِ الْأَبْوَابَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ
And she, in whose house he was, seduced him away from his (resisting) self and bolted the doors, and said, 'come on!'.
From the first verse, we know that this woman was the wife of the ` Aziz of Misr. But, at this place, the Holy Qur'an has elected to bypass the possibility of mentioning her by a brief expression as the wife of ` Aziz. Instead, it has chosen to use the expression: الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا (in whose house he was). The hint…
Read the full tafseer →21. Generally the commentators and translators are of the opinion that Prophet Joseph used Rabbi“My Lord”for the master of the house, and what he meant to imply by way of argument was this: My Lord has treated me very kindly and kept me well in the house. How can I, then, be so disloyal and ungrateful as to commit adultery with his wife? I, however, strongly differ with such a translation and commentary. Though the Arabic usage of rabb admits of such a meaning, I have two strong reasons against this here. First, it is far below the dignity of a Prophet to refrain from a sin because of the…
Read the full tafseer →