Explained with ayahs 21–22
بازار مصر سے شاہی محل تک
رب کا لطف بیان ہو رہا ہے کہ جس نے آپ کو مصر میں خریدا، اللہ نے اس کے دل میں آپ کی عزت و وقعت ڈال دی۔ اس نے آپ کے نورانی چہرے کو دیکھتے ہی سمجھ لیا کہ اس میں خیر و صلاح ہے۔ یہ مصر کا وزیر تھا۔ اس کا نام قطفیر تھا۔ کوئی کہتا ہے اطفیر تھا۔ اس کے باپ کا نام دوحیب تھا۔ یہ مصر کے خزانوں کا داروغہ تھا۔ مصر کی سلطنت اس وقت ریان بن ولید کے ہاتھ تھی۔ یہ عمالیق میں سے ایک شخص تھا۔۔ عزیز مصر کی بیوی صاحبہ کا نام راعیل تھا۔ کوئی کہتا ہے زلیخا تھا۔ یہ رعابیل کی بیٹی تھیں۔ ابن عباس کا بیان ہے کہ مصر میں جس نے آپ کو خریدا اس کا نام مالک بن ذعربن قریب بن عنق بن مدیان بن ابراہیم تھا۔…
Read the full tafseer →سورة یُوْسُف 20
قرآن کی زبان میں ان الفاظ سے مراد بالعموم ”نبوت عطا کرنا“ ہوتا ہے۔ ”حکم“ کے معنی قوت فیصلہ کے بھی ہیں اور اقتدار کے بھی۔ پس اللہ کی طرف سے کسی بندے کو حکم عطا کیے جانے کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے انسانی زندگی کے معاملات میں فیصلہ کرنے کی اہلیت بھی عطا کی اور اختیارات بھی تفویض فرمائے۔ رہا ”علم“ تو اس سے مراد وہ خاص علم حقیقت ہے جو انبیاء کو وحی کے ذریعہ سے براہ راست دیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗٓ اٰتَيْنٰهُ حُكْمًا وَّعِلْمًا یعنی جب پہنچ گئے یوسف ؑ اپنی پوری قوت اور جوانی پر تو دے دیہم نے ان کو حکمت اور علم یہ قوت اور جوانی کسی عمر میں حاصل ہوئی اس میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ، مجاہد ؒ قتادہ ؒ نے فرمایا کہ 33 سال عمر تھی ضحاک ؒ نے بیس سال اور حسن بصری ؒ نے چالیس سال بتلائی ہے اس پر سب کا اتفاق ہے کہ حکمت اور علم عطا کرنے سے مراد اس جگہ عطاء نبوت ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ یوسف ؑ کو نبوت مصر پہنچنے کے بھی کافی عرصہ بعد ملی ہے اور کنویں کی گہرائی میں جو وحی ان کو بھیجی گئی وہ وحی نبوت نہ تھی بلکہ لغوی وحی تھی جو غیر انبیاء…
Read the full tafseer →وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗٓ اٰتَيْنٰهُ حُكْمًا وَّعِلْمًا ۭ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ۔
حضرت یوسف پر انعامِ الٰہی : یہ وہ انعام ہے جو اللہ تعالیٰ نے بعد میں حضرت یوسف پر فرمایا اور جس کی طرف اوپر والی آیت میں اشارہ ہے۔ فرمایا کہ جب وہ عمر کی پختگی کو پہنچا ہم نے اس کو حکم اور علم سے نوازا اور ہم خوب کاروں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔ لفظ اشد جوانی کے لیے بھی آتا ہے اور پختہ سن و سال کے لیے بھی آتا ہے مثلا حتی اذا بلغ اشدہ و بلغ اربعین سنۃ (یہاں تک کہ جب وہ اپنی پختگی کو پہنچا اور چالیس سال کا ہوا) حکم اور علم یہاں نبوت کی تعبیر ہے۔ حکم سے مراد قوت فیصلہ بھی ہے اور حکومت بھی اور یہ…
Read the full tafseer →22۔ 1 یعنی نبوت یا نبوت سے قبل کی دانائی اور قوت فیصلہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
14: یہ وہی عزیز مصر کی بیوی زلیخا تھی جس کا ذکر پچھلے حاشیہ میں گذرا ہے وہ حضرت یوسف ؑ کے غیر معمولی مردانہ حسن پر اتنی فریفتہ ہوئی کہ انہیں گناہ کی دعوت دے بیٹھی۔ قرآن کریم نے اس کا نام لینے کے بجائے یہ فرمایا ہے کہ جس کے گھر میں وہ رہتے تھے اس میں اشارہ یہ ہے کہ حضرت یوسف ؑ کے لیے اس کی فرمائش سے انکار اور بھی زیادہ مشکل تھا، کیونکہ وہ اسی کے گھر میں قیام پذیر تھے، اور وہ ان پر ایک سے حاکمہ کا درجہ رکھتی تھی۔
Read the full tafseer →حضرت یوسف کو اللہ نے یہ صلاحیت دی کہ وہ ہر معاملے میں صحیح فیصلہ کرنے ، واقعات کے نتائج وہ پہلے سے معلوم کرلیتے ، خوابوں کی تعبیر وہ بہت ہی اچھی طرح جانتے۔ تاویل احادیث اور تاویل رویا کا مفہوم عام بھی ہوسکتا ہے یعنی زندگی کے تمام معاملات کو وہ اچھی طرح سلجھاتے تھے اور یہ صلاح ان کو ان کی نیکی اور حسن سلوک کی وجہ سے دی گئی تھی اور اللہ تعالیٰ محسنین کو اسی طرح جزا دیتا ہے۔
Read the full tafseer →10 یعنی جب یوسف کے تمام قوی حد کمال کو پہنچ گئے تو خدا کے یہاں سے عظیم الشان علم و حکمت کا فیض پہنچا۔ نہایت مشکل عقدے اپنی فہم رسا سے حل کرتے، بڑی خوبی اور دانائی سے لوگوں کے نزاعات چکاتے، دین کی باریکیاں سمجھتے، جو زبان سے کہتے وہ کر کے دکھاتے۔ سفیہانہ اخلاق سے قطعا پاک و صاف اور علم شرائع کے پورے ماہر تھے۔ تعبیر رؤیا کا علم تو ان کا مخصوص حصہ تھا۔
11 جو لوگ فطرت کی راہنمائی یا تقلید صالحین اور توفیق ازلی سے نوائب و حوادث پر صابر رہ کر عمدہ اخلاق اور نیک چال چلن اختیار کرتے ہیں، حق تعالیٰ ان پر ایسے ہی انعام فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ
حکم اور علم سے مراد نبوت ہے۔ حکم کے معنی قوت فیصلہ کے بھی ہیں اور اقتدار کے بھی۔ علم سے مراد علم وحی ہے۔
Read the full tafseer →21 مفسرین کے قول کے مطابق آپ 17 سال کی عمر میں مصر پہنچے اور تین سال کے لگ بھگ عزیز مصر کے گھر میں رہے۔ اسی دوران اللہ تعالیٰ نے آپ کو قوت فیصلہ اور حکمرانی کے اصول بھی سکھا دیئے اور علم بھی عطا فرمایا۔ علم سے مراد عموماً علم وحی ہی ہوتا ہے اور ایسا علم اللہ تعالیٰ بعثت سے پہلے بھی انبیاء کے دل میں ڈال دیتا ہے۔ اسی وجہ سے ان کی نبوت سے پہلے کی زندگی بھی پاکیزہ اور بےداغ ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →36۔ قرآن مجید کا یہ ایک عام وحکیمانہ اسلوب بیان ہے کہ کسی جزئی اور مخصوص واقعہ کا ذکر کرتے کرتے معا اس کا عام قانون بھی بیان کردیتا ہے چناچہ یہاں بھی یہ ارشاد ہوگیا کہ یہ دینی ودنیوی اکرام وعزاز یوسف (علیہ السلام) کے خواص ذاتی میں سے نہ تھا بلکہ جو کوئی بھی ایمان وحسن عمل کو اپنا شعار رکھے وہ انعامات سے سرفراز کیا جائے گا۔ (آیت) ” اشدہ “۔ اس پختگی عمر کی تعیین میں متعدد قول نقل ہوئے ہیں تاہم 20 سال سے کم کا کوئی قول سلف سے منقول نہیں البتہ ابن جریر نے 18 سال کو بھی اس کا ایک ممکن مصداق بتایا ہے۔ (آیت) ” حکما وعلما “۔ حکم سے مراد عام طور پر دنیوی قوت واقتدار اور علم سے مراد نبوت لی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
آیت نمبر 21 تا 29
ترجمہ : اور اس مصری شخص نے جس نے یوسف کو خریدا تھا جس کا نام قِطْفیر اور (لقب) عزیز تھا، اپنی بیوی زلیخا سے کہا اس کو عزت اور احترام کے ساتھ رکھنا (یعنی اس کو عزت کا مقام دینا اور اچھی طرح دیکھ بھال کرنا) بعید نہیں کہ ہمارے لئے نفع بخش ثابت ہو یا ہم اس کو اپنا بیٹا ہی بنالیں اور عزیز عنّین (نامرد) تھا، اور جس طرح ہم نے یوسف کو قتل اور کنویں سے نجات دی اور عزیز مصر کے دل کو اس کی طرف مائل کیا، اسی طرح ہم نے یوسف کو ملک مصر میں اقتدار عطا کیا حتی کہ وہ پہنچے جس مرتبہ پر پہنچے، (اور ہم نے ان کو قدرت دی) تاکہ ہم اس کو خوابوں کی تعبیر سکھائیں (لِنعلِّمَہٗ ) کا عطف لنملکہٗ محذوف…
Read the full tafseer →ولما بلغ اشدہ اتینہ حکما وعلما اور جب یوسف اپنی بھرپور جوانی اور قوت کو پہنچ گئے تو ہم نے ان کو حکم اور علم عطا کیا۔
اشد انتہائی جوانی اور قوت۔ مجاہد نے کہا : 33 سال کی عمر۔ سدی نے کہا : 30 سال کی عمر ‘ یہی سن وقوف ہے۔ ضحاک نے کہا : 20 سال۔ کلبی نے کہا : اشد کی عمر 18 سے 30 سال کے درمیان ہوتی ہے۔ امام مالک سے اشد کا ترجمہ پوچھا گیا تو فرمایا : سمجھ اور دانش۔
حکم سے مراد ہے : نبوت۔ بعض نے کہا : درستئ قول۔ علم سے مراد ہے : دینی سمجھ یا خواب کی تعبیر کا علم۔ بعض اہل علم نے کہا : حکیم اور عالم کے درمیان فرق یہ ہے کہ عالم تو جاننے والے کو کہتے ہیں اور حکیم وہ ہوتا ہے جو علم کے تقاضے کے مطابق عمل…
Read the full tafseer →(22) اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے (اشد اٹھارہ سال سے تیس سال تک کی عمر کو بولتے ہیں) تو ہم نے ان کو حکمت اور نبوت عطا فرمائی، اسی طرح ہم نیکو کاروں کو قول وفعل کے بدلے علم و حکمت کے ساتھ بدلہ دیا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗٓ اٰتَيْنٰهُ حُكْمًا وَّعِلْمًا ”اَشُدَّ“ بعض اہل علم کے مطابق مفرد ہے جو جمع کے وزن پر آیا ہے۔ بعض نے فرمایا جمع ہے، مگر اس کے لفظ میں سے اس کا واحد نہیں ہے۔ بعض نے فرمایا ”شِدَّۃٌ“ کی جمع ہے، جس طرح ”نِعْمَۃٌ“ کی جمع ”أَنْعُمٌ“ ہے، یعنی اپنی پوری قوتوں اور جوانی کو پہنچ گئے۔ اسی ”بَلَغَ“ کے لفظ ہی سے بلوغت کی اصطلاح اخذ کی گئی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جس کے آتے ہی انسان پر نیکی اور بدی لکھنے والا وہ قلم مقرر ہوجاتا ہے جو بچپن میں اس پر مقرر نہیں تھا۔ اب وہ اپنے جیسے انسان کی پیدائش کا ذریعہ بننے کے قابل ہوجاتا ہے۔ معلوم نہیں جو لوگ اس وقت یوسف ؑ کی عمر کی تعیین پچیس یا تیس…
Read the full tafseer →آیت نمبر 22
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ولما بلغ اشدہٓ سیبویہ کے نزدیک اشدہ جمع ہے اور اس کا واحد شدۃ ہے۔ کسائی نے کہا : اس کا اوحد شد ہے۔ جس طرح کہ شاعر نے کہا۔
عھدی بہ شد النھار کأنما خضب اللبان ورأسہ بالعظلم
شد النھار سے مراد دن کا جوبن اور عروج ہے۔ ابوعبید کا گمان ہے کہ عربوں کے نزدیک لفظوں میں اس کا واحد نہیں ہے۔ اور اس کا معنی نقصان ہوتا ہے۔ مجاہد اور قتادہ نے کہا : ” الاشد “ تینتیس سال کی عمر ہے۔ حضرت ربیعہ، حضرت زید بن اسلم اور حضرت مالک بن انس نے کہا : الاشد نوجوان کی بلوغت کی عمر ہے۔ اس سلسلہ میں سورة ” النساء “ اور الانعام میں علماء کے مکمل اقوال گزرچکے ہیں۔ اٰتینٰہ حکمًا وعلمًا ایک قول…
Read the full tafseer →حضرت یوسف (علیہ السلام) کو علم و حکمت عطا ہونا :
1:۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن ابی حاتم وابن الانباری نے کتاب الاضداد میں والطبرانی نے الاوسط میں وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ولما بلغ اشدہ “ کے بارے میں فرمایا کہ جب آپ کی عمرتینتیس 33 سال تھی۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” بلغ اشدہ “ کے بارے میں فرمایا کہ جب آپ کی عمر پچیس سال کی ہوئی۔
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” بلغ اشدہ “ کے بارے میں فرمایا کہ جب آپ کی عمر تیس سال ہوئی۔
4:۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولمابلغ اشدہ “…
Read the full tafseer →[وَلَمَا : اور جب ] [ بَلَغَ : وہ پہنچے ] [ اَشُدَّهٗٓ: اپنی پختگی کو ] [ اٰتَيْنٰهُ : تو ہم نے دیا ان کو ] [ حُكْمًا : فیصلہ کرنے (کی صلاحیت)] [ وَّعِلْمًا : اور علم ] [وَكَذٰلِكَ : اور اس طرح ] [ نَجْزِي : جزا دیتے ہیں ] [ الْمُحْسِنِيْنَ : بلا کم وکاست کام کرنے والوں کو ]
Read the full tafseer →(وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗ اٰتَیْنَہُ حُکْمًا وَّعِلْمًا) (اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچا تو ہم نے اسے حکمت اور علم عطا کیا) حکمت اور علم سے نبوت مراد ہے اس سے معلوم ہوا کہ ان کو بعد میں نبوت عطا کی گئی کنویں میں ہوتے ہوئے جو وحی بھیجی تھی وہ وحی نبوت نہیں تھی دل میں ڈالنے کو بھی وحی سے تعبیر کیا جاتا ہے جیسا کہ سورة القصص میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے بارے میں فرمایا (وَاَوْحَیْنَا اِلٰی اُمِّ مُوْسیٰ اَنْ اَرْضِعِیْہِ )
(وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ) (اور ہم نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں) صفت احسان بہت بڑی چیز ہے حسن نیت اور حسن عمل سے جو شخص بھی متصف ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
ذکر الطاف و عنایات خداوندی
با یوسف صدیق (علیہ السلام) و قصہ او بازن عزیز مصر
قال اللہ تعالیٰ وقال الذی اشترہ من مصر ..... الیٰ .... انک کنت من الخطئین۔
(ربط) آغاز سورت میں حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ارادہ خداوندی یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو اپنا برگزیدہ بندہ بنائے اور علم تعبیران کو سکھائے اور ان کے آباؤ اجداد کی طرح ان پر اپنی نعمتیں پوری کرے بعد ازاں بھائیوں کا ماجرا ذکر کیا کہ بھائی کو لے جا کر کنوئیں میں ڈالا اور غلام بن اکر گنتی کے دراہم میں فروخت کردیا۔ اب ان آیات میں حق جل شانہ اپنے الطاف و عنایات کا ذکر کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی رحمت سے یوسف (علیہ السلام) کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔…
Read the full tafseer →20:۔ یہ پانچواں حال ہے ” اَشُدَّ “ کی تفسیر میں اقوال مختلف ہیں حضرت ابن عباس ؓ نے تینتیس سال سے اس کی تفسیر فرمائی ہے۔ امام رازی کے نزدیک یہی راضح ہے (کبیر ج 18 ص 110) ۔ ” حُکْمًا وَّ عِلْمًا “ حکم سے نبوت اور علم سے شریعت مراد ہے یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے عن ابن عباس ان الحکم النبوۃ والعلم الشریعۃ (روح ج 3 ص 209) ۔ وقال مجاھد العقل والفہم والنبوۃ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
ربط آیات
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں گرے ہوئے جب تین دن گزر گئے تو وہاں سے قافلے والوں نے آپ کو نکال لیا۔ یہ قافلہ مدین سے مصر جا رہا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ لوگ مدین کے باشندے تھے جبکہ بعض دوسرے اصحاب کہتے ہیں کہ یہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے خاندان کے لوگ تھے۔ بہرحال دوران سفر قافلے والوں کو کنعان سے یہ بچہ مل گیا۔ ادھر بھائی بھی نگرانی کر رہے تھے۔ جب یوسف (علیہ السلام) قافلے میں پہنچ گئے تو بھائی بھی وہاں پہنچے اور کہا کہ یہ ہمارا بھاگا ہوا غلام ہے ۔ اسے واپس کردیا اگر تم اسے خریدنا چاہو تو ایسا کرسکتے ہو۔ چناچہ برادران یوسف نے بیس درہم کی حقیر رقم کے…
Read the full tafseer →وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗٓ اٰتَيْنٰہُ حُكْمًا وَّعِلْمًا 0 ۭ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِـنِيْنَ 22
لَمَّا
يستعمل علی وجهين :
أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر .
( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–22
1 ؎ یعنی جو حضرت یوسف ﷺ اور ان کے بھائیوں کے حالات سے سوال کرتے ہیں اس بیان میں ان کے لئے پوری نشانی نبوت حضرت ﷺ کے لئے ہے کس لئے کہ باوجود توریت پاس نہ ہونے اور نہ اس کے پڑھے لکھے ہونے کے اتنے بڑے قصے کو ان باریکیوں اور پہلوئوں کے ساتھ جو اس واقعہ کے ساتھ متعلق ہیں۔ اس طرح سے بیان کردینا کہ توریت کے سرمو بھی خلاف نہ ہوا البتہ ایک معجزہ ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗٓ اٰتَیْنٰـہُ حُکْمًا وَّعِلْمًا ط وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۔
(سورۃ یوسف : 22)
(جب حضرت یوسف (علیہ السلام) پہنچے اپنے پورے جوبن کو تو ہم نے انھیں قوت فیصلہ اور علم عطا کیا اور ہم اسی طرح نیک لوگوں کو جزا دیتے ہیں۔ )
اَشُدَّ ، حکم اور علم کا مفہوم
اَشُدَّ کا لفظ عربی زبان میں کمال اور جوبن کو کہتے ہیں۔ آدمی کا کمال اور جوبن اس کی جوانی ہے اور یا وہ زمانہ ہے جب اس کی عمر اور خیالات میں پختگی آجائے۔ قرآن کریم نے اسے دونوں معنی میں استعمال کیا ہے۔ جوانی کے لیے تو اس کا استعمال عام ہے البتہ دوسرے معنی میں غالباً سورة لقمان میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ وَلَمَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا عزیز مصر کے گھر امور مملکت کی تربیت پاتے ہوئے نوجوان ہونا۔
جب حضرت یوسف (علیہ السلام) جوان رعنا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عقل و دانش اور امور مملکت کی جان پہچان سے نوازا۔ جس کے بارے میں ارشاد ہو رہا ہے کہ ہم اسی طرح نیکی کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں۔ مفسرین کا خیال ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) 23 سال کے لگ بھگ عزیز مصر کے ہاں ٹھہرے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس عرصہ میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی لیاقت، دیانت اور احساس ذمہ داری سے عزیز مصر اور اس کے اہل خانہ اچھی طرح واقف ہوچکے تھے۔ وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی سیرت طیبہ سے کیوں نہ…
Read the full tafseer →22: وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗ (جب وہ اپنی بھر پورجوانی کو پہنچے) اپنی استعدادی قوت کی انتہاء کو اور وہ اٹھارہ سال ہے یا 21 سال ہے۔ اٰتَیْنٰہُ حُکْمًا وَّعِلْمًا (ہم نے ان کو حکم و علم عنایت فرمایا) نمبر 1۔ حکم سے حکمت مراد ہے اور علم بمع عمل اور جہالت والی باتوں سے اجتناب۔ نمبر 2۔ لوگوں کے درمیان فیصلہ اور سمجھ بوجھ وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ (اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو) اس میں متنبہ کیا کہ وہ اپنے اعمال میں مخلص تھے اور عنفوان حکومت میں متقی و پرہیز گا ر تھے۔
Read the full tafseer →بلغ اشد کی تفسیر
تفسیر 22۔” ولما بلغ اشدہ “ اپنی جوانی کی انتہاء اور قوت کو جب پہنچ گئے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ یہ تینتیس سال کی عمر ہوتی ہے اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ تیس سال اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ بیس سال اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ اٹھارہ سے تیس سال تک۔ اور مالک سے (اشدہ) کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا بالغ ہونا ۔ ” آتیناہ حکما و علما “ حکم سے مراد نبوت اور علم سے فقہ فی الدین اور بعض نے کہا حکما یعنی قوم کی دستگی اور علم یعنی خواب کی تعبیر اور بعض نے کہا ہے کہ عالم اور حکیم میں فرق یہ ہے کہ عالم وہ ہے جو اشیاء کو جانتا ہو اور حکیم وہ ہے جو اپنے علم کے مقتضاء پر عمل کرتا ہو ۔ ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
23۔ اس آیت میں اللہ پاک نے عزیز مصر کی بیوی کے حال کی خبر دی کہ عزیز مصر کی بیوی زلیخا جس کے گھر میں یوسف (علیہ السلام) رہتے تھے اور اس کے شوہر نے تاکید کی تھی کہ یوسف (علیہ السلام) کو اچھی طرح رکھنا کسی طرح کی تکلیف اس کو نہ ہونے پائے وہ عورت حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حسن اور جمال پر فریفتہ ہوگئی اس کا جی چاہا کہ یوسف (علیہ السلام) سے بد فعلی کرے اس لئے اس نے خوب بناؤ کیا اور بن سنور کر اپنے مکان کے ساتوں دروازے بند کر دئیے جب دیکھا کہ یوسف اس تنہائی اور دروازے بند کرنے پر بھی اس کی طرح متوجہ نہیں ہوتے تو خود اپنی زبان سے اپنے مطب کا اظہار کیا اور اپنے پاس بلایا یوسف (علیہ السلام) اس کی اس…
Read the full tafseer →وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗٓ : اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے۔ یعنی جب جناب یوسف (علیہ السلام) کے قوائے حسیہ اور قوائے معنویہ اپنے درجہ کمال کو پہنچ گئے اور ان میں یہ صلاحیت پیدا ہوگئی کہ وہ نبوت اور رسالت کا بھاری بوجھ اٹھا سکیں۔ اٰتَيْنٰهُ حُكْمًا وَّعِلْمًا : تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا۔ یعنی ہم نے ان کو نبی، رسول اور عالم ربانی بنادیا۔ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ : اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں نیکو کاروں کو۔ یعنی جو پوری کوشش اور خیر خواہی سے خالق کی عبادت میں ” احسان “ سے کام لیتے ہیں اور اللہ کے بندوں کو نفع پہنچا کر ان کے ساتھ بھلائی سے پیش آتے ہیں ہم ان کو ان کے اس احسان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
جوانی کی اصل عمر
قول باری ہے ولما بلغ اشدہ اتیناہ حکما ً و علما ً اور جب وہ اپنی پوری جوانی کو پہنچا تو ہم نے اسے قوت فیصلہ اور علم عطا کیا ۔ ایک قول کے مطابق اٹھارہ برس سے لے کر ساٹھ برس کی عمر تک جسمانی قوت و طاقت کو اشد کہا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ بیس برس کے انسان کو اشد کہا جاتا ہے ۔ مجاہد کے قول کے مطابق تینتیس سالہ جوان کو اشد کہا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
36 ۔ خریدار یوسف کی اپنی بیوی کو ہدایت : یعنی عزیز مصر جس کی گوہر شناس نگاہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھتے ہی آپ کے مرتبہ و مقام اور مواہب فطریہ کو پوری طرح پہچان لیا اور آپ کی ذات میں موجود صلاحیتوں اور قابلیتوں کا اس نے فورا اندازہ لگا لیا۔ اس لیے اس نے اپنی بیوی کو آپ کے بارے میں یہ ہدایت کی۔ واقعی۔ قدر زر زرگر بداند، قدر جوہر جوہری۔ قرآن حکیم میں اس شخص کا نام ذکر نہیں فرمایا گیا صرف اس کے عہدے اور منصب کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ یعنی عزیز۔ البتہ بائبل کے مطابق اس کا نام قطفیر یا اطفیر یا فوطیفار تھا۔ اور اس کا یہ منصب وزیراعظم یا الحرس الامیری کے سربراہ یعنی شاہی فوج کے کمانڈر انچیف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–57
انسانی کردار کی مضبوطی، اللہ کی قدرت فیصلہ اور اسباب
ان تمام آیات کا خلاصہ، مقصد اور خاص، خاص حکمتیں تشریح کی صورت میں خلاف معمول ترجمہ سے پہلے لکھی جا رہی ہیں تاکہ آیات کے ترجمہ کے درمیان تسلسل میں فرق نہ پڑے اور مقصد سمجھ میں آتا چلا جائے۔
تشریح : والدین سے جدائی، کنویں کی قید اور پھر غلام بن کر بک جانا۔ یہ سب تو آزمائشیں تھیں جو آپ پر پڑیں اور اب عزیز مصر یعنی رئیس اعظم کے گھر آپ کو مکمل آرام و آسائش کی زندگی ملی اور اب آپ سن بلوغت کو پہنچ گئے تو پھر ایک آزمائش آپ کے اوپر آپڑی۔ آپ انتہائی خوب صورت اور خوب سیرت انسان تھے۔ عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی جب آپ نے اس کی گناہ کرنے کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
آیات 21 تا 29
اسرار و معارف
چنانچہ قافلہ والے اس خزانے کوے کرمصرپہنچے اور فروخت کا بہت اہتمام کیا حتی کہ شاہی محل تک شہرہ پہنچا کہ ایک غلام بکنے کو ہے جس کے حسن کی چمک سورج کو ماند کرتی ہے ۔ قافلوں کا طریقہ کار یہ ہوتا تھا کہ جس شہر میں پہنچتے قیام کرتے اور مال کی خوب شہرت کرکے ایک خاص روز فروخت کے لئے مقرر کردیتے کہ لوگ زیادہ جمع ہوں اور اچھی قیمت لگے ۔ چناچہ خوب خوب بولیاں لگیں ۔ آخرعزیز مصر نے جس کا نام قطفیر تھا خرید لیا اور آپ کے وزن کے برابر سونا مشک اور اتنا ہی ریشمی کپڑاقیمت میں ادا کردیا۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ وزیر تھا اور حکمران عمالقہ میں سے تھا جس کا نام ریان بن اسید تھا۔ لیکن اگر…
Read the full tafseer →ف 13 ۔ حکم دیا یعنی عقل سے مشکل باتیں حل کرتے اور علم سے مراد دین ہے۔ قرآن میں ان دونوں لفظوں سے مراد عموماً نبوت ہوتی ہے دیکھئے قصص آیت 41 ۔ (کذافی ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
(12:21) اکرمی۔ اکرام (افعال) سے امر واحد مؤنث حاضر۔ تو باعزت کر۔
مثوہ۔ مثوی مضاف۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ مضاف الیہ ۔ اس کی قیام گاہ ۔ اس کا ٹھکانہ ۔ اس کی مہمانی۔ مثوی ظرف مکان مثاوی جمع۔ ٹھکانہ۔ دراز مدت تک ٹھہرنے کا مقام۔ ثوی یثوی (ضرب) ثواء وہ اقامت پذیر ہوا ۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے والنار مثوی لہم (47:12) اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ اکرمی مثوہ۔ اس کے قیام کو باعزت و اکرام بنانا۔ یعنی اسے دوران قیام عزت و توقیر سے رکھنا۔
کذلک۔ کاف حرف تشبیہ۔ ذلک اسم اشارہ۔ اس طرح یعنی جس طرح ہم نے اس کو بھائیوں کے ہاتھوں قتل سے بچا کر۔ کنویں کی گہرائیوں سے نجات دلا کر اس پر احسان کیا۔ اسی طرح ہم نے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
لغات القرآن آیت نمبر 21 تا 22
اشتری ٰ (خرید لیا۔ بیچ دیا (دونوں معنی آتے ہیں)
امراء ۃ (عورت ، بیوی)
اکرمی (عزت سے کھ)
مثواہ (ٹھکانا۔ مقام ینفعنا (وہ ہمیں فائدہ دے گا) نتخذ (ہم بنا لیں گے) ولد (بیٹا) کذلک (اسی طرح، اس طرح) مکنا (ہم نے ٹھکانا دیا۔ جما دیا ) نعلم (ہم سکھاتے ہیں ) الاحادیث (حدیث) باتیں غالب (غلبہ و قوت پانے والا) امر (کام) لایعلمون (وہ جانتے نہیں) بلغ (وہ پہنچ گیا) اشدہ (اپنی قوت کو اپنی جو این کو اتینا (ہم نے دیا) حکم (حکم۔ دانائی) علم (علم۔ جاننا) نجزی (ہم بدلہ دیتے ہیں۔ جزا دیتے ہیں المحسنین (نیک کام کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 21 تا 22
عزت اور ذلت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
پھر مالک بن ذعر اور اس کے ساتھی یوسف (علیہ السلام) کو مصر میں لائے اور عزیز مصر کے ہاتھ فروخت کیا۔ عزیز مصر لقب تھا وہاں کے وزیر کا جس کے ہاتھ میں سلطنت کے کل امور ملکی اور مالی اور فوج کے اختیارات تھے۔ مصر کے بادشاہ کا نام ولید ریان یا (ریان بن ولید) تھا اور عزیز مصر کا نام قطفیر تھا۔ عزیز مصر نے یوسف (علیہ السلام) کے ہم وزن سونا اور چاندی اور مشک اور ریشمی کپڑے دے یوسف (علیہ السلام) کو خرید کیا تھا۔ جس کا وزن چار سو رطل تھا یعنی چار من آٹھ سیر چھ ماشہ ہوتا ہے۔ عزیز مصر نے یوسف (علیہ السلام) کو گھر میں لاکر اپنی بیوی کے سپرد کیا جس کا مشہور نام زلیخا تھا، کہا کہ دیکھو اس لڑکے کو نہایت آرام و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
[10] '' علم '' سے مراد وہ علم ہے جو انبیاء کو وحی کے ذریعہ سے عطا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
عفت نفس کی بہترین مثال :
(ف 1) جب یوسف (علیہ السلام) جوان ہوگئے ، تو عزیز مصر کی عورت نے اظہار عشق و محبت شروع کردیا ، اور ایک دن موقع پا کر مکان کے دروازے بند کردیئے ، اور دعوت دی کہ یوسف مصروف عیش ہوں ، آپ نے کمال پاکبازی سے جواب دیا ، کہ یہ کیونکر ممکن ہے عزیز مصر نے مجھ پر احسان کئے ہیں ، اور میں انہیں دھوکہ دوں ، یہ ظلم مجھ سے نہ ہو سکے گا ۔
یہ اس وقت کے تمدن کا صحیح نقشہ ہے ، کہ امراء کی عورتیں عام طور پر عصمت فروش ہوتی تھیں ، اور شہوات نفسانی میں اس درجہ غلو تھا ، کہ اپنے غلاموں سے بھی پرہیز نہیں تھا ، آج کل بھی اونچے طبقوں میں یہی کیفیت ہے کیونکہ دولت کی فراوانی کے ساتھ دینی ضبط اور…
Read the full tafseer →22 اور جب یوسف (علیہ السلام) اپنی جوانی کو پہونچا تو ہم نے اس کو حکمت اور علم عطا فرمایا اور ہم نیکو کاروں کو اسی طرح صلہ سے نوازا کرتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مصر میں عزیر نے مول لیا عزیز کہتے تھے بادشاہ کے مختار کو اس نے ہوشیار دیکھ کر غلاموں کی طرح نہ رکھا فرزند کی طرح رکھا کاروبار میں نائب ہوگا اس طرح حق تعالیٰ نے اس ملک میں ان کا قدم جمایا پھر ان کے سبب سے سارے بنی اسرائیل کو بسایا اور یہ بھی منظور تھا کہ سرداروں کی صحبت دیکھیں تاکہ رمزدو اشارہ سمجھنے کا سلیقہ کمال پکڑیں اور عمل خدائی پورا پائیں اور اللہ بناتا رہتا ہے کام یعنی بھائیوں نے چاہا کہ ان کو گرادیں اسی میں یہ چڑھ گئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ف 5۔ اس میں پہلے سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ جو کچھ آگے قصہ میں بعض امور کی تہمت آپ کی نسبت آئے گی وہ سب غلط ہوگا کیونکہ وہ صاحب حکمت تھے جس کا حاصل ہے علم نافع یعنی علم مع العمل اور ان امور کا صدور غلط ہے۔
Read the full tafseer →یوسف جب جوانی کو پہنچا تو اس کو علم کی فراوانی اور وافر نیک عملی عطا کی گئی
۔ 29 جیسا کہ اوپر آپ پڑھ چکے ہیں فوطی فار نے یوسف کے ساتھ پہلے ہی روز سے غلاموں کا سا معاملہ نہیں کیا بلکہ اپنی اولاد کی طرح عزت و احترام کے ساتھ رکھا اور اپنی ریاست ، دولت و ثروت اور گھریلو زندگی کی تمام ذمہ داریاں اس کے سپرد کردیں اور ان سب کا امین بنا دیا گویا یوں سمجھئے کہ کنعان کے ایک گلہ بان کو آداب جہانداری اور جہاں بانی مکمل طور پر سکھا دیئے اس لئے کہ وہ ان ساری چیزوں کا امین بننے والا تھا۔
اللہ نے بچپن کی پہلی مصیبت یا آزمائش کنعان کی بدوی زندگی سے نکال کر تہذیب و تمدن کے گہوارہ ” مصر “ کے ایک بہت بڑے گھرانے…
Read the full tafseer →In the first sentence of the second verse (22), it is said: وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا (And when he reached at the prime of his age, We gave him wisdom and knowledge ... ).
At what age did he reach the prime of his age? In this, commentators differ. Sayyidna Ibn 'Abbas, Mujahid and Qatadah رحمۃ اللہ علیہم say that his age was thirty three years. Dalhhak jw SII ,~ ~j puts it at twenty, and Hasan al-Basri (رح) at forty. However, all of them agree that the bestowing of wisdom and knowledge upon him referred to at this place means the bestowal of Nubuwwah, the station…
Read the full tafseer →20. By the use of such words as the Quran usually means, We bestowed on him Prophethood, for the Arabic word hukmun stands for both judgment and authority and ilmun stands for that knowledge which is directly revealed to the Prophets by Allah. Thus, the Arabic words of the text will mean: We gave him the power and the authority and the knowledge needed for judging rightly the affairs of the people.
Read the full tafseer →