Yusuf 12:21

Yusuf · from ayah 21

12:21

وَقَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤی اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا ؕ— وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ ؗ— وَلِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ ؕ— وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤی اَمْرِهٖ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ۟وَقَالَ الَّذِى اشۡتَرٰٮهُ مِنۡ مِّصۡرَ لِامۡرَاَتِهٖۤ اَكۡرِمِىۡ مَثۡوٰٮهُ عَسٰٓى اَنۡ يَّـنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَـتَّخِذَهٗ وَلَدًا‌ ؕ وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوۡسُفَ فِى الۡاَرۡضِ وَلِنُعَلِّمَهٗ مِنۡ تَاۡوِيۡلِ الۡاَحَادِيۡثِ‌ؕ وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰٓى اَمۡرِهٖ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‏

اور مصر میں جس شخص نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے (جس کا نام زلیخا تھا) کہا کہ اس کو عزت واکرام سے رکھو عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کو سرزمین (مصر) میں جگہ دی اور غرض یہ تھی کہ ہم ان کو (خواب کی) باتوں کی تعبیر سکھائیں اور خدا اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the one from Egypt who bought him said to his wife, "Make his residence comfortable. Perhaps he will benefit us, or we will adopt him as a son." And thus, We established Joseph in the land that We might teach him the interpretation of events. And Allah is predominant over His affair, but most of the people do not know.

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 3 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:21

مصر کے جس شخص نے اسے خریدا اس نے اپنی بیوی سے کہا "اِس کو اچھی طرح رکھنا، بعید نہیں کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا بنا لیں" اس طرح ہم نے یوسفؑ کے لیے اُس سرزمین میں قدم جمانے کی صورت نکالی اور اسے معاملہ فہمی کی تعلیم دینے کا انتظام کیا اللہ اپنا کام کر کے رہتا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور مصر میں جس شخص نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے (جس کا نام زلیخا تھا) کہا کہ اس کو عزت واکرام سے رکھو عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کو سرزمین (مصر) میں جگہ دی اور غرض یہ تھی کہ ہم ان کو (خواب کی) باتوں کی تعبیر سکھائیں اور خدا اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

مصر والوں میں سے جس نے اسے خریدا تھا اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اسے بہت عزت واحترام کے ساتھ رکھو، بہت ممکن ہے کہ یہ ہمیں فائده پہنچائے یا اسے ہم اپنا بیٹا ہی بنا لیں، یوں ہم نے مصر کی سرزمین میں یوسف کا قدم جما دیا کہ ہم اسے خواب کی تعبیر کا کچھ علم سکھا دیں۔ اللہ اپنے ارادے پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ بے علم ہوتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور مصر کے جس آدمی نے انہیں خریدا، اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ : اس کو عزت سے رکھنا۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے گا، یا پھر ہم اسے بیٹا بنالیں گے، اس طرح ہم نے اس سرزمین میں یوسف کے قدم جمائے تاکہ انہیں باتوں کا صحیح مطلب نکالنا سکھائیں، اور اللہ کو اپنے کام پر پورا قابو حاصل ہے، لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور مصر کے جس شخص نے اسے خریدا وہ اپنی عورت سے بولا انہیں عزت سے رکھو شاید ان سے ہمیں نفع پہنچے یا ان کو ہم بیٹا بنالیں اور اسی طرح ہم نے یوسف کو اس زمین میں جماؤ (رہنے کا ٹھکانا) دیا اور اس لیے کہ اسے باتوں کا انجام سکھائیں ۰ف۵۳) اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے مگر اکثر آدمی نہیں جانتے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور مصر کے جس شخص نے اسے خریدا تھا (اس کا نام قطفیر تھا اور وہ بادشاہِ مصر ریان بن ولید کا وزیر خزانہ تھا اسے عرف عام میں عزیزِ مصر کہتے تھے) اس نے اپنی بیوی (زلیخا) سے کہا: اسے عزت و اکرام سے ٹھہراؤ! شاید یہ ہمیں نفع پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں، اور اس طرح ہم نے یوسف ؑ کو زمین (مصر) میں استحکام بخشا اور یہ اس لئے کہ ہم اسے باتوں کے انجام تک پہنچنا (یعنی علمِ تعبیرِ رؤیا) سکھائیں، اور اﷲ اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جس شخص نے اسے مصر سے خریدا اس نے اپنی بیوی سے کہا اس کی رہائش باعزت رکھ، ہوسکتا ہے کہ ہمیں فائدہ دے، یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اور اسی طرح ہم نے یوسف کو اس زمین میں جگہ دی اور تاکہ ہم اسے باتوں کی اصل حقیقت میں سے کچھ سکھائیں اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور مصر کے جس شخص نے اسے خریدا تھا اس نے اپنی بیوی سے کہا : اسے عزت سے رکھو۔ امید ہے کہ یہ نفع دے گا یا ہوسکتا ہے کہ اسے ہم اپنا بیٹا ہی بنالیں اس طرح ہم نے یوسف کو اس سرزمین میں قدم جمانے کا موقع فراہم کردیا۔ غرض یہ تھی کہ ہم اسے باتوں کی تاویل سکھا دیں اور اللہ اپنے حکم (نافذ کرنے) پر غالب ہے۔ لیکن اکثر لوگ یہ بات جانتے نہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اہل مصر میں سے جس نے اس کو خرید اس نے، اپنی بیوی سے کہا کہ ذرا اس کو خاطر سے رکھیو۔ امید ہے کہ ہمیں نفع پہنچائے یا ہم اس کو بیٹا ہی بنا لیں اور اس طرح ہم نے یوسف کے لیے ملک میں زمین ہموار کی تاکہ ہم اس کو منتخب کریں اور اس کو باتوں کی تعبیر بتائیں اور اللہ اپنے ارادے کی تنفیذ پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور مصر کے جس شخص نے ان کو خریدا، اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس کو اچھی طرح سے رکھنا، ہوسکتا ہے کہ یہ ہمیں کام آئے، یا ہم اس کو اپنا بیٹا ہی بنالیں، اور اس طرح ہم نے یوسف کے لئے اس سرزمین (مصر) میں قدم جمانے کی صورت بھی نکال دی (تاکہ وہاں رہ کر وہ آداب حکمرانی بھی سیکھے) اور تاکہ ہم اس کو باتوں کی تہ تک جانے کا علم بھی عطا کریں، اور اللہ بہرحال کر کے رہتا ہے اپنا کام، لیکن اکثر لوگ جانتے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور جس نے انہیں مصر میں خریدا تھا اس نے اپنی بیوی سے کہ اسے خاطر میں رکھنا کیا عجب کہ ہمارے کام آوے اور یا ہم اس کو بیٹا ہی بنا لیں۔ اور اسی طرح ہم نے یوسف کو (اس) سرزمین میں خوب تمکین دی تاکہ ہم انہیں خوابوں کی تعبیر کی تعلیم دیں۔ اور اللہ اپنے (ہر) کام پر غالب ہے لیکن اکثر انسان (اتنا بھی) نہیں جانتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور مصر کے جس شخص نے یوسف کو خریدا (اس نے) اپنی بیوی سے کہا : اس کو اچھے طریقے سے رکھنا ہوسکتا ہے یہ ہمارے لیے نفع بخش ہو یا پھر ہم اسے اپنا بیٹا ہی بنا لیں اور اس طرح ہم نے یوسف کو اس ملک میں تمکنّ عطا کیا اور تاکہ ہم اس کو سکھائیں باتوں کی تہہ تک پہنچنے کا علم اور اللہ تو اپنے فیصلے پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور مصر میں جس شخص نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی (زلیخا) سے کہا کہ اس کو عزت و اکرام سے رکھو عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کو سرزمین (مصر) میں جگہ دی اور غرض یہ تھی کہ ہم ان کو خوابوں کی تعبیر سکھائیں اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The man from Egypt who bought him said to his wife: "Take good care of him, possibly he might be of benefit to us or we might adopt him as a son." Thus We found a way for Joseph to become established in that land and in order that We might teach him to comprehend the deeper meaning of things. Allah has full power to implement His design although most people do not know that.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And the one who bought him from Egypt said to his wife, :Make his stay graceful. He may be useful for us. Or, we may adopt him as a son. And thus We established Yusuf in the land, so that We should teach him the interpretation of events. Allah is powerful in (enforcing) His command, but most of the people do not know.

— Muhammad Taqi Usmani

And the one who bought him from Egypt said to his wife, :Make his stay graceful. He may be useful for us. Or, we may adopt him as a son. And thus We established Yusuf in the land, so that We should teach him the interpretation of events. Allah is powerful in (enforcing) His command, but most of the people do not know.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And he (the man) from Egypt who bought him, said to his wife: "Make his stay comfortable, maybe he will profit us or we shall adopt him as a son." Thus did We establish Yusuf in the land, that We might teach him the interpretation of events. And Allah has full power and control over His affairs, but most of men know not.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And he of Egypt who purchased him said unto his wife: Receive him honourably. Perchance he may prove useful to us or we may adopt him as a son. Thus we established Joseph in the land that We might teach him the interpretation of events. And Allah was predominant in His career, but most of mankind know not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the one from Egypt who bought him said to his wife, "Make his residence comfortable. Perhaps he will benefit us, or we will adopt him as a son." And thus, We established Joseph in the land that We might teach him the interpretation of events. And Allah is predominant over His affair, but most of the people do not know.

— Saheeh International

The Egyptian who bought him said to his wife, "Be kind to him, perhaps he will be of some benefit to us or we may adopt him." Thus, We settled Joseph in the land so that We could teach him the interpretation of dreams. God has full control over His affairs but most people do not know.

— Muhammad Sarwar

And the Egyptian who bought him said to his wife: Give him an honorable abode, maybe he will be useful to us, or we may adopt him as a son. And thus did We establish Yusuf in the land and that We might teach him the interpretation of sayings; and Allah is the master of His affair, but most people do not know.

— Muhammad Habib Shakir

And he who bought him in Misr said unto his wife: make his dwelling honourable: belike he may profit us or we may take him as a son. And Thus We made a place for Yusuf in the land, and it was in order that We may teach him the interpretation of discourses. And Allah is Dominant in His purpose, but most of men know not.

— Abdul Majid Daryabadi

The man in Egypt who bought him, said to his wife: "Make his stay (among us) honourable: may be he will bring us much good, or we shall adopt him as a son." Thus did We establish Joseph in the land, that We might teach him the interpretation of stories (and events). And Allah hath full power and control over His affairs; but most among mankind know it not.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 21–22

بازار مصر سے شاہی محل تک رب کا لطف بیان ہو رہا ہے کہ جس نے آپ کو مصر میں خریدا، اللہ نے اس کے دل میں آپ کی عزت و وقعت ڈال دی۔ اس نے آپ کے نورانی چہرے کو دیکھتے ہی سمجھ لیا کہ اس میں خیر و صلاح ہے۔ یہ مصر کا وزیر تھا۔ اس کا نام قطفیر تھا۔ کوئی کہتا ہے اطفیر تھا۔ اس کے باپ کا نام دوحیب تھا۔ یہ مصر کے خزانوں کا داروغہ تھا۔ مصر کی سلطنت اس وقت ریان بن ولید کے ہاتھ تھی۔ یہ عمالیق میں سے ایک شخص تھا۔۔ عزیز مصر کی بیوی صاحبہ کا نام راعیل تھا۔ کوئی کہتا ہے زلیخا تھا۔ یہ رعابیل کی بیٹی تھیں۔ ابن عباس کا بیان ہے کہ مصر میں جس نے آپ کو خریدا اس کا نام مالک بن ذعربن قریب بن عنق بن مدیان بن ابراہیم تھا۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یُوْسُف 16 بائیبل میں اس شخص کا نام فوطیفار لکھا ہے۔ قرآن مجید آگے چل کر اسے ”عزیز“ کے لقب سے یاد کرتا ہے، اور پھر ایک دوسرے موقع پر یہی لقب حضرت یوسف ؑ کے لیے بھی استعمال کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص مصر میں کوئی بہت بڑا عہدہ دار یا صاحب منصب تھا، کیونکہ ”عزیز“ کے معنی ایسے بااقتدار شخص کے ہیں جس کی مزاحمت نہ کہ جاسکتی ہو۔ بائیبل اور تلمود کا بیان ہے کہ وہ شاہی جلوداروں (باڈی گارڈ) کا افسر تھا، اور ابن جریر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ شاہی خزانے کا افسر تھا۔ سورة یُوْسُف 17 تلمود میں اس عورت کا نام زَلِیخا (Zeliha) لکھا ہے اور یہیں سے یہ نام مسلمانوں کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر (قافلہ والے یوسف ؑ کو بھائیوں سے خرید کر مصر لے گئے وہاں عزیز مصر کے ہاتھ فروخت کردیا) اور جس شخص نے مصر میں ان کو خریدا تھا (یعنی عزیز) اس نے (ان کو اپنے گھر لا کر اپنی بیوی کے سپرد کیا اور) اپنی بیوی سے کہا کہ اس کو خاطر سے رکھنا کیا عجب ہے کہ (بڑا ہو کر) ہمارے کام آوے، یا ہم اس کو بیٹا بنالیں (مشہور یہ ہے کہ یہ اس لئے کہا کہ ان کے اولاد نہ تھی) اور ہم نے (جس طرح یوسف ؑ کو اپنی خاص عنایت سے اس اندھیرے کنویں سے نجات دی) اسی طرح یوسف کو اس سر زمین (مصر) میں خوب قوت دی (مراد اس سے سلطنت ہے) اور (یہ نجات دینا اس غرض سے بھی تھا) تاکہ ہم ان کو خوابوں کی تعبیر دینا بتلا دیں (مطلب یہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَقَالَ الَّذِي اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖٓ اَكْرِمِيْ مَثْوٰىهُ عَسٰٓى اَنْ يَّنْفَعَنَآ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا ۭ وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ ۡ وَلِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ ۭ وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰٓي اَمْرِهٖ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ ایک نحوی اشکال کی وضاحت : اس آیت میں ایک نحوی اشکال ہے وہ یہ کہ ولنعلمہ کا معطوف علیہ موجود نہیں ہے۔ اس اسلوب کی مثالیں پیچھے بھی گزر چکی ہیں اور ہم اس کی وضاحت کرچکے ہیں کہ کبھی معطوف علیہ کو غایت و ضاحت کی وجہ سے حذف کردیتے ہیں، اس کو قرینہ سے سمجھ لیتے ہیں اور موقع مقتضی ہو تو وہ پاوری بات…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

21۔ 1 کہا جاتا ہے کہ مصر پر اس وقت ریان بن ولید حکمران تھا اور یہ عزیز مصر، جس نے یوسف ؑ کو خریدا اس کا وزیر خزانہ تھا، اس کی بیوی کا نام بعض نے راعیل اور بعض نے زلیخا بتلایا ہے واللہ اعلم۔ 21۔ 2 یعنی جس طرح ہم نے یوسف ؑ کو کنویں سے ظالم بھائیوں سے نجات دی، اسی طرح ہم نے یوسف ؑ کو سرزمین مصر میں ایک معقول اچھا ٹھکانا عطا کیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

13: قرآن کریم کا خاص اسلوب یہ ہے کہ وہ کسی واقعے کو بیان کرتے ہوئے غیر ضروری تفصیلات کا ذکر نہیں کرتا بلکہ واقعے کے اہم حصوں کو بیان کرنے پر اکتفاء کرتا ہے۔ یہاں بھی ایسا ہی ہوا ہے جن لوگوں نے حضرت یوسف ؑ کو فلسطین کے جنگل سے خریدا تھا، چاہے وہ خود قافلے والے ہوں۔ جیسا کہ اوپر کی روایت سے معلوم ہوتا ہے، یا وہ ہوں جنہوں نے قافلے والوں سے خریدا بہر صورت وہ انہیں مصر لے گئے اور وہاں جا کر انہیں بھاری قیمت پر فروخت کیا۔ وہاں جس شخص نے خریدا، وہ مصر کا وزیر خزانہ تھا جسے اس وقت عزیز مصر کہتے تھے اس نے اپنی بیوی کو تاکید کی کہ ان کا خاص خیال رکھیں۔ بیوی کا نام روایات میں زلیخا بتایا گیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

درس نمبر 107 ایک نظر میں یہ سبق اس قصے کے دوسرے حلقے پر مشتمل ہے۔ اب یوسف (علیہ السلام) مصر پہنچ گئے ہیں۔ غلام کی طرح بک گئے ہیں ، لیکن جس شخص نے اسے خریدا ، اس نے دیکھ لیا کہ یہ بچہ نہایت ہی ہونہار ہے۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔ چناچہ اس نے اپنی بیوی کو ان کے بارے میں ہدایات دیں کہ یہ بچہ غیر معمولی ہے۔ یہاں سے حضرت یوسف کے خواب کی تعبیر شروع ہوتی ہے۔ لیکن بلوغ تک پہنچتے پہنچے حضرت یوسف کے لیے ایک دوسرے قسم کا امتحان ابھی باقی تھا۔ حضرت یوسف کو اللہ نے منصب رسالت کے شایان شان علم و حکمت عطا کیا ہوا تھا اور یہ آزمائش ایسی تھی کہ محض اللہ کا فضل و کرم ہی اس امتحان میں کسی کو بچا سکتا تھا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 کہتے ہیں مصر پہنچ کر نیلام ہوا۔ عزیز مصر جو وہاں کا مدارالمہام تھا، اس کی بولی پر معاملہ ختم ہوا۔ اس نے اپنی عورت (زلیخا یا راعیل) سے کہا کہ نہایت پیارا، قبول صورت، اور ہونہار لڑکا معلوم ہوتا ہے۔ اس کو پوری عزت و آبرو سے رکھو۔ غلاموں کا معاملہ مت کرو۔ شاید بڑا ہو کر ہمارے کام آئے۔ ہم اپنا کاروبار اس کے سپرد کردیں۔ یا جب اولاد نہیں ہے تو بیٹا بنالیں۔ 8 یعنی ہم نے اپنی قدرت کاملہ اور تدبیر لطیف سے یوسف کو بھائیوں کی حاسدانہ سختیوں اور کنوئیں کی قید سے نکال کر عزیز مصر کے یہاں پہنچا دیا۔ پھر اس کے دل میں یوسف کی محبت و وقعت القاء فرمائی اس طرح ہم نے ان کو مصر میں ایک معزز جگہ دی اور اہل مصر کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 21 وَقَالَ الَّذِي اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لامْرَاَتِهٖٓ اَكْرِمِيْ مَثْوٰىهُ عَسٰٓى اَنْ يَّنْفَعَنَآ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وہ شخص مصر کی حکومت میں بہت اعلیٰ منصب عزیز مصر پر فائز تھا۔ حضرت یوسف کو بیٹا بنانے کی خواہش سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید اس کے ہاں اولاد نہیں تھی۔ وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ اس طریقے سے اللہ تعالیٰ نے یوسف کو اس دور کی متمدن ترین مملکت میں پہنچا دیا اور وہاں آپ کی رہائش کا بندوبست بھی کیا تو کسی جھونپڑی میں نہیں بلکہ ملک کے ایک بہت بڑے صاحب حیثیت شخص کے گھر میں اور وہ بھی محض ایک غلام کے طور پر نہیں بلکہ خصوصی عزت و اکرام کے انداز…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

19 مصر میں جس شخص نے اس لڑکے کو خریدا وہ کسی اعلیٰ سرکاری منصب پر فائز تھا اور بےاولاد تھا۔ اس نے لڑکے کی شکل و صورت اور عادات و خصائل دیکھ کر ہی یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ یہ لڑکا غلام نہیں ہوسکتا۔ یہ تو کسی معزز خاندان کا ایک فرد ہے جسے حوادث زمانہ نے یہاں تک پہنچا دیا ہے۔ لہذا اس نے اپنے گھر کا سارا انتظام اور کام کاج سیدنا یوسف کے سپرد کردیا اور بیوی سے تاکیداً کہہ دیا کہ اسے غلام نہ سمجھو بلکہ گھر کا ایک فرد سمجھو اور عزت و وقار سے رکھو، یہ ہمارے لیے بہت سود مند ثابت ہوگا اور کیا عجب کہ ہم اسے اپنا متبنّیٰ ہی بنالیں۔ 20 تاویل الاحادیث سے مراد رموز مملکت اور اصول حکمرانی ہیں :۔ عزیز مصر کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

33۔ یہ میاں بیوی لاولد تھے اور اولاد کی تمنا رکھتے تھے، یوسف (علیہ السلام) کی خاطر داریوں کا ذکر توریت میں بھی ہے :۔ ” اور خداوند یوسف کے ساتھ تھا اور وہ صاحب اقبال ہوا، سو وہ اپنے مصری آقا کے گھر میں رہا اور اس کے آقا نے دیکھا کہ خداوند اس کے ساتھ ہے اور یہ کہ خداوند نے اس کے سب کاموں میں اسے اقبال مند کیا چناچہ یوسف (علیہ السلام) اس کی نظر میں مورد لطف ہوا اور اس نے اس کی خدمت کی، اور اس نے اسے اپنے گھر کا مختار کیا اور سب جو کچھ کہ اس کا تھا اس کے قبضہ میں کردیا۔ “ (پیدائش 39: 2۔ 5) (آیت) ” الذی اشتراہ من مصر “۔ قافلہ والے یوسف (علیہ السلام) کو اپنے ہمراہ لائے اور ملک مصر میں بہ حیثیت غلام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–29

آیت نمبر 21 تا 29 ترجمہ : اور اس مصری شخص نے جس نے یوسف کو خریدا تھا جس کا نام قِطْفیر اور (لقب) عزیز تھا، اپنی بیوی زلیخا سے کہا اس کو عزت اور احترام کے ساتھ رکھنا (یعنی اس کو عزت کا مقام دینا اور اچھی طرح دیکھ بھال کرنا) بعید نہیں کہ ہمارے لئے نفع بخش ثابت ہو یا ہم اس کو اپنا بیٹا ہی بنالیں اور عزیز عنّین (نامرد) تھا، اور جس طرح ہم نے یوسف کو قتل اور کنویں سے نجات دی اور عزیز مصر کے دل کو اس کی طرف مائل کیا، اسی طرح ہم نے یوسف کو ملک مصر میں اقتدار عطا کیا حتی کہ وہ پہنچے جس مرتبہ پر پہنچے، (اور ہم نے ان کو قدرت دی) تاکہ ہم اس کو خوابوں کی تعبیر سکھائیں (لِنعلِّمَہٗ ) کا عطف لنملکہٗ محذوف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقال الذی اشتراہ من مصر لامراتہ اور مصر کے جس شخص نے یوسف کو خریدا تھا ‘ اس نے اپنی بیوی راعیل یا زلیخا سے کہا : اکرمی مثوں ہ اس کو خاطر سے رکھنا۔ مثوٰی ٹھہرنے کی جگہ ‘ اس جگہ مراد مرتبہ ہے۔ قتادہ کا یہی قول ہے۔ ابن جریج نے بھی اس کی تائید کی ہے۔ بعض نے کہا : مثوٰی سے مراد ہے : غذا ‘ لباس اور مکان۔ عسی ان ینفعنا امید ہے کہ یہ ہم کو فائدہ پہنچائے۔ یعنی اگر ہم اس کو فروخت کریں تو نفع مل جائے اور اگر نہ فروخت کریں تو ہمارے مال ‘ جائیداد اور دوسرے کاموں کا انتظام کرلے۔ او نتخذہ ولدا یا (بیٹا بنانا ہو تو) ہم اس کو بیٹا بنا لیں گے (کیونکہ اس کے اندر ہم کو ہوشیاری کی علامات دکھائی دے رہی ہیں) عزیز…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(21) مصر میں پہنچ کر مالک بن دعر سے یوسف ؑ کو عزیز نے جو کہ بادشاہ کا خازن اور اس کے لشکروں کا افسر تھا خرید لیا اور عزیز کا نام قطفیر تھا اور زلیخا سے کہا کہ ان کو قدرت و منزلت کے ساتھ رکھنا، ممکن ہے کہ یہ ہمارے کام آئے یا ہم اس کو اپنا لڑکا بنا لیں، اور عزیز نے مالک بن دعر سے حضرت یوسف ؑ کو بیس درہم اور ایک کپڑوں کے اور ایک جوتوں کے جوڑے کے عوض خریدا تھا، اور اسی طریقہ سے ہم نے یوسف ؑ کو سرزمین مصر میں بادشاہت عطا کی۔ اور تاکہ ہم انھیں خوابوں کی تعبیر دینا بتائیں اور اللہ تعالیٰ اپنے ارادہ کیے ہوئے پر خوب غالب و قادر ہے اور کسی کو اس کے ارادہ پر غلبہ وقدرت نہیں لیکن مصر والے اس چیز کو جانتے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَقَالَ الَّذِي اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لامْرَاَتِهٖٓ : قرآن نے اس شخص کے نام اور عہدے کا کہیں ذکر نہیں کیا، البتہ آگے چل کر مصر کی عورتوں نے ”عزیز“ کے لقب سے اس کا ذکر کیا ہے اور یہی لقب بعد میں یوسف ؑ کے لیے بھی استعمال ہوا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص مصر کے بادشاہ کا کوئی وزیر یا بہت بڑے عہدے پر فائز شخص تھا۔ اس کی بیوی کا نام بھی قرآن نے کہیں ذکر نہیں کیا، کیونکہ اس سے کوئی فائدہ نہ تھا، بلکہ یہ پردہ پوشی کے بھی خلاف تھا۔ اس لیے جو لوگ اس خاتون کا نام ”زلیخا“ (زاء کے فتحہ اور لام کے کسرہ کے ساتھ) یا ”راعیل“ بتاتے ہیں، ان کے پاس محض اسرائیلی روایات ہیں، کوئی پختہ دلیل نہیں اور ان کا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 21 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وقال الذی اشترٰئہ من مصرلامراتہٖ اکرمی مثوٰئہ ایک قول یہ ہے : یہاں الاشتراء یعنی الاستبدال ہے کیونکہ یہ عقد نہیں تھا۔ جس طرح : اولٰئک الذین اشتروا الضلٰلۃ بالھدٰی (البقرہ :16) ہے یعنی وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے خریدا (تبدیل کیا) ایک قول یہ ہے : انہوں نے ظاہری حالت میں اس کو خرایدای گمان کیا، تو ظاہر گمان کے مطابق اس لفظ کو جاری کردیا ضحاک نے کہا : وہ آدمی جس نے آپ کو خریدا وہ مصر کا بادشاہ تھا اور اس کا لقب عزیز ہے۔ سہیلی نے کہا : اس کا نام قطفیر ہے ابن اسحاق نے کہا : اطفیر بن رویحب نے اپنی بیوی راعیل کے لیے اسے خریدا۔ مارودی نے اسے ذکر کیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

عزیز مصر کا اپنی بیوی کا نصیحت کرنا : 1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے محمد بن اسحاق (رح) سے فرمایا کہ جس آدمی نے (یوسف (علیہ السلام) کو) خریدا تھا وہ ظفیر بن روحب تھا اور اس کی بیوی کا نام راعیل بن رعائیل تھا۔ 2:۔ ابن اسحاق وابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ شخص جس نے آپ کو عزیز مصر کے پاس بیچا تھا اس کا نام مالک بن ذعر تھا جب اس نے بیچاتو پوچھا تو کون ہے اور مالک مدینہ والوں میں سے تھا جب یوسف (علیہ السلام) نے اس کو بتایا کہ وہ کون ہے اور کس کا بیٹا ہے ؟ تو وہ آپ کی عظیم شان کو پہچان گیا اور کہا اگر مجھے اپنے متعلق بتاتے تو میں تجھ کو کبھی فروخت نہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَقَالَ : اور کہا ] [ الَّذِي : اس نے جس نے ] [ اشْتَرٰىهُ : خریدا ان (علیہ السلام) کو ] [مِنْ مِّصْرَ : مصر سے ] [لِامْرَاَتِهٖٓ: اپنی عورت سے ] [ اَكْرِمِيْ : تو عزت دے ] [ مَثْوٰىهُ : اس (علیہ السلام) کے ٹھکانہ کو ] [ عَسٰٓى: ہوسکتا ہے ] [ ان : کہ ] [ يَّنْفَعَنَآ : وہ نفع دے ہم کو ] [ اَوْ : یا ] [ نَتَّخِذَهٗ : ہم بنالیں اس (علیہ السلام) کو ] [ وَلَدًا : بیٹا ] [وَكَذٰلِكَ : اور اس طرح ] [ مَكَّنَا : ہم نے جما دیا ] [ لِيُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) کو ] [فِي الْاَرْضِ : اس سرزمین میں ] [وَلِنُعَلِمَهٗ : اور تاکہ ہم تعلیم دیں ان (علیہ السلام) کو ] [مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ :…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 20–21

حضرت یوسف (علیہ السلام) کو عزیز مصر کا خریدنا اور اپنے گھر میں اکرام کے ساتھ رکھنا ‘ اور نبوت سے سرفراز کیا جانا جس قافلے نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان کے بھائیوں سے خرید لیا تھا وہ انہیں مصر لے گئے اور وہاں لے جا کر فروخت کردیا۔ خریدنے والا عزیز مصر تھا جو بادشاہ کا وزیر خزانہ تھا اس کے ذمہ مالیات کی دیکھ بھال تھی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بادشاہ تک پہنچنے میں چند سال لگے اولاً عزیز مصر ہی کے گھر میں رہے ‘ عزیز مصر نے ان کو ہونہار دیکھ کر اپنی بیوی سے کہا کہ اس بچہ کو اچھی طرح اکرام کے ساتھ رکھنا ‘ اس کے لیے لیٹنے بیٹھنے کی جگہ اچھی ہو اور اسے کسی قسم کی تکلیف نہ ہو ممکن ہے کہ آئندہ چل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 21–29

ذکر الطاف و عنایات خداوندی با یوسف صدیق (علیہ السلام) و قصہ او بازن عزیز مصر قال اللہ تعالیٰ وقال الذی اشترہ من مصر ..... الیٰ .... انک کنت من الخطئین۔ (ربط) آغاز سورت میں حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ارادہ خداوندی یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو اپنا برگزیدہ بندہ بنائے اور علم تعبیران کو سکھائے اور ان کے آباؤ اجداد کی طرح ان پر اپنی نعمتیں پوری کرے بعد ازاں بھائیوں کا ماجرا ذکر کیا کہ بھائی کو لے جا کر کنوئیں میں ڈالا اور غلام بن اکر گنتی کے دراہم میں فروخت کردیا۔ اب ان آیات میں حق جل شانہ اپنے الطاف و عنایات کا ذکر کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی رحمت سے یوسف (علیہ السلام) کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

18:۔ یہ چوتھا حال ہے۔ قافلے والے یوسف (علیہ السلام) کو معمولی داموں میں مصر میں بیچ کر چلے گئے۔ جس نے قافلہ والوں سے خریدا تھا اس سے شاہ مصر ریان بن ولید کے وزیر خزانہ قطفیر ملقب بعزیز نے خریدا۔ بعض نے لکھا ہے کہ عزیز مصر قطفیر نے براہ راست قافلہ والوں سے خریدا تھا۔ قال ابن عباس انما اشتراہ قطفیر وزیر ملک مصر۔ واکان ھذا العزیز الذی اشتری یوسف علی خزائن الملک (قرطبی ج 9 ص 158) ۔ عزیز مصر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خرید کر گھر لے گیا اور بیوی سے کہا اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور کھانے، پینے اور پہننے کو اچھا دینا ممکن ہے یہ بڑا ہو کر ہمارے کسی کام آئے یا ہم اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے۔ کیونکہ ان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 21–22

ربط آیات گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں گرے ہوئے جب تین دن گزر گئے تو وہاں سے قافلے والوں نے آپ کو نکال لیا۔ یہ قافلہ مدین سے مصر جا رہا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ لوگ مدین کے باشندے تھے جبکہ بعض دوسرے اصحاب کہتے ہیں کہ یہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے خاندان کے لوگ تھے۔ بہرحال دوران سفر قافلے والوں کو کنعان سے یہ بچہ مل گیا۔ ادھر بھائی بھی نگرانی کر رہے تھے۔ جب یوسف (علیہ السلام) قافلے میں پہنچ گئے تو بھائی بھی وہاں پہنچے اور کہا کہ یہ ہمارا بھاگا ہوا غلام ہے ۔ اسے واپس کردیا اگر تم اسے خریدنا چاہو تو ایسا کرسکتے ہو۔ چناچہ برادران یوسف نے بیس درہم کی حقیر رقم کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالَ الَّذِي اشْتَرٰىہُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِہٖٓ اَكْرِمِيْ مَثْوٰىہُ عَسٰٓى اَنْ يَّنْفَعَنَآ اَوْ نَتَّخِذَہٗ وَلَدًا۝ 0ۭ وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ۝ 0 ۡوَلِنُعَلِّمَہٗ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ۝ 0ۭ وَاللہُ غَالِبٌ عَلٰٓي اَمْرِہٖ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۝ 21 مصر المِصْرُ اسم لكلّ بلد ممصور، أي : محدود، يقال : مَصَرْتُ مَصْراً. أي : بنیته، والمِصْرُ : الحدُّ ، ( م ص ر ) المصر ہر محدود شہر کو ( جس کے گرد فصیل ہو ) مصر کہتے ہیں ۔ اور مصرت مصرا دو چیزوں کے مابین حد کو کہتے ہیں كرم الكَرَمُ إذا وصف اللہ تعالیٰ به فهو اسم لإحسانه وإنعامه…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–22

1 ؎ یعنی جو حضرت یوسف ﷺ اور ان کے بھائیوں کے حالات سے سوال کرتے ہیں اس بیان میں ان کے لئے پوری نشانی نبوت حضرت ﷺ کے لئے ہے کس لئے کہ باوجود توریت پاس نہ ہونے اور نہ اس کے پڑھے لکھے ہونے کے اتنے بڑے قصے کو ان باریکیوں اور پہلوئوں کے ساتھ جو اس واقعہ کے ساتھ متعلق ہیں۔ اس طرح سے بیان کردینا کہ توریت کے سرمو بھی خلاف نہ ہوا البتہ ایک معجزہ ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَقَالَ الَّذِی اشْتَرٰہُ مِنْ مِّصْرَلِامْرَاَتِہٖٓ اَکْرِمِیْ مَثْوٰہُ عَسٰٓی اَنْ یَّنْفَعَنَآ اَوْنَتَّخِذَہٗ وَلَدًا ط وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ ز وَلِنُعَلِّمَہٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ ط وَاللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰٓی اَمْرِہٖ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لاَیَعْلَمُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 21) (کہا مصر کے اس شخص نے جس نے یوسف ( علیہ السلام) کو خریدا تھا اپنی بیوی سے اسے عزت و احترام سے ٹھہرائو، بعید نہیں کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا بنالیں اور اس طرح ہم نے یوسف ( علیہ السلام) کو سرزمینِ مصر میں قرار بخشا اور تاکہ ہم اسے خوابوں کی تعبیر سکھائیں اور اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا بازار میں بکنا اور عزیز مصر کا انہیں خریدنا۔ جن اہل علم نے اس سے پہلی آیت کا یہ مفہوم لیا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو فروخت کرنے والے ان کے بھائی تھے۔ انھوں نے مختلف غیر مستند روایات سے ثابت کیا ہے کہ جب قافلہ والے حضرت یوسف کو بیچنے کی غرض سے بازار میں لائے۔ تو ہر خریدار ان پر اس قدر فریفتہ ہوا جس سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بولی لگتے لگتے ڈھیروں درہم و دینار اور قیمتی کپڑوں کے انبار لگ گئے مگر عزیز مصر نے سب سے زیادہ بولی چکا کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خرید لیا۔ آیات کے سیاق وسباق سے یہ بات زیادہ واضح ہوتی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مصر پہنچنا : 21: وَقَالَ الَّذِی اشْتَرٰہُ مِنْ مِّصْرَ اور کہا اس شخص نے جس نے مصر میں یوسف کو خریدا۔ اس کا نام قطفیر تھا اور یہی عزیز ہے جو کہ خزائن مصر پر نگران تھا۔ اور بادشاہ ان دنوں ریان بن ولید تھا۔ یہ یوسف (علیہ السلام) کے ہاتھ پر ایمان لایا اور آپ کی زندگی میں فوت ہوگیا۔ عزیز نے آپ کو آپ کے ہم وزن چاندی اور ریشم اور کستوری کے بدلے میں خریدا۔ آپ کی اس وقت سترہ سال عمر تھی۔ آپ اس کے گھر میں تیرہ سال رہے۔ ریان بن ولید نے 30 سال کی عمر میں وزیر بنا لیا۔ اللہ تعالیٰ نے حکمت و علم دیا۔ جبکہ آپ کی عمر 33 سال ہوئی اور آپ کی عمر 120 سال ہوئی جب وفات پائی۔ لِامْرَاَتِہٖٓ (اپنی بیوی کو) راعیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

مصر میں یوسف کے خریدار 21۔” وقال الذین اشتراہ من مصر لا مراتہ “ اس کا نام راعیل تھا اور بعض نے کہا کہ زلیخا تھا۔ ” اکرمی مثواہ “ یعنی ان کا کھانا پینا ، پہننا ، رہائش وغیرہ اور بعض نے کہا ہے کھانے ، پہننے ، رہائش میں اس کا اکرام کر ، اور قتادہ اور ابن جریج رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے رہنے کی جگہ ان کا اکرام کرو۔ ” عسیٰ ان ینفعنا ‘ ‘ ہم اس کو نفع کے ساتھ بیچ دیں ۔ اگر بیچنے کا ارادہ ہو یا جب ہمارے کچھ کام کرلیں ۔ ” او نتخذہ ولدا ‘ ‘ یعنی ہم اس کو متنبی بنالیں۔ تین اشخاص بڑے فہم و فراست ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ تین لوگ بڑے فراست والے تھے۔ ایک عزیز جس نے یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں کہا ”…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

21۔ 22۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے اپنے الطاف اور مہربانیوں کا حال یوسف (علیہ السلام) پر بیان کیا کہ جب وہ قافلہ جس میں یوسف (علیہ السلام) تھے مصر میں پہنچا تو مالک بن زعر نے یوسف (علیہ السلام) کو عزیز مصر کے ہاتھ فروخت کیا۔ عزیز لقب تھا وہاں کے وزیر کا جس کے ہاتھ میں سلطنت کے کل امور ملکی اور مالی اور فوجی کے اختیارات تھے مصر کے بادشاہ کا نام ولید بن ریان تھا اور عزیز مصر کا نام قطفیر تھا۔ عزیز مصر نے یوسف (علیہ السلام) کے ہم وزن سونا اور چاندی اور مشک اور ریشمی کپڑے دے کر یوسف (علیہ السلام) کو خرید کیا تھا جس کا وزن چار سو رطل تھا ایک رطل نوے مثقال کا ہوتا ہے اور مثقال ساڑھے چار ماشے کا اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یعنی قافلہ یوسف (علیہ السلام) کو لے کر مصر چلا گیا اور وہاں جا کر ان کو فروخت کردیا اور عزیز مصر نے انہیں خرید لیا۔ جب عزیز مصر نے یوسف (علیہ السلام) کو خریدا تو وہ ان کو اچھے لگے، چناچہ اس نے یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں اپنی بیوی کو وصیت کرتے ہوئے کہا اَكْرِمِيْ مَثْوٰىهُ عَسٰٓى اَنْ يَّنْفَعَنَآ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا : اس کو عزت سے رکھ، شاید یہ ہمارے کام آئے یا ہم اس کو بیٹا بنالیں۔ یعنی یہ ہمیں یا تو اس طرح فائدہ دے گا جس طرح خدمت کے ذریعہ سے غلام فائدہ دیتے ہیں یا ہم اس سے اس انداز سے فائدہ اٹھائیں گے جیسے اولاد سے فائدہ اتھایا جاتا ہے۔ یہ بات اس نے اس لیے کہی کہ شاید ان کے ہاں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

عزیز مصر کی فراست قول باری ہے وقال الذی اشتراہ من مصر لا مراتہ اکرمی مثواہ عسی ان ینفعنا او نتخذہ ولدا ۔ مصر میں جس شخص نے اسے خریدا اس نے اپنی بیوی سے کہا اس کو اچھی طرح رکھنا ، بعید نہیں کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔ حضرت عبد اللہ سے مروی ہے کہ فراست کے لحاظ سے تین بہترین انسان گزرے ہیں ۔ اول عزیز مصر جب اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اسے یعنی یوسف کو اچھی طرح رکھنا ، بعید نہیں کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو یا اسے ہم بیٹا بنالیں۔ دوم حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بیٹی جب کہ حضرت موسیٰ کے بارے میں انہوں نے اپنے والد محترم کو مشورہ دیا تھا کہ انہیں غلام رکھ لیا جائے۔ سوم حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 21–22

36 ۔ خریدار یوسف کی اپنی بیوی کو ہدایت : یعنی عزیز مصر جس کی گوہر شناس نگاہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھتے ہی آپ کے مرتبہ و مقام اور مواہب فطریہ کو پوری طرح پہچان لیا اور آپ کی ذات میں موجود صلاحیتوں اور قابلیتوں کا اس نے فورا اندازہ لگا لیا۔ اس لیے اس نے اپنی بیوی کو آپ کے بارے میں یہ ہدایت کی۔ واقعی۔ قدر زر زرگر بداند، قدر جوہر جوہری۔ قرآن حکیم میں اس شخص کا نام ذکر نہیں فرمایا گیا صرف اس کے عہدے اور منصب کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ یعنی عزیز۔ البتہ بائبل کے مطابق اس کا نام قطفیر یا اطفیر یا فوطیفار تھا۔ اور اس کا یہ منصب وزیراعظم یا الحرس الامیری کے سربراہ یعنی شاہی فوج کے کمانڈر انچیف…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–21

بھائیوں کی زیادتی اور سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا مصر پہنچنا تشریح : اس تمام قصہ کو پڑھنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان اکثر حسد کی وجہ سے بعض شرارت اور خباثت میں ایسے برے کام کرجاتا ہے کہ جو خود اس کے اپنے لیے دنیا و آخرت میں رسوائی کا باعث بن جاتے ہیں۔ دغا، فریب، جھوٹ اور ظلم یہ بہت بڑے گناہ ہیں جو انسان صرف اپنی دنیوی کامیابی کے لیے کرجاتا ہے۔ اور یہ بھول جاتا ہے کہ یہ سب کرنے سے کسی کا حقیقت میں نقصان کم ہی ہوتا ہے اصل میں اپنی عاقبت خراب کرلیتا ہے اور دنیا میں بھی کوئی عزت اور کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ اللہ تو ہر اس کام سے واقف ہے جو انسان دوسروں سے چھپا کر کرتا ہے۔ اور پھر اللہ سے بڑا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–29

آیات 21 تا 29 اسرار و معارف چنانچہ قافلہ والے اس خزانے کوے کرمصرپہنچے اور فروخت کا بہت اہتمام کیا حتی کہ شاہی محل تک شہرہ پہنچا کہ ایک غلام بکنے کو ہے جس کے حسن کی چمک سورج کو ماند کرتی ہے ۔ قافلوں کا طریقہ کار یہ ہوتا تھا کہ جس شہر میں پہنچتے قیام کرتے اور مال کی خوب شہرت کرکے ایک خاص روز فروخت کے لئے مقرر کردیتے کہ لوگ زیادہ جمع ہوں اور اچھی قیمت لگے ۔ چناچہ خوب خوب بولیاں لگیں ۔ آخرعزیز مصر نے جس کا نام قطفیر تھا خرید لیا اور آپ کے وزن کے برابر سونا مشک اور اتنا ہی ریشمی کپڑاقیمت میں ادا کردیا۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ وزیر تھا اور حکمران عمالقہ میں سے تھا جس کا نام ریان بن اسید تھا۔ لیکن اگر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 ۔ قرآن نے اس شخص کے نام اور عہدے کا کہیں ذکر نہیں کیا۔ البتہ آگے چل کر مصر کی عورتوں نے ” عزیز “ کے لقب سے اس کا ذکر کیا ہے اور یہی لقب بعد میں حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے لئے بھی استعمال ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص مصر کے بادشاہ کا وزیراعظم تھا۔ بائیبل میں ہے کہ وہ بادشاہ کے باڈی گارڈوں کا افسر اور جیل خانوں کا منتظم تھا۔ اس کی بیوی کے نام ” زلیخا “ کا بھی قرآن نے کہیں ذکر نہیں کیا البتہ بعض مفسرین نے یہ نام لکھا ہے اور وہ بھی غالباً اسرائیلی روایات پر اعتماد کرتے ہوئے۔ کیونکہ یہود کے تلمود میں اس کا اسی نام سے ذکر کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین (رح) نے اس کا نام ” راعیل “ بھی لکھا ہے۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 21–22

(12:21) اکرمی۔ اکرام (افعال) سے امر واحد مؤنث حاضر۔ تو باعزت کر۔ مثوہ۔ مثوی مضاف۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ مضاف الیہ ۔ اس کی قیام گاہ ۔ اس کا ٹھکانہ ۔ اس کی مہمانی۔ مثوی ظرف مکان مثاوی جمع۔ ٹھکانہ۔ دراز مدت تک ٹھہرنے کا مقام۔ ثوی یثوی (ضرب) ثواء وہ اقامت پذیر ہوا ۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے والنار مثوی لہم (47:12) اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ اکرمی مثوہ۔ اس کے قیام کو باعزت و اکرام بنانا۔ یعنی اسے دوران قیام عزت و توقیر سے رکھنا۔ کذلک۔ کاف حرف تشبیہ۔ ذلک اسم اشارہ۔ اس طرح یعنی جس طرح ہم نے اس کو بھائیوں کے ہاتھوں قتل سے بچا کر۔ کنویں کی گہرائیوں سے نجات دلا کر اس پر احسان کیا۔ اسی طرح ہم نے اس…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 21–22

لغات القرآن آیت نمبر 21 تا 22 اشتری ٰ (خرید لیا۔ بیچ دیا (دونوں معنی آتے ہیں) امراء ۃ (عورت ، بیوی) اکرمی (عزت سے کھ) مثواہ (ٹھکانا۔ مقام ینفعنا (وہ ہمیں فائدہ دے گا) نتخذ (ہم بنا لیں گے) ولد (بیٹا) کذلک (اسی طرح، اس طرح) مکنا (ہم نے ٹھکانا دیا۔ جما دیا ) نعلم (ہم سکھاتے ہیں ) الاحادیث (حدیث) باتیں غالب (غلبہ و قوت پانے والا) امر (کام) لایعلمون (وہ جانتے نہیں) بلغ (وہ پہنچ گیا) اشدہ (اپنی قوت کو اپنی جو این کو اتینا (ہم نے دیا) حکم (حکم۔ دانائی) علم (علم۔ جاننا) نجزی (ہم بدلہ دیتے ہیں۔ جزا دیتے ہیں المحسنین (نیک کام کرنے والے) تشریح : آیت نمبر 21 تا 22 عزت اور ذلت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 21–22

پھر مالک بن ذعر اور اس کے ساتھی یوسف (علیہ السلام) کو مصر میں لائے اور عزیز مصر کے ہاتھ فروخت کیا۔ عزیز مصر لقب تھا وہاں کے وزیر کا جس کے ہاتھ میں سلطنت کے کل امور ملکی اور مالی اور فوج کے اختیارات تھے۔ مصر کے بادشاہ کا نام ولید ریان یا (ریان بن ولید) تھا اور عزیز مصر کا نام قطفیر تھا۔ عزیز مصر نے یوسف (علیہ السلام) کے ہم وزن سونا اور چاندی اور مشک اور ریشمی کپڑے دے یوسف (علیہ السلام) کو خرید کیا تھا۔ جس کا وزن چار سو رطل تھا یعنی چار من آٹھ سیر چھ ماشہ ہوتا ہے۔ عزیز مصر نے یوسف (علیہ السلام) کو گھر میں لاکر اپنی بیوی کے سپرد کیا جس کا مشہور نام زلیخا تھا، کہا کہ دیکھو اس لڑکے کو نہایت آرام و…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 21–22

[10] '' علم '' سے مراد وہ علم ہے جو انبیاء کو وحی کے ذریعہ سے عطا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 19–21

یوسف (علیہ السلام) مصر میں : (ف 1) یہاں سے پھر اصل قصہ کا آغاز ہوتا ہے ، حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جب بھائی کنوئیں میں ڈال کر چلے گئے تو وہاں سے ایک قافلہ گزرا اور پانی کی تلاش میں وہ اس کنوئیں پر ٹھہر گیا ، کنوئیں میں ڈول ڈالا ، تو معلوم ہوا کہ اس میں ایک خوش طلعت لڑکا موجود ہے ، وہ مارے مسرت کے چلا اٹھے ، کہنے لگے ، زہے قسمت ، ! ہمیں ایک نہایت حسین لڑکا مل گیا ہے ، اس کے بعد یوسف (علیہ السلام) کو قیمتی سرمایہ سمجھ کو چھپا لیا ، اور مصر میں نہایت سستے داموں یعنی چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا ، کیونکہ وہ اس کی حقیقی قدر و قیمت سے آگاہ نہ تھے ، ۔ خریدار عزیز مصر تھا ، گھر لے جا کر بیوی کو تاکید…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

21 اور اہل مصر میں سے جس شخص نے یوسف (علیہ السلام) کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے کہا اس کو عزت و آبرو سے رکھیو کیا عجب ہے کہ یہ ہم کو فائدہ پہونچائے اور ہم کو اس سے نفع پہونچے یا ہم اس کو بیٹا بنالیں اور متنبی ہی کرلیں اور جس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو کنویں سے نجات دی اسی طرح یوسف (علیہ السلام) کو مصر میں باعزت جگہ دی اور نیز اس لئے کنویں سے نجات دی کہ اس کو باتوں کی کل بٹھانے اور خوابوں کی تعبیر دینے کی تعلیم دیں اور خوابوں کی صحیح تعبیر دینا اس کو بتلا دیں اور اللہ تعالیٰ اپنے کام پر پوری طرح غالب اور قادر ہے لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے۔ یعنی جس شخص نے یوسف (علیہ السلام) کو خریدا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ مطلب یہ کہ نجات دینے سے مقصود یہ تھا کہ دولت ظاہری و باطنی سے مالامال کریں۔ 4۔ یہ جملہ قصہ کے درمیان میں بطور جملہ معترضہ کے آگیا تاکہ بیع وشراء کے ساتھ اول ہی سے سامعین کو معلوم ہوجائے کہ گویہ اس وقت ظاہرا ایسی ناگواری حالت میں ہیں مگر ہم نے ان کو اصل میں سلطنت رفعیہ وعلوم بدیعہ کے لیے بچایا ہے اور یہ حالتیں عارضی اور مقاصد اصلیہ کا مقدر نہیں ہیں کیونکہ ترقی سلطنت کا زینہ عزیز کے گھر کا آنا ہی ہوا اور اسی طرح علوم ووردات قلبیہ کے لیے مکار ومشاق سبب ہوجاتے ہیں پس اس اعتبار سے علوم کے فیضان میں بھی اس کو دخل ہوا اور مشترک طور پر امراء کے گھر میں پرورش پائی سلیقہ و تجربہ بڑھاتا ہے جس کی…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مصر میں یوسف کو خریدنے والے نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس کو عزت سے رکھو ۔ 26 یوسف کے متعلق اللہ تعالیٰ کی کار سازی اور معجزنمائی دیکھو کہ ایک بدوی اور وہ بھی غلام ، ایک متمدن اور صاحب شوکت و حشمت رئیس کے یہاں جب پہنچا تو اپنی معصومیت اور صمت مآب زندگی ، علم و وقار اور امانت و سلیقہ مندی کے پاک اوصاف کی بدولت اس کی آنکھوں کا تارا اور اس کے دل کا مالک بن جاتا ہے اور وہ اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ دیکھو کتنا پیارا بچہ مل گیا ہے اس کے آرام و آرائش کا ہر وقت خیال رکھنا اس کی کسی طرح بھی دل آزادی نہ ہو۔ بلاشبہ اس کی شکل و صورت کسی شاندار مستقبل کی غمازی کر رہی ہے ، ہو سکتا ہے کہ کسی دن ہمارے لئے یہ مفید…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Described in the previous verses was an early account of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) as to how the people from the caravan took him out of the well, and how his brothers made him out to be their escaped slave and traded him for a few dirhams. First of all, they did not know the value and station of their great brother. Secondly, their real purpose was not to make money by selling him - they wanted to remove him away from his father. Therefore, they did not stop at simply selling him because they felt the danger that the caravan may somehow leave him behind as a result of which he…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

16. According to the Bible his name was Potiphar. But the Quran mentions him merely by the title (Al-Aziz). As the Quran uses the same title for Prophet Joseph, when he rose to a high rank, it appears that the person held a high office or rank in Egypt, for the word Aziz stands for a powerful person who cannot be opposed and disobeyed. The Bible and the Talmud say that he was an officer of Pharaoh’s body guards and captain of the guard. And according to a tradition from Ibn Abbas, related by Ibn Jarir, he was the officer of the royal treasury. 17. According to the Talmud the name of his wife…

Read the full tafseer →