Explained with ayahs 19–20
کنویں سے بازار مصر تک
بھائی تو حضرت یوسف کو کنویں میں ڈال کر چل دیئے۔ یہاں تین دن آپ کو اسی اندھیرے کنویں میں اکیلے گذر گئے۔ محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ اس کنویں میں گرا کر بھائی تماشا دیکھنے کے لیے اس کے آس پاس ہی دن بھر پھرتے رہے کہ دیکھیں وہ کیا کرتا ہے اور اس کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے ؟ قدرت اللہ کی کہ ایک قافلہ وہیں سے گزرا۔ انہوں نے اپنے سقے کو پانی کے لے بھیجا۔ اس نے اسی کونے میں ڈول ڈالا، حضرت یوسف ؑ نے اس کی رسی کو مضبوط تھام لیا اور بجائے پانی کے آپ باہر نکلے۔ وہ آپ کو دیکھ کر باغ باغ ہو گیارہ نہ سکا با آواز بلند کہہ اٹھا کہ لو سبحان اللہ یہ تو نوجوان بچہ آگیا۔ دوسری قرأت اس کی یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
سورة یُوْسُف 15
اس معاملہ کی سادہ صورت یہ معلوم ہوتی ہے کہ برادران یوسف ؑ حضرت یوسف ؑ کو کنویں میں پھینک کر چلے گئے تھے بعد میں قافلے والوں نے آکر ان کو وہاں سے نکالا اور مصر لے جاکر بیچ دیا۔ مگر بائیبل کا بیان ہے کہ برادران یوسف ؑ نے بعد میں اسماعیلیوں کے ایک قافلے کو دیکھا اور چاہا کہ یوسف ؑ کو کنویں سے نکال ان کے ہاتھ بیچ دیں۔ لیکن اس پہلے ہی مدین کے سوداگر انہیں کنویں سے نکال چکے تھے۔ ان سوداگروں نے حضرت یوسف ؑ کو بیس روپے میں اسماعیلیوں کے ہاتھ بیچ ڈالا۔ پھر آگے چل کر بائیبل کے مصنفین یہ بھول جاتے ہیں کہ اوپر وہ اسماعیلیوں کے ہاتھ حضرت یوسف ؑ کو فروخت کرا چکے ہیں۔ چناچہ وہ اسماعیلیوں کے…
Read the full tafseer →وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۢ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ لفظ شراء عربی زبان میں خریدنے اور فروخت کرنے دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے یہاں بھی دونوں معنی کا احتمال ہے ضمیر اگر بردران یوسف کی طرف عائد کی جائے تو فروخت کرنے کے معنی ہوں گے اور قافلہ والوں کی طرف عائد کی جائے تو خریدنے کے معنی ہوں گے مطلب یہ ہے کہ بیچ ڈالا برادران یوسف نے یا خرید لیا قافلہ والوں نے یوسف ؑ کو بہت تھوڑی قیمت یعنی گنتی کے چند دراہم کے معاوضہ میں
قرطبی نے فرمایا کہ عرب تجار کی عادت یہ تھی کہ بڑی رقموں کے معاملات وزن سے کیا کرتے تھے اور چھوٹی رقمیں جو چالیس سے زیادہ نہ ہوں ان کے معاملات گنتی سے کیا کرتے تھے اس لئے دراہم کے…
Read the full tafseer →وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۢ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ ۚ وَكَانُوْا فِيْهِ مِنَ الزَّاهِدِيْنَ۔
بخس اور زہد کا مفہوم۔ شری یشری خریدنے اور بیچنے دونوں معنی میں آتا ہے۔ یہاں اپنے دوسرے معنی میں آیا ہے۔ بخس کے معنی ناقص اور حقیر کے ہیں۔ زہد فی الشیء، رغب عنہ و ترکہ۔ یعنی وہ فلاں چیز سے بےرغبت ہوگیا۔ اس کو چھوڑ بیٹھا۔ تارک دنیا کو زاہد اس لیے کہتے ہیں کہ وہ دنیا اور اسباب دنیا سے بےرغبت و بےنیاز ہوجاتا ہے۔
حضرت یوسف ؑ کی فروخت۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے مصر پہنچتے ہی اس کو نہایت حقیر قیمت، گنتی کے چند درم کے عوض بیچ چیا، انہوں نے حضرت یوسف کے حاصل کرنے پر کچھ دام تو خرچ نہیں کیے تھے کہ اپنے د ام وصول…
Read the full tafseer →20۔ 1 بھائیوں یا دوسری تفسیر کی رو سے اہل قافلہ نے بیچا۔
20۔ 2 کیونکہ گری پڑی چیز انسان کو یوں ہی کسی محنت کے بغیر مل جاتی ہے، اس لئے چاہے وہ کتنی بھی قیمتی ہو، اس کی صحیح قدر و قیمت انسان پر واضح نہیں ہوتی۔
Read the full tafseer →12: قرآن کریم کے الفاظ سے تو بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ بیچنے والے قافلے ہی کے لوگ تھے، اور حضرت یوسف ؑ کو اپنے پاس رکھنے سے دلچسپی نہیں تھی بلکہ ان کو بیچ کر جو بھی قیمت ہاتھ آجائے وہ اسے غنیمت سمجھتے تھے، کیونکہ مفت حاصل ہو رہی تھی۔ اس لیے جب کوئی خریدار ملا، انہوں نے اسے تھوڑی سی قیمت پر ہی بیچ دیا۔ البتہ بعض روایات میں واقعے کی یہ تفصیل آئی ہے کہ حضرت یوسف ؑ کے بھائی انہیں کنویں میں ڈال تو گئے تھے۔ لیکن بڑا بھائی یہودا روزانہ ان کی خبر گیری کے لیے آتا تھا اور کچھ کھانا بھی انہیں پہنچا دیتا تھا۔ تیسرے دن جب انہیں کنویں میں نہ پایا تو تلاش کرنے سے وہ قافلے والے مل گئے۔ اس موقع پر دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
اب ہم جلدی سے واپس ہوتے ہیں کہ اندھے کنوئیں میں یوسف (علیہ السلام) کس حال میں ہیں۔ اس طرح اس قصے کی پہلی کڑی ختم ہوتی ہے :
یہ اندھا کنواں شارع عام پر تھا ، شارع عام کے ارد گرد لوگ ہمیشہ پانی کی تلاش میں بوقت ضرورت نکلتے ہی رہتے ہیں۔ خصوصاً بارش کا پانی بھی ایسے کنوؤں میں جمع ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات یہ کنواں خشک بھی ہوتا ہے۔
وجاءت سیارۃ " ادھر ایک قافلہ آیا " عربی میں قافلے کو سیارہ اس لیے کہتے ہیں کہ سیر کے معنی چلنے کے ہیں اور قافلہ بھی ایک طویل سفر پر ہوتا ہے ، اسے نشانہ حوالہ اور فنامہ بھی کہتے ہیں۔
فارسلوا واردھم " اور اس نے اپنے سقے کو پانی لانے کے لیے بھیاج " وارد بمعنی سقہ اسے وارد اس لیے…
Read the full tafseer →5 بھائیوں کو خبر ہوئی کہ قافلہ والے نکال لے گئے۔ وہاں پہنچے اور ظاہر کیا کہ یہ ہمارا غلام بھاگ آیا ہے چونکہ اسے بھاگنے کی عادت ہے اس لیے ہم رکھنا نہیں چاہتے، تم خریدو تو خرید سکتے ہو۔ مگر بہت سخت نگرانی رکھنا کہیں بھاگ نہ جائے کہتے ہیں اٹھارہ درہم یا کم و بیش میں بیچ ڈالا۔ اور نو بھائیوں نے دو دو درہم (تقریبا آٹھ آٹھ آنے) بانٹ لیے۔ ایک بھائی یہودا نے حصہ نہیں لیا۔
6 یعنی اس قدر ارزاں بیچنے سے تعجب مت کرو۔ وہ اتنے بیزار تھے کہ مفت ہی دے ڈالتے تو مستبعد نہ تھا۔ جو پیسے مل گئے غنیمت سمجھا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں آیت میں اس بیع کا ذکر ہے جو قافلہ والوں نے مصر پہنچ کر کی۔ اگر ایسا ہو تو کہا جائے گا…
Read the full tafseer →آیت 20 وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۢ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ ۚ وَكَانُوْا فِيْهِ مِنَ الزَّاهِدِيْنَ
اگرچہ انہوں نے حضرت یوسف کو مال تجارت سمجھ کر چھپایا تھا ‘ مگر مصر پہنچ کر بالکل ہی معمولی قیمت پر فروخت کردیا۔ اس زمانے میں درہم ایک دینار کا چوتھا حصہ ہوتا تھا۔ گویا انہوں نے چندّ چونیوں کے عوض آپ علیہ السلام کو بیچ دیا۔ اس لیے کہ آپ علیہ السلام کے بارے میں اس وقت تک انہیں کوئی خاص دلچسپی نہیں رہی تھی۔ اس کی دو وجوہات تھیں ‘ ایک تو آپ علیہ السلام ان کے لیے مفت کا مال تھے جس پر ان لوگوں کا کوئی سرمایہ وغیرہ نہیں لگا تھا ‘ لہٰذا جو مل گیا انہوں نے اسے غنیمت جانا۔ دوسرے ان لوگوں کو آپ علیہ السلام…
Read the full tafseer →18 یوسف کو بیچنے والے کون تھے ؟ برادران یوسف یا قافلے والے :۔ بائیبل کی روایت کے مطابق تو قرآن کے لفظ (وَشَرَوْہُ ) کی ضمیر کا مرجع برادران یوسف ہیں۔ یعنی برادران یوسف نے سیدنا یوسف (علیہ السلام) کو معمولی سی قیمت کے عوض قافلہ والوں کے ہاتھ بیچ ڈالا۔ کیونکہ وہ یوسف کی خبرگیری رکھتے تھے اور بروقت جھگڑا کھڑا کردیا کہ یہ لڑکا ہمارا غلام ہے جو گھر سے بھاگ آیا تھا اور ہم اس کی تلاش میں تھے۔ بالآخر انہوں نے ان قافلہ والوں سے معمولی سی قیمت کے عوض اس کی سودا بازی کرلی۔ کیونکہ یہ جو رقم انھیں مل رہی تھی مفت میں مل رہی تھی۔ لہذا انہوں نے اتنی قیمت کو بھی غنیمت سمجھا۔ ان کی اصل غرض تو یہی تھی کہ یوسف…
Read the full tafseer →31۔ برادران یوسف کو اس اثناء میں اطلاع مل گئی تھی دوڑے ہوئے آئے اور قافلہ والوں سے کہا یہ تو ہمارا بھاگا ہوا غلام ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ برادران یوسف کو یوسف (علیہ السلام) کی جان سے کوئی دشمنی نہ تھی وہ تو صرف اپنے والد ماجد کے پاس سے ہٹا دینے کے درپے تھے کہ ان کے بعد کود ان کے منظور نظر ہو کر رہیں۔ (آیت) ” دراھم معدودۃ “۔ توریت کا بیان ہے کہ یہ رقم 20 روپیہ تھی، (پیدائش 37: 28) دراھم میں اشارہ اس طرف ہوگیا کہ قیمت میں چاندی ہی کے کچھ سکے ملے نہ کہ سونے کے دینار۔ بعض علماء نے یہاں یہ لکھا ہے کہ جب برادران یوسف نے آپ (علیہ السلام) کو اپنا غلام بیان کیا ہے تو ظاہرا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
آیت نمبر 7 تا 20
ترجمہ : حقیقت یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں کہ وہ گیارہ تھے سوال کرنے والوں کیلئے
بڑی عبرتیں ہیں، اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے آپس میں کہا یوسف اور اس کا حقیقی بھائی بن یامین ہمارے اباجان کیلئے ہمارے مقابلہ میں زیادہ چہیتے ہیں، لَیُوسف مبتداء ہے اور اَحَبُّ اس کی خبر ہے، حالانکہ ہمارا ایک جتھا ہے، ہمارے اباجان ان دونوں کو ہم پر ترجیح دینے کے معاملہ میں کھلی غلطی پر ہیں (ایسا کرو) کہ یوسف کو قتل کردو یا کسی دور ملک میں پہنچا دو (اس تدبیر سے) تمہارے ابا جان کی توجہ خالص تمہاری طرف ہوجائے گی، اس طریقہ پر کہ تمہاری طرف…
Read the full tafseer →وشروہ بثمن بخش دراھم معدودۃ انہوں نے (یعنی برادران یوسف نے) یوسف کو حقیر قیمت یعنی گنتی کے چند درہموں میں بیچ ڈالا۔ بعض اہل علم نے شروہ کا ترجمہ اشترو کیا ہے ‘ یعنی قافلے والوں نے حضرت یوسف کو بہت کم قیمت یعنی چند درہموں میں خرید لیا۔ ضحاک ‘ مقاتل اور سدی نے بخس کا ترجمہ کیا ہے : حرام ‘ کیونکہ آزاد انسان کی قیمت حرام ہے۔ بخس کا لغوی معنی ہے : کم کرنا ‘ گھٹانا۔ مال حرام کی برکت گھٹ جاتی ہے ‘ اسلئے حرام کو بخسکہا۔ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعود نے بخس کا ترجمہ کیا : کھوٹے۔ عکرمہ اور شعبی نے ترجمہ کیا : قلیل ‘ تھوڑے۔ کیونکہ اگر اوقیہ کے برابر درہم ہوتے تو وزن سے بکتے اور خریدے جاتے تھے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
(19۔ 20) اور حضرت یعقوب ؑ نے ان کی باتوں کی تصدیق نہیں کی کیوں کہ انہوں نے پہلی دفعہ کہا تھا کہ ان کو ڈاکوؤں نے مار ڈالا (کرتہ کہیں سے پھٹا ہوا نہیں تھا) اور ادھر مدین سے مسافروں کا ایک قافلہ آنکلا جو مصر جارہا تھا، چناچہ وہ راستہ بھول کر غلط راستہ پر آگئے بالآخر گشت کرتے کرتے مدین اور مصر کے درمیان دونوں کی زمینوں میں آئے وہاں کنواں تھا، چناچہ اس سرزمین پر ٹھہر گئے، اور یہاں ہر ایک قوم نے اپنے اپنے آدمیوں کو پانی کی تلاش میں بھیجا، اتفاق سے عربوں میں سے ایک شخص مالک بن دعر نامی جو حضرت شعیب ؑ کے بھتیجے تھے اس کنوئیں پر آپہنچے جس میں یوسف ؑ تھے اور اس نے اپنا ڈول ڈالا، حضرت یوسف ؑ نے ڈول کو…
Read the full tafseer →وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۢ بَخْسٍ۔۔ :”بَخْسٍ“ کا معنی اصل قیمت سے کم قیمت ہے، جیسے فرمایا : (وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْـيَاۗءَهُمْ) [ الأعراف : 85 ] ”اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو۔“ یعنی قافلے والوں نے اسے تھوڑی قیمت، چند گنے ہوئے درہموں میں بیچ دیا، کیونکہ زیادہ درہم ہوتے تو وہ گننے کے بجائے تول لیے جاتے تھے۔ ”اور وہ اس میں رغبت نہ رکھنے والوں میں سے تھے“ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ قانونی طور پر حقیقی غلام کو نہیں بیچ رہے تھے، اس لیے جو کچھ مل گیا اسے انھوں نے غنیمت سمجھا۔ بےرغبت ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ جلد اس سے خلاصی حاصل کرنا چاہتے تھے، کیونکہ ڈرتے تھے کہ کہیں کوئی ایسا شخص نہ آجائے جو…
Read the full tafseer →آیت نمبر 20
اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وشروہ، شریت بمعنی اشتریت ہے۔ اسی طرح شریعت بمعنی بعت بھی ہے یعنی (خرید نا اور بیچنا دونوں میں یہ مستعمل ہے) شاعر نے کہا :
وشریت بردًا لیتنی من بعد برد کنت ھامہ
اس میں شریت بمعنی بعت ہے یعنی میں نے چادر بیچی۔ دوسرے شاعر نے کہا :
فلما شراھا فاجیت العین عبرۃً وفی الصدر حزاز من اللوم حامز
اس میں بھی شرا سے مراد بیچنا ہے۔
بثمنٍ بخسٍ یعنی تھوڑی قیمت۔ یہ یہاں مصدر ہے جسے اسم کی جگہ پر رکھ دیا گیا ہے، یعنی اصل میں ہے باعوہ بثمن مبخوس یعنی منقوص۔ آپ کے بھائی آپ کی قیمت کے ذریعے کوئی فائدہ نہیں چاہتے تھے بلکہ وہ تو صرف یہ چاہتے تھے…
Read the full tafseer →قافلہ والوں کے ہاتھ چند دراہم کے عوض فروخت ہوئے :
1:۔ ابن جریر ابن منذر رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وشروہ “ کے بارے میں فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے ان کو بیچ دیا جب ڈول لٹکانے والے نے اپنے ڈول کو نکالا تھا۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وشروہ “ کے بارے میں فرمایا کہ آپ کو حقیر سی قیمت کے عوض بیچ دیا پھر فرمایا اور یہ (بیع) حرام تھی ان کے لئے اس کا بیچنا حلال نہیں تھا اور نہ اس کی قیمت کا کھانا ان کے لئے حلال تھا۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وشروہ بثمن…
Read the full tafseer →[وَشَرَوْهُ : اور انھوں نے سودا کیا ان (علیہ السلام) کا ] [ بِثَمَنٍۢ بَخْسٍ : کم قیمت پر ] [ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ : جو کچھ گنتی کے درہم تھے ] [ وَكَانوْا : اور وہ تھے ] [ فِيْهِ : ان (علیہ السلام) میں ] [مِنَ الزَّاهِدِيْنَ : رغبت نہ رکھنے والوں میں سے ]
ز ھـ د
[زُھْدًا : (ف۔ س) کسی چیز میں رغبت نہ رکھنا۔] [زَاھِدٌ: اسم الفاعل ہے۔ رغبت نہ رکھنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 20] [
(آیت۔ 20) دَرَاھِمُ غیر منصرف ہے یہاں بِنَّمَنٍ بِخْسٍ کا بدل ہونے کی وجہ سے دَرَاھِمَ حالت جر میں ہے۔ مَعْدُوْدَۃٍ اس کی صفت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
حضرت یوسف (علیہ السلام) کو عزیز مصر کا خریدنا اور اپنے گھر میں اکرام کے ساتھ رکھنا ‘ اور نبوت سے سرفراز کیا جانا
جس قافلے نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان کے بھائیوں سے خرید لیا تھا وہ انہیں مصر لے گئے اور وہاں لے جا کر فروخت کردیا۔ خریدنے والا عزیز مصر تھا جو بادشاہ کا وزیر خزانہ تھا اس کے ذمہ مالیات کی دیکھ بھال تھی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بادشاہ تک پہنچنے میں چند سال لگے اولاً عزیز مصر ہی کے گھر میں رہے ‘ عزیز مصر نے ان کو ہونہار دیکھ کر اپنی بیوی سے کہا کہ اس بچہ کو اچھی طرح اکرام کے ساتھ رکھنا ‘ اس کے لیے لیٹنے بیٹھنے کی جگہ اچھی ہو اور اسے کسی قسم کی تکلیف نہ ہو ممکن ہے کہ آئندہ چل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
معاملہ برادران یوسف (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ لقد کان فی یوسف واخواتہ ایت ..... الیٰ ..... وکانوا فیہ من الزاھدین۔
بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں نشانیاں اور عبرتیں اور نصیحتیں ہیں ان لوگوں کے لیے جو اس قصہ کو دریافت کرتے ہیں کیونکہ یہ عجیب قصہ اس لائق ہے کہ اس کی خبر دریافت کی جائے کہ حق تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو بےکسی اور بےبسی سے نکال کر مقام سلطنت تک کس طرح پہنچایا یہ اس کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ جو پوچھتے ہیں ان کے لیے اس قصہ میں بہت سی عبرتیں اور نصیحتیں ہیں اور جو نہیں پوچھتے ان کے لیے بھی بہت سی نشانیاں ہیں۔
جبکہ یوسف کے علاتی بھائی آپس میں یہ کہنے لگے کہ البتہ یوسف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
17:۔ یہ قصے کا تیسرا حال ہے۔ ” یٰبُشْرٰی “ اصل میں یا للبشریٰ تھا (رضی) لام کو بعض اوقات گرا دیتے ہیں۔ معنی یوں ہوگے واہ خوشی۔ کنویں کے پاس سے تاجروں کا ایک قافلہ گذرا، انہوں نے پانی کے لیے اپنا آدمی بھیجا اس نے جب ڈول کنویں میں لٹکایا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) ڈول سے لٹک گئے جب اس نے نہایت حسین و جمیل لڑکا ڈول کے ساتھ چمٹا ہوا دیکھا تو اپنے ساتھیوں کو اس کی خوشخبری سنائی۔ ” وَ اَسَرُّوْہُ بِضَاعَۃً “ انہوں نے قافلے کے دوسرے لوگوں سے یوسف (علیہ السلام) کا معاملہ یہ کہہ کر چھپا دیا کہ کنویں والوں نے یہ غلام ہمیں دیا ہے تاکہ ہم اسے بیچ کر رقم ان کو واپس کردیں۔ قال مجاھد اسرہ مالک بن دعر و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
ربط آیات
گزشتہ درس میں برادران یوسف کے منصوبے کا ذکر ہوا کہ وہ یوسف (علیہ السلام) کو اپنے راستے سے ہٹانا چاہتے تھے تاکہ باپ کی ساری توجہ ان کی طرف ہوجائے چناچہ انہوں نے باپ کو ہر طرح سے یقین دلانے کی کوشش کی کہ ہم یوسف (علیہ السلام) کے خیر خواہ ہیں ، آپ اسے ہمارے ساتھ جنگل میں جانے کی جا ازت دے دیں ، یہ وہاں پر کھاپی لے گا اور کھیل کود میں بھی حصہ لے لے گا۔ یعقوب (علیہ السلام) نے تشویش کا اظہار کیا کہ کہ کہیں ایسا نہ کہ تمہاری غفلت کی وجہ سے یوسف (علیہ السلام) کسی حادثے کا شکار ہوجائے ، مگر بھائیوں نے پھر یقین دلایا کہ ہم جیسے مضبوط اور طاقتور بھائیوں کی موجودگی میں ہمارے اس چھوٹے بھائی کو…
Read the full tafseer →وَشَرَوْہُ بِثَمَنٍؚبَخْسٍ دَرَاہِمَ مَعْدُوْدَۃٍ 0ۚ وَكَانُوْا فِيْہِ مِنَ الزَّاہِدِيْنَ 20ۧ
شری
الشِّرَاءُ والبیع يتلازمان، فَالْمُشْتَرِي دافع الثّمن، وآخذ المثمن، والبائع دافع المثمن، وآخذ الثّمن . هذا إذا کانت المبایعة والْمُشَارَاةُ بناضّ وسلعة، فأمّا إذا کانت بيع سلعة بسلعة صحّ أن يتصور کلّ واحد منهما مُشْتَرِياً وبائعا، ومن هذا الوجه صار لفظ البیع والشّراء يستعمل کلّ واحد منهما في موضع الآخر . وشَرَيْتُ بمعنی بعت أكثر، وابتعت بمعنی اشْتَرَيْتُ أكثر، قال اللہ تعالی: وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] ، أي : باعوه،
( ش ر ی ) شراء
اور بیع دونوں لازم ملزوم ہیں ۔ کیونکہ مشتری کے معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–22
1 ؎ یعنی جو حضرت یوسف ﷺ اور ان کے بھائیوں کے حالات سے سوال کرتے ہیں اس بیان میں ان کے لئے پوری نشانی نبوت حضرت ﷺ کے لئے ہے کس لئے کہ باوجود توریت پاس نہ ہونے اور نہ اس کے پڑھے لکھے ہونے کے اتنے بڑے قصے کو ان باریکیوں اور پہلوئوں کے ساتھ جو اس واقعہ کے ساتھ متعلق ہیں۔ اس طرح سے بیان کردینا کہ توریت کے سرمو بھی خلاف نہ ہوا البتہ ایک معجزہ ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
وَجَآئَ تْ سَیَّارَۃٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَھُمْ فَاَدْلٰی دَلْوَہٗ ط قَالَ یٰـبُشْرٰی ھٰذَا غُلٰمٌ ط وَاَسَرُّوْہُ بِضَاعَۃً ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ م بِمَا یَعْمَلُوْنَ ۔ وَشَرَوْہُ بِثَمَنٍ م بَخْسٍ دَرَاھِمَ مَعْدُوْدَۃٍ ج وََکَانُوْا فِیْہِ مِنَ الزَّاھِدِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 19، 20)
(ادھر ایک قافلہ آیا تو اہل قافلہ نے پانی لانے کے لیے اپنے سقے کو بھیجا۔ اس نے ڈول ڈالا تو پکار اٹھا، خوشخبری ہو یہ تو ایک لڑکا ہے اور انھوں نے اسے ایک پونجی سمجھ کر چھپا دیا اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے جو کچھ وہ کررہے تھے۔ اور انھوں نے اس کو ایک حقیر قیمت کے بدلے میں بیچ ڈالا، چند دراہم کے عوض۔ اور وہ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان کے بھائی کنویں میں پھینک کر واپس چلے آئے۔ کچھ دنوں کے بعد ایک قافلہ کنویں کے قریب اترا اور انھوں نے یوسف (علیہ السلام) کو کنویں سے نکال لیا۔
مفسرین کی غالب اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) تین دن تک اس ویران کنویں میں پڑے رہے اور آخری دن ایک قافلہ وہاں سے گزرا جنہوں نے اس زمانے کے دستور کے مطابق ایک آدمی کو اپنے سے پہلے روانہ کیا تاکہ جہاں انہوں نے پڑاؤ ڈالنا ہے اس کے گردو جوار پانی تلاش کرے۔ پانی تلاش کرنے والے شخص نے جب کنویں میں ڈول ڈالا۔ تو حضرت یوسف (علیہ السلام) اس ڈول میں بیٹھ کر باہر نکلے۔ جنہیں…
Read the full tafseer →20: وَ شَرَوْہُ ( اور بیچ دیا انہوں نے) فروخت کردیا بِثَمَنٍ م بَخْسٍ (حقیر قیمت) کھوٹے ناقص قیمت ظاہر نقصان والے نمبر 2۔ کم قیمتدَرَاھِمَ مَعْدُوْدَۃٍ (چندگنتی کے دراہم کے بدلے) دراہم ثمن کا بدل ہے معدودہ قلیل جو شمار ہوسکتے تھے۔ ان کا وزن
نہ کیا گیا انکے ہاں رواج یہ تھا کہ چالیس سے کم دراہم کو گنتے اور چالیس یا اس سے اوپر دراہم کا وزن کرتے اور یہ بیس دراہم تھے۔ وَکَانُوْا فِیْہِ مِنَ الزَّاھِدِیْنَ (اور اس میں بےرغبت تھے) زاہد اس شخص کو کہتے ہیں جو ہاتھ میں جو موجود ہو اس کو معمولی قیمت کے بدلے دے ڈالے۔ نمبر 2۔ شَرَوْہُ کا معنی خرید لیا اسکو قافلہ والوں نے بھائیوں سے اور وہ اسکے متعلق…
Read the full tafseer →خریدار یوسف اور ان کے سکے
20۔” وشروہ “ یعنی انہوں نیب بیچ دیا ۔” بثمن بخس “ ضحاک ، مقاتل اور سدی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ بمعنی حرام ہے اس لیے کہ آزاد کی قیمت حرام ہے اور حرام نام بخس رکھا گیا ہے اس لیے کہ اس میں برکت نہیں ہوتی اور ابن عباس ؓ اور ابن مسعود ؓ نہ سے روایت ہے بخس بمعنی کھوٹے ۔ اور عکرمہ اور شعبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ تھوڑی سی قیمت کے بدلے ۔ ” دراھم “ یہ ثمن سے بدل ہے۔” معدودۃ “ یہاں عدد کا ذکر عبارت ہے ان کے کم ہونے سے اور بعض نے کہا ہے کہ ” معدودۃ “ اس وجہ سے کہا ہے کہ اس زمانے میں وہ لوگ چالیس درہم سے کم کا وزن نہ کرتے تھے ان کو گنتے تھے جب ایک اوقیہ ہوجاتے تو وز ن کرتے۔…
Read the full tafseer →20۔ علمائے مفسرین نے پہلے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں سے جو کچھ خطائیں ہوئی ہیں ان کو گنا ہے کہ قطعی رحم نبی باپ کی نافرمانی معصوم کو غلام بنا کر بیچنا وغیرہ اور پھر اس میں بڑی بحث کی ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی تو نبی تھے ان سے اس طرح کی خطائیں کیوں کر ہوئیں پھر بعضے مفسروں نے یہ جواب دیا ہے کہ جس وقت یہ خطائیں ان سے ہوئیں اس وقت وہ نبی نہیں تھے اس کے بعد ان کو نبوت ہوئی ہے لیکن صحیح قول یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے حق میں اسباط کا لفظ جو آیا ہے اس سے مفسرین نے ان کی نبوت نکالی ہے لیکن جس طرح عرب کی قوم کی شاخوں کو عام طور پر قبائل کہتے ہیں اسی طرح سے حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
آیت 19-20: جناب یوسف (علیہ السلام) کچھ عرصہ اس اندھے کنویں میں پڑے رہے۔ وَجَاۗءَتْ سَيَّارَةٌ : ایک قافلہ آ وارد ہوا۔ یہاں تک کہ ایک قافلہ آیا جو مصر جا رہا تھا۔ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ : انہوں نے اپنے ہر اول سقے کو بھیجا، اس سے مراد وہ شخص ہے جو قافلے کے لیے پانی تلاش کرتا ہے اور ان کے لیے حوض وغیرہ تیار کرتا ہے۔ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ : پس اس نے اپنا ڈول لٹکایا۔ یعنی پانی تلاش کرنے والے اس سقے نے کنوئیں میں اپنا ڈول ڈالا تو یوسف (علیہ السلام) اس ڈول سے چمٹ کر باہر آگئے۔ قَالَ يٰبُشْرٰي ھٰذَا غُلٰمٌ : یعنی وہ بہت خوش ہوا اور بولا یہ تو قیمتی غلام ہے۔ وَاَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً : اور اس کو تجارت…
Read the full tafseer →دراہم کی تشریح
قول باری ہے وشروہ بثمن بخس دراھم معدودۃ آخر کار انہوں نے اسکو تھوڑی سی قیمت پر چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا۔ فراء کا قول ہے کہ ثمن ان درہم و دینار کو کہتے ہیں جو خرید و فروخت اور لین دین کی صورت میں بدل کے طور پر کسی کے ذمے لازم ہوجاتے ہیں۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ظاہر کلام اسی مفہوم پر دلالت کرتا ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ثمن کو درہم کے نام سے موسم کیا اور فرمایا وشروہ بمثن فراء کا قول لغت کے دائرے میں قابل قبو ل ہے۔ جب اس نے یہ بتایا کہ ثمن اس چیز کا نام ہے جو انسان کے ذمہ خرید و فروخت میں بدل کے طور پر لازم ہوجاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے درہم کو مثن کا نام دیا تو یہ بات اس…
Read the full tafseer →34 ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی فروخت ایک حقیر مول کے عوض : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور بیچ دیا انہوں نے یوسف کو گنتی کے کچھ سکوں کے عوض۔ یعنی مصر پہنچنے پر انہوں نے بیچ ڈالا اس (ماہ جبین) کو گنتی کے کچھ درہموں کے عوض۔ یعنی بیس یا بائیس یعنی چالیس سے بہرحال کم۔ کہ دراہم کی گنتی وہ لوگ اسی صورت میں کرتے تھے جب کہ وہ چالیس سے کم ہوں کہ چالیس سے اوپر گنتے نہیں تولتے تھے۔ (محاسن التاویل، المراغی وغیرہ) اور یہاں پر ان دراہم کی صفت معدودۃ وارد ہوئی ہے جو کہ عدد سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی گنتی کے آتے ہیں۔ یعنی گنتی کے کچھ درہموں کے عوض، اور " بخس " کے معنی ناقص اور حقیر کے ہیں۔ سو مصر پہنچنے پر انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–21
بھائیوں کی زیادتی اور سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا مصر پہنچنا
تشریح : اس تمام قصہ کو پڑھنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان اکثر حسد کی وجہ سے بعض شرارت اور خباثت میں ایسے برے کام کرجاتا ہے کہ جو خود اس کے اپنے لیے دنیا و آخرت میں رسوائی کا باعث بن جاتے ہیں۔ دغا، فریب، جھوٹ اور ظلم یہ بہت بڑے گناہ ہیں جو انسان صرف اپنی دنیوی کامیابی کے لیے کرجاتا ہے۔ اور یہ بھول جاتا ہے کہ یہ سب کرنے سے کسی کا حقیقت میں نقصان کم ہی ہوتا ہے اصل میں اپنی عاقبت خراب کرلیتا ہے اور دنیا میں بھی کوئی عزت اور کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ اللہ تو ہر اس کام سے واقف ہے جو انسان دوسروں سے چھپا کر کرتا ہے۔ اور پھر اللہ سے بڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
آیات 7 تا 19
اسرار و معارف
حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا قصہ باعث نصیحت بھی ہے اور باعث عبرت بھی کہ اللہ اپنے مخلص بندوں کی کیسے کیسے حفاظت فرماتا ہے اور ان سے حسد کرنے والے کس طور ناکام ثابت ہوتے ہیں ۔ نیز اس کا ایک مربوط نظام ہے جسے نہ جاننے والے اتفاقات اور حادثات کا نام دیتے ہیں مگر دراصل ایسے تمام امورطے شدہ نظام کی کڑیوں کے طور پر کام کرتے ہیں اور اس طرح تفصیل سے واقعہ کی جزئیات بھی شامل کرکے درست بیان فرمانا آپ ﷺ کا بہت بڑا معجزہ اور وحی الٰہی کی دلیل بھی ہے کہ سوال کرنے والے یہوددی تو مدینہ منورہ سے سوال بھیج رہے تھے مکہ میں تو کوئی یہودی عالم بھی اتنے وسیع مطالعہ کا…
Read the full tafseer →ف 6 ۔ یا قافلہ والوں نے۔ یہ بات سیاق قرآن سے معلوم ہوتی ہے گو حافظ ابن کثیر (رح) نے پہلے مطلب کو اقوی قرار دیا ہے اور اسی کو ہمارے زمانے کے بعض اصحاب حواشی نے ” والظاہر الاول “ کہا ہے جس کی بنیاد حافط ابن کثیر (رح) کے قول پر ہے اور اہل کتاب کے بیان کے مطابق ہے۔
7 ۔ وہ اس سے جلا خلاصی حاصل کرنا چاہتے تھے کیونکہ ڈرتے تھے کہ کہیں کوئی ایسا شخص نمودار نہ ہوجائے جو انہیں اس جرم میں پکڑ لے کہ وہ اس کے آزاد بیٹے کو غلام بنا کر پکڑ لائے ہیں۔ (وحیدی) ۔
Read the full tafseer →(12:20) شروہ انہوں نے اس کو بیچا۔ شراء سے (باب ضرب) جس کے معنی ہیں خریدوفروخت کرنے کے۔ ماضی جمع مذکر غائب ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب (برائے یوسف) اور اگر اس کو خریدنے کے معنی میں لیا جائے تو ضمیر جمع مذکر غائب اہل قافلہ کے لئے ہوگی۔
ثمن بخس۔ موصوف۔ صفت۔ حقیر قیمت۔ بخس ناقص۔ ظلم سے کسی شے کے گھٹانے یا کم کرنے کو بخس کہتے ہیں۔
فیہ من الزاھدین۔ فیہ میں ضمیر ہ واحد مذکر غائب۔ حضرت یوسف کے لئے بھی ہوسکتی ہے اور قیمت کے لئے بھی۔
زاھدین۔ الزھید سے ہے جس کے معنی حقیر چیز کے ہیں۔ اس لئے کسی چیز سے بےرغبتی کرنے والے۔ یا حقیر سی چیز پر راضی ہوجانے والے کو زائد فی الشیٔ کہا جاتا ہے پس وکانوا فیہ من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 20
ارسلوا (انہوں نے بھیجا) وارد (پانی لانے والا) ادلی (اس نے ڈالا۔ نیچے لٹکایا) دلو (ڈول (جس کے ذریعہ کنوئیں سے پانی نکالا جاتا ہے) بشریٰ (خوش خبری) غلام (لڑکا) اسروا (انہوں نے چھپا لیا) بضاعۃ (مال تجارت، پونچی) شروا (انہوں نے فروخت کردیا۔ بیچ دیا) ثمن (قیمت) بخس (گھٹیا۔ بہت تھوڑا) الزاھدین (نفرت کرنے والا۔ قدر نہ کرنے والے)
تشریح آیت نمبر 19 تا 20
حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں نے جب حضرت یوسف کو ایک اندھے کنوئیں میں پھینک دیا اور سارے بھائی جھوٹے آنسو بہاتے اور یہ کہتے ہوئے اپنے والد حضرت یعقوب کے پاس آئے کہ ہماری بیخبر ی میں یوسف کو بھیڑیا کھا گیا اور یوسف کی خون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
حضرت یوسف (علیہ السلام) کو غیبی مدد، کنوئیں سے نجات کا ملنا اور ان کے فروخت ہونے کا ذکر
حضرت یوسف (علیہ السلام) تین روز کنوئیں میں رہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں اس لئے نجات عطا فرمائی کہ ایک قافلہ جو مدین سے مصر کی طف جارہا تھا وہ راستہ بھٹک کر اس جنگل میں جہاں یوسف (علیہ السلام) کنوئیں میں تھے آپڑا اور اس کنوئیں کے قریب ڈیرہ خیمہ نصب کیا۔ ایک شخص جس کا نام مالک تھا پانی بھرنے کنوئیں پر گیا اور ڈول ڈالا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ڈول پکڑ لیا اور اس میں لٹک گئے۔ مالک نے ڈول کھینچا آپ باہر تشریف لائے۔ اس نے آپ کا حسن عالم افروز دیکھا تو نہایت خوشی میں آکر اپنے ساتھوں سے یہ حال کہا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
[9] مطلب یہ ہے کہ انہوں نے مصر پہنچتے ہی یوسف (علیہ السلام) کو نہایت حقیر قیمت کے عوض بیچ دیا۔ انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو حاصل کرنے پر کچھ دام تو خرچ نہیں کئے تھے کہ اپنے دام وصول کرنے اور اس پر کچھ مزید نفع حاصل کرنے کی فکر ہوتی۔ ایک چیز مفت ہاتھ آئی تھی وہ جس قیمت پر بک گئی ان کے لیے نفع تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
یوسف (علیہ السلام) مصر میں :
(ف 1) یہاں سے پھر اصل قصہ کا آغاز ہوتا ہے ،
حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جب بھائی کنوئیں میں ڈال کر چلے گئے تو وہاں سے ایک قافلہ گزرا اور پانی کی تلاش میں وہ اس کنوئیں پر ٹھہر گیا ، کنوئیں میں ڈول ڈالا ، تو معلوم ہوا کہ اس میں ایک خوش طلعت لڑکا موجود ہے ، وہ مارے مسرت کے چلا اٹھے ، کہنے لگے ، زہے قسمت ، ! ہمیں ایک نہایت حسین لڑکا مل گیا ہے ، اس کے بعد یوسف (علیہ السلام) کو قیمتی سرمایہ سمجھ کو چھپا لیا ، اور مصر میں نہایت سستے داموں یعنی چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا ، کیونکہ وہ اس کی حقیقی قدر و قیمت سے آگاہ نہ تھے ، ۔
خریدار عزیز مصر تھا ، گھر لے جا کر بیوی کو تاکید…
Read the full tafseer →20 اور ان کے بھائیوں نے ان کو بہت ہی معمولی اور کم قیمت پر جو گنتی کے چند درہم تھے قافلہ والوں کے ہاتھ فروخت کردیا اور یوسف (علیہ السلام) سے بہت ہی دل برداشتہ اور بےرغبت ہورہے تھے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ اگلے دن بھائی گئے اور کنوئیں میں نہ پایا قافلہ پر دعویٰ کیا جب ثابت ہوا اٹھارہ درم کو بیچ ڈالا قریب ہے پائولی کے نو بھائیوں نے دو دو درہم بانٹے ایک نے حصہ نہ لیا پھر آگے قافلہ والوں نے مصر میں جاکر بیجا حق تعالیٰ نے صریحاً ایک بیچنا فرمایا پردہ پوشی کو لیکن اشارات سے معلوم ہوا کہ سستے مول تو اسی جگہ بیچا ہے 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
ف 1۔ کہ کوئی آکر دعویدار نہ ہو پھر اس کو مصر میں لے جاکر کسی بڑے آدمی کے ہاتھ بیچ کر خوب نفع کماویں گے۔
2۔ کہ بھائی ان کو ببوطن اور قافلہ والے ذریعہ ثمن بنا رہے تھے اور اللہ ان کو شاہ زمن بنارہا تھا۔
Read the full tafseer →اجروں نے یوسف کو چند درہموں کے بدلے فروخت کردیا ، آخر ان کو کیا رغبت تھی ؟
۔ 25 تقریباً دو ہزار سال قبل مسیح ” مصر “ تمدن و تہذیب کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا یہاں کے حکمران عمالقہ (ہیکسوی) تھے جبکہ یوسف (علیہ السلام) کی کنعان سے ایک بدوی غلام کی حیثیت سے مصر میں داخل ہوئے۔ مصر کا دارالسلطنت اس وقت رعمسیس تھا ۔ یہ غالباً اس مقام پر واقع تھا جہاں آج کل ” ان “ کی بستی آباد ہے۔ جغرافیائی حیثیت سے اس کا جائے وقوع مشرق کی جانب دریائے نیل کے قریب بتایا جاتا ہے ، مصری افواج کا افسر شاہی خاندان کا کر اس کو خرید لیا ہے۔ جب کہ اوپر عرض کیا گیا کہ اس زمانے میں مصرف خود کو دنیا کی بہترین مہذب اور متمدن قوم…
Read the full tafseer →Verse 20 begins with the words: وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُودَةٍ (And they sold him for a paltry price, for a few silver-coins, and they were disinterested in him). In Arabic, the word: شِرَا (shira' ) is used for buying and selling both. The probability of both meanings exists here. If the pronoun is reverted back to the brothers of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) ، it will mean selling - and if applied to the people of the caravan, it would mean buying. Thus, the sense would be: ` the brothers of Yusuf sold him - or, the people of the caravan bought him - for a paltry price,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
15. Though the matter of the disposal of Prophet Joseph by his brothers was simple, the Bible has made this very complicated. It is obvious that the brothers threw Joseph into the well and went away. Afterwards a caravan came there and pulled him out and carried him to Egypt where they sold him. But the Bible says that the brothers cast him into a pit: then a company of Ishmaelites came there and they agreed to sell him to them. But in the meantime the Midianite merchantmen had drawn and lifted up Joseph and sold him to the Ishmaelites who brought him into Egypt. (Gen. 37: 25-28). But the…
Read the full tafseer →