Explained with ayahs 19–20
کنویں سے بازار مصر تک
بھائی تو حضرت یوسف کو کنویں میں ڈال کر چل دیئے۔ یہاں تین دن آپ کو اسی اندھیرے کنویں میں اکیلے گذر گئے۔ محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ اس کنویں میں گرا کر بھائی تماشا دیکھنے کے لیے اس کے آس پاس ہی دن بھر پھرتے رہے کہ دیکھیں وہ کیا کرتا ہے اور اس کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے ؟ قدرت اللہ کی کہ ایک قافلہ وہیں سے گزرا۔ انہوں نے اپنے سقے کو پانی کے لے بھیجا۔ اس نے اسی کونے میں ڈول ڈالا، حضرت یوسف ؑ نے اس کی رسی کو مضبوط تھام لیا اور بجائے پانی کے آپ باہر نکلے۔ وہ آپ کو دیکھ کر باغ باغ ہو گیارہ نہ سکا با آواز بلند کہہ اٹھا کہ لو سبحان اللہ یہ تو نوجوان بچہ آگیا۔ دوسری قرأت اس کی یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
سورة یُوْسُف 15
اس معاملہ کی سادہ صورت یہ معلوم ہوتی ہے کہ برادران یوسف ؑ حضرت یوسف ؑ کو کنویں میں پھینک کر چلے گئے تھے بعد میں قافلے والوں نے آکر ان کو وہاں سے نکالا اور مصر لے جاکر بیچ دیا۔ مگر بائیبل کا بیان ہے کہ برادران یوسف ؑ نے بعد میں اسماعیلیوں کے ایک قافلے کو دیکھا اور چاہا کہ یوسف ؑ کو کنویں سے نکال ان کے ہاتھ بیچ دیں۔ لیکن اس پہلے ہی مدین کے سوداگر انہیں کنویں سے نکال چکے تھے۔ ان سوداگروں نے حضرت یوسف ؑ کو بیس روپے میں اسماعیلیوں کے ہاتھ بیچ ڈالا۔ پھر آگے چل کر بائیبل کے مصنفین یہ بھول جاتے ہیں کہ اوپر وہ اسماعیلیوں کے ہاتھ حضرت یوسف ؑ کو فروخت کرا چکے ہیں۔ چناچہ وہ اسماعیلیوں کے…
Read the full tafseer →وَجَاۗءَتْ سَيَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ سیارہ کے معنی قافلہ وارد سے مراد وہ لوگ ہیں جو قافلہ سے آگے رہتے ہیں قافلہ کی ضروریات پانی وغیرہ مہیا کرنا ان کی ذمہ داری ہوتی ہے ادلاء کے معنی کنویں میں ڈول ڈالنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ اتفاقا ایک قافلہ اس سر زمین پر آ نکلا تفسیر قرطبی میں ہے کہ یہ قافلہ ملک شام سے مصر جا رہا تھا راستہ بھول کر اس غیر آباد جنگل میں پہنچ گیا اور پانی لانے والوں کو کنویں پر بھیجا،
لوگوں کی نظر میں یہ اتفاقی واقعہ تھا کہ شامی قافلہ راستہ بھول کر یہاں پہنچا اور اس غیرآباد کنویں سے سابقہ پڑا لیکن راز کائنات کا جاننے والا جانتا ہے کہ یہ سب واقعات ایک…
Read the full tafseer →وَجَاۗءَتْ سَيَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ ۭ قَالَ يٰبُشْرٰي ھٰذَا غُلٰمٌ ۭ وَاَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ۔
" وارد " کا مفہوم : " وارد " کے اصل معنی تو کسی گھاٹ یا چشمہ پر اترنے والے کے ہیں۔ عرب میں قافلے والے یوں کرتے کہ جس کنوئیں میں اترنا ہوتا ذرا پہلے اپنا ایک آدمی اس پر بھیج دیتے کہ وہ پانی وغیرہ کا انتظام کر رکھے۔ یہاں وارد سے وہی مراد ہے۔
خدائے کارساز کی کارسازی : برادران یوسف تو ان کو کنوئیں میں ڈال کر گھر کو سدھارے۔ ادھر رب کریم و کارساز نے یہ انتظام فرمایا کہ ایک قافلہ آ نکلا اور اس نے اپنے پانی کے منتظم کو کنوئیں پر بھیجا۔…
Read the full tafseer →19۔ 1 وارد اس شخص کو کہتے ہیں جو قافلے کے لئے پانی وغیرہ انتظام کرنے کی غرض سے قافلے کے آگے آگے چلتا ہے تاکہ مناسب جگہ دیکھ کر قافلے کو ٹھیرایا جاسکے یہ وراد (جب کنویں پر آیا اور اپنا ڈول نیچے لٹکایا تو حضرت یوسف ؑ نے اس کی رسی پکڑ لی، وارد نے ایک خوش شکل بچہ دیکھا تو اسے اوپر کھنچ لیا اور بڑا خوش ہوا۔ 19۔ 2 بضاعۃ سامان تجارت کو کہتے ہیں اسروہ کا فاعل کون ہے ؟ یعنی یوسف کو سامان تجارت سمجھ کر چھپانے والا کون ہے ؟ اس میں اختلاف ہے۔ حافظ ابن کثیر نے برادران یوسف ؑ کو فاعل قرار دیا ہے مطلب یہ ہے کہ جب ڈول کے ساتھ یوسف ؑ بھی کنویں سے باہر نکل آئے تو وہاں یہ بھائی بھی موجود تھے، تاہم انہوں نے اصل…
Read the full tafseer →11: روایات میں ہے کہ جب حضرت یوسف ؑ کو کنویں میں ڈالا گیا تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے وہ ایک پتھر پر جا بیٹھے تھے۔ جب قافلے کے اس آدمی نے پانی نکالنے کے لیے ڈول کنویں میں ڈالا تو وہ اس ڈول میں سوار ہوگئے اس نے ڈول کھینچا تو حضرت یوسف ؑ کو دیکھ کر اس کے منہ سے بےساختہ وہ الفاظ نکلے جو اس آیت میں بیان فرمائے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
اب ہم جلدی سے واپس ہوتے ہیں کہ اندھے کنوئیں میں یوسف (علیہ السلام) کس حال میں ہیں۔ اس طرح اس قصے کی پہلی کڑی ختم ہوتی ہے :
یہ اندھا کنواں شارع عام پر تھا ، شارع عام کے ارد گرد لوگ ہمیشہ پانی کی تلاش میں بوقت ضرورت نکلتے ہی رہتے ہیں۔ خصوصاً بارش کا پانی بھی ایسے کنوؤں میں جمع ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات یہ کنواں خشک بھی ہوتا ہے۔
وجاءت سیارۃ " ادھر ایک قافلہ آیا " عربی میں قافلے کو سیارہ اس لیے کہتے ہیں کہ سیر کے معنی چلنے کے ہیں اور قافلہ بھی ایک طویل سفر پر ہوتا ہے ، اسے نشانہ حوالہ اور فنامہ بھی کہتے ہیں۔
فارسلوا واردھم " اور اس نے اپنے سقے کو پانی لانے کے لیے بھیاج " وارد بمعنی سقہ اسے وارد اس لیے…
Read the full tafseer →2 کہتے ہیں تین روز تک یوسف (علیہ السلام) کنوئیں میں رہے۔ قدرت الٰہی نے حفاظت کی۔ ایک بھائی یہودا کے دل میں ڈال دیا کہ وہ ہر روز کنوئیں میں کھانا پہنچا آتا تھا۔ ویسے بھی سب بھائی خبر رکھتے تھے کہ مرے نہیں۔ کسی دوسرے ملک کا مسافر نکال لے جائے تو ہمارے درمیان سے یہ کانٹا نکل جائے۔ سچ ہے
عل است سعدی و درچشم دشمناں خار است
آخر مدین سے مصر کو جانے والا ایک قافلہ ادھر سے گزرا، انہوں نے کنواں دیکھ کر اپنا آدمی پانی بھرنے کو بھیجا اس نے ڈول پھانسا تو حضرت یوسف چھوٹے تو تھے ہی ڈول میں ہو بیٹھے اور رسی ہاتھ سے پکڑ لی کھینچنے والے نے ان کا حسن و جمال دیکھ کر بےساختہ خوشی سے پکارا کہ یہ تو عجیب لڑکا ہے…
Read the full tafseer →آیت 19 وَجَاۗءَتْ سَيَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ
جب قافلے چلتے تھے تو ایک آدمی قافلے کے آگے آگے چلتا تھا۔ وہ قافلے کے پڑاؤ کے لیے جگہ کا انتخاب کرتا اور پانی وغیرہ کے انتظام کا جائزہ لیتا۔ قافلے والوں نے اس ڈیوٹی پر مامور شخص کو بھیجا کہ وہ جا کر پانی کا کھوج لگائے۔ اس شخص نے باؤلی دیکھی تو پانی نکالنے کی تدبیر کرنے لگا۔
فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ
حضرت یوسف نے اس کے ڈول کو پکڑ لیا۔ اس نے جب ڈول کھینچا اور حضرت یوسف کو دیکھا تو :
قَالَ يٰبُشْرٰي ھٰذَا غُلٰمٌ ۭ وَاَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً
کہ بہت خوبصورت لڑکا ہے بیچیں گے تو اچھے دام ملیں گے۔
Read the full tafseer →17 قافلہ والوں کا یوسف کو کنوئیں سے نکالنا :۔ برادران یوسف، یوسف (علیہ السلام) کو اس طرح ٹھکانے لگانے کے بعد اس کی خبر اور نگہداشت بھی رکھتے تھے۔ اتفاق سے ایک آدھ دن ہی بعد ایک قافلہ کا جو مدین سے مصر کی طرف جارہا تھا وہاں سے گزر ہوا۔ انہوں نے ایک آدمی کو پانی کی تلاش میں بھیجا جب وہ اس کنویں پر پہنچا اور پانی حاصل کرنے کی خاطر اپنا ڈول اس کنویں میں ڈالا تو یوسف اس ڈول میں بیٹھ گئے اور رسی کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ پانی کھینچنے والے نے جب ڈول اوپر کھینچا تو اس میں پانی کے بجائے ایک خوبصورت لڑکا دیکھا، جسے دیکھ کر اس کی باچھیں کھل گئیں اور خوشی سے فوراً اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا۔ آہا۔ یہ تو خوبصورت…
Read the full tafseer →28۔ (اس کنوئیں کے پاس سے جہاں یوسف (علیہ السلام) مقید تھے اور وہ قافلہ یمن یا مصر کو جارہا تھا) توریت میں یہ تصریح ہے کہ یہ قافلہ بنی اسمعیل کا تھا۔ اور ” وہ روٹی کھانے بیٹھے اور آنکھ اٹھائی اور دیکھا کہ اسمعیلیوں کا ایک قافلہ صنعاء سے گرم مصالح اور روغن بلسان اور مراونٹوں پر لادے ہوئے آتا ہے کہ انھیں مصر کو لے جائیں “۔ (پیدائش 37: 25)
29۔ اور سارے قافلہ والے قدرۃ بڑے خوش ہوئے۔ (آیت) ” غلم “۔ کی تنوین اگر تفخیم کے لئے سمجھی جائے تو ترجمہ ہوگا “۔ ایک بڑا اچھا لڑکا “۔ (آیت) ” فادلی دلوہ “۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اسی کنوئیں میں تھے چناچہ آپ رسی کو تھام کر باہر آگئے۔
30۔ یعنی اس کی نظر سے نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
آیت نمبر 7 تا 20
ترجمہ : حقیقت یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں کہ وہ گیارہ تھے سوال کرنے والوں کیلئے
بڑی عبرتیں ہیں، اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے آپس میں کہا یوسف اور اس کا حقیقی بھائی بن یامین ہمارے اباجان کیلئے ہمارے مقابلہ میں زیادہ چہیتے ہیں، لَیُوسف مبتداء ہے اور اَحَبُّ اس کی خبر ہے، حالانکہ ہمارا ایک جتھا ہے، ہمارے اباجان ان دونوں کو ہم پر ترجیح دینے کے معاملہ میں کھلی غلطی پر ہیں (ایسا کرو) کہ یوسف کو قتل کردو یا کسی دور ملک میں پہنچا دو (اس تدبیر سے) تمہارے ابا جان کی توجہ خالص تمہاری طرف ہوجائے گی، اس طریقہ پر کہ تمہاری طرف…
Read the full tafseer →وجآءت سیارۃ ایک قافلہ ادھر آ گذرا۔ یہ لوگ مدین سے مصر کو جا رہے تھے۔ غلط راستے پر پڑگئے تھے تو کنویں کے قریب اتر پڑے۔ کنواں چرواہوں اور راہ گیروں کیلئے آبادی سے دور تھا۔ اس کا پانی شور تھا ‘ جب حضرت یوسف کو اس میں ڈالا گیا تو اس کا پانی میٹھا ہوگیا۔
فارسلوا واردھم (جب کنویں کے پاس اترے) تو ایک ہر اوّل کو (کنویں سے پانی لینے کیلئے) بھیجا۔ یہ شخص مدین کا باشندہ تھا جس کا نام مالک بن وعر تھا۔ وارد اس شخص کو کہتے ہیں جو قافلہ کے آگے پانی کی تلاش میں بطور ہر اوّل جاتا ہے۔
فادلی دلوہ اس نے (جا کر) اپنا ڈول (کنویں میں) لٹکایا۔
ادْلاَء الدَّلِو کنویں میں ڈول ڈالنا۔ اَدْلَیْتُ الدلو میں نے کنویں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
(19۔ 20) اور حضرت یعقوب ؑ نے ان کی باتوں کی تصدیق نہیں کی کیوں کہ انہوں نے پہلی دفعہ کہا تھا کہ ان کو ڈاکوؤں نے مار ڈالا (کرتہ کہیں سے پھٹا ہوا نہیں تھا) اور ادھر مدین سے مسافروں کا ایک قافلہ آنکلا جو مصر جارہا تھا، چناچہ وہ راستہ بھول کر غلط راستہ پر آگئے بالآخر گشت کرتے کرتے مدین اور مصر کے درمیان دونوں کی زمینوں میں آئے وہاں کنواں تھا، چناچہ اس سرزمین پر ٹھہر گئے، اور یہاں ہر ایک قوم نے اپنے اپنے آدمیوں کو پانی کی تلاش میں بھیجا، اتفاق سے عربوں میں سے ایک شخص مالک بن دعر نامی جو حضرت شعیب ؑ کے بھتیجے تھے اس کنوئیں پر آپہنچے جس میں یوسف ؑ تھے اور اس نے اپنا ڈول ڈالا، حضرت یوسف ؑ نے ڈول کو…
Read the full tafseer →وَجَاۗءَتْ سَيَّارَةٌ۔۔ : یہ قافلہ مصر کی طرف جا رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یوسف ؑ پر یہ احسان ہوا کہ قافلے والوں کی توجہ کنویں سے پانی لانے کی طرف ہوگئی اور یوسف ؑ کو باہر نکلنے کا موقع مل گیا۔ یہاں بات خود بخود سمجھ میں آرہی ہے کہ ڈول والے نے ڈول لٹکایا تو یوسف ؑ اس کے ساتھ لٹک گئے اور اوپر آگئے۔
وَاَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً :”بِضَاعَةً“ کا معنی سامان تجارت ہے، یعنی قافلے والوں پر لازم تھا کہ وہ اردگرد اعلان کرتے، یا یوسف ؑ کے بتانے کے مطابق انھیں ان کے والد کے پاس پہنچا دیتے، مگر وہ ظالم بےدین تھے۔ انھوں نے زبردستی غلام بنا کر سامان تجارت کے طور پر چھپالیا کہ مصر جا کر فروخت کریں گے،…
Read the full tafseer →آیت نمبر 19
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وجآءت سیارہ یعنی گزرنے والا قافلہ جو شام سے مصر کی طرف چل رہا تھا وہ راستہ بھول گئے اور تھک گئے یہاں تک کہ انہوں نے کنویں کے قریب پڑاؤ ڈالا اور کنواں آبادی سے دور صحراء میں تھا۔ وہ چرواہوں کے لیے تھا اور اس کا پانی کھاری تھا لیکن جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اس میں ڈالا گیا تو وہ میٹھا ہوگیا۔ فارسلواواردھم معنی کا اعتبار کرتے ہوئے اس کا ذکر کیا گیا کیونکہ اگر لفظوں کا اعتبار ہوتا تو فارسلت واردھم ہوتا جس طرح کہ وجآءت ہے۔
وارد سے مراد وہ شخص ہے جو پانی کے پاس جاتا ہے تاکہ لوگوں کو پانی پلائے اس کا نام مالک بن دعر تھا وہ عرب عاربہ سے تھا۔ فادلی دلوہ یعنی…
Read the full tafseer →قافلہ والوں نے کنویں سے نکالا :
1:۔ ابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ ایک قافلہ آیا اور وہ کنویں کے قریب آکر رکا، پھر انہوں نے اپنے ایک آدمی کو پانی بھرنے والا ڈول دے کر بھیجا اس نے پانی نکالا تو یوسف باہر نکل آئے وہ لوگ خوش ہوگئے کیونکہ انہوں نے ایک غلام کو پالیا وہ لوگ نہ جانتے تھے اس کے علم کو اور نہ اس کی قدرومنزلت کو جانتے تھے جو ان کے رب کی طرف سے (ان کو حاصل تھی) ان کے بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) سے کوئی دلچسپی نہ تھی انہوں نے اس کو بیچ ڈالا حالانکہ اس کا بیچنا حرام تھا انہوں نے چند دراہم کے بدلہ میں ان کو بیچ…
Read the full tafseer →[وَجَاۗءَتْ : اور آیا ] [ سَيَّارَةٌ: ایک قافلہ ] [فَاَرْسَلُوْا : پھر انھوں نے بھیجا ] [ وَارِدَهُمْ : اپنے بہشتی کو ] [فَاَدْلٰى: تو اس نے کنویں میں لٹکایا ] [ دَلْوَهٗ : اپنا ڈول ] [قَالَ : اس نے کہا ] [ يٰبُشْرٰي : ارے ! خوشخبری ] [ھٰذَا : یہ ] [ غُلٰمٌ: ایک لڑکا ہے ] [ وَاَسَرُّوْهُ : اور انھوں نے چھپایا ان (علیہ السلام) کو ] [ بِضَاعَةً : بطور تجارت کے سامان کے ] [ وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [عَلِيْمٌۢ: جاننے والا ہے ] [ بِمَا : اس کو جو ] [ يَعْمَلُوْنَ : یہ لوگ کرتے ہیں ]
ب ض ع
[بَضْعًا : (ف) کسی چیز کا کچھ حصہ کاٹ کر الگ کرنا۔] [بِضَاعَۃً : مال کا وہ حصہ جو تجارت کے لئے الگ کرلیا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کنویں سے نکلنا اور فروخت کیا جانا
ادھر تو یہ ہوا کہ برادران یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد سے جا کر کہا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا ہے اور ادھر اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کی حفاظت کا یہ انتظام فرمایا کہ راہ گیروں کا ایک قافلہ وہاں پہنچا دیا یہ قافلہ اسی کنویں کے قریب آکر ٹھہرا جس میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان کے بھائیوں نے ڈالا تھا قافلہ والوں نے اپنے میں سے ایک شخص کو پانی لانے کے لیے بھیجا وہ آدمی پانی لینے گیا تو کنویں میں اپنا ڈول ڈال دیا ‘ ڈول کا اندر پہنچنا تھا کہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے اسے پکڑ لیا جب اس شخص نے ڈول کھینچا تو دیکھا کہ ڈول کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
معاملہ برادران یوسف (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ لقد کان فی یوسف واخواتہ ایت ..... الیٰ ..... وکانوا فیہ من الزاھدین۔
بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں نشانیاں اور عبرتیں اور نصیحتیں ہیں ان لوگوں کے لیے جو اس قصہ کو دریافت کرتے ہیں کیونکہ یہ عجیب قصہ اس لائق ہے کہ اس کی خبر دریافت کی جائے کہ حق تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو بےکسی اور بےبسی سے نکال کر مقام سلطنت تک کس طرح پہنچایا یہ اس کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ جو پوچھتے ہیں ان کے لیے اس قصہ میں بہت سی عبرتیں اور نصیحتیں ہیں اور جو نہیں پوچھتے ان کے لیے بھی بہت سی نشانیاں ہیں۔
جبکہ یوسف کے علاتی بھائی آپس میں یہ کہنے لگے کہ البتہ یوسف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
17:۔ یہ قصے کا تیسرا حال ہے۔ ” یٰبُشْرٰی “ اصل میں یا للبشریٰ تھا (رضی) لام کو بعض اوقات گرا دیتے ہیں۔ معنی یوں ہوگے واہ خوشی۔ کنویں کے پاس سے تاجروں کا ایک قافلہ گذرا، انہوں نے پانی کے لیے اپنا آدمی بھیجا اس نے جب ڈول کنویں میں لٹکایا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) ڈول سے لٹک گئے جب اس نے نہایت حسین و جمیل لڑکا ڈول کے ساتھ چمٹا ہوا دیکھا تو اپنے ساتھیوں کو اس کی خوشخبری سنائی۔ ” وَ اَسَرُّوْہُ بِضَاعَۃً “ انہوں نے قافلے کے دوسرے لوگوں سے یوسف (علیہ السلام) کا معاملہ یہ کہہ کر چھپا دیا کہ کنویں والوں نے یہ غلام ہمیں دیا ہے تاکہ ہم اسے بیچ کر رقم ان کو واپس کردیں۔ قال مجاھد اسرہ مالک بن دعر و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
ربط آیات
گزشتہ درس میں برادران یوسف کے منصوبے کا ذکر ہوا کہ وہ یوسف (علیہ السلام) کو اپنے راستے سے ہٹانا چاہتے تھے تاکہ باپ کی ساری توجہ ان کی طرف ہوجائے چناچہ انہوں نے باپ کو ہر طرح سے یقین دلانے کی کوشش کی کہ ہم یوسف (علیہ السلام) کے خیر خواہ ہیں ، آپ اسے ہمارے ساتھ جنگل میں جانے کی جا ازت دے دیں ، یہ وہاں پر کھاپی لے گا اور کھیل کود میں بھی حصہ لے لے گا۔ یعقوب (علیہ السلام) نے تشویش کا اظہار کیا کہ کہ کہیں ایسا نہ کہ تمہاری غفلت کی وجہ سے یوسف (علیہ السلام) کسی حادثے کا شکار ہوجائے ، مگر بھائیوں نے پھر یقین دلایا کہ ہم جیسے مضبوط اور طاقتور بھائیوں کی موجودگی میں ہمارے اس چھوٹے بھائی کو…
Read the full tafseer →وَجَاۗءَتْ سَـيَّارَۃٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَہُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَہٗ 0ۭ قَالَ يٰبُشْرٰي ھٰذَا غُلٰمٌ 0ۭ وَاَسَرُّوْہُ بِضَاعَۃً 0ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ 19
ورد
الوُرُودُ أصله : قصد الماء، ثمّ يستعمل في غيره . يقال : وَرَدْتُ الماءَ أَرِدُ وُرُوداً ، فأنا وَارِدٌ ، والماءُ مَوْرُودٌ ، وقد أَوْرَدْتُ الإبلَ الماءَ. قال تعالی: وَلَمَّا وَرَدَ ماءَ مَدْيَنَ [ القصص/ 23] والوِرْدُ : الماءُ المرشّحُ للوُرُودِ ، والوِرْدُ : خلافُ الصّدر،
( ور د ) الورود
۔ یہ اصلی میں وردت الماء ( ض ) کا مصدر ہے جس کے معنی پانی کا قصد کرنے کے ہے ۔ پھر ہر جگہ کا قصد کرنے پر بولا جاتا ہے اور پانی پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–22
1 ؎ یعنی جو حضرت یوسف ﷺ اور ان کے بھائیوں کے حالات سے سوال کرتے ہیں اس بیان میں ان کے لئے پوری نشانی نبوت حضرت ﷺ کے لئے ہے کس لئے کہ باوجود توریت پاس نہ ہونے اور نہ اس کے پڑھے لکھے ہونے کے اتنے بڑے قصے کو ان باریکیوں اور پہلوئوں کے ساتھ جو اس واقعہ کے ساتھ متعلق ہیں۔ اس طرح سے بیان کردینا کہ توریت کے سرمو بھی خلاف نہ ہوا البتہ ایک معجزہ ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
وَجَآئَ تْ سَیَّارَۃٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَھُمْ فَاَدْلٰی دَلْوَہٗ ط قَالَ یٰـبُشْرٰی ھٰذَا غُلٰمٌ ط وَاَسَرُّوْہُ بِضَاعَۃً ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ م بِمَا یَعْمَلُوْنَ ۔ وَشَرَوْہُ بِثَمَنٍ م بَخْسٍ دَرَاھِمَ مَعْدُوْدَۃٍ ج وََکَانُوْا فِیْہِ مِنَ الزَّاھِدِیْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 19، 20)
(ادھر ایک قافلہ آیا تو اہل قافلہ نے پانی لانے کے لیے اپنے سقے کو بھیجا۔ اس نے ڈول ڈالا تو پکار اٹھا، خوشخبری ہو یہ تو ایک لڑکا ہے اور انھوں نے اسے ایک پونجی سمجھ کر چھپا دیا اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے جو کچھ وہ کررہے تھے۔ اور انھوں نے اس کو ایک حقیر قیمت کے بدلے میں بیچ ڈالا، چند دراہم کے عوض۔ اور وہ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان کے بھائی کنویں میں پھینک کر واپس چلے آئے۔ کچھ دنوں کے بعد ایک قافلہ کنویں کے قریب اترا اور انھوں نے یوسف (علیہ السلام) کو کنویں سے نکال لیا۔
مفسرین کی غالب اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) تین دن تک اس ویران کنویں میں پڑے رہے اور آخری دن ایک قافلہ وہاں سے گزرا جنہوں نے اس زمانے کے دستور کے مطابق ایک آدمی کو اپنے سے پہلے روانہ کیا تاکہ جہاں انہوں نے پڑاؤ ڈالنا ہے اس کے گردو جوار پانی تلاش کرے۔ پانی تلاش کرنے والے شخص نے جب کنویں میں ڈول ڈالا۔ تو حضرت یوسف (علیہ السلام) اس ڈول میں بیٹھ کر باہر نکلے۔ جنہیں…
Read the full tafseer →یوسف ( علیہ السلام) اور قافلہ :
19: وَجَآئَ تْ سَیَّارَۃٌ (ایک قافلہ ادھر آگزرا) یہ قافلہ مدین سے مصر جارہا تھا۔ یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں ڈالے ہوئے تین دن بیت چکے تھے۔ قافلے والے راستہ بھول گے اور کنوئیں کے قریب اتر پڑے یہ آبادی سے دور بیابان کنواں تھا ( مگر یلتقطہ بعض السیا رۃ کا قرینہ اس کے خلاف راستہ کے کنوئیں کی نشاندہی کرتا ہے فافہم) اس کنوئیں کا پانی نمکین تھا۔ یوسف (علیہ السلام) کے ڈالنے سے میٹھا ہوگیا۔ فَاَ رْسَلُوْا وَارِ دَھُمْ (انہوں نے اپنے پانی لانے والے کو بھیجا) وارد ؔ وہ شخص جو قوم کا سقا ہو، اس کا نام مالک بن ذعرالخزاعی تھا۔ فَاَدْلٰی دَلْوَہٗ (اس نے اپنا ڈول لٹکا یا)…
Read the full tafseer →معجزہ یوسف ۔۔۔۔ یوسف کی برکت سے کھارا پانی میٹھاہو گیا۔
تفسیر 19۔” وجاء ت سیارۃ “ یہ مسافر لوگ تھے۔ یہ زمین میں سیر کرتے ہیں اس لیے ان کو سیارہ کہا گیا ہے۔ یہ مدین کے لوگ تھے مصر جا رہے تھے ، راستہ بھول گئے اور اس کنویں کے قریب پڑائو ڈالا یہ کنواں آبادی سے دور تھا اس کا پانی کھارا تھا، جب یوسف (علیہ السلام) کو اس میں ڈالا گیا تو پانی میٹھا ہوگیا ۔ ان لوگوں نے اپنا ایک آدمی جس کا نام مالک بن ذعر تھا پانی تلاش کرنے بھیجا۔ پس یہی مطلب ہے اللہ کے قول ” فارسلوا واردھم “ واردو وہ شخص جو اپنے ساتھیوں سے پانی پر پہلے پہنچے ، اس نے رسیاں اور ڈول سنبھالے۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) کو حسن اپنی دادی سارہ…
Read the full tafseer →19۔ جب یوسف (علیہ السلام) کو تین شبانہ روز کنوئیں میں گزرے تو ایک قافلہ جو مدین سے مصر کو جارہا تھا راہ بھول کر ادھر آنکلا اور اپنا ڈیرہ خیمہ وہاں نصب کیا اور پانی لانے کے واسطے پانی بھرنے والے کو بھیجا جب اس نے کنوئیں میں ڈول ڈالا تو یوسف (علیہ السلام) نے ڈول کو پکڑ لیا جب اوپر آئے تو پنھیارہ ان کے حسن و جمال کو دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا کیوں کہ ان کا حسن بےمثال تھا کسی بشر کی مجال نہیں جو ان کے حسن کی صفت میں زبان کھول سکے وہ پانی والا خوشی میں آکر چیخ اٹھا کہ یہ نہایت ہی خوش نصیبی ہے اور بڑی ہی خوشی کی بات ہے کہ یہ لڑکا ہاتھ آیا۔ تفسیر سدی میں یا بشری ھذا غلام کی تفسیر میں یہ بات بیان کی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
آیت 19-20: جناب یوسف (علیہ السلام) کچھ عرصہ اس اندھے کنویں میں پڑے رہے۔ وَجَاۗءَتْ سَيَّارَةٌ : ایک قافلہ آ وارد ہوا۔ یہاں تک کہ ایک قافلہ آیا جو مصر جا رہا تھا۔ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ : انہوں نے اپنے ہر اول سقے کو بھیجا، اس سے مراد وہ شخص ہے جو قافلے کے لیے پانی تلاش کرتا ہے اور ان کے لیے حوض وغیرہ تیار کرتا ہے۔ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ : پس اس نے اپنا ڈول لٹکایا۔ یعنی پانی تلاش کرنے والے اس سقے نے کنوئیں میں اپنا ڈول ڈالا تو یوسف (علیہ السلام) اس ڈول سے چمٹ کر باہر آگئے۔ قَالَ يٰبُشْرٰي ھٰذَا غُلٰمٌ : یعنی وہ بہت خوش ہوا اور بولا یہ تو قیمتی غلام ہے۔ وَاَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً : اور اس کو تجارت…
Read the full tafseer →قول باری ہے قال یا بشری ھذ ا غلام واسروہ بضاعۃ ً وہ پکار اٹھا ۔ مبارک ہو۔ یہاں تو ایک لڑکا ہے۔ ان لوگوں نے اس کو مال تجارت سمجھ کر چھپالیا ۔ قتادہ اور سدی کا قول ہے کہ جب سقے نے کنوئیں میں ڈول ڈالا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) ڈول کے ساتھ لٹک گئے ۔ سقے نے انہیں دیکھ کر پکارکر کہا کہ مبارک ہو یہاں تو ایک لڑکا ہے ۔ قتادہ کا قول ہے کہ ڈول ڈالنے والے نے اپنے ساتھیوں کو یہ خوش خبری سنائی کہ اسے ایک غلام ہاتھ آیا ہے ۔ سدی کا قول ہے کہ جس شخص کو سقے نے پکار کر خوشخبری سنائی تھی اس کا نام بشری تھا۔
قول باری واسروہ بضاعۃ کی تفسیر میں مجاہد اور سدی کا قول ہے کہ ڈول ڈالنے والے اور اس کے ساتھیوں نے قافلے…
Read the full tafseer →32 ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) تجارتی قافلے کے ہاتھ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ادھر ایک قافلہ وہاں آپہنچا۔ انہوں نے اپنا آدمی پانی لینے کے لیے بھیجا۔ اس نے اپنا ڈول جو کہ کنویں میں ڈالا تو بےساختہ پکار اٹھا کہ اے خوشخبری یہاں تو ایک عظیم الشان لڑکا نکل آیا اور انہوں نے اس کو چھپالیا ایک عمدہ مال تجارت کے طور پر۔ تاکہ وہ خالص انہی کا رہے اور دوسرا کوئی اس کا دعویدار نہ نکل آئے اور اس کی ساری قیمت انہی کو ملے۔ اور چھپانے والوں سے مراد قافلے والے ہیں جنہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں پایا تھا۔ اور دوسرا قول و احتمال اس میں یہ بھی ہے کہ اس سے مراد برادران یوسف ہیں جنہوں نے آپ کو ایک "…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–21
بھائیوں کی زیادتی اور سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا مصر پہنچنا
تشریح : اس تمام قصہ کو پڑھنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان اکثر حسد کی وجہ سے بعض شرارت اور خباثت میں ایسے برے کام کرجاتا ہے کہ جو خود اس کے اپنے لیے دنیا و آخرت میں رسوائی کا باعث بن جاتے ہیں۔ دغا، فریب، جھوٹ اور ظلم یہ بہت بڑے گناہ ہیں جو انسان صرف اپنی دنیوی کامیابی کے لیے کرجاتا ہے۔ اور یہ بھول جاتا ہے کہ یہ سب کرنے سے کسی کا حقیقت میں نقصان کم ہی ہوتا ہے اصل میں اپنی عاقبت خراب کرلیتا ہے اور دنیا میں بھی کوئی عزت اور کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ اللہ تو ہر اس کام سے واقف ہے جو انسان دوسروں سے چھپا کر کرتا ہے۔ اور پھر اللہ سے بڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
آیات 7 تا 19
اسرار و معارف
حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا قصہ باعث نصیحت بھی ہے اور باعث عبرت بھی کہ اللہ اپنے مخلص بندوں کی کیسے کیسے حفاظت فرماتا ہے اور ان سے حسد کرنے والے کس طور ناکام ثابت ہوتے ہیں ۔ نیز اس کا ایک مربوط نظام ہے جسے نہ جاننے والے اتفاقات اور حادثات کا نام دیتے ہیں مگر دراصل ایسے تمام امورطے شدہ نظام کی کڑیوں کے طور پر کام کرتے ہیں اور اس طرح تفصیل سے واقعہ کی جزئیات بھی شامل کرکے درست بیان فرمانا آپ ﷺ کا بہت بڑا معجزہ اور وحی الٰہی کی دلیل بھی ہے کہ سوال کرنے والے یہوددی تو مدینہ منورہ سے سوال بھیج رہے تھے مکہ میں تو کوئی یہودی عالم بھی اتنے وسیع مطالعہ کا…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ حضرت یوسف ( علیہ السلام) اس کی رسی سے لٹ گئے اور اوپر آگئے۔
5 ۔ ان سے یہ نہیں کہا کہ یہ لڑکا ہمیں کنویں سے ملا ہے بلکہ یہ کہا کہ اس کنویں کے مالکوں نے ہمیں یہ لڑکا اس لئے دیا ہے کہ اسے کہیں لے جا کر فروخت کردیں۔ اس صورت میں ” اسروہ بضاعۃ “ میں فاعل کی ضمیر سقاء (وارد) کے لئے ہوگی۔ اور اگر اس کا مرجع حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے بھائی قرار دیئے جائیں تو اس جملہ کا مطلب یہ ہوگا کہ ” یوسف کے بھائیوں نے اس کے پیسے کھرے کرنے کے لئے کنویں میں چھپائے رکھا اس خیال سے کہ اگر کوئی قافلہ اسے نکالے گا تو اس سے کہیں گے یہ تو ہمارا غلام ہے جو کئی روز ہوئے ہمارے ہاں سے بھاگ آیا تھا پھر اسے اس کے ہاتھ…
Read the full tafseer →(12:19) سیارۃ۔ قافلہ (ملاحظہ ہو 12:10) ۔ واردھم۔ اسم فاعل۔ مضاف۔ ہم مضاف الیہ۔ پانی پر پہنچنے والا۔ قافلہ کے آگے جا کر پانی کی تلاش کرنے والا سقہ۔ (ملاحظہ ہو 11:98) انہوں نے اپنا سقہ بھیجا۔
ادلیٰ ۔ اس نے لٹکایا۔ اس نے ڈول لٹکایا۔ ادلاء سے جس کے معنی ڈول ڈالنے اور ڈول کھینچنے کے ہیں۔ ماضی واحد مذکر غائب
یبشری۔ واہ خوشخبری۔ ارے واہ۔ کلمہ تعجب و انبساط۔
اسروہ۔ اسروا۔ ماضی جمع مذکر غائب ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب انہوں نے اس کو چھپالیا ۔ سر سے سرر مادہ ۔ ضمیر واحد مذکر غائب اہل قافلہ کے لئے ہے یا برادران یوسف کے لئے کہ انہوں نے یوسف کی اصلی حقیقت کو چھپالیا اور کہا کہ یہ ہمارا غلام ہے ہم سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 20
ارسلوا (انہوں نے بھیجا) وارد (پانی لانے والا) ادلی (اس نے ڈالا۔ نیچے لٹکایا) دلو (ڈول (جس کے ذریعہ کنوئیں سے پانی نکالا جاتا ہے) بشریٰ (خوش خبری) غلام (لڑکا) اسروا (انہوں نے چھپا لیا) بضاعۃ (مال تجارت، پونچی) شروا (انہوں نے فروخت کردیا۔ بیچ دیا) ثمن (قیمت) بخس (گھٹیا۔ بہت تھوڑا) الزاھدین (نفرت کرنے والا۔ قدر نہ کرنے والے)
تشریح آیت نمبر 19 تا 20
حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں نے جب حضرت یوسف کو ایک اندھے کنوئیں میں پھینک دیا اور سارے بھائی جھوٹے آنسو بہاتے اور یہ کہتے ہوئے اپنے والد حضرت یعقوب کے پاس آئے کہ ہماری بیخبر ی میں یوسف کو بھیڑیا کھا گیا اور یوسف کی خون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
حضرت یوسف (علیہ السلام) کو غیبی مدد، کنوئیں سے نجات کا ملنا اور ان کے فروخت ہونے کا ذکر
حضرت یوسف (علیہ السلام) تین روز کنوئیں میں رہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں اس لئے نجات عطا فرمائی کہ ایک قافلہ جو مدین سے مصر کی طف جارہا تھا وہ راستہ بھٹک کر اس جنگل میں جہاں یوسف (علیہ السلام) کنوئیں میں تھے آپڑا اور اس کنوئیں کے قریب ڈیرہ خیمہ نصب کیا۔ ایک شخص جس کا نام مالک تھا پانی بھرنے کنوئیں پر گیا اور ڈول ڈالا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ڈول پکڑ لیا اور اس میں لٹک گئے۔ مالک نے ڈول کھینچا آپ باہر تشریف لائے۔ اس نے آپ کا حسن عالم افروز دیکھا تو نہایت خوشی میں آکر اپنے ساتھوں سے یہ حال کہا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
[9] مطلب یہ ہے کہ انہوں نے مصر پہنچتے ہی یوسف (علیہ السلام) کو نہایت حقیر قیمت کے عوض بیچ دیا۔ انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو حاصل کرنے پر کچھ دام تو خرچ نہیں کئے تھے کہ اپنے دام وصول کرنے اور اس پر کچھ مزید نفع حاصل کرنے کی فکر ہوتی۔ ایک چیز مفت ہاتھ آئی تھی وہ جس قیمت پر بک گئی ان کے لیے نفع تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
یوسف (علیہ السلام) مصر میں :
(ف 1) یہاں سے پھر اصل قصہ کا آغاز ہوتا ہے ،
حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جب بھائی کنوئیں میں ڈال کر چلے گئے تو وہاں سے ایک قافلہ گزرا اور پانی کی تلاش میں وہ اس کنوئیں پر ٹھہر گیا ، کنوئیں میں ڈول ڈالا ، تو معلوم ہوا کہ اس میں ایک خوش طلعت لڑکا موجود ہے ، وہ مارے مسرت کے چلا اٹھے ، کہنے لگے ، زہے قسمت ، ! ہمیں ایک نہایت حسین لڑکا مل گیا ہے ، اس کے بعد یوسف (علیہ السلام) کو قیمتی سرمایہ سمجھ کو چھپا لیا ، اور مصر میں نہایت سستے داموں یعنی چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا ، کیونکہ وہ اس کی حقیقی قدر و قیمت سے آگاہ نہ تھے ، ۔
خریدار عزیز مصر تھا ، گھر لے جا کر بیوی کو تاکید…
Read the full tafseer →19 ادھر تو یہ ہوا اور ادھر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کنوئیں کے پاس ایک قافلہ آنکلا قافلہ والوں نے اپنے پانی لانے والے کو پانی کے لئے بھیجا اس نے یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں ڈول لٹکایا جب اس ڈول میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو لٹکا ہوا دیکھا تو خوش ہوکر بےساختہ بولا اے خوش قسمتی یہ تو ایک بڑا اچھا لڑکا نکل آیا اور قافلہ والوں نے اس کو تجارت کا مال سمجھ کر چھپالیا اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا تھا جو کارروائیاں وہ کررہے تھے۔
یعنی پانی بھرنے والے نے ڈول ڈالا یوسف (علیہ السلام) نے وہ ڈول پکڑ لیا اور باہر آگئے وہ اس کو دیکھ کر خوشی کے مارے ضبط نہ کرسکا اور بےساختہ ارے یہ تو لڑکا نکل آیا بول اٹھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
ف 1۔ کہ کوئی آکر دعویدار نہ ہو پھر اس کو مصر میں لے جاکر کسی بڑے آدمی کے ہاتھ بیچ کر خوب نفع کماویں گے۔
2۔ کہ بھائی ان کو ببوطن اور قافلہ والے ذریعہ ثمن بنا رہے تھے اور اللہ ان کو شاہ زمن بنارہا تھا۔
Read the full tafseer →قافلہ والوں نے مال تجارت سمجھ کر چھپایا اور بیچنے کے مشورے ہونے لگے
۔ 24 اس طرح یوسف کو اسماعیلی تاجروں نے اپنا غلام بنا لیا اور مال تجارت کے ساتھ مصر کو لے گئے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی کی زندگی کا یہ پہلو اپنے اندر کیسی عظمتیں پنہاں رکھتا ہے اس کا اندازہ وہی کرسکتا ہے جو چشم بصیرت رکھتا ہو ، چھوٹی سی عمر 13 سے 15 سال۔ والدہ کا پہلے ہی انتقال ہوچکا تھا ، باپ کی آغوش محبت تھی وہ بھی چھوٹی ، وطن چھوٹا ، بھائیوں نے بےوفائی کی ، آزادی کی جگہ غلامی نصیب ہوئی مگر ان تمام باتوں کے باوجود نہ شور و شیون ہے ، نہ واویلا ، نہ جزع و فزع ہے اور نہ الحاح وزاری۔ قسمت پر شاکر ، مصائب پر صابر اور رضائے…
Read the full tafseer →There is No Chance or Accident in Divine Arrangements
It is said in verse 19: وَجَاءَتْ سَيَّارَةٌ فَأَرْسَلُوا وَارِدَهُمْ فَأَدْلَىٰ دَلْوَهُ (And there came some wayfarers and sent one of them to go for water. So, he let down his bucket). The word: سَيَّارَةٌ (sayyara) means wayfarers or a caravan. Wrid (وارِد) is a person who moves ahead of the caravan as its vanguard. Such a person is responsible for taking care of the needs of the caravan, water being one of them. Idla أَدْلَىٰ ) means to lower the bucket into the well to draw water. The sense is that a caravan passed by this part…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
15. Though the matter of the disposal of Prophet Joseph by his brothers was simple, the Bible has made this very complicated. It is obvious that the brothers threw Joseph into the well and went away. Afterwards a caravan came there and pulled him out and carried him to Egypt where they sold him. But the Bible says that the brothers cast him into a pit: then a company of Ishmaelites came there and they agreed to sell him to them. But in the meantime the Midianite merchantmen had drawn and lifted up Joseph and sold him to the Ishmaelites who brought him into Egypt. (Gen. 37: 25-28). But the…
Read the full tafseer →