Yusuf 12:18

Yusuf · from ayah 18

12:18

وَجَآءُوْ عَلٰی قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ ؕ— قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا ؕ— فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ ؕ— وَاللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوْنَ ۟وَجَآءُوۡ عَلٰى قَمِيـۡصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ‌ؕ قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَـكُمۡ اَنۡفُسُكُمۡ اَمۡرًا‌ؕ فَصَبۡرٌ جَمِيۡلٌ‌ؕ وَاللّٰهُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوۡنَ

اور ان کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا لہو بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا (کہ حقیقت حال یوں نہیں ہے) بلکہ تم اپنے دل سے (یہ) بات بنا لائے ہو۔ اچھا صبر (کہ وہی) خوب (ہے) اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں خدا ہی سے مدد مطلوب ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they brought upon his shirt false blood. [Jacob] said, "Rather, your souls have enticed you to something, so patience is most fitting. And Allah is the one sought for help against that which you describe."

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 2 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:18

اور وہ یوسفؑ کے قمیص پر جھوٹ موٹ کا خون لگا کر آئے تھے یہ سن کر ان کے باپ نے کہا "بلکہ تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک بڑے کام کو آسان بنا دیا اچھا، صبر کروں گا اور بخوبی کروں گا، جو بات تم بنا رہے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد مانگی جا سکتی ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا لہو بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا (کہ حقیقت حال یوں نہیں ہے) بلکہ تم اپنے دل سے (یہ) بات بنا لائے ہو۔ اچھا صبر (کہ وہی) خوب (ہے) اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں خدا ہی سے مدد مطلوب ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یوسف کے کرتے کو جھوٹ موٹ کے خون سے خون آلود بھی کر ﻻئے تھے، باپ نے کہا یوں نہیں، بلکہ تم نے اپنے دل ہی سے ایک بات بنا لی ہے۔ پس صبر ہی بہتر ہے، اور تمہاری بنائی ہوئی باتوں پر اللہ ہی سے مدد کی طلب ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہ یوسف کی قمیص پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا کرلے آئے۔ ان کے والد نے کہا : (حقیقت یہ نہیں ہے) بلکہ تمہارے دلوں نے اپنی طرف سے ایک بات بنا لی ہے۔ اب تو میرے لیے صبر ہی بہتر ہے۔ اور جو باتیں تم بنا رہے ہو، ان پر اللہ ہی کی مدد درکار ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اس کے کر ُتے پر ایک جھوٹا خون لگا لائے کہا بلکہ تمہارے دلوں نے ایک بات تمہارے واسطے بنالی ہے تو صبر اچھا، اور اللہ ہی مدد چاہتا ہوں ان باتوں پر جو تم بتارہے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ اس کے قمیض پر جھوٹا خون (بھی) لگا کر لے آئے، (یعقوب علیہ السلام نے) کہا: (حقیقت یہ نہیں ہے) بلکہ تمہارے (حاسد) نفسوں نے ایک (بہت بڑا) کام تمہارے لئے آسان اور خوشگوار بنا دیا (جو تم نے کر ڈالا)، پس (اس حادثہ پر) صبر ہی بہتر ہے، اور اﷲ ہی سے مدد چاہتا ہوں اس پر جو کچھ تم بیان کر رہے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ اس کی قمیص پر ایک جھوٹا خون لگا لائے۔ اس نے کہا بلکہ تمہارے لیے تمہارے دلوں نے ایک کام مزین بنادیا ہے، سو (میرا کام) اچھا صبر ہے اور اللہ ہی ہے جس سے اس پر مدد مانگی جاتی ہے جو تم بیان کرتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور وہ یوسف کی قمیص پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا کر لائے۔ یعقوب نے کہا : (بات یوں نہیں) بلکہ تم لوگوں نے ایک (بری) بات کو بنا سنوار لیا ہے۔ خیر اب صبر ہی بہتر ہے اور جو کچھ تم بیان کرتے ہو اس کے متعلق اللہ سے ہی مدد چاہتا ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہ اس کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا لائے۔ اس نے کہا کہ بلکہ یہ تو تمہارے جی کی ایک گھڑی ہوئی بات ہے تو صبر جمیل کی توفیق ملے اور جو کچھ تم بیان کرتے ہو اس میں خدا ہی سہارا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہ اسکی قمیض پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا کرلے آئے یہ سن کر یعقوب نے فرمایا (قصہ یہ نہیں) بلکہ اصل بات یہ ہے کہ تمہارے نفسوں نے تمہارے لئے ایک بات بنا لی ہے پس میں صبر جمیل ہی سے کام لوں گا، اور ان باتوں پر اللہ ہی سے مدد مانگتا ہوں، جو تم بنا رہے ہو

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان کے کرتہ پر جھوٹ موٹ کا خون (بھی) لگا لائے (اس پر یعقوب علیہ السلام) بولے ہاں (یہ کہو کہ) تم نے اپنے دل سے ایک بات بنالی ہے۔ سو صبر (ہی) اچھا ہے اور تم جو کچھ بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی مدد کرے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ اس کی قمیص پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا لائے حضرت یعقوب نے فرمایا : (واقعہ یوں نہیں) بلکہ تمہارے نفسوں نے تمہارے لیے ایک بڑے کام کو آسان بنا دیا ہے اب صبر ہی بہتر ہے اور اللہ ہی کی مدد طلب کی جاسکتی ہے اس پر جو تم بیان کر رہے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان کی قمیض پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا (کہ اصل میں ایسا نہیں ہے،) بلکہ تم اپنے دل سے یہ بات بنا لائے ہو۔ اچھا صبر ہی اچھا ہے اور جو تم بیان کرتے ہو، اس کے بارے میں اللہ کی ہی مدد درکار ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And they brought Joseph's shirt, stained with false blood. Seeing this their father exclaimed: "Nay (this is not true); rather your evil souls have made it easy for you to commit a heinous act. So I will bear this patiently, and in good grace. It is Allah's help alone that I seek against your fabrication."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And they came with fake blood on his shirt. He said, :Rather, your inner desires have tempted you to do something. So, patience is best. It is Allah whose help is sought against what you describe.‘‘

— Muhammad Taqi Usmani

And they came with fake blood on his shirt. He said, :Rather, your inner desires have tempted you to do something. So, patience is best. It is Allah whose help is sought against what you describe.‘‘

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And they brought his shirt stained with false blood. He said: "Nay, but your own selves have made up a tale. So (for me) patience is most fitting. And it is Allah (Alone) Whose help can be sought against that (lie) which you describe."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they came with false blood on his shirt. He said: Nay, but your minds have beguiled you into something. (My course is) comely patience. And Allah it is Whose help is to be sought in that (predicament) which ye describe.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they brought upon his shirt false blood. [Jacob] said, "Rather, your souls have enticed you to something, so patience is most fitting. And Allah is the one sought for help against that which you describe."

— Saheeh International

They presented him with a shirt stained with false blood. Jacob said, "Your souls have tempted you in this matter. Let us be patient and beg assistance from God if what you say is true."

— Muhammad Sarwar

And they brought his shirt with false blood upon it. He said: Nay, your souls have made the matter light for you, but patience is good and Allah is He Whose help is sought for against what you describe.

— Muhammad Habib Shakir

And they brought his shirt with false blood. He said: nay! your selves have embellished for you an affair; so seemly patience! and Allah is to be implored for help in that which ye ascribe

— Abdul Majid Daryabadi

They stained his shirt with false blood. He said: "Nay, but your minds have made up a tale (that may pass) with you, (for me) patience is most fitting: Against that which ye assert, it is Allah (alone) Whose help can be sought"..

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–18

بھائیوں کی واپسی اور معذرت چپ چاپ ننھے بھیا پر، اللہ کے معصوم نبی پر، باپ کی آنکھ کے تارے پر ظلم وستم کے کے پہاڑ توڑ کر رات ہوئے باپ کے پاس سرخ رو ہونے اور اپنی ہمدردی ظاہر کرنے کے لیے غمزدہ ہو کر روتے ہوئے پہنچے اور اپنے ملال کا یوسف کے نہ ہونے کا سبب یہ بیان کیا کہ ہم نے تیر اندازی اور ڈور شروع کی۔ چھوٹے بھائی کو اسباب کے پاس چھوڑا۔ اتفاق کی بات ہے اسی وقت بھیڑیا آگیا اور بھائی کا لقمہ بنا لیا۔ چیڑ پھاڑ کر کھا گیا۔ پھر باپ کو اپنی بات صحیح طور پر جچانے اور ٹھیک باور کرانے کے لیے پانی سے پہلے بند باندھتے ہیں کہ ہم اگر آپ کے نزدیک سچے ہی ہوتے تب بھی یہ واقعہ ایسا ہے کہ آپ ہمیں سچا ماننے میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 16–18

سورة یُوْسُف 13 متن میں ”صبر جمیل“ کے الفاظ ہیں جن کا لفظی ترجمہ ”اچھا صبر“ ہوسکتا ہے۔ اس سے مراد ایسا صبر ہے جس میں شکایت نہ ہو، فریاد نہ ہو، جَزَع نزع نہ ہو، ٹھنڈے دل سے اس مصیبت کو برداشت کیا جائے جو ایک عالی ظرف انسان پر آپڑی ہو۔ سورة یُوْسُف 14 بائیبل اور تلمود یہاں حضرت یعقوب ؑ کے تأثر کا نقشہ بھی کچھ ایسا کھینچتی ہیں جو کسی معمولی باپ کے تاثر سے کچھ بھی مختلف نہیں ہے۔ بائیبل کا بیان یہ ہے کہ ”تب یعقوب ؑ نے اپنا پیراہن چاک کیا اور ٹاٹ اپنی کمر سے لپیٹا اور بہت دنوں تک اپنے بیٹے کے لیے ماتم کرتا رہا“۔ اور تلمود کا بیان ہے کہ ”یعقوب بیٹے کا قمیص پہچانتے ہی اوندھے منہ زمین پر گر پڑا اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

وَجَاۗءُوْ عَلٰي قَمِيْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ یعنی یوسف ؑ کے بھائی یوسف ؑ کے کرتے پر جھوٹا خون لگا کر لائے تھے تاکہ والد کو بھیڑئیے کے کھانے کا یقین دلائیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کا جھوٹ ظاہر کرنے کے لئے ان کو اس سے غافل کردیا کہ کرتے پر خون لگانے کے ساتھ اس کو پھاڑ بھی دیتے جس سے بھیڑئیے کا کھانا ثابت ہوتا انہوں نے صحیح سالم کرتے پر بکری کے بچے کا خون لگا کر باپ کو دھوکہ میں ڈالنا چاہا یعقوب ؑ نے کرتا صحیح سالم دیکھ کر فرمایا میرے بیٹو ! یہ بھیڑیا کیسا حکیم اور عقل مند تھا کہ یوسف کو اس طرح کھایا کہ کرتہ کہیں سے نہیں پھٹا، اس طرح حضرت یعقوب ؑ پر ان کی جعل سازی کا راز فاش ہوگیا اور فرمایا بَلْ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَجَاۗءُوْ عَلٰي قَمِيْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ ۭ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا ۭ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ ۭ وَاللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰي مَا تَصِفُوْنَ۔ سولت لہ نفسہ کذا، زینتہ لہ وسھلتہ لہ وھونتہ۔ شیطان نے اس کی نگاہ میں فلاں بات کھبادی اور آسان کردی۔ صبر جیل کا مفہوم : فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ مبتدا بھی ہوسکتا ہے اس لیے کہ نکرہ موصوف میں مبتدا ہونے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے اور مبتدائے محذوف کی خبر بھی ہوسکتا ہے۔ ہم نے مبتدا مان کر ترجمہ کیا ہے اور خبر محذوف کو ترجمہ میں کھول دیا ہے۔ ایسے مواقع میں خبر کے محذوف ہونے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ بالکل واضح ہوتی ہے اور اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

18۔ 1 کہتے ہیں کہ ایک بکری کا بچہ ذبح کر کے یوسف ؑ کی قمیص خون میں لت پت کرلی اور یہ بھول گئے کہ بھیڑیا اگر یوسف ؑ کو کھاتا تو قمیص کو بھی پھٹنا تھا، قمیص ثابت کی ثابت ہی تھی جس کو دیکھ کر، علاوہ ازیں حضرت یوسف ؑ کے خواب اور فراست نبوت سے اندازہ لگا کر حضرت یعقوب ؑ نے فرمایا کہ یہ واقعہ اس طرح پیش نہیں آیا جو تم بیان کر رہے ہو، بلکہ تم نے اپنے دلوں سے ہی یہ بات بنا لی ہے، حضرت یعقوب اس کی تفصیل سے بیخبر تھے، اس لئے سوائے صبر کے کوئی چارہ اور اللہ کی مدد کے علاوہ کوئی سہارا نہ تھا۔ 18۔ 1 منافقین نے جب حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگائی تو انہوں نے بھی نبی ﷺ کے افہام وارشاد کے جواب میں فرمایا تھا۔…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 16–18

10: بعض روایات میں ہے کہ انہوں نے قمیص پر خون تو لگا دیا۔ لیکن قمیص صحیح سالم تھا اس پر پھٹن کے کوئی آثار نہیں تھے اس لیے حضرت یعقوب ؑ نے فرمایا کہ وہ بھیڑیاں بڑا مہذب تھا کہ بچے کو کھا گیا اور قمیص جوں کی توں صحیح سالم رہی۔ خلاصہ یہ کہ ان کو یہ بات یقین سے معلوم ہوگئی کہ بھیڑیے کے کھانے کی بات محض افسانہ ہے اس لیے انہوں نے فرمایا کہ یہ بات تم نے اپنی طرف سے گھڑ لی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

حضرت یعقوب نے حالات کو بھانپ لیا ، خود نبوت نے انہیں بتا دیا کہ یوسف کو کم از کم بھیڑئیے نے نہیں کھایا۔ انہوں نے کوئی اور ہی سازش کی ہے۔ یہ جو بتا رہے ہیں وہ واقعہ نہیں ہے جو بتا رہے ہیں ، یہ تو نہیں ہے۔ اس لیے انہوں نے صرف یہ تبصرہ کیا کہ تمہارے نفسوں نے تمہارے لیے کوئی بڑا برا کام آسان بنا دیا ہے اور اس کا ارتکاب تم نے کرلیا ہے اور یہ کہ ان کے لیے صبر کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ جزع و فزع ان کے شایان شان نہیں ہے اور یہ جھوٹ بادی النظر میں جھوٹ ہے جو یہ لوگ گھڑ رہے ہیں۔ اس کے بارے میں میں اللہ ہی سے شکایت کرسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 ایک بکری یا ہرن وغیرہ ذبح کر کے اس کا خون یوسف کی قمیص پر چھڑک لائے تھے وہ جھوٹا خون پیش کر کے باپ کو یقین دلانے لگے، کہ بھیڑیے کے زخمی کرنے سے یہ کرتہ خون آلود ہوگیا۔ 1 بھلا جس کو شام میں بیٹھ کر مصر سے یوسف کے کرتہ کی خوشبو آتی تھی وہ بکری کے خون پر یوسف کے خون کا گمان کب کرسکتا تھا۔ انہوں نے سنتے ہی جھٹلا دیا۔ اور جیسا کہ بعض تفاسیر میں ہے کہنے لگے کہ وہ بھیڑیا واقعی بڑا حلیم و متین ہوگا جو یوسف کو لے گیا اور خون آلود کرتہ کو نہایت احتیاط سے صحیح وسالم اتار کر رکھ گیا۔ سچ ہے۔ " دروغ گو را حافظہ نہ باشد " خون کے چھینٹے تو دیے مگر یہ خیال نہ رہا کہ قمیض کو بےترتیبی سے نوچ کر اور پھاڑ کر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ اَنْفُسُکُمْ اَمْرًا ان کی بات سن کر حضرت یعقوب نے فرمایا کہ نہیں بات کچھ اور ہے۔ یہ بات جو تم بتا رہے ہو یہ تو تمہارے جی کی گھڑی ہوئی ایک بات ہے۔ تمہارے نفسوں نے تمہارے لیے ایک بڑی بات کو ہلکا کر کے پیش کیا ہے اور تم لوگوں نے کوئی بہت بڑا غلط اقدام کیا ہے۔ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ ۭ وَاللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰي مَا تَصِفُوْنَ حضرت یعقوب اکیلے تھے بوڑھے تھے اور دوسری طرف دس جوان بیٹے اس صورت حال میں اور کیا کہتے ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

15 اناڑی مجرم :۔ سیدنا یعقوب ان کی طرف سے پہلے ہی مشکوک تھے۔ جب قمیص کو دیکھا تو انھیں پختہ یقین ہوگیا کہ یہ سب مکر اور فریب کاری ہے۔ کیونکہ قمیص کسی جگہ سے بھی نوچی ہوئی یا پھٹی ہوئی نہ تھی۔ ان نو آموز مجرموں کو یہ خیال ہی نہ آیا کہ اگر قمیص کو خون لگانا ہی ہے تو اسے پہلے بےترتیبی سے کچھ پھاڑ بھی لیں تاکہ وہ کسی درندے کی نوچی ہوئی معلوم ہوسکے۔ یہ قمیص دیکھ کر سیدنا یعقوب کہنے لگے وہ بھیڑیا تو بڑا سمجھدار ہوگا جس نے پہلے آرام سے یوسف کی قمیص کو اتارا پھر انھیں پھاڑ کھانے کے بعد کچھ لہو بھی اس پر لگا دیا۔ حقیقت حال کا تو اللہ ہی کو معلوم ہے۔ مگر معلوم یہی ہوتا ہے کہ تم نے یوسف کو کہیں گزند…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

26۔ توریت میں اس کے برعکس قصہ یوں درج ہے :۔ ” پھر انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کی قبا کو لیا اور ایک بکری کا بچہ مارا اور اسے اس کے لہو میں تر کیا اور انہوں نے اس بوقلمون قبا کو بھیجا اور اپنے باپ کے پاس لے آئے اور کہا کہ ہم نے اسے پایا۔ آپ اسے پہچانئے کہ یہ آپ کے بیٹے کی قبا ہے کہ نہیں، اور اس نے اسے پہچانا اور کہا کہ یہ میرے بیٹے کی قبا ہے کوئی بڑا درندہ اسے کھا گیا۔ یوسف بیشک پھاڑا گیا۔ “ (پیدائش 37: 31۔ 33) گویا حسب بیان تو ریت پیغمبر (علیہ السلام) نے ان فسوں سازوں کے دعوائے باطل کو بالکل تسلیم کرلیا تھا ! قرآن مجید نے حسب معمول توریت کی اس غلط بیانی کی بھی تردید کردی۔ 27۔ کہ مجھے توفیق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 7–20

آیت نمبر 7 تا 20 ترجمہ : حقیقت یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں کہ وہ گیارہ تھے سوال کرنے والوں کیلئے بڑی عبرتیں ہیں، اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے آپس میں کہا یوسف اور اس کا حقیقی بھائی بن یامین ہمارے اباجان کیلئے ہمارے مقابلہ میں زیادہ چہیتے ہیں، لَیُوسف مبتداء ہے اور اَحَبُّ اس کی خبر ہے، حالانکہ ہمارا ایک جتھا ہے، ہمارے اباجان ان دونوں کو ہم پر ترجیح دینے کے معاملہ میں کھلی غلطی پر ہیں (ایسا کرو) کہ یوسف کو قتل کردو یا کسی دور ملک میں پہنچا دو (اس تدبیر سے) تمہارے ابا جان کی توجہ خالص تمہاری طرف ہوجائے گی، اس طریقہ پر کہ تمہاری طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وجآء واعلی قمیصہ بدم کذب اور یوسف کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا خون لگا کر لائے۔ کَذِبٍ کا معنی ہے : جھوٹ موٹ کا یا جھوٹا۔ کَذِبٍ مصدر بھی ہوسکتا ہے : جھوٹ۔ خون کو جھوٹ مبالغۃً قرار دیا۔ ابن جریر ‘ ابن المنذر اور ابو الشیخ نے حسن بصری کی روایت سے بیان کیا کہ حضرت یعقوب ‘ حضرت یوسف کی خبر سن کر چیخ پڑے اور حضرت یوسف کا قمیص جب پیش کیا گیا تو الٹ پلٹ کر اس کو دیکھنے لگے مگر قمیص میں شگاف کہیں نظر نہ آیا ‘ یہ دیکھ کر فرمایا : لڑکو ! وا اللہ بھیڑیا بھی کیسا ہوشیار تھا ‘ میرے بیٹے کو تو کھا گیا اور کرتے کو سالم چھوڑ دیا۔ حضرت یعقوب جب بیٹوں کا جھوٹ سمجھ گئے تھے تو۔ قال بل سولت لکم انفسکم امرا کہا :…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(18) اور آتے وقت کسی بکری کو ذبح کرکے حضرت یوسف ؑ کی قمیص پر اس کا خون بھی لگا لائے تھے، حضرت یعقوب ؑ نے دیکھا کر فرمایا تو تم نے یوسف کی ہلاکت کے لیے اپنے دل سے بات بنالی اور اس کو کر گزرے۔ خیر صبر ہی روں گا جس میں شکایت کا کوئی نام نہ ہوگا اور تم جو کچھ یوسف ؑ کے بارے میں کہہ رہے ہو اس میں اللہ ہی سے مدد طلب کروں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَجَاۗءُوْ عَلٰي قَمِيْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ۔۔ : یہ اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کی ایک اور چال تھی کہ وہ یوسف ؑ کی قمیص پر ایسا خون لگا کر لائے جو ”کَذِب“ تھا، جس کا معنی جھوٹ ہے یا یہ بمعنی ”مَکْذُوْبٌ“ ہے، جیسے ”خَلْقٌ“ بمعنی ”مَخْلُوْقٌ“ یعنی جھوٹا بنایا ہوا، یا مصدر مبالغے کے لیے ہے کہ وہ خون سراسر جھوٹ تھا، یوسف ؑ کا ہرگز نہ تھا، بلکہ وہ بھیڑ بکری یا جنگل سے شکار کیا ہوا کوئی جانور ذبح کرکے اس کا خون لگا کرلے آئے تھے۔ والد ساری حقیقت سمجھ گئے، کیونکہ ان کی گھڑی ہوئی کہانی خود ہی اپنی حقیقت بتارہی تھی اور فرمایا : ”بَلْ سَوَّلَتْ لَکُم انفسکم امرا“ (بلکہ) یعنی جو کچھ تم کہہ رہے ہو سب جھوٹ ہے،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 18 وجآء وعلیٰ قمیصہٖ بدمٍ کذبٍ اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : بدمٍ کذبٍ مجاہد نے کہا : وہ بکری یا بھیڑ کے بچے کا خون تھا جس کو انہوں نے ذبح کیا۔ قتادہ نے کہا : وہ ہرن کا خون تھا وجاء واعلیٰ قمیصہ بدم مکذوب فیہ دم کی صفت مصدر کیساتھ لگائی گئی تو تقدیر عبارت یوں ہوگی : بدم ذی کذب جیسے واسال القریۃ بعض اوقات فاعل اور مفعول دونوں کا نام مصدر کے ذدیعے رکھا جاتا ہے۔ ھذا ضرب الامیر یعنی مضروبہ، اسی طرح ماء سکب یعنی مسکوب، ماء غور یعنی غائر اور رجل عدل یعنی عادل۔ حضرت حسن ؓ اور حضرت عائشہ ؓ نے بدم کذاب پڑھا ہے دال کیساتھ یعنی تازہ خون کے ساتھ، تازہ خون کو الکذب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

جھوٹاخون لگا ہوا قمیص : 1:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وجآء و علی قمیصہ بدم کذب “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ بکری کے بچے کا خون تھا۔ 2:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” بدم کذب “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ جھوٹا خون تھا وہ یوسف کا خون نہیں تھا وہ ایک بکری کے بچے کا خون تھا۔ 3:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے ایک ہرن کو پکڑا اس کو ذبح کیا اور قمیص کو اس کے ساتھ لت پت کیا۔ یعقوب (علیہ السلام) نے قمیص کو الٹ پلٹ کیا تو فرمایا میں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَجَاۗءُوْ : اور وہ آئے ] [ عَلٰي قَمِيْصِهٖ : ان (علیہ السلام) کی قمیص پر ] بِدَمٍ كَذِبٍ : کچھ جھوٹے خون کے ساتھ ] [ قَالَ : کہا (یعقوب (علیہ السلام) نے)] [بَلْ : بلکہ ] [ سَوَّلَتْ : خوشنما بنا کر پیش کیا ] [لَكُمْ : تمہارے لئے ] [انفُسُكُمْ : تمہارے نفسوں نے ] [ اَمْرًا : ایک کام کو ] [ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ: تو (اب) خوبصورت صبر کرنا ہے ] [وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ الْمُسْتَعَان : ہی مدد چاہے جانے والا ہے ] [ عَلٰي مَا : اس پر جو ] [ تَصِفُوْنَ : تم لوگ بتاتے ہو ] س و ل [سَوَالًا : (ف) پوچھنا۔ سوال کرنا ] [تَوِیْلًا : (تفعیل) کسی قبیح چیز کو خوشنما بنا کر پیش کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 16–19

حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کنویں سے نکلنا اور فروخت کیا جانا ادھر تو یہ ہوا کہ برادران یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد سے جا کر کہا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا ہے اور ادھر اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کی حفاظت کا یہ انتظام فرمایا کہ راہ گیروں کا ایک قافلہ وہاں پہنچا دیا یہ قافلہ اسی کنویں کے قریب آکر ٹھہرا جس میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان کے بھائیوں نے ڈالا تھا قافلہ والوں نے اپنے میں سے ایک شخص کو پانی لانے کے لیے بھیجا وہ آدمی پانی لینے گیا تو کنویں میں اپنا ڈول ڈال دیا ‘ ڈول کا اندر پہنچنا تھا کہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے اسے پکڑ لیا جب اس شخص نے ڈول کھینچا تو دیکھا کہ ڈول کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–20

معاملہ برادران یوسف (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ لقد کان فی یوسف واخواتہ ایت ..... الیٰ ..... وکانوا فیہ من الزاھدین۔ بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں نشانیاں اور عبرتیں اور نصیحتیں ہیں ان لوگوں کے لیے جو اس قصہ کو دریافت کرتے ہیں کیونکہ یہ عجیب قصہ اس لائق ہے کہ اس کی خبر دریافت کی جائے کہ حق تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو بےکسی اور بےبسی سے نکال کر مقام سلطنت تک کس طرح پہنچایا یہ اس کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ جو پوچھتے ہیں ان کے لیے اس قصہ میں بہت سی عبرتیں اور نصیحتیں ہیں اور جو نہیں پوچھتے ان کے لیے بھی بہت سی نشانیاں ہیں۔ جبکہ یوسف کے علاتی بھائی آپس میں یہ کہنے لگے کہ البتہ یوسف اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

16:۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کرتہ دیکھ کر فرمایا یوسف کو بھیڑئیے نے نہیں کھایا تم نے یوسف کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کہیں غائب کردیا ہے۔ بھلا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یوسف کو بھیڑیا کھا جائے اور اس کا کرتہ صحیح و سلامت رہے۔ قال سعید بن جبیر لما جاء وا علی قمیصہ بدم کذب وما کان متخرقا قال کذبت لو اکلہ الذئب لخر قمیصہ الخ (کبیر ج 18 ص 103) ۔ ” مَاتَصِفُوْنَ “ ای علی احتمال ما تصفون۔ یعنی جو کچھ تم بیان کر رہے ہو اس کا غم واندوہ برداشت کرنے پر اللہ تعالیٰ سے مدد چاہتا ہوں۔ یہ واقعہ کے اس حصے سے معلوم ہوا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) غیب داں نہ تھے۔ لختِ جگر چند میلوں کے فاصلے پر ایک کنویں میں پڑا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–20

ربط آیات گزشتہ درس میں برادران یوسف کے منصوبے کا ذکر ہوا کہ وہ یوسف (علیہ السلام) کو اپنے راستے سے ہٹانا چاہتے تھے تاکہ باپ کی ساری توجہ ان کی طرف ہوجائے چناچہ انہوں نے باپ کو ہر طرح سے یقین دلانے کی کوشش کی کہ ہم یوسف (علیہ السلام) کے خیر خواہ ہیں ، آپ اسے ہمارے ساتھ جنگل میں جانے کی جا ازت دے دیں ، یہ وہاں پر کھاپی لے گا اور کھیل کود میں بھی حصہ لے لے گا۔ یعقوب (علیہ السلام) نے تشویش کا اظہار کیا کہ کہ کہیں ایسا نہ کہ تمہاری غفلت کی وجہ سے یوسف (علیہ السلام) کسی حادثے کا شکار ہوجائے ، مگر بھائیوں نے پھر یقین دلایا کہ ہم جیسے مضبوط اور طاقتور بھائیوں کی موجودگی میں ہمارے اس چھوٹے بھائی کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَجَاۗءُوْ عَلٰي قَمِيْصِہٖ بِدَمٍ كَذِبٍ۝ 0ۭ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا۝ 0ۭ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ۝ 0ۭ وَاللہُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰي مَا تَصِفُوْنَ۝ 18 قمیص الْقَمِيصُ معروف، وجمعه قُمُصٌ وأَقْمِصَةٌ وقُمْصَانٌ. قال تعالی: إِنْ كانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ [يوسف/ 26] ، وَإِنْ كانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ [يوسف/ 27] وتَقَمَّصَهُ : لبسه، وقَمَصَ البعیر يَقْمُصُ ويَقْمِصُ : إذا نزا، والقُمْاصُ : داء يأخذه فلا يستقرّ به موضعه ومنه ( القَامِصَةُ ) في الحدیث . ( ق م ص ) القمیص قمیص ۔ کرتہ ۔ جمع قمص واقمصتہ وقمصان قرآن میں ہے : ۔ إِنْ كانَ قَمِيصُهُ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ [يوسف/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–22

1 ؎ یعنی جو حضرت یوسف ﷺ اور ان کے بھائیوں کے حالات سے سوال کرتے ہیں اس بیان میں ان کے لئے پوری نشانی نبوت حضرت ﷺ کے لئے ہے کس لئے کہ باوجود توریت پاس نہ ہونے اور نہ اس کے پڑھے لکھے ہونے کے اتنے بڑے قصے کو ان باریکیوں اور پہلوئوں کے ساتھ جو اس واقعہ کے ساتھ متعلق ہیں۔ اس طرح سے بیان کردینا کہ توریت کے سرمو بھی خلاف نہ ہوا البتہ ایک معجزہ ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 16–18

وَجَآئُ وْٓ اَبَاھُمْ عِشَآئً یَّبْکُوْن۔ قَالُوْا یٰٓاَبَانَآ اِنَّا ذَھَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَکْنَا یُوْسُفَ عِنْدَمَتَاعِنَا فَاَکَلَہُ الذِّئْبُ ج وَمَآ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْکُنَّا صٰدِقِیْنَ ۔ وَجَآئُ وْعَلٰی قَمِیْصِہٖ بِدَمٍ کَذِبٍ ط قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ اَنْفُسُکُمْ اَمْرًا ط فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ ط وَاللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَاتَصِفُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 16، 17، 18) (اور وہ آئے اپنے باپ کے پاس کچھ رات گئے، روتے ہوئے۔ بولے کہ اے ہمارے باپ ! ہم ایک دوسرے سے دوڑ میں مقابلہ کرتے ہوئے دور نکل گئے اور یوسف ( علیہ السلام) کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑا۔ پس اسے بھیڑیا کھا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 18–20

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان کے بھائی کنویں میں پھینک کر واپس چلے آئے۔ کچھ دنوں کے بعد ایک قافلہ کنویں کے قریب اترا اور انھوں نے یوسف (علیہ السلام) کو کنویں سے نکال لیا۔ مفسرین کی غالب اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) تین دن تک اس ویران کنویں میں پڑے رہے اور آخری دن ایک قافلہ وہاں سے گزرا جنہوں نے اس زمانے کے دستور کے مطابق ایک آدمی کو اپنے سے پہلے روانہ کیا تاکہ جہاں انہوں نے پڑاؤ ڈالنا ہے اس کے گردو جوار پانی تلاش کرے۔ پانی تلاش کرنے والے شخص نے جب کنویں میں ڈول ڈالا۔ تو حضرت یوسف (علیہ السلام) اس ڈول میں بیٹھ کر باہر نکلے۔ جنہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

18: وَجَآئُ وْ عَلٰی قَمِیْصِہٖ بِدَمٍ کَذِبٍ (وہ اسکی قمیص پر جھوٹا خون لگا لائے) نمبر 1۔ جھوٹ والا نمبر 2۔ مبالغۃً مصدر کو بطور صفت لائے۔ گویا کہ وہ مجسمہ کذب ہے۔ جیسا کہ کذاب کو کہتے ہیں ھوالکذاب بعینہٖ والزور بذاتہٖ کہ وہ تو نرا جھوٹ کا پلندا ہے۔ روایت تفسیر میں ہے کہ انہوں نے ایک بھیڑ کا بچہ ذبح کیا قمیص کو اس میں لت پت کردیا۔ اور پھاڑنا بھول گئے۔ روایت تفسیر میں ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) نے جب یوسف (علیہ السلام) کے متعلق سنا تو زور سے آوازدی قمیص کہاں ہے۔ اس کو لیکر اپنے چہرے پر ڈالا اور روئے یہاں تک کہ ان کا چہرہ قمیص کے خون سے خون آلودہ ہوگیا۔ اور کہا اللہ تعالیٰ کی قسم ؟ ! میں نے آج…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

18۔” وجاوا علی قمیصہ بدم کذب “ جھوٹا خون اس لیے کہ وہ یوسف (علیہ السلام) کا خون نہ تھا۔ قمیص یوسف اور ام کذب اور بعض نے کہا ہے ایسے خون کے ساتھ جس میں جھوٹ بولا گیا تو مصدر کو اسم کی جگہ رکھا گیا ہے۔ ان لوگوں نے قمیص کو خو ن سے لت پت کردیا تھا لیکن اس کو پھاڑا نہ تھا تو یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کہ بھیڑیے نے یوسف (علیہ السلام) کو کیسے کھایا ہے کہ قمیص بالکل نہیں پھٹی تو ان کو متہم سمجھا۔ ” قال بل سولت “ مزین کیا ہے ” لکم انفسکم امر فصبرجمیل “ معنی یہ ہے کہ میرا معاملہ جمیل ہے یا مجھ پر صبر جمیل لازم ہے۔” واللہ المستعان علی ما تصفون “ یعنی میں صبر پر اللہ سے مدد طلب کرتا ہوں ، صبر جمیل وہ صبر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–18

16۔ 18۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کو اس بات کی خبر دی کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں ڈال کر گھر کو واپس آئے اور رات کے وقت اندھیرا ہوجانے پر باپ کے پاس روتے ہوئے آئے تاکہ اندھیرے میں ہماری صورتوں اور چہرے سے جھوٹ نہ ظاہر ہو اور گریہ وزاری سے زیادہ تصدیق ہمارے قول کی ہوگی باپ کے پاس پہنچ کر رو رو کر بیان کیا کہ ہم تو تیر اندازی اور دوا دوش میں رہے اور یوسف (علیہ السلام) کو اپنے سامان کے پاس بٹھا دیا تھا ہمارا دور ہونا تھا کہ بھیڑیا آکر یوسف کو کھا گیا اور اس کے ساتھ کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ آپ ہماری بات کو ہرگز یقین نہ کریں گے چاہے سچ ہی کہتے ہوں کیوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–18

آیت 15 تا 18: یعنی جب وہ باپ کی اجازت کے بعد یوسف (علیہ السلام) کو ساتھ لے گئے اور انہوں نے اپنے میں سے ایک کی رائے کے مطابق، جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے، یوسف (علیہ السلام) کو اندھے کنوئیں میں پھینکنے کا عزم کرلیا اور اب وہ اپنے فیصلے پر عمل کرنے کی قدرت رکھتے تھے چناچہ انہوں نے اپنے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے یوسف (علیہ السلام) کو اندھے کنوئیں میں پھینک دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جناب یوسف (علیہ السلام) کو جو کہ اس وقت سخت خوف کی حالت میں تھے اپنے لطف و کرم سے نوازتے ہوئے ان کی طرف وحی کی لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ ھٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ : کہ تو جتائے گا ان کو ان کا یہ کام اور وہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

عدالت کا یعقوب (علیہ السلام) کی طرح زیرک اور معاملہ فہم ہونا چاہیے قول باری بدم کذب جھوٹ کا خون یعنی جھوٹ خون ۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد اور قول ہے کہ اگر بھیڑے نے حضرت یوسف کو پھاڑ کھایا ہوتا تو قمیص ضررور تار تار ہوجاتی لیکن قمیص کا درست حالت میں ہونا اور اس پر کسی پھٹن وغیرہ کا نہ ہونا ان کے جھوٹ کی واضح علامت تھی ۔ شعبی کا قول ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قمیص کے ساتھ تین نشانیاں وابستہ ہوگئیں ۔ اس پر جو خون تھا وہ جھوٹ موٹ کا تھا اس میں پھٹن وغیرہ کا کوئی نشان نہیں تھا۔ تیسری نشانی یہ تھی کہ جب یہ قمیص حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے چہرے پر ڈالی گئی تو آپ کی بنیائی لوٹ آئی ۔ حسن کا قول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

29 ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا خون : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ یوسف کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا کر لائے اور روایات کے عین مطابق یہ لوگ اس کرتے کو پھاڑنا بھول گئے جس پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ وہ کیسا بھیڑیا تھا جس نے یوسف کو تو کھالیا اور اس کی قمیص کو پھاڑا تک نہیں۔ (ابن جریر، ابن کثیر، قرطبی، کبیر، صفوہ وغیرہ) اور یہی حال ہوتا ہے جھوٹ کا کہ اس کا پول کہیں نہ کہیں کھل ہی جاتا ہے کہ جھوٹ کے پاؤں بہرحال نہیں ہوتے۔ بہرکیف انہوں نے اپنے طور پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو مطمئن کرنے اور اپنی بات باور کرانے کی یہ تدبیر نکالی کہ ان کے کرتے پر کسی چیز…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–21

بھائیوں کی زیادتی اور سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا مصر پہنچنا تشریح : اس تمام قصہ کو پڑھنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان اکثر حسد کی وجہ سے بعض شرارت اور خباثت میں ایسے برے کام کرجاتا ہے کہ جو خود اس کے اپنے لیے دنیا و آخرت میں رسوائی کا باعث بن جاتے ہیں۔ دغا، فریب، جھوٹ اور ظلم یہ بہت بڑے گناہ ہیں جو انسان صرف اپنی دنیوی کامیابی کے لیے کرجاتا ہے۔ اور یہ بھول جاتا ہے کہ یہ سب کرنے سے کسی کا حقیقت میں نقصان کم ہی ہوتا ہے اصل میں اپنی عاقبت خراب کرلیتا ہے اور دنیا میں بھی کوئی عزت اور کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ اللہ تو ہر اس کام سے واقف ہے جو انسان دوسروں سے چھپا کر کرتا ہے۔ اور پھر اللہ سے بڑا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 7–20

آیات 7 تا 19 اسرار و معارف حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا قصہ باعث نصیحت بھی ہے اور باعث عبرت بھی کہ اللہ اپنے مخلص بندوں کی کیسے کیسے حفاظت فرماتا ہے اور ان سے حسد کرنے والے کس طور ناکام ثابت ہوتے ہیں ۔ نیز اس کا ایک مربوط نظام ہے جسے نہ جاننے والے اتفاقات اور حادثات کا نام دیتے ہیں مگر دراصل ایسے تمام امورطے شدہ نظام کی کڑیوں کے طور پر کام کرتے ہیں اور اس طرح تفصیل سے واقعہ کی جزئیات بھی شامل کرکے درست بیان فرمانا آپ ﷺ کا بہت بڑا معجزہ اور وحی الٰہی کی دلیل بھی ہے کہ سوال کرنے والے یہوددی تو مدینہ منورہ سے سوال بھیج رہے تھے مکہ میں تو کوئی یہودی عالم بھی اتنے وسیع مطالعہ کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 ۔ حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ کرتا صحیح وسالم تھا، کہیں سے پھٹانہ تھا اس لئے حضرت یعقوب ( علیہ السلام) سمجھ گئے کہ یہ سب ان کی مکاری وحیلی ساز ی ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) نے ان سے کہا : یہ بھیڑیا بھی عجیب قسم کا دانا تھا کہ یوسف ( علیہ السلام) کو کھا گیا مگر اس کا کرتہ نہ پھاڑا۔ (فتح القدیر) ۔ 2 ۔ بھیڑئیے نے ہرگز یوسف ( علیہ السلام) کو نہیں کھایا ” بلکہ “… 3 ۔ عمدہ صبر یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور سے گلہ شکوہ نہ کیا جائے بلکہ ٹھنڈ سے دل سے مصیبت کر برداشت کیا جائے اور اللہ کی تقدیر پر شاکر رہے۔ (وحیدی) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(12:18) وجاء و اعلیٰ قمیصہ بدم کذب۔ کذب ای ذی کذب۔ مصدر کو صفت کے لئے مبالغہ کی خاطر استعمال کیا ہے۔ دم کذب موصوف وصفت۔ علی قمیصہ ای فوق قمیصہ والمعنی اتو بدم کذب فوق قمیصہ۔ وہ لے آئے جھوٹ موٹ کا خون اس کی قمیص پر لگا ہوا۔ سولت۔ ماضی واحد مؤنث غائب تسویل (باب تفعیل) سے جس کے معنی ہیں نفس کا اس چیز کو مزین کرکے دکھانا جس پر وہ حریص ہو۔ (بلکہ تمہارے نفسوں نے یعنی تمہارے دلوں نے ایک بات جو جھوٹی ہے) مزین اور معقول شکل میں بنالی ہے۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے ۔ الشیطن سول لہم (47:25) شیطان نے (یہ کام) انہیں مزین کر دکھایا۔ المستعان۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ استعانۃ (استفعال) سے مصدر۔ وہ جس سے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–18

لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 18 مالک (تجھے کیا ہوگیا) لاتامنا (تو ہم پہ اطمینان نہیں کرتا ہے) نصحون (نصیحت کرنے والے۔ خیر خواہ) ارسل (بھیج دے) غداً (کل۔ آئندہ۔ صبح ) یرتع (کھاتا ہے یا کھائے گا ) یعلب (کھیلتا ہے یا کھیلے گا) لیحزننی (البتہ مجھے رنجیدہ کرتی ہے) ان یا کلہ ، (یہ کہ وہ کھائے) الذئب (بھیڑیا) ان یجعلوہ (یہ کہ وہ اس کو ڈال دیں) عشآء (رات کے وقت) یبکون (وہ روتے ہیں یا روئیں گے ) ذھبنا (ہم چلے گئے ) نستبق (ہم دوڑ کا مقابلہ کر رہے ہیں) ترکنا (ہم نے چھوڑ دیا) عند (نزدیک) متاعنا (ہمارا اپنا سامان) دم کذب (جھوٹا خون) سولت (بنا لی ہے۔ برابر کرتی ہے) صبر جمیل (اچھا صبر) المستعان (استعانۃ) مدد…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 16–18

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو اس بات کی خبر دی کہ یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں ڈال کر رات کے وقت باپ کے پاس روتے ہوئے آئے تاکہ اندھیرے میں ہماری صورتوں سے جھوٹ ظاہر نہ ہو اور کہا کہ ہم تو تیر اندازی اور دوا دوش میں رہے اور یوسف (علیہ السلام) کو اپنے سامان کے پاس بٹھا دیا ہمارا دور ہونا تھا کہ بھیڑیا آکر یوسف (علیہ السلام) کو کھا گیا۔ اس کے بعد وہ کرتہ جو یوسف (علیہ السلام) کا لے لیا تھا اس کو بکری ذبح کر کے اس کے خون میں رنگ لائے تھے وہ پیش کیا۔ تاکہ ہماری بات کا یقین کامل ہوجائے، مگر اتنا نہ سمجھے کہ ہمارے باپ خدا کے رسول ہیں معمولی آدمی نہیں۔ بہر حال باپ نے کرتہ دیکھتے ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–18

[8] آیت میں خون آلودہ کرتے کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا کیونکہ اسی سے ان کا سارا جھوٹ کھل گیا تھا۔ اگر بھیڑئیے نے حملہ کیا تھا تو کرتا کیسے بچ رہا ؟ اس کے تو پرزے پرزے ہوجانے تھے۔ چناچہ یعقوب (علیہ السلام) کو کرتا دیکھتے ہی یقین ہوگیا کہ ساری کہانی من گھڑت ہے۔ علاوہ ازیں یعقوب (علیہ السلام) کو فراست نبوت سے یہ بات معلوم ہوگئی تھی کہ پچھلی بشارتیں یوسف (علیہ السلام) ہی کے ذریعے پوری ہونے والی ہیں اس لئے وہ کبھی باور نہیں کرسکتے تھے کہ اس طرح یوسف (علیہ السلام) کی زندگی کا خاتمہ ہوجائے گا۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب یعقوب (علیہ السلام) کو یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا بیان غلط ہونا معلوم…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 16–18

(ف 1) جب برادران یوسف (علیہ السلام) رات کے وقت ڈھاریں مارتے ہوئے لوٹے تو کہنے لگے کہ ابا ! آپ مانیں یا نہ مانیں ، یوسف (علیہ السلام) کو بھیڑئیے نے کھالیا ہے اور ثبوت میں یوسف (علیہ السلام) کا خون میں تربتر قمیص پیش کردیا جس میں جھوٹ موٹ خون لگا لیا گیا تھا ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فراست پیغمبری سے پہچان لیا کہ یہ جھوٹ ہے ، اس لئے اس سے کہہ دیا ، کہ یہ محض فریب ہے تم نے یہ قصہ میرے سامنے سرخرو ہونے کے لئے بنا لیا ہے ، اس میں کوئی صداقت نہیں ۔ اس کے بعد اس مصیبت عظمی پر اپنے صبر کا اظہار کیا ، اور کہا کہ ان مواقع پر صبر ہی بہترین ہے ، اللہ ہماری مدد کرے گا ۔ حل لغات : سیارۃ : گھومنے پھرنے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

18 اور باپ کے پاس آتے وقت یوسف (علیہ السلام) کے کرتہ پر جھوٹا خون بھی لگاتے لاتے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یہ کہانی سن کر اور کرتے کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ بات نہیں ہے جو تم کہتے ہو بلکہ تمہارے دلوں نے تمہارے لئے ایک بات بنائی ہے اور گھڑ لی ہے سو اب میرا کام صبر جمیل ہے اور اب میں صبر جمیل ہی کروں گا اور جو باتیں تم بنا رہے ہو ان پر اللہ ہی سے مدد طلب کرتا ہوں باپ نے جب خون آلود کرتے کو دیکھا تو وہ کہیں سے پھٹا ہوا نہیں تھا سمجھ گئے کہ یہ بھیڑیے والی بات بناوتی ہے۔ صبر جمیل اس صبر کو کہتے ہیں جس میں غیر خدا سے شکوہ نہ کیا جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 7۔ یعقوب (علیہ السلام) کا بل سولت فرمایا بنا برقول مشہور اس قمیص مسلم دیکھنے سے تھا لیکن اگر وہ روایت ثابت نہ ہو تو ذوق اجتہاد و شہادت قلب سے ہوگا جو کہ انبیاء میں اکثر تو مطابق واقع کے ہوتا ہے اور کبھی وہ گمان واقع کے خلاف بھی ہوجاتا ہے۔ 8۔ جب یعقوب کو یقینا ظنا یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا بیان غلط ہونامعلوم تھا تو یوسف کو تلاش کیوں نہ کیا غالب یہ ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) کو وحی سے اجمالا معلوم ہوگیا ہوگا کہ وہ تلف نہ ہوں گے لیکن میری قسمت میں مفارقت طویلہ مقدر ہے میری تلاش سے نہ ملیں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یوسف کے پیراہن پر وہ جھوٹ موٹ کا خون لگا لائے ۔ 20 جھوٹے کو یہ کبھی سمجھ نہیں آتی کہ میں نے جب ایک جھوٹ بولا تو وہ چھپ نہیں رہا اور اب میں جب اس جھوٹ کو سچ بنانے کے لئے بیسیویں جھوٹ بولوں گا تو آخر ان کو سچ کیسے ثابت کر سکون گا ؟ اگر اس کی سمجھ میں یہ بات آجائے تو جھوٹ اگر مرنہ سکے تو بھی ادھ موا ضرور ہوجائے گا یعنی آہستہ آہستہ اس کے جھوٹ بولنے کی عادت ختم ہوجائے۔ یوسف (علیہ السلام) کے پیراہن پر خون ملنے کا ذکر تورات میں اس طرح ہے کہ : ” پھر انہوں نے یوسف کی قبا کو لیا اور ایک بکری کا بچہ مارا اور اس قبا کو اس کے لہو میں تر کیا اور وہ اس بوقلمون قبا کو اپنے باپ کے پاس لے آئے اور کہا کہ ہم نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَجَاءُوا عَلَىٰ قَمِيصِهِ بِدَمٍ كَذِبٍ ; (And they came with fake blood on his shirt) that is, the brothers of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) came back with his shirt they had smeared in fake blood so that they could make their father believe that he has been eaten up by a wolf. But, Allah Ta’ ala had His way of exposing their lie. He made them neglect something else they should have done besides smearing the shirt with fake blood. Had they also torn the shirt, it would proved his being eaten up by a wolf. Here they were coming with an intact shirt smeared with the blood of a kid goat and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 16–18

13. The literal meaning of“patience in grace”which implies a patience that enables one to endure all kinds of troubles and afflictions in a calm, self possessed and unemotional manner, without complaining or crying or weeping, as is worthy of great minds. 14. Prophet Jacob’s reaction to the news of Joseph’s death, as depicted in the Quran, is also different from that given in the Bible and the Talmud. According to them he was upset by the sad news and behaved like an ordinary father. The Bible says: And Jacob rent his clothes, and put sackcloth upon his loins. And mourned for his son many…

Read the full tafseer →