Yusuf 12:17

Yusuf · from ayah 17

12:17

قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ ۚ— وَمَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ ۟‌قَالُوۡا يٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبۡنَا نَسۡتَبِقُ وَتَرَكۡنَا يُوۡسُفَ عِنۡدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئۡبُ‌ۚ وَمَاۤ اَنۡتَ بِمُؤۡمِنٍ لَّنَا وَلَوۡ كُنَّا صٰدِقِيۡنَ

(اور) کہنے لگے کہ اباجان ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "O our father, indeed we went racing each other and left Joseph with our possessions, and a wolf ate him. But you would not believe us, even if we were truthful."

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 2 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:17

اور کہا "ابا جان، ہم دوڑ کا مقابلہ کرنے میں لگ گئے تھے اور یوسفؑ کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا کہ اتنے میں بھیڑیا آ کر اُسے کھا گیا آپ ہماری بات کا یقین نہ کریں گے چاہے ہم سچے ہی ہوں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اور) کہنے لگے کہ اباجان ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور کہنے لگے کہ ابا جان ہم تو آپس میں دوڑ میں لگ گئے اور یوسف ؑ کو ہم نے اسباب کے پاس چھوڑا پس اسے بھیڑیا کھا گیا، آپ تو ہماری بات نہیں مانیں گے، گو ہم بالکل سچے ہی ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہنے لگے : ابا جی ! یقین جانیے، ہم دوڑنے کا مقابلہ کرنے چلے گئے تھے، اور ہم نے یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا، اتنے میں ایک بھیڑیا اسے کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کا یقین نہیں کریں گے، چاہے ہم کتنے ہی سچے ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے اے ہمارے باپ ہم دوڑ کرتے نکل گئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑا تو اسے بھیڑیا کھا گیا اور آپ کسی طرح ہمارا یقین نہ کریں گے اگرچہ ہم سچے ہوں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کہنے لگے: اے ہمارے باپ! ہم لوگ دوڑ میں مقابلہ کرنے چلے گئے اور ہم نے یوسف ؑ کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تو اسے بھیڑئیے نے کھا لیا، اور آپ (تو) ہماری بات کا یقین (بھی) نہیں کریں گے اگرچہ ہم سچے ہی ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہا اے ہمارے باپ ! بیشک ہم دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلتے چلے گئے اور ہم نے یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تو اسے کوئی بھیڑیا کھا گیا اور تو ہرگز ہمارا اعتبار کرنے والا نہیں، خواہ ہم سچے ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کہنے لگے : ہم دوڑ کے مقابلہ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھتے گئے اور یوسف کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا اتنے میں ایک بھیڑیا آیا اور اسے کھا گیا اور آپ تو ہماری بات پر یقین نہیں کریں گے خواہ ہم سچے ہی ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو بولے کہ اے ہمارے باپ ہم ایک دوسرے سے دوڑ میں مقابلہ کرتے ہوئے دور نکل گئے اور یوسف کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑا تو اس کو بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ تو ہماری بات باور کرنے والے ہیں نہیں اگرچہ ہم سچے ہی ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہنے لگے ابا جان ہم آپس میں دوڑ کا مقابلہ کرنے لگے، اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا کہ اتنے میں ایک بھیڑئیے نے آکر ان کو کھالیا، مگر آپ تو ہماری بات کا یقین نہیں کریں گے اگرچہ ہم سچے ہی ہوں

— مولانا اسحاق مدنی

بولے اے ہمارے باپ ہم سب تو آپس میں دوڑنے میں لگ گئے اور ہم نے یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تو بھیڑیا انہیں کھا گیا اور آپ تو ہمارا یقین کریں گے نہیں گو ہم (کیسے ہی) سچے ہوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے کہا : ابا جان ! ہم جا کر دوڑ کا مقابلہ کرنے لگے اور ہم نے چھوڑ دیا تھا یوسف کو اپنے سامان کے پاس تو اسے کھالیا ایک بھیڑیے نے۔ اور آپ ہماری بات مانیں گے تو نہیں خواہ ہم کتنے ہی سچے ہوں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کہنے لگے کہ ابا جان ! ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ گئے تو اسے بھیڑیا کھا گیا اور اگرچہ ہم سچ ہی کہتے ہیں آپ ہماری بات کا یقین نہیں کریں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and said: "Father! We went racing with one another and left Joseph behind with our things, and then a wolf came and ate him up. We know that you will not believe us howsoever truthful we might be."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :Father, we went racing with one another, and left Yusuf with our belongings, and the wolf ate him up. You will never believe us, howsoever truthful we may be.

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :Father, we went racing with one another, and left Yusuf with our belongings, and the wolf ate him up. You will never believe us, howsoever truthful we may be.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "O our father! We went racing with one another, and left Yusuf by our belongings and a wolf devoured him; but you will never believe us even when we speak the truth."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Saying: O our father! We went racing one with another, and left Joseph by our things, and the wolf devoured him, and thou believest not our saying even when we speak the truth.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "O our father, indeed we went racing each other and left Joseph with our possessions, and a wolf ate him. But you would not believe us, even if we were truthful."

— Saheeh International

and saying, "Father, we went playing and left Joseph with our belongings. A wild-beast came and devoured him. We realize that you will not believe us even though we are telling the truth".

— Muhammad Sarwar

They said: O our father! surely we went off racing and left Yusuf by our goods, so the wolf devoured him, and you will not believe us though we are truthful.

— Muhammad Habib Shakir

They said: our father! we went off competing, and left Yusuf by our stuff, so a wolf devoured him; and thou wilt put no credence in us, even though we are the truth-tellers.

— Abdul Majid Daryabadi

They said: "O our father! We went racing with one another, and left Joseph with our things; and the wolf devoured him.... But thou wilt never believe us even though we tell the truth."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–18

بھائیوں کی واپسی اور معذرت چپ چاپ ننھے بھیا پر، اللہ کے معصوم نبی پر، باپ کی آنکھ کے تارے پر ظلم وستم کے کے پہاڑ توڑ کر رات ہوئے باپ کے پاس سرخ رو ہونے اور اپنی ہمدردی ظاہر کرنے کے لیے غمزدہ ہو کر روتے ہوئے پہنچے اور اپنے ملال کا یوسف کے نہ ہونے کا سبب یہ بیان کیا کہ ہم نے تیر اندازی اور ڈور شروع کی۔ چھوٹے بھائی کو اسباب کے پاس چھوڑا۔ اتفاق کی بات ہے اسی وقت بھیڑیا آگیا اور بھائی کا لقمہ بنا لیا۔ چیڑ پھاڑ کر کھا گیا۔ پھر باپ کو اپنی بات صحیح طور پر جچانے اور ٹھیک باور کرانے کے لیے پانی سے پہلے بند باندھتے ہیں کہ ہم اگر آپ کے نزدیک سچے ہی ہوتے تب بھی یہ واقعہ ایسا ہے کہ آپ ہمیں سچا ماننے میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 16–18

سورة یُوْسُف 13 متن میں ”صبر جمیل“ کے الفاظ ہیں جن کا لفظی ترجمہ ”اچھا صبر“ ہوسکتا ہے۔ اس سے مراد ایسا صبر ہے جس میں شکایت نہ ہو، فریاد نہ ہو، جَزَع نزع نہ ہو، ٹھنڈے دل سے اس مصیبت کو برداشت کیا جائے جو ایک عالی ظرف انسان پر آپڑی ہو۔ سورة یُوْسُف 14 بائیبل اور تلمود یہاں حضرت یعقوب ؑ کے تأثر کا نقشہ بھی کچھ ایسا کھینچتی ہیں جو کسی معمولی باپ کے تاثر سے کچھ بھی مختلف نہیں ہے۔ بائیبل کا بیان یہ ہے کہ ”تب یعقوب ؑ نے اپنا پیراہن چاک کیا اور ٹاٹ اپنی کمر سے لپیٹا اور بہت دنوں تک اپنے بیٹے کے لیے ماتم کرتا رہا“۔ اور تلمود کا بیان ہے کہ ”یعقوب بیٹے کا قمیص پہچانتے ہی اوندھے منہ زمین پر گر پڑا اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

تو بھائیوں نے کہا يٰٓاَبَانَآ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ ۚ وَمَآ اَنْتَ بِمُؤ ْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صٰدِقِيْنَ یعنی ہم نے آپس میں ڈورلگائی اور یوسف ؑ کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا اس درمیان میں یوسف ؑ کو بھیڑیاکھا گیا اور ہم کتنے ہی سچے ہوں آپ کو ہمارا یقین تو آئے گا نہیں ابن عربی نے احکام القرآن میں فرمایا کہ باہمی مسابقت (دوڑ) شریعت میں مشروع اور اچھی خصلت ہے جو جنگ و جہاد میں کام آتی ہے اسی لئے رسول کریم ﷺ سے بنفس نفیس خودبھی مسابقت کرنا احادیث صحیہ میں ثابت ہے اور گھوڑوں کی مسابقت کرانا (یعنی گھوڑ دوڑ) بھی ثابت ہے صحابہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 15–17

15۔ 17:۔ فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَاَجْمَعُوْٓا اَنْ يَّجْعَلُوْهُ فِيْ غَيٰبَتِ الْجُبِّ ۚ وَاَوْحَيْنَآ اِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ ھٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ۔ وَجَاۗءُوْٓا اَبَاهُمْ عِشَاۗءً يَّبْكُوْنَ۔ قَالُوْا يٰٓاَبَانَآ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ ۚ وَمَآ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صٰدِقِيْنَ۔ ان آیات میں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ " لما " کا جواب۔ قالوا یابانا۔۔۔ الایۃ ہے۔ بات کو سمیٹنے کے لیے بیچ کی کئی باتوں کو " لما " ہی کے تحت کردیا ہے۔ یعنی جب انہوں نے اس کو کنوئیں میں ڈالنے کا فیصلہ کرلیا اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 16–17

17۔ 1 یعنی اگر ہم آپ کے نزدیک معتبر اور اہل صدق ہوتے، تب بھی یوسف ؑ کے معاملے میں آپ ہماری بات کی تصدیق نہ کرتے، اب تو ویسے ہماری حیثیت متہم افراد کی سی ہے، اب آپ کس طرح ہماری بات کی تصدیق کریں گے ؟

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 16–18

10: بعض روایات میں ہے کہ انہوں نے قمیص پر خون تو لگا دیا۔ لیکن قمیص صحیح سالم تھا اس پر پھٹن کے کوئی آثار نہیں تھے اس لیے حضرت یعقوب ؑ نے فرمایا کہ وہ بھیڑیاں بڑا مہذب تھا کہ بچے کو کھا گیا اور قمیص جوں کی توں صحیح سالم رہی۔ خلاصہ یہ کہ ان کو یہ بات یقین سے معلوم ہوگئی کہ بھیڑیے کے کھانے کی بات محض افسانہ ہے اس لیے انہوں نے فرمایا کہ یہ بات تم نے اپنی طرف سے گھڑ لی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 16–17

اب ہم یوسف کو اس اندھے کنوئیں میں چھوڑ کر ذرا کنعان چلتے ہیں۔ یہ اب اللہ کی حمایت اور کفالت میں ہیں جب تک کہ اللہ ان کو وہاں سے نکال نہیں دیتا۔ اب پردہ گرتا ہے اور یہ لوگ اس قدر برا کام کرنے کے بعد اب والد کے سامنے کھڑے ہیں ذرا ملاحظہ کریں ان کی بہانہ سازی : شام کو وہ روتے پیٹتے اپنے باپ کے پاس آئے۔ اور کہا " ابا جان ہم دوڑ کا مقابلہ کرنے لگ گئے تھے اور یوسف کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا کہ اتنے میں بھیڑیا آکر اسے کھا گیا۔ آ ہماری بات کا یقین نہ کریں گے چاہے ہم سچے ہی ہوں۔ اور وہ یوسف کی قمیص پر جھوٹ موٹ کا خون لگا کرلے غائے تھے۔ یہ سن کر ان کے باپ نے کہا " بلکہ تمہارے نفس نے تمہارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی ہم نے حفاظت میں کچھ کوتاہی نہیں کی، ہمارے کپڑے جوتے وغیرہ قابل حفاظت چیزیں جہاں رکھی تھیں وہیں یوسف کو بٹھلایا اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کو بھاگ دوڑ شروع کی۔ بس ذرا آنکھ سے اوجھل ہونا تھا کہ بھیڑیے نے یوسف کو آدبوچا۔ اس موقع پر اتنی ذرا سی دیر میں احتمال بھی نہ تھا کہ بھیڑیا پہنچ کر فورا یوسف کو شکار کرلے گا۔ 9 یعنی یوسف کے معاملہ میں پہلے ہی سے آپ کو ہماری طرف بدگمانی ہے۔ اگر آپ کے نزدیک ہم بالکل سچے ہوں تب بھی اس معاملہ خاص میں کسی طرح ہماری بات کا یقین نہیں کرسکتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 17 قَالُوْا يٰٓاَبَانَآ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا ہم نے اپنا اضافی سامان اکٹھا کر کے ایک جگہ رکھا اور اس سامان کے پاس ہم نے یوسف کو چھوڑ دیا تھا۔ خود ہم ایک دوسرے سے دوڑ میں مقابلہ کرتے ہوئے دور نکل گئے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 16–17

14 جنگل میں برادران یوسف کے مشاغل :۔ جنگل میں برادران یوسف کے مشاغل بکریاں چرانے کے علاوہ دو قسم کے تھے اور یہ دونوں ہی ان کے پیشہ سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک بھاگ دوڑ کا مقابلہ تاکہ بوقت ضرورت کسی حملہ آور بھیڑیئے کا تعاقب کرکے اسے بھگا سکیں اور دوسرے تیر اندازی اور اس سے بھی مقصد کسی حملہ آور درندے کو تیر کا نشانہ بنا کر اسے ختم کردینا تھا جب وہ سیدنا یوسف کو اپنی سمجھ کے مطابق ٹھکانے لگا چکے تو اب سوال یہ تھا کہ واپس جاکر باپ کو کیا جواب دیں جو پہلے ہی ان پر اعتماد نہیں کر رہا تھا وہ کوئی عادی مجرم تو تھے نہیں، جو فریب، مکاری اور بہانہ سازی میں مہارت رکھتے ہوں، فقط حسد اور انتقام کی آگ نے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

25۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا اندیشہ صحیح نکلا۔ برادران یوسف (علیہ السلام) نے آکر ایک لگتی ہوئی کہانی گڑھ کے بیان کردی۔ (آیت) ” انا ذھبنا نستبق “۔ یہ نوجوان یا تو شکار کے پیچھے دوڑتے ہوئے نکل گئے ہوں گے یا محض آپس میں دوڑ کا کھیل کھیل رہے ہوں گے، یا یہ کچھ بھی سرے سے نہ ہوا ہو سب بناوٹ ہی بناوٹ ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 7–20

آیت نمبر 7 تا 20 ترجمہ : حقیقت یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں کہ وہ گیارہ تھے سوال کرنے والوں کیلئے بڑی عبرتیں ہیں، اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے آپس میں کہا یوسف اور اس کا حقیقی بھائی بن یامین ہمارے اباجان کیلئے ہمارے مقابلہ میں زیادہ چہیتے ہیں، لَیُوسف مبتداء ہے اور اَحَبُّ اس کی خبر ہے، حالانکہ ہمارا ایک جتھا ہے، ہمارے اباجان ان دونوں کو ہم پر ترجیح دینے کے معاملہ میں کھلی غلطی پر ہیں (ایسا کرو) کہ یوسف کو قتل کردو یا کسی دور ملک میں پہنچا دو (اس تدبیر سے) تمہارے ابا جان کی توجہ خالص تمہاری طرف ہوجائے گی، اس طریقہ پر کہ تمہاری طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا یا بانا انا ذھبنا نستبق وترکنا یوسف عند متاعنا فاکلہ الذئب وما انت بمؤمن لنا ولو کنا صدقین بولے : ابا ! ہم آپس میں دوڑ لگانے گئے تھے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ گئے تھے (ہمارے پیچھے) بھیڑئیے نے اس کو کھالیا۔ آپ کو ہماری بات کا یقین نہیں آئے گا ‘ خواہ ہم سچ کہہ رہے ہوں (کیونکہ آپ کو یوسف سے انتہائی محبت ہے اور ہم لوگوں سے بدگمانی ہے ‘ یوسف کی محبت ہی آپ کو ہماری بات کا یقین نہیں ہونے دے گی۔ مزید یہ کہ آپ کو ہماری طرف سے بدگمانی ہے ‘ اسلئے اگر ہم اس بیان میں سچے بھی ہوں تب بھی آپ یقین کرنے والے نہیں) ۔ بعض نے کہا : وَمَا اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ آپ کو ہماری…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 16–17

(16۔ 17) ادھر وہ لوگ ظہر کے بعد یعنی شام کو اپنے باپ کے پاس یوسف ؑ پر روتے ہوئے پہنچے اور کہنے لگے کہ ابا جان ہم تو کھیل کود اور شکار میں لگ گئے اور یوسف کو ہم نے اپنی چیزوں کی حفاظت کے لیے چھوڑ دیا، چناچہ جس چیز کا آپ کو ڈر تھا وہی ہوا اور آپ کیوں ہم پر یقین کریں گے چاہے ہم کیسے ہی سچے کیوں نہ ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالُوْا يٰٓاَبَانَآ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ۔۔ : ”اِسْتِبَاقٌ“ باب افتعال کا مصدر ہے، آگے نکلنے میں ایک دوسرے سے مقابلہ، وہ پیدل دوڑ میں آگے نکلنے کا ہو یا گھوڑوں پر (اِسْتِبَاقُ الْخَیْلِ) یا نشانہ بازی میں (اِسْتِبَاق الرَّمْیِ) یعنی ہم دوڑ کے مقابلے میں دور نکل گئے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ گئے تو یوسف کو بھیڑیا کھا گیا۔ ”الذئب“ کا الف لام تخصیص کے لیے نہیں، جنس کے لیے ہے، یعنی کوئی بھیڑیا اسے کھا گیا۔ ساتھ ہی اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے والد پر چڑھائی کردی کہ آپ تو ہم سے اس قدر بدظن ہیں کہ کسی صورت ہم پر اعتبار کرنے والے ہی نہیں، خواہ ہم بالکل سچے ہوں۔ مگر سننے والا یہ تو ضرور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 17 اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ لستبق باب افتعال ہے : مسابقہ (باہم دوڑ لگانا) سے، ایک قول ہے : یعنی ہم نیزہ بازی کررہے تھے اسی طرح حضرت عبداللہ کی قرأت میں اناذھبناننتضل ہے یہ بھی دوڑ کی ایک قسم ہے یہ زجاج کا قول ہے۔ ازھری نے کہا ؛ نضال، تیروں میں ہوتا ہے اور رھان گھوڑے میں ہوتا ہے جبکہ مسابقہ کا لفظ ان دونوں کو جامع ہے۔ قشری ابونصر نے کہا : لستبق یعنی تیر اندازی میں، یا گھوڑے پر یا پھر دوڑنے میں، دوڑنے میں سابقہ سے مقصود دشمن کے خلاف سانس کی مشق ہے کیونکہ دشمن کے قتال میں اور ریوڑ سے بھیڑیے کو بھگانے میں یہ بھی ایک آلہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ سدی اور ابن حبان نے کہا : نستبق سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 16–17

1:۔ ابن منذر (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ ایک عورت قاضی شریح کے پاس آئی جو کسی چیز کے بارے میں جھگڑا کررہی تھی پھر اس نے رونا شروع کردیا لوگوں نے کہا اے ابوامیہ (یہ شریح کی کنیت ہے) کیا تو نے اس کو روتا ہوا نہیں دیکھا۔ فرمایا (کہ اسی طرح) یوسف (علیہ السلام) کے بھائی اپنے والد کے پاس عشاء کے وقت روتے ہوئے آئے تھے۔ 2:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومانت بمومن لنا “ یعنی تو ہماری تصدیق کرنے والا نہیں ہے۔ 3:۔ ابن منذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ومانت بمومن لنا ولوکنا صدقین “ کے بارے میں فرمایا کہ (یہ آیت) عرب کے کلام پر نازل ہوئی جیسے تیرا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالُوْا : انھوں نے کہا ] [ يٰٓاَبَانآ : اے ہمارے والد ] [ انا : بیشک ] [ذَهَبْنَا : ہم گئے (کہ)] [ نَسْتَبِقُ : ہم دوڑ لگاتے ہیں ] [ وَتَرَكْنَا : اور ہم نے چھوڑا ] [يُوْسُفَ : یوسف (علیہ السلام) کو ] [ عِنْدَ مَتَاعِنَا : اپنے سامان کے پاس ] [ فَاَكَلَهُ : تو کھالیا اس کو ] [الذِّئْبُ : بھیڑیئے نے ] [ وَمَآ انتَ : اور آپ نہیں ہیں ] [بِمُؤْمِنٍ لَّنَا : ہماری بات ماننے والے ] [ وَلَوْ : اور اگرچہ ] [ كُنَا : ہم ہوں ] [ صٰدِقِيْنَ : سچ کہنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 16–19

حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کنویں سے نکلنا اور فروخت کیا جانا ادھر تو یہ ہوا کہ برادران یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد سے جا کر کہا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا ہے اور ادھر اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کی حفاظت کا یہ انتظام فرمایا کہ راہ گیروں کا ایک قافلہ وہاں پہنچا دیا یہ قافلہ اسی کنویں کے قریب آکر ٹھہرا جس میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان کے بھائیوں نے ڈالا تھا قافلہ والوں نے اپنے میں سے ایک شخص کو پانی لانے کے لیے بھیجا وہ آدمی پانی لینے گیا تو کنویں میں اپنا ڈول ڈال دیا ‘ ڈول کا اندر پہنچنا تھا کہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے اسے پکڑ لیا جب اس شخص نے ڈول کھینچا تو دیکھا کہ ڈول کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–20

معاملہ برادران یوسف (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ لقد کان فی یوسف واخواتہ ایت ..... الیٰ ..... وکانوا فیہ من الزاھدین۔ بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں نشانیاں اور عبرتیں اور نصیحتیں ہیں ان لوگوں کے لیے جو اس قصہ کو دریافت کرتے ہیں کیونکہ یہ عجیب قصہ اس لائق ہے کہ اس کی خبر دریافت کی جائے کہ حق تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو بےکسی اور بےبسی سے نکال کر مقام سلطنت تک کس طرح پہنچایا یہ اس کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ جو پوچھتے ہیں ان کے لیے اس قصہ میں بہت سی عبرتیں اور نصیحتیں ہیں اور جو نہیں پوچھتے ان کے لیے بھی بہت سی نشانیاں ہیں۔ جبکہ یوسف کے علاتی بھائی آپس میں یہ کہنے لگے کہ البتہ یوسف اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–17

15:۔ رات کو سب بھائی روتے ہوئے گھر پہنچے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے یوں بہانہ کرنے لگے کہ ہم دوڑتے ہوئے آگے نکل گئے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھور گئے واپس آئے تو اسے بھیڑیا کھاچکا تھا۔ ” وَجَاءُوْا عَلیٰ قَمِیْصِہٖ الخ “۔” کَذِب “ ای مکذوب فیہ او ذی کذب اور ” بِدَمٍ “ میں باء تعدیہ کے لیے ہے۔ یعنی وہ یوسف (علیہ السلام) کی قمیص پر ایسا خون لگا کرلے آئے جو ان کا نہ تھا وہ بکری کا بچہ یا ہرن ذبح کر کے اس کے خون میں یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ لت پت کر کے لے آئے مگر ان سے یہ چوک ہوگئی کہ کرتہ پھاڑنا بھول گئے۔ (مدارک، قرطبی) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–20

ربط آیات گزشتہ درس میں برادران یوسف کے منصوبے کا ذکر ہوا کہ وہ یوسف (علیہ السلام) کو اپنے راستے سے ہٹانا چاہتے تھے تاکہ باپ کی ساری توجہ ان کی طرف ہوجائے چناچہ انہوں نے باپ کو ہر طرح سے یقین دلانے کی کوشش کی کہ ہم یوسف (علیہ السلام) کے خیر خواہ ہیں ، آپ اسے ہمارے ساتھ جنگل میں جانے کی جا ازت دے دیں ، یہ وہاں پر کھاپی لے گا اور کھیل کود میں بھی حصہ لے لے گا۔ یعقوب (علیہ السلام) نے تشویش کا اظہار کیا کہ کہ کہیں ایسا نہ کہ تمہاری غفلت کی وجہ سے یوسف (علیہ السلام) کسی حادثے کا شکار ہوجائے ، مگر بھائیوں نے پھر یقین دلایا کہ ہم جیسے مضبوط اور طاقتور بھائیوں کی موجودگی میں ہمارے اس چھوٹے بھائی کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْا يٰٓاَبَانَآ اِنَّا ذَہَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَہُ الذِّئْبُ۝ 0ۚ وَمَآ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صٰدِقِيْنَ۝ 17 سبق أصل السَّبْقِ : التّقدّم في السّير، نحو : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] ، والِاسْتِبَاقُ : التَّسَابُقُ. قال : إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ، وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] ، ثم يتجوّز به في غيره من التّقدّم، قال : ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11][ أَنْ يَسْبِقُونَا } يَفُوتُونَا فَلَا نَنْتَقِم مِنْهُمْ ( س ب ق) السبق اس کے اصل معنی چلنے میں آگے بڑھ جانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَالسَّابِقاتِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–22

1 ؎ یعنی جو حضرت یوسف ﷺ اور ان کے بھائیوں کے حالات سے سوال کرتے ہیں اس بیان میں ان کے لئے پوری نشانی نبوت حضرت ﷺ کے لئے ہے کس لئے کہ باوجود توریت پاس نہ ہونے اور نہ اس کے پڑھے لکھے ہونے کے اتنے بڑے قصے کو ان باریکیوں اور پہلوئوں کے ساتھ جو اس واقعہ کے ساتھ متعلق ہیں۔ اس طرح سے بیان کردینا کہ توریت کے سرمو بھی خلاف نہ ہوا البتہ ایک معجزہ ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 16–18

وَجَآئُ وْٓ اَبَاھُمْ عِشَآئً یَّبْکُوْن۔ قَالُوْا یٰٓاَبَانَآ اِنَّا ذَھَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَکْنَا یُوْسُفَ عِنْدَمَتَاعِنَا فَاَکَلَہُ الذِّئْبُ ج وَمَآ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْکُنَّا صٰدِقِیْنَ ۔ وَجَآئُ وْعَلٰی قَمِیْصِہٖ بِدَمٍ کَذِبٍ ط قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ اَنْفُسُکُمْ اَمْرًا ط فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ ط وَاللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَاتَصِفُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 16، 17، 18) (اور وہ آئے اپنے باپ کے پاس کچھ رات گئے، روتے ہوئے۔ بولے کہ اے ہمارے باپ ! ہم ایک دوسرے سے دوڑ میں مقابلہ کرتے ہوئے دور نکل گئے اور یوسف ( علیہ السلام) کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑا۔ پس اسے بھیڑیا کھا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–17

فہم القرآن ربط کلام : برادران یوسف غلطی پر غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ویران کنویں میں پھینک کر۔ برادران یوسف روتے ہوئے دانستہ تاخیر سے عشاء کے وقت گھر آئے تاکہ ان کی من گھڑت کہانی پر والد کو یقین آجائے۔ یاد رہے کہ عشاء کا وقت مغرب کے بعد اچھی طرح اندھیرا چھا جانے سے لے کر آدھی رات تک شمار ہوتا ہے۔ برادران یوسف گھر داخل ہوتے ہی ہچکیاں لیتے اور زارو قطار روتے ہوئے حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے کہتے ہیں۔ اباجان ! ہم یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ کر کھیل کود میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں بہت دور نکل گئے۔ ہمارے پیچھے بھیڑئیے نے یوسف کو کھالیا۔ یہ حقیقت ہے مگر ہمارے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

17: جب یعقوب (علیہ السلام) نے ان کی آواز سنی تو گھبرائے اور فرمایا میرے بیٹو ! کیا ہوا۔ کیا تمہاری بکریوں پر کوئی آفت آگئی۔ انہوں نے کہا نہیں۔ پھر تمہیں کیا ہوا۔ اور یوسف کہاں ہے ؟ قَالُوْا یٰٓـاَ بَانَآ اِنَّا ذَھَبْنَا نَسْتَبِقُ (کہنے لگے اے ہمارے والد ! ہم آپس میں دوڑ لگاتے آگے نکل گئے) نستبق کا معنی نتسابق ہے۔ ایک دوسرے کے مقابلہ میں دوڑنا۔ نمبر 2۔ تیر اندازی میں مقابلہ کرتے آگے نکل گئے۔ صرف : باب افتعال اور تفاعل دونوں شراکت فعل کو ظاہر کرتے ہیں جیسے ارتماء اور الترامی وغیرہ ہے۔ وَتَرَکْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَا عِنَا فَاَکَلَہُ الذِّئْبُ وَمَآ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْکُنَّا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

17۔” قالوا یا ابانا انا ذھبنا نستبق “ ہم تیر اندازی کرنے لگ گئے اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ ہم نے پیدل دوڑ لگائی ” وترکنا یوسف عند متاعنا “ ہمارے کپڑوں وغیرہ کے پاس ان کو چھوڑا ” فاکلہ الذئب وما انت بمؤمن لنا “ آپ ہماری تصدیق کرنے والے نہیں ” ولو کنا “ اگرچہ ہم ہیں ” صادقین “ اگر یہ اعتراض ہو کہ انہوں نے یعقوب (علیہ السلام) پر کیسے تہمت لگا دی کہ آپ (علیہ السلام) سچے کی تصدیق نہ کریں گے ’ تو جواب یہ ہے کہ مطلب یہ ہے کہ آپ اس معاملہ میں ہمیں متہم سمجھیں گے کیونکہ ابتداء میں ہی آپ کو ہم سے خوف اور آپ (علیہ السلام) اس کے حق میں ہم پر اعتمادنہ کر رہے تھے اور بعض نے کہا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ آپ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–18

16۔ 18۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کو اس بات کی خبر دی کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں ڈال کر گھر کو واپس آئے اور رات کے وقت اندھیرا ہوجانے پر باپ کے پاس روتے ہوئے آئے تاکہ اندھیرے میں ہماری صورتوں اور چہرے سے جھوٹ نہ ظاہر ہو اور گریہ وزاری سے زیادہ تصدیق ہمارے قول کی ہوگی باپ کے پاس پہنچ کر رو رو کر بیان کیا کہ ہم تو تیر اندازی اور دوا دوش میں رہے اور یوسف (علیہ السلام) کو اپنے سامان کے پاس بٹھا دیا تھا ہمارا دور ہونا تھا کہ بھیڑیا آکر یوسف کو کھا گیا اور اس کے ساتھ کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ آپ ہماری بات کو ہرگز یقین نہ کریں گے چاہے سچ ہی کہتے ہوں کیوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–18

آیت 15 تا 18: یعنی جب وہ باپ کی اجازت کے بعد یوسف (علیہ السلام) کو ساتھ لے گئے اور انہوں نے اپنے میں سے ایک کی رائے کے مطابق، جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے، یوسف (علیہ السلام) کو اندھے کنوئیں میں پھینکنے کا عزم کرلیا اور اب وہ اپنے فیصلے پر عمل کرنے کی قدرت رکھتے تھے چناچہ انہوں نے اپنے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے یوسف (علیہ السلام) کو اندھے کنوئیں میں پھینک دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جناب یوسف (علیہ السلام) کو جو کہ اس وقت سخت خوف کی حالت میں تھے اپنے لطف و کرم سے نوازتے ہوئے ان کی طرف وحی کی لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ ھٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ : کہ تو جتائے گا ان کو ان کا یہ کام اور وہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 16–17

ہر روتا ہوا شخص مظلوم ہی نہیں ، ظالم بھی ہوسکتا ہے قول باری ہے وجائوا اباھم عشا ئً یبکون ۔ شام کو وہ روتے پیٹتے اپنے باپ کے پاس آئے ۔ روایت کے مطابق ایک دفعہ شعبی دارالقضاء میں مقدمات کی سماعت کے لیے بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک شخص روتا ہوا آیا اور دعویٰ کیا کہ فلاں شخص نے اس پر ظلم کیا ہے۔ شعبی کے پاس موجود ایک شخص نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ شخص واقعی مظلوم ہو ۔ یہ سن کر شعبی نے کہا کہ برادران یوسف بھی خیانت کرنے اور ظلم ڈھانے کے بعد شام کے وقت اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے تھے اور جھوٹ بیان دیا تھا کہ یوسف کو بھیڑیاکھا گیا ہے۔ بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کے سانحہ پر رونے کا اظہار اپنے آپ کو خیانت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 16–17

27 ۔ جھوٹا رونا صداقت کی دلیل نہیں ہوسکتا : سو ارشاد فرمایا گیا اور شام کو وہ روتے اور چیختے چلاتے اپنے باپ کے پاس واپس پہنچے۔ معلوم ہوا کہ محض رونا پیٹنا صداقت و حقانیت کی دلیل نہیں ہوسکتا۔ بلکہ اس کے برعکس بعض اوقات یہ کام حقائق کو چھپانے اور ان پر پردہ ڈالنے کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ جس طرح کہ برادران یوسف کا یہ نمونہ قرآن حکیم میں پیش فرمایا گیا ہے اور جس طرح کہ سبائی پارٹی نے حضرت حسین ؓ کو خود عراق بلایا اور وہاں یہ لوگ ان کی حمایت سے کنارہ کش ہوگئے اور اس طرح حضرت حسین ؓ کو قتل کرا کر اب یہ پارٹی پیٹتی پھرتی ہے۔ اور اس طرح یہ پارٹی اپنے کئے کی سزا خود پا رہی ہے اپنا جوتا اپنے منہ پر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–21

بھائیوں کی زیادتی اور سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا مصر پہنچنا تشریح : اس تمام قصہ کو پڑھنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان اکثر حسد کی وجہ سے بعض شرارت اور خباثت میں ایسے برے کام کرجاتا ہے کہ جو خود اس کے اپنے لیے دنیا و آخرت میں رسوائی کا باعث بن جاتے ہیں۔ دغا، فریب، جھوٹ اور ظلم یہ بہت بڑے گناہ ہیں جو انسان صرف اپنی دنیوی کامیابی کے لیے کرجاتا ہے۔ اور یہ بھول جاتا ہے کہ یہ سب کرنے سے کسی کا حقیقت میں نقصان کم ہی ہوتا ہے اصل میں اپنی عاقبت خراب کرلیتا ہے اور دنیا میں بھی کوئی عزت اور کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ اللہ تو ہر اس کام سے واقف ہے جو انسان دوسروں سے چھپا کر کرتا ہے۔ اور پھر اللہ سے بڑا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 7–20

آیات 7 تا 19 اسرار و معارف حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا قصہ باعث نصیحت بھی ہے اور باعث عبرت بھی کہ اللہ اپنے مخلص بندوں کی کیسے کیسے حفاظت فرماتا ہے اور ان سے حسد کرنے والے کس طور ناکام ثابت ہوتے ہیں ۔ نیز اس کا ایک مربوط نظام ہے جسے نہ جاننے والے اتفاقات اور حادثات کا نام دیتے ہیں مگر دراصل ایسے تمام امورطے شدہ نظام کی کڑیوں کے طور پر کام کرتے ہیں اور اس طرح تفصیل سے واقعہ کی جزئیات بھی شامل کرکے درست بیان فرمانا آپ ﷺ کا بہت بڑا معجزہ اور وحی الٰہی کی دلیل بھی ہے کہ سوال کرنے والے یہوددی تو مدینہ منورہ سے سوال بھیج رہے تھے مکہ میں تو کوئی یہودی عالم بھی اتنے وسیع مطالعہ کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 16–17

ف 9 ۔ کہ کون آگے نکلتا ہے، یا تری اندازی کرنے لگے کہ کس کا یہ دور جاتا ہے۔ کذا فی الروح الاول عن السدی والثانی عبرو الزجاج۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(12:17) نستبق۔ مضارع جمع متکلم۔ استباق (افتعال) سبق۔ مادہ ۔ ہم ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی دوڑ دوڑنے لگے۔ استباق اور تسابق (افتعال و تفاعل) ایک دوسرے سے آگے بڑھنے میں مقابلہ کرنا۔ ذھبنا نستبق۔ ہم (اپنے سامان کو رکھ کر ایک طرف) گئے کہ مقابلہ کی دوڑ دوڑیں۔ یا ہم جاکر دوڑ کا مقابلہ کرنے لگے۔ مؤمن۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ ایمان رکھنے والا۔ یقین کرنے والا۔ وما انت بمؤمنین لنا۔ آپ ہم پر یقین تو نہیں کریں گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–18

لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 18 مالک (تجھے کیا ہوگیا) لاتامنا (تو ہم پہ اطمینان نہیں کرتا ہے) نصحون (نصیحت کرنے والے۔ خیر خواہ) ارسل (بھیج دے) غداً (کل۔ آئندہ۔ صبح ) یرتع (کھاتا ہے یا کھائے گا ) یعلب (کھیلتا ہے یا کھیلے گا) لیحزننی (البتہ مجھے رنجیدہ کرتی ہے) ان یا کلہ ، (یہ کہ وہ کھائے) الذئب (بھیڑیا) ان یجعلوہ (یہ کہ وہ اس کو ڈال دیں) عشآء (رات کے وقت) یبکون (وہ روتے ہیں یا روئیں گے ) ذھبنا (ہم چلے گئے ) نستبق (ہم دوڑ کا مقابلہ کر رہے ہیں) ترکنا (ہم نے چھوڑ دیا) عند (نزدیک) متاعنا (ہمارا اپنا سامان) دم کذب (جھوٹا خون) سولت (بنا لی ہے۔ برابر کرتی ہے) صبر جمیل (اچھا صبر) المستعان (استعانۃ) مدد…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 16–18

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو اس بات کی خبر دی کہ یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں ڈال کر رات کے وقت باپ کے پاس روتے ہوئے آئے تاکہ اندھیرے میں ہماری صورتوں سے جھوٹ ظاہر نہ ہو اور کہا کہ ہم تو تیر اندازی اور دوا دوش میں رہے اور یوسف (علیہ السلام) کو اپنے سامان کے پاس بٹھا دیا ہمارا دور ہونا تھا کہ بھیڑیا آکر یوسف (علیہ السلام) کو کھا گیا۔ اس کے بعد وہ کرتہ جو یوسف (علیہ السلام) کا لے لیا تھا اس کو بکری ذبح کر کے اس کے خون میں رنگ لائے تھے وہ پیش کیا۔ تاکہ ہماری بات کا یقین کامل ہوجائے، مگر اتنا نہ سمجھے کہ ہمارے باپ خدا کے رسول ہیں معمولی آدمی نہیں۔ بہر حال باپ نے کرتہ دیکھتے ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–18

[8] آیت میں خون آلودہ کرتے کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا کیونکہ اسی سے ان کا سارا جھوٹ کھل گیا تھا۔ اگر بھیڑئیے نے حملہ کیا تھا تو کرتا کیسے بچ رہا ؟ اس کے تو پرزے پرزے ہوجانے تھے۔ چناچہ یعقوب (علیہ السلام) کو کرتا دیکھتے ہی یقین ہوگیا کہ ساری کہانی من گھڑت ہے۔ علاوہ ازیں یعقوب (علیہ السلام) کو فراست نبوت سے یہ بات معلوم ہوگئی تھی کہ پچھلی بشارتیں یوسف (علیہ السلام) ہی کے ذریعے پوری ہونے والی ہیں اس لئے وہ کبھی باور نہیں کرسکتے تھے کہ اس طرح یوسف (علیہ السلام) کی زندگی کا خاتمہ ہوجائے گا۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب یعقوب (علیہ السلام) کو یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا بیان غلط ہونا معلوم…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 16–18

(ف 1) جب برادران یوسف (علیہ السلام) رات کے وقت ڈھاریں مارتے ہوئے لوٹے تو کہنے لگے کہ ابا ! آپ مانیں یا نہ مانیں ، یوسف (علیہ السلام) کو بھیڑئیے نے کھالیا ہے اور ثبوت میں یوسف (علیہ السلام) کا خون میں تربتر قمیص پیش کردیا جس میں جھوٹ موٹ خون لگا لیا گیا تھا ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فراست پیغمبری سے پہچان لیا کہ یہ جھوٹ ہے ، اس لئے اس سے کہہ دیا ، کہ یہ محض فریب ہے تم نے یہ قصہ میرے سامنے سرخرو ہونے کے لئے بنا لیا ہے ، اس میں کوئی صداقت نہیں ۔ اس کے بعد اس مصیبت عظمی پر اپنے صبر کا اظہار کیا ، اور کہا کہ ان مواقع پر صبر ہی بہترین ہے ، اللہ ہماری مدد کرے گا ۔ حل لغات : سیارۃ : گھومنے پھرنے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

17 آکر کہنے لگے اے ہمارے باپ ہم تو سب دوڑنے اور آپس میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں لگ گئے اور یوسف (علیہ السلام) کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا سو اتفاقاً اس کو ایک بھیڑیا کھا گیا اور آپ تو ہمارے کہنے کو باور نہیں کریں گے اور ہماری بات کی تصدیق نہیں کریں گے خواہ ہم کتنے ہی سچے ہوں۔ یعنی ہم تو دوڑنے لگے کہ دیکھیں کون آگے نکلے ان کو سامان کے پاس بٹھا دیا بس ایک بھیڑیا آیا اور ان کو کھا گیا

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم بھاگ رہے تھے اور یوسف سامان کے پاس تھا کہ ایک بھیڑیا آیا اور یوسف کو کھا گیا ۔ 18 حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا اندیشہ اور خدشہ صحیح نکلا۔ برادران یوسف نے آ کر ایک لگتی ہوئی کہانی گھڑ کر بیان کردی انہوں نے کہا ’ اے باپ ! ہم ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کے لئے دوڑ میں لگ گئے تھے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا کہ ایک بھیڑیا ادھر آ نکلا اور یوسف کو اس نے کھا لاا۔ “ ” قالوا یا با نا انا ذھبنا نستبق وترکنا یوسف عندمتاعنا فاکلہ الذھب “ حالانکہ یہ سراسر جھوٹے تھے۔ قرآن کریم کی یہ عبارت ان کے واضح اور سراسر جھوٹ کو بیان کر رہی ہے ؟ قرآن کریم کی یہ عبارت کیا ہے ؟ یوسف (علیہ السلام) کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The brothers, then, said: يَا أَبَانَا إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَ‌كْنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَاعِنَا فَأَكَلَهُ الذِّئْبُ ۖ وَمَا أَنتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صَادِقِينَ Father, we went running races and left Yusuf with our belongings and the wolf ate him up. And you will never believe us, even though we are telling the truth. Some rules about racing In Ahkam al-Qur'an, Ibn al-'Arabi has said: Running races against each other is legitimate in the Shari'ah. It is a good habit which comes handy in Jihad. Therefore, the Holy Prophet ﷺ ، as proved by authentic Ahadith, has…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 16–18

13. The literal meaning of“patience in grace”which implies a patience that enables one to endure all kinds of troubles and afflictions in a calm, self possessed and unemotional manner, without complaining or crying or weeping, as is worthy of great minds. 14. Prophet Jacob’s reaction to the news of Joseph’s death, as depicted in the Quran, is also different from that given in the Bible and the Talmud. According to them he was upset by the sad news and behaved like an ordinary father. The Bible says: And Jacob rent his clothes, and put sackcloth upon his loins. And mourned for his son many…

Read the full tafseer →