Explained with ayahs 13–14
انجانے خطرے کا اظہار
نبی اللہ حضرت یعقوب ؑ اپنے بیٹوں کی اس طلب کا کہ بھائی یوسف کو ہمارے ساتھ سیر کے لیے بھیجئے جواب دیتے ہیں کہ تمہیں معلوم ہے مجھے اس سے بہت محبت ہے۔ تم اسے لے جاؤ گے مجھ پر اس کی اتنی دیر کی جدائی بھی شاق گزرے گی۔ حضرت یعقوب کی اس بڑھی ہوئی محبت کی وجہ یہ تھی کہ آپ حضرت یوسف کے چہرے پر خیر کے نشان دیکھ رہے تھے۔ نبوت کا نور پیشانی سے ظاہر تھا۔ اخلاق کی پاکیزگی ایک ایک بات سے عیاں تھی۔ صورت کی خوبی، سیرت کی اچھائی کا بیان تھی، اللہ کی طرف سے دونوں باپ بیٹوں پر صلوۃ وسلام ہو۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ممکن ہے تم اپنی بکریوں کے چرانے چگانے اور دوسرے کاموں میں مشغول رہو اور اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
سورة یُوْسُف 12
متن میں وَھُم لَایَشعُرُونَ کے الفاظ کچھ ایسے انداز سے آئے ہیں کہ ان سے تین معنی نکلتے ہیں اور تینوں ہی لگتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہم یوسف ؑ کو یہ تسلی دے رہے تھے اور اس کے بھائیوں کو کچھ خبر نہ تھی کہ اس پر وحی جاری ہے۔ دوسرے یہ کہ تو ایسے حالات میں ان کی یہ حرکت انہیں جتائے گا جہاں تیرے ہونے کا انہیں وہم و گمان تک نہ ہوگا۔ تیسرے یہ کہ آج یہ بےسمجھے بوجھے ایک حرکت کر رہے ہیں اور نہیں جانتے کہ آئندہ اس کے نتائج کیا ہونے والے ہیں۔
بائیبل اور تلمود اس ذکر سے خالی ہیں کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یوسف ؑ کو کوئی تسلی بھی دی گئی تھی۔ اس کے بجائے تلمود میں جو روایت بیان…
Read the full tafseer →بھائیوں نے یعقوب ؑ کی یہ بات سن کر کہا کہ آپ کا یہ خوف و خطرہ عجیب ہے ہم دس آدمیوں کی قوی جماعت اس کی حفاظت کے لئے موجود ہے اگر ہم سب کے ہوتے ہوئے اس کو بھیڑیا کھا جائے تو ہمارا تو وجود ہی بےکار ہوگیا اور پھر ہم سے کسی کام کی کیا امید کی جاسکتی ہے،
حضرت یعقوب ؑ نے اپنی پیغمبرانہ شان سے اولاد کے سامنے اس بات کو نہیں کھولا کہ مجھے خطرہ خود تم ہی سے ہے کہ اول تو اس سے سب اولاد کی دل شکنی تھی دوسرے باپ کے ایسا کہنے کے بعد خطرہ یہ تھا کہ بھائیوں کی دشمنی اور بڑھ جائے گی اور اس وقت چھوڑ بھی دیا تو دوسرے کسی وقت کسی بہانہ سے قتل کردیں گے اس لئے اجازت دے دی مگر بھائیوں سے مکمل عہد و پیمان لیا کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
13۔ 14:۔ قَالَ اِنِّىْ لَيَحْزُنُنِيْٓ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَاَخَافُ اَنْ يَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَاَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ۔ قَالُوْا لَىِٕنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّآ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ۔
حضرت یعقوب نے فرمایا کہ مجھے غم اور اندیشہ اگر ہے تو اس بات کا ہے کہ تم اس کو لے جاؤ اور تم تو اپنے کھل کود، اپنی دلچسپیوں میں مصروف ہوجاؤ اور تمہاری غفلت میں اس کو کوئی بھیڑیا کھاجائے معلوم ہوتا ہے اس علاقے میں بھیڑیوں کی کثرت تھی اور آدمیوں پر ان کے حملوں کی وارداتیں ہوتی رہتی تھی۔ حضرت یعقوب ؑ کے اس اندیشے کو سن کر بڑے تاؤ سے انہوں نے جواب دیا کہ ہماری پوری پارٹی کی موجودگی میں اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
14۔ 1 یہ باپ کو یقین دلایا جا رہا ہے کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ہم اتنے بھائیوں کی موجودگی میں بھیڑیا یوسف ؑ کو کھاجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
9: حضرت یوسف ؑ اس وقت بچے تھے روایت میں ان کی عمر سات سال بتائی گئی ہے۔ اس لیے یہ وحی نبوت کی وحی نہیں تھی، بلکہ یہ اس قسم کی وحی تھی جیسی قرآن کریم نے حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ یا حضرت مریم کے لیے بیان فرمائی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف ؑ کو کسی ذریعے سے یہ بتادیا کہ گھبراؤ نہیں، ایک وقت آنے والا ہے کہ یہ لوگ تمہارے آگے جھکیں گے، اور تم انہیں ان کی ساری حرکتوں کے بارے میں انہین اس وقت سب کچھ جتلا دو گے جب یہ تمہیں ہچانتے بھی نہیں ہوں گے۔ چنانچہ آگے آیت نمبر 89 میں آ رہا ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے مصر کا حاکم بننے کے بعد انہیں جتلایا تھا۔
Read the full tafseer →اب انہوں نے اس اندیشے کا رد کرنے کے لیے پھر نہایت ہی موثر اسلوب اختیار کیا ، کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس قدر جتھے کے ہوتے ہوئے بھی کوئی بھیڑیا یوسف کو پھاڑ کھائے۔ یہ کیسے ممکن ہے ورنہ ہم تو بہت ہی نکمے اور خسارے میں ہوں گے۔
اس مکالمے کے نتیجے میں حضرت یعقوب اپنے تمام اندیشوں کے باوجود مجبور ہوگئے کہ وہ یوسف کو ان کے ساتھ چھوڑ دیں اور یوں تقدیر الٰہی کے مطابق قصے کی مزید کڑیاں ظہور پذیر ہوں۔
Read the full tafseer →5 یعنی اگر ہماری جیسی طاقتور جماعت کی موجودگی میں چھوٹے بھائی کو بھیڑیا کھاجائے تو سمجھو کہ ہم بالکل ہی گئے گزرے ہیں۔ اس سے بڑھ کر کیا خسارہ ہوگا کہ دس گیارہ تنو مند بھائیوں کی آنکھوں کے سامنے سے ایک کمزور بچہ بھیڑیے کے منہ میں پہنچ جائے۔ ایسا ہو تو کہنا چاہیے کہ ہم نے اپنا سب کچھ گنوا دیا۔
Read the full tafseer →آیت 14 قَالُوْا لَىِٕنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّآ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ
یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمارے جیسے دس کڑیل جوانوں کے ہوتے ہوئے اسے بھیڑیا کھاجائے ہم اتنے بھی گئے گزرے نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →12 اس کے جواب میں بھائیوں نے کہا کہ ہم دس جوان اور مضبوط آدمی ہیں اور ہم میں سے ہر کوئی بھیڑیا تو کجا شیر کا مقابلہ کرنے اور اسے مار دینے کی طاقت رکھتا ہے۔ پھر اگر ہم یوسف (علیہ السلام) کی حفاظت نہ کرسکیں تو ہم پر لاکھ لعنت، آخر ہم اتنے گئے گزرے تو نہیں۔
Read the full tafseer →21۔ روایات یہود میں تصریح کے ساتھ آتا ہے کہ یہ برادران یوسف (علیہ السلام) بڑے تنومند وقوی ہیکل تھے اپنی قوت وتعداد دونوں پر ان کا ناز کچھ بےجانہ تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
آیت نمبر 7 تا 20
ترجمہ : حقیقت یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں کہ وہ گیارہ تھے سوال کرنے والوں کیلئے
بڑی عبرتیں ہیں، اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے آپس میں کہا یوسف اور اس کا حقیقی بھائی بن یامین ہمارے اباجان کیلئے ہمارے مقابلہ میں زیادہ چہیتے ہیں، لَیُوسف مبتداء ہے اور اَحَبُّ اس کی خبر ہے، حالانکہ ہمارا ایک جتھا ہے، ہمارے اباجان ان دونوں کو ہم پر ترجیح دینے کے معاملہ میں کھلی غلطی پر ہیں (ایسا کرو) کہ یوسف کو قتل کردو یا کسی دور ملک میں پہنچا دو (اس تدبیر سے) تمہارے ابا جان کی توجہ خالص تمہاری طرف ہوجائے گی، اس طریقہ پر کہ تمہاری طرف…
Read the full tafseer →قالوا لئن کلہ الذئب ونحن عصبۃ انا اذً الخسرون بیٹوں نے کہا : (ہماری دس کی جماعت ہے اور سب حضرت یوسف سے غافل ہوجائیں ‘ یہ ممکن نہیں) ہماری دس کی جماعت ہوتے ہوئے کوئی بھیڑیا یوسف کو کھاجائے تو ہم بالکل ہی گئے گذرے ہوئے۔
ان کی مراد یہ تھی کہ اگر ہم دس ہونے کے باوجود اپنے آدمی کی حفاظت نہ کرسکیں تو پھر ہمارے جانوروں کی جن کو ہم جنگل میں چراتے ہیں ‘ کیسے حفاظت ہوسکتی ہے۔ ہم بدنصیب ہوں گے اگر حفاظت نہ کرسکیں۔ یا لَخَاسِرُوْنَ کہنے کا یہ مطلب ہے کہ اگر ہماری جماعت بھی نگرانی نہ کرسکی تو ہم مستحق ہیں کہ نامراد رہنے کی ہم کو بددعا دی جائے۔
حضرت یوسف کو بھائیوں کے ساتھ نہ چھوڑنے کی دو وجہیں حضرت یعقوب…
Read the full tafseer →(14) کیوں کہ حضرت یعقوب ؑ نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک بھیڑیا ان پر حملہ آور ہو رہا ہے اسی وجہ سے انہوں نے یہ فرمایا انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ اگر ان کو بھیڑیا کھاجائے اور ہم دس لوگ ہیں تو ہم بالکل ہی گئے گزرے ہوئے یا یہ کہ ہم باپ اور بھائی کی حرمت کو چھوڑ کر بالکل گھاٹے میں پڑجائیں گے۔
Read the full tafseer →قَالُوْا لَىِٕنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ۔۔ : یعنی پھر ہماری قوت کس دن کام آئے گی، ہم دس مضبوط جوان ہیں۔
اب یعقوب ؑ ان کے اصرار کے سامنے بےبس ہوگئے، کیونکہ اللہ کی تقدیر ہو کر رہنی تھی، جس کے واقع ہو کر رہنے میں کوئی احتیاط کام نہیں آسکتی، پھر یوسف ؑ کو خواب میں دکھائے جانے والے کمال و عروج کی منزل کے راستے پر بھی روانہ ہونا تھا اور اس راستے میں نہایت کٹھن گھاٹیوں سے گزرے بغیر چارہ ہی نہیں اور نہ ان بلند مقامات پر پہنچنے والوں کے لیے راستے میں کوئی قالین یا کہکشاں بچھی ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
آیت نمبر 13 تا 14
قال انی لیحزننی ان تذھبوابہٖ محل رفع میں ہے یعنی تمہارا اس کے ساتھ جانا، آپ نے اپنی عدم موجودگی کے سبب اپنی پریشانی سے باخبر کیا۔ اخاف ان یاکلہ الذئب اور یہ اس وجہ سے تھا کہ آپ نے خواب میں دیکھا کہ بھیڑیا حضرت یوسف (علیہ السلام) پر حملہ آور ہوا تو آپ کو یہ خوف لاحق ہوا یہ کلبی کا قول ہے۔ ایک قول یہ ہے : آپ نے خواب دیکھا کہ آپ پہاڑی چوٹی پر ہیں اور حضرت یوسف (علیہ السلام) بطن وادی میں۔ اتنے میں دس بھیڑیوں نے آپ کو وحشت میں مبتلا کردیا جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کھانا چاہتے تھے تو ایک آدمی نے آپ سے ان کو زور سے دھکیلا پھر زمین پھٹ گئی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) تین دن تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
1:۔ ابوالشیخ وابن مردویہ والسلفی الطیوریات میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں کو تلقین نہ کرو ورنہ وہ جھوٹ بولیں گے کیونکہ یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے نہیں جانتے تھے کہ بھیڑیا لوگوں کو کھا جاتا ہے جب ان کے باپ نے ان کو تلقین کی تو انہوں نے جھوٹ بولا اور کہنے لگے اس کو بھیڑیا کھا گیا۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ کسی کو یہ لائق نہیں کہ اپنے بیٹے کی برائی کی تلقین کرے کیونکہ یعقوب کے بیٹے نہیں جانتے تھے کہ بھیڑیا لوگوں کو کھا جاتا ہے یہاں تک کہ جب ان کے والد نے ان سے فرمایا (آیت) ” انی لیحزننی ان تذھبوا بہ واخاف ان یاکلہ الذئب “ (تو اس بات سے وہ…
Read the full tafseer →[قَالُوْا : انھوں نے کہا ] [ لَىِٕنْ : یقینا اگر ] [اَكَلَهُ : کھالے گا ان کو ] [الذِّئْبُ : بھیڑیا ] [وَ : حالانکہ ] [ نَحْنُ : ہم ] [عُصْبَةٌ : ایک مضبوط گروہ ہیں ] [انآ : تو بیشک ہم ] [ اِذًا : پھر تو ] [ لَّخٰسِرُوْنَ : یقینا خسارہ پانے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
بھائیوں کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں ڈالنا اور کرتہ پر جھوٹا خون لگا کر واپس آنا اور ان کے والد کا فرمانا کہ یہ تمہارے نفسوں نے سمجھایا ہے
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی اپنے والد کو کسی طرح سمجھا بجھا کر یوسف (علیہ السلام) کو لے گئے اور جنگل میں لے جا کر ایک اندھیرے کنویں میں ڈالنے کا ارادہ کرلیا اور انہیں اس میں ڈال بھی دیا اس وقت اللہ تعالیٰ نے یوسف ( علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی کہ تم ان لوگوں کو یہ بات بتلاؤ گے کہ تم نے میرے ساتھ ایسا کیا تھا ‘ اور وہ یہ جانیں گے بھی نہیں کہ یہ جو شخص ہمیں جتلا رہا ہے یہ وہی ہے جسے ہم نے کنویں میں ڈال دیا تھا ‘ چناچہ وہ وقت آیا کہ حضرت یوسف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
معاملہ برادران یوسف (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ لقد کان فی یوسف واخواتہ ایت ..... الیٰ ..... وکانوا فیہ من الزاھدین۔
بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں نشانیاں اور عبرتیں اور نصیحتیں ہیں ان لوگوں کے لیے جو اس قصہ کو دریافت کرتے ہیں کیونکہ یہ عجیب قصہ اس لائق ہے کہ اس کی خبر دریافت کی جائے کہ حق تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو بےکسی اور بےبسی سے نکال کر مقام سلطنت تک کس طرح پہنچایا یہ اس کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ جو پوچھتے ہیں ان کے لیے اس قصہ میں بہت سی عبرتیں اور نصیحتیں ہیں اور جو نہیں پوچھتے ان کے لیے بھی بہت سی نشانیاں ہیں۔
جبکہ یوسف کے علاتی بھائی آپس میں یہ کہنے لگے کہ البتہ یوسف اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
13:۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا اس کی جدائی میرے لیے باعث غم ہے نیز مجھے اندیشہ ہے کہ مبادا تمہاری غفلت سے اسے کوئی بھیڑیا کھا جائے بھیڑئیے کی تخصیص اس لیے کی کہ اس علاقے میں بھیڑئیے بکثرت پائے جاتے تھے۔ وخصہ بالذکر لان الارض علی ما قیل کانت مذئبۃ (روح ج 12 ص 195) ۔ ” قَالُوْا لَاِنْ اَکَلَہٗ الخ “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ نے فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ میں سوال کرنے والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں۔ اس کے بعد یعقوب (علیہ السلام) کا ان کے چھوٹے بیٹوں کے ساتھ محبت کا ذکر ہوا اور بھائیوں کے حسد اور رشک کو بھی بیان کیا گیا۔ پھر بھائیوں نے آپس میں صلاح مشورہ کیا کہ کسی طرح یوسف (علیہ السلام) کو راستے سے ہٹانا چاہئے تاکہ باپ کی توجہ ان کی طرف مبذول ہو سکے۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس کو قتل کردیا جائے یا کسی گہرے کنوئیں میں پھینک دیا جائے۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ کام کاج کرنے والے ہم ہیں جب کہ ہمارا باپ ان چھوٹے بیٹوں سے زیادہ محبت کرتا ہے جو ابھی تک کوئی کام بھی نہیں کرسکتے۔ ان بھائیوں…
Read the full tafseer →قَالُوْا لَىِٕنْ اَكَلَہُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَۃٌ اِنَّآ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ 14
عُصْبَةُ
والعُصْبَةُ : جماعةٌ مُتَعَصِّبَةٌ متعاضدة . قال تعالی: لَتَنُوأُ بِالْعُصْبَةِ [ القصص/ 76] ، وَنَحْنُ عُصْبَةٌ [يوسف/ 14] ، أي : مجتمعة الکلام متعاضدة،
( ع ص ب ) العصب
العصبۃ وہ جماعت جس کے افراد ایک دوسرے کے حامی اور مدد گار ہوں ۔ قرآن میں ہے : ۔ لَتَنُوأُ بِالْعُصْبَةِ [ القصص/ 76] ایک طاقتور جماعت وٹھانی مشکل ہوتیں ۔ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ [يوسف/ 14] حالانکہ ہم جماعت کی جماعت ) ہیں ۔ یعنی ہم باہم متفق ہیں اور ایک دوسرے یکے یاروں مددگار
خسر
ويستعمل ذلک في المقتنیات الخارجة کالمال والجاه في الدّنيا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–22
1 ؎ یعنی جو حضرت یوسف ﷺ اور ان کے بھائیوں کے حالات سے سوال کرتے ہیں اس بیان میں ان کے لئے پوری نشانی نبوت حضرت ﷺ کے لئے ہے کس لئے کہ باوجود توریت پاس نہ ہونے اور نہ اس کے پڑھے لکھے ہونے کے اتنے بڑے قصے کو ان باریکیوں اور پہلوئوں کے ساتھ جو اس واقعہ کے ساتھ متعلق ہیں۔ اس طرح سے بیان کردینا کہ توریت کے سرمو بھی خلاف نہ ہوا البتہ ایک معجزہ ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
قَالُوْا یٰٓـاَبَانَا مَالَکَ لاَ تَاْمَنَّا عَلٰی یُوْسُفَ وَاِنَّا لَہٗ لَنٰـصِحُوْنَ ۔ اَرْسِلْہُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَیَلْعَبْ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ ۔ قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْٓ اَنْ تَذْھَبُوْا بِہٖ وَاَخَافُ اَنْ یَّاْکُلَہُ الذِّئْبُ وَاَنْتُمْ عَنْہُ غٰفِلُوْنَ ۔ قَالُوْا لَئِنْ اَکَلَہُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَۃٌ اِنَّـآ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 11، 12، 13 14)
(انھوں نے کہا اے ہمارے باپ، کیا بات ہے کہ یوسف ( علیہ السلام) کے معاملے میں آپ ہم پر اعتماد نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے بڑے ہی خیرخواہ ہیں۔ کل اس کو ہمارے ساتھ بھیجئے، ذرا چرے جگے اور کھیلے کودے اور ہم اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
فہم القرآن
ربط کلام : سازش پر متفق ہونے کے بعد برادران یوسف کا اپنے باپ کی خدمت میں پیش ہو کر یوسف (علیہ السلام) کو اپنے ساتھ لے جانے کا مطالبہ کرنا۔
برادران یوسف اپنے باپ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ابا جان کیا وجہ ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہم پر اعتماد نہیں کرتے ؟ حالانکہ ہم اس کے بارے میں نہایت ہی خیر خواہی کے جذبات رکھتے ہیں۔ لہٰذا ہماری درخواست ہے کہ اسے ہمارے ساتھ بھیجئے تاکہ کھلی فضا میں یوسف سیرو سیاحت اور کھیل کود میں ہمارے ساتھ شریک ہو۔ ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اس کی پوری طرح حفاظت کریں گے۔ بیٹوں کے مطالبہ کے جواب میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اس بات کا اظہار کیا کہ میں…
Read the full tafseer →14: قَالُوْا لَئِنْ اَکَلَہُ الذِّئْبُ (انہوں نے کہا اگر اس کو بھیڑیا کھالے) لام قسم کی تمہید کیلئے ہے اور قسم محذوف ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے واللہ لئن اکلہ الذئب۔ وَنَحْنُ عُصْبَۃٌ (جبکہ ہم جماعت ہیں) جتھا اور جماعت جو دفاع کی پوری قدرت رکھے عصبہ کہلاتی ہے۔ یہ وائو حالیہ ہے۔ اِنَّااِذًا لَّخٰسِرُوْنَ (بیشک ہم اس وقت گئے گزرے ہوئے) یہ جواب قسم ہے یہ جزائے شرط کے قائم مقام ہے یعنی اگر ہم ایک دوسرے کی حفاظت کی قدرت نہیں رکھتے تو پھر ہمارے مویشی ہلاک ہوجاتے اور ہم ان کے سلسلہ میں نقصان میں مبتلا ہوجاتے۔
لطیفہ : انہوں نے اپنے دوسرے عذر کا تو جواب دیا۔ اول کا جواب نہیں دیا کیونکہ یہ بات ان کو غصہ…
Read the full tafseer →14۔” قالو لئن اکلہ الذنب ونحن عصبۃ “ اس افراد ہیں ” انا اذا لخاسرون ‘ ‘ کمزور اور عاجز ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
13۔ 14۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو یہ جواب دیا کہ اگر تم اس کو اپنے ساتھ لے جاؤ گے تو میرا جی گھبرائے گا تمہارے واپس آنے تک میں اس کے بغیر کیوں کر رہ سکتا ہوں میرے دل کو جب تک کس طرح چین آئے گا۔ اصل میں یعقوب (علیہ السلام) کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ نہایت ہی محبت تھی گھڑی بھر کی جدائی ان کی ان پر شاق گزرتی تھی کیونکہ آپ پیغمبر تھے اور یوسف (علیہ السلام) میں بھی نبوت کی بو پاتے تھے اس کے علاوہ حسن بھی اللہ پاک نے یوسف (علیہ السلام) کو ایسا ہی دے رکھا تھا جو کسی مخلوق کو خدا نے نہیں دیا چناچہ صحیح مسلم میں انس بن مالک ؓ کی روایت سے جو معراج کی حدیث ہے اس میں آنحضرت ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
آیت 11 تا 14: یعنی جناب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے اپنے باپ سے کہا يٰٓاَبَانَا مَالَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰي يُوْسُفَ : اباجان کیا وجہ ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہٰیں کرتے۔ یعنی کون سی چیز بغیر کسی سبب اور موجب کے یوسف کے بارے میں آپ کو ہم سے خائف کر رہی ہے اور حال یہ ہے کہ وَاِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ : ہم اس کے خیر خواہ ہیں۔ یعنی ہم اس پر شفقت رکھتے ہیں اور ہم اس کے لیے وہی کچھ چاہتے ہیں جو اپنے لیے چاہتے ہیں۔ برادران یوسف کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) حضرت یوسف علی السلام کو ان کے بھائیوں کے ساتھ جنگل وغیرہ کی طرف نہیں جانے دیا کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
قول باری ہے قال قائل منھم لا تقتلوا یوسف والقوہ فی غیایۃ الجب یلتقطہ بعض السیارۃ ان کنتم فاعلین ۔ اس پر ان میں سے ایک بولا ۔ یوسف کو قتل نہ کرو ۔ اگر کچھ کرنا ہی ہے تو اسے اندھے کنوئیں میں ڈال دو کوئی آتا جاتا قافلہ اسے نکال لے جائے گا ۔ جب بھائیوں نے آپس میں حضرت یوسف کو قتل کردینے یا باپ کی نظروں سے دور لے جانے میں سے ایک پر عملدرآمد کا فیصلہ کرلیا تو اس موقع پر ان میں سے ایک نے یہ مشورہ دیا کہ اس مقصد کے لیے درج بالا دونوں باتوں کی بجائے ایک تیسری راہ اختیار کی جائے جس میں شر اور بدی کا عنصر نسبتاً کم ہے۔ وہ یہ کہ یوسف کو کسی کم پانی والے کنویں میں پھینک دیا جائے تاکہ مسافروں کا کوئی قابلہ…
Read the full tafseer →24 ۔ برادران یوسف کی حضرت یعقوب کو یقین دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے اس اندیشے کے ذکر و اظہار کے جواب میں برادران یوسف نے آنجناب کو حفاظت یوسف کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ایسے کیونکر ہوسکتا ہے جبکہ ہم پوری ایک جماعت ہیں۔ پس ایسے نہیں ہوسکتا۔ لہذا اس بارے میں آپ مطمئن رہیں اور کوئی فکر نہ کریں کیونکہ ہم جیسے طاقتور جتھے کے ہوتے ہوئے اگر ایسا ہوجائے تو پھر ہم کسی کام کے نہ ہوئے۔ اس لیے آپ مطمئن رہیں۔ یہ بات تو ہماری عزت و غیرت اور ہماری قوت کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ بھلا یہ کس طرح ہوسکتا ہے ہماری ایسی طاقتور اور قوی و توانا جماعت کے ہوتے ہوئے کوئی بھیڑیا آکر پھاڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–21
بھائیوں کی زیادتی اور سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا مصر پہنچنا
تشریح : اس تمام قصہ کو پڑھنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان اکثر حسد کی وجہ سے بعض شرارت اور خباثت میں ایسے برے کام کرجاتا ہے کہ جو خود اس کے اپنے لیے دنیا و آخرت میں رسوائی کا باعث بن جاتے ہیں۔ دغا، فریب، جھوٹ اور ظلم یہ بہت بڑے گناہ ہیں جو انسان صرف اپنی دنیوی کامیابی کے لیے کرجاتا ہے۔ اور یہ بھول جاتا ہے کہ یہ سب کرنے سے کسی کا حقیقت میں نقصان کم ہی ہوتا ہے اصل میں اپنی عاقبت خراب کرلیتا ہے اور دنیا میں بھی کوئی عزت اور کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ اللہ تو ہر اس کام سے واقف ہے جو انسان دوسروں سے چھپا کر کرتا ہے۔ اور پھر اللہ سے بڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
آیات 7 تا 19
اسرار و معارف
حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا قصہ باعث نصیحت بھی ہے اور باعث عبرت بھی کہ اللہ اپنے مخلص بندوں کی کیسے کیسے حفاظت فرماتا ہے اور ان سے حسد کرنے والے کس طور ناکام ثابت ہوتے ہیں ۔ نیز اس کا ایک مربوط نظام ہے جسے نہ جاننے والے اتفاقات اور حادثات کا نام دیتے ہیں مگر دراصل ایسے تمام امورطے شدہ نظام کی کڑیوں کے طور پر کام کرتے ہیں اور اس طرح تفصیل سے واقعہ کی جزئیات بھی شامل کرکے درست بیان فرمانا آپ ﷺ کا بہت بڑا معجزہ اور وحی الٰہی کی دلیل بھی ہے کہ سوال کرنے والے یہوددی تو مدینہ منورہ سے سوال بھیج رہے تھے مکہ میں تو کوئی یہودی عالم بھی اتنے وسیع مطالعہ کا…
Read the full tafseer →ف 7 ۔ پھر ہمارا زور کس روز کام آئے گا۔ ہم دس مضبوط جوان ہیں۔
Read the full tafseer →(12:14) ونحن عصبۃ (ملاحظہ ہو 12:8) حالانکہ ہم ایک مضبوط جتھا ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 18
مالک (تجھے کیا ہوگیا) لاتامنا (تو ہم پہ اطمینان نہیں کرتا ہے) نصحون (نصیحت کرنے والے۔ خیر خواہ) ارسل (بھیج دے) غداً (کل۔ آئندہ۔ صبح ) یرتع (کھاتا ہے یا کھائے گا ) یعلب (کھیلتا ہے یا کھیلے گا) لیحزننی (البتہ مجھے رنجیدہ کرتی ہے) ان یا کلہ ، (یہ کہ وہ کھائے) الذئب (بھیڑیا) ان یجعلوہ (یہ کہ وہ اس کو ڈال دیں) عشآء (رات کے وقت) یبکون (وہ روتے ہیں یا روئیں گے ) ذھبنا (ہم چلے گئے ) نستبق (ہم دوڑ کا مقابلہ کر رہے ہیں) ترکنا (ہم نے چھوڑ دیا) عند (نزدیک) متاعنا (ہمارا اپنا سامان) دم کذب (جھوٹا خون) سولت (بنا لی ہے۔ برابر کرتی ہے) صبر جمیل (اچھا صبر) المستعان (استعانۃ) مدد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو یہ بھی جواب دیا کہ اگر تم اس کو اپنے ساتھ لے جاؤ گے تو میرا جی گھبرائے گا اور واپسی تک مجھے کس طرح چین آئے گا اور مجھے یہ بھی اندیشہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ کہیں بھیڑیا کھا جاوے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔ تم سیر تماشے میں مشغول ہو۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ اگر اسے بھیڑیا کھالے تو بڑے ہی تعجب کی بات ہے ہم قوی اور زبردست ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
[8] آیت میں خون آلودہ کرتے کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا کیونکہ اسی سے ان کا سارا جھوٹ کھل گیا تھا۔ اگر بھیڑئیے نے حملہ کیا تھا تو کرتا کیسے بچ رہا ؟ اس کے تو پرزے پرزے ہوجانے تھے۔ چناچہ یعقوب (علیہ السلام) کو کرتا دیکھتے ہی یقین ہوگیا کہ ساری کہانی من گھڑت ہے۔ علاوہ ازیں یعقوب (علیہ السلام) کو فراست نبوت سے یہ بات معلوم ہوگئی تھی کہ پچھلی بشارتیں یوسف (علیہ السلام) ہی کے ذریعے پوری ہونے والی ہیں اس لئے وہ کبھی باور نہیں کرسکتے تھے کہ اس طرح یوسف (علیہ السلام) کی زندگی کا خاتمہ ہوجائے گا۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب یعقوب (علیہ السلام) کو یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا بیان غلط ہونا معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
(ف 2) خدا کا قانون ہے کہ جب دنیا کی اعانت کے سلسلے منقطع ہوجائیں ، آپس کا رشتہ ٹوٹ جائے ، اور یاس کے بادل آمنڈ آئیں ، اس وقت وہ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا خون سفید ہوگیا ، ان کے دلوں میں شفقت واخوت کے سومے خشک ہوگئے ، اور وہ ظالمانہ سلوک پر مستعد ہوگئے ، تو اس وقت اللہ کی رحمت جوش میں آئی ، اس کا دریائے کرم موزن ہوا اور یوسف کو تاریک کنوئیں ، میں سل امتی و کامیابی کی خوشخبریاں سنائی دینے لگیں ، اللہ نے کہا ، فکر نہ کرو ، ایک وقت آئے گا ، کہ تم انہیں شرمندہ کرو گے ، اور انہیں معلوم نہیں ہوگا ، کہ تم یوسف ہو ،
حل لغات :
یرتع : آزادی سے کھانا پینا ۔
Read the full tafseer →14 بھائیوں نے جواب دیا کہ اگر اس کو بھیڑیا کھاجائے اور ہم پوری کی پوری جماعت موجود ہوں تو ہم تو بالکل ہی گئے گزرے ہوئے اور ہم نے سب کچھ گنوا دیا یعنی اگر ایک زور آور جماعت کی موجودگی میں ایسا غضب ہوجائے تو ہم تو اس وقت کسی گھر کے بھی نہ رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
ف 5۔ ظاہر لعب کو یعقوب (علیہ السلام) نے جائز رکھا باوجودیکہ امر عبث کی تجویز شان انبیاء کے خلاف ہے سو اصل یہ ہے کہ یہ لعب عبث نہیں مراد اس سے مسابقت وتیراندازی وغیرہ ہے جو کہ امور مفیدہ میں سے ہے جواب مشہور تو یہ ہے اور احقر کہتا ہے کہ تجدید نشاط بھی ہے جو کہ بچوں کے لیے ضروری اور مشاغل ضروریہ میں جی لگنے کا موقوف علیہ ہے اور ضروری کا مقدمہ بھی ضروری ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →انجام کار وہ یوسف کو ساتھ لے گئے اور جاتے ہی انہوں نے پہلا کام وہی کیا جو طے کرچکے تھے
۔ 15 یعقوب (علیہ السلام) نے بادل نخواستہ یوسف کو ساتھ بھیج دیا۔ ظاہر ہے کہ انہوں نے اس وقت اس پر مصنوعی خوشی کا اظہار کیا ہوگا کیونکہ ان کی مراد جو بر آئی تھی۔ بہرحال اپنی بستی سے یوسف (علیہ السلام) کو جنگل کی طرف بڑی خوشی کے ساتھ لے چلے اور وہاں سے جب وہ نکل گئے تو راستہ میں انہوں نے اپنے باپ جائے سے کیا کچھ کیا ہوگا اس کی تفصیل کرنے لگیں تو صفحات درکار ہیں لیکن آخر اس کی ضرورت جب کہ ایک سازش وہ کرچکے تھے اور اب اس کو عملی جامہ بھی پہنا چکے تھے تو باقی کیا رہ گیا ؟ قوم کے جذبات کو بھڑکانے کے لئے وہ مقام…
Read the full tafseer →After hearing what Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) said, those brothers countered it by saying that his apprehension was strange in view of the presence of a strong group of the ten of them to protect Yusuf. If a wolf could be expected to eat up Yusuf despite their being there to guard him, it would render their very presence around him totally senseless. If so, they could not be taken as good for anything.
Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) acting with the elegance of a great prophet he was, did not say it plainly before his children that it was they about whom he feared a foul play because,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
12. The Arabic words“they do not perceive”may very appropriately mean three things. First, We were comforting Joseph, and his brothers were quite unaware of this that a revelation was being sent to him. Second, you will let them know of this evil act of theirs in such circumstances that they can never even imagine you to be there. Third, today they are committing an evil act, but they do not know its future consequences.
There is no mention of this in the Bible and the Talmud that Allah sent a revelation to comfort Prophet Joseph at that time of his affliction. On the contrary, the Talmud…
Read the full tafseer →