Yusuf 12:13

Yusuf · from ayah 13

12:13

قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَاَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَاَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ ۟قَالَ اِنِّىۡ لَيَحۡزُنُنِىۡ اَنۡ تَذۡهَبُوۡا بِهٖ وَاَخَافُ اَنۡ يَّاۡكُلَهُ الذِّئۡبُ وَاَنۡـتُمۡ عَنۡهُ غٰفِلُوۡنَ‏

انہوں نے کہا کہ یہ امر مجھے غمناک کئے دیتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ (یعنی وہ مجھ سے جدا ہوجائے) اور مجھے یہ خوف بھی ہے کہ تم (کھیل میں) اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھا جائے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Jacob] said, "Indeed, it saddens me that you should take him, and I fear that a wolf would eat him while you are of him unaware."

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 2 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Yusuf

All translations of 12:13

باپ نے کہا "تمہارا اسے لے جانا مجھے شاق گزرتا ہے اور مجھ کو اندیشہ ہے کہ کہیں اسے بھیڑیا نہ پھاڑ کھا ئے جبکہ تم اس سے غافل ہو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

انہوں نے کہا کہ یہ امر مجھے غمناک کئے دیتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ (یعنی وہ مجھ سے جدا ہوجائے) اور مجھے یہ خوف بھی ہے کہ تم (کھیل میں) اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھا جائے

— مولانا فتح محمد جالندہری

(یعقوب علیہ السلام نے) کہا اسے تمہارا لے جانا مجھے تو سخت صدمہ دے گا اور مجھے یہ بھی کھٹکا لگا رہے گا کہ تمہاری غفلت میں اسے بھیڑیا کھا جائے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یعقوب نے کہا : تم اسے لے جاؤ گے تو مجھے (اس کی جدائی کا) غم ہوگا۔ اور مجھے یہ اندیشہ بھی ہے کہ کسی وقت جب تم اس کی طرف سے غافل ہو، تو کوئی بھیڑیا اسے کھاجائے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولا بیشک مجھے رنج دے گا کہ اسے لے جاؤ اور ڈرتا ہوں کہ اسے بھیڑیا کھالے اور تم اس سے بے خبر رہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

انہوں نے کہا: بیشک مجھے یہ خیال مغموم کرتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ اور میں (اس خیال سے بھی) خوف زدہ ہوں کہ اسے بھیڑیا کھا جائے اور تم اس (کی حفاظت) سے غافل رہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا بیشک میں، یقینا مجھے یہ بات غمگین کرتی ہے کہ تم اسے لے جاؤ اور میں ڈرتا ہوں کہ اسے کوئی بھیڑیا کھا جائے اور تم اس سے غافل ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یعقوب نے کہا : اگر تم اسے لے جاؤ تو ایک تو مجھے (اس کی جدائی کا) رنج ہوگا دوسرے میں اس بات سے بھی ڈرتا ہوں کہ تم اس سے بیخبر ہوجاؤ تو اسے کہیں بھیڑیا نہ کھاجائے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس کہا مجھے غم میں یہ چیز ڈالتی ہے کہ تم اسے لے جاؤ اور ڈرتا ہوں کہ جب تم اس سے غافل ہو تو اس کو بھیڑیا کھاجائے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یعقوب نے فرمایا تمہارا اس کو لے جانا ہی مجھے شاق گزارتا ہے، اور مجھے اس بات کا اندیشہ بھی ہے کہ اس کو وہاں پھاڑ کھائے کوئی بھیڑیا جب کہ تم اس سے لاپرواہ ہوؤ۔

— مولانا اسحاق مدنی

یعقوب ؑ نے) کہا کہ (ایک تو) مجھے یہی رنج ہوگا کہ تم اس کی طرف سے بیخبر رہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یعقوب نے فرمایا : مجھے یہ بات اندیشہ میں ڈالتی ہے کہ تم اسے لے جاؤ اور میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اسے بھیڑیا نہ کھاجائے جبکہ تم اس سے غافل ہوجاؤ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

انہوں نے کہا کہ یہ خیال مجھے پریشان کردیتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ (وہ مجھ سے جدا ہوجائے۔) اور مجھے یہ خوف بھی ہے کہ تم کھیل میں اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھاجائے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Their father answered: "It grieves me indeed that you should take him with you for I fear that some wolf might eat him up while you are negligent of him."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :It makes me sad that you should take him with you, and I fear that some wolf may eat him up when you are heedless of him.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :It makes me sad that you should take him with you, and I fear that some wolf may eat him up when you are heedless of him.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He (Ya`qub) said: "Truly, it saddens me that you should take him away. I fear lest a wolf should devour him, while you are careless of him."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: Lo! in truth it saddens me that ye should take him with you, and I fear less the wolf devour him while ye are heedless of him.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Jacob] said, "Indeed, it saddens me that you should take him, and I fear that a wolf would eat him while you are of him unaware."

— Saheeh International

Jacob replied, "I shall be grieved if you take him with you; I fear that some wild-beast will harm him in your absence."

— Muhammad Sarwar

He said: Surely it grieves me that you should take him off, and I fear lest the wolf devour him while you are heedless of him.

— Muhammad Habib Shakir

He said: verily it grieveth me that ye should take him away, and I fear lest a wolf may devour him, While ye are negligent of him.

— Abdul Majid Daryabadi

(Jacob) said: "Really it saddens me that ye should take him away: I fear lest the wolf should devour him while ye attend not to him."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 12:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–14

انجانے خطرے کا اظہار نبی اللہ حضرت یعقوب ؑ اپنے بیٹوں کی اس طلب کا کہ بھائی یوسف کو ہمارے ساتھ سیر کے لیے بھیجئے جواب دیتے ہیں کہ تمہیں معلوم ہے مجھے اس سے بہت محبت ہے۔ تم اسے لے جاؤ گے مجھ پر اس کی اتنی دیر کی جدائی بھی شاق گزرے گی۔ حضرت یعقوب کی اس بڑھی ہوئی محبت کی وجہ یہ تھی کہ آپ حضرت یوسف کے چہرے پر خیر کے نشان دیکھ رہے تھے۔ نبوت کا نور پیشانی سے ظاہر تھا۔ اخلاق کی پاکیزگی ایک ایک بات سے عیاں تھی۔ صورت کی خوبی، سیرت کی اچھائی کا بیان تھی، اللہ کی طرف سے دونوں باپ بیٹوں پر صلوۃ وسلام ہو۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ممکن ہے تم اپنی بکریوں کے چرانے چگانے اور دوسرے کاموں میں مشغول رہو اور اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 13–15

سورة یُوْسُف 12 متن میں وَھُم لَایَشعُرُونَ کے الفاظ کچھ ایسے انداز سے آئے ہیں کہ ان سے تین معنی نکلتے ہیں اور تینوں ہی لگتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہم یوسف ؑ کو یہ تسلی دے رہے تھے اور اس کے بھائیوں کو کچھ خبر نہ تھی کہ اس پر وحی جاری ہے۔ دوسرے یہ کہ تو ایسے حالات میں ان کی یہ حرکت انہیں جتائے گا جہاں تیرے ہونے کا انہیں وہم و گمان تک نہ ہوگا۔ تیسرے یہ کہ آج یہ بےسمجھے بوجھے ایک حرکت کر رہے ہیں اور نہیں جانتے کہ آئندہ اس کے نتائج کیا ہونے والے ہیں۔ بائیبل اور تلمود اس ذکر سے خالی ہیں کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یوسف ؑ کو کوئی تسلی بھی دی گئی تھی۔ اس کے بجائے تلمود میں جو روایت بیان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

یوسف ؑ کے بھائیوں نے جب والد سے یہ درخواست کی کہ یوسف کو کل ہمارے ساتھ تفریح کے لئے بھیج دیجئے تو حضرت یعقوب ؑ نے فرمایا کہ ان کو بھیجنا دو وجہ سے پسند نہیں کرتا اول تو مجھے اس نور نظر کے بغیر چین نہیں آتا دوسرے یہ خطرہ ہے کہ جنگل میں کہیں ایسا نہ کہ تمہاری غفلت کے وقت اس کو بھیڑیا کھا جائے یعقوب ؑ کو بھیڑیئے کا خطرہ یا تو اس وجہ سے ہوا کہ کنعان میں بھیڑیوں کی کثرت تھی اور یا اس وجہ سے کہ انہوں نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ کسی پہاڑی کے اوپر ہیں اور یوسف ؑ اس کے دامن میں نیچے ہیں اچانک دس بھیڑیوں نے ان کو گھیر لیا اور ان پر حملہ کرنا چاہا مگر ایک بھیڑئیے ہی نے مدافعت کر کے چھڑا دیا پھر یوسف ؑ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 13–14

13۔ 14:۔ قَالَ اِنِّىْ لَيَحْزُنُنِيْٓ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَاَخَافُ اَنْ يَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَاَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ۔ قَالُوْا لَىِٕنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّآ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ۔ حضرت یعقوب نے فرمایا کہ مجھے غم اور اندیشہ اگر ہے تو اس بات کا ہے کہ تم اس کو لے جاؤ اور تم تو اپنے کھل کود، اپنی دلچسپیوں میں مصروف ہوجاؤ اور تمہاری غفلت میں اس کو کوئی بھیڑیا کھاجائے معلوم ہوتا ہے اس علاقے میں بھیڑیوں کی کثرت تھی اور آدمیوں پر ان کے حملوں کی وارداتیں ہوتی رہتی تھی۔ حضرت یعقوب ؑ کے اس اندیشے کو سن کر بڑے تاؤ سے انہوں نے جواب دیا کہ ہماری پوری پارٹی کی موجودگی میں اگر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 13–14

14۔ 1 یہ باپ کو یقین دلایا جا رہا ہے کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ہم اتنے بھائیوں کی موجودگی میں بھیڑیا یوسف ؑ کو کھاجائے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–13

7: یعنی اگر کوئی اور حادثہ بھی پیش نہ آئے تو ان کا میری نظروں سے دور چلا جانا بھی میرے لیے باعث رنج ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ محبوب اولاد کو کسی خاص ضرورت کے بغیر جدا کرنا بھی ماں باپ کے لیے تکلیف دہ ہے۔ 8: بعض روایات میں ہے کہ حضرت یعقوب ؑ نے ایک خواب دیکھا تھا کہ بھیڑیے حضرت یوسف ؑ پر حملہ کر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یعنی تمہارا لے جانا مجھے شاق گزرتا ہے اور میں اس کی جدائی برداشت نہیں کرسکتا۔ یہی وہ بات جو ان کے دلوں میں کینہ کی آگ دہکا رہی ہتھی کہ اباجان یوسف کو ہر وقت ساتھ رکھتے ہیں اور کسی وقت بھی اپنے سے جدا نہیں کرتے اگرچہ ایک دن کے لیے کیوں نہ ہو۔ حالانکہ وہ اسے سیر و تفریح کے لیے لے جا رہے ہیں۔ حضرت یعقوب نے کہا کہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اسے بھیڑیا نہ کھالے جبکہ تم غافل ہو۔ در اصل وہ کینہ اور حسد کی وجہ سے اس قدر اندھے ہوگئے تھے کہ وہ سوچتے بھی نہ تھے کہ آخر یوسف کے قتل کے بعد وہ جواب کیا دیں گے ، لیکن حضرت یعقوب کے اس اندیشے نے ان کو عذر بتا دیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی یوسف کی جدائی اور تمہارے ساتھ جانے کا تصور ہی مجھے غمگین بنائے دیتا ہے اس پر یہ خوف مزید رہا کہ بچہ ہے۔ تمہاری بیخبر ی اور غفلت میں بھیڑیا وغیرہ کوئی درندہ نہ پھاڑ کھائے۔ لکھا ہے کہ اس جنگل میں بھیڑیے کثرت سے تھے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " ان کو آگے چل کر بھیڑیے کا بہانہ کرنا تھا وہ ہی ان کے دل میں خوف آیا۔ بعض محققین کا خیال یہ ہے کہ " اَخَافُ اَنْ یَّاْکُلَہُ الذِّئبُ " فرمایا حضرت یعقوب جیسے پیغمبر کے درجہ توکل و تفویض سے ذرا نازل بات تھی۔ اس کا جواب یہ ملا کہ لڑکوں نے گویا ان کے منہ میں سے بات پکڑ لی۔ جو اندیشہ ظاہر کیا تھا وہ ہی واقعہ بنا کر آئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 13 قَالَ اِنِّىْ لَيَحْزُنُنِيْٓ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَاَخَافُ اَنْ يَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَاَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ وہ تمہارے ساتھ چلا جائے پھر تم لوگ اپنی مصروفیات میں منہمک ہوجاؤ اس طرح وہ جنگل میں اکیلا رہ جائے اور کوئی بھیڑیا اسے پھاڑ کھائے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 12–13

11 بھائیوں کے اس مطالبہ پر باپ کو ایک نامعلوم خطرہ محسوس ہوا اور خطرہ وہی تھا جس کی اطلاع آپ سیدنا یوسف کو ان کے خواب کی تعبیر کے سلسلہ میں بتلاچکے تھے۔ بھائیوں کو غالباً خواب کا علم تو نہیں تھا۔ تاہم سیدنا یعقوب کا وجدان انھیں یہی بتلا رہا تھا کہ بھائیوں کی نیت بخیر معلوم نہیں ہوتی۔ چناچہ انہوں نے اپنے اس خطرہ کو ایسے الفاظ میں ظاہر کیا جس سے ان کی نیت پر شک محسوس نہ ہو اور کہا ممکن ہے تم لوگ اپنے ریوڑ کی حفاظت میں مشغول ہو اور کوئی بھیڑیا یا درندہ آکر اسے کوئی گزند پہنچا جائے اور پھاڑ کھائے اور تمہیں پتہ بھی نہ چلے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

20۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ایک تو یوسف (علیہ السلام) کی جدائی ہی مجھے شاق ہے اور پھر یہ اندیشہ بھی لگا ہوا ہے کہ تم لوگ تو جاکر اپنے مشاغل میں لگ جاؤ گے ایسا نہ ہو کہ اسے اکیلا چھوڑ جاؤ اور کہیں کوئی بھیڑیا آکر اٹھا لے جائے۔ ارض فلسطین کے جنگلوں میں بھیڑیئے اب تو خال خال رہ گئے ہیں لیکن قدیم زمانہ میں یہ وہاں کے جنگلوں میں خاص طور سے آباد تھے۔ (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا جلد 17 صفحہ 120 طبع چہاردہم) حضرت یعقوب (علیہ السلام) تو بہرحال نبی تھے اتنی فراست ایمانی سے کام ایک عام مومن بھی لے سکتا ہے۔ (آیت) ” لیحزننی۔ اخاف “۔ آیت میں حزن اور خوف دونوں کا اثبات حضرت یعقوب (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 7–20

آیت نمبر 7 تا 20 ترجمہ : حقیقت یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں کہ وہ گیارہ تھے سوال کرنے والوں کیلئے بڑی عبرتیں ہیں، اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے آپس میں کہا یوسف اور اس کا حقیقی بھائی بن یامین ہمارے اباجان کیلئے ہمارے مقابلہ میں زیادہ چہیتے ہیں، لَیُوسف مبتداء ہے اور اَحَبُّ اس کی خبر ہے، حالانکہ ہمارا ایک جتھا ہے، ہمارے اباجان ان دونوں کو ہم پر ترجیح دینے کے معاملہ میں کھلی غلطی پر ہیں (ایسا کرو) کہ یوسف کو قتل کردو یا کسی دور ملک میں پہنچا دو (اس تدبیر سے) تمہارے ابا جان کی توجہ خالص تمہاری طرف ہوجائے گی، اس طریقہ پر کہ تمہاری طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال انی لیحزننی ان تذھبوا بہ یعقوب نے کہا : تم اس کو لے کر چلے جاؤ گے تو مجھے اس سے رنج ہوگا (یعنی اس کی جدائی سے میرے دل کو دکھ ہوگا اور مجھے صبر نہ آئے گا) حزن سے اس جگہ مراد ہے : وہ قلبی دکھ جو محب کو محبوب کے فراق سے پیدا ہوتا ہے۔ واخاف ان یاکلہ الذئب وانتم عنہ غفلون اور مجھے اندیشہ ہے کہ تم تو اس کی طرف سے غافل ہوجاؤ گے اور بھیڑیا اس کو کھاجائے گا __ اس جنگل میں بھیڑئیے بہت ہوتے تھے ‘ اسلئے حضرت یعقوب نے یہ اندیشہ ظاہر فرمایا۔ اَنْتُمْ عَنْہٗ غٰفِلُوْنَ فرمانے کا منشاء یہ تھا کہ مجھے تمہاری کسی سازش کا اندیشہ نہیں ہے بلکہ اندیشہ یہ ہے کہ تم تو کھانے کھیلنے اور سیر و تفریح میں مشغول ہوگے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(13) ان کے باپ نے فرمایا مجھے تمہارے ساتھ بھیجنے میں دو امر مانع ہیں، ایک تم ان کو میری نظروں سے لے جاؤ اور میں ان کو نہ دیکھ سکوں اور دوسرا یہ کہ مجھے اس چیز کا اندیشہ ہے کہ اس کو کوئی بھیڑیا کھا جائے اور تم اپنے کھیل کود میں مصروف رہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ اِنِّىْ لَيَحْزُنُنِيْٓ۔۔ : یعقوب ؑ نے نہ بھیجنے کے لیے دو عذر پیش کیے، ایک تو نہایت تاکید کے الفاظ ”اِنَّ“ اور ”لام تاکید“ کے ساتھ کہا کہ مجھے تمہارا اسے اپنے ساتھ لے جانا غمگین کرتا ہے۔ (حالانکہ یہی بات تو ان کے غصے کا باعث تھی) دوسرا یہ کہ مجھے خوف ہے کہ اسے کوئی بھیڑیا کھاجائے گا۔ ساتھ ہی ان کے جذبات ٹھنڈے رکھنے کے لیے یہ کہنے کے بجائے کہ ”اور تم بیٹھے رہو گے“ یہ کہا کہ ”تم اس سے غافل ہو گے۔“ گویا تم میرے غم اور خوف دونوں کا سامان کر رہے ہو۔ ان کو بھیڑیے کا بہانہ کرنا تھا وہی ان کے دل میں خوف آیا۔ (موضح) یا یعقوب ؑ کے منہ سے یہ بات نکلنا تھی کہ انھوں نے اسی کا بہانہ بنا لیا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 13–14

آیت نمبر 13 تا 14 قال انی لیحزننی ان تذھبوابہٖ محل رفع میں ہے یعنی تمہارا اس کے ساتھ جانا، آپ نے اپنی عدم موجودگی کے سبب اپنی پریشانی سے باخبر کیا۔ اخاف ان یاکلہ الذئب اور یہ اس وجہ سے تھا کہ آپ نے خواب میں دیکھا کہ بھیڑیا حضرت یوسف (علیہ السلام) پر حملہ آور ہوا تو آپ کو یہ خوف لاحق ہوا یہ کلبی کا قول ہے۔ ایک قول یہ ہے : آپ نے خواب دیکھا کہ آپ پہاڑی چوٹی پر ہیں اور حضرت یوسف (علیہ السلام) بطن وادی میں۔ اتنے میں دس بھیڑیوں نے آپ کو وحشت میں مبتلا کردیا جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کھانا چاہتے تھے تو ایک آدمی نے آپ سے ان کو زور سے دھکیلا پھر زمین پھٹ گئی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) تین دن تک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 13–14

1:۔ ابوالشیخ وابن مردویہ والسلفی الطیوریات میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں کو تلقین نہ کرو ورنہ وہ جھوٹ بولیں گے کیونکہ یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے نہیں جانتے تھے کہ بھیڑیا لوگوں کو کھا جاتا ہے جب ان کے باپ نے ان کو تلقین کی تو انہوں نے جھوٹ بولا اور کہنے لگے اس کو بھیڑیا کھا گیا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ کسی کو یہ لائق نہیں کہ اپنے بیٹے کی برائی کی تلقین کرے کیونکہ یعقوب کے بیٹے نہیں جانتے تھے کہ بھیڑیا لوگوں کو کھا جاتا ہے یہاں تک کہ جب ان کے والد نے ان سے فرمایا (آیت) ” انی لیحزننی ان تذھبوا بہ واخاف ان یاکلہ الذئب “ (تو اس بات سے وہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : کہا (یعقوب (علیہ السلام) نے)] [ انى: بیشک ] [ لَيَحْزُنُنِيْٓ : مجھ کو یقینا غمگین کرتی ہے ] [ان : (یہ بات) کہ ] [ تَذْهَبُوْا بِهٖ : تم لے جائو ان کو ] [وَاَخَافُ : اور میں درتا ہوں ] [ ان : کہ ] [ يَّاْكُلَهُ : کھالے ان کو ] [الذِّئْبُ : بھیڑیا ] [وَ : اس حال میں کہ ] [انتم : تم لوگ ] [ عَنْهُ : ان سے ] [ غٰفِلُوْنَ : غافل ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 12–15

بھائیوں کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں ڈالنا اور کرتہ پر جھوٹا خون لگا کر واپس آنا اور ان کے والد کا فرمانا کہ یہ تمہارے نفسوں نے سمجھایا ہے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی اپنے والد کو کسی طرح سمجھا بجھا کر یوسف (علیہ السلام) کو لے گئے اور جنگل میں لے جا کر ایک اندھیرے کنویں میں ڈالنے کا ارادہ کرلیا اور انہیں اس میں ڈال بھی دیا اس وقت اللہ تعالیٰ نے یوسف ( علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی کہ تم ان لوگوں کو یہ بات بتلاؤ گے کہ تم نے میرے ساتھ ایسا کیا تھا ‘ اور وہ یہ جانیں گے بھی نہیں کہ یہ جو شخص ہمیں جتلا رہا ہے یہ وہی ہے جسے ہم نے کنویں میں ڈال دیا تھا ‘ چناچہ وہ وقت آیا کہ حضرت یوسف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–20

معاملہ برادران یوسف (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ لقد کان فی یوسف واخواتہ ایت ..... الیٰ ..... وکانوا فیہ من الزاھدین۔ بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں نشانیاں اور عبرتیں اور نصیحتیں ہیں ان لوگوں کے لیے جو اس قصہ کو دریافت کرتے ہیں کیونکہ یہ عجیب قصہ اس لائق ہے کہ اس کی خبر دریافت کی جائے کہ حق تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو بےکسی اور بےبسی سے نکال کر مقام سلطنت تک کس طرح پہنچایا یہ اس کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ جو پوچھتے ہیں ان کے لیے اس قصہ میں بہت سی عبرتیں اور نصیحتیں ہیں اور جو نہیں پوچھتے ان کے لیے بھی بہت سی نشانیاں ہیں۔ جبکہ یوسف کے علاتی بھائی آپس میں یہ کہنے لگے کہ البتہ یوسف اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 13–14

13:۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا اس کی جدائی میرے لیے باعث غم ہے نیز مجھے اندیشہ ہے کہ مبادا تمہاری غفلت سے اسے کوئی بھیڑیا کھا جائے بھیڑئیے کی تخصیص اس لیے کی کہ اس علاقے میں بھیڑئیے بکثرت پائے جاتے تھے۔ وخصہ بالذکر لان الارض علی ما قیل کانت مذئبۃ (روح ج 12 ص 195) ۔ ” قَالُوْا لَاِنْ اَکَلَہٗ الخ “۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–14

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ نے فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ میں سوال کرنے والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں۔ اس کے بعد یعقوب (علیہ السلام) کا ان کے چھوٹے بیٹوں کے ساتھ محبت کا ذکر ہوا اور بھائیوں کے حسد اور رشک کو بھی بیان کیا گیا۔ پھر بھائیوں نے آپس میں صلاح مشورہ کیا کہ کسی طرح یوسف (علیہ السلام) کو راستے سے ہٹانا چاہئے تاکہ باپ کی توجہ ان کی طرف مبذول ہو سکے۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس کو قتل کردیا جائے یا کسی گہرے کنوئیں میں پھینک دیا جائے۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ کام کاج کرنے والے ہم ہیں جب کہ ہمارا باپ ان چھوٹے بیٹوں سے زیادہ محبت کرتا ہے جو ابھی تک کوئی کام بھی نہیں کرسکتے۔ ان بھائیوں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ اِنِّىْ لَيَحْزُنُنِيْٓ اَنْ تَذْہَبُوْا بِہٖ وَاَخَافُ اَنْ يَّاْكُلَہُ الذِّئْبُ وَاَنْتُمْ عَنْہُ غٰفِلُوْنَ۝ 13 حزن الحُزْن والحَزَن : خشونة في الأرض وخشونة في النفس لما يحصل فيه من الغمّ ، ويضادّه الفرح، ولاعتبار الخشونة بالغم قيل : خشّنت بصدره : إذا حزنته، يقال : حَزِنَ يَحْزَنُ ، وحَزَنْتُهُ وأَحْزَنْتُهُ قال عزّ وجلّ : لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153] ( ح ز ن ) الحزن والحزن کے معنی زمین کی سختی کے ہیں ۔ نیز غم کی وجہ سے جو بیقراری سے طبیعت کے اندر پیدا ہوجاتی ہے اسے بھی حزن یا حزن کہا جاتا ہے اس کی ضد فوح ہے اور غم میں چونکہ خشونت کے معنی معتبر ہوتے ہیں اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–22

1 ؎ یعنی جو حضرت یوسف ﷺ اور ان کے بھائیوں کے حالات سے سوال کرتے ہیں اس بیان میں ان کے لئے پوری نشانی نبوت حضرت ﷺ کے لئے ہے کس لئے کہ باوجود توریت پاس نہ ہونے اور نہ اس کے پڑھے لکھے ہونے کے اتنے بڑے قصے کو ان باریکیوں اور پہلوئوں کے ساتھ جو اس واقعہ کے ساتھ متعلق ہیں۔ اس طرح سے بیان کردینا کہ توریت کے سرمو بھی خلاف نہ ہوا البتہ ایک معجزہ ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 11–14

قَالُوْا یٰٓـاَبَانَا مَالَکَ لاَ تَاْمَنَّا عَلٰی یُوْسُفَ وَاِنَّا لَہٗ لَنٰـصِحُوْنَ ۔ اَرْسِلْہُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَیَلْعَبْ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ ۔ قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْٓ اَنْ تَذْھَبُوْا بِہٖ وَاَخَافُ اَنْ یَّاْکُلَہُ الذِّئْبُ وَاَنْتُمْ عَنْہُ غٰفِلُوْنَ ۔ قَالُوْا لَئِنْ اَکَلَہُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَۃٌ اِنَّـآ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 11، 12، 13 14) (انھوں نے کہا اے ہمارے باپ، کیا بات ہے کہ یوسف ( علیہ السلام) کے معاملے میں آپ ہم پر اعتماد نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے بڑے ہی خیرخواہ ہیں۔ کل اس کو ہمارے ساتھ بھیجئے، ذرا چرے جگے اور کھیلے کودے اور ہم اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–14

فہم القرآن ربط کلام : سازش پر متفق ہونے کے بعد برادران یوسف کا اپنے باپ کی خدمت میں پیش ہو کر یوسف (علیہ السلام) کو اپنے ساتھ لے جانے کا مطالبہ کرنا۔ برادران یوسف اپنے باپ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ابا جان کیا وجہ ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہم پر اعتماد نہیں کرتے ؟ حالانکہ ہم اس کے بارے میں نہایت ہی خیر خواہی کے جذبات رکھتے ہیں۔ لہٰذا ہماری درخواست ہے کہ اسے ہمارے ساتھ بھیجئے تاکہ کھلی فضا میں یوسف سیرو سیاحت اور کھیل کود میں ہمارے ساتھ شریک ہو۔ ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اس کی پوری طرح حفاظت کریں گے۔ بیٹوں کے مطالبہ کے جواب میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اس بات کا اظہار کیا کہ میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

13۔ قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُ نُنِیْ اَنْ تَذْھَبُوْا بِہٖ (کہا بیشک مجھے غم میں ڈالے گا تمہارا اسکو اپنے ساتھ لے جانا) مجھے غمزدہ کرے گا تمہارا اس کو ساتھ لے جانا۔ لَیَحْزُنُنِیْ میں لام ابتدائیہ ہے۔ وَاَخَافُ اَنْ یَّاْ کُلَہُ الذِّئْبُ وَاَنْتُمْ عَنْہُ غٰفِلُوْنَ (اور مجھے ڈر ہے کہ اس کو بھیڑیا کھاجائے گا اور تم اس سے غافل ہوجائو گے) ان کے سامنے عذر کیا کہ اس کا ساتھ لیجانا ہی مجھے غمزدہ کردے گا کیونکہ وہ اس سے ایک لمحہ صبر نہ کرسکتے تھے۔ یعقوب (علیہ السلام) کو بھیڑیئے کے حملے کا خطرہ تھا جبکہ وہ اپنے چرانے اور کھیل کود میں مصروف ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

13۔” قال “ ان کو یعقوب (علیہ السلام) نے ” انی لیحزننی ان تذھبوا بہ “ تمہارا اس کو لے جانا مجھے غمگین کر دے گا اور الحزن یہاں محبوب کے فراق پر دل کی تکلیف ۔ ” واخاف ان یاکلہ الذنب وانتم عنہ غافلون “ کیونکہ یعقوب نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک بھیڑ یے نے یوسف (علیہ السلام) پر حملہ کیا تو وہ اس سے ڈرتے تھے۔ اسی وجہ سے کہا مجھے خوف ہے کہ اس کو بھیڑ یا نہ کھاجائے۔ ابن کثیر ، اسماعیل اور قالون رحمہما اللہ نے نافع ، عاصم اور ابن عامر رحمہما اللہ نے ” الذنب “ ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے اور اسی طرح ابو عمرو نے پڑھا ہے ” اذا لم یدرج “ اور حمزہ نے۔ جب وقف نہ کیا جائے اور کسائی اور روش نے نافع سے اور ابو عمرو نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–14

13۔ 14۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو یہ جواب دیا کہ اگر تم اس کو اپنے ساتھ لے جاؤ گے تو میرا جی گھبرائے گا تمہارے واپس آنے تک میں اس کے بغیر کیوں کر رہ سکتا ہوں میرے دل کو جب تک کس طرح چین آئے گا۔ اصل میں یعقوب (علیہ السلام) کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ نہایت ہی محبت تھی گھڑی بھر کی جدائی ان کی ان پر شاق گزرتی تھی کیونکہ آپ پیغمبر تھے اور یوسف (علیہ السلام) میں بھی نبوت کی بو پاتے تھے اس کے علاوہ حسن بھی اللہ پاک نے یوسف (علیہ السلام) کو ایسا ہی دے رکھا تھا جو کسی مخلوق کو خدا نے نہیں دیا چناچہ صحیح مسلم میں انس بن مالک ؓ کی روایت سے جو معراج کی حدیث ہے اس میں آنحضرت ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 11–14

آیت 11 تا 14: یعنی جناب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے اپنے باپ سے کہا يٰٓاَبَانَا مَالَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰي يُوْسُفَ : اباجان کیا وجہ ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہٰیں کرتے۔ یعنی کون سی چیز بغیر کسی سبب اور موجب کے یوسف کے بارے میں آپ کو ہم سے خائف کر رہی ہے اور حال یہ ہے کہ وَاِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ : ہم اس کے خیر خواہ ہیں۔ یعنی ہم اس پر شفقت رکھتے ہیں اور ہم اس کے لیے وہی کچھ چاہتے ہیں جو اپنے لیے چاہتے ہیں۔ برادران یوسف کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) حضرت یوسف علی السلام کو ان کے بھائیوں کے ساتھ جنگل وغیرہ کی طرف نہیں جانے دیا کرتے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 10–14

قول باری ہے قال قائل منھم لا تقتلوا یوسف والقوہ فی غیایۃ الجب یلتقطہ بعض السیارۃ ان کنتم فاعلین ۔ اس پر ان میں سے ایک بولا ۔ یوسف کو قتل نہ کرو ۔ اگر کچھ کرنا ہی ہے تو اسے اندھے کنوئیں میں ڈال دو کوئی آتا جاتا قافلہ اسے نکال لے جائے گا ۔ جب بھائیوں نے آپس میں حضرت یوسف کو قتل کردینے یا باپ کی نظروں سے دور لے جانے میں سے ایک پر عملدرآمد کا فیصلہ کرلیا تو اس موقع پر ان میں سے ایک نے یہ مشورہ دیا کہ اس مقصد کے لیے درج بالا دونوں باتوں کی بجائے ایک تیسری راہ اختیار کی جائے جس میں شر اور بدی کا عنصر نسبتاً کم ہے۔ وہ یہ کہ یوسف کو کسی کم پانی والے کنویں میں پھینک دیا جائے تاکہ مسافروں کا کوئی قابلہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 11–13

19 ۔ برادران یوسف کا اپنے باپ سے یوسف کے بارے میں اپنی خیر خواہی کا اظہار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ کیا بات ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے پکے خیر خواہ ہیں۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ جن کے دلوں میں چور ہوتا ہے وہ اپنا اعتبار قائم کرنے کے لیے اسی طرح کی پکی اور قسمیہ باتوں کا سہارا لیتے ہیں تاکہ اس طرح وہ اپنی بات دوسروں کو باور کرا سکیں۔ جبکہ سچوں اور صدق شعار لوگوں کو اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کے دل میں چونکہ اطمینان ہوتا ہے کہ ہم سچے اور درست راہ پر ہیں۔ اس لیے وہ قسم کھائے بغیر یونہی سیدھی اور سادہ بات کہنے پر اکتفاء کرتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 11–21

بھائیوں کی زیادتی اور سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا مصر پہنچنا تشریح : اس تمام قصہ کو پڑھنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان اکثر حسد کی وجہ سے بعض شرارت اور خباثت میں ایسے برے کام کرجاتا ہے کہ جو خود اس کے اپنے لیے دنیا و آخرت میں رسوائی کا باعث بن جاتے ہیں۔ دغا، فریب، جھوٹ اور ظلم یہ بہت بڑے گناہ ہیں جو انسان صرف اپنی دنیوی کامیابی کے لیے کرجاتا ہے۔ اور یہ بھول جاتا ہے کہ یہ سب کرنے سے کسی کا حقیقت میں نقصان کم ہی ہوتا ہے اصل میں اپنی عاقبت خراب کرلیتا ہے اور دنیا میں بھی کوئی عزت اور کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ اللہ تو ہر اس کام سے واقف ہے جو انسان دوسروں سے چھپا کر کرتا ہے۔ اور پھر اللہ سے بڑا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 7–20

آیات 7 تا 19 اسرار و معارف حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا قصہ باعث نصیحت بھی ہے اور باعث عبرت بھی کہ اللہ اپنے مخلص بندوں کی کیسے کیسے حفاظت فرماتا ہے اور ان سے حسد کرنے والے کس طور ناکام ثابت ہوتے ہیں ۔ نیز اس کا ایک مربوط نظام ہے جسے نہ جاننے والے اتفاقات اور حادثات کا نام دیتے ہیں مگر دراصل ایسے تمام امورطے شدہ نظام کی کڑیوں کے طور پر کام کرتے ہیں اور اس طرح تفصیل سے واقعہ کی جزئیات بھی شامل کرکے درست بیان فرمانا آپ ﷺ کا بہت بڑا معجزہ اور وحی الٰہی کی دلیل بھی ہے کہ سوال کرنے والے یہوددی تو مدینہ منورہ سے سوال بھیج رہے تھے مکہ میں تو کوئی یہودی عالم بھی اتنے وسیع مطالعہ کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 ۔ ان کو بھیڑئیے کا بہانہ کرنا تھا وہ ہی ان کے دل میں خوف آیا۔ (موضح) ۔ یا حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کے بھیڑیے کا ذکر کرنے کی وجہ سے وہی بہانہ کرلیا۔ (روح) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(12:13) انی لیحزننی۔ میں لام ابتدائیہ ہے۔ اس سے مضارع کے معنی حال کے لئے مختص ہوجاتے ہیں۔ جیسے انی لاطالع الجرائد میں اخبار دیکھ رہا ہوں۔ انک لتعلم ما نرید۔ تجھے خوب معلوم ہے جو ہم چاہتے ہیں۔ انی لیحزننی ان تذھبوا بہ۔ بیشک مجھے غمزدہ بناتی ہے (یہ بات) کہ تم اسے لیجاؤ (اور اس طرح اسے مجھ سے جدا کر دو ) واخاف۔ اور میں ڈرتا ہوں (یہ حضرت یعقوب کا دوسرا اندیشہ تھا) ان یاکلہ الذئب کہ کہیں اسے بھیڑیا کھاجائے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–18

لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 18 مالک (تجھے کیا ہوگیا) لاتامنا (تو ہم پہ اطمینان نہیں کرتا ہے) نصحون (نصیحت کرنے والے۔ خیر خواہ) ارسل (بھیج دے) غداً (کل۔ آئندہ۔ صبح ) یرتع (کھاتا ہے یا کھائے گا ) یعلب (کھیلتا ہے یا کھیلے گا) لیحزننی (البتہ مجھے رنجیدہ کرتی ہے) ان یا کلہ ، (یہ کہ وہ کھائے) الذئب (بھیڑیا) ان یجعلوہ (یہ کہ وہ اس کو ڈال دیں) عشآء (رات کے وقت) یبکون (وہ روتے ہیں یا روئیں گے ) ذھبنا (ہم چلے گئے ) نستبق (ہم دوڑ کا مقابلہ کر رہے ہیں) ترکنا (ہم نے چھوڑ دیا) عند (نزدیک) متاعنا (ہمارا اپنا سامان) دم کذب (جھوٹا خون) سولت (بنا لی ہے۔ برابر کرتی ہے) صبر جمیل (اچھا صبر) المستعان (استعانۃ) مدد…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 13–14

حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو یہ بھی جواب دیا کہ اگر تم اس کو اپنے ساتھ لے جاؤ گے تو میرا جی گھبرائے گا اور واپسی تک مجھے کس طرح چین آئے گا اور مجھے یہ بھی اندیشہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ کہیں بھیڑیا کھا جاوے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔ تم سیر تماشے میں مشغول ہو۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ اگر اسے بھیڑیا کھالے تو بڑے ہی تعجب کی بات ہے ہم قوی اور زبردست ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–18

[8] آیت میں خون آلودہ کرتے کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا کیونکہ اسی سے ان کا سارا جھوٹ کھل گیا تھا۔ اگر بھیڑئیے نے حملہ کیا تھا تو کرتا کیسے بچ رہا ؟ اس کے تو پرزے پرزے ہوجانے تھے۔ چناچہ یعقوب (علیہ السلام) کو کرتا دیکھتے ہی یقین ہوگیا کہ ساری کہانی من گھڑت ہے۔ علاوہ ازیں یعقوب (علیہ السلام) کو فراست نبوت سے یہ بات معلوم ہوگئی تھی کہ پچھلی بشارتیں یوسف (علیہ السلام) ہی کے ذریعے پوری ہونے والی ہیں اس لئے وہ کبھی باور نہیں کرسکتے تھے کہ اس طرح یوسف (علیہ السلام) کی زندگی کا خاتمہ ہوجائے گا۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب یعقوب (علیہ السلام) کو یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا بیان غلط ہونا معلوم…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–15

(ف 2) خدا کا قانون ہے کہ جب دنیا کی اعانت کے سلسلے منقطع ہوجائیں ، آپس کا رشتہ ٹوٹ جائے ، اور یاس کے بادل آمنڈ آئیں ، اس وقت وہ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا خون سفید ہوگیا ، ان کے دلوں میں شفقت واخوت کے سومے خشک ہوگئے ، اور وہ ظالمانہ سلوک پر مستعد ہوگئے ، تو اس وقت اللہ کی رحمت جوش میں آئی ، اس کا دریائے کرم موزن ہوا اور یوسف کو تاریک کنوئیں ، میں سل امتی و کامیابی کی خوشخبریاں سنائی دینے لگیں ، اللہ نے کہا ، فکر نہ کرو ، ایک وقت آئے گا ، کہ تم انہیں شرمندہ کرو گے ، اور انہیں معلوم نہیں ہوگا ، کہ تم یوسف ہو ، حل لغات : یرتع : آزادی سے کھانا پینا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

13 حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا بلاشبہ اس کی جدائی مجھے غمگین کرتی ہے کہ تم اس کو میرے پاس سے لے جائو اور میں اس بات سے بھی ڈرتا ہوں کہ تم کہیں اپنے مشاغل میں اس سے غافل ہو جائو اور اس کو بھیڑیا کھاجائے یعنی بکریاں چرانے جائیں تو یوسف (علیہ السلام) کو بھی لے جائیں حضر ت یعقوب (علیہ السلام) نے جوا ب میں دو باتیں فرمائیں ایک غم اور ایک خوف یعنی غم تو اس کی اپنی آنکھوں سے اوجھل کرنے اور تمہارے ساتھ بھیجنے کا اور ڈر یہ کہ بچہ ہے کبھی تم اپنے کسی مشغلہ میں لگ جائو اور بھیڑیا اس کو پھاڑ کھائے۔ کہتے ہیں کہ کنعان کے جنگل میں بھیڑئیے بہت تھے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ان کو بھیڑئیے کا بہانہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–14

ف 5۔ ظاہر لعب کو یعقوب (علیہ السلام) نے جائز رکھا باوجودیکہ امر عبث کی تجویز شان انبیاء کے خلاف ہے سو اصل یہ ہے کہ یہ لعب عبث نہیں مراد اس سے مسابقت وتیراندازی وغیرہ ہے جو کہ امور مفیدہ میں سے ہے جواب مشہور تو یہ ہے اور احقر کہتا ہے کہ تجدید نشاط بھی ہے جو کہ بچوں کے لیے ضروری اور مشاغل ضروریہ میں جی لگنے کا موقوف علیہ ہے اور ضروری کا مقدمہ بھی ضروری ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

باپ نے خطرہ ظاہر کیا کہ تم جو ان ہو کہیں شکار کھیلتے کھیلتے آگے نکل جائو تو یوسف کا پھر کیا ہوگا ؟ ۔ 13 انسان پر بعض اوقات ایسا وقت بھی آجاتا ہے کہ ” نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن “ کا محاورہ اس پر صادق آتا ہے کہ ایک کام نہ کرنے کے باوجود کرنا پڑجاتا ہے۔ یہ انسانی زندگی کا بڑا مشکل باب ہے۔ دل نہیں مانتا تھا کہ یوسف بھائیوں کے ساتھ جائے لیکن اب انہوں نے پیار کا جو انداز اختیار کیا آخر اس کا جواب بھی کیا ہے ؟ اگر سا وقت انکار کردیا جائے تو بھائی اعلانیہ دشمنی پر بھی اتر سکتے ہیں پھر انسان آخر ایک انسان کی کب تک حفاظت کرسکتا ہے ؟ یعقوب (علیہ السلام) کو یہ خیال یقینا آیا ہوگا کہ میں ان کو ایک اشارہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

When the brothers of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) requested their father that he should send Yusuf with them on a recreational outing, Sayyidna Ya'qub (علیہ السلام) told them that he did not favour sending him out for two reasons: (1) He remains uncomfortable without him in sight and (2) he apprehends that, in the wilderness out there, it might so happen that they become neglectful at some time and a wolf might eat him up. The apprehension of Sayyidna Ya'qub may have been caused either due to the abundance of wolves in Canaan, or because he had seen in a dream that he is standing on top of a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–15

12. The Arabic words“they do not perceive”may very appropriately mean three things. First, We were comforting Joseph, and his brothers were quite unaware of this that a revelation was being sent to him. Second, you will let them know of this evil act of theirs in such circumstances that they can never even imagine you to be there. Third, today they are committing an evil act, but they do not know its future consequences. There is no mention of this in the Bible and the Talmud that Allah sent a revelation to comfort Prophet Joseph at that time of his affliction. On the contrary, the Talmud…

Read the full tafseer →