بھائی اپنے منصوبہ میں کامیاب ہوگئے۔
سمجھا بجھا کر بھائیوں نے باپ کو راضی کر ہی لیا۔ اور حضرت یوسف کو لے کر چلے جنگل میں جا کر سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یوسف کو کسی غیر آباد کنویں کی تہ میں ڈال دیں۔ حالانکہ باپ سے یہ کہہ کرلے گئے تھے کہ اس کا جی بہلے گا، ہم اسے عزت کے ساتھ لے جائیں گے۔ ہر طرح خوش رکھیں گے۔ اس کا جی بہل جائے گا اور یہ راضی خوشی رہے گا۔ یہاں آتے ہی غداری شروع کردی اور لطف یہ ہے کہ سب نے ایک ساتھ دل سخت کرلیا۔ باپ نے ان کی باتوں میں آکر اپنے لخت جگر کو ان کے سپرد کردیا۔ جاتے ہوئے سینے سے لگا کر پیار پچکار کر دعائیں دے کر رخصت کیا۔ باپ کی آنکھوں سے ہٹتے ہی ان سب نے بھائی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
سورة یُوْسُف 12
متن میں وَھُم لَایَشعُرُونَ کے الفاظ کچھ ایسے انداز سے آئے ہیں کہ ان سے تین معنی نکلتے ہیں اور تینوں ہی لگتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہم یوسف ؑ کو یہ تسلی دے رہے تھے اور اس کے بھائیوں کو کچھ خبر نہ تھی کہ اس پر وحی جاری ہے۔ دوسرے یہ کہ تو ایسے حالات میں ان کی یہ حرکت انہیں جتائے گا جہاں تیرے ہونے کا انہیں وہم و گمان تک نہ ہوگا۔ تیسرے یہ کہ آج یہ بےسمجھے بوجھے ایک حرکت کر رہے ہیں اور نہیں جانتے کہ آئندہ اس کے نتائج کیا ہونے والے ہیں۔
بائیبل اور تلمود اس ذکر سے خالی ہیں کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یوسف ؑ کو کوئی تسلی بھی دی گئی تھی۔ اس کے بجائے تلمود میں جو روایت بیان…
Read the full tafseer →اس بات پر سب بھائیوں کا اتفاق ہوگیا جس کا بیان آیات مذکورہ میں سے تیسری آیت میں اس طرح آیا ہے (آیت) فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَاَجْمَعُوْٓا اَنْ يَّجْعَلُوْهُ فِيْ غَيٰبَتِ الْجُبِّ ۚ وَاَوْحَيْنَآ اِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ ھٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ یعنی جب یہ بھائی یوسف ؑ کو جنگل میں لے گئے اور اس پر سب متفق ہوگئے کہ اس کو کنویں کی گہرائی میں ڈال دیں تو اللہ تعالیٰ نے یوسف ؑ کو بذریعہ وحی اطلاع دی کہ ایک دن ایسا آئے گا جب تم اپنے بھائیوں کو ان کے اس کرتوت پر تنبیہ کرو گے اور وہ کچھ نہ جانتے ہوں گے،
یہاں لفظ وَاَوْحَيْنَآ فَلَمَّا ذَهَبُوْا کی جزاء اور جواب ہے حرف واؤ اس جگہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
15۔ 17:۔ فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَاَجْمَعُوْٓا اَنْ يَّجْعَلُوْهُ فِيْ غَيٰبَتِ الْجُبِّ ۚ وَاَوْحَيْنَآ اِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ ھٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ۔ وَجَاۗءُوْٓا اَبَاهُمْ عِشَاۗءً يَّبْكُوْنَ۔ قَالُوْا يٰٓاَبَانَآ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ ۚ وَمَآ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صٰدِقِيْنَ۔
ان آیات میں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ " لما " کا جواب۔ قالوا یابانا۔۔۔ الایۃ ہے۔ بات کو سمیٹنے کے لیے بیچ کی کئی باتوں کو " لما " ہی کے تحت کردیا ہے۔ یعنی جب انہوں نے اس کو کنوئیں میں ڈالنے کا فیصلہ کرلیا اور…
Read the full tafseer →15۔ 1 قرآن کریم نہایت اختصار کے ساتھ واقعہ بیان کر رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق انہوں نے یوسف ؑ کو کنویں میں پھینک دیا، تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف ؑ کی تسلی اور حوصلے کے لئے وحی کی کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ہم تیری حفاظت ہی نہیں کریں گے بلکہ ایسے بلند مقام پر تجھے فائز کریں گے کہ یہ بھائی بھیک مانگتے ہوئے تیری خدمت میں حاضر ہونگے اور پھر تو انھیں بتائے گا کہ تم نے اپنے ایک بھائی کے ساتھ اس طرح سنگ دلانہ معاملہ کیا تھا، جسے سن کر وہ حیران اور پشیمان ہوجائیں گے۔ حضرت یوسف علیہ الاسلام اس وقت اگرچہ بچے تھے، لیکن جو بچے، نبوت پر سرفراز ہونے والے ہوں، ان پر بچپن میں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
9: حضرت یوسف ؑ اس وقت بچے تھے روایت میں ان کی عمر سات سال بتائی گئی ہے۔ اس لیے یہ وحی نبوت کی وحی نہیں تھی، بلکہ یہ اس قسم کی وحی تھی جیسی قرآن کریم نے حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ یا حضرت مریم کے لیے بیان فرمائی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف ؑ کو کسی ذریعے سے یہ بتادیا کہ گھبراؤ نہیں، ایک وقت آنے والا ہے کہ یہ لوگ تمہارے آگے جھکیں گے، اور تم انہیں ان کی ساری حرکتوں کے بارے میں انہین اس وقت سب کچھ جتلا دو گے جب یہ تمہیں ہچانتے بھی نہیں ہوں گے۔ چنانچہ آگے آیت نمبر 89 میں آ رہا ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے مصر کا حاکم بننے کے بعد انہیں جتلایا تھا۔
Read the full tafseer →اب یہ لوگ انہیں لے کر جا رہے ہیں اس مکروہ سازش پر یہ لوگ عمل پیرا ہورہے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس بچے کے دل میں یہ بات ڈال رہا ہے کہ یہ ایک آزمائش ہے اور یہ ختم ہونے والی ہے اور یہ کہ انشاء اللہ وہ زندہ رہے گا اور اپنے غافل بھائیوں کو اس کے بارے میں خود بتائے گا۔
ان کے درمیان یہ بات طے پاگئی کہ اب یوسف کو کنوئیں میں ڈالنا ہے ، جہاں وہ ان کی نظروں سے دور رہے گا۔ اب ہر شخص یہ سوچ سکتا ہے کہ اس وقت یوسف پر کیا گزری ہوگی کہ یہ سب بھائی مل کر اس کمزور بچے کو کنوئیں میں ڈال رہے ہوں گ۔ جس کو اپنی موت قریب نظر آرہی ہوگی اور بھائیوں کی نظریں بدل گئی ہوں گی ، اس عالم بےبسی و بےکسی میں اب صرف اللہ کی مدد…
Read the full tafseer →6 مفسرین نے بہت سے درمیانی قصے نہایت درد انگیز اور رقت خیز پیرایہ میں نقل کیے ہیں جنہیں سن کر پتھر کا کلیجہ موم ہوجائے۔ خدا جانے وہ کہاں تک صحیح ہیں۔ قرآن کریم اپنے خاص نصب العین کے اعتبار سے اس قسم کی تفاصیل کو زیادہ درخوار اعتناء اور لائق ذکر نہیں سمجھتا کیونکہ ان اجزاء سے کوئی مہم مقصد متعلق نہیں ہے۔ قرآن کریم اپنے سامعین کے دلوں میں وہ رقت پیدا کرنا چاہتا ہے جس کا منشاء خاص ایمان و عرفان ہو۔ عام رقت جو ہر کافر و مومن بلکہ حیوانات تک میں طبعا مشترک ہے اس پر عام خطباء کی طرح زور ڈالنا قرآن کی عادت نہیں۔ یہاں بھی اس نے درمیانی واقعات حذف کر کے آخری بات بتلا دی کہ برادران یوسف یوسف کو بلطائف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
آیت 15 فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَاَجْمَعُوْٓا اَنْ يَّجْعَلُوْهُ فِيْ غَيٰبَتِ الْجُبِّ
یہاں پر اَجْمَعُوْٓا کے بعد عَلٰی کا صلہ محذوف ہے یعنی اس منصوبے پر وہ سب کے سب جمع ہوگئے انہوں نے اس رائے پر اتفاق کرلیا۔
وَاَوْحَيْنَآ اِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ ھٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ
یہ بات الہام کی صورت میں حضرت یوسف کے دل میں ڈالی گئی ہوگی کیونکہ ابھی آپ کی عمر نبوت کی تو نہیں تھی کہ باقاعدہ وحی ہوتی۔ بہر حال آپ پر یہ الہام کیا گیا کہ ایک دن تم اپنے ان بھائیوں کو یہ بات اس وقت جتلاؤ گے جب انہیں اس کا خیال بھی نہیں ہوگا۔ اس چھوٹے سے فقرے میں جو بلاغت ہے اس کا جواب نہیں۔ چند الفاظ…
Read the full tafseer →13 چناچہ یہ برادران یوسف اپنے باپ کو چکمہ دینے اور اپنا اعتماد جمانے میں کامیاب ہوگئے اور باپ نے ان پر اعتبار کرتے ہوئے سیدنا یوسف کو دوسرے دن ان کے ہمراہ کردیا۔ یہ بہت بڑا مرحلہ تھا جو سرانجام پا گیا۔ پھر جب وہ اپنی اتفاق سے طے شدہ تجویز کے مطابق اسے ایک گمنام کنویں میں پھینکنے لگے تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو صبر عطا فرمایا اور ان کے دل میں بات ڈال دی کہ ایک وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے بھائیوں کو ان کے یہ کرتوت جتلاؤ گے۔ درآنحالیکہ وہ تمہیں پہچانتے بھی نہ ہوں گے اور اس نہ پہچاننے کی بھی دو وجوہ ممکن ہیں ایک یہ کہ یوسف کسی اتنے بلند مرتبہ پر فائز ہوں کہ برادران یوسف کے وہم و…
Read the full tafseer →22۔ (اور اس پر عمل بھی کرگزرے) توریت میں ہے :۔” اور یوں ہوا کہ یوسف جب اپنے بھائیوں کے پاس آیا تو انہوں نے اس کو قبا کو یعنی بوقلمون قباکو جو وہ پہنے تھا اتار کے اسے ننگا کیا اور اسے لے کے کنوئیں میں ڈال دیا وہ کنواں اندھا تھا اس میں ایک بوند پانی نہ تھا۔ “ (پیدائش 37: 23۔ 24) (آیت) ” فلماذھبوا بہ “۔ قیل وقال کے بعد بالآخر حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لے جانے کی اجازت ان کے چرب زبان بھائیوں کو دے دی تھی۔
23۔ رحمت الہی نے اس وقت بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ساتھ نہیں چھوڑا عین جس وقت کہ کنوئیں میں گر رہے تھے۔ غیب سے الہام ہوا کہ شکستہ دل وملول نہ ہو خوف نہ کرو ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
آیت نمبر 7 تا 20
ترجمہ : حقیقت یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں کہ وہ گیارہ تھے سوال کرنے والوں کیلئے
بڑی عبرتیں ہیں، اس وقت کا تذکرہ کرو کہ جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے آپس میں کہا یوسف اور اس کا حقیقی بھائی بن یامین ہمارے اباجان کیلئے ہمارے مقابلہ میں زیادہ چہیتے ہیں، لَیُوسف مبتداء ہے اور اَحَبُّ اس کی خبر ہے، حالانکہ ہمارا ایک جتھا ہے، ہمارے اباجان ان دونوں کو ہم پر ترجیح دینے کے معاملہ میں کھلی غلطی پر ہیں (ایسا کرو) کہ یوسف کو قتل کردو یا کسی دور ملک میں پہنچا دو (اس تدبیر سے) تمہارے ابا جان کی توجہ خالص تمہاری طرف ہوجائے گی، اس طریقہ پر کہ تمہاری طرف…
Read the full tafseer →فلما ذھبوا بہ واجمعوا ان یجعلوہ فی غیبت الجب پھر جب وہ یوسف کو لے گئے اور کنویں کے گہرے گڑھے میں ڈالنے کا انہوں نے پختہ ارادہ کرلیا (تو پھر جو چاہا کیا ‘ کنویں میں ڈال دیا) شرط کا جواب محذوف ہے ‘ جس کی تشریح مترجم نے بین القوسین کردی ہے۔ بغوی نے لکھا ہے : اس شرط کی جزاء اگلی آیت وَاَوْحَیْنَا الخ ہے۔ وَاَوْحَیْنَا میں واؤ زائد ہے ‘ جیسے آیت : فَلَمَّا اَسْلَہَ اوتَلَّہٗ لِلْجَبِیْنِ وَنَادِیْنَاہ میں وَنَادِیْنَاہُجزاء ہے اور اس میں واؤ زائد ہے۔
بغوی نے وہب وغیرہ کے بیان سے اخذ کر کے لکھا ہے کہ باپ کے سامنے بھائیوں نے یوسف کو نہایت عزت کے ساتھ اپنے ہاتھوں پر لیا ‘ اپنے اوپر سوار کرلیا لیکن…
Read the full tafseer →(15) چناچہ جب حضرت یوسف ؑ کے لے جان کی اجازت لے کر وہ انکو جنگل میں لے گئے تو سب نے پختہ ارادہ کرلیا کہ ان کو کسی اندھے کنوئیں میں ڈال دیں گے۔
چناچہ انہوں نے اپنا ارادہ پورا کیا تو اس وقت ہم نے جبریل امین کو یوسف ؑ کے پاس بھیجا اور بذریعہ الہام ان کو تسلی دی کہ اے یوسف تم ان کو ان کی یہ بات جتلاؤ گے اور وہ تمہیں پہچانیں گے بھی نہیں کہ تم یوسف ہو حتی کے تم خود ہی ان سے اپنا تعارف کراؤ گے اور کہ اس وقت ہم نے جو وحی بھیجی ان کے بھائیوں کو اس چیز کی قطعا کچھ خبر نہ ہوئی۔
Read the full tafseer →فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَاَجْمَعُوْٓا اَنْ۔۔ :”وَاَجْمَعُوْٓا“ باب افعال ہے، کسی کام کا مصمم عزم کرلینا، یعنی آخر وہ باپ کے کسی عذر کی پروا نہ کرتے ہوئے ان کے خاموش ہونے پر اسے اپنے ساتھ لے ہی گئے۔ اب یہاں قرآن کریم کا کمال اعجاز دیکھیے، فرمایا : ”پھر جب وہ اسے لے گئے اور طے کرلیا کہ اسے کسی اندھے کنویں کی گہرائی میں پھینک دیں“ تو پھر کیا ہوا ؟ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے ذکر ہی نہیں فرمایا، تاکہ سننے والے خود ہی سمجھ لیں کہ قتل تک کا منصوبہ بنانے والے ان دس شیر جوانوں نے یوسف ؑ کے ساتھ کنویں میں پھینکنے کے وقت اور اس سے پہلے کیا سلوک کیا ہوگا۔ قرآن اشارہ کرتا ہے، پھر سمجھنے والے پر چھوڑ دیتا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 15
فلماذھبوابہٖ اجمعوٓا ایجعلوہ، ان محل نصب میں ہے یعنی علی ان یجعلوہ فی غیابۃ الجب اس قصہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ حضرت یعقوب نے جب آپ کو ان کے ساتھ بھیجا تو ان سے پختہ وعدہ لیا کہ وہ ضرور اس کی حفاظت کریں گے اور آپ کو روبیل کے سپرد کیا اور فرمایا : اے روبیل ! یہ چھوٹا ہے اور اے میرے بیٹے تو اس پر میری شفقت کو جانتا ہے اگر اسے بھوک لگے تو اس کو کھانا کھلانا اور اگر پیاس لگے تو پانی پلانا یہ اگر تھک جائے تو اٹھالینا پھر اس کو میرے پاس واپس لانے میں جلدی کرنا۔ انہوں نے آپ کو اپنے کندھوں پر اٹھانا شروع کیا ایک نہ اتارتا تھا کہ دوسرا اٹھالیتا اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کئی میل ان کے…
Read the full tafseer →حضرت یوسف (علیہ السلام) کو منجانب اللہ تسلی :
1:۔ ابن جریروابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت ” واوحینا الیہ “ الآیہ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یوسف کی طرف وحی بھیجی جب وہ کنویں میں تھے تم ضرور خبر دوگے اپنے بھائیوں کو جو کچھ انہوں نے کیا اور وہ اس وحی کے متعلق کچھ نہ جانتے تھے۔
2:۔ عبدالرزاق وابن جریروابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واوحینا الیہ “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی اور وہ کنویں میں تھے کہ عنقریب تم ان کو بتاؤ گے جو کچھ انہوں نے کیا…
Read the full tafseer →[فَلَمَا : پھر جب ] [ذَهَبُوْا بِهٖ : وہ لوگ لے گئے ان (علیہ السلام) کو ] [وَاَجْمَعُوْٓا : اور انھوں نے اتفاق کیا ] [ ان : کہ ] [ يَّجْعَلُوْهُ : وہ ڈالیں ان (علیہ السلام) کو ] [ فِيْ غَيٰبَتِ الْجب : کنویں کی گہرائی میں ] [وَاَوْحَيْنَآ : اور ہم نے وحی کی ] [اِلَيْهِ : ان (علیہ السلام) کی طرف (کہ)] [ لَتُنَبِئَنَّهُمْ : آپ (علیہ السلام) لازماً آگاہ کریں گے ان کو ] [ بِاَمْرِهِمْ ھٰذَا : ان کے اس کام پر ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ : وہ شعور نہ رکھتے ہوں گے ]
نوٹ۔ 1: آیت 15 میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف وحی کی۔ یہاں وحی سے مراد اصطلاحی وحی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
بھائیوں کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں ڈالنا اور کرتہ پر جھوٹا خون لگا کر واپس آنا اور ان کے والد کا فرمانا کہ یہ تمہارے نفسوں نے سمجھایا ہے
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی اپنے والد کو کسی طرح سمجھا بجھا کر یوسف (علیہ السلام) کو لے گئے اور جنگل میں لے جا کر ایک اندھیرے کنویں میں ڈالنے کا ارادہ کرلیا اور انہیں اس میں ڈال بھی دیا اس وقت اللہ تعالیٰ نے یوسف ( علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی کہ تم ان لوگوں کو یہ بات بتلاؤ گے کہ تم نے میرے ساتھ ایسا کیا تھا ‘ اور وہ یہ جانیں گے بھی نہیں کہ یہ جو شخص ہمیں جتلا رہا ہے یہ وہی ہے جسے ہم نے کنویں میں ڈال دیا تھا ‘ چناچہ وہ وقت آیا کہ حضرت یوسف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
معاملہ برادران یوسف (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ لقد کان فی یوسف واخواتہ ایت ..... الیٰ ..... وکانوا فیہ من الزاھدین۔
بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں نشانیاں اور عبرتیں اور نصیحتیں ہیں ان لوگوں کے لیے جو اس قصہ کو دریافت کرتے ہیں کیونکہ یہ عجیب قصہ اس لائق ہے کہ اس کی خبر دریافت کی جائے کہ حق تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو بےکسی اور بےبسی سے نکال کر مقام سلطنت تک کس طرح پہنچایا یہ اس کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ جو پوچھتے ہیں ان کے لیے اس قصہ میں بہت سی عبرتیں اور نصیحتیں ہیں اور جو نہیں پوچھتے ان کے لیے بھی بہت سی نشانیاں ہیں۔
جبکہ یوسف کے علاتی بھائی آپس میں یہ کہنے لگے کہ البتہ یوسف اور…
Read the full tafseer →14:۔ ” اَجْمَعُوْا “ یعنی یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں پھینکنے پر متفق ہوگئے یہ ” ذَھَبُوْا “ پر معطوف ہے اور ” لَمَّا “ کی جزاء محذوف ہے ای فعلوا بہ ما فعلوا من الاذی (مدارک ج 2 ص 164) ۔ ” وَ اَوْحَیْنَا اِلَیْہِ الخ “ حسن، مجاہد، ضحاک اور قتادہ کے نزدیک وحی نبوت مراد ہے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو صغر سن ہی میں نبوت مل گئی تھی۔ امام مجاہد نے ایک قول میں اور دیگر مفسرین نے وحی سے الہام مراد لیا ہے یعنی ہم نے یوسف کے دل میں یہ بات ڈال دی۔ جیسا کہ شہد کی مکھی کے بارے میں فرمایا ” وَ اَوْحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ “ (قرطبی و روح) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
ربط آیات
گزشتہ درس میں برادران یوسف کے منصوبے کا ذکر ہوا کہ وہ یوسف (علیہ السلام) کو اپنے راستے سے ہٹانا چاہتے تھے تاکہ باپ کی ساری توجہ ان کی طرف ہوجائے چناچہ انہوں نے باپ کو ہر طرح سے یقین دلانے کی کوشش کی کہ ہم یوسف (علیہ السلام) کے خیر خواہ ہیں ، آپ اسے ہمارے ساتھ جنگل میں جانے کی جا ازت دے دیں ، یہ وہاں پر کھاپی لے گا اور کھیل کود میں بھی حصہ لے لے گا۔ یعقوب (علیہ السلام) نے تشویش کا اظہار کیا کہ کہ کہیں ایسا نہ کہ تمہاری غفلت کی وجہ سے یوسف (علیہ السلام) کسی حادثے کا شکار ہوجائے ، مگر بھائیوں نے پھر یقین دلایا کہ ہم جیسے مضبوط اور طاقتور بھائیوں کی موجودگی میں ہمارے اس چھوٹے بھائی کو…
Read the full tafseer →فَلَمَّا ذَہَبُوْا بِہٖ وَاَجْمَعُوْٓا اَنْ يَّجْعَلُوْہُ فِيْ غَيٰبَتِ الْجُبِّ 0ۚ وَاَوْحَيْنَآ اِلَيْہِ لَتُنَبِّئَنَّہُمْ بِاَمْرِہِمْ ھٰذَا وَہُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ 15
لَمَّا
يستعمل علی وجهين :
أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر .
( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–22
1 ؎ یعنی جو حضرت یوسف ﷺ اور ان کے بھائیوں کے حالات سے سوال کرتے ہیں اس بیان میں ان کے لئے پوری نشانی نبوت حضرت ﷺ کے لئے ہے کس لئے کہ باوجود توریت پاس نہ ہونے اور نہ اس کے پڑھے لکھے ہونے کے اتنے بڑے قصے کو ان باریکیوں اور پہلوئوں کے ساتھ جو اس واقعہ کے ساتھ متعلق ہیں۔ اس طرح سے بیان کردینا کہ توریت کے سرمو بھی خلاف نہ ہوا البتہ ایک معجزہ ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →فَلَمَّا ذَھَبُوْا بِہٖ وَاَجْمَعُوْٓا اَنْ یَّجْعَلُوْہُ فِیْ غَیٰـبَتِ الْجُبِّ ج وَاَوْحَیْنَآ اِلَیْہِ لَتُنَبِّئَنَّھُمْ بِاَمْرِھِمْ ھٰذَا وَھُمْ لاَیَشْعُرُوْنَ ۔ (سورۃ یوسف : 15)
(پھر جب (بڑے اصرار سے) وہ یوسف ( علیہ السلام) کو لے گئے اور سب نے یہ طے کرلیا کہ اسے کسی گہرے کنویں کی تاریک تہہ میں ڈال دیں اور ( عین اس وقت) ہم نے یوسف ( علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ تم ان کو ان کی کارستانی سے آگاہ کرو گے جبکہ ان کو کچھ خیال بھی نہ ہوگا۔ )
کنویں میں حضرت یوسف (علیہ السلام) پر وحی
برادرانِ یوسف ( علیہ السلام) نے جب اپنے والد گرامی کو بہت اصرار سے آمادہ کرلیا تو پھر ان کی اجازت سے حضرت یوسف…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا مجبور ہو کر یوسف (علیہ السلام) کو ان کے بھائیوں کے سپرد کرنا۔ اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا انہیں ویران اور گمنام کنویں میں پھینکنا۔
برادران جب یوسف (علیہ السلام) کو ساتھ لے کر اپنے ہدف کے مقام پر پہنچے تو انہوں نے بالاتفاق یوسف (علیہ السلام) کو ایک ویران کنویں میں پھینک دیا۔ اس موقع پر بعض مفسرین نے غیر مستند تاریخی روایات کے حوالے سے لکھا ہے کہ جونہی یوسف (علیہ السلام) کے برادر اپنی بستی سے دور ہوئے تو انہوں نے یوسف کو مارنا پیٹنا شروع کیا۔ یوسف زار و قطار روتے ہوئے کبھی ایک اور کبھی دوسرے بھائی کے ساتھ چمٹ جاتے مگر…
Read the full tafseer →15: فَلَمَّا ذَھَبُوْا بِہٖ وَ اَجْمَعُوْا اَنْ یَّجْعَلُوْہُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ (پس جب وہ (یوسف) کو لے گئے اور انہوں نے اس کو کنوئیں کے گہرے گڑھے میں ڈالنے کا فیصلہ کرلیا) کنوئیں میں ڈالنے کا پختہ ارادہ کرلیا۔ یہ کنواں یعقوب (علیہ السلام) کے مکان سے تین فرسخ دور تھا۔ لماؔ کا جواب محذوف ہے تقدیرعبارت یہ ہے : فعلوہ بہ مافعلوا من الاذی۔ انہوں نے اس کو جو ایذاء دینی تھی وہ دی۔ روایت میں ہے کہ انہوں نے جنگل میں جاکرعداوت و دشمنی کا اظہار کیا ان کو مارا اور ہلاکت کے قریب کردیا۔ یہودا نے ان کو اس بات سے روکاجب انہوں نے ڈالنے کا ارادہ کیا تو یوسف ان کے کپڑوں سے چمٹ گئے انہوں نے ہاتھوں سے کپڑا…
Read the full tafseer →آزمائش یوسف
15۔” فلما ذھبوا بہ واجمعوا “ یعنی جب انہوں نے پختہ ارادہ کرلیا ۔ ان یجعلوہ ان کو ڈال دو ” فی غیابۃ الجب واوحینا الیہ لتنبئنھم بامر ھم ھذا وھم لا یشعرون “ ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو وحی کی کہ ہم آپ کے خواب کو سچ کردکھائیں گے اور آپ کے بھائیوں کو آپ ان کے فعل کی خبر دیں گے اور ان کو اللہ کی اس وحی کی خبر ہی نہ تھی۔ مجاہد (رح) نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ یہ کچھ عصہ کے بعد نہیں پہچانیں گے۔ جب ان کو خبر دی جائے گی کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ہیں یہ ایسا ہی ہوا کہ جب یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس داخل ہوئے تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کو پہچان لیا لیکن ان بھائیوں نے ان کو نہیں…
Read the full tafseer →15۔ اس آیت میں اللہ پاک نے اس بات کی خبر دی کہ آخر کار یوسف کے دسوں سوتیلے بھائی ضد کر کے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو باپ کے پاس سے لے کر چلے اور جب کچھ دور پہنچ گئے تو اپنی عداوت ان پر ظاہر کرنے لگے اور طرح طرح کی تکلیف اور ایذا یوسف (علیہ السلام) کو پہنچانے لگے۔ جب ایک بھائی ان کو مارتا تھا تو یہ دوسرے بھائی سے فریاد کرتے تھے وہ بھی مارنے لگتا تھا۔ راستہ بھر یہی حالت رہی آخر یہودا سے نہ رہا گیا اس نے کہا کہ آپس میں تو یہ بات طے ہوئی ہے کہ اس کو کنوئیں میں ڈالیں گے اب یہ کیا حرکت ہے جب یہودا نے یہ بات کہی تو یوسف کے بھائی اس ایذا رسانی سے باز آئے اور اسی پر متفق ہوئے کہ چل کر اس کو کنوئیں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
آیت 15 تا 18:
یعنی جب وہ باپ کی اجازت کے بعد یوسف (علیہ السلام) کو ساتھ لے گئے اور انہوں نے اپنے میں سے ایک کی رائے کے مطابق، جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے، یوسف (علیہ السلام) کو اندھے کنوئیں میں پھینکنے کا عزم کرلیا اور اب وہ اپنے فیصلے پر عمل کرنے کی قدرت رکھتے تھے چناچہ انہوں نے اپنے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے یوسف (علیہ السلام) کو اندھے کنوئیں میں پھینک دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جناب یوسف (علیہ السلام) کو جو کہ اس وقت سخت خوف کی حالت میں تھے اپنے لطف و کرم سے نوازتے ہوئے ان کی طرف وحی کی لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ ھٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ : کہ تو جتائے گا ان کو ان کا یہ کام اور وہ…
Read the full tafseer →قول باری ہے واوحینا الیہ لتنبھنھم بامرھم ھذا وھم لا یشعرون ہم نے یوسف کو وحی کی ، کہ ایک وقت آئے گا جب تو ان لوگوں کو ان کی یہ حرکت جتنانے گا ۔ یہ اپے فعل کے نتائج سے بیخبر ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جس وقت حضرت یوسف انہیں ان کی یہ حرکت جتائیں گے اس وقت انہیں احساس نہیں ہوگا کہ جتانے والے یوسف ہی ہیں ۔ حسن سے بھی یہی قول منقول ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں وحی بھیج کر نبوت عطا کردی تھی اور انہیں بتادیا تھا کہ وہ اپنے بھائیوں کو ان کی یہ حرکت جتائیں گے۔
Read the full tafseer →25 ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف وحی والہام کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخرکار جب وہ یوسف کو اپنے ساتھ لے گئے اور انہوں نے طے کرلیا کہ اس کو کسی اندھے کنویں میں ڈال دیں اور بالفعل انہوں نے اس کو اس میں ڈال بھی دیا تو ہم نے یوسف کی طرف وحی کی ان کی تسلی کے لیے کہ تم گھبراؤ نہیں تمہارے لیے ایک بڑا عمدہ وقت آنے والا ہے۔ یہ وحی جیسا کہ علمائے کرام نے فرمایا ہے نبوت و رسالت کی وحی نہ تھی کہ وہ تو بلوغت کے بعد اور رجولیت کاملہ ہی پر عطا فرمائی جاتی ہے۔ بلکہ یہ وحی القاء والہام کے قبیل سے تھی۔ اور یہ ہر کسی کو ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ کے بارے میں فرمایا گیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–21
بھائیوں کی زیادتی اور سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا مصر پہنچنا
تشریح : اس تمام قصہ کو پڑھنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان اکثر حسد کی وجہ سے بعض شرارت اور خباثت میں ایسے برے کام کرجاتا ہے کہ جو خود اس کے اپنے لیے دنیا و آخرت میں رسوائی کا باعث بن جاتے ہیں۔ دغا، فریب، جھوٹ اور ظلم یہ بہت بڑے گناہ ہیں جو انسان صرف اپنی دنیوی کامیابی کے لیے کرجاتا ہے۔ اور یہ بھول جاتا ہے کہ یہ سب کرنے سے کسی کا حقیقت میں نقصان کم ہی ہوتا ہے اصل میں اپنی عاقبت خراب کرلیتا ہے اور دنیا میں بھی کوئی عزت اور کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ اللہ تو ہر اس کام سے واقف ہے جو انسان دوسروں سے چھپا کر کرتا ہے۔ اور پھر اللہ سے بڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
آیات 7 تا 19
اسرار و معارف
حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا قصہ باعث نصیحت بھی ہے اور باعث عبرت بھی کہ اللہ اپنے مخلص بندوں کی کیسے کیسے حفاظت فرماتا ہے اور ان سے حسد کرنے والے کس طور ناکام ثابت ہوتے ہیں ۔ نیز اس کا ایک مربوط نظام ہے جسے نہ جاننے والے اتفاقات اور حادثات کا نام دیتے ہیں مگر دراصل ایسے تمام امورطے شدہ نظام کی کڑیوں کے طور پر کام کرتے ہیں اور اس طرح تفصیل سے واقعہ کی جزئیات بھی شامل کرکے درست بیان فرمانا آپ ﷺ کا بہت بڑا معجزہ اور وحی الٰہی کی دلیل بھی ہے کہ سوال کرنے والے یہوددی تو مدینہ منورہ سے سوال بھیج رہے تھے مکہ میں تو کوئی یہودی عالم بھی اتنے وسیع مطالعہ کا…
Read the full tafseer →ف 8 ۔ تمہیں پہنچان نہ رہے ہوں گے۔ دونوں حالتوں میں تفاوت کی وجہ سے یا زیادہ عرصہ گزرنے کی وجہ سے۔ واقعہ آگے آرہا ہے۔ (روح) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
(12:15) اجمعوا۔ وہ سب جمع ہوگئے۔ سب نے باتفاق فیصلہ کرلیا۔ سب نے پختہ ارادہ کرلیا۔
جواب لما محذوف ہے ۔ ای یجعلوہ فی غیبت الجب وفعلوا بہ ما فعلوا من الاذی۔
اوحینا الیہ۔ اور ہم نے اس پر وحی کی۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر کا مرجع حضرت یوسف ہیں ۔ یہ وحی اصطلاحی مراد نہیں بلکہ الہام کے معنی میں ہے جو غیر نبی کو یا نبی کو قبل از نبوت ہوتا رہتا ہے۔
لتنبئہم۔ تو ضرور ان کو جتائے گا۔ تو ضرور ان کو بتلائے گا۔ (باب تفعیل) مضارع بانون ثقیلہ واحد مذکر حاضر تنبئۃ اور تنبیٔ سے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب (برائے برادران یوسف) ۔
وہم لا یشعرون۔ درآں حالیکہ وہ جانتے بھی نہ ہوں گے کہ تو یوسف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–18
لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 18
مالک (تجھے کیا ہوگیا) لاتامنا (تو ہم پہ اطمینان نہیں کرتا ہے) نصحون (نصیحت کرنے والے۔ خیر خواہ) ارسل (بھیج دے) غداً (کل۔ آئندہ۔ صبح ) یرتع (کھاتا ہے یا کھائے گا ) یعلب (کھیلتا ہے یا کھیلے گا) لیحزننی (البتہ مجھے رنجیدہ کرتی ہے) ان یا کلہ ، (یہ کہ وہ کھائے) الذئب (بھیڑیا) ان یجعلوہ (یہ کہ وہ اس کو ڈال دیں) عشآء (رات کے وقت) یبکون (وہ روتے ہیں یا روئیں گے ) ذھبنا (ہم چلے گئے ) نستبق (ہم دوڑ کا مقابلہ کر رہے ہیں) ترکنا (ہم نے چھوڑ دیا) عند (نزدیک) متاعنا (ہمارا اپنا سامان) دم کذب (جھوٹا خون) سولت (بنا لی ہے۔ برابر کرتی ہے) صبر جمیل (اچھا صبر) المستعان (استعانۃ) مدد…
Read the full tafseer →اس آیت میں اللہ پاک نے اس بات کی خبر دی کہ آخر یوسف (علیہ السلام) کے دسوں بھائی ضد کر کے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو باپ کے پاس سے لے کر چلے، اور جب کچھ دور پہنچ گئے تو اپنی عداوت ظاہر کرنے لگے اور طرح طرح کی تکلیف و ایذا یوسف (علیہ السلام) کو پہنچانے لگے۔ جب ایک بھائی ان کو مارتا تھا تو یہ دوسرے بھائی سے فریاد کرتے تھے وہ بھی مارنے لگتا تھا۔ یہودا سے رہا نہ گیا اس نے کہا کیا تم نے عہد نہیں کیا ہے کہ اس کے قتل کا ہم قصد نہ کریں گے اس کو کنوئیں میں ڈالیں گے۔ آخر کار سب کا اتفاق ہوا اور کنوئیں کے پاس پہنچ کر یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ ان لوگوں نے اتار لیا اور مشکیں باندھیں۔ یوسف (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
[8] آیت میں خون آلودہ کرتے کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا کیونکہ اسی سے ان کا سارا جھوٹ کھل گیا تھا۔ اگر بھیڑئیے نے حملہ کیا تھا تو کرتا کیسے بچ رہا ؟ اس کے تو پرزے پرزے ہوجانے تھے۔ چناچہ یعقوب (علیہ السلام) کو کرتا دیکھتے ہی یقین ہوگیا کہ ساری کہانی من گھڑت ہے۔ علاوہ ازیں یعقوب (علیہ السلام) کو فراست نبوت سے یہ بات معلوم ہوگئی تھی کہ پچھلی بشارتیں یوسف (علیہ السلام) ہی کے ذریعے پوری ہونے والی ہیں اس لئے وہ کبھی باور نہیں کرسکتے تھے کہ اس طرح یوسف (علیہ السلام) کی زندگی کا خاتمہ ہوجائے گا۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب یعقوب (علیہ السلام) کو یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا بیان غلط ہونا معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
(ف 2) خدا کا قانون ہے کہ جب دنیا کی اعانت کے سلسلے منقطع ہوجائیں ، آپس کا رشتہ ٹوٹ جائے ، اور یاس کے بادل آمنڈ آئیں ، اس وقت وہ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا خون سفید ہوگیا ، ان کے دلوں میں شفقت واخوت کے سومے خشک ہوگئے ، اور وہ ظالمانہ سلوک پر مستعد ہوگئے ، تو اس وقت اللہ کی رحمت جوش میں آئی ، اس کا دریائے کرم موزن ہوا اور یوسف کو تاریک کنوئیں ، میں سل امتی و کامیابی کی خوشخبریاں سنائی دینے لگیں ، اللہ نے کہا ، فکر نہ کرو ، ایک وقت آئے گا ، کہ تم انہیں شرمندہ کرو گے ، اور انہیں معلوم نہیں ہوگا ، کہ تم یوسف ہو ،
حل لغات :
یرتع : آزادی سے کھانا پینا ۔
Read the full tafseer →15 بہرحال جب وہ یوسف (علیہ السلام) کو لے گئے اور ان سب نے اس بات کا پختہ عزم کرلیا کہ اس کو کسی تاریک گمنام کنویں میں ڈال دیں چناچہ انہوں نے جو طے کیا تھا وہ کر گزرے اور ہم نے اس وقت یوسف (علیہ السلام) پر وحی بھیجی کہ اے یوسف (علیہ السلام) تو ان بھائیوں کو ایک دن اس واقعہ سے آگاہ کرے گا اور ان کی یہ حالت ہوگی کہ وہ تجھ کو پہچانتے بھی نہ ہوں گے یعنی جب یعقوب (علیہ السلام) کے پاس سے لے گئے اور کنویں میں ڈالا اس وقت حضر ت یوسف (علیہ السلام) پانی سے بچ کر ایک پتھر پر جو کنویں میں ابھرا ہوا تھا اس پر بیٹھ گئے اس وقت حق تعالیٰ نے ان پر وحی بھیجی کہ تم مغموم نہ ہو ہم تم کو یہاں سے نکال کر ایک ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
ف 6۔ چناچہ یہ وعدہ واقع ہوا۔
Read the full tafseer →یوسف کنوئیں میں گرائے گئے لیکن انہوں نے بچپنے کے باوجود صبر کا دامن تھامے رکھا
۔ 16 ” واوحینا الیہ “ ہم نے اس کی طرف وحی کی۔ بلاشبہ یہ وحی وہ وحی نبوت نہ تھی لیکن اللہ تعالیٰ ہونے والے انبیاء و رسل کو بلکہ اپنے نیک بندوں کا انتخاب اس وقت کردیتا ہے جب ابھی ان کے پیدا ہونے کا نام و نشان بھی نہیں ہوتا۔ یوسف (علیہ السلام) اس وقت نبی نہ تھے۔ ان کو اپنی نبوت کا یقین ہوچکا تھا اور اس طرح وہ غیب کی طرف سے شہود کی طرف منتقل ہوچکے تھے اور اس بات کا اظہار خود یعقوب (علیہ السلام) اپنے بیٹے کے سامنے کرچکے تھے۔ کنوئیں میں گرائے گئے لیکن صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا بلکہ دل کو اللہ نے اپنے الہام سے مضبوط…
Read the full tafseer →From here, Al-Qurtubi concludes that the brothers had somehow
To this, all brothers agreed - as stated in the ninth of the present verses (15) cited above in the following words:
فَلَمَّا ذَهَبُوا بِهِ وَأَجْمَعُوا أَن يَجْعَلُوهُ فِي غَيَابَتِ الْجُبِّ ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمْرِهِمْ هَـٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
` So, when they went with him and were determined to put him in the bottom of a pit (which they did). And We revealed to him (Yusuf), You will (one day) tell them of this deed of theirs while they will not recognize (you).'
Here, the word: وَأَوْحَيْنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
12. The Arabic words“they do not perceive”may very appropriately mean three things. First, We were comforting Joseph, and his brothers were quite unaware of this that a revelation was being sent to him. Second, you will let them know of this evil act of theirs in such circumstances that they can never even imagine you to be there. Third, today they are committing an evil act, but they do not know its future consequences.
There is no mention of this in the Bible and the Talmud that Allah sent a revelation to comfort Prophet Joseph at that time of his affliction. On the contrary, the Talmud…
Read the full tafseer →