نکاح کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 11 · 172 hadiths · Page 3 of 9

1884Sunan Ibne-Majah

شغار کی ممانعت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شغار سے منع فرمایا۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade Shighar." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٧ (١٤١٦)، سنن النسائی/النکاح ٦١ (٣٣٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٧٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٨٦، ٤٣٩، ٤٩٦) (صحیح )
1885Sunan Ibne-Majah

شغار کی ممانعت

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام میں شغار نہیں ہے ۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: There is no Shighar in Islam." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٨، ومصباح الزجاجة: ٦٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٦٢) (صحیح )
1886Sunan Ibne-Majah

عورتوں کا مہر

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَمْ كَانَ صَدَاقُ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَتْ: كَانَ صَدَاقُهُ فِي أَزْوَاجِهِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً، وَنَشًّا هَلْ تَدْرِي مَا النَّشُّ؟ هُوَ نِصْفُ أُوقِيَّةٍ، وَذَلِكَ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ.

ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: نبی اکرم ﷺ کی بیویوں کا مہر کیا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ کی بیویوں کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا، تم جانتے ہو نش کیا ہے؟ یہ آدھا اوقیہ ہے، یہ کل پانچ سو درہم ہوئے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Salamah said: "I asked Aisha (RA) : How much was the dowry of the wives of the Prophet ﷺ ? She said: The dowry he gave to his wives was twelve Uqiyyah and a Nash (of Silver). Do you know what a Nash is? It is one half of an Uqiyyah. And that is equal to five hundred Dirham. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، ساڑھے بارہ اوقیہ کے کل پانچ سو درہم ہوئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ١٣ (١٤٢٦)، سنن ابی داود/النکاح ٢٩ (٢١٠٥)، سنن النسائی/النکاح ٦٦ (٣٣٤٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٩٤)، سنن الدارمی/النکاح ١٨ (٢٢٤٥) (صحیح )
1887Sunan Ibne-Majah

عورتوں کا مہر

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ . ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَايَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: لَا تُغَالُوا صَدَاقَ النِّسَاءِ، فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا، أَوْ تَقْوًى عِنْدَ اللَّهِ، كَانَ أَوْلَاكُمْ وَأَحَقَّكُمْ بِهَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَصْدَقَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ، وَلَا أُصْدِقَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِهِ أَكْثَرَ مِنِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُثَقِّلُ صَدَقَةَ امْرَأَتِهِ حَتَّى يَكُونَ لَهَا عَدَاوَةٌ فِي نَفْسِهِ، وَيَقُولُ: قَدْ كَلِفْتُ إِلَيْكِ عَلَقَ الْقِرْبَةِ، أَوْ عَرَقَ الْقِرْبَةِ، وَكُنْتُ رَجُلًا عَرَبِيًّا مَوْلِدًا، مَا أَدْرِي مَا عَلَقُ الْقِرْبَةِ، أَوْ عَرَقُ الْقِرْبَةِ.

ابوعجفاء سلمی کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے کہا: عورتوں کے مہر مہنگے نہ کرو، اس لیے کہ اگر یہ دنیا میں عزت کی بات ہوتی یا اللہ تعالیٰ کے یہاں تقویٰ کی چیز ہوتی تو اس کے زیادہ حقدار محمد ﷺ ہوتے، آپ ﷺ نے اپنی بیویوں اور بیٹیوں میں سے کسی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ مقرر نہیں فرمایا، اور مرد اپنی بیوی کے بھاری مہر سے بوجھل رہتا ہے یہاں تک کہ وہ مہر اس کے دل میں بیوی سے دشمنی کا سبب بن جاتا ہے، وہ کہتا ہے کہ میں نے تیرے لیے تکلیف اٹھائی یہاں تک کہ مشک کی رسی بھی اٹھائی، یا مجھے مشک کے پانی کی طرح پسینہ آیا۔ ابوعجفاء کہتے ہیں: میں پیدائش کے اعتبار سے عربی تھا ١ ؎، عمر ؓ نے جو لفظ علق القرب ۃ یا عرق القرب ۃ کہا: میں اسے نہیں سمجھ سکا۔

It was narrated that Abu Ajfa As-Sulami said: "Umar bin Kha ttab said: Do not go to extremes with regard to the dowries of women, for if that were a sign of honor and dignity in this world or a sign of Taqwa before Allah, then Muhammad ﷺ would have done that before you. But he did not give any of his wives and none of his daughters were given more than twelve Uqiyyah. A man may increase the dowry until he feels resentment against her and says: "You cost me everything I own," Of, "You ca used me a grea t deal of hardship." (Hasan) And I was a man born among the Arabs, but I do not know the meaning of Alaqul-Qirbah or AraquI-Qirbah.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اصلاً عرب کا رہنے والا نہ تھا بلکہ دوسرے ملک سے آ کر عرب میں پیدا ہوا تھا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٢٩ (٢١٠٦)، سنن الترمذی/النکاح ٢٣ (١١١٤)، سنن النسائی/النکاح ٦٦ (٣٣٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤١، ٤٨) (حسن صحیح )
1888Sunan Ibne-Majah

عورتوں کا مہر

حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ تَزَوَّجَ عَلَى نَعْلَيْنِ، فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِكَاحَهُ.

عامر بن ربیعہ ؓ سے روایت ہے کہ بنو فزارہ کے ایک شخص نے (مہر میں) دو جوتیوں کے بدلے شادی کی، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کا نکاح جائز رکھا۔

It was narrated from Abdullah bin Amir bin Rabi ah, from his father, that a man from among Banu Fazarah got married for a pair of sandals, and the Prophet ﷺ permitted his marriage. (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/النکاح ٢١ (١١١٣)، (تحفة الأشراف: ٥٠٣٦)، وقد أخرجہ: (٣/٤٤٥، ٤٤٦) (ضعیف) (سند میں عاصم بن عبید اللہ ضعیف ہیں )
1889Sunan Ibne-Majah

عورتوں کا مہر

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ يَتَزَوَّجُهَا، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْطِهَا وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، فَقَالَ: لَيْسَ مَعِي، قَالَ: قَدْ زَوَّجْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ.

سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی تو آپ نے فرمایا: اس سے کون نکاح کرے گا ؟ ایک شخص نے کہا: میں، تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا: اسے کچھ دو چاہے لوہے کی ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو ، وہ بولا: میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے اس کا نکاح تمہارے ساتھ اس قرآن کے بدلے کردیا جو تمہیں یاد ہے ١ ؎۔

It was narrated that Sahl bin Sad said: "A woman came to the Prophet ﷺ and he said: Who will marry her? A man said: I will. The Prophet ﷺ said: Give her something, even if it is an iron ring. He said: I do not have one. He said: I marry her to you for what you know of the Quran. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مہر میں مال کی کوئی تحدید نہیں، خواہ کم ہو یا زیادہ، اسی طرح محنت مزدوری یا تعلیم قرآن پر بھی نکاح درست ہے، جمہور علماء کی یہی رائے ہے، اور بعض نے دس درہم کی تحدید کی ہے، ان کے نزدیک اس سے کم میں مہر درست نہیں، لیکن ان کے دلائل اس قابل نہیں کہ ان صحیح احادیث کا معارضہ کرسکیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوکالة ٩ (٢٣١٠)، فضائل القرآن ٢١ (٥٠٢٩)، ٢٢ (٥٣٠)، النکاح ١٤ (٥٠٨٧)، ٣٢ (٥١٢١)، ٣٥ (٥١٢٦)، ٣٧ (٥١٣٢)، ٤٠ (٥١٣٥)، ٤٤ (٥١٤١)، ٥٠ (٥١٤٩)، ٥١ (٥١٥٠)، اللباس ٤٩ (٧١١٧)، (تحفة الأشراف: ٤٦٨٤)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح ١٣ (١٤٢٥)، سنن ابی داود/النکاح ٣١ (٢١١١)، سنن الترمذی/النکاح ٢٣ (١١١٤)، سنن النسائی/النکاح ١ (٣٢٠٢)، موطا امام مالک/النکاح ٣ (٨)، مسند احمد (٥/٣٣٦)، سنن الدارمی/النکاح ١٩ (٢٢٤٧) (صحیح )
1890Sunan Ibne-Majah

عورتوں کا مہر

حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، حَدَّثَنَا الْأَغَرُّ الرَّقَاشِيُّ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَزَوَّجَ عَائِشَةَ عَلَى مَتَاعِ بَيْتٍ قِيمَتُهُ خَمْسُونَ دِرْهَمًا.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عائشہ ؓ سے گھر میں موجود سامان پر نکاح کیا جس کی قیمت پچاس درہم تھی۔

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Prophet ﷺ married Aisha (RA) with household goods the value of which was fifty Dirham. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤١٩١، ومصباح الزجاجة: ٦٧٤) (ضعیف) (سند میں عطیہ العوفی ضعیف ہے )
1891Sunan Ibne-Majah

مرد نکاح کرے مہر مقرر نہ کرے اسی حال میں اسے موت جائے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْمَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَمَاتَ عَنْهَا، وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا، وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا؟، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَهَا الصَّدَاقُ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ بِمِثْلِ ذَلِكَ. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْعَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، مِثْلَهُ.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کسی عورت سے شادی کی، اور مہر کی تعین اور دخول سے پہلے ہی اس کا انتقال ہوگیا، تو انہوں نے کہا: اس عورت کو مہر ملے گا، اور میراث سے حصہ ملے گا، اور اس پہ عدت بھی لازم ہوگی، تو معقل بن سنان اشجعی ؓ نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا، جب آپ نے بروع بنت واشق ؓ کے سلسلہ میں ایسے ہی فیصلہ کیا ١ ؎۔

It was narrated from Masruq, that Abdullah was asked about a man who married a woman and died without having consummated the marriage with her, nor stipulating the dowry. ,Abdullah said: "The dowry is hers, and the inheritance is hers, and she has to observe the waiting period." Ma qil bin Sinan AI-Ashjai said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ pass a similar ruling concerning Birwa bint Washiq." (Sahih) Another chain from Alqamah, from Abdullah, with similar wording.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ روایت مختصر ہے، بعض حدیثوں میں یوں ہے کہ عبداللہ ؓ نے کہا: اس عورت کو مہر مثل ملے گا، یعنی اس کے کنبے کی عورتوں کا جو مہر ہوگا وہی اس کو دلایا جائے گا، نہ کم اور نہ زیادہ، پھر معقل ؓ نے گواہی دی تو عبداللہ بن مسعود ؓ نہایت خوش ہوئے کہ ان کا فیصلہ نبی اکرم ﷺ کے حکم کے مطابق ہوا، علامہ ابن القیم نے کہا کہ اس فتوے کے معارض کوئی فتوی نہیں تو اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اس سند سے بھی عبداللہ بن مسعود ؓ سے اسی کے مثل مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٣٢ (٢١١٤، ٢١١٥)، سنن الترمذی/النکاح ٤٣ (١١٤٥)، سنن النسائی/النکاح ٦٨ (٣٣٥٨)، الطلاق ٥٧ (٣٥٥٤)، (تحفة الأشراف: ١١٤٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٤٧، ٣/٤٨٠، ٤/٢٨٠)، سنن الدارمی/النکاح ٤٧ (٢٢٩٢) (صحیح )
1892Sunan Ibne-Majah

خطبہ نکاح

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: أُوتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَوَامِعَ الْخَيْرِ وَخَوَاتِمَهُ، أَوْ قَالَ: فَوَاتِحَ الْخَيْرِ، فَعَلَّمَنَا خُطْبَةَ الصَّلَاةِ، وَخُطْبَةَ الْحَاجَةِ، خُطْبَةُ الصَّلَاةِ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَخُطْبَةُ الْحَاجَةِ، أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ، وَنَسْتَعِينُهُ، وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ تَصِلُ خُطْبَتَكَ بِثَلَاثِ آيَاتٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 102، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا سورة النساء آية 1، اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلا سَدِيدًا 70 يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا 71 سورة الأحزاب آية 70-71.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو خیر کے جامع کلمات دیئے گئے تھے ١ ؎ خواہ وہ اخیر کے ہوں، یا کہا: شروع کے، آپ نے ہمیں صلاۃ کا خطبہ سکھایا اور حاجت کا خطبہ بھی، صلاۃ کا خطبہ یہ ہے: التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبرکاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله آداب بندگیاں، صلاتیں اور پاکیزہ خیراتیں، اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں اور حاجت کا خطبہ یہ ہے:إن الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله بیشک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی کی تعریفیں بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد طلب کرتے ہیں، اسی سے مغفرت چاہتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں، اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، اللہ جسے راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جیسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی ساجھی نہیں، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں اس کے بعد اپنے خطبہ کے ساتھ قرآن کی تین آیتیں پڑھو: يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور مسلمان ہی رہ کر مرو اخیر آیت تک واتقوا الله الذي تساءلون به والأرحام اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو، اور رشتے ناتے توڑنے سے بھی بچو، بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے اخیر آیت تک اتقوا الله وقولوا قولا سديدا يصلح لکم أعمالکم ويغفر لکم ذنوبکم اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور نپی تلی بات کہو اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوارے دے گا، اور تمہارے گناہ معاف کرے گا، اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی اخیر آیت تک ٢ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Masud said: "The Messenger of AlIah ﷺ was granted a combination of all manner of goodness, as well as its seal," or he said: "The opening (of the way to) all good. He taught us the Khutbah of prayer and Khutbah of need. "The Khutbah: of prayer is: At-tahiyyatu lillahi was-salawatu wat-tayyibat. As-salamu alaika ayyuhan-Nabiyyu wa rahmat-ullahi wa barakatuhu , As-salamu alaina wa ala ibadillahis-salihin. Ashhadu an la ilaha illallah, wa ashhadu anna Muhammadan abduhu wa rasuluh (All compliments, prayers and pure words are due to Allah. Peace be upon you, a Prophet, and the mercy of Allah and His blessings. Peace be upon us and upon the righteous slaves of Allah. I bear witness that none has the right to be worshiped but Allah and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger). Khuibah of need is: (praise is to Allah, we praise Him and we seek His help and His forgiveness. We seek refuge with Allah from the evil of our own souls and from our bad deeds. Whomsoever Allah guides, will never be led astray; and whomsoever is led astray, no one can guide. I bear witness that there is none worthy of worship but Allah, alone with no partner or associate, and ,I bear witness that Muhammad is His slave and His Messenger). Then add to your Khutbah the following three Verses: O you who believe! Fear Allah as He should be feared and die not except in the state of Islam (as Muslims) with complete submis.s,ion to Allah , And: O mankind! Be dutiful to your Lord, Who created you from a single person, and from him He created his wife, and from them both He created many men and women, and fear Allah through Whom you demand your mutual (rights), and (do not cut the relations of) the wombs (kinship) Surely Allah is Ever an AlI-Watcher, over you. , And O you who believe! Keep your duty to Allah and fear Him, and speak (always) the truth, He will direct you to do righteous good deeds and will forgive you your sins …` until the end of the Verse." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: جوامع الخیر یعنی آپ کی باتیں مختصر لیکن جامع اور مبنی برخیر ہوتی ہیں۔ ٢ ؎: سنن دارمی کی روایت میں ہے کہ اس خطبہ کے بعد پھر نکاح پڑھایا جائے یعنی ایجاب و قبول کرایا جائے، سنن ترمذی میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس خطبے میں تشہد نہیں وہ کوڑھ والے ہاتھ کی طرح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٣٣ (٢١١٨)، سنن الترمذی/النکاح ١٧ (١١٠٥)، سنن النسائی/الجمعة ٢٤ (١٤٠٥)، النکاح ٣٩ (٣٢٧٩)، (تحفة الأشراف: ٩٥٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٩٢، ٤٠٨، ٤١٣، ٤١٨، ٤٢٣، ٤٣٧)، سنن الدارمی/النکاح ٢٠ (٢٢٤٨) (صحیح )
1893Sunan Ibne-Majah

خطبہ نکاح

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ، عَنْسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَمَّا بَعْدُ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے (خطبہ میں) فرمایا: الحمد لله نحمده ونستعينه ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله . أما بعد بیشک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی کی تعریفیں بیان کرتے ہیں، ہم اسی سے مدد طلب کرتے ہیں، اسی سے مغفرت چاہتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں، اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، اللہ جسے راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جیسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی ساجھی نہیں، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ said: (Praise is to Allah, we praise Him and we seek His help. We seek refuge with Allah from the evil of our own souls and from our bad deeds, Whomsoever Allah guides will never be led astray; and whomsoever is led astray, no one can guide. I bear witness that none has the right to be worshiped but Allah, alone with no partner or associate, and that Muhammad is His slave and His Messenger. To proceed.)." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٣ (٨٦٨)، سنن النسائی/النکاح ٣٩ (٣٢٨٠)، (تحفة الأشراف: ٥٥٨٦) (صحیح )
1894Sunan Ibne-Majah

خطبہ نکاح

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ قُرَّةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ أَمْرٍ ذِي بَالٍ لَا يُبْدَأُ فِيهِ بِالْحَمْدِ أَقْطَعُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو بھی اہم کام اللہ کی حمد و ثنا سے نہ شروع کیا جائے، وہ برکت سے خالی ہوتا ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Every important matter that does not start with praise of Allah, is devoid (of blessings)." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ٢١ (٤٨٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٥٩) (ضعیف) (متصل مرفوع حدیث ضعیف ہے، قرة کی وجہ سے مرسل صحیح ہے )
1895Sunan Ibne-Majah

نکاح کی تشہیر

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَالْخَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَا: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ إِلْيَاسَ، عَنْرَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ، وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالْغِرْبَالِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس نکاح کا اعلان کرو اور اس پر دف بجاؤ۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet ﷺ said: `Announce this marriage, and beat the sieve for it: (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٤٥٣، ومصباح الزجاجة: ٦٧٥) (ضعیف) (اس کی سند میں خالد بن الیاس ضعیف و متروک الحدیث ہے، لیکن أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ کا جملہ حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٩٩٣ ، سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٩٨٢ )
1896Sunan Ibne-Majah

نکاح کی تشہیر

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَصْلُ مَا بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ الدُّفُّ، وَالصَّوْتُ فِي النِّكَاحِ.

محمد بن حاطب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حلال اور حرام میں فرق یہ ہے کہ نکاح میں دف بجایا جائے، اور اس کا اعلان کیا جائے ١ ؎۔

It was narrated from Muhammad bin Hatib that the Messenger of Allah ﷺ . ﷺ , Said.: "What differentiates between the lawful and the unlawful is (beating) the Daft and raising the voices (in song) at the time of marriage." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: تاکہ سب لوگوں کو خبر ہوجائے کہ یہاں نکاح ہوا ہے، اب علماء کا اختلاف ہے کہ سوائے دف کے اور باجے بھی درست ہیں یا نہیں؟ جیسے طبلے سارنگی وغیرہ بعضوں نے دف کے سوا دوسرے سارے باجوں کو ناجائز رکھا ہے اور بعضوں نے شادی اور عید میں جائز رکھا ہے، اور وقتوں میں جائز نہیں رکھا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/النکاح ٦ (١٠٨٨)، سنن النسائی/النکاح ٧٢ (٣٣٧١)، (تحفة الأشراف: ١١٢٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤١٨، ٤/٢٥٩) (حسن )
1897Sunan Ibne-Majah

شادی کے گیت گانا اور دف بجانا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْحُسَيْنِ اسْمُهُ خَالِدٌ الْمَدَنِيُّ، قَالَ: كُنَّا بِالْمَدِينَةِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَالْجَوَارِي يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ، وَيَتَغَنَّيْنَ فَدَخَلْنَا عَلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ عُرْسِي، وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تَتَغَنَّيَانِ، وَتَنْدُبَانِ آبَائِي الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ، وَتَقُولَانِ فِيمَا تَقُولَانِ: وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ، فَقَالَ: أَمَّا هَذَا فَلَا تَقُولُوهُ مَا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلَّا اللَّهُ.

ابوالحسین خالد مدنی کہتے ہیں کہ ہم عاشورہ کے دن مدینہ میں تھے، لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور گا رہی تھیں، پھر ہم ربیع بنت معوذ ؓ کے پاس گئے، ان سے یہ بیان کیا تو انہوں نے کہا: نبی اکرم ﷺ میری شادی کے دن صبح میں آئے، اس وقت میرے پاس دو لڑکیاں گا رہی تھیں، اور بدر کے دن شہید ہونے والے اپنے آباء و اجداد کا ذکر کر رہی تھیں، گانے میں جو باتیں وہ کہہ رہی تھیں ان میں یہ بات بھی تھی: وفينا نبي يعلم ما في غد ہم میں مستقبل کی خبر رکھنے والے نبی ہے آپ ﷺ نے فرمایا: ایسا مت کہو، اس لیے کہ کل کی بات اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ۔

It was narrated that Abu Husain, whose name was Khalid Al- Madani, said: "We were in Al-Madinah on the Day of Ashura and the girls were beating the Daff and singing. We entered upon Rubai bint Muawwidh and mentioned that to her. She said The Messenger of Allah ﷺ entered upon me on the morning of my wedding, and there were two girls with me who were singing and mentioning the qualities of my forefathers who were killed on the Day of Badr. One of the things they were saying was: "Among us there is a Prophet ﷺ who knows what will happen tomorrow." He ﷺ said: Do not say this, for no one knows what will happen tomorrow except Allah." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ١٢ (٤٠٠١)، النکاح ٤٨ (٥١٤٧)، سنن ابی داود/الأدب ٥١ (٤٩٢٢)، سنن الترمذی/النکاح ٦ (١٠٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٥٩، ٣٦٠) (صحیح )
1898Sunan Ibne-Majah

شادی کے گیت گانا اور دف بجانا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو بَكْرٍ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ مِنْ جَوَارِي الْأَنْصَارِ تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتْ بِهِ الْأَنْصَارُ فِي يَوْمِ بُعَاثٍ، قَالَتْ: وَلَيْسَتَا بِمُغَنِّيَتَيْنِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبِمَزْمُورِ الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَلِكَ فِي يَوْمِ عِيدِ الْفِطْرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَهَذَا عِيدُنَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ابوبکر ؓ میرے پاس آئے، اس وقت میرے پاس انصار کی دو لڑکیاں ایسے اشعار گا رہی تھیں جو انصار نے جنگ بعاث کے دن کہے تھے، اور وہ لڑکیاں پیشہ ور گانے والیاں نہ تھیں، تو ابوبکر ؓ نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ کے گھر میں شیطان کا باجا ہو رہا ہے، اور یہ عید الفطر کا دن تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ابوبکر! ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے، اور یہ ہماری عید ہے ۔

It was narrated that Aisha (RA) said: " Abu Bakr (RA) entered upon me, and there were two girls from the Ansar with me, singing about what the Ansar used to sing about the Day of Buath She said: "And they were not really singers. Abu Bakr (RA) said: The wind instruments of Satan in the house of the Prophet ﷺ ? That was on the day of Eid (AI-Fitr). But the Prophet ﷺ said: O Abu Bakr, every people has its festival and this is our festival:" (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العیدین ٢ (٩٤٩)، ٣ (٩٥٢)، ٢٥ (٩٨٧)، الجہاد ٨١ (٢٩٠٧)، المناقب ١٥ (٣٥٢٠)، مناقب الأنصار ٤٦ (٣٩٣١)، صحیح مسلم/العیدین ٤ (٨٩٢)، (تحفة الأشراف: ١٦٨٠١)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/العیدین ٣٢ (١٥٩٤)، ٣٦ (١٥٩٨)، مسند احمد (٦/٣٣، ٨٤، ٩٩، ١٢٧) (صحیح )
1899Sunan Ibne-Majah

شادی کے گیت گانا اور دف بجانا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَرَّ بِبَعْضِ الْمَدِينَةِ، فَإِذَا هُوَ بِجَوَارٍ يَضْرِبْنَ بِدُفِّهِنَّ وَيَتَغَنَّيْنَ وَيَقُلْنَ: نَحْنُ جَوَارٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ يَا حَبَّذَا مُحَمَّدٌ مِنْ جَارِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَعْلَمُ اللَّهُ إِنِّي لَأُحِبُّكُنَّ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ مدینہ کے ایک راستہ سے گزرے تو دیکھا کہ کچھ لڑکیاں دف بجاتے ہوئے گا رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں: نحن جوار من بني النجار يا حبذا محمد من جار ہم بنی نجار کی لڑکیاں ہیں کیا ہی عمدہ پڑوسی ہیں محمد ﷺ یہ سن کر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں تم سے محبت رکھتا ہوں ۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Prophet ﷺ passed by some part of AIMadinah and saw some girls beating their Daff and singing, saying: "We are girls from Banu Najjar What an excellent neighbor is Muhammad." The Prophet ﷺ said: " Allah knows that you are dear to me." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥١١، ومصباح الزجاجة: ٦٧٦) (صحیح )
1900Sunan Ibne-Majah

شادی کے گیت گانا اور دف بجانا

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَنَا الْأَجْلَحُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَنْكَحَتْ عَائِشَةُ ذَاتَ قَرَابَةٍ لَهَا مِنْ الْأَنْصَارِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَهْدَيْتُمُ الْفَتَاةَ، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أَرْسَلْتُمْ مَعَهَا مَنْ يُغَنِّي، قَالَتْ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْأَنْصَارَ قَوْمٌ فِيهِمْ غَزَلٌ، فَلَوْ بَعَثْتُمْ مَعَهَا مَنْ يَقُولُ أَتَيْنَاكُمْ، أَتَيْنَاكُمْ، فَحَيَّانَا، وَحَيَّاكُمْ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے انصار میں سے اپنی ایک قرابت دار خاتون کی شادی کرائی، تو رسول اللہ ﷺ وہاں تشریف لائے، اور فرمایا: تم لوگوں نے دلہن کو رخصت کردیا ؟ لوگوں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: اس کے ساتھ کوئی گانے والی بھی بھیجی ؟ عائشہ ؓ نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انصار کے لوگ غزل پسند کرتے ہیں، کاش تم لوگ دلہن کے ساتھ کسی کو بھیجتے جو یہ گاتا: أتيناکم أتيناکم فحيانا وحياكم ہم تمہارے پاس آئے، ہم تمہارے پاس آئے، اللہ تمہیں اور ہمیں سلامت رکھے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: Aisha (RA) arranged a marriage for a female relative of hers among the Ansar, and the Messenger of Allah ﷺ , came and said: Have you taken the girl (to her husbands house)?" They said: "Yes." He said: "Have you sent someone with her to sing?" She said: "No." The Messenger of Allah ﷺ , said: "The Ansar are people with romantic feelings. Why dont you send someone with her to say: We have come to you, we have come to you, may Allah bless you and us?" (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: دوسری روایت میں ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ مکہ سے چل کر مدینہ پہنچے تو انصار کی لڑکیاں راستوں پر گاتی بجاتی نکلیں، اور آپ ﷺ کی آمد پر کی خوشی میں کہا: طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا مٍنْ ثَنِيَّاتِ الْوَدَاعِ وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَا مَا دَعَا للهِ دَاع آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تم سے محبت رکھتا ہے اصل یہ ہے کہ الأعمال بالنیات، ان لڑکیوں کو گانے سے اور کوئی غرض نہ تھی سوا اس کے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کی آمد کی خوشی میں ایسا کرتی تھیں، اور یہ لڑکیاں پیشہ ور گانے والیاں نہ تھیں بلکہ کمسن اور نابالغ تھیں، اور آپ ﷺ کے تشریف لانے کی خوشی میں معمولی طور سے گانے بجانے لگیں، یہ مباح ہے اس کی اباحت میں کچھ شک نہیں۔ ابن القیم زاد المعاد میں لکھتے ہیں کہ لڑکیوں کے استقبال کا یہ واقع غزوہ تبوک سے واپسی کا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٤٥٣، ومصباح الزجاجة: ٦٧٧) (حسن) (غزل کا جملہ منکر ہے، تراجع الألبانی: رقم: ٤٦٥ )
1901Sunan Ibne-Majah

شادی کے گیت گانا اور دف بجانا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ التَّمِيمِيِّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَابْنِ عُمَرَ، فَسَمِعَ صَوْتَ طَبْلٍ فَأَدْخَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، ثُمَّ تَنَحَّى حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

مجاہد کہتے ہیں کہ میں ابن عمر ؓ کے ساتھ تھا انہوں نے طبلہ کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈال لیں، اور وہاں سے ہٹ گئے یہاں تک کہ ایسا تین مرتبہ کیا، پھر کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی کیا ہے۔

It was narrated that Mujahid said: "I was with Ibn Umar, and he heard the sound of a drum, so he put his fingers in is ears and turned away. He did that three times, then he said: This is what I saw the Messenger of Allah ﷺ do:" (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٤٠٧، ومصباح الزجاجة: ٦٧٨) (صحیح) (یہ زمارة راع کے لفظ سے صحیح ہے، اور اس میں طبل کا ذکر منکر ہے )
1902Sunan Ibne-Majah

ہیجڑوں کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَمِعَ مُخَنَّثًا وَهُوَ يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ: إِنْ يَفْتَحْ اللَّهُ الطَّائِفَ غَدًا، دَلَلْتُكَ عَلَى امْرَأَةٍ تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ، وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَخْرِجُوهُ مِنْ بُيُوتِكُمْ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس آئے، وہاں ایک ہیجڑے کو سنا جو عبداللہ بن ابی امیہ سے کہہ رہا تھا: اگر اللہ کل طائف کو فتح کر دے گا تو میں تم کو ایک عورت بتاؤں گا جو سامنے آتی ہے چار سلوٹوں کے ساتھ اور پیچھے مڑتی ہے آٹھ سلوٹوں کے ساتھ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے اپنے گھروں سے باہر نکال دو ۔

It was narrated from Umm Salamah that the Prophet ﷺ entered upon her, and he heard an effeminate man say to Abdullah bin Abu Umayyah: "If Allah enables you to conquer Taif tomorrow, I will show you a woman who comes in on four (rolls of fat) and goes out on eight." The Messenger of Allah ﷺ said: "Throw them out of your houses." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٥٦ (٤٣٢٤)، اللباس ٦٢ (٥٨٨٧)، النکاح ١١٣ (٥٢٣٥)، صحیح مسلم/السلام ١٣ (٢١٨٠)، سنن ابی داود/الأدب ٦١ (٤٩٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٩٠، ٣١٨) (صحیح )
1903Sunan Ibne-Majah

ہیجڑوں کا بیان

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَنَ الْمَرْأَةَ تَتَشَبَّهُ بِالرِّجَالِ، وَالرَّجُلَ يَتَشَبَّهُ بِالنِّسَاءِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس عورت پر لعنت کی جو مردوں کی مشابہت اختیار کرے، اور اس مرد پر لعنت کی جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرے۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ cursed women who imitate men and men who imitate women. (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٦٩٤، ومصباح الزجاجة: ٦٧٩) (حسن صحیح )