نکاح کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 11 · 172 hadiths · Page 4 of 9

1904Sunan Ibne-Majah

ہیجڑوں کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَنَ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَلَعَنَ الْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں پر لعنت کی، اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت کی۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ cursed men who imitate women and women who imitate men. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٦١ (٥٨٨٥)، سنن ابی داود/اللباس ٣١ (٤٠٩٧)، سنن الترمذی/الأدب ٣٤ (٢٧٨٤)، (تحفة الأشراف: ٦١٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٥١، ٢٥٤، ٣٠٠، ٣٣٩)، سنن الدارمی/الإستئذان ٢١ (٢٦٩١) (صحیح )
1905Sunan Ibne-Majah

نکاح پر مبارک باد دینا

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا رَفَّأَ، قَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ، وَبَارَكَ عَلَيْكُمْ، وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرٍ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب شادی کی مبارکباد دیتے تو فرماتے: بارک الله لکم و بارک عليكم وجمع بينكما في خير اللہ تم کو برکت دے، اور اس برکت کو قائم و دائم رکھے، اور تم دونوں میں خیر پر اتفاق رکھے۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ used to say,. when offering congratulations on the occasion of marriage: "Barak Allahu lakum, wa barak alaikum , Wa jama` a bainakuma fi khair (May Allah bless you and bestow blessings upon you, and bring you together in harmony)." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٣٧ (٢١٣٠)، سنن الترمذی/النکاح ٧ (١٠٩١)، (تحفة الأشراف: ١٢٦٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/ ٣٨١)، سنن الدارمی/النکاح ٦ (٢٢١٩) (صحیح )
1906Sunan Ibne-Majah

نکاح پر مبارک باد دینا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جُشَمَ، فَقَالُوا: بِالرَّفَاءِ وَالْبَنِينَ، فَقَالَ: لَا تَقُولُوا هَكَذَا، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ، وَبَارِكْ عَلَيْهِمْ.

عقیل بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے قبیلہ بنی جشم کی ایک عورت سے شادی کی، تو لوگوں نے (جاہلیت کے دستور کے مطابق) یوں کہا:بالرفاء والبنين میاں بیوی میں اتفاق رہے اور لڑکے پیدا ہوں تو آپ نے کہا: اس طرح مت کہو، بلکہ وہ کہو، جو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:اللهم بارک لهم و بارک عليهم اے اللہ! ان کو برکت دے اور اس برکت کو قائم و دائم رکھ ۔

It was narrated from Aqil bin Abu Talib that he married a woman from Banu jusham, and they said: "May you live in harmony and have many sons." He said: "Do not say that, rather say what the Messenger of Allah ﷺ said: Allahumma barik lahum wa barik alaihim (O Allah, bless them and bestow blessings upon them.)," (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٠١٤)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/النکاح ٧٣ (٣٣٧٣)، مسند احمد (١/٢٠١، ٣/ ٤٥١) (صحیح )
1907Sunan Ibne-Majah

ولیمہ کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِ?ُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ، فَقَالَ: مَا هَذَا، أَوْ مَهْ؟، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عبدالرحمٰن بن عوف ؓ (کے جسم) پر پیلے رنگ کے اثرات دیکھے، تو پوچھا: یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت سے گٹھلی کے برابر سونے کے عوض شادی کرلی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا:بارک الله لك أولم ولو بشاة اللہ تمہیں برکت دے ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو ١ ؎۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the prophet ﷺ l saw traces of vellow perfume on Abdur-Rahman bin "Awf and he asked him: "What is this?" He said: "O Messenger of Allah, I married a woman for the weight of a Nawah (Stone) of gold. He said: "May Allah bless you. Give a feast even if it is only WIth one sheep." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: واضح رہے کہ یہ بات نبی اکرم ﷺ نے عبدالرحمن بن عوف ؓ کی مالی حیثیت کو دیکھ کر کہی تھی کہ ولیمہ میں کم سے کم ایک بکری ضرور ہو اس سے اس بات پر استدلال صحیح نہیں کہ ولیمہ میں گوشت ضروری ہے کیونکہ آپ ﷺ نے صفیہ ؓ کے ولیمہ میں ستو اور کھجور ہی پر اکتفا کیا تھا، ولیمہ اس کھانے کو کہتے ہیں جو شوہر کی طرف سے شب زفاف کے بعد ہوتا ہے اور یہ کھانا مسنون ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ١ (٢٠٤٩)، مناقب الأنصار ٣ (٣٧٨١)، ٥٠ (٣٩٣٧)، النکاح ٧ (٥٠٧٢)، ٤٩ (٥١٣٨)، ٥٤ (٥١٥٣)، ٥٦ (٥١٥٥)، ٦٨ (٥١٦٧)، الأدب ٦٧ (٦٠٨٢)، الدعوات ٥٣ (٦٣٨٣)، صحیح مسلم/النکاح ١٣ (١٤٢٧)، سنن الترمذی/النکاح ١٠ (١٠٩٤)، سنن النسائی/النکاح ٧٥ (٣٣٧٥)، (تحفة الأشراف: ٢٨٨)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/النکاح ٣٠ (٢١٠٩)، موطا امام مالک/النکاح ٢١ (٤٧)، مسند احمد (٣/١٦٥، ١٩٠، ٢٠٥)، سنن الدارمی/الأطعمة ٢٨ (٢١٠٨)، النکاح ٢٢ (٢٢٥٠) (صحیح )
1908Sunan Ibne-Majah

ولیمہ کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ، فَإِنَّهُ ذَبَحَ شَاةً.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو اپنی ازواج مطہرات ؓن میں سے کسی کا اتنا بڑا ولیمہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا جتنا بڑا آپ نے اپنی بیوی زینب ؓ کا کیا، آپ ﷺ نے ان کے ولیمہ میں ایک بکری ذبح کی۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "I never saw the Messenger of Allah ﷺ give a wedding feast for any of his wives like the feast he gave for Zainab, for which he slaughtered a sheep." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٦٨ (٥١٦٨)، صحیح مسلم/النکاح ١٣ (١٤٢٨)، سنن ابی داود/الأطعمة ٢ (٣٧٤٣)، (تحفة الأشراف: ٢٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٢٧) (صحیح )
1909Sunan Ibne-Majah

ولیمہ کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، وَغِيَاثُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّحَبِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا وَائِلُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْلَمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِسَوِيقٍ وَتَمْرٍ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ام المؤمنین صفیہ ؓ کا ولیمہ ستو اور کھجور سے کیا۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Prophet ﷺ offered Sawiq and dates as a wedding feast for Safiyyah. (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأطعمة ٢ (٣٧٤٤)، سنن الترمذی/النکاح ١٠ (١٠٩٥)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح ١٤ (١٣٦٥)، الجہاد ٤٣ (١٣٦٥)، سنن النسائی/النکاح ٧٩ (٣٣٨٤) (صحیح )
1910Sunan Ibne-Majah

ولیمہ کا بیان

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: شَهِدْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَةً مَا فِيهَا لَحْمٌ، وَلَا خُبْزٌ، قَالَ ابْن مَاجَةَ: لَمْ يُحَدِّثْ بِهِ إِلَّا ابْنُ عُيَيْنَةَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ایک ولیمہ میں شریک ہوا، اس میں نہ گوشت تھا نہ روٹی تھی۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صرف سفیان بن عیینہ ہی نے علی بن زید بن جدعان سے روایت کی ہے۔

It was narrated from Sufyân (Ibn ‘Uyainah) from ‘All bin Zaid bin Ju’dân from Anas bin Mâlik who said: “I attended a wedding feast for the Prophet ﷺ , in which there was no meat and no bread.” (Da’if) Ibn Mãjah said: It was not narrated except by Ibn ‘Uyainah.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٠٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/النکاح ٦١ (٥١٥٩)، صحیح مسلم/النکاح ١٤ (١٣٦٥)، مسند احمد (٣/٩٩) (صحیح) (اس کی سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں، لیکن اصل حدیث صحیح ہے، کمافی التخریج )
1911Sunan Ibne-Majah

ولیمہ کا بیان

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، قالتا: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ نُجَهِّزَ فَاطِمَةَ حَتَّى نُدْخِلَهَا عَلَى عَلِيٍّ، فَعَمَدْنَا إِلَى الْبَيْتِ، فَفَرَشْنَاهُ تُرَابًا لَيِّنًا مِنْ أَعْرَاضِ الْبَطْحَاءِ، ثُمَّ حَشَوْنَا مِرْفَقَتَيْنِ لِيفًا، فَنَفَشْنَاهُ بِأَيْدِينَا، ثُمَّ أَطْعَمْنَا تَمْرًا وَزَبِيبًا وَسَقَيْنَا مَاءً عَذْبًا، وَعَمَدْنَا إِلَى عُودٍ، فَعَرَضْنَاهُ فِي جَانِبِ الْبَيْتِ لِيُلْقَى عَلَيْهِ الثَّوْبُ، وَيُعَلَّقَ عَلَيْهِ السِّقَاءُ، فَمَا رَأَيْنَا عُرْسًا أَحْسَنَ مِنْ عُرْسِ فَاطِمَةَ.

ام المؤمنین عائشہ اور ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم فاطمہ ؓ کو تیار کریں اور علی ؓ کے پاس بھیجیں، چناچہ ہم گھر میں گئے، اور میدان بطحاء کے کناروں سے نرم مٹی لے کر اس گھر میں بطور فرش ہم نے بچھا دی، پھر دو تکیوں میں کھجور کی چھال بھری، اور ہم نے اسے اپنے ہاتھوں سے دھنا، پھر ہم نے لوگوں کو کھجور اور انگور کھلایا، اور میٹھا پانی پلایا، اور ہم نے ایک لکڑی گھر کے ایک گوشہ میں لگا دی تاکہ اس پر کپڑا ڈالا جاسکے، اور مشکیزے لٹکائے جاسکیں چناچہ ہم نے فاطمہ ؓ کی شادی سے بہتر کوئی شادی نہیں دیکھی۔

It was narrated that Aisha (RA) and Umm Salamah said: "The Messenger of Allah ﷺ commanded u s to prepare Fatimah (for her wedding) and take her in to Ali. We went to the house and sprinkled it with soft earth from the land of Bathe. Then we stuffed two pillows with (date - palm) fiber which we picked with our own hands. Then we offered dates and raisins to eat, and sweet water to drink. We went and got some wood and set it up at the side of the room, to hang clothes and water skins on. And we never saw any wedding better than the wedding of Fatimah." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٦٣١، ١٨٢١٢، ومصباح الزجاجة: ٦٨٠) (ضعیف) (سند میں مفضل بن عبد اللہ اور جابر جعفی ضعیف راوی ہیں )
1912Sunan Ibne-Majah

ولیمہ کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: دَعَا أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُرْسِهِ، فَكَانَتْ خَادِمَهُمُ الْعَرُوسُ، قَالَتْ: تَدْرِي مَا سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَتْ: أَنْقَعْتُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ صَفَّيْتُهُنَّ فَأَسْقَيْتُهُنَّ إِيَّاهُ.

سہل بن سعد ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ ابواسید ساعدی ؓ نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی شادی میں بلایا، تو سب لوگوں کی خدمت دلہن ہی نے کی، وہ دلہن کہتی ہیں: جانتے ہو میں نے رسول اللہ ﷺ کو کیا پلایا؟ میں نے چند کھجوریں رات کو بھگو دی تھیں، صبح کو میں نے ان کو صاف کیا، اور آپ ﷺ کو ان کا شربت پلایا۔

It was narrated that Sah! bin Sad As-Saidi said: "Abu Usaid As-Saj di invited the Messenger of Allah ﷺ to his wedding, and the bride herself served them. She said: Do you know what I gave the Messenger of Allah ﷺ to drink? I had soaked some dates the night before, then in the morning I strained them and gave him that water to drink. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٧١ (٥١٧٦، ٥١٧٧)، صحیح مسلم/الاشربة ٢٧ (٢٠٠٦)، (تحفة الأشراف: ٤٧٠٩) (صحیح )
1913Sunan Ibne-Majah

دعوت قبول کرنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى لَهَا الْأَغْنِيَاءُ، وَيُتْرَكُ الْفُقَرَاءُ، وَمَنْ لَمْ يُجِبْ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ سب سے برا کھانا اس ولیمہ کا کھانا ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے، اور جس نے دعوت قبول نہ کی اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The worst of food is food of a wedding feast to which the rich are invited and the poor are not. Whoever does not accept an invitation has disobeyed Allah and His Messenger." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: ولیمہ کا کھانا سنت ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ولیمہ کیا ہے، مگر اس ولیمہ کو برا کہا جس میں مالداروں کی ہی دعوت ہوتی ہے، اور محتاجوں کو کوئی نہیں پوچھتا، معلوم ہوا کہ عمدہ کھانا وہ ہے جس میں غریب و محتاج بھی شریک ہوں، سب سے عمدہ بات یہ ہے کہ محتاجوں اور فقیروں کو دعوت میں زیادہ بلایا جائے، اگر کچھ دوست و احباب اور متعارفین مالدار بھی ہوں تو مضائقہ نہیں، پھر جب یہ فقیر و محتاج آئیں تو ان کو بڑی خاطر داری کے ساتھ عمدہ عمدہ کھانے کھلائے اور اگر ممکن ہو تو خود بھی ان کے ساتھ شریک ہو کر کھائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٧٣ (٥١٧٧، ٥١٧٨) موقوفًا، صحیح مسلم/النکاح ١٦ (١٤٣٢) مرفوعاً، سنن ابی داود/الأطعمة ١ (٣٧٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٣٩٥٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح ٢١ (٥٠)، مسند احمد (٢/٢٤٠)، سنن الدارمی/الأطعمة ٢٨ (٢١١٠) (صحیح )
1914Sunan Ibne-Majah

دعوت قبول کرنا

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى وَلِيمَةِ عُرْسٍ، فَلْيُجِبْ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو ولیمے کی دعوت دی جائے تو اسے قبول کرے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "If anyone of you is invited to a wedding feast, let him accept." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: بعضوں نے کہا: اس حدیث کی رو سے ولیمہ کی دعوت قبول کرنا واجب ہے، اور بعضوں نے کہا فرض کفایہ ہے، اور بعضوں نے کہا مستحب ہے، یہ جب ہے کہ دعوت متعین طور پر ہو، اگر دعوت عام ہو تو قبول کرنا واجب نہ ہوگا اس لئے کہ اس کے نہ جانے سے میزبان کی دل شکنی نہ ہوگی، اور دعوت قبول کرنا عذر کی وجہ سے ساقط ہوجاتا ہے، مثلاً دعوت کا کھانا مشتبہ ہو، یا وہاں صرف مالدار حاضر ہوتے ہوں، یا صاحب دعوت صحبت اور دوستی کے لائق نہ ہوں، یا دعوت سے مقصود حب جاہ اور کبر و غرور ہو، یا وہاں خلاف شرع کام ہوں جیسے فواحش کا ارتکاب، بےپردگی اور بےحیائی اور ناچ گانا وغیرہ منکر امور۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ١٦ (١٤٢٩)، النکاح ٢٣ (٢٢٥١)، (تحفة الأشراف: ٧٩٤٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/النکاح ٧١ (٥١٧٣)، سنن ابی داود/الأطعمة ١ (٣٧٣٦)، موطا امام مالک/النکاح ٢١ (٤٩)، مسند احمد (٢/٢٠)، سنن الدارمی/الأطعمة ٤٠ (٢١٢٧) (صحیح )
1915Sunan Ibne-Majah

دعوت قبول کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حُسَيْنٍ أَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ، عَنْمَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوَلِيمَةُ أَوَّلَ يَوْمٍ حَقٌّ، وَالثَّانِيَ مَعْرُوفٌ، وَالثَّالِثَ رِيَاءٌ وَسُمْعَةٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ولیمہ پہلے دن حق ہے، دوسرے دن عرف اور دستور کے موافق، اور تیسرے دن ریاکاری اور شہرت ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: The wedding feast on the first day is an obligation, on the second day is a custom and on the third day is showing off." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٤٣٣، ومصباح الزجاجة: ٦٨١) (ضعیف) (ابو مالک نخعی ضعیف ہے )
1916Sunan Ibne-Majah

کنواری اور ثیبہ کے پاس ٹھہرنا

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِلثَّيِّبِ ثَلَاثًا، وَلِلْبِكْرِ سَبْعًا.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: غیر کنواری (شوہر دیدہ) کے لیے تین دن، اور کنواری کے لیے سات دن ہیں، (پھر باری تقسیم کردیں) ١ ؎۔

It was narrated from Anas that the Messenger of Allah ﷺ said: "Three days for a previously-married woman and seven days for a virgin." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: باب کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک شخص کے پاس پہلے سے بیوی ہو، اب ایک نئی شادی اور کرلے تو اگر نئی بیوی کنواری ہو تو سات دن تک اس کے پاس رہے، اور اگر ثیبہ ہو تو تین دن تک، پھر دونوں بیویوں کے پاس باری باری ایک ایک روز رہا کرے، اور اس سے غرض یہ ہے کہ نئی دلہن کا دل ملانا ضروری ہے، اگر پہلے سے ہی باری باری رہے تو اس کو وحشت ہوجانے کا ڈر ہے، اور کنواری کا دل ذرا دیر میں ملتا ہے، اس لئے سات دن اس کے لئے رکھے، اور ثیبہ کا دل جلدی مل جاتا ہے، تین دن اس کے لئے رکھے، اور اس باب میں صحیح حدیثیں وارد ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ١٠٠ (٥٢١٤)، صحیح مسلم/الرضاع ١٢ (١٤٦١)، سنن ابی داود/النکاح ٣٥ (٢١٢٤)، سنن الترمذی/النکاح ٤٠ (١١٣٩)، (تحفة الأشراف: ٩٤٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح ٥ (١٥)، سنن الدارمی/النکاح ٢٧ (٢٢٥٥) (حسن) (اصل حدیث دوسرے طرق سے ثابت ہے کمافی التخریج )
1917Sunan Ibne-Majah

کنواری اور ثیبہ کے پاس ٹھہرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا، وَقَالَ: لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب ان سے شادی کی تو ان کے پاس تین دن رہے، اور فرمایا: تم میرے نزدیک کم تر نہیں ہو اگر تم چاہتی ہو میں سات روز تک تمہارے پاس رہ سکتا ہوں، اس صورت میں میں سب عورتوں کے پاس سات سات روز تک رہوں گا ۔

It was narrated from AIHarith from his father that when the Messenger of Allah ﷺ married Umrn Salamah, he stayed with her for three days, then he said: "You are not insignificant in your husbands eyes. If you wish, I will stay with you for seven days, but then I will stay with my other wives for seven days too." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الرضاع ١٢ (١٤٦٠)، سنن ابی داود/النکاح ٣٥ (٢١٢٢)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٢٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح ٥ (١٤)، مسند احمد (٦/٢٩٢، ٢٩٥، ٣٠٧)، سنن الدارمی/النکاح ٢٧ (٢٢٥٦) (صحیح )
1918Sunan Ibne-Majah

جب بیوی مرد کے پاس آئے تو مرد کیا کہے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَصَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْقَطَّانُ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا أَفَادَ أَحَدُكْمُ امْرَأَةً، أَوْ خَادِمًا، أَوْ دَابَّةً فَلْيَأْخُذْ بِنَاصِيَتِهَا، وَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهَا، وَخَيْرِ مَا جُبِلَتْ عَلَيْهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا جُبِلَتْ عَلَيْهِ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کوئی بیوی، خادم یا جانور حاصل کرے، تو اس کی پیشانی پکڑ کر یہ دعا پڑھے اللهم إني أسألک من خيرها وخير ما جبلت عليه وأعوذ بک من شرها وشر ما جبلت عليه اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی اور اس کی خلقت اور طبیعت کی بھلائی مانگتا ہوں، اور اس کے شر اور اس کی خلقت اور طبیعت کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔

It was narrated from Abdullah bin Amr that the Prophet ﷺ said: "When anyone of you gets a new wife, a servant, or an animal, let him take hold of the forelock and say: Allahumma inni asaluka min khayriha wa khayri ma jubilat alaihi, wa audhu bika min sharriha wa sharri ma jubilat alaih (O Allah, I ask You for the goodness within her and the goodness that she is inclined towards, and I seek refuge with You from the evil within her and the evil to which she is inclined):" (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٤٦ (٢١٦٠)، (تحفة الأشراف: ٨٧٩٩) (حسن )
1919Sunan Ibne-Majah

جب بیوی مرد کے پاس آئے تو مرد کیا کہے؟

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَتَى امْرَأَتَهُ، قَالَ: اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي، ثُمَّ كَانَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ لَمْ يُسَلِّطْ اللَّهُ عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ، أَوْ لَمْ يَضُرَّهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے تو یہ دعا پڑھے اللهم جنبني الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتني اے اللہ! تو مجھے شیطان سے بچا، اور اس مباشرت سے جو اولاد ہو اس کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھ پھر اس ملاپ سے بچہ ہونا قرار پا جائے تو اللہ تعالیٰ اس بچے پر شیطان کا زور نہ چلنے دے گا، یا شیطان اسے نقصان نہ پہنچ اس کے گا۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ said: "When anyone of you has intercourse with his wife, let him say: Allahumma jannibnish. Shaitana wa jannibish-Shaitana ma razaqtani (O Allah, keep Satan away from me and keep Satan away from that with which You bless me). Then if they have a child, Allah will never allow Satan to gain control over him or he will never harm him." (Sahih)

Takhrij · تخریج
(صحیح )
1920Sunan Ibne-Majah

جماع کے وقت پردہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَأَبُو أُسَامَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ، قَالَ: احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ، أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ، قَالَ: فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا تُرِيَهَا أَحَدًا، فَلَا تُرِيَنَّهَا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنْ كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا، قَالَ: فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ مِنَ النَّاسِ.

معاویہ بن حیدۃ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم اپنی شرمگاہیں کس قدر کھول سکتے ہیں اور کس قدر چھپانا ضروری ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: بیوی یا لونڈی کے علاوہ ہمیشہ اپنی شرمگاہ چھپائے رکھو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر لوگ ملے جلے رہتے ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم ایسا کرسکو کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھے تو ایسا ہی کرو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کوئی اکیلا ہو؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: لوگوں سے اللہ زیادہ لائق ہے کہ اس سے شرم کی جائے ١ ؎۔

Bahz bin Hakim narrated from his father that his grandfather said: "I said: O Messenger of Allah, with regard to our Awrah, what may we uncover of it and what must we conceal? He said: Cover your Awrah except from your wife and those whom your right hand possesses. I said: O Messenger of Allah ﷺ , what if the people live close together? He said: If you can make sure that no one sees it, then do not let anyone see it: I said: O Messenger of Allah, what if one of us is alone? He said: Allah is more deserving that you should feel shy before Him than people:" (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ نے کسی طرح کشف ستر کی اجازت نہ دی، اب جو لوگ حمام میں نہلانے والوں یا حجام کے سامنے ننگے ہوجاتے ہیں، یا عورتیں ایک دوسری کے سامنے، یہ شرعی نقطہء نظر سے بالکل منع ہے، بوقت ضرورت تنہائی میں ننگے ہونا درست ہے، جیسے نہاتے وقت یہ نہیں کہ بلاضرورت ننگے ہو کر بیٹھے، اللہ تعالیٰ سے اور فرشتوں سے شرم کرنا چاہیے، سبحان اللہ جیسا شرم و حیا کا اعتبار دین اسلام میں ہے ویسا کسی دین میں نہیں ہے، یہود اور نصاری ایک دوسرے کے سامنے ننگے نہاتے ہیں، اور مشرکین عہد جاہلیت میں جاہلیت کے وقت ننگے ہو کر طواف اور عبادت کیا کرتے تھے، اور اب بھی یہ رسم ہندوؤں میں موجود ہے، مگر اسلام نے ان سب ہی باتوں کو رد کردیا، تہذیب، حیاء اور شرم سکھائی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحمام ٢ (٤٠١٧)، سنن الترمذی/الأدب ٢٦ (٢٧٦٩)، (تحفة الأشراف: ١١٣٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣، ٤) (حسن )
1921Sunan Ibne-Majah

جماع کے وقت پردہ

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ وَهْبٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَرَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَدِيٍّ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ، فَلْيَسْتَتِرْ، وَلَا يَتَجَرَّدْ تَجَرُّدَ الْعَيْرَيْنِ.

عتبہ بن عبدسلمی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی بیوی سے صحبت کرے تو کپڑا اوڑھ لے، اور گدھا گدھی کی طرح ننگا نہ ہوجائے ۔

It was narrated from Utbah bin Abd Sulami that the Messenger of Allah ﷺ said: "When anyone of you has intercourse with his wife, let him cover himself and not be naked like donkeys." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٧٥٥، ومصباح الزجاجة: ٦٨٢) (ضعیف) (الاحوص بن حکیم ضعیف ہے )
1922Sunan Ibne-Majah

جماع کے وقت پردہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْمَوْلًى لِعَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا نَظَرْتُ، أَوْ مَا رَأَيْتُ فَرْجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: عَنْ مَوْلَاةٍ لِعَائِشَةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی شرمگاہ کبھی نہیں دیکھی۔ ابوبکر بن ابوشیبہ کہتے ہیں کہ ابونعیم کی روایت میں عن مولیٰ لعائش ۃ کے بجائے عن مولا ۃ لعائش ۃ ہے۔

It was narrated from a freed slave of Aisha (RA) that Aisha (RA) said: "I never looked at or I never saw the private part of the Messenger of Allah ﷺ (Daif) (One of the narrators) Abu Bakr (RA) (Ibn Abu Shaibah) said: "Abu Nu aim said: From a freed female slave of Aisha (RA) ."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨١٦، ومصباح الزجاجة: ٦٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٦٣، ١٩٠) (ضعیف) (ام المومنین عائشہ ؓ کی مولاة یا مولیٰ ضعیف ہے )
1923Sunan Ibne-Majah

عورتوں کے ساتھ پیچھے کی راہ سے صحبت کی ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْالْحَارِثِ بْنِ مُخَلَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى رَجُلٍ جَامَعَ امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نہیں دیکھے گا جو کسی عورت سے اس کے دبر (پچھلی شرمگاہ) میں جماع کرے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "Allah will not look at a man who has intercourse with his wife in her buttocks." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: عورت سے دبر میں جماع کرنا لواطت صغری ہے اور اس باب میں کئی حدیثیں ہیں جو ایک دوسرے کو قوی کرتی ہیں، اور ائمہ اربعہ اور تمام علماء حدیث نے اس کی حرمت پر اتفاق کیا، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا: فَأْتُواْ حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ (سورة البقرة: 223) اور حرث کہتے ہیں کھیتی کو یعنی جہاں سے پیدا ہو وہ کھیتی ہے، اور وہ قبل ہے اور دبر فرث ہے یعنی نجاست۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٢٣٧، ومصباح الزجاجة: ٦٨٤)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/النکاح ٤٦ (٢١٦٢)، مسند احمد (٢/٢٧٢، ٣٤٤، ٤٤٤، ٤٧٩)، سنن الدارمی/الطہارة ١١٣ (١١٧٦) (صحیح )