Sunan Ibne-Majah 1906

نکاح کا بیان

1906Sunan Ibne-Majah

نکاح پر مبارک باد دینا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جُشَمَ، فَقَالُوا: بِالرَّفَاءِ وَالْبَنِينَ، فَقَالَ: لَا تَقُولُوا هَكَذَا، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ، وَبَارِكْ عَلَيْهِمْ.

عقیل بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے قبیلہ بنی جشم کی ایک عورت سے شادی کی، تو لوگوں نے (جاہلیت کے دستور کے مطابق) یوں کہا:بالرفاء والبنين میاں بیوی میں اتفاق رہے اور لڑکے پیدا ہوں تو آپ نے کہا: اس طرح مت کہو، بلکہ وہ کہو، جو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:اللهم بارک لهم و بارک عليهم اے اللہ! ان کو برکت دے اور اس برکت کو قائم و دائم رکھ ۔

It was narrated from Aqil bin Abu Talib that he married a woman from Banu jusham, and they said: "May you live in harmony and have many sons." He said: "Do not say that, rather say what the Messenger of Allah ﷺ said: Allahumma barik lahum wa barik alaihim (O Allah, bless them and bestow blessings upon them.)," (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٠١٤)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/النکاح ٧٣ (٣٣٧٣)، مسند احمد (١/٢٠١، ٣/ ٤٥١) (صحیح )