انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ مغیرہ بن شعبہ ؓ نے ایک عورت سے نکاح کرنا چاہا، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: جاؤ اور اس کو دیکھ لو ایسا کرنے سے زیادہ امید ہے کہ تم دونوں کے درمیان الفت و محبت ہو ، مغیرہ ؓ نے ایسا ہی کیا، اور پھر شادی کی، پھر انہوں نے اس سے اپنی باہمی موافقت اور ہم آہنگی کا ذکر کیا۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that Mughirah bin Shubah wanted to marry a woman. The Prophet ﷺ said to him: "Go and look at her, for that is more likely to create love between you." So he did that, and he married her, and mentioned how well he got along with her. (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٠، ومصباح الزجاجة: ٦٦٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/النکاح ٥ (١٠٨٧)، سنن النسائی/النکاح ١٧ (٣٢٣٧)، مسند احمد (٤/٢٤٥، ٢٤٦)، سنن الدارمی/النکاح ٥ (٢٢١٨) (صحیح )
مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور میں نے آپ سے ذکر کیا کہ میں ایک عورت کو پیغام دے رہا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ اسے دیکھ لو، اس سے تم دونوں میں محبت زیادہ ہونے کی امید ہے ، چناچہ میں ایک انصاری عورت کے پاس آیا، اور اس کے ماں باپ کے ذریعہ سے اسے پیغام دیا، اور نبی اکرم ﷺ کا فرمان سنایا، لیکن ایسا معلوم ہوا کہ ان کو یہ بات پسند نہیں آئی، اس عورت نے پردہ سے یہ بات سنی تو کہا: اگر رسول اللہ ﷺ نے دیکھنے کا حکم دیا ہے، تو تم دیکھ لو، ورنہ میں تم کو اللہ کا واسطہ دلاتی ہوں، گویا کہ اس نے اس چیز کو بہت بڑا سمجھا، مغیرہ ؓ کہتے ہیں: میں نے اس عورت کو دیکھا، اور اس سے شادی کرلی، پھر انہوں نے اپنی باہمی موافقت اور ہم آہنگی کا حال بتایا۔
It was narrated that Mughirah bin Shubah said: "I came to the Prophet ﷺ and told him of a woman to whom I had to propose marriage. He said: Go and look at her, for that is more likely to create love between you: So I went to a woman among the Ansar and proposed marriage through her parents. I told them what the Prophet ﷺ had said, and it was as if they did not like that. Then I heard that woman, behind her curtain, say: If the Messenger of Allah ﷺ has told you to do that, then do it, otherwise I adjure you by Allah (not to do so). And it was as if she regarded that as a serious matter. So I looked at her and married her." And he mentioned how well he got along with her. (Sahih)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ دے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "A man should not propose ﷺ marriage to a woman to whom his brother has already proposed." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایک مسلمان کی جب کسی جگہ نسبت طے ہونے لگے اور دونوں طرف سے رغبت کا اظہار ہونے لگ جائے تو کسی اور کے لیے شادی کا پیغام دینا جائز نہیں کیونکہ اس سے دوسرے مسلمان کی حق تلفی ہوتی ہے، اور اگر ابھی دونوں طرف سے رغبت کا اظہار نہیں ہوا ہے تو پیغام دینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ دے ۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "A man should not propose marriage to a woman to whom his brother has already proposed." (Sahih)
فاطمہ بنت قیس ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: جب تمہاری عدت گزر جائے تو مجھے خبر دینا ، آخر انہوں نے آپ ﷺ کو خبر دی، تو انہیں معاویہ ابولجہم بن صخیر اور اسامہ بن زید ؓ نے شادی کا پیغام دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رہے معاویہ تو وہ مفلس آدمی ہیں ان کے پاس مال نہیں ہے، اور رہے ابوجہم تو وہ عورتوں کو بہت مارتے پیٹتے ہیں، لیکن اسامہ بہتر ہیں یہ سن کر فاطمہ ؓ نے ہاتھ سے اشارہ کیا: اور کہا: اسامہ اسامہ (یعنی اپنی بےرغبتی ظاہر کی) آپ ﷺ نے فاطمہ ؓ سے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کی بات ماننا تمہارے لیے بہتر ہے ، فاطمہ ؓ کہتی ہیں: آخر میں نے اسامہ سے شادی کرلی، تو دوسری عورتیں مجھ پر رشک کرنے لگیں ١ ؎۔
It was narrated that Abu Bakr (RA) bin Abu [ahm bin Sukhair AI-Adawi said: "I heard Fatimah bint Qais say: The Messenger of Allah ﷺ said to me: "When you become lawful,I tell me." So I told him. Then Muawiyah, Abu Jahm bin Sukhair and Usamah bin Zaid proposed marriage to her. The Messenger of Allah ﷺ said: As for Muawiyah, he is a poor man who has no money. As for Abu Jahm, he is a man who habitually beats woman. But Usamah (is good). She gestured with her hand, saying: Usamah, Usamahl? The Messenger of Allah ﷺ said to her: Obedience to Allah and obedience to His Messenger is better for you. She said: So I married him and I was pleased with him. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت سے معلوم ہوا کہ جسے پیغام دیا گیا اگر اس کی طرف سے ابھی موافقت کا اظہار نہیں ہوا ہے تو دوسرے کے لیے پیغام دینا جائز ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صلاح و مشورہ دینے میں کسی کا حقیقی اور واقعی عیب بیان کرنا جائز ہے تاکہ مشورہ لینے والا دھوکہ نہ کھائے، یہ غیبت میں داخل نہیں ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: غیر کنواری عورت اپنے آپ پر اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے، اور کنواری عورت سے نکاح کے سلسلے میں اجازت طلب کی جائے گی ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کنواری بولنے سے شرم کرے گی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے ۔
It was narrated from Ibn Abbas (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "A widow has more right (to decide) concerning herself than her guardian, and a virgin should be consulted." It was said: "O Messenger of Allah, a virgin may be too shy to speak." He said: "Her consent is her silence." (Sahih)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: غیر کنواری عورت کا نکاح اس کی واضح اجازت کے بغیر نہ کیا جائے، اور کنواری کا نکاح بھی اس سے اجازت لے کر کیا جائے، اور کنواری کی اجازت اس کی خاموشی ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: A previously-married woman should not be married until she is consulted, and a virgin should not be married until her consent is sought, and her consent is her silence." (Sahih)
عدی کندی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: غیر کنواری عورت اپنی رضا مندی صراحۃً ظاہر کرے، اور کنواری کی رضا مندی اس کی خاموشی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Adi bin Adi Al-Kindi that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said: A previously-married woman can speak for herself, and the consent of a virgin is her silence.
Notes · وضاحت
١ ؎: ثیّبہ کا چپ ہوجانا کافی نہیں بلکہ زبان سے ہوں یا ہاں کہنا چاہیے، مراد یہاں کنواری اور ثیبہ سے وہ لڑکی ہے جو جوان اور بالغ ہوگئی ہو، لیکن جو نابالغ ہو اس سے اجازت لینا ضروری نہیں بلکہ ولی کی اجازت کافی ہے، جیسے ابوبکر صدیق ؓ نے اپنی بیٹی ام المومنین عائشہ ؓ کا نبی اکرم ﷺ سے نکاح کردیا تھا، اس وقت ام المومنین عائشہ ؓ کی عمر صرف چھ برس کی تھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٨٨٢، ومصباح الزجاجة: ٦٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٩٢) (صحیح) (عدی کندی کا اپنے والد عدی بن عمرہ سے سماع نہیں ہے، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے )
عبدالرحمٰن بن یزید انصاری اور مجمع بن یزید انصاری ؓ خبر دیتے ہیں کہ خذام نامی ایک شخص نے اپنی بیٹی (خنساء) کا نکاح کردیا، اس نے اپنے باپ کا کیا ہوا نکاح ناپسند کیا، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی، اور آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے اس کے والد کا کیا ہوا نکاح فسخ کردیا، پھر اس نے ابولبابہ بن عبدالمنذر ؓ سے شادی کی۔ یحییٰ بن سعید نے ذکر کیا کہ وہ ثیبہ (غیر کنواری) تھی۔
Abdur-Rahrnan bin Yazid Al-Ansari and Mujamma bin Yazid Al-Ansari said that a man among them who was called Khidam arranged a marriage for his daughter, and she did not like the marriage arranged by her father. She went to the Messenger of Allah ﷺ and told him about that, and he annulled the marriage arranged by her father. Then she married Abu Lubabah bin Abdul-Mundhir. (Sahih) (One of the narrators) Yahya mentioned that she was a previously-married woman.
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک نوجوان عورت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی عرض کیا: میرے والد نے میرا نکاح اپنے بھتیجے سے کردیا ہے، تاکہ میری وجہ سے اس کی ذلت ختم ہوجائے، نبی اکرم ﷺ نے اس عورت کو اختیار دے دیا، تو اس نے کہا: میرے والد نے جو کیا میں نے اسے مان لیا، لیکن میرا مقصد یہ تھا کہ عورتوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ ان کے باپوں کو ان پر (جبراً نکاح کردینے کا) اختیار نہیں پہنچتا۔
It was narrated from Ibn Buraidah that his father said: "A girl came to the Prophet ﷺ and said: My father married me to his brothers son so that he might raise his status thereby: The Prophet ﷺ gave her the choice, and she said: I approve of what my father did, but I wanted women to know that their fathers have no right to do that:" (Sahih)
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی، اور اس نے عرض کیا: اس کے والد نے اس کا نکاح کردیا حالانکہ وہ راضی نہیں ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے اختیار دیا۔
It was narrated from Ibn Abbas that a virgin girl came to the Prophet ﷺ and told him that her father had arranged a marriage that she did not like, and the Prophet ﷺ gave her the choice. (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٢٥ (٢٠٩٦، ٢٠٩٧)، (تحفة الأشراف: ٦٠٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٧٣) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے شادی کی تو اس وقت میری عمر چھ سال کی تھی، پھر ہم مدینہ آئے تو بنو حارث بن خزرج کے محلہ میں اترے، مجھے بخار آگیا اور میرے بال جھڑ گئے، پھر بال بڑھ کر مونڈھوں تک پہنچ گئے، تو میری ماں ام رومان میرے پاس آئیں، میں ایک جھولے میں تھی، میرے ساتھ میری کئی سہیلیاں تھیں، ماں نے مجھے آواز دی، میں ان کے پاس گئی، مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا چاہتی ہیں؟ آخر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر گھر کے دروازہ پر لا کھڑا کیا، اس وقت میرا سانس پھول رہا تھا، یہاں تک کہ میں کچھ پرسکون ہوگئی، پھر میری ماں نے تھوڑا سا پانی لے کر اس سے میرا منہ دھویا اور سر پونچھا، پھر مجھے گھر میں لے گئیں، وہاں ایک کمرہ میں انصار کی کچھ عورتیں تھیں، انہوں نے دعا دیتے ہوئے کہا: تم خیر و برکت اور بہتر نصیب کے ساتھ جیو ، میری ماں نے مجھے ان عورتوں کے سپرد کردیا، انہوں نے مجھے آراستہ کیا، میں کسی بات سے خوف زدہ نہیں ہوئی مگر اس وقت جب رسول اللہ ﷺ چاشت کے وقت اچانک تشریف لائے، اور ان عورتوں نے مجھے آپ کے حوالہ کردیا، اس وقت میری عمر نو سال تھی۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ married me when I was six years old. Then we came to AI-Madinah and settled among Banu Hari th bin Khazraj. I became ill and my hair fell out,then it grew back and became abundant. My mother Umm Ruman came to me while I was on an Urjuhah with some of my friends, and called for me. I went to her, and I did not know what she wanted. She took me by the hand and made me stand at the door of the house, and I was panting. When I got my breath back, she took some water and wiped my face and head, and led me into the house. There were some woman of the Ansar inside the house, and they said: With the blessings and good fortune (from Allah). (My mother) handed me over to them and they tidied me up. And suddenly I saw the Messenger of Allah ﷺ in the mornlng. And she handed me over to him and I was at that time, nine years old." (Sahih)
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے نکاح کیا، اس وقت ان کی عمر سات برس تھی، اور ان کے ساتھ خلوت کی تو ان کی عمر نو سال تھی، اور آپ ﷺ کا انتقال ہوا تو اس وقت ان کی عمر اٹھارہ سال تھی ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah .said: "The Prophet ﷺ married Aisha (RA) when she was seven years old, and consummated the marriage with her when she was nine, and he passed away when she was eighteen." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: ام المومنین عائشہ ؓ کے فضائل و مناقب بیشمار ہیں، اور وہ آپ ﷺ کی تمام بیویوں میں خدیجہ الکبری ؓ کے بعد سب سے افضل ہیں، اور بعضوں نے خدیجہ الکبری سے بھی ان کو افضل کہا ہے، غرض وہ آپ ﷺ کی خاص چہیتی تھیں اور آپ کی بیویوں میں صرف وہی کنواری تھیں، اور اس کم سنی میں آپ ؓ کا یہ حال تھا کہ علم و فضل، قوت حافظہ اور عقل و دانش میں بڑی بوڑھی عورتوں سے سبقت لے گئی تھیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٦٢٠، ومصباح الزجاجة: ٦٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٣٠) (صحیح) (سند میں ابو عبیدہ اور عبد اللہ بن مسعود ؓ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن حدیث دوسرے طریق سے صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٦ /٢٣٠ )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ جب عثمان بن مظعون ؓ کا انتقال ہوا، تو انہوں نے ایک بیٹی چھوڑی، عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میری شادی اس لڑکی سے میرے ماموں قدامہ ؓ نے کرا دی جو اس لڑکی کے چچا تھے، اور اس سے مشورہ نہیں لیا، یہ اس وقت کا ذکر ہے جب اس کے والد کا انتقال ہوچکا تھا، اس لڑکی نے یہ نکاح ناپسند کیا، اور اس نے چاہا کہ اس کا نکاح مغیرہ بن شعبہ ؓ سے کردیا جائے، آخر قدامہ ؓ نے اس کا نکاح مغیرہ ہی سے کردیا ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar that when Uthman bin Maz`un died, he left behind a daughter. Ibn Umar said: "My maternal uncle Qudamah, who was her paternal uncle, married me to her, but he did not consult her. That was after her father had died. She did not like this marriage, and the girl wanted to marry Mughirah bin Shubah, so she married him." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: شاید عثمان ؓ کی بیٹی جوان ہوگی، اور جوان لڑکی کا نکاح بغیر اس کی اجازت کے نافذ نہیں ہوتا، حنفیہ کا یہ مذہب ہے کہ نابالغ لڑکی کا نکاح اگر باپ دادا کے سوا اور کوئی ولی کر دے تو وہ درست اور جائز ہوگا، لیکن لڑکی کو بلوغت کے بعد فسخ نکاح کا اختیار ہے، اگر وہ اس نکاح سے ناراض ہو تو وہ فسخ نکاح کرسکتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٧٥٢، ومصباح الزجاجة: ٦٧٠)، ورواہ أحمد (٢/١٣٠، والدار قطنی فيسننہ و البیہقی في سننہ ٧/١١٣، من طریق عمربن حسین، عن نافع عن ابن عمر، وأخرجہ: الحاکم ٢/١٦ و البیہقی ٧/١٢١) (حسن) (اس کی سند میں عبد اللہ بن نافع ضعیف ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے حدیث حسن ہے، کما فی التخریج )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس عورت کا نکاح اس کے ولی نے نہ کیا ہو، تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے، اگر مرد نے ایسی عورت سے جماع کرلیا تو اس جماع کے عوض عورت کے لیے اس کا مہر ہے، اور اگر ولی اختلاف کریں تو حاکم اس کا ولی ہوگا جس کا کوئی ولی نہیں ۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: Any woman whose marriage is not arranged by her guardian, her marriage is invalid, her marriage is invalid, her marriage is invalid. If (the man) has had intercourse with her, then the Mahr belongs to her in return for his intimacy with her. And if there is any dispute then the ruler is the guardian of the one who does not have a guardian." (Sahih)
ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے ۔ اور ام المؤمنین عائشہ ؓ کی حدیث میں ہے: جس کا کوئی ولی نہ ہو، اس کا ولی حاکم ہے ۔
It was narrated that Aisha (RA) and Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ said: There is no marriage except with a guardian." According to the Hadith of Aisha (RA) : "And the ruler is the guardian of the one who does not have a guardian." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٤٦٢، ومصباح الزجاجة: ٦٧١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/النکاح ٢٠ (٢٠٨٣)، سنن الترمذی/النکاح ١٤ (١١٠٢)، مسند احمد (٦/٦٦، ١٦٦، ٢٦٠، سنن الدارمی/النکاح ١١ (٢٢٣٠) (صحیح) (حجاج بن ارطاہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز حجاج کا عکرمہ سے سماع نہیں بھی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٦ / ٢٣٨- ٢٤٧ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورت عورت کا نکاح نہ کرائے، اور نہ عورت خود اپنا نکاح کرے، پس بدکار وہی عورت ہے جو اپنا نکاح خود کرتی ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: ‘No woman should arrange the marriage of another woman, and no woman should arrange her own marriage. The adulteress is the one who arranges her own marriage.” (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٥٤، ومصباح الزجاجة: ٦٧٢) (صحیح) (الزانیہ کے جملہ کے علاوہ حدیث صحیح ہے، نیز ملا حظہ ہو: الإرواء: ١٨٤١ )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شغار سے منع فرمایا ہے۔ اور شغار یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی سے کہے: آپ اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح مجھ سے اس شرط پر کردیں کہ میں اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح تجھ سے کر دوں گا، اور ان دونوں کے درمیان کوئی مہر نہ ہو ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade Shighar. Shightir is when a man says to another man: Marry your daughter or sister to me, on condition that I will marry my daughter or sister to you: and they do not give any dower (i.e., neither of them give the other the dower)." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: بلکہ ہر ایک جانب مہر یہی ہو کہ دوسرے کی بیٹی یا بہن یہ حاصل کرے، ابن عبدالبر نے کہا یہ نکاح باجماع علماء ناجائز ہے لیکن اختلاف ہے کہ یہ نکاح صحیح ہے یا نہیں، جمہور اس کو باطل کہتے ہیں، اور شافعی نے کہا یہ نکاح مثل نکاح متعہ کے باطل ہے، اور ابوحنیفہ نے کہا نکاح صحیح ہوجائے گا، اور ہر ایک پر مہر مثل لازم ہوگا۔