مسلمان بھائی پیغام نکاح دے تو دوسرا بھی اسی کو پیغام نہ دے
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَخْطُبِ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ دے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "A man should not propose ﷺ marriage to a woman to whom his brother has already proposed." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایک مسلمان کی جب کسی جگہ نسبت طے ہونے لگے اور دونوں طرف سے رغبت کا اظہار ہونے لگ جائے تو کسی اور کے لیے شادی کا پیغام دینا جائز نہیں کیونکہ اس سے دوسرے مسلمان کی حق تلفی ہوتی ہے، اور اگر ابھی دونوں طرف سے رغبت کا اظہار نہیں ہوا ہے تو پیغام دینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٥٨ (٢١٤٠)، الشروط ٨ (٢٧٢٣)، النکاح ٤٥ (٥١٤٢)، صحیح مسلم/النکاح ٦ (١٤١٣)، سنن ابی داود/النکاح ١٨ (٢٠٨٠)، سنن الترمذی/النکاح ٣٨ (١١٣٤)، سنن النسائی/النکاح ٢٠ (٣٢٤١)، (تحفة الأشراف: ١٣١٢٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح ١ (١)، حم (٢/٢٣٨، ٢٧٤، ٣١١، ٣١٨، ٣٩٤، ٤١١، ٤٢٧، ٤٥٧، ٤٦٢، ٤٦٣، ٤٨٧، ٤٨٩، ٥٥٨، سنن الدارمی/النکاح ٧ (٢٢٢١) (صحیح )