عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بدشگونی شرک ہے ١ ؎ اور ہم میں سے جسے بھی بدشگونی کا خیال آئے تو اللہ تعالیٰ پر توکل کی وجہ سے یہ خیال دور کر دے گا ١ ؎۔
It was narrated from ‘AbduIlah that the Messenger of Allah ﷺ said: “The omen is polytheistic deed and anyone of us may think he sees an omen but Allah will dispel it by means of relying upon Him.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ کے اوپر بھروسہ کرنے سے یہ وہم جاتا رہے گا، انسان کو چاہیے کہ اگر ایسا وہم کبھی دل میں آئے، تو اس کو بیان نہ کرے، اور منھ سے نہ نکالے، اور اللہ پر بھروسہ کرے، جو وہ چاہے وہ ہوگا، امام بخاری نے کہا: سلیمان بن حرب کہتے تھے کہ میرے نزدیک یہ قول: ومامنا ۔۔۔ اخیر تک ابن مسعود ؓ کا قول ہے، بلکہ اکثر حفاظ نے اس کو عبد اللہ بن مسعود ؓ کا کلام کہا ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چھوت چھات ١ ؎ اور بدشگونی کوئی چیز نہیں ہے، اسی طرح الو اور ماہ صفر کی نحوست کوئی چیز نہیں ہے ۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no Adwa no omen, no Hamah, and no Safar."
Notes · وضاحت
١ ؎: چھوت چھات یعنی بیماری خود سے متعدی نہیں ہے، بلکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اس کی بنائی ہوئی تقدیر سے ہوتا ہے، البتہ بیماریوں سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اسباب کو اپنانا مستحب ہے، الو کو دن میں دکھائی نہیں دیتا ہے، تو وہ رات کو نکلتا ہے، اور اکثر ویرانوں میں رہتا ہے، عرب لوگ اس کو منحوس جانتے تھے، اور بعض یہ سمجھتے تھے کہ مقتول کی روح الو بن کر پکارتی پھرتی ہے، جب اس کا بدلہ لے لیا جاتا ہے تو وہ اڑ جاتا ہے، رسول اکرم ﷺ نے اس خیال کو باطل قرار دیا، اسی طرح صفر کے مہینے کو عوام اب تک منحوس جانتے ہیں، صفر کے مہینے کے پہلے تیرہ دن جس میں رسول اکرم ﷺ بیمار ہوئے تھے ان ایام کو تیرہ تیزی کہتے ہیں، ان میں عورتیں کوئی بڑا کام جیسے شادی بیاہ وغیرہ کرنے نہیں دیتیں، یہ بھی لغو ہے، صفر کا مہینہ اور مہینوں کی طرح ہے، کچھ فرق نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦١٢٦، ومصباح الزجاجة: ١٢٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٦٩، ٣٢٨) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چھوت چھات، بدشگونی اور الو دیکھنے کی کوئی حقیقت نہیں، ایک شخص آپ ﷺ کی جانب اٹھ کر بولا: اللہ کے رسول! ایک اونٹ کو جب کھجلی ہوتی ہے تو دوسرے اونٹ کو بھی اس کی وجہ سے کھجلی ہوجاتی ہے ١ ؎، آپ ﷺ نے فرمایا: یہی تو تقدیر ہے، آخر پہلے اونٹ کو کس نے کھجلی والا بنایا ٢ ؎۔
Ibn "Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: There is no Aduxi, no omen, and no Hornak: A man stood up and said: O Messenger of Allah, what if a camel has mange and another camel gets mange from it? He said: That is the Divine decree. Who caused the mange in the first one?": (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ کہ امراض متعدی بھی ہوتے ہیں۔ ٢ ؎: اور جو ڈاکٹر یا حکیم ہمارے زمانے میں بعض بیماری میں عدوی بتلاتے ہیں، ان سے جب یہ اعتراض کرو کہ بھلا اگر عدوی صحیح ہوتا تو جس گھر میں ایک شخص کو ہیضہ ہو تو چاہیے کہ اس گھر کے بلکہ اس محلہ کے سب لوگ مرجائیں، تو اس کا کوئی معقول جواب نہیں دیتے، بلکہ یوں کہتے ہیں کہ بعض مزاجوں میں اس بیماری کے قبول کرنے کا مادہ ہوتا ہے تو ان کو بیماری لگ جاتی ہے، بعض مزاجوں میں یہ مادہ نہیں ہوتا تو ان کو باوجود قرب کے بیماری نہیں لگتی، ہم یوں کہتے ہیں کہ مادے کا مزاج میں پیدا کرنے والا کون ہے؟ اللہ تعالیٰ، تو پھر سب امور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوئے اسی کی مرضی اور تقدیر سے پھر عدوی کا قائل ہونا کیا ضروری ہے؟۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیمار اونٹ کو تندرست اونٹ کے پاس نہ جانے دیا جائے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "A man with sick camels should not let them graze or drink alongside healthy ones." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیماری متعدی ہوتی ہے، اس لیے نبی اکرم ﷺ نے تندرست اور غیر مریض جانوروں کو مریض اونٹوں کے قریب لے جانے سے منع کیا، بلکہ آپ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ اکثر ایسا سابقہ تقدیر اور اللہ کی مرضی کے مطابق ہوجاتا ہے، تو جانوروں کا مالک تعدی کے ناحیہ سے فتنہ اور شک میں مبتلا ہوسکتا ہے، اس وجہ سے آپ نے دور رکھنے کا حکم دیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٠٧٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/السلام ٣٣ (٢٢٢١، ٢٢٢٣)، سنن ابی داود/الطب ٢٤ (٣٩١١)، مسند احمد (٢/٤٣٤) (حسن صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جذامی شخص کا ہاتھ پکڑا، اور اپنے ساتھ اس کے ہاتھ کو پیالے میں داخل کردیا، پھر اس سے کہا: کھاؤ، میں اللہ پر اعتماد اور اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں ۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ took the hand of a leper and made him eat with him, and said: "Eat, with trust in Allah and reliance upon Allah." (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطب ٢٤ (٣٩٢٥)، سنن الترمذی/الأطعمة ١٩ (١٨١٧)، (تحفة الأشراف: ٣٠١٠) (ضعیف) (سند میں مفضل بن فضالہ ضعیف راوی ہیں )
شرید بن سوید ثقفی ؓ کہتے ہیں کہ وفد ثقیف میں ایک جذامی شخص تھا، نبی اکرم ﷺ نے اسے کہلا بھیجا: تم لوٹ جاؤ ہم نے تمہاری بیعت لے لی ١ ؎۔
It was narrated from a man from the family of Sharid whose name was Amr, that his father said: "There was a leper among the delegation of Thaqif. The Prophet ﷺ P.U.B.H sent word to him: Go back, for we have accepted your oath of allegiance." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ زیادہ دیکھنے سے دل میں وسوسہ اور اندیشہ پیدا ہوگا، اگر کبھی ایسے مصیبت زدہ پر نظر پڑجائے تو یوں کہے: الحمد لله الذى عافانى مما ابتلاک به وفضلنى على كثير ممن خلق تفضيلا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ٣٦ (٢٢٣١)، سنن النسائی/البیعة ١٩ (٤١٨٧)، (تحفة الأشراف: ٤٨٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٨٩، ٣٩٠) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو بنی زریق کے یہودیوں میں سے لبید بن اعصم نامی ایک یہودی نے جادو کردیا، تو آپ کو ایسا لگتا کہ آپ کچھ کر رہے ہیں حالانکہ آپ کچھ بھی نہیں کر رہے ہوتے تھے، یہی صورت حال تھی کہ ایک دن یا ایک رات آپ ﷺ نے دعا فرمائی، پھر دعا فرمائی اور پھر دعا فرمائی، پھر کہا: عائشہ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ بات بتادی جو میں نے اس سے پوچھی تھی، میرے پاس دو شخص آئے، ایک میرے سرہانے اور دوسرا پائتانے بیٹھ گیا، سرہانے والے نے پائتانے والے سے کہا، یا پائتانے والے نے سرہانے والے سے کہا: اس شخص کو کیا بیماری ہے؟ دوسرے نے کہا: اس پر جادو کیا گیا ہے، اس نے سوال کیا: کس نے جادو کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: لبید بن اعصم نے، اس نے پوچھا: کس چیز میں جادو کیا ہے؟ جواب دیا: کنگھی میں اور ان بالوں میں جو کنگھی کرتے وقت گرتے ہیں، اور نر کھجور کے خوشے کے غلاف میں، پہلے نے پوچھا: یہ چیزیں کہاں ہیں؟ دوسرے نے جواب دیا: ذی اروان کے کنوئیں میں ۔ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنے چند صحابہ کے ساتھ اس کنوئیں پر تشریف لائے، پھر واپس آئے تو فرمایا: اے عائشہ! اللہ تعالیٰ کی قسم! اس کا پانی مہندی کے پانی کی طرح (رنگین) تھا، اور وہاں کے کھجور کے درخت گویا شیطانوں کے سر تھے ۔ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے اسے جلایا نہیں؟ فرمایا: نہیں، مجھے تو اللہ تعالیٰ نے تندرست کردیا ہے، اب میں نے ناپسند کیا کہ میں لوگوں پر اس کے شر کو پھیلاؤں ، پھر آپ ﷺ نے حکم دیا تو وہ سب چیزیں دفن کردی گئیں۔
It was narrated that , Aisha (RA) said: "A Jew from among the Jews of Bani Zuraiq, whose name was Labid bin Asam, cast a spell on the Prophet ﷺ ifi, and the Prophet ﷺ P.U.B.H began to imagine that he had done something when he had not. One day, or one night, the Messenger of Allah ﷺ supplicated, and then supplicated again. Then he said: O Aisha (RA) , do you know that Allah has instructed me concerning the matter I asked Him about? Two men came to me, and one of them sat at my head and the other at my feet. The one at my head said to the one at my feet, or the one at my feet said to the one at my head: "What is ailing this man?" He said: "He has been affected by a spell."
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ١٧ (٢١٨٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٩٨٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجزیة ١٤ (٣١٧٥)، الطب ٥٠ (٥٧٦٦)، مسند احمد (٦/٥٧) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین ام سلمہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: اللہ کے رسول! آپ کو ہر سال اس زہریلی بکری کی وجہ سے جو آپ نے کھائی تھی، تکلیف ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے اس کی وجہ سے کچھ بھی ہوا وہ میرے مقدر میں اسی وقت لکھ دیا گیا تھا جب آدم مٹی کے پتلے تھے ۔
It was narrated from Ibn Umar that Umm Salamah said: "O Messenger of Allah, every year you are still suffering pain because of the poisoned meat that you ate." He said: "Nothing of that happens to me, but it was decreed for me when Adam was still at the stage of being clay.": (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٤٤٣، ٨٥٣٢، ومصباح الزجاجة: ١٢٣٧) (ضعیف) (سند میں ابوبکر عنسی مجہول الحال راوی ہیں )
خولہ بنت حکیم ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی مقام پر اترے تو وہ اس وقت یہ دعا پڑھے: أعوذ بکلمات الله التامة من شر ما خلق۔ لم يضره في ذلک المنزل شيء حتى يرتحل منه میں پناہ مانگتا ہوں اللہ تعالیٰ کے تمام کلمات کی ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کیا تو اس مقام پر کوئی چیز اسے ضرر نہیں پہنچا سکتی یہاں تک کہ وہ وہاں سے روانہ ہوجائے ۔
It was narrated from Khawlah bint Hakim that the Prophet ﷺ said: "If anvone of you, when he stops to camp (while on a journey), says Audhu bi kalimatil-lahit-tammati min sharri ma khalaq. (I seek refuge in the Perfect Words of Allah from the evil of that which He has created), then nothing will harm him in that place until he moves on." (Sahih)
عثمان بن ابی العاص ؓ کہتے ہیں کہ جب مجھے رسول اللہ ﷺ نے طائف کا عامل مقرر کیا، تو مجھے نماز میں کچھ ادھر ادھر کا خیال آنے لگا یہاں تک کہ مجھے یہ یاد نہیں رہتا کہ میں کیا پڑھتا ہوں، جب میں نے یہ حالت دیکھی تو میں سفر کر کے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچا، تو آپ نے فرمایا: کیا ابن ابی العاص ہو ؟، میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ نے سوال کیا: تم یہاں کیوں آئے ہو ؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے نماز میں طرح طرح کے خیالات آتے ہیں یہاں تک کہ مجھے یہ بھی خبر نہیں رہتی کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ شیطان ہے، تم میرے قریب آؤ، میں آپ کے قریب ہوا، اور اپنے پاؤں کی انگلیوں پر دو زانو بیٹھ گیا، آپ ﷺ نے اپنے مبارک ہاتھ سے میرا سینہ تھپتھپایا اور اپنے منہ کا لعاب میرے منہ میں ڈالا، اور (شیطان کو مخاطب کر کے) فرمایا: اخرج عدو الله اللہ کے دشمن! نکل جا ؟ یہ عمل آپ نے تین بار کیا، اس کے بعد مجھ سے فرمایا: اپنے کام پر جاؤ عثمان ؓ بیان کرتے ہیں: قسم سے! مجھے نہیں معلوم کہ پھر کبھی شیطان میرے قریب پھٹکا ہو۔
It was narrated that muthtnân bin Abul-’As said: “When the Messenger of Allah ﷺ appoint me as governor of Tâ’if, I began to get confused during my prayer, until I no longer knew what I was doing. When I noticed that, I travelled to the Messenger of Allah ﷺ and he said: ‘The son of Abul-’As?’ I said: ‘Yes, O Messenger of Allah.’ He said: ‘What brings you here?’ I said: ‘O Messenger of Allah, I get confused during my prayer, until I do not know what I am doing.’ He said: ‘That is Satan. Come here.’ So I came close to him, and sat upon the front part of my feet then he struck my chest with his hand and put some spittle in my mouth and said: ‘Get out, O enemy of Allah!’ He did that three times, then he said: ‘Get on with your work.”‘Uthmân said: “Indeed, I never felt confused (during my prayer) alter that.” (Sahih)
ابولیلیٰ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کے پاس ایک اعرابی نے آ کر کہا: میرا ایک بیمار بھائی ہے، آپ ﷺ نے سوال کیا: تمہارے بھائی کو کیا بیماری ہے ؟ وہ بولا: اسے آسیب ہوگیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ اسے لے کر آؤ، ابولیلیٰ کہتے ہیں کہ وہ (اعرابی) گیا اور اسے لے آیا، آپ ﷺ نے اسے اپنے سامنے بیٹھایا، میں نے آپ کو سنا کہ آپ نے اسے دم کیا، سورة فاتحہ، سورة البقرہ کی ابتدائی چار آیات اور درمیان کی دو آیتیں، اور وإلهكم إله واحد والی آیت، آیت الکرسی، پھر سورة البقرہ کی آخری تین آیات، آل عمران کی آیت (جو میرے خیال میں) شهد الله أنه لا إله إلا هو ہے، سورة الاعراف کی آیت إن ربکم الله الذي خلق، سورة مومنون کی آیت ومن يدع مع الله إلها آخر لا برهان له به، سورة الجن کی آیت وأنه تعالى جد ربنا ما اتخذ صاحبة ولا ولدا اور سورة الصافات کے شروع کی دس آیات، اور سورة الحشر کی آخری تین آیات، سورة قل هو الله أحد اور معوذتین کے ذریعے، تو اعرابی شفایاب ہو کر کھڑا ہوگیا، اور ایسا لگ رہا تھا کہ اسے کوئی تکلیف نہیں ہے۔
It was narrated from ‘Abdur-Rahman bin Abi LaNa that his father Abu Laila said: “I was sitting with the Prophe when a Bedouin came to him and said: ‘I have a brother who is sick.’ He said: ‘What is the matter with your brother?’ He said: ‘He suffers from a slight mental derangement’ He said: ‘Go and bring him.” He said: “(So he went) and he brought him. He made him sit down in front of him and I heard him seeking refuge for him with Fãtihatil-Kitãb; four Verses from the beginning of Al-Baqarah, two Verses from its middle: ‘And your Ilah (God) is One Ilah (God — Allâh),’ and Ayat Al-Kursi; and three Verses from its end; a Verse from Al ‘Imrán, I think it was: ‘Allah bears witness that La ilaha illa Huwa (none has the right to be worshipped but He),’ a Verse from Al-A`raf ‘Indeed, your Lord is Allah,’ a Verse from Al-Mu’min: ‘And whoever invokes (or worships), besides Allah, any other ilah (sod), of whom he has no proof, a Verse from Alfinn: ‘And He, exalted is the Majesty of our Lord: ten Verses from the beginning of Assaffat; three Verses from the end of AI-Hashr; (then) Say: He is Allah, (the) One:121 and AIMuawwidhatain. Then the Bedouin stood up, healed, and there was nothing wrong with him." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢١٥٤، ومصباح الزجاجة: ١٢٣٩) (منکر) (سند میں ابو جناب الکلبی کثرت تدلیس کی وجہ سے ضعیف راوی ہیں )