نیک فال لینا پسندیدہ ہے اور بدفال لینا ناپسندیدہ ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْبَعِيرُ يَكُونُ بِهِ الْجَرَبُ، فَتَجْرَبُ بِهِ الْإِبِلُ، قَالَ: ذَلِكَ الْقَدَرُ فَمَنْ أَجْرَبَ الْأَوَّلَ.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چھوت چھات، بدشگونی اور الو دیکھنے کی کوئی حقیقت نہیں، ایک شخص آپ ﷺ کی جانب اٹھ کر بولا: اللہ کے رسول! ایک اونٹ کو جب کھجلی ہوتی ہے تو دوسرے اونٹ کو بھی اس کی وجہ سے کھجلی ہوجاتی ہے ١ ؎، آپ ﷺ نے فرمایا: یہی تو تقدیر ہے، آخر پہلے اونٹ کو کس نے کھجلی والا بنایا ٢ ؎۔
Ibn "Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: There is no Aduxi, no omen, and no Hornak: A man stood up and said: O Messenger of Allah, what if a camel has mange and another camel gets mange from it? He said: That is the Divine decree. Who caused the mange in the first one?": (Sahih)