نیک فال لیناپسند یدہ ہے اور بدفال لیناناپسندیدہ ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُورِدُ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیمار اونٹ کو تندرست اونٹ کے پاس نہ جانے دیا جائے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "A man with sick camels should not let them graze or drink alongside healthy ones." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیماری متعدی ہوتی ہے، اس لیے نبی اکرم ﷺ نے تندرست اور غیر مریض جانوروں کو مریض اونٹوں کے قریب لے جانے سے منع کیا، بلکہ آپ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ اکثر ایسا سابقہ تقدیر اور اللہ کی مرضی کے مطابق ہوجاتا ہے، تو جانوروں کا مالک تعدی کے ناحیہ سے فتنہ اور شک میں مبتلا ہوسکتا ہے، اس وجہ سے آپ نے دور رکھنے کا حکم دیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٠٧٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/السلام ٣٣ (٢٢٢١، ٢٢٢٣)، سنن ابی داود/الطب ٢٤ (٣٩١١)، مسند احمد (٢/٤٣٤) (حسن صحیح )