انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے زہریلے ڈنک، نظر بد اور نملہ ١ ؎ پر جھاڑ پھونک کی اجازت دی ہے۔
It was narrated from Anas that the Prophet ﷺ allowed Ruqyah for the scorpions sting, the evil eye, and Namlah (sores or small Pustules ulcers or sores on a persons sides). (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: نملہ: ایک بیماری ہے جس کے سبب پسلی میں دانے نکل آتے ہیں، اور زخم پڑجاتے ہیں۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کو بچھو نے ڈنک مار دیا تو وہ رات بھر نہیں سو سکا، نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا گیا کہ فلاں شخص کو بچھو نے ڈنک مار دیا ہے، اور وہ رات بھر نہیں سو سکا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر وہ شام کے وقت ہی یہ دعا پڑھ لیتا أعوذ بکلمات الله التامات من شر ما خلق یعنی میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کیا ، تو بچھو کا اسے ڈنک مارنا صبح تک ضرر نہ پہنچاتا ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: A scorpion stung a man and he did not sleep all the night. It was said to the Prophet ﷺ : So-and-so was stung by a scorpion and he did not sleep all the night. He said: If he had said, last night: A udhu bikalimatil- lahit-tammati min sharri ma khalaq (i seek refuge in the Perfect Words of Allah from the evil of that which He has created), the scorpion sting would not have harmed him, until morning." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: پھر صبح کو یہ کہہ لیتا تو شام تک کوئی کیڑا ضررنہ پہنچا سکتا سبحان اللہ کیا عمدہ موثر اور مختصر دعا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٦٦٣، ومصباح الزجاجة: ١٢٢٧)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب ١٩ (٣٨٩٩)، مسند احمد (٢/٣٧٥) (صحیح )
عمرو بن حزم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس سانپ کے ڈسے ہوئے کو پیش کیا، تو آپ ﷺ نے اس پر دم (جھاڑ پھونک) کرنے کی اجازت دے دی۔
It was narrated that Amr bin Hazm said: "I recited the Ruqyah for snakebite to the Messenger of Allah ﷺ , or it was recited to him, and he commanded that it be used," (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٧٢٩، ومصباح الزجاجة: ١٢٢٨) (ضعیف) (سند میں ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم اور ان کے دادا کے مابین انقطاع ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مریض کے پاس آتے تو آپ اس کے لیے دعا فرماتے، اور کہتے: أذهب الباس رب الناس واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما اے لوگوں کے رب! تو بیماری دور فرما، اور صحت عطا کر، تو ہی صحت عطا کرنے والا ہے، شفاء اور صحت وہی ہے جو تو عطا کرے، تو ایسی شفاء عطا کر کہ پھر کوئی بیماری باقی نہ رہ جائے ۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ came to a sick person, he would make supplicate for him, and would say: (Take away the pain, a Lord of mankind, and grant healing, for You are the Healer, and there is no healing but Your healing that leaves no trace of sickness)." (Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی انگلی میں تھوک لگا کر بیمار کے لیے یوں کہتے: بسم الله بتربة أرضنا بريقة بعضنا ليشفى سقيمنا بإذن ربنا اللہ کے نام سے، ہماری زمین کی مٹی سے، ہم میں سے بعض کے لعاب سے ملی ہوئی ہے تاکہ ہمارا مریض ہمارے رب کے حکم سے شفاء پا جائے ١ ؎۔
It was narrated from Aisha (RA) that one of the things that the Prophet ﷺ used to say for the sick person, with saliva on his finger (dipped in dust), was: (In the Name of Allah, the dust of our land mixed with the saliva of one of us, to cure our sick one by the permission of our Lord)." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دم کو پڑھتے وقت آپ ﷺ کلمہ شہادت کی انگلی پر تھوکتے اور اس کو مٹی سے لگا کر بیمار کے بدن پر یا بیماری کے مقام پر ملتے، اور یہ دم پڑھتے۔
عثمان بن ابی العاص ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، مجھے ایسا درد تھا کہ لگ رہا تھا وہ مجھے ہلاک کر دے گا، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اپنا دایاں ہاتھ اس پر رکھ کر أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد وأحاذر اللہ کے نام سے میں اللہ تعالیٰ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں اس تکلیف کے شر سے جو میں محسوس کرتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں سات مرتبہ پڑھو ، میں نے یہ دعا پڑھی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاء عطا کی۔
It was nar,r!ted that Uthman bin Abul- As Thaqafi said. "I came to the Prophet ﷺ I was suffering pain that was killing me. The Prophet ﷺ said to me: Put your right hand on it and say: Bismillah, audhu biizzatil-lahi wa qudratihi min sharri ma ajidu wa uhadhiru. (In the Name of Allah, I seek refuge m the might and power of Allah from the evil of what I feel and what I fear)," seven times. I said that, and Allah healed me."(Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ٢٤ (٢٢٠٢)، سنن ابی داود/الطب ١٩ (٣٨٩١)، سنن الترمذی/الطب ٢٩ (٢٠٨٠)، (تحفة الأشراف: ٩٧٧٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العین ٤ (٩)، مسند احمد (٤/٢١، ٢١٧) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: اے محمد! کیا آپ بیمار ہوگئے ہیں؟ آپ ﷺ نے عرض کیا: ہاں ، جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا: بسم الله أرقيك من کل شيء يؤذيك من شر کل نفس أو عين أو حاسد الله يشفيك بسم الله أرقيك اللہ کے نام سے میں آپ پر دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت پہنچائے، ہر جاندار، نظر بند، اور حاسد کے شر سے، اللہ تعالیٰ آپ کو شفاء دے، میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں۔
It was narrated from Abu Saeed that Jibrail came to the Prophet ﷺ and said: " O Muhammad ﷺ , are you ill, He said: Yes. He said: (In the Name of Allah I perform Ruqyah for you, from everything that is harming you, from the evil of every soul or envious eye, may Allah heal you. In the Name of Allah I perform Ruqyah for you). (Sahih)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے، تو آپ نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تم پر وہ دم نہ کروں جو میرے پاس جبرائیل لے کر آئے؟ ، میں نے عرض کیا: ضرور یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ ﷺ نے تین بار یہ پڑھا: بسم الله أرقيك والله يشفيك من کل داء فيك من شر النفاثات في العقد ومن شر حاسد إذا حسد اللہ کے نام سے میں تم پر دم کرتا ہوں، اللہ ہی تمہیں شفاء دے گا، تمہارے ہر مرض سے، گرہوں پر پھونکنے والیوں کے شر سے، اور حاسد کے حسد سے جب وہ حسد کرے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Prophet ﷺ came to visit me (when I was sick), and said to me: Shall I not recite for you a Ruqyah that Jibrail brought to me? I said: May my father and mother be ransomed for you! Yes, O Messenger of Allah! ﷺ He said: (In the Name of Allah I perform Ruqyah for you, from every disease that is in you, and from the evil of those who (practice witchcraft when they) blow in the knots, and from the evil of the envier when he envies), three times." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٩٠١، ومصباح الزجاجة: ١٢٢٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٤٦) (ضعیف) (عاصم بن عبید اللہ ضعیف ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ حسن اور حسین ؓ پر دم فرماتے تو کہتے: أعوذ بکلمات الله التامة من کل شيطان وهامة ومن کل عين لامة میں اللہ کے مکمل کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں ہر شیطان سے، ہر زہریلے کیڑے (سانپ، بچھو وغیرہ) اور ہر نظر بد والی آ نکھ سے ، اور فرماتے: ہمارے والد ابراہیم (علیہ السلام) بھی اسی کے ذریعہ اسماعیل و اسحاق (علیہما السلام) پر دم فرماتے تھے یا کہا: اسماعیل اور یعقوب (علیہما السلام) پر ۔ یہ حدیث وکیع کی ہے۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The Prophet ﷺ sed to seek refuge for Hasan and Husain and say: (I seek refuge for you both in the Perfect Words of Allah, from every devil and every poisonous reptile, and from every evil eye). And he would say: Thus Ibrahim used to seek refuge with Allah for Ismail and Ishaq, or he said: for Ismail and Yaqub" (Sahih)
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ بخار اور ہر طرح کے درد کے لیے صحابہ کرام ؓ کو سکھاتے کہ اس طرح کہیں: بسم الله الكبير أعوذ بالله العظيم من شر عرق نعار ومن شر حر النار یعنی اللہ عظیم کے نام سے، جوش مارنے والی رگ کے شر سے، اور جہنم کی گرمی کے شر سے میں اللہ عظیم کی پناہ مانگتا ہوں ۔ ابوعامر کہتے ہیں کہ میں اس میں لوگوں کے برخلاف یعّار کہتا ہوں ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that, for fever and all kinds of pain, the Prophet ﷺ used to teach them to say: (In the Name of Allah the Great, I seek refuge with Allah the Almighty from the evil of a vein gushing (with blood) and the evil of the heat of the Fire." (Daif) (One of the narrators) Abu Ammar said: "I dilfered with the people on this, I said: Screaming." Another chain from Ibn Abbas, from the Prophet ﷺ with similar, wording and he said: "From the evil of a vein screaming (with blood)."
Notes · وضاحت
١ ؎: اور لوگ نعارنون سے کہتے ہیں یعنی جوش مارنے والا، اور یعار کے معنی بدخلق، سخت اور سرکش کے ہیں۔
اس سند سے بھی ابن عباس ؓ سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے اس میں یعار ہے (نعار نہیں) ۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطب ٢٦ (٢٠٧٥)، (تحفة الأشراف: ٦٠٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣٠٠١) (ضعیف) (ابراہیم اشہلی ضعیف راوی ہیں )
عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے، آپ ﷺ کو بخار تھا، تو انہوں نے کہا: بسم الله أرقيك من کل شيء يؤذيك من حسد حاسد ومن کل عين الله يشفيك یعنی اللہ کے نام سے میں آپ پر دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت دے، حاسد کے حسد سے، اور ہر نظر بد سے، اللہ تعالیٰ آپ کو شفاء عطا کرے ۔
It was narrated from Umair that he heard Junadah bin Abu Umayyah say: "I heard Ubadahh bin Samit say: Jibrail came to the Prophet ﷺ when he was suffering from fever and said: (In the Name of Allah I perform Ruqyah for you, from everything that is harming you; from the envy of the envier and from every evil eye, may Allah heal you).": (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٠٨١، ومصباح الزجاجة: ١٢٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٢٣) (حسن )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ دعا پڑھ کر (منتر) کو پھونکا کرتے تھے ١ ؎۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet ﷺ used to blow when performing Ruqyah.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دعا پڑھ کر اپنے اوپر پھونک لیتے تھے، یا دوسرے پر پڑھ کر پھونکتے تھے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جھاڑ پھونک جائز ہے، بشرطیکہ وہ کتاب و سنت سے ثابت دعاؤوں کے ذریعے ہو۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب بیمار پڑے تو اپنے اوپر معوذات پڑھتے اور پھونک لیتے، لیکن جب آپ کا مرض شدت اختیار کر گیا تو میں آپ ﷺ کے اوپر پڑھتی اور برکت کی امید سے آپ ہی کا ہاتھ آپ پر پھیرتی۔
It was narrated from Aisha (RA) : "Whenever the Prophet ﷺ felt ill, he would recite the Muawwidhat and blow, and when his pain grew worse, I would recite over him and wipe his hand over him, hoping for its blessing."
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فصل القرآن ١٤ (٥٠١٦)، صحیح مسلم/السلام ٢٠ (٢١٩٢)، سنن ابی داود/الطب ١٩ (٣٩٠٢)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٨٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العین ٤ (١٠)، مسند احمد (٦/١٠٤، ١٨١، ٢٥٦، ٢٦٣) (صحیح )
زینب زوجہ عبداللہ بن مسعود ؓ کہتی ہیں کہ ہمارے پاس ایک بڑھیا آیا کرتی تھیں، وہ حمرہ ١ ؎ کا دم کرتی تھیں، ہمارے پاس بڑے پایوں کی ایک چارپائی تھی، اور عبداللہ بن مسعود ؓ کا معمول تھا کہ جب گھر آتے تو کھنکھارتے اور آواز دیتے، ایک دن وہ گھر کے اندر آئے جب اس بڑھیا نے ان کی آواز سنی تو ان سے پردہ کرلیا، عبداللہ بن مسعود ؓ آ کر میری ایک جانب بیٹھ گئے اور مجھے چھوا تو ان کا ہاتھ ایک گنڈے سے جا لگا، پوچھا: یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: یہ سرخ بادے (حمرہ ) کے لیے دم کیا ہوا گنڈا ہے، یہ سن کر انہوں نے اسے کھینچا اور کاٹ کر پھینک دیا اور کہا: عبداللہ کے گھرانے کو شرک کی حاجت نہیں ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: دم، تعویذ، گنڈے اور ٹونا شرک ہیں ١ ؎، ایک دن میں باہر نکلی تو مجھ پر فلاں شخص کی نظر پڑگئی، تو میری اس آنکھ سے جو اس سے قریب تر تھی آنسو بہہ نکلے، جب میں اس پر دم کرتی تو اس کے آنسو رک جاتے، اور جب میں دم کرنا چھوڑ دیتی تو آنسو بہنے لگتے، انہوں نے کہا: یہی تو شیطان ہے، جب تم اس کی اطاعت کرتی ہو تو وہ تم کو چھوڑ دیتا ہے، اور جب تم اس کی نافرمانی کرتی ہو تو وہ تمہاری آنکھ میں اپنی انگلی چبھو دیتا ہے، لیکن اگر تم وہ عمل کرتیں جو رسول اللہ ﷺ نے ایسے موقع پر کیا تو تمہارے حق میں بہتر ہوتا، اور تم ٹھیک ہوجاتیں، تم اپنی آنکھ میں پانی کے چھینٹے مارا کرو، اور یہ دعا پڑھا کرو: أذهب الباس رب الناس اشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما اے لوگوں کے رب، مصیبت دور فرما، شفاء عطا کر، تو ہی شفاء عطا کرنے والا ہے، تیری شفاء کے سوا اور کوئی شفاء ہے بھی نہیں، ایسی شفاء دے کہ کوئی بیماری باقی رہ نہ جائے ۔
It was narrated that Zainab said: "There was an old woman who used to enter upon us and perform Ruquah from erysipelas: Contagious disease which causes fever and leaves a red coloration of the skin. We had a bed with long legs, and when Abdullah entered he would clear this throat and make noise. He entered one day and when she heard his voice she veiled herself from him. He came and sat beside me, and touched me, and he found a string. He said: What is this? I said: "An amulet against erysipelas. He pulled it, broke it and threw it away, and said: The family of Abdullah has no need of polytheism. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "RlIqyah (i.e., which consist of the names of idols and devils etc.), amulets and Tiwalah (charms) are polytheism.": I said: I went out one day and so-and-so looked at me, and my eye began to water on the side nea res t him. When I recited Ruqyah for it, it stopped, but if I did not recite Ruqyah it watered again. He said: That is Satan, if you obey him he leaves you alone but if you disobey him he pokes you with his finger in your eye. But if you do what the Messenger of Allah ﷺ used to do, that will be better for you and more effective in healing. Sprinkle water in your eye and say: (fake away the pain, O Lord of mankind, and grant healing, for You are the Healer, and there is no healing but Your healing that leaves no trace of sickness). (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: حمر ۃ : ایک بیماری جس میں جسم پر سرخ دانے نکل آتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٦٤٣، مصباح الزجاجة: ١٢٣١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب ١٧ (٣٨٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨١) (ضعیف) (تراجع الألبانی: رقم: ١٤٢ )
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں پیتل کا ایک کڑا ہے، پوچھا: یہ کیسا کڑا ہے، اس نے جواب دیا: یہ واہنہ ١ ؎ کی بیماری سے بچنے کے لیے ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے اتارو، اس لیے کہ یہ تمہارے اندر مزید وہن (کمزوری) پیدا کر دے گا ٢ ؎۔
It was narrated from Imran bin Husain that the Prophet ﷺ saw a man with a rass ring on his hand. He said: What is this ring?" He said: "It is for Wahinah." He said: "Take it off, for it will only increase you in weakness." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: واہنہ: وہ ریاحی درد ہے جو بازو وغیرہ میں ہوتا ہے جس سے کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ ٢ ؎: تعویذ گنڈا، جادو منتر اور اسی طرح کا ہر وہ عمل جو کتاب اللہ اور سنت رسول سے ثابت نہ ہو حرام و ناجائز ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٨٠٧، ومصباح الزجاجة: ١٢٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٤٥ (ضعیف) (مبارک بن فضالہ اور حسن بصری دونوں مدلس ہیں، روایت عنعنہ سے کی ہے )
ام جندب ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یوم النحر کو بطن وادی میں جمرہ عقبہ کی رمی کرتے دیکھا، پھر آپ ﷺ لوٹے تو آپ کے پیچھے پیچھے قبیلہ خثعم کی ایک عورت آئی، اس کے ساتھ ایک بچہ تھا جس پر آسیب تھا، وہ بولتا نہیں تھا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ میرا بیٹا ہے اور یہی میرے گھر والوں میں باقی رہ گیا ہے، اور اس پر ایک بلا (آسیب) ہے کہ یہ بول نہیں پاتا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تھوڑا سا پانی لاؤ، پانی لایا گیا، تو آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور اس میں کلی کی، پھر وہ پانی اسے دے دیا، اور فرمایا: اس میں سے تھوڑا سا اسے پلا دو، اور تھوڑا سا اس کے اوپر ڈال دو، اور اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے شفاء طلب کرو ، ام جندب ؓ کہتی ہیں کہ میں اس عورت سے ملی اور اس سے کہا کہ اگر تم اس میں سے تھوڑا سا پانی مجھے بھی دے دیتیں، (تو اچھا ہوتا) تو اس نے جواب دیا کہ یہ تو صرف اس بیمار بچے کے لیے ہے، ام جندب ؓ کہتی ہیں کہ میں اس عورت سے سال بھر بعد ملی اور اس بچے کے متعلق پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ ٹھیک ہوگیا ہے، اور اسے ایسی عقل آگئی جو عام لوگوں کی عقل سے بڑھ کر ہے۔
It was narrated that Umm Jundub said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ stoning the Aqabahh Pillar from the bottom of the valley on the Day of Sacrifice, then he went away. A woman from Khath am followed him, and with her was a son of hers who had been afflicted, he could not speak. She said: O Messenger of Allah ﷺ This is my son, and he is all I have left of my family. He has been afflicted and cannot speak. The Messenger of Allah ﷺ said: Bring me some water. So it was brought, and he washed his hands and rinsed out his mouth. Then he gave it to her and said: Give him some to drink, and pour some over him, and seek Allahs healing for him.": She (Umm jundub) said: "I met that woman and said: Why dont you give me some? She said: It is only for the sick one. I met that woman one year later and asked her about the boy. She said: He recovered and became (very) smart, not like the rest of the people. (Sahih)
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٠٣١) (ضعیف) (سند میں یزید بن أبی زیاد ضعیف راوی ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دو دھاری سانپ کو مار ڈالنے کا حکم دیا، اس لیے کہ وہ آنکھ کی بینائی کو زائل کرنے اور عورتوں کے حمل کو گرا دیتا ہے، یہ ایک خبیث سانپ ہے ١ ؎۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "The Prophet ﷺ enjoined killing Dhit- Tufytain for it takes away the sight and causes miscarriage." (Sahih) That means a wicked snake .
Notes · وضاحت
١ ؎: جس کو عربی میں ذي الطفيتين کہتے ہیں، وہ ایک خبیث زہریلا سانپ ہے اس کی پیٹھ پر دو سفید لکیریں ہوتی ہیں۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سانپوں کو مار ڈالو، دو دھاری اور دم کٹے سانپ کو ضرور مارو، اس لیے کہ یہ دونوں آنکھ کی بینائی زائل کردیتے اور حمل کو گرا دیتے ہیں ۔
It was narrated from Salim, from his father, that the Messenger of Allah ﷺ said: "Kill snakes, and kill Dhit- Tufyatain and the Abtar, for they take away the sight and cause miscarriage." (Sahih)