دو دھاری والاسانپ مار ڈالنا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَبِقَتْلِ ذِي الطُّفْيَتَيْنِ، فَإِنَّهُ يَلْتَمِسُ الْبَصَرَ وَيُصِيبُ الْحَبَلَ، يَعْنِي: حَيَّةً خَبِيثَةً.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دو دھاری سانپ کو مار ڈالنے کا حکم دیا، اس لیے کہ وہ آنکھ کی بینائی کو زائل کرنے اور عورتوں کے حمل کو گرا دیتا ہے، یہ ایک خبیث سانپ ہے ١ ؎۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "The Prophet ﷺ enjoined killing Dhit- Tufytain for it takes away the sight and causes miscarriage." (Sahih) That means a wicked snake .
Notes · وضاحت
١ ؎: جس کو عربی میں ذي الطفيتين کہتے ہیں، وہ ایک خبیث زہریلا سانپ ہے اس کی پیٹھ پر دو سفید لکیریں ہوتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/السلام ٣٧ (٢٢٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٠٦٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/بدء الخلق ١٥ (٣٣٠٨) (صحیح )