سنت کی پیروی کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 1 · 266 hadiths · Page 9 of 14

161Sunan Ibne-Majah

اہل بدر کے فضائل۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ جَمِيعًا، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيفَهُ .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کو گالیاں نہ دو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا اللہ کی راہ میں صرف کر ڈالے تو ان میں کسی کے ایک مد یا آدھے مد کے برابر بھی ثواب نہ پائے گا ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Do not revile my CompanionS for by the One in Whose Hand is my oiiil If any one of you were to spend the equivalent of Mount Uhud in gold it would not equal a Mudd spent by anyone of them, nor even half a Mudd.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: مُدّ: ایک معروف پیمانہ ہے جو اہل حجاز کے نزدیک ایک رطل اور تہائی رطل کا ہوتا ہے، یہ صاع نبوی کا چوتھا حصہ ہوتا ہے، مد کا وزن موجودہ مستعمل وزن سے تقریباً چھ سو پچیس ( ٦٢٥ ) گرام کے قریب ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٥ (٣٦٧٣)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٥٤ (٢٥٤١)، سنن ابی داود/السنة ١١ (٤٦٥٨)، سنن الترمذی/المناقب ٥٩ (٣٨٦١)، (تحفة الأشراف: ٤٠٠١، ١٢٥٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١١، ٤٥، ٥٥، ٦٣) (صحیح )
162Sunan Ibne-Majah

اہل بدر کے فضائل۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ نُسَيْرِ بْنِ ذُعْلُوقٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ، يَقُولُ: لَا تَسُبُّوا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمُقَامُ أَحَدِهِمْ سَاعَةً خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمْرَهُ .

نسیر بن ذعلوق کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ کہتے تھے: اصحاب محمد ﷺ کو گالیاں نہ دو، ان کا نبی اکرم ﷺ کی صحبت میں ایک لمحہ رہنا تمہارے ساری عمر کے عمل سے بہتر ہے ۔

It was narrated that Nusair bin Dhu’luq said: “Ibn ‘Umar used to say: ‘Do not revile the Companions of Muhammad ﷺ , for the stay of anyone of them for a brief period (with the Prophet ﷺ ) is better than all the good deeds that anyone of you does in his lifetime.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: ٨٥٥٠، ومصباح الزجاجة: ٦١) (حسن )
163Sunan Ibne-Majah

انصار (رض) کے فضائل۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَحَبَّ الْأَنْصَارَ أَحَبَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْأَنْصَارَ أَبْغَضَهُ اللَّهُ ، قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لِعَدِيٍّ: أَسَمِعْتَهُ مِنَ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: إِيَّايَ حَدَّثَ.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے انصار سے محبت کی اس سے اللہ نے محبت کی، اور جس شخص نے انصار سے دشمنی کی اس سے اللہ نے دشمنی کی ۔ شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے عدی سے پوچھا: کیا آپ نے یہ حدیث خود براء بن عازب ؓ سے سنی ہے؟ تو انہوں نے کہا: مجھ ہی سے تو انہوں نے یہ حدیث بیان کی ١ ؎۔

It was narrated that Barâ’ bin ‘ Azib (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever loves the Ansar. Allah will love him, and whoever hates the Ansâr, Allah will hate him.” (One of the narrators) Shu’bah said: “I said to Adi:’Did you hear that from Bará’ bin ‘Azib?’ He said: ‘It was to me at he narrated it,’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غیر صحابہ صحابہ کرام ؓ کے درجے کو نہیں پہنچ سکتے، اور صحبت رسول والے شرف کے برابر کوئی عمل نہیں ہوسکتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/مناقب الأ نصار ٤ (٣٧٨٣)، صحیح مسلم/ الإیمان ٣٣ (٧٥)، سنن الترمذی/المناقب ٦٦ (٣٩٠٠) سنن النسائی/ الکبری (٨٣٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/ ٢٨٣، ٢٩٢) (صحیح )
164Sunan Ibne-Majah

انصار (رض) کے فضائل۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ الْمُهَيْمِنِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْأَنْصَارُ شِعَارٌ، وَالنَّاسُ دِثَارٌ، وَلَوْ أَنَّ النَّاسَ اسْتَقْبَلُوا وَادِيًا، أَوْ شِعْبًا، وَاسْتَقْبَلَتِ الْأَنْصَارُ وَادِيًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَءًا مِنَ الْأَنْصَارِ .

سعد بن مالک انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: انصار شعار ہیں ١ ؎، اور لوگ دثار ہیں ٢ ؎، اگر لوگ کسی وادی یا گھاٹی میں جائیں اور انصار کسی دوسری وادی میں جائیں تو میں انصار کی وادی میں جاؤں گا، اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا ۔

It was narrated from ‘Abdul-Muhaimin bin ‘Abbâs bin Sahl bin Sa’d, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah ﷺ said: “The Ansar are an inner garment and the people are an outer garment. If the people were to head towards one valley or a narrow mountain pass and the Ansdr towards another, I would travel to the valley of the Ansar, and were it not for the Hijrah, I would have been a man from among the Ansar.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: شعار: بدن سے متصل کپڑا، یعنی میرے قریب تر اور نصرت دین میں خاص الخاص ہیں۔ ٢ ؎: دثار: اوپر پہنا جانے والا کپڑا یعنی ان کے مقابلہ میں دور، نیز اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہجرت اللہ تعالیٰ کے نزدیک معظم اور قابل قدر عمل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٨٠١، ومصباح الزجاجة: ٦٢) (صحیح) (اس کی سند میں عبد المہیمن بن عباس ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طرق و شواہد سے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة: ١٧٦٨ )
165Sunan Ibne-Majah

انصار (رض) کے فضائل۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَحِمَ اللَّهُ الْأَنْصَارَ، وَأَبْنَاءَ الْأَنْصَارِ، وَأَبْنَاءَ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ .

عوف ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ انصار پر، ان کے بیٹوں اور پوتوں پر رحم کرے ۔

Kathir bin ‘Abdulláh bin ‘Amr bin ‘Awf narrated from his father, that his grandfather said: “The Messenger of Allah ﷺ said:‘May Allah have mercy on the Ansar, and the children of the Ansar, and the grandchildren of the Ansar.’” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٧٨٠، ومصباح الزجاجة: ٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٦٥) (ضعیف جدًا) (سند میں کثیر بن عبد اللہ سخت ضعیف اور منکر الحدیث راوی ہے، اسے امام شافعی نے کذاب بلکہ رکن کذب کہا ہے، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن حدیث اللهم اغفر الأنصار وأبناء الأنصار کے لفظ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٣٦٤٠ )
166Sunan Ibne-Majah

عبداللہ بن عباس (رض) کے فضائل۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: ضَمَّنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ، وَقَالَ: اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْحِكْمَةَ وَتَأْوِيلَ الْكِتَابِ .

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے سینہ سے لگایا، اور یہ دعا فرمائی: اللهم علمه الحکمة وتأويل الکتاب اے اللہ! اس کو میری سنت اور قرآن کی تفسیر کا علم عطاء فرما ۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ embraced me and said: ‘O Allah, teach him wisdom and the (correct) interpretation of the Book.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ١٧ (٧٥ مختصرًا) فضائل الصحابة ٢٤ (٣٧٥٦)، الاعتصام (٧٢٧٠)، سنن الترمذی/المناقب ٤٣ (٣٨٢٤)، (تحفة الأشراف: ٦٠٤٩)، سنن النسائی/الکبری (٨١٧٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٦٦، ٢٦٩، ٣٥٩) (صحیح )
167Sunan Ibne-Majah

خوارج کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّة، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: وَذَكَرَ الْخَوَارِجَ، فَقَالَ: فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ، أَوْ مُودَنُ الْيَدِ، أَوْ مَثْدَنُ الْيَدِ، وَلَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَحَدَّثْتُكُمْ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِي، وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ.

عبیدہ فرماتے ہیں کہ علی ؓ نے خوارج کا ذکر کیا، اور ذکر کرتے ہوئے کہا: ان میں ایک آدمی ناقص ہاتھ کا ہے ١ ؎، اور اگر مجھے ڈر نہ ہوتا کہ تم خوشی سے اترانے لگو گے تو میں تمہیں ضرور بتاتا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی زبان سے ان کے قاتلین کے لیے کس ثواب اور انعام و اکرام کا وعدہ فرمایا ہے، میں نے کہا: کیا آپ نے یہ بات محمد ﷺ سے سنی ہے؟ کہا: ہاں، کعبہ کے رب کی قسم! (ضرور سنی ہے) ، اسے تین مرتبہ کہا۔

‘Ubaidah narrated from ‘Ali bin Abu Tâlib, that he mentioned the Khawarij and said: “Among them there will be a man with a defective hand, or a short hand, or small hand If you were to exercise restraint (i.e. not become ovetjoyed) I would tell you of what Allah has promised upon the lips of Muhammad ﷺ for those who kill them.” I (‘Ubaidah) said: “Did you hear that from Muhammad ﷺ ” He said: “Yes, by the Lord of the Ka’bah’ — three times.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: راوی کو شک ہے کہ مخدج اليد أو مودن اليد أو مثدون اليد میں سے کون سا لفظ استعمال کیا ہے، جب کہ ان سب کے معنی تقریباً برابر ہیں، یعنی ناقص ہاتھ۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ٤٨ (١٠٦٦)، سنن ابی داود/السنة ٣١ (٤٧٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/ ١٣، ٦٥، ٨٣، ٩٥، ١١٣، ١٢٢ ١٤٤ ١٤٥) (صحیح )
168Sunan Ibne-Majah

خوارج کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْزِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ النَّاسِ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فَمَنْ لَقِيَهُمْ فَلْيَقْتُلْهُمْ فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ عِنْدَ اللَّهِ لِمَنْ قَتَلَهُمْ .

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اخیر زمانہ میں کچھ نوعمر، بیوقوف اور کم عقل لوگ ظہور پذیر ہوں گے، لوگوں کی سب سے اچھی (دین کی) باتوں کو کہیں گے، قرآن پڑھیں گے، لیکن ان کے حلق سے نہ اترے گا، وہ اسلام سے ویسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، تو جو انہیں پائے قتل کر دے، اس لیے کہ ان کا قتل قاتل کے لیے اللہ تعالیٰ کے نزدیک باعث اجر و ثواب ہے ١ ؎۔

It was narrated that ‘Abduilâh bin Mas’ud said: “The Messenger of Allah ﷺ , said: ‘At the end of time there will appear a people with new teeth (i. e., young in age), with foolish minds. They will speak the best words ever uttered by mankind and they will recite the Qur’ân, but it will not go any deeper than their collarb0n They will pass through Islam like an arrow passes through its target. Whoever meets them, let him kill them, for killing them will bring a reward from Allah for those who kill them.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اخیر زمانہ سے مراد خلافت راشدہ کا آخری زمانہ ہے اس لئے کہ خوارج کا ظہور اسی وقت ہوا، اور نہروان کا واقعہ علی ؓ کی خلافت میں ٣٣ ھ میں ہوا، اس وقت خلافت راشدہ کو اٹھائیس برس گزرے تھے، خلافت کے تیس سال کی مدت مکمل ہونے میں صرف دو سال باقی تھے۔ ٢ ؎: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ لوگ نوعمر اور نوجوان ہوں گے، کم عمری کی وجہ سے سوج بوجھ میں پختگی نہ ہوگی، بظاہر وہ اچھی باتیں کریں گے، اور ان کی باتیں موافق شرع معلوم ہوں گی، مگر حقیقت میں خلاف شرع ہوں گی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفتن ٢٤ (٢١٨٨)، (تحفة الأشراف: ٩٢١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨١، ١١٣) (صحیح )
169Sunan Ibne-Majah

خوارج کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِي الْحَرُورِيَّةِ شَيْئًا؟، فَقَالَ: سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ قَوْمًا يَتَعَبَّدُونَ، يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصَوْمَهُ مَعَ صَوْمِهِمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، أَخَذَ سَهْمَهُ فَنَظَرَ فِي نَصْلِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، فَنَظَرَ فِي رِصَافِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، فَنَظَرَ فِي قِدْحِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، فَنَظَرَ فِي الْقُذَذِ فَتَمَارَى، هَلْ يَرَى شَيْئًا أَمْ لَا؟ .

ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری ؓ سے کہا: کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کو حروریہ ١ ؎ (خوارج) کے بارے میں کچھ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو ایک ایسی قوم کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے جو بڑی عبادت گزار ہوگی، اس کی نماز کے مقابلہ میں تم میں سے ہر ایک شخص اپنی نماز کو کمتر اور حقیر سمجھے گا ٢ ؎، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار کے جسم سے نکل جاتا ہے کہ تیر انداز اپنا تیر لے کر اس کا پھل دیکھتا ہے، تو اسے (خون وغیرہ) کچھ بھی نظر نہیں آتا، پھر اس کے پھل کو دیکھتا ہے تو بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اپنے تیر کی لکڑی کو دیکھتا ہے تو بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر وہ تیر کے پر کو دیکھتا ہے تو شک میں مبتلا ہوتا ہے کہ آیا اسے کچھ اثر دکھایا نہیں۔

It was narrated that Abu Salamah said: “I said to Abu Sa’eed Khudri (RA) : ‘Did you hear the Messenger of Allah ﷺ mention anything about the Haruriyyah (a sect of Khawarij?’ He said: ‘I heard him mention a people who would appear to be devoted worshippers: “Such that any one of you would regard his own prayer and fasting as insignificant when compared to theirs. But they will pass through Islam like an arrow passing through its target, then he (the archer) picks up his arrow and looks at its Iron head but does not see anything, then he looks at the shaft arid does not see anything then he looks at the band: that which is wrapped around the Iron head where it is connected to the shaft, then he looks at the feather and is not sure whether he sees anything or not” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: حروریہ: حروراء کی طرف نسبت ہے جو کوفہ کے قریب ایک بستی کا نام ہے اس سے مراد خوارج ہیں، انہیں حروریہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اسی بستی سے خروج کیا تھا۔ ٢ ؎: ظاہری عبادت و ریاضت اگر عقیدہ اسلام سے الگ ہو کر کی جا رہی ہے تو وہ بیکار محض ہے، یہ بھی پتہ چلا کہ بدعت کی نحوست سے نماز و روزہ جیسی اہم عبادتیں بھی مقبول نہیں ہوتیں، تیر شکار سے پار نکل جانے میں جس قدر سرعت رکھتا ہے، اہل بدعت خصوصاً خوارج دین سے خارج ہونے میں سریع تر ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأنبیاء ٦ (٣٣٤٤)، المناقب ٢٥ (٣٦١٠)، المغازي ٦٢ (٤٣٥١)، تفسیر التوبہ ١٠ (٤٦٦٧)، فضائل القرآن ٣٦ (٥٠٥٨)، الأدب ٩٥ (٦١٦٣)، الاستتابة ٧ (٦٩٣٣)، التوحید ٢٣ (٧٤٣٢)، صحیح مسلم/الزکاة ٤٧ (١٠٦٤)، (تحفة الأشراف: ٤٤٢١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/السنة ٣١ (٤٧٦٤)، سنن النسائی/الزکاة ٧٩ (٢٥٧٩)، التحریم ٢٢ (٤١٠٦)، موطا امام مالک/القرآن ٤ (١٠)، مسند احمد (٣/ ٥٦، ٦٠، ٦٥، ٦٨، ٧٢، ٧٣) (صحیح )
170Sunan Ibne-Majah

خوارج کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي، أَوْ سَيَكُونُ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حُلُوقَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ، هُمْ شِرَارُ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَافِعِ بْنِ عَمْرٍو، أَخِي الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، فَقَالَ: وَأَنَا أَيْضًا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے بعد میری امت میں سے کچھ لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے، لیکن وہ ان کی حلق سے نہ اترے گا، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار کے جسم سے نکل جاتا ہے، پھر وہ دین کی طرف واپس لوٹ کر نہ آئیں گے، انسانوں اور حیوانوں میں بدترین لوگ ہیں ١ ؎۔ عبداللہ بن صامت کہتے ہیں: میں نے اس کا ذکر حکم بن عمرو غفاری کے بھائی رافع بن عمرو ؓ سے کیا تو انہوں نے کہا: میں نے بھی اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔

It was narrated that Abu Dharr (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ There will be the people among my Ummah (nation) after me who will recite the Qur’ân, but it will not go any deeper than their throats. They will pass through Islam like an arrow passing through its target then they will never return to it. They are the most evil of mankind and of all creation.’”‘Abdullâh bin Sâmit said: “I mentioned that to Rafi bin ‘Amr’, the brother of Hakam bin ‘Amr’ Ghifâri and he said: ‘I also heard that from the Messenget of Allah ﷺ ” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: خلق سے مراد لوگ، اور خلیق ۃ سے چوپائے اور جانور ہیں، اس حدیث سے پتہ چلا کہ اہل بدعت جانوروں سے بھی بدتر ہیں، کیونکہ خوارج اہل بدعت ہی کا ایک فرقہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ٤٧ (١٠٦٧)، (تحفة الأشراف: ٣٥٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٥، ٥/٣١، ٦١)، سنن الدارمی/الجہاد ٤٠ (٢٤٣٩) (صحیح )
171Sunan Ibne-Majah

خوارج کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ .

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ قرآن تو ضرور پڑھیں گے، مگر وہ اسلام سے نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے ۔

It was narrated Ibn Abbas (RA) said: The Messanger of Allah ﷺ said: Some people among my Ummah will recite he Quran, but they will pass through Islam like an arrow passing through it targets. (sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦١٢٥، ومصباح الزجاجة: ٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٥٦) (صحیح) (سند میں سماک ضعیف ہیں، اور ان کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے، لیکن یہ حدیث دوسرے شواہد سے صحیح ہے، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٢٢١ )
172Sunan Ibne-Majah

خوارج کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ وَهُوَ يَقْسِمُ التِّبْرَ وَالْغَنَائِمَ، وَهُوَ فِي حِجْرِ بِلَالٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: اعْدِلْ يَا مُحَمَّدُ فَإِنَّكَ لَمْ تَعْدِلْ، فَقَالَ: وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ بَعْدِي إِذَا لَمْ أَعْدِلْ ، فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى أَضْرِبَ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَذَا فِي أَصْحَابٍ، أَوْ أُصَيْحَابٍ لَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ .

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مقام جعرانہ میں تشریف فرما تھے، اور آپ بلال ؓ کی گود میں سے سونا، چاندی اور اموال غنیمت (لوگوں میں) تقسیم فرما رہے تھے، تو ایک شخص نے کہا: اے محمد! عدل و انصاف کیجئیے، آپ نے عدل سے کام نہیں لیا، آپ ﷺ نے فرمایا: تیرا برا ہو، اگر میں عدل و انصاف نہ کروں گا تو میرے بعد کون عدل کرے گا؟ ، عمر ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے، میں اس منافق کی گردن اڑا دوں، آپ ﷺ نے فرمایا: اس کے اور بھی ساتھی ہیں جو قرآن کو پڑھتے ہیں، لیکن وہ ان کی حلق سے نیچے نہیں اترتا ہے، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Zubair that Jâbir bin ‘Abdullâh said: “The Messenger of Allah ﷺ was in Ji’ránah and he was distributing gold nuggets and spoils of war which were in Bilâl’s lap. A man said: ‘Do justice, O Muhammad ﷺ ! For you have not done justice!’ He said: ‘Woe to you! Who will do justice after me if I do not do justice?’‘Umar said: ‘O Messenger of Allah! ﷺ Let me strike the neck of this hypocrite!’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘This man has some companions who recite the Qur’an but it does not go any deeper than their collarbones. They will pass through Islam like an arrow passing through its target.’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: جعرانہ: مکہ سے آٹھ نو میل پر ایک مقام کا نام ہے، جہاں پر نبی اکرم ﷺ نے غزوہ حنین کے غنائم تقسیم کئے تھے، اس وقت جس شخص نے اعتراض کیا تھا وہ ذوالخویصرہ تھا، آپ ﷺ نے ازراہ مصلحت اس کی گردن مارنے کی اجازت نہ دی، ایسا نہ ہو کہ کہیں مشرکین میں یہ مشہور ہوجائے کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٧٧٢، ومصباح الزجاجة: ٦٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فرض الخمس ١٥ (٣١٣٨)، صحیح مسلم/الزکاة ٤٧ (١٠٦٣)، مسند احمد (٣/٣٥٣) (صحیح )
173Sunan Ibne-Majah

خوارج کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق الْأَزْرَقُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْخَوَارِجُ كِلَابُ النَّارِ .

ابن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خوارج جہنم کے کتے ہیں ۔

It was narrated that Ibn Abu Awfa said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The Khawarij are the dogs of Hell.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥١٦٩، ومصباح الزجاجة: ٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٥٥) (صحیح) (اعمش کا سماع ابن أبی أوفی سے ثابت نہیں ہے، اس لئے سند میں انقطاع ہے، لیکن دوسرے طرق اور شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: ٣٥٥٤ )
174Sunan Ibne-Majah

خوارج کا بیان

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَنْشَأُ نَشْءٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، كُلَّمَا خَرَجَ قَرْنٌ قُطِعَ ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: كُلَّمَا خَرَجَ قَرْنٌ قُطِعَ أَكْثَرَ مِنْ عِشْرِينَ مَرَّةً، حَتَّى يَخْرُجَ فِي عِرَاضِهِمُ الدَّجَّالُ .

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک ایسی قوم پیدا ہوگی جو قرآن پڑھے گی لیکن قرآن اس کے حلق سے نیچے نہ اترے گا، جب بھی ان کا کوئی گروہ پیدا ہوگا ختم کردیا جائے گا ، ابن عمر ؓ کہتے ہیں: میں نے بیسیوں بار رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جب بھی ان کا کوئی گروہ نکلے گا ختم کردیا جائے گا، یہاں تک کہ انہیں میں سے دجال نکلے گا ١ ؎۔

It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: “There will emerge people who will recite the Qur’ân but it will not go any deeper than their collarbones. Whenever a group of them appears, they should be cut off (i.e. killed).” Ibn ‘Unmar said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Whenever a group of them appears, they should be killed’ — (he said it) more than twenty times — ‘until Dajjal emerges among them.” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: ختم کردیا جائے گا، یعنی اس کا مستحق ہوگا کہ اس کا خاتمہ اور صفایا کردیا جائے، اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اہل بدعت ہی سے دجال کا خروج ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٧٥٨، ومصباح الزجاجة: ٦٧) (حسن )
175Sunan Ibne-Majah

خوارج کا بیان

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَخْرُجُ قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ، أَوْ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ أَوْ حُلْقُومَهُمْ، سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ إِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ، أَوْ إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ .

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آخری زمانہ (خلافت راشدہ کے اخیر) میں یا اس امت میں سے ایک ایسی قوم نکلے گی جو قرآن پڑھے گی لیکن وہ ان کے نرخرے یا حلق سے نیچے نہ اترے گا، ان کی نشانی سر منڈانا ہے، جب تم انہیں دیکھو یا ان سے ملو تو انہیں قتل کر دو ١ ؎۔

It was narrated that Anas bin Mâlik said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘At the end of time or among this nation (Ummah) there will appear people who will recite Qur’ân but it will not go any deeper than their collarbones or their throats. Their distinguishing feature will be their shaved heads. if you see them, or meet them, then kill them.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا نشان سر منڈانا ہے، اور اس سے بعض لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ بال منڈانا مکروہ ہے، لیکن یہ صحیح نہیں، بعض اوقات سر منڈانا عبادت ہے، جیسا کہ حج اور عمرہ میں، اور پیدائش کے ساتویں روز بچے کا سر منڈانا سنت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/السنة ٣١ (٤٧٦٦)، (تحفة الأشراف: ١٣٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٩٧) (صحیح )
176Sunan Ibne-Majah

خوارج کا بیان

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، يَقُولُ: شَرُّ قَتْلَى قُتِلُوا تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ، وَخَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوا كِلَابُ أَهْلِ النَّارِ، قَدْ كَانَ هَؤُلَاءِ مُسْلِمِينَ فَصَارُوا كُفَّارًا ، قُلْتُ يَا أَبَا أُمَامَةَ: هَذَا شَيْءٌ تَقُولُهُ، قَالَ: بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوامامہ ؓ کہتے ہیں یہ خوارج سب سے بدترین مقتول ہیں جو آسمان کے سایہ تلے قتل کیے گئے، اور سب سے بہتر مقتول وہ ہیں جن کو جہنم کے کتوں (خوارج) نے قتل کردیا، یہ خوارج مسلمان تھے، پھر کافر ہوگئے ١ ؎۔ ابوغالب کہتے ہیں کہ میں نے ابوامامہ ؓ سے پوچھا کہ آپ یہ بات خود اپنی جانب سے کہہ رہے ہیں؟ تو ابوامامہ ؓ نے کہا: نہیں، بلکہ اسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔

Abu Ghâlib narrated that Abu Umdmah said: “(The Khawarij) are the worst of the slain who are killed under heaven, and the best of the slain are those who were killed by them. Those (Khawarij) are the dog of Hell. Those people were Muslims but they became disbelievers.” I said: “O Abu Umâmah, is that your opinion?” He said: “Rather I heard it from the Messenger of Allah ﷺ .” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس قتل و غارت گری میں زمانہ جاہلیت کے کفار کی طرح ہوگئے، جب کہ دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: لا ترجعوا بعدي کفارا يضرب بعضکم رقاب بعض اے مسلمانو! میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ تم ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو، زمانہ جاہلیت میں عربوں میں قبائلی نظام کے تحت چھوٹے چھوٹے مسائل کے تحت آئے دن آپس میں خونریزی اور قتل و غارت گری کے واقعات پیش آتے تھے، انسانی جان کی کوئی قیمت نہ تھی، اسلام نے انسانی جانوں کا بڑا احترام کیا، اور بلا کسی واقعی سبب کے خونریزی کو بہت بڑا گناہ اور جرم قرار دیا، اب نو مسلم معاشرہ ایک نظم و ضبط میں بندھ گیا تھا، جرائم پر حدود قصاص اور دیت کا ایک مستقل نظام تھا، اس لئے نبی اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو عہد جاہلیت کے غلط طریقے پر اس حدیث میں تنبیہ فرمائی، اور ایسے اسلوب میں خطاب کیا کہ حقیقی معنوں میں لوگ ہنگامہ آرائی اور قتل و غارت گری اور خونریزی سے اپنے آپ کو دور رکھیں، صحابہ کرام ؓ کی آپ ﷺ نے اس طرح تربیت فرمائی تھی کہ دوبارہ وہ عہد جاہلیت کے کاموں سے اپنے آپ کو دور رکھنے میں غایت درجہ کا لحاظ رکھتے تھے، تاکہ ان کے اعمال اکارت اور بےکار نہ جائیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٤ (٣٠٠٠)، (تحفة الأشراف: ٤٩٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/ ٢٥٣، ٢٥٦) (حسن صحیح )
177Sunan Ibne-Majah

جہیمیہ کے انکار کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى، وَوَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ، لَا تَضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا ثُمَّ قَرَأَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ سورة ق آية 39.

جریر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے چودہویں کے چاند کی طرف دیکھا، اور فرمایا: عنقریب تم لوگ اپنے رب کو دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو کہ اس کے دیکھنے میں تمہیں کوئی پریشانی لاحق نہیں ہو رہی ہے، لہٰذا اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ سورج کے نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے نماز سے پیچھے نہ رہو تو ایسا کرو ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی: وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب اپنے رب کی تسبیح و تحمید بیان کیجئے سورج کے نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے (سورة ق: 39) ١ ؎۔

It was narrated that Jarir bin Abdullâh said: “We were sitting with the Messenger of Allah ﷺ . He looked at the moon, which was full, and said, ‘Indeed, you will see your Lord as you see this moon. You will not feel the slightest inconvenience and overcrowding in seeing Him. If you have the power not to be overcome and to say this prayer before the sun rises and before it sets, then do that.’ Then he recited: “And glorify the praises of your Lord, before the rising of the sun and before (its) setting.” (Sahik)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے اہل ایمان کے لئے جنت میں اللہ تعالیٰ کی رویت ثابت ہوتی ہے، نیز اللہ رب العزت کے لئے علو اور بلندی کی صفت کہ وہ سب سے اوپر آسمان کے اوپر ہے، نیز اس حدیث سے فجر اور عصر کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، آیت کریمہ میں تسبیح سے مراد صلاۃ (نماز) ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ١٦ (٥٥٤)، و تفسیر ق ٢ (٤٨٥١)، والتوحید ٢٤ (٧٤٣٤)، صحیح مسلم/المساجد ٣٧ (٦٣٣)، سنن ابی داود/السنة ٢٠ (٤٧٢٩)، سنن الترمذی/صفة الجنة ١٦ (٢٥٥١)، سنن النسائی/الکبری/الصلاة ٥٧ (٤٦٠)، (تحفة الأشراف: ٣٢٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٦٠، ٣٦٢، ٣٦٥) (صحیح )
178Sunan Ibne-Majah

جہیمیہ کے انکار کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَضَامُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، قَالُوا: لَا، قَالَ: فَكَذَلِكَ لَا تَضَامُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں چودھویں رات کو چاند دیکھنے میں مشقت ہوتی ہے ؟ صحابہ نے کہا: جی نہیں، فرمایا: اسی طرح قیامت کے دن تمہیں اپنے رب کی زیارت میں کوئی مشکل نہیں ہوگی ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Do you crowd one another in order to see the moon on the night when it is full?’ They said: ‘No’ He said: ‘And you will not crowd one another in order to see your Lord on the Day of Resurrection.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٤٨٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاذان ١٢٩ (٨٠٦)، الرقاق ٥٢ (٦٥٧٣)، التوحید ٢٤ (٤٧٣٧)، صحیح مسلم/الإیمان ٨١ (١٨٣) الزھد ١ (٢٩٦٨)، سنن ابی داود/السنة ٢٠ (٤٧٢٩)، سنن الترمذی/صفة الجنة ١٦ (٢٥٥٤)، سنن الدارمی/الرقاق ٨١ (٢٨٤٣) (صحیح )
179Sunan Ibne-Majah

جہیمیہ کے انکار کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَرَى رَبَّنَا؟ قَالَ: تَضَامُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ فِي غَيْرِ سَحَابٍ ، قُلْنَا: لَا، قَالَ: فَتَضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ فِي غَيْرِ سَحَابٍ ، قَالُوا: لَا، قَالَ: إِنَّكُمْ لَا تَضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ إِلَّا كَمَا تَضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا .

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم ٹھیک دوپہر میں سورج دیکھنے میں کوئی دقت اور پریشانی محسوس کرتے ہو جبکہ کوئی بدلی نہ ہو؟ ، ہم نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم چودہویں رات کا چاند دیکھنے میں کوئی رکاوٹ محسوس کرتے ہو جبکہ کوئی بدلی نہ ہو؟ ، ہم نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: سورج و چاند کو دیکھنے کی طرح تم اپنے رب کے دیدار میں بھی ایک دوسرے سے مزاحمت نہیں کرو گے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Sa’eed said: “We said: ‘O Messenger of Allah ﷺ Will we see our Lord?’ He said: ‘Do you crowd one another to see the sun at midday when there are no clouds?’ We said: ‘No.’ He said: ‘Do you crowd one another to see the moon on the night when it is hill and there are no clouds?’ We said: ‘No.’ He said: u will not crowd one another to see Him, just as you do not crowd o see these two things.’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے بھی اللہ تعالیٰ کے لئے صفت علو اور مومنین کے لئے اس کی رؤیت ثابت ہوتی ہے، اور اس میں جہمیہ اور معتزلہ دونوں کا ردو ابطال ہوا، جو اہل ایمان کے لئے اللہ تعالیٰ کی رؤیت نیز اللہ تعالیٰ کے لئے علو اور بلندی کی صفت کے منکر ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٠١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٦) (صحیح )
180Sunan Ibne-Majah

جہیمیہ کے انکار کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكُلُّنَا يَرَى للَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟ قَالَ: يَا أَبَا رَزِينٍ أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَرَى الْقَمَرَ مُخْلِيًا بِهِ ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَاللَّهُ أَعْظَمُ وَذَلِكَ آيَتُهُ فِي خَلْقِهِ .

ابورزین ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم اللہ تعالیٰ کو قیامت کے دن دیکھیں گے؟ اور اس کی اس کے مخلوق میں کیا نشانی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ابورزین! کیا تم میں سے ہر ایک چاند کو اکیلا بلا کسی روک ٹوک کے نہیں دیکھ لیتا ہے؟ ، میں نے کہا: کیوں نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ اس سے زیادہ عظیم ہے، اور اس کی مخلوق میں یہ (چاند) اس کے دیدار کی ایک نشانی ہے ۔

Waki’ bin Hudus narrated his paternal uncle Abu Razin “I said: ‘O Messenger of will we see Allah on the day of Resurrection? And what is the sign of that in His creation?’ said: ‘O Abu Razin, do each of you not see the moon individually? I said: ‘Of course.’ He said: ‘Allah is Greater, and that is His sign in His creation.’’ (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/السنة ٢٠ (٤٧٣١)، (تحفة الأشراف: ١١١٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١١، ١٢) (حسن) (وکیع بن حدس مقبول عند المتابعہ ہیں، اور ان کی متابعت موجود ہے، ملاحظہ ہو: السنة لابن أبی عاصم ( ٤٦٨ )، شیخ الاسلام ابن تیمیة وجھودہ فی الحدیث وعلومہ ( ٣٨ ) للدکتور عبد الرحمن الفریوائی )