سنت کی پیروی کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 1 · 266 hadiths · Page 10 of 14

181Sunan Ibne-Majah

جہیمیہ کے انکار کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ضَحِكَ رَبُّنَا مِنْ قُنُوطِ عِبَادِهِ وَقُرْبِ غِيَرِهِ ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَ يَضْحَكُ الرَّبُّ؟، قَالَ: نَعَمْ قُلْتُ: لَنْ نَعْدِمَ مِنْ رَبٍّ يَضْحَكُ خَيْرًا.

ابورزین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمارا رب اپنے بندوں کے مایوس ہونے سے ہنستا ہے جب کہ اللہ کی طرف سے ان کی حالت بدلنے کا وقت قریب ہوتا ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا رب ہنستا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ، تو میں نے عرض کیا: تب تو ہم ایسے رب کے خیر سے ہرگز محروم نہ رہیں گے جو ہنستا ہے ١ ؎۔

Waki’ bin Hudus narrated that his paternal uncle Abu Razin said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Allah laughs at the despair of His slaves although He soon changes it. I said: ‘O Messenger of Allah, does the Lord laugh?’ He said: ‘Yes.’ I said: ‘We shall never be deprived of good by a Lord Who laughs.’“(Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے اللہ تعالیٰ کی صفت ضحک کا اثبات ہوتا ہے، اور اس کا ہنسنا ایسا ہے جیسا اس کی شان کے لائق ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١١٨٠، ومصباح الزجاجة: ٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١١، ١٢) (حسن) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٨١٠ )
182Sunan Ibne-Majah

جہیمیہ کے انکار کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْيَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ كَانَ رَبُّنَا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ خَلْقَهُ؟ قَالَ: كَانَ فِي عَمَاءٍ مَا تَحْتَهُ هَوَاءٌ، وَمَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ، ثَمَّ خَلْقٌ الْعَرْشَ عَلَى الْمَاءِ .

ابورزین ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارا رب اپنی مخلوق کے پیدا کرنے سے پہلے کہاں تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: بادل میں تھا، نہ تو اس کے نیچے ہوا تھی نہ اوپر ہوا تھی، اور نہ ہی وہاں کوئی مخلوق تھی، (پھر پانی پیدا کیا) اور اس کا عرش پانی پہ تھا ١ ؎۔

Waki’ bin Hudus narrated that his paternal uncle Abu Razin said: “I said: ‘O Messenger of Allah, where was our Lord before He created His creation?’ He said: He was above the clouds, below which was air, and above which was air arid water. Then He created His Throne above the water.’” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں عماء کا لفظ آیا ہے جس کے معنی اگر بالمد ہو تو سحاب رقیق (بدلی) کے ہوتے ہیں، اور بالقصر ہو تو اس کے معنی لاشیء کے ہوتے ہیں، بعض اہل لغت نے العماء بالقصر کے معنی ایسے امر کے کئے ہیں جو عقل اور ادراک سے ماوراء ہو، حدیث سے اللہ تعالیٰ کے لئے صفت فوقیت و علو ثابت ہوئی، کیفیت مجہول ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر القرآن ١٢ (٣١٠٩)، (تحفة الأشراف: ١١١٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١١، ١٢) (ضعیف) (حدیث کی سند میں مذکور راوی وکیع بن حدس مجہول الحال ہیں، نیز ملاحظہ ہو: ظلال الجنة: ٦١٢ )
183Sunan Ibne-Majah

جہیمیہ کے انکار کے بارے میں

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ عَرَضَ لَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عُمَرَ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِي النَّجْوَى؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يُدْنَى الْمُؤْمِنُ مِنْ رَبِّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَضَعَ عَلَيْهِ كَنَفَهُ ثُمَّ يُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ، فَيَقُولُ: هَلْ تَعْرِفُ ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَعْرِفُ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ مِنْهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْلُغَ، قَالَ: إِنِّي سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ ، قَالَ: ثُمَّ يُعْطَى صَحِيفَةَ حَسَنَاتِهِ، أَوْ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ، قَالَ: وَأَمَّا الْكَافِرُ، أَوِ الْمُنَافِقُ فَيُنَادَى عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ ، قَالَ خَالِدٌ: فِي الْأَشْهَادِ شَيْءٌ مِنَ انْقِطَاعٍ هَؤُلاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ سورة هود آية 18.

صفوان بن محرز مازنی کہتے ہیں: اس اثناء میں کہ ہم عبداللہ بن عمر ؓ کے ہمراہ تھے، اور وہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے، اچانک ایک شخص سامنے آیا، اور اس نے کہا: ابن عمر! آپ نے نبی اکرم ﷺ سے نجویٰ (یعنی اللہ کا اپنے بندے سے قیامت کے دن سرگوشی کرنے) کے بارے میں کیا سنا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: مومن اپنے رب سے قیامت کے دن قریب کیا جائے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنا پردہ ڈال دے گا، (تاکہ اس سرگوشی سے دوسرے باخبر نہ ہو سکیں) ، پھر اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا، اور فرمائے گا: کیا تم (اس گناہ کو) جانتے ہو؟ وہ بندہ کہے گا: اے رب! میں جانتا ہوں، یہاں تک کہ جب مومن اپنے جملہ گناہوں کا اقرار کرلے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے دنیا میں ان گناہوں کی پردہ پوشی کی اور آج میں ان کو بخشتا ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا: پھر اسے اس کی نیکیوں کا صحیفہ یا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ، آپ ﷺ نے فرمایا: رہے کافر و منافق تو ان کو حاضرین کے سامنے پکارا جائے گا (راوی خالد کہتے ہیں کہ الأشهاد میں کچھ انقطاع ہے) : یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا، سن لو! اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر (سورۃ ہود: ١٨ ) ١ ؎۔

It was narrated that Safwân bin Muhriz Al-Mâzini said: “We were with ‘Abdullâh bin ‘Umar when he was circumambulating the House; a man came up to him and said: ‘O Ibn ‘Umar, what did you hear the Messenger of Allah ﷺ say about the Najwa?’ He said: ‘I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘On the Day of Resurrection, the believer will be brought close to his Lord until He will cover him with His screen, then He will make him confess his sins. He will ask hint “Do you confess?” He will say: “O Lord, I confess.” This will continue as long as AJlah wills, then He will say: “I concealed them for you in the world, and I forgive you for them today.” Then he will be given the scroll of his good deeds, or his record, in his right hand. But as for the disbeliever or the hypocrite, sins) will be announced before the witnesses.’” (One of the narrators) Khalid said: “At: ‘before the witnesses’ there is something missing. “These are the ones who lied against their Lord!’ No doubt! the curse of Allah is on the wrongdoers.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث جہمیہ وغیرہ کی تردید کرتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے کلام اور اس کے حروف و اصوات پر مشتمل ہونے کے منکر ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ المظالم ٢ (٢٤٤١)، التفسیر ٤ (٤٦٨٥)، الأدب ٧٠ (٦٠٧٠)، التوحید ٣٦ (٧٥١٤)، صحیح مسلم/التوبة ٨ (٢٧٦٨)، سنن النسائی/الکبری (١١٢٤٢)، (تحفة الأشراف: ٧٠٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٧٤، ١٠٥) (صحیح )
184Sunan Ibne-Majah

جہیمیہ کے انکار کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْعَبَّادَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ الرَّقَاشِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَا أَهْلُ الْجَنَّةِ فِي نَعِيمِهِمْ إِذْ سَطَعَ لَهُمْ نُورٌ فَرَفَعُوا رُءُوسَهُمْ، فَإِذَا الرَّبُّ قَدْ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِهِمْ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، قَالَ: وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ سَلامٌ قَوْلا مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ سورة يس آية 58 قَالَ: فَيَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، فَلَا يَلْتَفِتُونَ إِلَى شَيْءٍ مِنَ النَّعِيمِ مَا دَامُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ حَتَّى يَحْتَجِبَ عَنْهُمْ وَيَبْقَى نُورُهُ وَبَرَكَتُهُ عَلَيْهِمْ فِي دِيَارِهِمْ .

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس درمیان کہ اہل جنت اپنی نعمتوں میں ہوں گے، اچانک ان پر ایک نور چمکے گا، وہ اپنے سر اوپر اٹھائیں گے تو دیکھیں گے کہ ان کا رب ان کے اوپر سے جھانک رہا ہے، اور فرما رہا ہے: اے جنت والو! تم پر سلام ہو ، اور یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے قول: سلام قولا من رب رحيم (سورة يس: 58) کا رحيم (مہربان) رب کی طرف سے (اہل جنت کو) سلام کہا جائے گا ، آپ ﷺ نے فرمایا: جب تک باری تعالیٰ کے دیدار کی نعمت ان کو ملتی رہے گی وہ کسی بھی دوسری نعمت کی طرف مطلقاً نظر نہیں اٹھائیں گے، پھر وہ ان سے چھپ جائے گا، لیکن ان کے گھروں میں ہمیشہ کے لیے اس کا نور اور برکت باقی رہ جائے گی ١ ؎۔

It was narrated that Jabir bin ‘Abdulláh said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘While the people of Paradise are enjoying their blessings, a light will shine upon them, and they will raise their heads, and they will see their Lord looking down upon them from above. He will say: “Peace be upon you, O people of Paradise.” This is what Allah says in the Verse: “ Salam (peace be on you) — a Word from the Lord (Allah), Most Merciful.” He will look at them and they will look at Him, and they will not pay any attention to the delights (of Paradise) so long as they look at Him, until He will screen Himself from them. But His light and blessing will remain with them in their abodes,” (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں کئی طرح سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ جہت علو میں ہے، نیز کلام اللہ کا حروف و اصوات پر مشتمل ہونا، اور قابل سماع ہونا بھی ثابت ہوا کہ جنتی جنت میں اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے، جہمیہ اللہ رب العزت کی رؤیت کے منکر ہیں، ان کا مذہب باطل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٠٦٧، ومصباح الزجاجة: ٦٩) (ضعیف) (ابوعاصم العبادانی منکر الحدیث اور الفضل بن عیسیٰ بن ابان الرقاشی ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: المشکاة: ٥٦٦٤ )
185Sunan Ibne-Majah

جہیمیہ کے انکار کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تَرْجُمَانٌ، فَيَنْظُرُ عَنْ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا شَيْئًا قَدَّمَهُ، ثُمَّ يَنْظُرُ عَنْ أَيْسَرَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا شَيْئًا قَدَّمَهُ، ثُمَّ يَنْظُرُ أَمَامَهُ فَتَسْتَقْبِلُهُ النَّارُ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَّقِيَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ .

عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص سے اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) بغیر کسی ترجمان کے ہم کلام ہوگا ١ ؎، بندہ اپنی دائیں جانب نگاہ ڈالے گا تو اپنے ان اعمال کے سوا جن کو اپنے آگے بھیج چکا تھا کچھ بھی نہ دیکھے گا، پھر بائیں جانب نگاہ ڈالے گا تو اپنے ان اعمال کے سوا جن کو آگے بھیج چکا تھا کچھ بھی نہ دیکھے گا، پھر اپنے آگے دیکھے گا تو جہنم اس کے سامنے ہوگی پس جو جہنم سے بچ سکتا ہو چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کو اللہ کی راہ میں دے کر تو اس کو ضرور ایسا کرنا چاہیئے ۔

It was narrated that ‘Adi bin Hätim said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘There is no one among you but his Lord will speak to him without any intermediary between them. He will look to his right and will not see anything but that which he sent forth. He will look to his left and will not see anything but that which he sent forth. Then he will look in front of him and will be faced with the Fire. So whoever among you can protect himself from the Fire, even by means of half a date, let him do so.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ جب جنت میں لوگ داخل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اور ان کے درمیان کوئی حجاب (پردہ) نہ ہوگا، اس کی طرف نظر کرنے سے صرف اس ذات مقدس کی عظمت وکبریائی اور جلال وہیبت ہی مانع ہوگا، پھر جب اللہ عزوجل ان پر اپنی رافت اور رحمت اور فضل و امتنان کا اظہار کرے گا تو وہ رکاوٹ دور ہوجائے گی، اور اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی رؤیت کا شرف حاصل کرلیں گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٩ (١٤١٣)، ١٠ (١٤١٧)، المناقب ٢٥ (٣٥٩٥)، الأدب ٣٤ (٦٠٢٣)، الرقاق ٤٩ (٦٥٣٩)، ٥١ (٦٥٦٣) التوحید ٣٦ (٧٥١٢)، صحیح مسلم/الزکاة ٢٠ (١٠١٦)، سنن الترمذی/صفة القیامة ١ (٢٤١٥)، (تحفة الأشراف: ٩٨٥٢)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الزکاة ٦٣ (٢٥٥٤)، مسند احمد (٤/٢٥٦، ٢٥٨، ٢٥٩، ٣٧٧) (صحیح )
186Sunan Ibne-Majah

جہیمیہ کے انکار کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِيَاءِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ .

ابوموسیٰ اشعری (عبداللہ بن قیس) ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور ساری چیزیں چاندی کی ہیں، اور دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور ان کی ساری چیزیں سونے کی ہیں، جنت عدن میں لوگوں کے اور ان کے رب کے دیدار کے درمیان صرف اس کے چہرے پہ پڑی کبریائی کی چادر ہوگی جو دیدار سے مانع ہوگی ١ ؎۔

Abu Bakr (RA) bin Qais AlAsh’ari narrated that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Two gardens of silver, their vessels and everything in them; and two gardens of gold, their vessels and everything in them, and nothing between the people and their seeing their Lord, the Blessed and Exalted, except the Veil of Pride covering His Face in the Garden of Eden (Jannat ‘Adn).” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کا مقصد بھی یہ ہے کہ اللہ تبارک تعالیٰ کی رؤیت میں رکاوٹ اس کی عظمت وکبریائی اور اس کی ہیبت اور اس کا جلال ہوگا، جس کے سبب کسی کو اس کی طرف نظر اٹھانے کی ہمت نہ ہوگی، لیکن جب اس کی رحمت و رأفت اور اس کے فضل و کرم کا ظہور ہوگا تو یہ رکاوٹ دور ہوجائے گی، اور اہل ایمان اس کی رؤیت کی نعمت سے سرفراز ہوجائیں گے، اس حدیث میں فرقۂ جہمیہ کا بڑا واضح اور بلیغ رد ہے جو رؤیت باری تعالیٰ کے منکر ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر الرحمن ١ (٤٨٧٨)، التوحید ٢٤ (٧٤٤٤)، صحیح مسلم/الإیمان ٨٠ (١٨٠)، سنن الترمذی/صفة الجنة ٣ (٢٥٢٨)، سنن النسائی/الکبری (٧٧٦٥)، (تحفة الأشراف: ٩١٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤١١، ٤١٦)، سنن الدارمی/الرقاق ١٠١ (٢٨٢٥) (صحیح )
187Sunan Ibne-Majah

جہیمیہ کے انکار کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ، قَالَ: تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ سورة يونس آية 26، وَقَالَ: إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، نَادَى مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ إِنَّ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ مَوْعِدًا يُرِيدُ أَنْ يُنْجِزَكُمُوهُ، فَيَقُولُونَ: وَمَا هُوَ أَلَمْ يُثَقِّلِ اللَّهُ مَوَازِينَنَا، وَيُبَيِّضْ وُجُوهَنَا، وَيُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ، وَيُنْجِنَا مِنَ النَّارِ، قَالَ: فَيَكْشِفُ الْحِجَابَ فَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، فَوَاللَّهِ مَا أَعَطَاهُمُ اللَّهُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهِ، وَلَا أَقَرَّ لِأَعْيُنِهِمْ .

صہیب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت: للذين أحسنوا الحسنى وزيادة جن لوگوں نے نیکی کی ان کے لیے نیکی ہے اور اس سے زیادہ بھی ہے (سورة يونس: 26) کی تلاوت فرمائی، اور اس کی تفسیر میں فرمایا: جب جنت والے جنت میں اور جہنم والے جہنم میں داخل ہوجائیں گے تو منادی پکارے گا: جنت والو! اللہ کے پاس تمہارا ایک وعدہ ہے وہ اسے پورا کرنا چاہتا ہے، جنتی کہیں گے: وہ کیا وعدہ ہے؟ کیا اللہ نے ہمارے نیک اعمال کو وزنی نہیں کیا؟ ہمارے چہروں کو روشن اور تابناک نہیں کیا؟ ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا؟ اور ہمیں جہنم سے نجات نہیں دی؟ ، آپ ﷺ نے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ اپنے چہرے سے پردہ ہٹا دے گا، لوگ اس کا دیدار کریں گے، اللہ کی قسم! اللہ کے عطیات میں سے کوئی بھی چیز ان کے نزدیک اس کے دیدار سے زیادہ محبوب اور ان کی نگاہ کو ٹھنڈی کرنے والی نہ ہوگی ۔

It was narrated that Suhaib said: “The Messenger of Allah ﷺ recited this Verse: ‘For those who he said: ‘When the people of Paradise enter Paradise, and the people of the Fire enter the Fire, a caller will cry out: “O people of Paradise! You have a covenant with Allah and He wants to fulfill it.” They will say: “What is it? Has Allah not made the Balance (of our good deeds) heavy, and made our faces bright, and admitted us to Paradise and have done good is the best reward and even more.’’ Then saved us from Hell?” Then the Veil will be lifted and they will look upon Him, and by Allah, Allah will not give them anything that is more beloved to them or more delightful, than looking upon Him.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٨٠ (١٨١)، سنن الترمذی/صفة الجنة ٥٢ (٢٥٥٢)، تفسیر القرآن ١١ (٣١٠٥)، سنن النسائی/ الکبری (٧٧٦٦)، (تحفة الأشراف: ٤٩٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٣٢، ٣٣٣، ٦/ ١٥) (صحیح )
188Sunan Ibne-Majah

جہیمیہ کے انکار کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ الْأَصْوَاتَ، لَقَدْ جَاءَتِ الْمُجَادِلَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ تَشْكُو زَوْجَهَا ، وَمَا أَسْمَعُ مَا تَقُولُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ: قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا سورة المجادلة آية 1.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس کی سماعت تمام آوازوں کا احاطہٰ کئے ہوئے ہے، نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک عورت آئی اور اپنے شوہر کی شکایت کرنے لگی، میں گھر کے ایک گوشہ میں تھی اور اس کی باتوں کو سن نہیں پا رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی:قد سمع الله قول التي تجادلک في زوجها بیشک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے بارے میں آپ سے جھگڑ رہی تھی (سورة المجادلة: ١ ) ١ ؎۔

It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: “Praise is to Allah Whose hearing encompasses all voices. The woman who disputed concerning her husband (Al-Mujadilah) came to the Prophet ﷺ when I was (sitting) in a corner of the house, and she complained about her husband, but I did not hear what she said. Then Allah revealed: ‘Indeed Allah has heard the statement of her that disputes with you concerning her husband.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ آیت اوس بن صامت کی بیوی خولہ بنت ثعلبہ ؓ کے حق میں نازل ہوئی، ایک بار ان کے شوہر نے ان کو بلایا تو انہوں نے عذر کیا، اس پر اوس ؓ نے خفا ہو کر کہا: تم میرے اوپر ایسی ہو جیسی میری ماں کی پیٹھ، اسے شرعی اصطلاح (زبان) میں ظہار کہتے ہیں، پھر وہ نادم ہوئے، ظہار و ایلاء جاہلیت کا طلاق تھا، غرض خولہ کے شوہر نے کہا کہ تم مجھ پر حرام ہو، تو وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اس وقت ام المؤمنین عائشہ ؓ آپ ﷺ کا سر مبارک دھو رہی تھیں، خولہ نے کہا: اللہ کے رسول میرے شوہر اوس بن صامت نے جب مجھ سے شادی کی تھی تو میں جوان اور مالدار تھی، پھر جب انہوں نے میرا مال کھالیا، اور میری جوانی مٹ گئی، اور میرے عزیز و اقارب چھوٹ گئے، اور میں بوڑھی ہوگئی تو مجھ سے ظہار کیا، اور وہ اب اپنے اس اقدام پر نادم ہیں، تو کیا اب کوئی صورت ایسی ہے کہ میں اور وہ مل جائیں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اس پر حرام ہوگئی، پھر انہوں نے کہا کہ میں اپنے اللہ کے سامنے اپنے فقر و فاقہ اور تنہائی کو رکھتی ہوں، ایک مدت دراز تک میں ان کے پاس رہی اور ان سے میرے بچے ہیں جن سے مجھے پیار ہے، آپ ﷺ نے پھر فرمایا: تم اس پر حرام ہو، اور مجھے تمہارے بارے میں کوئی حکم نہیں ہوا، پھر خولہ نے بار بار نبی اکرم ﷺ سے اپنے احوال و مشکلات کا اظہار کیا، اور جب نبی اکرم ﷺ فرماتے کہ تم اس پر حرام ہوگئی تو وہ فریادیں کرتیں اور کہتیں کہ میں اللہ کے سامنے اپنے فقر و فاقہ اور شدت حال کو رکھتی ہوں، میرے چھوٹے بچے ہیں، اگر میں ان کو شوہر کے سپرد کر دوں تو وہ برباد ہوں گے، اور اگر اپنے پاس رکھوں تو بھوکے مریں گے، اور بار بار آسمان کی طرف اپنا سر اٹھاتی تھیں کہ یا اللہ میں تجھ سے فریاد کرتی ہوں، یا اللہ تو اپنا کوئی حکم اپنے نبی ﷺ کی زبان پر اتار دے کہ جس سے میری مصیبت دور ہو، اسلام میں ظہار کا یہ پہلا واقعہ تھا، اور دوسری طرف ام المؤمنین عائشہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا سر دھونے میں مشغول تھیں، تو خولہ ؓ کو یہ کہتے سنا کہ اللہ کے نبی میرے لئے کچھ غور کریں، اللہ مجھے آپ پر فدا کرے، ام المؤمنین عائشہ ؓ نے کہا: ذرا تم خاموش رہو، رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک دیکھتی نہیں ہو، نبی اکرم ﷺ کی حالت یہ ہوتی تھی کہ جب آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تو آپ پر اونگھ طاری ہوجاتی، پھر جب وحی اتر چکی تو آپ ﷺ نے فرمایا: خولہ نے اپنے شوہر کا شکوہ کیا، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: قد سمع الله قول التي تجادلک في زوجها بیشک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے بارے میں آپ سے جھگڑ رہی تھی (سورة المجادلة: 1)۔ اس قصہ سے بڑے عمدہ فوائد معلوم ہوئے: ( ١ ) آیت کا شان نزول کہ یہ آیت حکم ظہار پر مشتمل ہے، اور اس کی تفصیل اپنے مقام پر آئے گی، انشاء اللہ تعالیٰ۔ ( ٢ ) صحابہ ؓ کی عادت تھی کہ جب کوئی حادثہ پیش آتا تو وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے، اور یہی حکم ہے ساری امت کے لئے کہ مشکلات و مسائل میں کتاب و سنت کی طرف رجوع کریں، اگرچہ نبی اکرم ﷺ دنیا سے تشریف لے جا چکے ہیں مگر آپ کی سنت (احادیث شریفہ) اور کتاب (قرآن مجید) ہمارے درمیان ہے، اور دنیا میں یہی دونوں چیزیں اہل اسلام کے لیے ترکہ اور میراث ہیں، فمن أخذه أخذ بحظ وافر۔ ( ٣ ) انبیاء کی بشریت اور مجبوری کہ وہ بھی تمام امور میں اللہ کے حکم کے منتظر رہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے خولہ ؓ کو کچھ جواب نہ دیا جب تک کہ رب السماوات نے حکم نہ اتارا۔ ( ٤ ) سابقہ شرائع پر ہمارے لئے عمل واجب ہے جب تک کہ اس کے نسخ کا علم ہم تک نہ پہنچے، اور اسی کے موافق نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تم ان پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی، پھر جب اللہ تعالیٰ نے اس کا نسخ اتارا تو آپ ﷺ نے ناسخ کے موافق حکم دیا۔ ( ٥ ) صراحت کے ساتھ اور محسوس اشارے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لئے علو اور فوقیت کا ثبوت کہ خولہ ؓ بار بار اپنا سر آسمان کی طرف اٹھاتی تھیں اور کہتی تھیں کہ میں اللہ تعالیٰ سے اپنی حالت بیان کرتی ہوں، اور نبی اکرم ﷺ نے ان کے اس امر کی تقریر و تصویب فرمائی اور کوئی اعتراض نہ کیا، اور اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی جانب و جہت خاص نہ ہو، اور رسول اکرم ﷺ کے سامنے کوئی اللہ تعالیٰ کے لئے جہت کو خاص کرے اور آپ ﷺ اس پر خاموش رہیں، اور اللہ تعالیٰ کی معرفت میں جو اسلام کی اساس اور ایمان کی بنیاد ہے صحابہ کرام ؓ کی جہالت اور بدعقیدگی کو گوارہ کریں یہ محال بات ہے، اور اس سے بھی محال اور بعید یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس علو اور فوقیت کے عقیدہ کو ناپسند کرے، اور اس پر تنبیہ نہ کر کے ظہار کے بارے میں اپنے احکام اتارے اور صحیح عقیدہ کی تعلیم نہ دے، خلاصہ یہ ہے کہ اس قصے میں اللہ تعالیٰ کے لیے علو اور بلندی کی بات پورے طورپر واضح ہے، اور سلف صالحین اور ائمہ اسلام کے یہاں یہ مسئلہ اجماعی ہے۔ ( ٦ ) اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ و صحابیات کو رسول اکرم ﷺ سے کتنی محبت تھی، اور وہ کس ادب و احترام کے ساتھ آپ سے مخاطب ہوتے تھے، اور بات بات میں اپنے آپ کو رسول اکرم ﷺ پر فدا کرتے تھے، اور یہی نسبت ضروری ہے ہر مسلمان کو آپ کی سنت شریفہ سے کہ دل و جان سے اس پر عمل کرے۔ ( ٧ ) اس آیت سے اللہ تعالیٰ کے لئے سمع و بصر (سننے اور دیکھنے) کی صفات ثابت ہوئیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: إن الله سميع بصير یقینا اللہ تعالیٰ سننے اور دیکھنے والا ہے (سورة المجادلة: 1) اور فرمایا: قال لا تخافا إنني معکما أسمع وأرى اللہ نے (موسیٰ و ہارون) سے کہا تم بالکل نہ ڈرو میں تمہارے ساتھ ہوں، اور سنتا اور دیکھتا رہوں گا (سورة طه: 46)۔ اور ابوموسی اشعری ؓ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے۔ جب بلندی پر چڑھتے تو اللہ اکبر کہتے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اپنی جانوں پر نرمی کرو، اس لئے کہ تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکارتے، بلکہ سمیع و بصیر (سننے والے دیکھنے والے) کو پکارتے ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التوحید ٩ (٧٣٨٥)، (تعلیقاً )، سنن النسائی/ الطلاق ٣٣ (٣٤٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/ ٤٦)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٢٠٦٣) (صحیح )
189Sunan Ibne-Majah

جہیمیہ کے انکار کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ بِيَدِهِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ الْخَلْقَ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مخلوقات کے پیدا کرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اپنے ذمہ لکھ لیا کہ میری رحمت میرے غضب سے بڑھی ہوئی ہے ١ ؎۔

t was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Your Lord wrote for Himself with His Own Hand before He created the creation: “My mercy precedes My wrath.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: قرآن و حدیث میں اللہ تعالیٰ کے پیر، ہاتھ اور انگلیوں کا ذکر ہے، اس سلسلے میں سلف صالحین کا مسلک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیر بھی ہیں، ہاتھ بھی ہیں، انگلیاں بھی ہیں، ان کے ہونے پر ہمارا کامل ایمان اور یقین بھی ہے، لیکن وہ کیسے ہیں؟ ان کی کیفیت کیا ہے؟ ہمیں معلوم نہیں اور نہ ہمیں ان کی کیفیت سے کوئی غرض ہے، بس اتنی سی بات کافی ہے کہ اس کی عظمت و جلالت کے مطابق اس کی انگلیاں ہوں گی، نہ تو اسے کسی مخلوق کے ساتھ تشبیہ اور تمثیل دی جاسکتی ہے، اور نہ اللہ کے ہاتھ پاؤں اور اس کی انگلیوں کے لئے جو الفاظ مستعمل ہوئے ہیں انہیں اپنے اصلی اور حقیقی معنی سے ہٹایا جاسکتا ہے، اللہ تعالیٰ کی انگلیوں سے مراد اللہ کی رحمتیں ہیں، ایسا کہنا مناسب نہیں، بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ ید (ہاتھ) کف (ہتھیلی) اور انامل (انگلیاں) جس معنی کے لئے موضوع ہیں بعینہ وہی معنی مراد لینا چاہیے، اس حدیث میں بھی صفات کے منکر فرقہ جہمیہ کا رد و ابطال ہے جو اللہ تعالیٰ کے لئے ید (ہاتھ) رحمت اور غضب کی صفات کا انکار کرتے ہیں جب کہ اس حدیث میں یہ صفات اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ١٠٠ (٣٥٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٤١٣٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/بدء الخلق ١ (٣١٩٤)، صحیح مسلم/التوبة ٤ (٢٧٥١)، مسند احمد (٢/٤٣٣)، (یہ حدیث مکرر ہے دیکھئے: ٤٢٩٥) (حسن صحیح )
190Sunan Ibne-Majah

جہیمیہ کے انکار کے بارے میں

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الْأَنْصَارِيُّ الْحَرَامِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ، قَال: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: لَمَّا قُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ يَوْمَ أُحُدٍ، لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا جَابِرُ أَلَا أُخْبِرُكَ مَا قَالَ اللَّهُ لِأَبِيكَ؟ وَقَالَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ، فَقَالَ: يَا جَابِرُ مَا لِي أَرَاكَ مُنْكَسِرًا؟ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتُشْهِدَ أَبِي وَتَرَكَ عِيَالًا وَدَيْنًا، قَالَ: أَفَلَا أُبَشِّرُكَ بِمَا لَقِيَ اللَّهُ بِهِ أَبَاكَ ؟ قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: مَا كَلَّمَ اللَّهُ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ، وَكَلَّمَ أَبَاكَ كِفَاحًا، فَقَالَ: يَا عَبْدِي تَمَنَّ عَلَيَّ أُعْطِكَ ، قَالَ: يَا رَبِّ تُحْيِينِي فَأُقْتَلُ فِيكَ ثَانِيَةً، فَقَالَ الرَّبُّ سُبْحَانَهُ: إِنَّهُ سَبَقَ مِنِّي أَنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يَرْجِعُونَ ، قَالَ: يَا رَبِّ فَأَبْلِغْ مَنْ وَرَائِي، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ سورة آل عمران آية 169.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن عمرو بن حرام غزوہ احد کے دن قتل کر دئیے گئے تو رسول اللہ ﷺ مجھ سے ملے اور فرمایا: جابر! کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد سے کیا کہا ہے؟ ، (اور یحییٰ بن حبیب راوی نے اپنی حدیث میں کہا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جابر! میں تمہیں کیوں شکستہ دل دیکھتا ہوں؟ ) ، جابر ؓ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے والد اللہ کی راہ میں قتل کر دئیے گئے، اور اہل و عیال اور قرض چھوڑ گئے ہیں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس چیز کی بشارت نہ دوں جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد سے ملاقات کے وقت کہا؟ ، جابر ؓ نے کہا: جی ہاں ضرور بتائیے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کبھی بھی کسی سے بغیر حجاب کے کلام نہیں کیا، لیکن تمہارے والد سے بغیر حجاب کے کلام کیا، اور فرمایا: میرے بندے! مجھ سے آرزو کر میں تجھے عطا کروں گا، اس پر انہوں نے کہا: میرے رب! میری آرزو یہ ہے کہ تو مجھے زندہ کر دے، اور میں تیری راہ میں دوبارہ قتل کیا جاؤں، تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: یہ بات تو پہلے ہی ہماری جانب سے لکھی جا چکی ہے کہ لوگ دنیا میں دوبارہ واپس نہیں لوٹائے جائیں گے ١ ؎، انہوں نے کہا: میرے رب! ان لوگوں کو جو دنیا میں ہیں میرے احوال کی خبر دیدے ، انہوں نے کہا: اس وقت اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ نازل فرمائی: ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے تم ان کو مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس روزی پاتے ہیں (سورة آل عمران: ١٦٩ ) ٢ ؎۔

Talhah bin Khirâsh said: “I heard Jâbir bin ‘AbdulIah say: ‘When ‘Abdullâh bin ‘Ant bin (Harâm) was killed on the Day of Uhud, the Messenger of Allah ﷺ met me, and said: “O Jâbir, shall I not tell you what Allah has said to your father?” Yahya said in his Hadith: “And he said: ‘O Jâbir, why do I see you brokenhearted?’ I (Jâbir) said: ‘O Messenger of Allah, my father has been martyred and he has left behind dependents and debts.’ He said: ‘Shall I not give you the glad tidings of that with which Allah met your father?’ I said: ‘Yes, O Messenger of Allah.’ He said: ‘Allah never spoke to anyone except from behind a screen, but He spoke to your father directly, and He said: “O My slave! Ask something from Me and I shall give it to you.” He said: “O Lord, bring me back to life so that I may be killed in Your cause a second time.” The Lord, Glorified is He, said: “I have already decreed that they will not return to life.” He said: “My Lord, then convey (this news) to those whom I have left behind.” Allah said: “Think not of those as dead who are killed in the way of Allah, Nay, they are alive, with their Lord, and they have provision.” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: اور جب شہیدوں کو دوبارہ دنیا میں نہیں لوٹایا جاتا تو دوسرے کس کو لوٹنے کی اجازت ہوگی، پتہ چلا کہ جو لوگ انتقال کر گئے وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آئیں گے۔ ٢ ؎: اس سے پتہ چلا کہ جو لوگ شہید ہوگئے ان کی زندگی دنیاوی زندگی نہیں ہے، اور نہ وہ دنیا میں زندہ ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٢٨٧، ومصباح الزجاجة: ٧٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٤ (٣٠١٠) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٢٨٠٠) (حسن) (ملاحظہ ہو: السنة لابن أبی عاصم: ٦١٥، ٦١٦ )
191Sunan Ibne-Majah

جہیمیہ کے انکار کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ يَضْحَكُ إِلَى رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ كِلَاهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ، يُقَاتِلُ هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُسْتَشْهَدُ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى قَاتِلِهِ، فَيُسْلِمُ فَيُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُسْتَشْهَدُ .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان دو افراد کے حال پر ہنستا ہے جن میں سے ایک دوسرے کو قتل کرتا ہے، اور دونوں جنت میں داخل ہوتے ہیں، ایک اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتال کرتا ہے اور شہید کردیا جاتا ہے، پھر اس کے قاتل کو اللہ تعالیٰ توبہ کی توفیق دیتا ہے، اور وہ اسلام قبول کرلیتا ہے، پھر اللہ کی راہ میں لڑائی کرتا ہے اور شہید کردیا جاتا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Allah will laugh at two persons — one of them kills the other, and both of them enter Paradise, for the first one fought in the cause of Allah and was martyred, then his killer repented to Allah and became Muslim, then he also fought in the cause of Allah and was martyred.’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے اہل سنت نے اللہ تعالیٰ کے لئے صفت ضحک (ہنسنے) پر استدلال کیا ہے، اور یہ صفت رضا اور خوشی پر دلالت کرتی ہے، اور اللہ تعالیٰ کی دوسری صفات کی طرح اس پر بھی ہم ایمان رکھتے ہیں، جیسا کہ اس ذات باری تعالیٰ کے لئے لائق و سزاوار ہے، اور اس کو ہم مخلوقات سے کسی طرح کی مشابہت نہیں دیتے، اور نہ اس صفت کے معنی کو معطل کرتے ہیں، اور نہ اس کا انکار کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٣٥ (١٨٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٦٦٣)، قد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد ٢٨ (٢٨٢٦)، سنن النسائی/الجہاد ٣٧ (٣١٦٧)، ٣٨ (٣١٦٨)، موطا امام مالک/الجہاد ١٤ (٢٨)، مسند احمد (٢/٣١٨، ٤٦٤) (صحیح )
192Sunan Ibne-Majah

جہیمیہ کے انکار کے بارے میں

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُول: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقْبِضُ اللَّهُ الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ؟ .

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ ابوہریرہ ؓ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا، اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا: اصل بادشاہ میں ہوں، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ ١ ؎۔

Sa’eed bin Musayyab narrated that Abu Hurairah (RA) used to say: “The Messenger of Allah ﷺ said: Allah will seize the earth on the Day of Resurrection, and He will roll up the heavens in His Right Hand, then He will say, “I am the Sovereign. Where are the kings of the earth?” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے اللہ تعالیٰ کے لئے ید و قبض و طی کا اثبات ہوتا ہے، اہل سنت اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے دو ہاتھ ہیں جو قبض و بسط و انفاق جیسی صفات رکھتے ہیں، اس کے دونوں ہاتھ یمین ہیں، اور اس کے ہاتھ ایسے ہیں جیسے اس کی شان کے لائق ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة الزمر ٣ (٤٨١٢)، التوحید ٦ (٧٣٨٢)، صحیح مسلم/صفة القیامة ١ (٢٧٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٣٣٢٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢ /٣٧٤)، سنن الدارمی/الرقاق ٨٠ (٢٨٤١) (صحیح )
193Sunan Ibne-Majah

جہیمیہ کے انکار کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمِيرَةَ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: كُنْتُ بِالْبَطْحَاءِ فِي عِصَابَةٍ وَفِيهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّتْ بِهِ سَحَابَةٌ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: مَا تُسَمُّونَ هَذِهِ؟ ، قَالُوا: السَّحَابُ، قَالَ: وَالْمُزْنُ ، قَالُوا: وَالْمُزْنُ، قَالَ: وَالْعَنَانُ ، قَال أَبُو بَكْرٍ: قَالُوا: وَالْعَنَانُ، قَالَ: كَمْ تَرَوْنَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ السَّمَاءِ؟ ، قَالُوا: لَا نَدْرِي، قَالَ: فَإِنَّ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا إِمَّا وَاحِدًا، أَوِ اثْنَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا وَسَبْعِينَ سَنَةً، وَالسَّمَاءُ فَوْقَهَا كَذَلِكَ حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ، ثُمَّ فَوْقَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ بَحْرٌ بَيْنَ أَعْلَاهُ وَأَسْفَلِهِ كَمَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ فَوْقَ ذَلِكَ ثَمَانِيَةُ أَوْعَالٍ بَيْنَ أَظْلَافِهِنَّ وَرُكَبِهِنَّ كَمَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ عَلَى ظُهُورِهِنَّ الْعَرْشُ بَيْنَ أَعْلَاهُ وَأَسْفَلِهِ كَمَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ اللَّهُ فَوْقَ ذَلِكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى .

عباس بن عبدالمطلب ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک جماعت کے ہمراہ مقام بطحاء میں تھا، اور ان میں رسول اللہ ﷺ بھی موجود تھے کہ بادل کا ایک ٹکڑا گزرا، آپ ﷺ نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا: تم لوگ اس کو کیا کہتے ہو؟ ، لوگوں نے کہا: سحاب، آپ ﷺ نے فرمایا: مزن بھی؟ ، انہوں نے کہا: جی ہاں، مزن بھی، آپ ﷺ نے فرمایا: عنان بھی؟ ، لوگوں نے کہا: عنان بھی، آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے اور آسمان کے درمیان کتنا فاصلہ جانتے ہو؟ ، لوگوں نے کہا: ہم نہیں جانتے، آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے اور اس کے درمیان اکہتر ( ٧١ ) ، بہتر ( ٧٢ ) ، یا تہتر ( ٧٣ ) سال کی مسافت ہے، پھر اس کے اوپر آسمان کی بھی اتنی ہی مسافت ہے ، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اسی طرح سات آسمان شمار کیے، پھر فرمایا: ساتویں آسمان پر ایک سمندر ہے، اس کے نچلے اور اوپری حصہ کے درمیان اتنی ہی مسافت ہے جتنی کہ دو آسمانوں کے درمیان میں ہے، پھر اس کے اوپر آٹھ فرشتے پہاڑی بکروں کی طرح ہیں، ان کے کھروں اور گھٹنوں کے درمیان اتنی دوری ہے جتنی کہ دو آسمانوں کے درمیان ہے، پھر ان کی پیٹھ پر عرش ہیں، اس کے نچلے اور اوپری حصہ کے درمیان اتنی مسافت ہے جتنی کہ دو آسمانوں کے درمیان میں ہے، پھر اس کے اوپر اللہ تعالیٰ ہے جو بڑی برکت والا، بلند تر ہے ١ ؎۔

It was narrated that ‘Abbâs bin ‘Abdul-Muttalib said: “I was in Bathâ’ with a group of people, among whom was the Messenger of Allah ﷺ . A cloud passed over him, and he looked at it and said: ‘What do you call this?’ They said: ‘Sahab (a cloud).’ He said: ‘And Mum (rain cloud).’ They said: ‘And Muzn.’ He said: ‘And ‘Andn (clouds).’ Abu Bakr (RA) said: “They said: ‘And ‘Anám.” He said: ‘How much (distance) do you think there is between you and the heavens?’ They said: ‘We do not know.’ He said: ‘Between you and it is seventy-one, or seventy-two, or seventy-three years, and there is a similar distance between it and the heaven above it (and so on)’ until he counted seven heavens. ‘Then above the seventh heaven there is a sea, between whose top and bottom is a distance like that between one heaven and another. Then above that there are eight (angels in the form of) mountain goats. The distance between their hooves and their knees is like the distance between one heaven and the next. Then on their backs is the Throne, and the distance between the top and the bottom of the Throne is like the distance between one heaven and another. Then Allah is above that, the Blessed and Exalted.” (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: اگرچہ اس حدیث کی سند میں کلام ہے، لیکن اس حدیث سے مصنف نے اللہ تعالیٰ کے لئے صفت علو ثابت کیا ہے، جب کہ یہ صفت کتاب و سنت کے بیشمار دلائل سے ثابت ہے اور ائمہ اسلام کا اس پر اجماع ہے، اس میں تاویل کی قطعاً گنجائش نہیں، یہاں پر علو سے مراد علو معنوی نہیں بلکہ حسی اور حقیقی علو ہے، اور یہ امر فطرت انسانی کے عین موافق ہے، لیکن معتزلہ و جہمیہ کی عقلیں ماری گئی ہیں کہ وہ اس کی تاویل کرتے اور اس کا انکار کرتے ہیں، اور جس بات کو رسول اکرم ﷺ نے عقلاً، حسا، لفظاً اور معناً بیان فرما دیا ہے اس میں شک کرتے ہیں، ائمہ دین نے اس مسئلہ میں مستقل کتابیں تصنیف فرمائیں ہیں، جیسے کتاب العلو للعلي الغفار للامام الذہبی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/السنة ١٩ (٤٧٢٣)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٦٧ (٣٣٢٠)، (تحفة الأشراف: ٥١٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/ ٢٠٦، ٢٠٧) (ضعیف) (حدیث کی سند میں مذکور راوی الولید بن أبی ثور الہمدانی ضعیف ہیں، عبد اللہ بن عمیرہ لین الحدیث، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٢٤٧ )
194Sunan Ibne-Majah

جہیمیہ کے انکار کے بارے میں

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا قَضَى اللَّهُ أَمْرًا فِي السَّمَاءِ، ضَرَبَتِ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ كَأَنَّهُ سِلْسِلَةٌ عَلَى صَفْوَانٍ، فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ، قَالُوا: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا: الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ سورة سبأ آية 23 قَالَ: فَيَسْمَعُهَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ بَعْضُهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ، فَيَسْمَعُ الْكَلِمَةَ فَيُلْقِيهَا إِلَى مَنْ تَحْتَهُ فَرُبَّمَا أَدْرَكَهُ الشِّهَابُ قَبْلَ أَنْ يُلْقِيَهَا إِلَى الَّذِي تَحْتَهُ، فَيُلْقِيهَا عَلَى لِسَانِ الْكَاهِنِ أَوِ السَّاحِرِ، فَرُبَّمَا لَمْ يُدْرَكْ حَتَّى يُلْقِيَهَا، فَيَكْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ، فَتَصْدُقُ تِلْكَ الْكَلِمَةُ الَّتِي سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاءِ .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کوئی فیصلہ صادر فرماتا ہے تو فرشتے اس کے فرمان کی تابعداری میں بطور عاجزی اپنے بازو بچھا دیتے ہیں، جس کی آواز کی کیفیت چکنے پتھر پر زنجیر مارنے کی سی ہوتی ہے، پس جب ان کے دلوں سے خوف دور کردیا جاتا ہے تو وہ باہم ایک دوسرے سے کہتے ہیں: تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ وہ جواب دیتے ہیں: اس نے حق فرمایا، اور وہ بلند ذات والا اور بڑائی والا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا: چوری سے باتیں سننے والے (شیاطین) جو اوپر تلے رہتے ہیں اس کو سنتے ہیں، اوپر والا کوئی ایک بات سن لیتا ہے تو وہ اپنے نیچے والے کو پہنچا دیتا ہے، بسا اوقات اس کو شعلہ اس سے پہلے ہی پا لیتا ہے کہ وہ اپنے نیچے والے تک پہنچائے، اور وہ کاہن (نجومی) یا ساحر (جادوگر) کی زبان پر ڈال دے، اور بسا اوقات وہ شعلہ اس تک نہیں پہنچتا یہاں تک کہ وہ نیچے والے تک پہنچا دیتا ہے، پھر وہ اس میں سو جھوٹ ملاتا ہے تو وہی ایک بات سچ ہوتی ہے جو آسمان سے سنی گئی تھی ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “When Allah decrees a matter in heaven, the angels beat their wings in submission to His decree (with a sound) like a chain beating a rock. Then “When fear is banished from their hearts, they say: ‘What is it that your Lord has said?’ They say: ‘The truth. And He is the Most High, the Most Creat.” He said: ‘Then the eavesdroppers (from among the jirin) listen out for that, one above the other, so (one of them) hears the words and passes it on to the one beneath him. The Shihab (shooting star) may strike him before he can pass it on to the one beneath him and the latter can pass it on to the soothsayer or sorcerer, or it may not strike him until he has passed it on. And he adds one hundred lies to it, and only that word which was overheard from the heavens is true.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے بھی واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ بلندی پر ہے، اس کے احکام اوپر ہی سے نازل ہوتے ہیں، پس احکم الحاکمین اوپر ہی ہے، اور نیچے والے فرشتے اوپر کے درجہ والوں سے پوچھتے ہیں: کیا حکم ہوا؟ وہ ان کو جواب دیتے ہیں کہ جو حکم اللہ تعالیٰ کا ہے وہ حق ہے، اس حدیث سے اللہ تعالیٰ کی بڑی عظمت اور ہیبت واضح ہوتی ہے، اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے باوجود قرب، نورانیت اور معصومیت کے اس قدر اللہ تعالیٰ سے لرزاں و ترساں ہیں تو ہم کو بدرجہا اس سے زیادہ ڈرنا چاہیے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة الحجر ١ (٤٨٠٠) التوحید ٣٢ (٧٤٨١)، سنن ابی داود/الحروف والقراء ات ١ (٣٩٨٩)، سنن الترمذی/التفسیر ٣٥ (٣٢٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٤٩) (صحیح )
195Sunan Ibne-Majah

جہیمیہ کے انکار کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَنَامُ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ، وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ، حِجَابُهُ النُّورُ لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ .

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور پانچ باتیں بیان فرمائیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ سوتا نہیں اور اس کے لیے مناسب بھی نہیں کہ سوئے، میزان کو اوپر نیچے کرتا ہے، رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اس تک پہنچا دیا جاتا ہے، اس کا حجاب نور ہے، اگر اس کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کی تجلیات ان ساری مخلوقات کو جہاں تک اس کی نظر پہنچے جلا دیں ١ ؎۔

It was narrated that Abu Musa said: “The Messenger of Allah ﷺ stood up among us and said five things. He said: ‘Allah does not sleep, and it is not befitting that He should sleep. He lowers the Scales and raises them. The deed done during the day is taken up to Him before the deed done during the night, and the deed done during the night before the deed done during the day. His Veil is Light and if He were to remove it, the glory of His Face would burn everything of His creation, as far as His gaze reaches.’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے اللہ تعالیٰ کے لئے صفت نور اور وجہ (چہرہ) ثابت ہوا، لیکن اس کی کیفیت مجہول اور غیر معلوم ہے، اہل سنت یہی کہتے ہیں کہ رب عزوجل کے لئے صفت وجہ (چہرہ) ہے، مگر ایسا کہ جیسا اس کی شان کے لائق ہے، ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی تجلیات کی کوئی تاب نہیں لاسکتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٧٩ (١٧٩)، (تحفة الأشراف: ٩١٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٩٥، ٤٠٠، ٤٠٥) (صحیح )
196Sunan Ibne-Majah

جہیمیہ کے انکار کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَنَامُ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، حِجَابُهُ النُّورُ لَوْ كَشَفَهَا لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ كُلَّ شَيْءٍ أَدْرَكَهُ بَصَرُهُ ، ثُمَّ قَرَأَ أَبُو عُبَيْدَةَ: أَنْ بُورِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة النمل آية 8.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ سوتا نہیں اور اس کے لیے مناسب بھی نہیں کہ سوئے، میزان کو جھکاتا اور بلند کرتا ہے، اس کا حجاب نور ہے، اگر وہ اس حجاب کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کی تجلیاں ان تمام چیزوں کو جلا دیں جہاں تک اس کی نظر جائے ، پھر ابوعبیدہ نے آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی: أن بورک من في النار ومن حولها و سبحان الله رب العالمين کہ بابرکت ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور برکت دیا گیا ہے وہ جو اس کے آس پاس ہے اور اللہ جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے (سورة النمل: 8) ۔

It was narrated that Abu Musa said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Allah does not sleep, and it is not befitting that He should sleep. He lowers the Scales and raises them. His Veil is Light and if He were to remove it, the glory of His Face would burn everything of His creation, as far as His gaze reaches.’” Then Abu ‘Ubaidah recited the Verse: ‘Blessed is whosoever is in the fire, (i.e. the light of Allah) and whosoever is round about it! And Glorified is Allah, the Lord of all that exists.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح )
197Sunan Ibne-Majah

جہیمیہ کے انکار کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَى لَا يَغِيضُهَا شَيْءٌ، سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، وَبِيَدِهِ الْأُخْرَى الْمِيزَانُ يَرْفَعُ الْقِسْطَ وَيَخْفِضُ ، قَالَ: أَرَأَيْتَ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مِمَّا فِي يَدَيْهِ شَيْئًا .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے، رات دن خرچ کرتا رہتا ہے پھر بھی اس میں کوئی کمی نہیں ہوتی ہے، اس کے دوسرے ہاتھ میں میزان ہے، وہ اسے پست و بالا کرتا ہے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ذرا غور کرو کہ آسمان و زمین کی تخلیق (پیدائش) سے لے کر اس نے اب تک کتنا خرچ کیا ہوگا؟ لیکن جو کچھ اس کے دونوں ہاتھ میں ہے اس میں سے کچھ بھی نہ گھٹا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “The Eight Hand of Allah is full and that is never affected by the continuous spending, night and day. In His other Hand is the Scale, which He raises and lowers. Have you seen what Allah has spent since He created the heavens and the earth? And that has not decreased what is in His Hands in the slightest.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: رات دن کی سخاوت کے باوجود اللہ عزوجل کے خزانے سے کچھ بھی کمی نہیں ہوئی، اسی کے پاس سارے خزانے ہیں، اس نے کسی کو نہیں سونپے، آسمان و زمین والوں کا رزق اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، وہی سب کو رزق دیتا ہے، حلال ہو یا حرام، اہل سنت کا یہی مذہب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٤ (٣٠٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٨٦٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر ھود ٢ (٤٦٨٤)، التوحید ١٩ (٤٧١١)، صحیح مسلم/الزکاة ١١ (٩٩٣)، مسند احمد (٢/٥٠٠) (صحیح )
198Sunan Ibne-Majah

جہیمیہ کے انکار کے بارے میں

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: يَأْخُذُ الْجَبَّارُ سَمَاوَاتِهِ وَأَرْضَهُ بِيَدِهِ، وَقَبَضَ بِيَدِهِ فَجَعَلَ يَقْبِضُهَا وَيَبْسُطُهَا، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْجَبَّارُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟ ، قَالَ: وَيَتَمَيَّلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ، حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ يَتَحَرَّكُ مِنْ أَسْفَلِ شَيْءٍ مِنْهُ، حَتَّى إِنِّي أَقُولُ أَسَاقِطٌ هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: جبار (اللہ تعالیٰ ) آسمانوں اور زمین کو اپنے ہاتھ میں لے لے گا (آپ ﷺ نے اپنی مٹھی بند کی اور پھر اسے باربار بند کرنے اور کھولنے لگے) اور فرمائے گا: میں جبار ہوں، کہاں ہیں جبار اور کہاں ہیں تکبر (گھمنڈ) کرنے والے؟ ، عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ دائیں اور بائیں جھکنے لگے یہاں تک کہ میں نے منبر کو دیکھا کہ نیچے سے ہلتا تھا، مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ وہ کہیں رسول اللہ ﷺ کو لے کر گر نہ پڑے ١ ؎۔

It was narrated that ‘Abdullâh bin Umar said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say, when he was on the pulpit ‘The Compeller will seize the heavens and the earths on His Hand and he clenched his and began to open and close it. Then He will say I am the compeller! Where are the tyrants? Where are the arrogant ? He said , the Messanger of Allah was turning to his right and to his left, until I saw pulpit moving from below and I thought: What if it falls with the Messanger of Allah ﷺ on it? (sahih )

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے صاف ثابت ہوا کہ صفات باری تعالیٰ میں لفظ ید (ہاتھ) سے حقیقی ید ہی مراد ہے، اس کی تاویل قدرت و طاقت اور اقتدار سے کرنا گمراہی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/صفات المنافقین ١ (٢٧٨٨)، (تحفة الأشراف: ٧٣١٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التوحید ١٩ (٧٤١٢)، سنن ابی داود/السنة ٢١ (٤٧٣٢)، سنن النسائی/الکبری ١٨ (٧٦٨٩)، مسند احمد (٢/٧٢)، سنن الدارمی/الرقاق ٨٠ (٢٨٤١) (صحیح )
199Sunan Ibne-Majah

جہیمیہ کے انکار کے بارے میں

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي النَّوَّاسُ بْنُ سَمْعَانَ الْكِلَابِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ قَلْبٍ إِلَّا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ إِنْ شَاءَ أَقَامَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَزَاغَهُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يَا مُثَبِّتَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ ، قَالَ: وَالْمِيزَانُ بِيَدِ الرَّحْمَنِ يَرْفَعُ أَقْوَامًا، وَيَخْفِضُ آخَرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ .

نواس بن سمعان کلابی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ہر شخص کا دل اللہ تعالیٰ کی دونوں انگلیوں کے درمیان ہے، اگر وہ چاہے تو اسے حق پر قائم رکھے اور چاہے تو اسے حق سے منحرف کر دے ، اور رسول اللہ ﷺ دعا فرماتے تھے: اے دلوں کے ثابت رکھنے والے! تو ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت رکھ ، آپ ﷺ نے کہا: اور ترازو رحمن کے ہاتھ میں ہے، کچھ لوگوں کو بلند کرتا ہے اور کچھ کو پست، قیامت تک (ایسے ہی کرتا رہے گا) ۔

Nawwâs bin Sam’ân AlKilabi said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘There is no heart that is not between two of the Fingers of the Most Merciful. if He wills, He guides it and if He wills, He sends it astray.’ The Messenger of Allah ﷺ used to say: ‘O You Who makes hearts steadfast, make our hearts steadfast in adhering to Your religion.’ And he said: ‘The scale is in the Hand of the Most Merciful; He will cause some peoples to rise and others to fall untll the Day of Resurrection.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٧١٥، ومصباح الزجاجة: ٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٨٢) (صحیح )
200Sunan Ibne-Majah

جہیمیہ کے انکار کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ لَيَضْحَكُ إِلَى ثَلَاثَةٍ لِلصَّفِّ فِي الصَّلَاةِ، وَلِلرَّجُلِ يُصَلِّي فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، وَلِلرَّجُلِ يُقَاتِلُ أُرَاهُ قَالَ: خَلْفَ الْكَتِيبَةِ .

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تین طرح کے لوگوں کو دیکھ کر ہنستا ہے: ایک نماز میں نمازیوں کی صف، دوسرا وہ شخص جو رات کے درمیانی حصہ میں اٹھ کر نماز پڑھتا ہے، تیسرا وہ شخص جو جہاد کرتا ہے ۔ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: لشکر کے پیچھے ، یعنی ان کے بھاگ جانے کے بعد۔

It was narrated that Abu Sa’eed Al-IKhudri said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Allah smiles at three things: a row in the prayer, a man who prays in the depths of the night, and a man who fights’ I think he said, ‘behind the battalion.’” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٩٩٣، ومصباح الزجاجة: ٧٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٨٠) (ضعیف) (سند میں عبداللہ بن اسماعیل مجہول اور مجالد ضعیف ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢١٠٣ )