سنت کی پیروی کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 1 · 266 hadiths · Page 11 of 14

201Sunan Ibne-Majah

جہیمیہ کے انکار کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيَّ، عَنْسَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى النَّاسِ فِي الْمَوْسِمِ، فَيَقُولُ: أَلَا رَجُلٌ يَحْمِلُنِي إِلَى قَوْمِهِ فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي .

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حج کے دنوں میں اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے اور فرماتے: کیا کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو مجھے اپنی قوم میں لے جائے؟ اس لیے کہ قریش نے مجھے اپنے رب کے کلام کی تبلیغ سے روک دیا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Jâbir bin ‘Abdullâh said: “The Messenger of Allah ﷺ used to appear before the people during the Hajj season and say: ‘Is there any man who can take me to his people, for the Quraish have prevented me from conveying the speech (i.e. the Message) of my Lord.’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث سے ثابت ہوا کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، ناکہ جبریل (علیہ السلام) کا، کلام اللہ کو مخلوق کا کلام کہنا گمراہوں کا کام ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/السنة ٢٢ (٤٧٣٤)، سنن الترمذی/فضائل القرآن ٢٤ (٢٩٢٥)، (تحفة الأشراف: ٢٢٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٢٢، ٣٩٠)، سنن الدارمی/فضائل القرآن ٥ (٣٣٩٧) (صحیح )
202Sunan Ibne-Majah

جہیمیہ کے انکار کے بارے میں

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَزِيرُ بْنُ صَبِيحٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ حَلْبَسٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ سورة الرحمن آية 29 قَالَ: مِنْ شَأْنِهِ أَنْ يَغْفِرَ ذَنْبًا، وَيُفَرِّجَ كَرْبًا، وَيَرْفَعَ قَوْمًا، وَيَخْفِضَ آخَرِينَ .

ابوالدرداء ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کے فرمان: كل يوم هو في شأن وہ ذات باری تعالیٰ ہر روز ایک نئی شان میں ہے (سورة الرحمن: 29) کے سلسلے میں بیان فرمایا: اس کی شان میں سے یہ ہے کہ وہ کسی کے گناہ کو بخش دیتا ہے، کسی کی مصیبت کو دور کرتا ہے، کسی قوم کو بلند اور کسی کو پست کرتا ہے ۔

It was narrated from Abu Dardâ’ that the Prophet ﷺ said concerning the Verse: “Every day He is (engaged) in some affair.” “His affairs includes forgiving sins, relieving distress raising some people and others low.” (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٠٠٥، ومصباح الزجاجة: ٧٣) (حسن) (بخاری نے تعلیقاً تفسیر سورة الرحمن میں ابوالدرداء ؓ کا قول نقل کیا ہے، صحیح بخاری مع فتح الباری: ٨ /٦٢٠ )
203Sunan Ibne-Majah

جس نے اچھا یا برا رواج ڈالا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا، كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَمِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا لَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا، كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا .

جریر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا اور اس پر لوگوں نے عمل کیا تو اسے اس کے (عمل) کا اجر و ثواب ملے گا، اور اس پر جو لوگ عمل کریں ان کے اجر کے برابر بھی اسے اجر ملتا رہے گا، اس سے ان عمل کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہوگی، اور جس نے کوئی برا طریقہ ایجاد کیا اس پر اور لوگوں نے عمل کیا تو اس کے اوپر اس کا گناہ ہوگا، اور اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ بھی اسی پر ہوگا، اور ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی ١ ؎۔

It was narrated from Mundhir bin Jarir that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever introduces a good practice that is followed, he will receive its reward and a reward equivalent to that of those who follow it, without that detracting from their reward in the slightest. And whoever introduces a bad practice that is followed, he will receive its sin and a burden of sin equivalent to that of those who follow it, without that detracting from their burden in the slightest.’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث یہاں مختصر ہے، پوری حدیث صحیح مسلم کتاب الزکاۃ میں ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ من سن في الإسلام کے معنی یہ نہیں کہ دین میں نئی نئی بدعتیں نکالی جائیں، اور ان کا نام بدعت حسنہ رکھ دیا جائے، شریعت میں کوئی بدعت سنت حسنہ نہیں ہوتی، حدیث کا معنی یہ ہے کہ جو چیز اصول اسلام سے ثابت ہو، اور کسی وجہ سے اس کی طرف لوگوں کی توجہ نہ ہو، اور کوئی شخص اس کو جاری کرے تو جو لوگ اس کو دیکھ کر اس سنت پر عمل کریں گے ان کے ثواب میں کمی کیے بغیر ان کے برابر اس کو ثواب ملے گا، کیونکہ حدیث میں مذکور ہے کہ ایک شخص ایک تھیلا بھر کر امداد میں سامان لایا، جن کو دیکھ کر دوسرے لوگوں کو بھی رغبت ہوئی، اور وہ بھی زیادہ سے زیادہ امداد لے کر آئے، تب آپ ﷺ نے یہ فرمایا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ٢٠ (١٠١٧)، العلم ٦ (٢٦٧٣)، سنن النسائی/الزکاة ٦٤ (٢٥٥٥)، (تحفة الأشراف: ٣٢٣٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/العلم ١٥ (٢٦٧٥)، مسند احمد (٤/٣٥٧، ٣٥٨، ٣٥٩، ٣٦٢)، سنن الدارمی/المقدمة ٤٤ (٥٢٩) (صحیح )
204Sunan Ibne-Majah

جس نے اچھا یا برا رواج ڈالا

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَثَّ عَلَيْهِ، فَقَالَ: رَجُلٌ عِنْدِي كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَمَا بَقِيَ فِي الْمَجْلِسِ رَجُلٌ إِلَّا تَصَدَّقَ عَلَيْهِ بِمَا قَلَّ أَوْ كَثُرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اسْتَنَّ خَيْرًا فَاسْتُنَّ بِهِ كَانَ لَهُ أَجْرُهُ كَامِلًا، وَمِنْ أُجُورِ مَنِ اسْتَنَّ بِهِ، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنِ اسْتَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَاسْتُنَّ بِهِ فَعَلَيْهِ وِزْرُهُ كَامِلًا، وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ اسْتَنَّ بِهِ، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ نے صحابہ کرام ؓ کو اس پر صدقہ و خیرات کرنے کی ترغیب دلائی، ایک صحابی نے کہا: میرے پاس اتنا اتنا مال ہے، راوی کہتے ہیں: اس مجلس میں جو بھی تھا اس نے تھوڑا یا زیادہ ضرور اس پر صدقہ کیا، تو اس وقت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے کوئی اچھی سنت جاری کی اور لوگوں نے اس پر عمل کیا تو اسے اس کے عمل کا پورا ثواب ملے گا، اور ان لوگوں کا ثواب بھی اس کو ملے گا جو اس سنت پر چلے، ان کے ثوابوں میں کوئی کمی بھی نہ کی جائے گی، اور جس نے کوئی غلط طریقہ جاری کیا، اور لوگوں نے اس پر عمل کیا، تو اس پر اس کا پورا گناہ ہوگا، اور ان لوگوں کا گناہ بھی اس پر ہوگا جنہوں نے اس غلط طریقہ پر عمل کیا، اور اس سے عمل کرنے والوں کے گناہوں میں کچھ بھی کمی نہ ہوگی ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “A man came to the Prophet ﷺ , who encouraged the people to give charity to him. A man said: ‘I have such and such,’ and there was no one left in that gathering who did not give him something in charity, to a greater or lesser extent. The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever initiates a good practice that is followed, he will receive a perfect reward for that and a reward equivalent to that of those who follow it, without that detracting from their reward in the slightest. And whoever introduces a bad practice that is followed, he will receive the complete burden of sin for that and a burden of sin equivalent to that of those who follow it, without that detracting from their burden in the slightest.’” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٤٤٣، ومصباح الزجاجة: ٧٤)، مسند احمد (٢/٥٢٠) (صحیح )
205Sunan Ibne-Majah

جس نے اچھا یا برا رواج ڈالا

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: أَيُّمَا دَاعٍ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ فَاتُّبِعَ، فَإِنَّ لَهُ مِثْلَ أَوْزَارِ مَنِ اتَّبَعَهُ، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا، وَأَيُّمَا دَاعٍ دَعَا إِلَى هُدًى فَاتُّبِعَ، فَإِنَّ لَهُ مِثْلَ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا .

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے لوگوں کو کسی گمراہی کی طرف بلایا، اور لوگ اس کے پیچھے ہو لیے تو اسے بھی اتنا ہی گناہ ہوگا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کو ہوگا، اور اس سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہوگی، اور جس نے ہدایت کی طرف بلایا اور لوگ اس کے ساتھ ہوگئے، تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس کی پیروی کرنے والے کو اور اس سے اس کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہوگی ١ ؎۔

It was narrated from Anas bin Mâlik that the Messenger of Allah ﷺ said: “Every caller who invites people to misguidance and is followed, will have a burden of sin equal to that of those who follow him, without that detracting from their burden in the slightest. And every caller who invites people to true guidance and is followed, will have a reward equal to that of those who follow Mm, without that detracting from their reward in the slightest.’” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: شرک و بدعت، شرع میں حرام و ناجائز چیزیں اور فسق و فجور کی ساری باتیں گمراہی میں داخل ہیں کہ اس کی طرف دعوت دینے والے پر اس کے متبعین کا بھی عذاب ہوگا، اور خود وہ اپنے گناہوں کی سزا بھی پائے گا، اور ہدایت میں توحید و اتباع سنت اور ساری سنن و واجبات و فرائض داخل ہیں، اس کی طرف دعوت دینے والے کو ان باتوں کے ماننے والوں کا ثواب ملے گا، اور خود اس کے اپنے اعمال حسنہ کا ثواب، اس لئے داعی الی اللہ کے لئے جہاں یہ اور اس طرح کی حدیث میں فضیلت ہے وہاں علمائے سوء اور دعاۃ باطل کے لئے سخت تنبیہ بھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٥١، ومصباح الزجاجة: ٧٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٣٨ (٣٢٢٨)، سنن الدارمی/المقدمة ٤٤ (٥٣٠) (صحیح) (اس سند میں سعد بن سنان ضعیف ہیں، لیکن اگلی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
206Sunan Ibne-Majah

جس نے اچھا یا برا رواج ڈالا

حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ، لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ فَعَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنِ اتَّبَعَهُ، لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنَ آثَامِهِمْ شَيْئًا .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی ہدایت کی طرف بلائے تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس شخص کو ملے گا جس نے اس کی اتباع کی، اور اس سے ان کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہوگی، اور جو کسی گمراہی کی طرف بلائے تو اسے بھی اتنا ہی گناہ ہوگا جتنا اس کی اتباع کرنے والوں کو ہوگا، اور اس سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہوگی ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Whoever calls people to true guidance, will have a reward equal to that of those who follow him, without that detracting from their reward in the slightest. And whoever calls people to misguidance, will have a (burden of) sin equal to that of those who follow him, without that detracting from their sins in the slightest.’“(Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٠٣٩)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/العلم ٦ (٢٦٧٤)، سنن ابی داود/السنة ٧ (٤٦٠٩)، سنن الترمذی/العلم ١٥ (٢٦٧٥)، سنن الدارمی/المقدمة ٤٤ (٢٦٧٤)، مسند احمد (٢/٣٩٧) (صحیح )
207Sunan Ibne-Majah

جس نے اچھا یا برا رواج ڈالا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ، كَانَ لَهُ أَجْرُهَا، وَمِثْلُ أُجُورِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ، كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهُ، وَمِثْلُ أَوْزَارِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا .

ابوجحیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے کوئی اچھی سنت جاری کی اور اس کے بعد لوگوں نے اس پر عمل کیا تو اسے اس کا اجر ملے گا، اور عمل کرنے والوں کے برابر بھی اجر ملے گا، اور عمل کرنے والوں کے ثواب سے کچھ بھی کمی نہ ہوگی، اور جس نے کوئی غلط طریقہ جاری کیا، اور اس کے بعد اس پر لوگوں نے عمل کیا تو اس پر اس کا گناہ ہوگا، اور عمل کرنے والوں کے مثل بھی گناہ ہوگا، اس سے عمل کرنے والوں کے گناہوں میں کچھ بھی کمی نہ ہوگی ۔

It was narrated that Abu Juhaifah said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever introduces a good practice that is followed after him, will have the reward for that and the equivalent of their reward, without that detracting from their reward in the slightest. Whoever introduces an evil practice that is followed after him, will bear the burden of sin for that and the equivalent of their burden of sin, without that detracting from their burden in the slightest.’ (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٨٠٠، ومصباح الزجاجة: ٧٦) (حسن صحیح) (سند میں اسماعیل بن خلیفہ ابو اسرائیل الملائی ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، انہیں شواہد میں سے جریر بن عبد اللہ ؓ کی صحیح مسلم کی حدیث ہے، ملاحظہ ہو: ٤ /٢٠٥٩ )
208Sunan Ibne-Majah

جس نے اچھا یا برا رواج ڈالا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ دَاعٍ يَدْعُو إِلَى شَيْءٍ، إِلَّا وُقِفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَازِمًا لِدَعْوَتِهِ مَا دَعَا إِلَيْهِ، وَإِنْ دَعَا رَجُلٌ رَجُلًا .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی بھی کسی چیز کی طرف بلاتا ہے، قیامت کے دن اس حال میں کھڑا کیا جائے گا کہ وہ اپنی دعوت کو لازم پکڑے ہوگا، چاہے کسی ایک شخص نے ایک ہی شخص کو بلایا ہو ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘There is no caller who invites people to a thing but on the Day of Resurrection he will be made to stand next to that to which he called others, even if he only called one other person.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٢٢١، ومصباح الزجاجة: ٧٧) (ضعیف) (سند میں لیث بن أبی سلیم ضعیف راوی ہیں )
209Sunan Ibne-Majah

جس نے مردہ سنت کو زندہ کیا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَحْيَا سُنَّةً مِنْ سُنَّتِي فَعَمِلَ بِهَا النَّاسُ، كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا، لَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنِ ابْتَدَعَ بِدْعَةً فَعُمِلَ بِهَا، كَانَ عَلَيْهِ أَوْزَارُ مَنْ عَمِلَ بِهَا، لَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِ مَنْ عَمِلَ بِهَا شَيْئًا .

عوف مزنی ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے میری سنتوں میں سے کسی سنت کو زندہ کیا، اور لوگوں نے اس پر عمل کیا تو اسے اتنا ثواب ملے گا جتنا اس پر عمل کرنے والوں کو ملے گا، اور اس سے عمل کرنے والوں کے ثواب میں سے کچھ بھی کمی نہ ہوگی، اور جس کسی نے کوئی بدعت ایجاد کی اور لوگوں نے اس پر عمل کیا تو اسے بھی اتنا ہی گناہ ملے گا جتنا اس پر عمل کرنے والوں کو ہوگا، اور اس پر عمل کرنے والوں کے گناہوں میں سے کچھ بھی کمی نہ ہوگی ١ ؎۔

Kathir bin ‘Abdullâh bin ‘Amr bin ‘Awf Al-Muzani said: My father told me, narrating trom my grandfathers that the Messenger of Allah ﷺ said: Whoever revives a Sunnah of mine, which people then act upon will have a reward equivalent to that of those who act upon it, without that detracting from their reward in the slightest. And whoever introduces an innovation (Bid’ah) that is acted upon, will have a burden of sins equivalent to that of those who act upon it, without that detracting from the burden of those who act upon it in the slightest,’

Notes · وضاحت
١ ؎: بدعت ایجاد کرنے والوں اور اس کی تبلیغ و ترویج کرنے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے، جتنے لوگ ان کے بہکانے سے راہ حق سے گمراہ ہوں گے ان کا وبال ان ہی کے سر ہوگا، والعیاذ باللہ۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/العلم ١٦ (٢٦٧٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٧٦) (صحیح) (اس حدیث کی سند میں کثیر بن عبد اللہ بن عمرو بن عوف المزنی سخت ضعیف راوی ہے، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن یہ متن ابو جحیفہ ؓ سے ثابت ہے، کما تقدم ( ٢٠٧ ) اس لئے البانی صاحب نے اس کے متن کی تصحیح کردی ہے، ملاحظہ ہو: السنة لابن أبی عاصم: ٤٢ )
210Sunan Ibne-Majah

جس نے مردہ سنت کو زندہ کیا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ أَحْيَا سُنَّةً مِنْ سُنَّتِي قَدْ أُمِيتَتْ بَعْدِي، فَإِنَّ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنَ النَّاسِ، لَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِ النَّاسِ شَيْئًا، وَمَنِ ابْتَدَعَ بِدْعَةً لَا يَرْضَاهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَإِنَّ عَلَيْهِ مِثْلَ إِثْمِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنَ النَّاسِ، لَا يَنْقُصُ مِنْ آثَامِ النَّاسِ شَيْئًا .

عوف مزنی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے میری سنتوں میں سے کسی ایسی سنت کو زندہ کیا جو میرے بعد مردہ ہوچکی تھی تو اسے اتنا ثواب ملے گا جتنا اس پر عمل کرنے والوں کو ملے گا، اور ان کے ثوابوں میں کچھ کمی نہ ہوگی، اور جس نے کوئی ایسی بدعت ایجاد کی جسے اللہ اور اس کے رسول پسند نہیں کرتے ہیں تو اسے اتنا گناہ ہوگا جتنا اس پر عمل کرنے والوں کو ہوگا، اس سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہوگی ١ ؎۔

Kathir bin ‘Abdullâh narrated from his father, that his grandfather said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say:‘Whoever revives a Sunnah of mine that dies out after I am gone, he will have a reward equivalent to that of those among the people who act upon it, without that detracting from their reward in the slightest.Whoever introduces an innovation (Bid’ah) with which Allah and His Messenger are not pleased, he will have a (burden o sin equivalent to that of those among the people who act upon it, without that detracting from their sins in the slightest.’” (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: مردہ یعنی متروک سنتوں کو زندہ کرنے کا ثواب بہت ہے، اس حدیث میں مردہ سنتوں کے زندہ کرنے والوں کے لئے بشارت ہے، ساتھ ہی بدعات کو رواج دینے والوں اور ان پر عمل کرنے والوں کو جو وبال ہوگا اس کا بھی بیان ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو بدعتوں اور بدعتیوں سے محفوظ رکھے، آمین۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح) (سند میں کثیر بن عبد اللہ ضعیف راوی ہیں، لیکن کثرت طرق سے یہ صحیح ہے کماتقدم )
211Sunan Ibne-Majah

قرآن سیکھنے، سکھانے کی فضلیت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَسُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ شُعْبَة: خَيْرُكُمْ ، وَقَالَ سُفْيَانُ: أَفْضَلُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ .

عثمان بن عفان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (شعبہ کہتے ہیں:) تم میں سب سے بہتر (کہا) ، (اور سفیان نے کہا:) تم میں سب سے افضل (کہا) وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے ١ ؎۔

It was narrated that ‘Uthmân bin ‘Affan said that the Messenger of Allah ﷺ said: (According to one of the narrators) Shu’bah (he) said: ‘The best of you’ (and according to) SufyAn (he) said: “The most excellent of you is the one who learns the Qur’ân and teaches it.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کلام اللہ چونکہ سب کلاموں سے افضل ہے، اس لئے اس کا سیکھنے والا اور سکھانے والا بھی افضل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل القرآن ٢١ (٥٠٢٧)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٤٩ (١٤٥٢)، سنن الترمذی/فضائل القرآن ١٥ (٢٩٠٧)، (تحفة الأشراف: ٩٨١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/ ٥٧، ٥٨، ٦٩)، سنن الدارمی/فضائل القرآن ٢ (٣٣٤١) (صحیح )
212Sunan Ibne-Majah

قرآن سیکھنے، سکھانے کی فضلیت

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْضَلُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ .

عثمان بن عفان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سب سے افضل وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے ۔

It was narrated that ‘Uthmân bin ‘Affân said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The most excellent of you is the one who learns the Qur’an and teaches it.’” (Sahih)

Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح )
213Sunan Ibne-Majah

قرآن سیکھنے، سکھانے کی فضلیت

حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خِيَارُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ، قَالَ: وَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقْعَدَنِي مَقْعَدِي هَذَا أُقْرِئُ.

سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو قرآن سیکھیں اور سکھائیں ۔ عاصم کہتے ہیں: مصعب نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے میری اس جگہ پر بٹھایا تاکہ میں قرآن پڑھاؤں۔

Mus’ab bin Sa’d narrated that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The The best of you is one who learns the Qurân and teaches it.’”‘Then he Mus’ab) took me (the narrator) by the hand and made me sit here and I started to teach Quran.(Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: عاصم بن بہدلہ: یہ عاصم بن ابی النجود ہیں، جو امام القراء ہیں، اور ان کی قراءت معتمد اور حجت مانی گئی ہے، اس وقت عاصم کی قراءت ہی عام اور مشہور قراءت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٩٤٤، ومصباح الزجاجة: ٧٨)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/فضائل القرآن ٢ (٣٣٨٢) (حسن صحیح) (اس حدیث کی سند میں مذکور راوی الحارث بن نبہان ضعیف ہے، لیکن متابعات و شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١١٧٢ )
214Sunan Ibne-Majah

قرآن سیکھنے، سکھانے کی فضلیت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ طَعْمُهَا مُرٌّ وَلَا رِيحَ لَهَا .

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال سنترے کی سی ہے کہ اس کا مزہ بھی اچھا ہے اور بو بھی اچھی ہے، اور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی سی ہے کہ اس کا مزہ اچھا ہے لیکن کوئی بو نہیں ہے، اور قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال ریحانہ (خوشبودار گھاس وغیرہ) کی سی ہے کہ اس کی بو اچھی ہے لیکن مزہ کڑوا ہے، اور قرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال تھوہڑ (اندرائن) جیسی ہے کہ اس کا مزہ کڑوا ہے، اور اس میں کوئی خوشبو بھی نہیں ۔

It was narrated from Abu Musa Al-Ash’ari that the Prophet ﷺ said: “The likeness of the believer who recites the Qur’án is that of a citron, the taste and smell of which are good. The likeness of a believer who does not read the Qur’an is that of a date, the taste of which is good but it has no smell. The likeness of a hypocrite who reads the Qur’án is that of sweet basiL the smell of which is good but its taste is bitter. And the likeness of a hypocrite who does not read the Qur’an is that of a colocynth (bitter apple). the taste of which is bitter and it has no smell.’” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل القرآن ١٧ (٥٠٢٠)، ٣٦ (٥٠٥٩)، الأطعمة ٣٠ (٥٤٢٧)، التوحید ٥٧ (٧٥٦٠)، صحیح مسلم/المسافرین ٣٧ (٧٩٧)، سنن ابی داود/الأدب ١٩ (٤٨٣٠)، سنن الترمذی/الأمثال ٤ (٢٨٦٥)، سنن النسائی/الإیمان ٣٢ (٥٠٤١)، (تحفة الأشراف: ٨٩٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/ ٣٩٧، ٤٠٤، ٤٠٨)، سنن الدارمی/فضائل القرآن ٨ (٣٣٦٦) (صحیح )
215Sunan Ibne-Majah

قرآن سیکھنے، سکھانے کی فضلیت

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُدَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِلَّهِ أَهْلِينَ مِنَ النَّاسِ ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هُمْ؟ قَالَ: هُمْ أَهْلُ الْقُرْآنِ أَهْلُ اللَّهِ وَخَاصَّتُهُ .

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں میں سے کچھ اللہ والے ہیں ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ قرآن پڑھنے پڑھانے والے ہیں، جو اللہ والے اور اس کے نزدیک خاص لوگ ہیں ١ ؎۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Allah has His own people among mankind.’ They said: ‘O Messenger of Allah, who are they?’ He said: ‘The people of the Qur’án, the people of Allah and those who are closest to Him.” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: قرآن والے یعنی خشوع و خضوع اور آداب کے ساتھ اس کی تلاوت کرنے والے، اور اس کے وعدہ اور وعید پر ایمان لانے والے، اور اس کے احکام پر چلنے والے اللہ تعالیٰ کے خاص لوگ ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٤١، ومصباح الزجاجة: ٧٩)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری ٢٦ (٨٠٣١)، مسند احمد (٣ /١٢٧، ١٢٨، ٢٤٢)، سنن الدارمی/فضائل القرآن ١ (٣٣٢٩) (صحیح )
216Sunan Ibne-Majah

قرآن سیکھنے، سکھانے کی فضلیت

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي عُمَرَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ، وَحَفِظَهُ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ، وَشَفَّعَهُ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ كُلُّهُمْ قَدِ اسْتَوْجَبُوا النَّارَ .

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قرآن پڑھا اور اسے یاد کیا، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا، اور اس کے اہل خانہ میں سے دس ایسے افراد کے سلسلے میں اس کی شفاعت قبول کرے گا جن پر جہنم واجب ہوچکی ہوگی ۔

It was narrated that ‘Ali bin Abu Tâlib said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever reads the Qur’ân and memorizes it, Allah will admit him to Paradise and allow him to intercede for ten of his family members who all deserved to enter Hell.’” (Da’if)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل القرآن ١٣ (٢٩٠٥)، (تحفة الأشراف: ١٠١٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٤٨، ١٤٩) (ضعیف جدًا) (سند میں ابو عمر حفص بن سلیمان متروک، اور کثیر بن زا ذان مجہول راوی ہیں )
217Sunan Ibne-Majah

قرآن سیکھنے، سکھانے کی فضلیت

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَطَاءٍمَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ، وَاقْرَءُوهُ، وَارْقُدُوا، فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ وَمَنْ تَعَلَّمَهُ فَقَامَ بِهِ، كَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْكًا يَفُوحُ رِيحُهُ كُلَّ مَكَانٍ، وَمَثَلُ مَنْ تَعَلَّمَهُ فَرَقَدَ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ، كَمَثَلِ جِرَابٍ أُوكِيَ عَلَى مِسْكٍ .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قرآن سیکھو اور اس کی تلاوت کرو، تب سوؤ کیونکہ قرآن اور اس کے سیکھنے والے اور رات کو قیام (نماز تہجد) میں قرآن پڑھنے والے کی مثال خوشبو بھری ہوئی تھیلی کی ہے جس کی خوشبو ہر طرف پھیل رہی ہو، اور اس شخص کی مثال جس نے قرآن سیکھا، مگر رات کو پڑھا نہیں ایسی خوشبو بھری تھیلی کی ہے جس کا منہ بندھا ہوا ہے ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Learn the Qur’ân, recite it and go to bed, for the eness of the Qur’an and the one ‘ho learns it and acts upon it is of a sack filled with musk, hich spreads its fragrance everywhere. And the likeness of one who learns it then goes to bed with it in his heart is that of a sack that is tied up from which no fragrance comes out.” (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل القرآن ٢ (٢٨٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٤٢) (ضعیف) (حدیث کی ترمذی نے تحسین کی ہے، لیکن عطاء مولی أبی احمد ضعیف ہے، اس لئے یہ اس سند سے ضعیف ہے )
218Sunan Ibne-Majah

قرآن سیکھنے، سکھانے کی فضلیت

حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَبِي الطُّفَيْلِ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ، لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِعُسْفَانَ، وَكَانَ عُمَرُ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى مَكَّةَ، فَقَالَ عُمَرُ: مَنِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَى أَهْلِ الْوَادِي؟ قَالَ: اسْتَخْلَفْتُ عَلَيْهِمُ ابْنَ أَبْزَى، قَالَ: وَمَنْ ابْنُ أَبْزَى؟ قَالَ: رَجُلٌ مِنْ مَوَالِينَا، قَالَ عُمَرُ: فَاسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَوْلًى، قَالَ: إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى، عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ، قَاضٍ، قَالَ عُمَرُ: أَمَا إِنَّ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال: إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ .

عامر بن واثلہ ابوالطفیل ؓ کہتے ہیں کہ نافع بن عبدالحارث کی ملاقات عمر بن الخطاب ؓ سے مقام عسفان میں ہوئی، عمر بن الخطاب ؓ نے ان کو مکہ کا عامل بنا رکھا تھا، عمر ؓ نے پوچھا: تم کس کو اہل وادی (مکہ) پر اپنا نائب بنا کر آئے ہو؟ نافع نے کہا: میں نے ان پر اپنا نائب ابن ابزیٰ کو مقرر کیا ہے، عمر ؓ نے پوچھا: ابن ابزیٰ کون ہے؟ نافع نے کہا: ہمارے غلاموں میں سے ایک ہیں ١ ؎، عمر ؓ نے کہا: تم نے ان پہ ایک غلام کو اپنا نائب مقرر کردیا؟ نافع نے عرض کیا: ابن ابزیٰ کتاب اللہ (قرآن) کا قاری، مسائل میراث کا عالم اور قاضی ہے، عمر ؓ نے کہا: اگر بات یوں ہے تو تمہارے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ اس کتاب (قرآن) کے ذریعہ بہت سی قوموں کو سربلند، اور بہت سی قوموں کو پست کرتا ہے ۔

It was narrated that Nâfi’ bin ‘Abdul-Hârith met ‘Umar bin Khattab in ‘Usfân, when ‘Umar had appointed him as his governor in Makkah. ‘Umar asked; “Whom have you appointed as your deputy over the people of the valley?” He said: “I have appointed lbn Abza over them.”‘Umar said: “Who is lbn Abza?” Nâfi’ said: “One of our freed slaves.”‘Umar said: “Have you appointed a freed slave over them?” Nâfi’ said: “He has great knowledge of the Book of Allah, is well versed in the rules of inheritance (Farâid) and is a (good) judge.” ‘Umar said: “Did not your Prophet ﷺ say: ‘Allah raises some people (in status) because of this Book and brings others low because of it?’“(Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: مولیٰ کے معنی رفیق، دوست، آزاد غلام، حلیف، عزیز اور قریب کے ہیں، اور ظاہر یہ ہے کہ یہاں آزاد غلام مراد ہے، اس لئے عمر ؓ نے اس پر تعجب کیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسا فرین ٤٧ (٨١٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٤٧٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/ ٣٥)، سنن الدارمی/فضائل القرآن ٩ (٣٣٦٨) (صحیح )
219Sunan Ibne-Majah

قرآن سیکھنے، سکھانے کی فضلیت

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ غَالِبٍ الْعَبَّادَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْبَحْرَانِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا ذَرٍّ لَأَنْ تَغْدُوَ فَتَعَلَّمَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تُصَلِّيَ مِائَةَ رَكْعَةٍ، وَلَأَنْ تَغْدُوَ فَتَعَلَّمَ بَابًا مِنَ الْعِلْمِ عُمِلَ بِهِ أَوْ لَمْ يُعْمَلْ، خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تُصَلِّيَ أَلْفَ رَكْعَةٍ .

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ابوذر! اگر تم صبح کو قرآن کی ایک آیت بھی سیکھ لو تو تمہارے لیے سو رکعت پڑھنے سے بہتر ہے، اور اگر تم صبح علم کا ایک باب سیکھو خواہ اس پر عمل کیا جائے یا نہ کیا جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم ایک ہزار رکعت پڑھو ١ ؎۔

It was narrated that Abu Dharr (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said to me: ‘O Abu Dharrl For you to come out in the morning and learn one Verse from the Book of Allah is better for you than praying one hundred Rak’ah, and for you to come out and learn a matter of knowledge, whether it is acted upon or not, is better for you than praying one thousand Rak’ah.” (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ تفقہ قراءت سے افضل ہے، اور وہ دونوں ادائے نوافل سے افضل ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٩١٨، ومصباح الزجاجة: ٨٠) (ضعیف) (یہ سند ضعیف ہے، اس لئے کہ اس میں عبداللہ بن زیاد مجہول اور علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں )
220Sunan Ibne-Majah

علمائ (کرام) کی فضیلت اور طلب علم پر ابھارنا

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کی بھلائی چاہتا ہے اسے دین میں فہم و بصیرت عنایت کردیتا ہے ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) b said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘When Allah wills good for a person, He causes him to understand the religion.’”(Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٣١١، ومصباح الزجاجة: ٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٣٤) (صحیح) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١١٩٤ - ١١٩٥ )