جہیمیہ کے انکار کے بارے میں
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَزِيرُ بْنُ صَبِيحٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ حَلْبَسٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ سورة الرحمن آية 29 قَالَ: مِنْ شَأْنِهِ أَنْ يَغْفِرَ ذَنْبًا، وَيُفَرِّجَ كَرْبًا، وَيَرْفَعَ قَوْمًا، وَيَخْفِضَ آخَرِينَ .
ابوالدرداء ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کے فرمان: كل يوم هو في شأن وہ ذات باری تعالیٰ ہر روز ایک نئی شان میں ہے (سورة الرحمن: 29) کے سلسلے میں بیان فرمایا: اس کی شان میں سے یہ ہے کہ وہ کسی کے گناہ کو بخش دیتا ہے، کسی کی مصیبت کو دور کرتا ہے، کسی قوم کو بلند اور کسی کو پست کرتا ہے ۔
It was narrated from Abu Dardâ’ that the Prophet ﷺ said concerning the Verse: “Every day He is (engaged) in some affair.” “His affairs includes forgiving sins, relieving distress raising some people and others low.” (Hasan)