نماز کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 2 · 1,086 hadiths · Page 51 of 55

1394Sunan Abu Dawood

قرآن کے حصے کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَفْقَهُ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص قرآن کو تین دن سے کم میں پڑھتا ہے سمجھتا نہیں ہے ۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: He who recites the Quran in a period less than three days does not understand it.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/القراء ات ١٣ (٢٩٤٩)، ن الکبری/ فضائل القرآن (٨٠٦٧)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٨ (١٣٤٧)، (تحفة الأشراف: ٨٩٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٤، ١٦٥، ١٨٩، ١٩٥)، دی/ فضائل القرآن ٣٢ (٣٥١٤) (صحیح )
1395Sunan Abu Dawood

قرآن کے حصے کرنا

حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي كَمْ يُقْرَأُ الْقُرْآنُ ؟ قَالَ: فِي أَرْبَعِينَ يَوْمًاثُمَّ قَالَ: فِي شَهْرٍ، ثُمَّ قَالَ: فِي عِشْرِينَ، ثُمَّ قَالَ: فِي خَمْسَ عَشْرَةَ، ثُمَّ قَالَ: فِي عَشْرٍ، ثُمَّ قَالَ: فِي سَبْعٍلَمْ يَنْزِلْ مِنْ سَبْعٍ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: قرآن کتنے دنوں میں پڑھا جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: چالیس دن میں ، پھر فرمایا: ایک ماہ میں ، پھر فرمایا: بیس دن میں ، پھر فرمایا: پندرہ دن میں ، پھر فرمایا: دس دن میں ، پھر فرمایا: سات دن میں ، آپ ﷺ سات سے نیچے نہیں اترے۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: Wahb ibn Munabbih said: Abdullah ibn Amr asked the Prophet ﷺ ; In how many days should one complete the recitation of the Quran? He said: In forty days. He then said: In one month. He again said: In twenty days. He then said: In fifteen days. He then said: In ten days. Finally he said: In seven days.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ القراء ات ١٣ (٢٩٤٧)، ن الکبری/ فضائل القرآن (٨٠٦٨، ٨٠٦٩)، (تحفة الأشراف: ٨٩٤٤) (صحیح) (اِس روایت میں وارد لفظ لم ینزل من سبع شاذ ہے جو خود ان کی روایت (نمبر ١٣٩١) کے برخلاف ہے جس میں تین دن بھی وارد ہوا ہے )
1396Sunan Abu Dawood

قرآن کے حصے کرنا

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، قَالَا: أَتَى ابْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنِّي أَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ: أَهَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ وَنَثْرًا كَنَثْرِ الدَّقَلِ ؟ لَكِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَقْرَأُ النَّظَائِرَ السُّورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ النَّجْمَ، وَالرَّحْمَنَ فِي رَكْعَةٍ، وَاقْتَرَبَتْ، وَالْحَاقَّةَ فِي رَكْعَةٍ، وَالطُّورَ، وَالذَّارِيَاتِ فِي رَكْعَةٍ، وَإِذَا وَقَعَتْ، وَنُونَ فِي رَكْعَةٍ، وَسَأَلَ سَائِلٌ وَالنَّازِعَاتِ فِي رَكْعَةٍ، وَوَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ، وَعَبَسَ فِي رَكْعَةٍ، وَالْمُدَّثِّرَ، وَالْمُزَّمِّلَ فِي رَكْعَةٍ، وَهَلْ أَتَى، وَلَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فِي رَكْعَةٍ، وَعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ، وَالْمُرْسَلَاتِ فِي رَكْعَةٍ، وَالدُّخَانَ، وَإِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ فِي رَكْعَةٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا تَأْلِيفُ ابْنِ مَسْعُودٍ رَحِمَهُ اللَّهُ.

علقمہ اور اسود کہتے ہیں کہ ابن مسعود ؓ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میں ایک رکعت میں مفصل پڑھ لیتا ہوں، انہوں نے کہا: کیا تم اس طرح پڑھتے ہو جیسے شعر جلدی جلدی پڑھا جاتا ہے یا جیسے سوکھی کھجوریں درخت سے جھڑتی ہیں؟ لیکن نبی اکرم ﷺ دو ہم مثل سورتوں کو جیسے نجم اور رحمن ایک رکعت میں، اقتربت اور الحاقة ایک رکعت میں، والطور اور الذاريات ایک رکعت میں، إذا وقعت اور نون ایک رکعت میں، سأل سائل اور النازعات ایک رکعت میں، ويل للمطففين اور عبس ایک رکعت میں، المدثر اور المزمل ایک رکعت میں، هل أتى اور لا أقسم بيوم القيامة ایک رکعت میں، عم يتسائلون اور المرسلات ایک رکعت میں، اور اسی طرح الدخان اور إذا الشمس کورت ایک رکعت میں ملا کر پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابن مسعود کی ترتیب ہے، اللہ ان پر رحم کرے۔

Narrated Ibn Masud (RA) : Alqamah and al-Aswad said: A man came to Ibn Masud. He said: I recite the mufassal surahs in one rakah. You might recite it quickly as one recites verse (poetry) quickly, or as the dried dates fall down (from the tree). But the Prophet ﷺ used to recite two equal surahs in one rakah; he would recite (for instance) surahs an-Najm (53) and ar-Rahman (55) in one rakah, surahs Iqtarabat (54) and al-Haqqah (69) in one rakah, surahs at-Tur (52) and adh-Dhariyat (51) in one rakah, surahs al-Waqiah (56) and Nun (68) in one rakah, surahs al-Maarij (70) and an-Naziat (79) in one rakah, surahs al-Mutaffifin (83) and Abasa (80) in one rakah, surahs al-Muddaththir (74) and al-Muzzammil (73) in one rakah, surahs al-Insan (76) and al-Qiyamah (75) in one rakah, surahs an-Naba (78) and al-Mursalat (77) in one rakah, and surahs ad-Dukhan (44) and at-Takwir (81) in one rakah. Abu Dawud said: This is the arrangement of Ibn Masud himself

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩١٨٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ١٠٦ (٧٧٥)، و فضائل القرآن ٦ (٤٩٩٦)، ٢٨ (٥٠٤٣)، صحیح مسلم/المسافرین ٤٩ (٧٢٢)، سنن الترمذی/الصلاة ٣٠٥ (الجمعة ٦٩) (٦٠٢)، سنن النسائی/الافتتاح ٧٥ (١٠٠٧)، مسند احمد (١/٣٨٠، ٤١٧، ٤٢٧، ٤٣٦، ٤٥٥) (صحیح) (مگر سورتوں کی یہ فہرست ثابت نہیں ہے، اور مؤلف کے سوا کسی کے یہاں یہ فہرست ہے بھی نہیں )
1397Sunan Abu Dawood

قرآن کے حصے کرنا

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا مَسْعُودٍوَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَرَأَ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ.

عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے ابو مسعود ؓ سے پوچھا آپ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے تو آپ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: جس نے کسی رات میں سورة البقرہ کے آخر کی دو آیتیں پڑھیں تو یہ اس کے لیے کافی ہوں گی ۔

Abdur-Rahman bin Yazid said: I asked Abu Masud while he was making circumambulation of the Kabah (about the recitation of some verses from the Quran). He said: The Messenger of Allah ﷺ said: If anyone recited two verses from the last of Surah al-Baqarah at night, they will be sufficient for him.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل القرآن ١٠ (٥٠٠٩)، صحیح مسلم/المسافرین ٤٣ (٨٠٧)، سنن الترمذی/فضائل القرآن ٤ (٢٨٨١)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (٧٢١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨٣ (١٣٦٩)، (تحفة الأشراف: ٩٩٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١١٨، ١٢١، ١٢٢)، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٠ (١٥٢٨)، و فضائل القرآن ١٤ (٣٤٣١) (صحیح )
1398Sunan Abu Dawood

قرآن کے حصے کرنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، أَنَّ أَبَا سَوِيَّةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ حُجَيْرَةَ يُخْبِرُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَامَ بِعَشْرِ آيَاتٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ، وَمَنْ قَامَ بِمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِينَ، وَمَنْ قَامَ بِأَلْفِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْمُقَنْطِرِينَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: ابْنُ حُجَيْرَةَ الْأَصْغَرُ عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص دس آیتوں (کی تلاوت) کے ساتھ قیام اللیل کرے گا وہ غافلوں میں نہیں لکھا جائے گا، جو سو آیتوں (کی تلاوت) کے ساتھ قیام کرے گا وہ عابدوں میں لکھا جائے گا، اور جو ایک ہزار آیتوں ( کی تلاوت) کے ساتھ قیام کرے گا وہ بےانتہاء ثواب جمع کرنے والوں میں لکھا جائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن حجیرہ الاصغر سے مراد عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن حجیرہ ہیں۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: If anyone prays at night reciting regularly ten verses, he will not be recorded among the negligent; if anyone prays at night and recites a hundred verses, he will be recorded among those who are obedient to Allah; and if anyone prays at night reciting one thousand verses, he will be recorded among those who receive huge rewards. Abu Dawud said: The name of Ibn Hujairah al-Asghar is Abdullah bin Abdur-Rahman bin Hujairah.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٨٧٤) (صحیح )
1399Sunan Abu Dawood

قرآن کے حصے کرنا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَقْرِئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: اقْرَأْ ثَلَاثًا مِنْ ذَوَاتِ الرَّاءِ، فَقَالَ: كَبِرَتْ سِنِّي، وَاشْتَدَّ قَلْبِي، وَغَلُظَ لِسَانِي، قَالَ: فَاقْرَأْ ثَلَاثًا مِنْ ذَوَاتِ حم، فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ، فَقَالَ: اقْرَأْ ثَلَاثًا مِنَ الْمُسَبِّحَاتِفَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقْرِئْنِي سُورَةً جَامِعَةً، فَأَقْرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَزِيدُ عَلَيْهَا أَبَدًا، ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْلَحَ الرُّوَيْجِلُ، مَرَّتَيْنِ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے قرآن مجید پڑھائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ان تین سورتوں کو پڑھو جن کے شروع میں الر ہے ١ ؎، اس نے کہا: میں عمر رسیدہ ہوچکا ہوں، میرا دل سخت اور زبان موٹی ہوگئی ہے (اس لیے اس قدر نہیں پڑھ سکتا) ، آپ ﷺ نے فرمایا: پھر حم والی تینوں سورتیں پڑھا کرو ، اس شخص نے پھر وہی پہلی بات دہرائی، آپ ﷺ نے فرمایا: تو مسبحات میں سے تین سورتیں پڑھا کرو ، اس شخص نے پھر پہلی بات دہرا دی اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایک جامع سورة سکھا دیجئیے، رسول اللہ ﷺ نے اس کو إذا زلزلت الأرض سکھائی، جب آپ ﷺ اس سے فارغ ہوئے تو اس شخص نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو رسول برحق بنا کر بھیجا، میں کبھی اس پر زیادہ نہیں کروں گا، جب آدمی واپس چلا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا: أفلح الرويجل (بوڑھا کامیاب ہوگیا) ۔

Narrated Abdullah ibn Amr (RA) : A man came to the Messenger of Allah ﷺ and said: Teach me to read the Quran, Messenger of Allah. He said: Read three surahs which begin with A. L. R. He said: My age is advanced, my mind has become dull (i. e. memory has grown weak), and my tongue has grown heavy). So he said: Then read three surahs which begin with H. M. He repeated the same words. So he said: Read three surahs which begin with the Glorification of Allah. But he repeated the same excuse. The man then said: Teach me a comprehensive surah, Messenger of Allah. The Prophet ﷺ taught him Surah (99). When the Earth is shaken with her earthquake. When he finished it, the man said: By Him Who sent you with truth, I shall never add anything to it. Then man then went away. The Prophet ﷺ said twice: The man received salvation.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی سورة یونس، سورة ہود اور سورة یوسف۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٢٠٤ (٩٥٠)، (تحفة الأشراف: ٨٩٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٩) (ضعیف) (اس میں عیسیٰ بن ہلال صدفی ضعیف ہیں )
1400Sunan Abu Dawood

آیتوں کی گنتی

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُشَمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سُورَةٌ مِنَ الْقُرْآنِ ثَلَاثُونَ آيَةً تَشْفَعُ لِصَاحِبِهَا حَتَّى يُغْفَرَ لَهُ: تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قرآن کی ایک سورة جو تیس آیتوں والی ہے اپنے پڑھنے والے کی سفارش کرے گی یہاں تک کہ اس کی مغفرت ہوجائے اور وہ تبارک الذي بيده الملک ہے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: A surah of the Quran containing thirty verses will intercede its reader till he will be forgiven. That is: Blessed is He in Whose Hand is the sovereignty (Surah 67).

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل القرآن ٩ (٢٨٩١)، ن الکبری /التفسیر (١١٦١٢)، الیوم واللیلة (٧١٠)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٢ (٣٧٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٥٠)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/فضائل القرآن ٢٣ (٣٤٥٢) (حسن )
1401Sunan Abu Dawood

سجدہ ہائے تلاوت اور انکی تعداد کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ الْبَرْقِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ الْعُتَقِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُنَيْنٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ كُلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَقْرَأَهُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَجْدَةً فِي الْقُرْآنِ، مِنْهَا ثَلَاثٌ فِي الْمُفَصَّلِ، وَفِي سُورَةِ الْحَجِّ سَجْدَتَانِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رُوِيَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةًوَإِسْنَادُهُ وَاهٍ.

عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو قرآن مجید میں (١٥) سجدے ١ ؎ پڑھائے: ان میں سے تین مفصل میں ٢ ؎ اور دو سورة الحج میں ٣ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالدرداء ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے گیارہ سجدے نقل کئے ہیں، لیکن اس کی سند کمزور ہے۔

Narrated Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ taught me fifteen prostrations while reciting the Quran, including three in al-Mufassal and two in Surah al-Hajj. Abu Dawud said: Abu al-Darda has reported eleven prostrations from the Prophet ﷺ , but chain of this tradition is weak.

Notes · وضاحت
١ ؎: امام احمد اور جمہور اہل حدیث کے یہاں قرآن مجید میں پندرہ سجدے تلاوت کے ہیں، امام مالک کے نزدیک صرف گیارہ سجدے ہیں، مفصل اور سورة ص میں ان کے نزدیک سجدہ نہیں ہے، امام شافعی کے نزدیک کل چودہ سجدے ہیں، سورة ص میں ان کے نزدیک بھی سجدہ نہیں، اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک بھی کل چودہ سجدے ہیں، وہ سورة حج میں ایک ہی سجدہ مانتے ہیں، سجدہ تلاوت جمہور کے نزدیک سنت ہے لیکن امام ابوحنیفہ اسے واجب کہتے ہیں، ائمہ اربعہ اور اکثر علماء کے نزدیک اس میں وضو شرط ہے، امام ابن تیمیہ کے نزدیک شرط نہیں ہے۔ ٢ ؎: سورة نجم، سورة انشقت اور اقرأ میں۔ ٣ ؎: یہ کل پانچ سجدے ہوئے اور دس ان کے علاوہ باقی سورتوں: اعراف، رعد، نحل، بنی اسرائیل، مریم، فرقان، نمل، الم تنزیل السجدہ، ص اور فصلت میں، اس طرح کل پندرہ سجدے ہوئے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧١ (١٠٥٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٣٥) (ضعیف) (اس کے راوی حارث لین الحدیث، اور عبد اللہ مجہول ہیں )
1402Sunan Abu Dawood

سجدہ ہائے تلاوت اور انکی تعداد کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، أَنَّ مِشْرَحَ بْنَ هَاعَانَ أَبَا الْمُصْعَبِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفِي سُورَةِ الْحَجِّ سَجْدَتَانِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَمَنْ لَمْ يَسْجُدْهُمَا فَلَا يَقْرَأْهُمَا.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا سورة الحج میں دو سجدے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں اور جو یہ دونوں سجدے نہ کرے وہ انہیں نہ پڑھے ۔

Narrated Uqbah ibn Amir: I said to the Messenger of Allah ﷺ : Are there two prostrations in Surah al-Hajj? He replied: Yes; if anyone does not make two prostrations, he should not recite them.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٨٩ (الجمعة ٥٤) (٥٧٨)، (تحفة الأشراف: ٩٩٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٥١، ١٥٥) (حسن) ( مشرح کے بارے میں کلام ہے، لیکن دوسری خالد بن حمدان کی مرسل حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن کے درجہ کو پہنچی) (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٥ ؍ ١٤٦ )
1403Sunan Abu Dawood

مفصل میں سجدہ نہ ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: رَأَيْتُهُ بِمَكَّةَ، حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَمْ يَسْجُدْ فِي شَيْءٍ مِنْ الْمُفَصَّلِ مُنْذُ تَحَوَّلَ إِلَى الْمَدِينَةِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ مکہ سے مدینہ آجانے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے مفصل (سورتوں) میں سے کسی سورة میں سجدہ نہیں کیا ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ did not make a prostration at any verse in al-Mufassal from the time he moved to Madina.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث امام مالک کی دلیل ہے، لیکن یہ ضعیف ہے، جیسا کہ تخریج سے واضح ہے، اور ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث (١٤٠٧) جو آگے آرہی ہے کے معارض ہے، اور ابوہریرہ ؓ متاخر الاسلام ہیں، انہوں نے ساتویں ہجری میں اسلام قبول کیا ہے، نیز ان کی حدیث صحیحین میں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٦٢١٦) (ضعیف) (اس کے راوی ابوقدامہ حارث بن عبید اور مطر وراق حافظہ کے بہت کمزور راوی ہیں )
1404Sunan Abu Dawood

مفصل میں سجدہ نہ ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجْمَفَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا.

زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سورة النجم پڑھ کر سنائی تو آپ نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔

Narrated Zaid bin Thabit (RA) : The Messenger of Allah ﷺ did not make prostration at any verse in al-Mufassal from the time he moved to Madina.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/سجود القرآن ٦ (١٠٧٢)، صحیح مسلم/المساجد ٢٠ (٥٧٧)، ت الجمعة ٥٢ (٥٧٦)، سنن النسائی/الافتتاح ٥٠ (٩٦١)، (تحفة الأشراف: ٣٧٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٨٣، ١٨٦)، سنن الدارمی/الصلاة ١٦٤ (١٥١٣) (صحیح )
1405Sunan Abu Dawood

مفصل میں سجدہ نہ ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرٍ، عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: كَانَ زَيْدٌ الْإِمَامَ فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا.

اس سند سے بھی زید بن ثابت ؓ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً آئی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زید امام تھے لیکن انہوں نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔

This tradition has also been transmitted by Zaid bin Thabit through a different chain of narrators to the same effect. Abu Dawud said: Zaid was imam (in a prayer) and he did not make prostration.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٧٠٧) (صحیح )
1406Sunan Abu Dawood

سورہء نجم میں سجدہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَرَأَ سُورَةَ النَّجْمِ فَسَجَدَ فِيهَا، وَمَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا سَجَدَ، فَأَخَذَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ كَفًّا مِنْ حَصًى أَوْ تُرَابٍ فَرَفَعَهُ إِلَى وَجْهِهِ، وَقَالَ يَكْفِينِي هَذَا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ قُتِلَ كَافِرًا.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة النجم پڑھی اور اس میں سجدہ کیا اور لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا نہ رہا جس نے سجدہ نہ کیا ہو، البتہ ایک شخص نے تھوڑی سی ریت یا مٹی مٹھی میں لی اور اسے اپنے منہ (یعنی پیشانی) تک اٹھایا اور کہنے لگا: میرے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں: میں نے اس کے بعد اسے دیکھا کہ وہ حالت کفر میں قتل کیا گیا۔

Narrated Abdullah (bin Masud): The Messenger of Allah ﷺ recited Surah al-Najm and prostrated himself. No one remained there who did not prostrate (along with him). A man from the people took a handful of pebbles or dust and raised it to his face saying: This is enough for me. Abdullah (bin Masud) said: I later saw him killed as an infidel.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/سجود القرآن ١ (١٠٧٢)، ٤ (١٠٧٣)، ومناقب الأنصار ٢٩ (٣٨٥٣)، والمغازي ٨ (٣٩٧٢)، و تفسیر النجم ٤ (٤٨٦٢)، صحیح مسلم/المساجد ٢٠ (٥٧٦)، سنن النسائی/الافتتاح ٤٩ (٩٦٠)، (تحفة الأشراف: ٩١٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٨، ٤٠١، ٤٤٣، ٤٦٢) دي /الصلاة ١٦٠ (١٥٠٦) (صحیح )
1407Sunan Abu Dawood

اذا السماء النشقت اور اقرا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَجَدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي: إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سورة إذا السماء انشقت اور اقرأ باسم ربک الذي خلق میں سجدہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوہریرہ چھ ہجری میں غزوہ خیبر کے سال اسلام لائے اور رسول اللہ ﷺ کے یہ سجدے آپ کے آخری فعل ہیں۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : We prostrated ourselves along with the Messenger of Allah ﷺ on account of: When the sky is rent asunder and Recite in the name of Your Lord Who created

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٢٠ (٥٧٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٨٥ (الجمعة ٥٠) (٥٧٣ و ٥٧٤)، سنن النسائی/الافتتاح ٥٢ (٩٦٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧١ (١٠٥٨ و ١٠٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٠٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ١٠٠(٧٦٦)، موطا امام مالک/القرآن ٥ (١٢)، مسند احمد (٢/٢٤٩، ٤٦١)، سنن الدارمی/الصلاة ١٦٣ (١٥١٢) (صحیح )
1408Sunan Abu Dawood

اذا السماء النشقت اور اقرا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ الْعَتَمَةَ، فَقَرَأَ: إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، فَسَجَدَ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ السَّجْدَةُ ؟ قَالَ: سَجَدْتُ بِهَا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ.

ابورافع نفیع الصائغ بصریٰ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ ؓ کے ساتھ عشاء پڑھی، آپ نے إذا السماء انشقت کی تلاوت کی اور سجدہ کیا، میں نے کہا: یہ سجدہ کیسا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے یہ سجدہ ابوالقاسم ﷺ کے پیچھے (نماز پڑھتے ہوئے) کیا ہے اور میں برابر اسے کرتا رہوں گا یہاں تک کہ آپ سے جا ملوں۔

Narrated Abu Rafi (RA) : I offered the night prayer behind Abu Hurairah. He recited Surah Inshiqaq (When the sky is rent asunder) and prostrated himself. I asked him: What is this prostration ? He replied: I prostrated myself on account of this (surah) behind Abu al-Qasim (i. e. the Prophet). I shall continue prostrating on account of this till I meet him.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٠٠(٧٦٦)، صحیح مسلم/المساجد ٢٠ (٥٧٨)، سنن النسائی/الافتتاح ٥٣ (٩٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٢٩، ٢٥٦، ٢٦٦) (صحیح )
1409Sunan Abu Dawood

سورہء صآ میں سجدہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَيْسَ ص مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَسْجُدُ فِيهَا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ سورة ص کا سجدہ تاکیدی سجدوں میں سے نہیں لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : A prostration when reciting Sad is not one of those which are divinely commanded, but I have seen Messenger of Allah ﷺ prostrate himself.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/سجود القرآن ٣ (١٠٦٩)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٨٨ (الجمعة ٥٣) (٥٧٧)، سنن النسائی/الافتتاح ٤٨ (٩٥٨)، (تحفة الأشراف: ٥٩٨٨)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة ١٦١ (١٥٠٨) (صحیح )
1410Sunan Abu Dawood

سورہء صآ میں سجدہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ص، فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمٌ آخَرُ قَرَأَهَا فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ تَشَزَّنَ النَّاسُ لِلسُّجُودِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَشَزَّنْتُمْ لِلسُّجُودِ، فَنَزَلَ، فَسَجَدَ وَسَجَدُوا.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة ص پڑھی، آپ منبر پر تھے جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کیا، پھر ایک دن کی بات ہے کہ آپ نے اس سورة کی تلاوت کی، جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو لوگ سجدے کے لیے تیار ہوگئے، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ سجدہ دراصل ایک نبی ١ ؎ کی توبہ تھی، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ سجدے کے لیے تیار ہو رہے ہو ، چناچہ آپ اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔

Narrated Saeed al-Khudri (RA) : The Messenger of Allah ﷺ recited surah Sad on the pulpit. When he reached the place of prostration (in the surah), he descended and prostrated himself and the people prostrated with him. When the next day came, he recited it. When he reached the place of prostration (in the surah), the people became ready for prostration. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: This is the repentance of a Prophet ; but I saw you being ready for prostration. So he descended and prostrated himself and the people prostrated along with him.

Notes · وضاحت
وضاحت: اس سے مراد داود (علیہ السلام) ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داو د، (تحفة الأشراف: ٤٢٧٦)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة ١٦١ (١٥٠٧) (صحیح )
1411Sunan Abu Dawood

سواری کی حالت میں آیت سجدہ سنے تو کیا کرے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ أَبُو الْجَمَاهِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَرَأَ عَامَ الْفَتْحِ سَجْدَةً، فَسَجَدَ النَّاسُ كُلُّهُمْ، مِنْهُمُ الرَّاكِبُ وَالسَّاجِدُ فِي الْأَرْضِ حَتَّى إِنَّ الرَّاكِبَ لَيَسْجُدُ عَلَى يَدِهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے سال سجدے والی آیت پڑھی تو تمام لوگوں نے سجدہ کیا، کچھ ان میں سوار تھے اور کچھ زمین پر سجدہ کرنے والے تھے حتیٰ کہ سوار اپنے ہاتھ پر سجدہ کر رہے تھے۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : In the year of Conquest the Messenger of Allah ﷺ recited a verse at which a prostration should be made and all the people prostrated themselves. Some were mounted, and some were prostrating themselves on the ground, and those who were mounted prostrated themselves on their hands.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٤٤٤) (ضعیف) (اس کے راوی مصعب لین الحدیث ہیں مگر صحیحین میں یہی روایت قدرے مختصر سیاق میں موجود ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے )
1412Sunan Abu Dawood

سواری کی حالت میں آیت سجدہ سنے تو کیا کرے؟

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ الْمَعْنَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْنَا السُّورَةَ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: فِي غَيْرِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، فَيَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَهُ حَتَّى لَا يَجِدَ أَحَدُنَا مَكَانًا لِمَوْضِعِ جَبْهَتِهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں سورة پڑھ کر سناتے (ابن نمیر کی روایت میں ہے) نماز کے علاوہ میں (آگے یحییٰ بن سعید اور ابن نمیر سیاق حدیث میں متفق ہیں) ، پھر آپ ﷺ (سجدہ کی آیت آنے پر) سجدہ کرتے، ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے یہاں تک کہ ہم میں سے بعض کو اپنی پیشانی رکھنے کی جگہ نہ مل پاتی ١ ؎۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ would recite to us a surah (according to the version of Ibn Numair) outside the prayer (the agreed version goes), then he would prostrate along with him, and none of us could find a place for his forehead.

Notes · وضاحت
١ ؎: ایسی صورت میں وہ اپنے ہاتھ، یا ران، یا دوسرے کی پشت پر سجدہ کرلیتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/سجود القرآن ٨ (١٠٧٥)، صحیح مسلم/المساجد ٢٠ (٥٧٥)، (تحفة الأشراف: ٨٠٠٨، ٨٠١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٥٧)، سنن الدارمی/الصلاة ١٦١ (١٥٠٧) (صحیح )
1413Sunan Abu Dawood

سواری کی حالت میں آیت سجدہ سنے تو کیا کرے؟

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ أَبُو مَسْعُودٍ الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ، فَإِذَا مَرَّ بِالسَّجْدَةِ كَبَّرَ وَسَجَدَ وَسَجَدْنَا. قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَكَانَ الثَّوْرِيُّ يُعْجِبُهُ هَذَا الْحَدِيثُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: يُعْجِبُهُ لِأَنَّهُ كَبَّرَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم کو قرآن سناتے، جب کسی سجدے کی آیت سے گزرتے تو الله أكبر کہتے اور سجدہ کرتے اور آپ کے ساتھ ہم بھی سجدہ کرتے۔ عبدالرزاق کہتے ہیں: یہ حدیث ثوری کو اچھی لگتی تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انہیں یہ اس لیے پسند تھی کہ اس میں الله أكبر کا ذکر ہے۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to recite the Quran to us. When he came upon the verse containing prostration, he would utter the takbir (Allah is most great) and we would prostrate ourselves along with him. The narrator Abd al-Razzaq said: Al-Thawri liked this tradition very much. Abu Dawud said: This was liked by him for this contains the uttering of takbir.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٧٧٢٦) (منکر) (سجدہ کے لئے تکبیر کا تذکرہ منکر ہے، نافع سے روایت کرنے والے عبداللہ العمری ضعیف ہیں، بغیر تکبیر کے تذکرے کے یہ حدیث ثابت ہے جیسا کہ پچھلی حدیث میں ہے، البتہ دوسروے دلائل سے تکبیر ثابت ہے )