Sunan Abu Dawood 1406

نماز کا بیان

1406Sunan Abu Dawood

سورہء نجم میں سجدہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَرَأَ سُورَةَ النَّجْمِ فَسَجَدَ فِيهَا، وَمَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا سَجَدَ، فَأَخَذَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ كَفًّا مِنْ حَصًى أَوْ تُرَابٍ فَرَفَعَهُ إِلَى وَجْهِهِ، وَقَالَ يَكْفِينِي هَذَا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ قُتِلَ كَافِرًا.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة النجم پڑھی اور اس میں سجدہ کیا اور لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا نہ رہا جس نے سجدہ نہ کیا ہو، البتہ ایک شخص نے تھوڑی سی ریت یا مٹی مٹھی میں لی اور اسے اپنے منہ (یعنی پیشانی) تک اٹھایا اور کہنے لگا: میرے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں: میں نے اس کے بعد اسے دیکھا کہ وہ حالت کفر میں قتل کیا گیا۔

Narrated Abdullah (bin Masud): The Messenger of Allah ﷺ recited Surah al-Najm and prostrated himself. No one remained there who did not prostrate (along with him). A man from the people took a handful of pebbles or dust and raised it to his face saying: This is enough for me. Abdullah (bin Masud) said: I later saw him killed as an infidel.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/سجود القرآن ١ (١٠٧٢)، ٤ (١٠٧٣)، ومناقب الأنصار ٢٩ (٣٨٥٣)، والمغازي ٨ (٣٩٧٢)، و تفسیر النجم ٤ (٤٨٦٢)، صحیح مسلم/المساجد ٢٠ (٥٧٦)، سنن النسائی/الافتتاح ٤٩ (٩٦٠)، (تحفة الأشراف: ٩١٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٨، ٤٠١، ٤٤٣، ٤٦٢) دي /الصلاة ١٦٠ (١٥٠٦) (صحیح )