ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات میں قرآن کے سجدوں میں کئی بار سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره بحوله وقوته یعنی میرے چہرے نے اس ذات کو سجدہ کیا جس نے اپنی قوت و طاقت سے اسے پیدا کیا اور اس کے کان اور آنکھ بنائے کہتے تھے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ prostrated himself at night when reciting the Quran. He said repeatedly: My face prostrates itself to Him Who created it and brought forth its hearing and seeing by His might and power.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٩٠ (الجمعة ٥٥) (٥٨٠)، والدعوات ٣٣ (٣٤٢٥)، سنن النسائی/التطبیق ٧٠ (١١٣٠)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٠، ٢١٧) (صحیح) ( ترمذی اور نسائی کے یہاں سند میں عن رجل (مجہول راوی) نہیں ہے، اور خالد الخداء کی روایت ابوالعالیہ سے ثابت ہے اس لئے اس حدیث کی صحت میں کوئی کلام نہیں )
ابوتمیمہ طریف بن مجالد ہجیمی کہتے ہیں کہ جب ہم قافلہ کے ساتھ مدینہ آئے تو میں فجر کے بعد وعظ کہا کرتا تھا، اور (سجدہ کی آیت پڑھنے کے بعد) سجدہ کرتا تھا تو مجھے ابن عمر ؓ نے اس سے تین مرتبہ منع کیا، لیکن میں باز نہیں آیا، آپ نے پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ، ابوبکر، عمر اور عثمان ؓ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی لیکن کسی نے سجدہ نہیں کیا یہاں تک کہ سورج نکل آیا۔
Narrated Abu Tamimah al-Hujaymi (RA) : When we came to Madina accompanying the caravan, I used to preach after the dawn prayer, and prostrate on account of the recitation of the Quran. Ibn Umar prohibited me three times, but I did not cease doing that. He then repeated (his prohibition) saying: I prayed behind the Messenger of Allah ﷺ , Abu Bakr, Umar and Uthman, they would not prostrate (on account of the recitation of the Quran) till the sun had risen.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧١١٠)، وقد أخرجہ: (حم (٢/٢٤، ١٠٦) (ضعیف) ( اس کے راوی ابوبحر عبدالرحمن بن عثمان ضعیف ہیں )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے قرآن والو! ١ ؎ وتر پڑھا کرو اس لیے کہ اللہ وتر (طاق) ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے ۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: The Prophet ﷺ said: Allah is single (witr) and loves what is single, so observe the witr, you who follow the Quran.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں اہل قرآن سے مراد قرّاء و حفاظ کی جماعت ہے نہ کہ عام مسلمان، اس سے علماء نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ وتر واجب نہیں، اگر وتر واجب ہوتی تو یہ حکم عام ہوتا، اہل قرآن (یعنی قراء و حفاظ و علماء) کے ساتھ خاص نہ ہوتا، نیز آپ ﷺ نے اعرابی سے ليس لک ولا لأصحابک جو فرمایا وہ بھی اسی پر دلالت کرتا ہے، امام طیبی کے نزدیک وتر سے مراد تہجد ہے اسی لئے قراء سے خطاب فرمایا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢١٦، (٤٥٣)، سنن النسائی/قیام اللیل ٢٥ (١٦٧٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١٤ (١١٦٩)،(تحفة الأشراف: ١٠١٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٦، ٩٨، ١٠٠، ١٠٧، ١١٠، ١١٥، ١٢٠، ١٤٣، ١٤٤، ١٤٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٩ (١٦٢١) (صحیح) (ابو اسحاق مختلط اور مدلس ہیں، اور عاصم میں قدرے کلام ہے، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے )
عبداللہ بن مسعود ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں اتنا مزید ہے: ایک اعرابی نے کہا: آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا: یہ حکم تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لیے نہیں ہے۔
The above mentioned tradition has also been narrated by Abdullah (bin Masud) through a different chain of narrators to the same effect. This version adds: A bedouin said: What are you saying ? He replied: This is neither for you, nor for your companions.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١٤ (١١٧٠)، (تحفة الأشراف: ٩٦٢٧) (صحیح) (متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث بھی صحیح ہے ورنہ ابوعبیدہ کا اپنے والد ابن مسعود ؓ سے سماع نہیں ہے )
خارجہ بن حذافہ عدوی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اللہ نے ایک ایسی نماز کے ذریعے تمہاری مدد کی ہے جو سرخ اونٹوں سے بھی تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اور وہ وتر ہے، اس کا وقت اس نے تمہارے لیے عشاء سے طلوع فجر تک مقرر کیا ہے ۔
Narrated Kharijah ibn Hudhafah al-Adawi (RA) : The Messenger of Allah ﷺ came out to us and said: Allah the Exalted has given you an extra prayer which is better for you then the red camels (i. e. high breed camels). This is the witr which Allah has appointed for you between the night prayer and the daybreak.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢١٥، الوتر ١ (٤٥٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١٤ (١١٦٨)، (تحفة الأشراف: ٣٤٥٠)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٨ (١٦١٧) (صحیح) (لیکن هي خير لکم من حمر النعم کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے، کیوں کہ اس ٹکڑے کے متابعات اور شواہد موجود نہیں ہیں، یعنی یہ حدیث خود ضعیف ہے، اس کے راوی عبد اللہ بن راشد مجہول ہیں لیکن متابعات اور شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے )
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: وتر حق ہے ١ ؎ جو اسے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں، وتر حق ہے، جو اسے نہ پڑھے ہم میں سے نہیں، وتر حق ہے، جو اسے نہ پڑھے ہم سے نہیں ۔
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: The witr is a duty, so he who does not observe it does not belong to us; the witr is a duty, so he who does not observe it does not belong to us; the witr is a duty, so he who does not observe it does not belong to us.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث ضعیف ہے، اگر صحیح ہوتی تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ وتر کا پڑھنا ثابت ہے، اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس کی تخریج ابن المنذر نے ان الفاظ میں کی ہے الوتر حق وليس بواجب یعنی وتر ایک ثابت شدہ امر ہے لیکن واجب نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥٧) (ضعیف) (اس کے راوی عبیداللہ العتکی ضعیف ہیں )
ابن محیریز کہتے ہیں کہ بنو کنانہ کے ایک شخص نے جسے مخدجی کہا جاتا تھا، شام کے ایک شخص سے سنا جسے ابومحمد کہا جاتا تھا وہ کہہ رہا تھا: وتر واجب ہے، مخدجی نے کہا: میں یہ سن کر عبادہ بن صامت ؓ کے پاس گیا اور ان سے بیان کیا تو عبادہ نے کہا: ابو محمد نے غلط کہا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: پانچ نمازیں ہیں جو اللہ نے بندوں پر فرض کی ہیں، پس جس شخص نے ان کو اس طرح ادا کیا ہوگا کہ ان کو ہلکا سمجھ کر ان میں کچھ بھی کمی نہ کی ہوگی تو اس کے لیے اللہ کے پاس جنت میں داخل کرنے کا عہد ہوگا، اور جو شخص ان کو ادا نہ کرے گا تو اس کے لیے اللہ کے پاس کوئی عہد نہیں، اللہ چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو اسے جنت میں داخل کرے ١ ؎۔
Narrated Ubadah ibn as-Samit: Ibn Muhayriz said: A man from Banu Kinanah, named al-Makhdaji, heard a person called Abu Muhammad in Syria, saying: The witr is a duty (wajib). Al-Makhdaji said: So I went to Ubadah ibn as-Samit and informed him. Ubadah said: Abu Muhammad told a lie. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: There are five prayers which Allah has prescribed on His servants. If anyone offers them, not losing any of them, and not treating them lightly, Allah guarantees that He will admit him to Paradise. If anyone does not offer them, Allah does not take any responsibility for such a person. He may either punish him or admit him to Paradise.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے وتر کا ذکر نہیں کیا ہے، اگر یہ واجب ہوتی تو آپ ﷺ اسے بھی ضرور بیان فرماتے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصلاة ٦ (٤٦٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩٤ (١٤٠١)، (تحفة الأشراف: ٥١٢٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ صلاة اللیل ٣ (١٤)، مسند احمد (٥/٣١٥، ٣١٩، ٣٢٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٨ (١٦١٨) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ دیہات کے ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے تہجد کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس طرح دو دو رکعتیں ہیں اور آخر رات میں وتر ایک رکعت ہے ١ ؎۔
Ibn Umar said: A man who lived in the desert asked the Messenger of Allah ﷺ about the prayer at night. He made a sing with his two fingers-in this way in pairs. The witr consists of one rakah towards the end in night.
Notes · وضاحت
١ ؎: وتر کی رکعتوں کی تعداد کے سلسلہ میں متعدد روایتیں آئی ہیں جن میں ایک رکعت سے لے کر تیرہ رکعت تک کا ذکر ہے ان روایات کو صحیح مان کر انہیں اختلاف احوال پر محمول کرنا مناسب ہوگا، اور یہ واضح رہے کہ وتر کا مطلب دن بھر کی سنن و نوافل اور تہجد ( اگر پڑھتا ہے تو) کو طاق بنادینا ہے، اب چاہے اخیر میں ایک رکعت پڑھ کر طاق بنا دے یا تین یا پانچ، اور اسی طرح طاق رکعتیں ایک ساتھ پڑھ کر، اور یہ سب صورتیں اللہ کے رسول ﷺ سے ثابت ہیں، نیز یہ بھی واضح رہے کہ وتر کا لفظ تہجد کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے، پانچ، سات، نو، یا تیرہ رکعت وتر کا یہی مطلب ہے، نہ کہ تہجد کے علاوہ مزید پانچ تا تیرہ وتر الگ ہے۔
ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وتر ہر مسلمان پر حق ہے جو پانچ پڑھنا چاہے پانچ پڑھے، جو تین پڑھنا چاہے تین پڑھے اور جو ایک پڑھنا چاہے ایک پڑھے ۔
Narrated Abu Ayyub al-Ansari (RA) : The Prophet ﷺ said: The witr is a duty for every Muslim so if anyone wishes to observe it with five rakahs, he may do so; if anyone wishes to observe it with three, he may do so, and if anyone wishes to observe it with one, he may do so.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قیام اللیل ٣٤ (١٧١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٢٣ (١١٩٠)، (تحفة الأشراف: ٣٤٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد ٥/٤١٨، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٠(١٦٢٦) (صحیح )
ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں سبح اسم ربک الأعلى اور قل للذين کفروا (یعنی قل ياأيها الکافرون ) اور الله الواحد الصمد (یعنی قل هو الله أحد ) پڑھا کرتے تھے ١ ؎۔
Narrated Ubayy ibn Kab (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to observe witr with (reciting) Glorify the name of thy Lord, the most High (Surah 87), Say O disbelievers (Surah 109), and Say, He is Allah, the One, Allah, the eternally besought of all (112).
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ مستحب ہے اگر کوئی شخص ان رکعتوں میں مذکورہ سورتوں کے علاوہ دوسری سورتیں پڑھے تو کوئی حرج کی بات نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قیام اللیل ٣٤ (١٧٠٠، ١٧٠١، ١٧٠٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١٥ (١١٧٢)، (تحفة الأشراف: ٥٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٢٣) (صحیح )
عبدالعزیز بن جریج کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ وتر میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے؟ پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی، اور کہا تیسری رکعت میں آپ قل هو الله أحد اور معوذتین (یعنی قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس ) پڑھتے تھے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Abdul Aziz ibn Jurayj said: I asked Aisha (RA) , mother of the believers: With which (surah) the Messenger of Allah ﷺ used to observe witr? (She reported same as in the Hadith of Ubayy ibn Kab, No. 1418) This version adds: In the third rakah he would recite: Say, He is Allah, the One (Surah 112), and Say, I seek refuge in the Lord of daybreak (Surah 113), and Say, I seek refuge in the Lord of mankind (Surah 114).
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٢٣ (الوتر ٩) (٤٦٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١٥ (١١٧٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٢٧) (صحیح) (متابعات کی بنا پر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ عبدالعزیز ابن جریج کی ملاقات عائشہ ؓ سے ثابت نہیں )
حسن بن علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے چند کلمات سکھائے جنہیں میں وتر میں کہا کرتا ہوں (ابن جو اس کی روایت میں ہے جنہیں میں وتر کے قنوت میں کہا کروں ) وہ کلمات یہ ہیں: اللهم اهدني فيمن هديت، وعافني فيمن عافيت، وتولني فيمن توليت، و بارک لي فيما أعطيت، وقني شر ما قضيت إنک تقضي ولا يقضى عليك، وإنه لا يذل من واليت، ولا يعز من عاديت، تبارکت ربنا وتعاليت ١ ؎۔ اے اللہ! مجھے ہدایت دے ان لوگوں میں (داخل کر کے) جن کو تو نے ہدایت دی ہے اور مجھے عافیت دے ان لوگوں میں (داخل کر کے) جن کو تو نے عافیت دی ہے اور میری کارسازی فرما ان لوگوں میں (داخل کر کے) جن کی تو نے کارسازی کی ہے اور مجھے میرے لیے اس چیز میں برکت دے جو تو نے عطا کی ہے اور مجھے اس چیز کی برائی سے بچا جو تو نے مقدر کی ہے، تو فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ جسے تو دوست رکھے وہ ذلیل نہیں ہوسکتا اور جس سے تو دشمنی رکھے وہ عزت نہیں پاسکتا، اے ہمارے رب تو بابرکت اور بلند و بالا ہے ۔
Narrated Al-Hasan ibn Ali (RA) : The Messenger of Allah ﷺ taught me some words that I say during the witr. (The version of Ibn Jawwas has: I say them in the supplication of the witr.) They were: O Allah, guide me among those Thou hast guided, grant me security among those Thou hast granted security, take me into Thy charge among those Thou hast taken into Thy charge, bless me in what Thou hast given, guard me from the evil of what Thou hast decreed, for Thou dost decree, and nothing is decreed for Thee. He whom Thou befriendest is not humbled. Blessed and Exalted art Thou, our Lord.
Notes · وضاحت
١ ؎: حافظ ابن حجر نے بلوغ المرام میں نسائی کے حوالہ سے وصلى الله على النبي محمد کا اضافہ کیا ہے مگر اس کی سند ضعیف ہے، علامہ عزالدین بن عبدالسلام نے فتاویٰ (١/٦٦) میں لکھا ہے کہ قنوت وتر میں نبی اکرم ﷺ پر درود (صلاۃ) بھیجنا ثابت نہیں ہے اور آپ ﷺ کی نماز میں اپنی طرف سے کسی چیز کا اضافہ کرنا مناسب نہیں، علامہ البانی لکھتے ہیں کہ صحیح ابن خزیمہ (١٠٩٧) میں ابی بن کعب ؓ کی ماہ رمضان میں امامت والی حدیث میں ہے کہ وہ عمر ؓ کے عہد خلافت میں قنوت وتر کے آخر میں نبی اکرم ﷺ پر درود (صلاۃ) بھیجتے تھے نیز اسی طرح اسماعیل قاضی کی فضل صلاۃ النبی ﷺ (١٠٧) وغیرہ میں ابو سلمہ معاذ بن حارث انصاری سے عمر ؓ کے زمانہ خلافت میں تراویح کی امامت میں قنوت وتر میں رسول اللہ ﷺ پر درود (صلاۃ) بھیجنا ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٢٤ (الوتر ٩) (٤٦٤)، سنن النسائی/قیام اللیل ٤٢ (١٧٤٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١٧ (١١٧٨)، (تحفة الأشراف: ٣٤٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٩٩، ٢٠٠)، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٤ (١٦٣٢) (صحیح )
اس طریق سے بھی ابواسحاق سے اسی سند کے ساتھ اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے لیکن اس کے آخر میں ہے کہ اسے وہ وتر کی قنوت میں کہتے تھے اور أقولهن في الوتر کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالحوراء کا نام ربیعہ بن شیبان ہے۔
The aforesaid tradition has been transmitted by Abu Ishaq with the same chain and to the same effect. In the last of this tradition he said: The version has the words: He would recite the supplication of the with. He did not mention the words: I say them in the with. Abu Dawud said: The name of Abu al-Hawra is Rabiah bin Shaiban.
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وتر کے آخر میں یہ دعا پڑھتے تھے: اللهم إني أعوذ برضاک من سخطک، وبمعافاتک من عقوبتک، وأعوذ بک منک لا أحصي ثناء عليك أنت کما أثنيت على نفسک اے اللہ! میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کی، تیری سزا سے تیری معافی کی اور تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں، میں تیری تعریف شمار نہیں کرسکتا، تو اسی طرح ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف کی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام حماد کے سب سے پہلے استاذ ہیں اور مجھے یحییٰ بن معین کے واسطہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں کہا ہے کہ ہشام سے سوائے حماد بن سلمہ کے کسی اور نے روایت نہیں کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عیسیٰ بن یونس نے سعید بن ابی عروبہ سے، سعید نے قتادہ سے، قتادہ نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے، سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور ابن ابزی نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وتر میں قنوت رکوع سے پہلے پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عیسیٰ بن یونس نے اس حدیث کو فطر بن خلیفہ سے بھی روایت کیا ہے اور فطر نے زبید سے، زبید نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے، سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے، ابن ابزی نے ابی بن کعب ؓ سے اور ابی نے نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ نیز حفص بن غیاث سے مروی ہے، انہوں نے مسعر سے، مسعر نے زبید سے، زبید نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے، سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن سے اور عبدالرحمٰن نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وتر میں رکوع سے قبل قنوت پڑھی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سعید کی حدیث قتادہ سے مروی ہے، اسے یزید بن زریع نے سعید سے، سعید نے قتادہ سے، قتادہ نے عزرہ سے، عزرہ نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے، سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور ابن ابزی نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، اس میں قنوت کا ذکر نہیں ہے اور نہ ابی بن کعب ؓ کا۔ اور اسی طرح اسے عبدالاعلی اور محمد بن بشر العبدی نے روایت کیا ہے، اور ان کا سماع کوفہ میں عیسیٰ بن یونس کے ساتھ ہے، انہوں نے بھی قنوت کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔ نیز اسے ہشام دستوائی اور شعبہ نے قتادہ سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے بھی قنوت کا ذکر نہیں کیا ہے۔ زبید کی روایت کو سلیمان اعمش، شعبہ، عبدالملک بن ابی سلیمان اور جریر بن حازم سبھی نے روایت کیا ہے، ان میں سے کسی ایک نے بھی قنوت کا ذکر نہیں کیا ہے، سوائے حفص بن غیاث کی روایت کے جسے انہوں نے مسعر کے واسطے سے زبید سے نقل کیا ہے، اس میں رکوع سے پہلے قنوت کا ذکر ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حفص کی یہ حدیث مشہور نہیں ہے، ہم کو اندیشہ ہے کہ حفص نے مسعر کے علاوہ کسی اور سے روایت کی ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ بھی مروی ہے کہ ابی بن کعب قنوت رمضان کے نصف میں پڑھا کرتے تھے۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: The Messenger of Allah ﷺ used to say at the end of his witr: O Allah, I seek refuge in Thy good pleasure from Thy anger, and in Thy forgiveness from Thy punishment, and I seek refuge in Thy mercy from Thy wrath. I cannot reckon the praise due to Thee. Thou art as Thou hast praised Thyself. Abu Dawud said: Hisham is the earliest teacher of Hammad. Yahya bin Main said: No one is reported to have narrated traditions form him except Hammad bin Salamah. Abu Dawud said: Ubayy bin Kab said: The Messenger of Allah ﷺ recited supplication in the witr before bowing. Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Isa bin Yunus through a different chain of narrators from Ubayy bin Kab. He also narrated it through a different chain of narrators on the authority of Ubayy bin Kab that the Messenger of Allah (saw) recited the supplication in the witr before bowing. Abu Dawud said: The chain of narrators of the tradition of Saeed from Qatadah goes: Yazid bin Zurai narrated from Saeed, from Qatadah, from Azrah, from Saeed bin Abdur-Rahman bin Abza, on the authority of his father, from the Prophet ﷺ . This version does not mention the supplication and the name of Ubayy. This tradition has also been narrated by Abd al-Ala and Muhammad bin Bishr al-Abdi. He heard the traditions from Isa bin Yunus at Kufah. They did not mention the supplication in their version. This tradition has also been narrated by Hisham al-Dastuwai and Shubah from Qatadah. They did not mention the supplication in their version. The tradition of Zubaid has been narrated by Sulaiman al-Amash, Shubah, Abd al-Malik bin Abi Sulaiman, and Jarir bin Hazim; all of them narrated on the authority of Zubaid. None of them mention the supplication in his version, except in the tradition transmitted by Hafs bin Ghiyath from Misar from Zubaid; he narrated in his version that he (the Prophet) recited supplication before bowing. Abu Dawud said: This version of tradition is not well know. There is doubt that Hafs might have narrated this tradition from some other narrator than Misar. Abu Dawud said: It is reported that Ubayy (b. Kab) used to recited the supplication )in the witr) in the second half of Ramadan.
محمد بن سیرین اپنے بعض اصحاب سے روایت کرتے ہیں کہ ابی بن کعب ؓ نے رمضان میں ان کی امامت کی اور وہ رمضان کے نصف آخر میں قنوت پڑھتے تھے۔
Muhammad reported on the authority of some of his teachers that Ubayy bin Kab led them in prayer during Ramadan. He used to recite the supplication (in the with) during the second half of Ramadan.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٩) (ضعیف) (ابی بن کعب ؓ سے روایت کرنے والے بعض اصحاب مجہول ہیں )
حسن بصری سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے لوگوں کو ابی بن کعب ؓ کی امامت پر جمع کردیا، وہ لوگوں کو بیس راتوں تک نماز (تراویح) پڑھایا کرتے تھے اور انہیں قنوت نصف اخیر ہی میں پڑھاتے تھے اور جب آخری عشرہ ہوتا تو مسجد نہیں آتے اپنے گھر ہی میں نماز پڑھا کرتے، لوگ کہتے کہ ابی بھاگ گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ دلیل ہے اس بات کی کہ قنوت کے بارے میں جو کچھ ذکر کیا گیا وہ غیر معتبر ہے اور یہ دونوں حدیثیں ابی بن کعب ؓ کی اس حدیث کے ضعف پر دلالت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وتر میں قنوت پڑھی ١ ؎۔
Narrated Ubayy ibn Kab (RA) : Al-Hasan reported: Umar ibn al-Khattab gathered the people (in tarawih prayer) behind Ubayy ibn Kab (who led them). He used to lead them for twenty days (during Ramadan, and would not recite the supplication except in the second half of it (i. e. Ramadan). When the last ten days remained, he kept away from them, and prayed in his house. They used to say: Ubayy ran away. Abu Dawud said: This tradition shows that whatever has been reported about the recitation of the supplication is not tenable. Moreover, these two traditions from Ubayy bin Kab indicate that another tradition which tells that the Prophet ﷺ recited the supplication in the witr is weak.
Notes · وضاحت
١ ؎: جب یہ دونوں حدیثیں ضعیف ہیں تو ان سے استدلال درست نہیں ہے، جب کہ وتر میں قنوت والی حدیث سندا صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠) (ضعیف) (حسن بصری اور عمر بن خطاب ؓ کے درمیان سند میں انقطاع ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل (یار، صادق، محمد) ﷺ نے تین باتوں کی وصیت کی ہے، جن کو میں سفر اور حضر کہیں بھی نہیں چھوڑتا: چاشت کی دو رکعتیں، ہر ماہ تین دن کے روزے اور وتر پڑھے بغیر نہ سونے کی ١ ؎۔
Abu Hurairah said: My friend (i. e. the Prophet) instructed me to observe three practices that I do not leave while traveling nor while resident, to pray two rakahs in the forenoon, to fast three days every month and not to sleep but after observing the with.
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ نے ابوہریرہ ؓ کو یہ نصیحت اس وجہ سے فرمائی کہ وہ بڑی رات تک حدیثوں کے سننے میں مشغول رہتے تھے اس لئے آپ ﷺ کو اندیشہ ہوا کہ سو جانے کے بعد ان کی وتر قضا نہ ہوجایا کرے، اس وجہ سے آپ ﷺ نے انہیں سو جانے سے پہلے وتر پڑھ لینے کی نصیحت کی۔
ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل (محمد) ﷺ نے تین باتوں کی وصیت کی ہے، میں انہیں کسی صورت میں نہیں چھوڑتا، ایک تو مجھے ہر ماہ تین دن روزے رکھنے کی وصیت کی دوسرے وتر پڑھے بغیر نہ سونے کی اور تیسرے حضر ہو کہ سفر، چاشت کی نماز پڑھنے کی۔
Abu Al-Darda said: My friend (i. e. the Prophet) instructed me to observe three practices which I never leave: he instructed me to fast three days every month, and not to sleep but after observing the with, and to observe supererogatory prayer in the forenoon while traveling and while resident.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ١٠٩٢٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ١٣(٧٢٢)، مسند احمد (٦/٤٤٠، ٤٥١) (صحیح) (مگر حضر و سفر کا لفظ صحیح نہیں ہے، اور یہ مسلم میں موجود نہیں ہے )