Sunan Abu Dawood 1433

نماز کا بیان

1433Sunan Abu Dawood

سونے سے پہلے وتر پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ السَّكُونِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ لِشَيْءٍ: أَوْصَانِي بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَلَا أَنَامُ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ، وَبِسُبْحَةِ الضُّحَى فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ.

ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل (محمد) ﷺ نے تین باتوں کی وصیت کی ہے، میں انہیں کسی صورت میں نہیں چھوڑتا، ایک تو مجھے ہر ماہ تین دن روزے رکھنے کی وصیت کی دوسرے وتر پڑھے بغیر نہ سونے کی اور تیسرے حضر ہو کہ سفر، چاشت کی نماز پڑھنے کی۔

Abu Al-Darda said: My friend (i. e. the Prophet) instructed me to observe three practices which I never leave: he instructed me to fast three days every month, and not to sleep but after observing the with, and to observe supererogatory prayer in the forenoon while traveling and while resident.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ١٠٩٢٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ١٣(٧٢٢)، مسند احمد (٦/٤٤٠، ٤٥١) (صحیح) (مگر حضر و سفر کا لفظ صحیح نہیں ہے، اور یہ مسلم میں موجود نہیں ہے )