نماز کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 2 · 1,086 hadiths · Page 50 of 55

1374Sunan Abu Dawood

تراویح کا بیان

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ فِي الْمَسْجِدِ فِي رَمَضَانَ أَوْزَاعًا، فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبْتُ لَهُ حَصِيرًا فَصَلَّى عَلَيْهِ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَتْ فِيهِ: قَالَ: تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّهَا النَّاسُ، أَمَا وَاللَّهِ مَا بِتُّ لَيْلَتِي هَذِهِ بِحَمْدِ اللَّهِ غَافِلًا، وَلَا خَفِيَ عَلَيَّ مَكَانُكُمْ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ لوگ رمضان میں مسجد کے اندر الگ الگ نماز پڑھا کرتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا، میں نے آپ کے لیے چٹائی بچھائی تو آپ ﷺ نے اس پر نماز پڑھی، پھر آگے انہوں نے یہی واقعہ ذکر کیا، اس میں ہے: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لوگو! اللہ کی قسم! میں نے بحمد اللہ یہ رات غفلت میں نہیں گذاری اور نہ ہی مجھ پر تمہارا یہاں ہونا مخفی رہا ۔

Narrated Aisha (RA) : The people used to pray (tarawih prayer) in the mosque during Ramadan severally. The Messenger of Allah ﷺ commanded me (to spread a mat). I spread a mat for him and he prayed upon it. The narrator then transmitted the same story. The Prophet ﷺ said: O People, praise be to Allah, I did not pass my night carelessly, nor did your position remain hidden from me.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٧٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٦٧) (حسن صحیح )
1375Sunan Abu Dawood

تراویح کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْأَبِي ذَرٍّ، قَالَ: صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ، فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، فَلَمَّا كَانَتِ السَّادِسَةُ لَمْ يَقُمْ بِنَا، فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ نَفَّلْتَنَا قِيَامَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ، قَالَ: فَقَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَتِ الرَّابِعَةُ لَمْ يَقُمْ، فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ جَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ وَالنَّاسَ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا الْفَلَاحُ ؟ قَالَ: السُّحُورُ، ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِقِيَّةَ الشَّهْرِ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، آپ نے مہینے کی کسی رات میں بھی ہمارے ساتھ قیام نہیں فرمایا یہاں تک کہ (مہینے کی) سات راتیں رہ گئیں، پھر آپ ﷺ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یعنی تیئیسویں (٢٣) یا چوبیسویں (٢٤) رات کو یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی اور جب چھ راتیں رہ گئیں یعنی (٢٤) ویں یا (٢٥) ویں رات کو آپ نے ہمارے ساتھ قیام نہیں کیا، اس کے بعد (٢٥) ویں یا (٢٦) ویں رات کو جب کہ پانچ راتیں باقی رہ گئیں آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس رات کاش آپ اور زیادہ قیام فرماتے، آپ ﷺ نے فرمایا: جب آدمی امام کے ساتھ نماز پڑھے یہاں تک کہ وہ فارغ ہوجائے تو اس کو ساری رات کے قیام کا ثواب ملتا ہے ، پھر چھبیسویں (٢٦) یا ستائیسویں (٢٧) رات کو جب کہ چار راتیں باقی رہ گئیں آپ ﷺ نے پھر قیام نہیں کیا، پھر ستائیسویں (٢٧) یا اٹھائیسویں (٢٨) رات کو جب کہ تین راتیں باقی رہ گئیں آپ ﷺ نے اپنے گھر والوں، اپنی عورتوں اور لوگوں کو اکٹھا کیا اور ہمارے ساتھ قیام کیا، یہاں تک کہ ہمیں خوف ہونے لگا کہ کہیں ہم سے فلاح چھوٹ نہ جائے، میں نے پوچھا: فلاح کیا ہے؟ ابوذر نے کہا: سحر کا کھانا، پھر آپ ﷺ نے مہینے کی بقیہ راتوں میں قیام نہیں کیا ١ ؎۔۔

Narrated Abu Dharr (RA) : We fasted with the Messenger of Allah ﷺ during Ramadan, but he did not make us get up at night for prayer at any time during the month till seven nights remained; then he made us get up for prayer till a third of the night had passed. When the sixth remaining night came, he did not make us get up for prayer. When the fifth remaining night came, he made us stand in prayer till a half of the night had gone. So I said: Messenger of Allah, I wish you had led us in supererogatory prayers during the whole of tonight. He said: When a man prays with an imam till he goes he is reckoned as having spent a whole night in prayer. On the fourth remaining night he did not make us get up. When the third remaining night came, he gathered his family, his wives, and the people and prayed with us till we were afraid we should miss the falah (success). I said: What is falah? He said: The meal before daybreak. Then he did not make us get up for prayer during the remainder of the month.

Notes · وضاحت
١ ؎: اگر مہینہ تیس دن کا شمار کیا جائے تو سات راتیں چوبیس سے رہتی ہیں، اور اگر انتیس دن کا مانا جائے تو تیئسویں سے سات راتیں رہتی ہیں، اس حساب سے نبی اکرم ﷺ نے تیئسویں، پچسویں اور ستائسویں رات میں قیام کیا، یہ راتیں طاق بھی ہیں اور متبرک بھی، غالب یہی ہے کہ شب قدر بھی انہیں راتوں میں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٨١ (٨٠٦)، سنن النسائی/السہو ١٠٣ (١٣٦٥)، قیام اللیل ٤ (١٦٠٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٣ (١٣٢٧)، (تحفة الأشراف: ١١٩٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٥٩، ١٦٣)، سنن الدارمی/ الصوم ٥٤ (١٨١٨) (صحیح )
1376Sunan Abu Dawood

تراویح کا بیان

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَدَاوُدُ بْنُ أُمَيَّةَ، أَنَّ سُفْيَانَ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، وَقَالَ دَاوُدُ عَنْ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْأَبِي الضُّحَى،عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ أَحْيَا اللَّيْلَ، وَشَدَّ الْمِئْزَرَ، وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو يَعْفُورٍ: اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی اکرم ﷺ راتوں کو جاگتے اور (عبادت کے لیے) کمربستہ ہوجاتے اور اپنے گھر والوں کو بھی بیدار کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابویعفور کا نام عبدالرحمٰن بن عبید بن نسطاس ہے۔

Narrated Aisha (RA) : When the last ten days of Ramadan came, the Prophet ﷺ kept vigil and prayed during the whole night, and tied the wrapper tightly, and awakened his family (to pray during the night). Abu Dawud said: The name of Abu Yafur is Abdur-Rahman bin Ubaid bin Nistas.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/لیلة القدر ٥ (٢٠٢٤)، صحیح مسلم/الاعتکاف ٣ (١١٧٤)، سنن الترمذی/الصوم ٧٣ (٧٩٥)، سنن النسائی/قیام اللیل ١٥ (١٦٤٠)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٥٧ (١٧٦٨)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٠، ٤١) (صحیح )
1377Sunan Abu Dawood

تراویح کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا أُنَاسٌ فِي رَمَضَانَ يُصَلُّونَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: مَا هَؤُلَاءِ ؟فَقِيلَ: هَؤُلَاءِ نَاسٌ لَيْسَ مَعَهُمْ قُرْآنٌ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يُصَلِّي وَهُمْ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَابُوا، وَنِعْمَ مَا صَنَعُوا. قَالَ أَبُو دَاوُد: لَيْسَ هَذَا الْحَدِيثُ بِالْقَوِيِّ، مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ضَعِيفٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ (ایک بار) رسول اللہ ﷺ نکلے تو دیکھا کہ کچھ لوگ رمضان میں مسجد کے ایک گوشے میں نماز پڑھ رہے ہیں، آپ نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ ، لوگوں نے عرض کیا: یہ وہ لوگ ہیں جن کو قرآن یاد نہیں ہے، لہٰذا ابی بن کعب ؓ کے پیچھے یہ لوگ نماز پڑھ رہے ہیں، نبی اکرم ﷺ نے یہ سن کر فرمایا: انہوں نے ٹھیک کیا اور ایک بہتر کام کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے اس لیے کہ مسلم بن خالد ضعیف ہیں۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ came out and saw that the people were praying during (the night of) Ramadan in the corner of the mosque. He asked: Who are these people ? It was said to him that those were people who had not learnt Quran. But Ubayy bin Kab is praying and they would pray behind him. The Prophet ﷺ said: They did right and it is good what they did. Abu Dawud said: This tradition is not strong, the narrator Muslim bin Khalid is weak.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٠٩٤) (ضعیف) ( اس کے راوی مسلم متکلم فیہ ہیں، مولف نے ان کو ضعیف قرار دیا ہے )
1378Sunan Abu Dawood

شب قدر کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، الْمَعْنَى قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ فَإِنَّ صَاحِبَنَا سُئِلَ عَنْهَا، فَقَالَ: مَنْ يَقُمْ الْحَوْلَ يُصِبْهَا، فَقَالَ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ، زَادَ مُسَدَّدٌ: وَلَكِنْ كَرِهَ أَنْ يَتَّكِلُوا، أَوْ أَحَبَّ أَنْ لَا يَتَّكِلُوا، ثُمَّ اتَّفَقَا، وَاللَّهِ إِنَّهَا لَفِي رَمَضَانَ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ لَا يَسْتَثْنِي، قُلْتُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، أَنَّى عَلِمْتَ ذَلِكَ ؟ قَالَ: بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ لِزِرٍّ: مَا الْآيَةُ ؟ قَالَ: تُصْبِحُ الشَّمْسُ صَبِيحَةَ تِلْكَ اللَّيْلَةِ مِثْلَ الطَّسْتِ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ حَتَّى تَرْتَفِعَ.

زر کہتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب ؓ سے کہا: ابومنذر! مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیے؟ اس لیے کہ ہمارے شیخ یعنی عبداللہ بن مسعود ؓ سے جب اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: جو پورے سال قیام کرے اسے پالے گا، ابی ابن کعب ؓ نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم! انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ رات رمضان میں ہے (مسدد نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے لیکن انہیں یہ ناپسند تھا کہ لوگ بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں یا ان کی خواہش تھی کہ لوگ بھروسہ نہ کرلیں، (آگے سلیمان بن حرب اور مسدد دونوں کی روایتوں میں اتفاق ہے) اللہ کی قسم! یہ رات رمضان میں ہے اور ستائیسویں رات ہے، اس سے باہر نہیں، میں نے پوچھا: اے ابومنذر! آپ کو یہ کیوں کر معلوم ہوا؟ انہوں نے جواب دیا: اس علامت سے جو رسول اللہ ﷺ نے ہم کو بتائی تھی۔ (عاصم کہتے ہیں میں نے زر سے پوچھا: وہ علامت کیا تھی؟ جواب دیا: اس رات (کے بعد جو صبح ہوتی ہے اس میں) سورج طشت کی طرح نکلتا ہے، جب تک بلندی کو نہ پہنچ جائے، اس میں کرنیں نہیں ہوتیں۔

Zirr (b. Hubaish) said: I said to Ubayy bin Kab (RA) : Tell me about lailat al-qard, O Abu al-Mundhir, for our companion (Ibn Masud) was questioned about it, and he said: Anyone who gets up for prayer every night all the year round will hit upon it (i. e. lailat al-qadr). He replied: May Allah have mercy on Abu Abdur-Rahman. By Allah, he knew that it was in Ramadan, (Musaddads version goes) bu he disliked that the people should content themselves (with that night alone) ; or he liked that the people should not content themselves (with the night alone). According to the agreed version: By Allah, it is the twenty-seventh night of Ramadan, without any reservation. I said: How did you know that, Abu al-Mundhir ? He replied: By the indication (or sign) of which the Messenger of Allah ﷺ informed us. I asked Zirr: What is the sign ? He replied: The sun rises like a vessel of water in the morning following that night ; it has no ray until it rises high up.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٥ (٧٦٢)، سنن الترمذی/الصوم ٧٣ (٧٩٣)، سنن النسائی/الاعتکاف (٣٤٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٣٠، ١٣١) (حسن صحیح )
1379Sunan Abu Dawood

شب قدر کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ فِي مَجْلِسِ بَنِي سَلَمَةَ، وَأَنَا أَصْغَرُهُمْ، فَقَالُوا: مَنْ يَسْأَلُ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَذَلِكَ صَبِيحَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ، فَخَرَجْتُ، فَوَافَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ، ثُمَّ قُمْتُ بِبَابِ بَيْتِهِ، فَمَرَّ بِي، فَقَالَ: ادْخُلْ، فَدَخَلْتُ فَأُتِيَ بِعَشَائِهِ فَرَآنِي أَكُفُّ عَنْهُ مِنْ قِلَّتِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ: نَاوِلْنِي نَعْلِي، فَقَامَ وَقُمْتُ مَعَهُ، فَقَالَ: كَأَنَّ لَكَ حَاجَةًقُلْتُ: أَجَلْ، أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ رَهْطٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ يَسْأَلُونَكَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَقَالَ: كَمْ اللَّيْلَةُ ؟ فَقُلْتُ: اثْنَتَانِ وَعِشْرُونَ، قَالَ: هِيَ اللَّيْلَةُ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: أَوِ الْقَابِلَةُ، يُرِيدُ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ.

عبداللہ بن انیس ؓ کہتے ہیں کہ میں بنی سلمہ کی مجلس میں تھا، اور ان میں سب سے چھوٹا تھا، لوگوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ سے ہمارے لیے شب قدر کے بارے میں کون پوچھے گا؟ یہ رمضان کی اکیسویں صبح کی بات ہے، تو میں نکلا اور میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب پڑھی، پھر آپ کے گھر کے دروازے پر کھڑا ہوگیا، تو آپ ﷺ میرے پاس سے گزرے اور فرمایا: اندر آجاؤ ، میں اندر داخل ہوگیا، آپ کا شام کا کھانا آیا تو آپ نے مجھے دیکھا کہ میں کھانا تھوڑا ہونے کی وجہ سے کم کم کھا رہا ہوں، جب کھانے سے فارغ ہوئے تو فرمایا: مجھے میرا جوتا دو ، پھر آپ کھڑے ہوئے اور میں بھی آپ کے ساتھ کھڑا ہوا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: لگتا ہے تمہیں مجھ سے کوئی کام ہے؟ ، میں نے کہا: جی ہاں، مجھے قبیلہ بنی سلمہ کے کچھ لوگوں نے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ شب قدر کے سلسلے میں پوچھ رہے ہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: آج کون سی رات ہے؟ ، میں نے کہا: بائیسویں رات، آپ ﷺ نے فرمایا: یہی شب قدر ہے ، پھر لوٹے اور فرمایا: یا کل کی رات ہوگی آپ کی مراد تیئسویں رات تھی۔

Narrated Abdullah ibn Unays: I was present at the gathering of Banu Salamah, and I was the youngest of them. They (the people) said: Who will ask the Messenger of Allah ﷺ for us about Laylat al-Qadr? That was the twenty-first of Ramadan. I went out and said the sunset prayer along with the Messenger of Allah ﷺ . I then stood at the door of his house. He passed by me and said: Come in. I entered (the house) and dinner was brought for him. I was prevented from taking food as it was scanty. When he finished his dinner, he said to me: Give me my shoes. He then stood up and I also stood up with him. He said: Perhaps you have some business with me. I said: Yes. Some people of Banu Salamah have sent me to you to ask you about Laylat al-Qadr. He asked: Which night: Is it tonight? I said: Twenty-second. He said: This is the very night. He then withdrew and said: Or the following night, referring to the twenty-third night.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥١٤٣)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ الاعتکاف (٣٤٠١، ٣٤٠٢)، مسند احمد (٣/٤٩٥) (حسن صحیح )
1380Sunan Abu Dawood

شب قدر کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي بَادِيَةً أَكُونُ فِيهَا وَأَنَا أُصَلِّي فِيهَا بِحَمْدِ اللَّهِ، فَمُرْنِي بِلَيْلَةٍ أَنْزِلُهَا إِلَى هَذَا الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: انْزِلْ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ، فَقُلْتُ لِابْنِهِ: كَيْفَ كَانَ أَبُوكَ يَصْنَعُ ؟ قَالَ: كَانَ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ فَلَا يَخْرُجُ مِنْهُ لِحَاجَةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ الصُّبْحَ، فَإِذَا صَلَّى الصُّبْحَ وَجَدَ دَابَّتَهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، فَجَلَسَ عَلَيْهَا، فَلَحِقَ بِبَادِيَتِهِ.

عبداللہ بن انیس جہنی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک غیر آباد جگہ پر میرا گھر ہے میں اسی میں رہتا ہوں اور بحمداللہ وہیں نماز پڑھتا ہوں، آپ مجھے کوئی ایسی رات بتا دیجئیے کہ میں اس میں اس مسجد میں آیا کروں، آپ ﷺ نے فرمایا: تیئسویں شب کو آیا کرو ۔ محمد بن ابراہیم کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن انیس ؓ کے بیٹے سے پوچھا: تمہارے والد کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب عصر پڑھنی ہوتی تو مسجد میں داخل ہوئے پھر کسی کام سے باہر نہیں نکلتے یہاں تک کہ فجر پڑھ لیتے، پھر جب فجر پڑھ لیتے تو اپنی سواری مسجد کے دروازے پر پاتے اور اس پر بیٹھ کر اپنے بادیہ کو واپس آجاتے۔

Narrated Abdullah ibn Unays al-Juhani (RA) : I said to the Messenger of Allah: I have a place in the desert where I live and in which I pray, with the praise of Allah; but give me command about a night when I come to this mosque. He replied: Come on the twenty third night. I (a sub-narrator, Muhammad ibn Ibrahim) said to his (Abdullah ibn Unayss) son: How would your father act? He replied: He used to enter the mosque when he had offered the afternoon prayer, and did not leave it for any purpose till he prayed the morning prayer. Then when he had prayed the morning prayer, he found his riding beast at the door of the mosque, mounted it and got back to his desert.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥١٤٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاعتکاف ٦ (١٢)، (کلاھما نحوہ) (حسن صحیح )
1381Sunan Abu Dawood

شب قدر کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى، وَفِي سَابِعَةٍ تَبْقَى، وَفِي خَامِسَةٍ تَبْقَى.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اسے (یعنی شب قدر کو) رمضان کے آخری دس دنوں میں تلاش کرو جب نو راتیں باقی رہ جائیں (یعنی اکیسویں شب کو) اور جب سات راتیں باقی رہ جائیں (یعنی تئیسویں شب کو) اور جب پانچ راتیں باقی رہ جائیں (یعنی پچیسویں شب کو) ۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ as saying: Seek laitat al-Qadr in the last ten night of Ramadan. When nine (nights) remain (i. e. on the twenty first), when seven (night) remain (i. e. on the twenty third), and when five (nights) remain (i. e. on the twenty fifth).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/لیلة القدر ٣ (٢٠٢١) ٣ (٢٠٢٦)، (تحفة الأشراف: ٥٩٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣١، ٢٧٩، ٣٦٠، ٣٦٥) (صحیح )
1382Sunan Abu Dawood

شب قدر کا اکیسویں شب میں ہونا

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ، فَاعْتَكَفَ عَامًا حَتَّى إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَهِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي يَخْرُجُ فِيهَا مِنَ اعْتِكَافِهِ، قَالَ: مَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَعْتَكِفْ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ، وَقَدْ رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا، وَقْدَ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ مِنْ صَبِيحَتِهَا فِي مَاءٍ وَطِينٍ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ، وَالْتَمِسُوهَا فِي كُلِّ وِتْرٍ. قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ مِنْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ، وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَلَى عَرِيشٍ، فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّينِ مِنْ صَبِيحَةِ إِحْدَى وَعِشْرِين.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے درمیانی عشرے (دہے) میں اعتکاف فرماتے تھے، ایک سال آپ ﷺ نے اعتکاف فرمایا یہاں تک کہ جب اکیسویں رات آئی جس میں آپ اعتکاف سے نکل آتے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جن لوگوں نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے اب وہ آخر کے دس دن بھی اعتکاف کریں، میں نے یہ (قدر کی) رات دیکھ لی تھی پھر مجھے بھلا دی گئی اور میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں اس رات کی صبح کو کیچڑ اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں، لہٰذا تم یہ رات آخری عشرے میں تلاش کرو اور وہ بھی طاق راتوں میں ۔ ابوسعید ؓ کہتے ہیں: پھر اسی رات یعنی اکیسویں کی رات میں بارش ہوئی چونکہ مسجد چھپر کی تھی، اس لیے ٹپکی۔ ابوسعید ؓ کہتے ہیں: میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کی پیشانی اور ناک پر اکیسویں رات کی صبح کو پانی اور کیچڑ کا نشان تھا۔

Narrated Abu Saeed Al Khudri (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to spend the middle ten days of Ramadan in retirement and devotion (Itikaf) in the mosque. One year he had retirement and devotion in the mosque (as usual); when the twenty-first night came, and this night when he used to come out his devotion in the mosque, he said: He who has engaged himself in devotion along with me should do so during the last ten days; I saw that night, that was caused to forget it, but I have seen myself prostrating in water and mud on the morning following (that night), so seek it in the last ten days and seek it every night with an odd number. Abu Saeed said: Rain fell that night, the mosque that was thatched building dripped, and my eyes saw the Messenger of Allah ﷺ with the traces of water and mud, on his forehead on the morning following the twenty-first night.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٨٩٤، (تحفة الأشراف: ٤٤١٩) (صحیح )
1383Sunan Abu Dawood

شب قدر کا اکیسویں شب میں ہونا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، وَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ، وَالسَّابِعَةِ، وَالْخَامِسَةِ. قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، إِنَّكُمْ أَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا، قَالَ: أَجَلْ، قُلْتُ: مَا التَّاسِعَةُ وَالسَّابِعَةُ وَالْخَامِسَةُ ؟ قَالَ: إِذَا مَضَتْ وَاحِدَةٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا التَّاسِعَةُ، وَإِذَا مَضَى ثَلَاثٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا السَّابِعَةُ، وَإِذَا مَضَى خَمْسٌ وَعِشْرُونَ فَالَّتِي تَلِيهَا الْخَامِسَةُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: لَا أَدْرِي أَخَفِيَ عَلَيَّ مِنْهُ شَيْءٌ أَمْ لَا.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو اور اسے نویں، ساتویں اور پانچویں شب میں ڈھونڈو ۔ ابونضرہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے ابوسعید! آپ ہم میں سے سب سے زیادہ اعداد و شمار جانتے ہیں، انہوں نے کہا: ہاں، میں نے کہا: نویں، ساتویں اور پانچویں رات سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: جب (٢١) دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات نویں ہے، اور جب (٢٣) دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات ساتویں ہے، اور جب (٢٥) دن گزر جائیں تو اس کے بعد والی رات پانچویں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم اس میں سے کچھ مجھ پر مخفی رہ گیا ہے یا نہیں۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Prophet ﷺ said: Seek it (laylat al-Qadr) in the last ten days of Ramadan. Seek it on the ninth, seventh and fifth night. I (Abu Nadrah) said: You know counting better than us, Abu Saeed. He said: Yes. I asked: What do you mean by the ninth, seventh and fifth night? He said: When the twenty-first night passes, the night which follows it is the night; when the twenty-third night passes, the night which follows it is the seventh; when the twenty-fifth passes, the night which follows it is the fifth. Abu Dawud said: I do not know whether anything remained hidden from me or not.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/السہو ٩٨ (١٣٥٧)، (تحفة الأشراف: ٤٣٣٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/لیلة القدر ٢ (٢٠١٦)، ٣ (٢٠٢٢)، والاعتکاف ١ (٢٠٢٦)، ٩ (٢٠٣٦)، ١٣ (٢٠٤٠)، صحیح مسلم/الصیام ٤٠ (١١٦٧)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٥٦ (١٧٦٦)، موطا امام مالک/الاعتکاف ٦ (٩)، مسند احمد (٣/٩٤) (صحیح )
1384Sunan Abu Dawood

شب قدر کا سترہویں شب میں ہونا

حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اطْلُبُوهَا لَيْلَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ مِنْ رَمَضَانَ، وَلَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، وَلَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ، ثُمَّ سَكَتَ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: شب قدر کو رمضان کی سترہویں، اکیسویں اور تئیسویں رات میں تلاش کرو ، پھر چپ ہوگئے۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said to us: Seek it (laylat al-Qadr) on the seventeenth night of Ramadan, and on the twenty first night, and on the twenty-third night. He then kept silence.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩١٧٦) (ضعیف) (اس کے راوی حکیم میں کلام ہے، نیز ابواسحاق مختلط ہوگئے تھے، اور یہ معلوم نہیں کہ زید نے ان سے اختلاط سے پہلے روایت کی ہے یا بعد میں )
1385Sunan Abu Dawood

شب قدر کا اخیر کی سات راتوں میں ہونا

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شب قدر کو اخیر کی سات راتوں میں تلاش کرو ۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Seek lailat al-qads in the last seven days.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٤٠ (١١٦٥)، سنن النسائی/الکبری/ الاعتکاف (٣٤٠٠)، (تحفة الأشراف: ٧٢٣٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاعتکاف ٦(١١)، مسند احمد (٢/٣٧، ٦٢، ٧٤، ١١٣)، سنن الدارمی/الصوم ٥٦ (١٨٢٤) (صحیح )
1386Sunan Abu Dawood

شب قدر کا ستائیسویں رات میں ہو نا

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُطَرِّفًا، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ، قَالَ: لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ.

معاویہ بن ابی سفیان سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے شب قدر کے متعلق فرمایا: شب قدر ستائیسویں رات ہے ۔

Narrated Muawiyah bin Abi Sufyan (RA) : The Prophet ﷺ as saying: Lailat al-qadr is the twenty-seventh night (of Ramadan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٤٤٠) (صحیح )
1387Sunan Abu Dawood

شب قدر کا سارے رمضان میں ہو نا

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ النَّسَائِيُّ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَقَالَ: هِيَ فِي كُلِّ رَمَضَانَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ سُفْيَانُ، وَشُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عُمَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے شب قدر کے متعلق پوچھا گیا اور میں (اس گفتگو کو) سن رہا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ پورے رمضان میں کسی بھی رات ہوسکتی ہے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان اور شعبہ نے یہ حدیث ابواسحاق کے واسطے سے عبداللہ بن عمر ؓ پر موقوفًا روایت کی ہے اور ان دونوں نے اسے نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً نہیں نقل کیا ہے۔

Narrated Abdullah bin Amr (RA) : The Messenger of Allah ﷺ was asked about lailat al-qadr and I was hearing: He said: It is during the whole of Ramadan. Abu Dawud said: Sufyan and Shubah narrated this tradition from Abu Ishaq as a statement of Ibn Umar himself, they did not transmit it as a saying of the Prophet ﷺ

Notes · وضاحت
١ ؎: کثرت احادیث کی بناء پر شب قدر کے سلسلہ میں علماء میں زبردست اختلاف ہے، صحیح یہ ہے کہ وہ رمضان میں ہے، پھر راجح یہ ہے کہ وہ رمضان کے اخیر عشرہ میں ہے، پھر ظن غالب یہ ہے کہ وہ طاق راتوں میں ہے، پھر لائق اعتماد قول یہ ہے کہ یہ ستائیسویں رات میں ہے، واللہ اعلم بالصواب۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٠٦٥) (ضعیف) والصحیح موقوف (اس کے راوی أبواسحاق مختلط ہوگئے تھے اور یہ معلوم نہیں کہ موسیٰ نے ان سے اختلاط سے پہلے روایت کی ہے یا بعد میں )
1388Sunan Abu Dawood

قرآن پاک کم سے کم کتنے دنوں میں ختم کرنا چاہیئے

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: اقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍقَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: اقْرَأْ فِي عِشْرِينَ، قَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: اقْرَأْ فِي خَمْسَ عَشْرَةَقَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: اقْرَأْ فِي عَشْرٍقَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: اقْرَأْ فِي سَبْعٍ وَلَا تَزِيدَنَّ عَلَى ذَلِكَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ مُسْلِمٍ أَتَمُّ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: قرآن مجید ایک مہینے میں پڑھا کرو ، انہوں نے عرض کیا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تو بیس دن میں پڑھا کرو ، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پندرہ دن میں پڑھا کرو ، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تو دس دن میں پڑھا کرو ، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: سات دن میں پڑھا کرو، اور اس پر ہرگز زیادتی نہ کرنا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسلم (مسلم بن ابراہیم) کی روایت زیادہ کامل ہے۔

Narrated Abdullah bin Amr (RA) : The Prophet ﷺ as saying to him: Complete the recitation of the Quran in one month. He said: I have more strength. He (the Prophet) said: Complete the recitation in twenty days. He again said: I have more energy. He said: Recite in fifteen days. He again said: I have more energy. He said: Recite in ten days. He again said: I have more energy. He said: Recite in seven days, do not add to it. Abu Dawud said: The tradition narrated by Muslim is more perfect.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ فضائل القرآن ٣٤ (٥٠٥٣، ٥٠٥٤)، صحیح مسلم/الصیام ٣٥ (١١٥٩)، (تحفة الأشراف: ٨٩٦٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/القراء ات ١٣ (٢٩٤٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٨(١٣٤٦)، مسند احمد (٢/١٦٣، ١٩٩)، سنن الدارمی/فضائل القرآن ٣٢ (٣٥١٤) (صحیح )
1389Sunan Abu Dawood

قرآن پاک کم سے کم کتنے دنوں میں ختم کرنا چاہیئے

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَاقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍفَنَاقَصَنِي، وَنَاقَصْتُهُ، فَقَالَ: صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا. قَالَ عَطَاءٌ: وَاخْتَلَفْنَا عَنْ أَبِي، فَقَالَ بَعْضُنَا: سَبْعَةَ أَيَّامٍ، وَقَالَ بَعْضُنَا: خَمْسًا.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرو اور قرآن ایک مہینے میں ختم کیا کرو ، پھر میرے اور آپ کے درمیان کم و زیادہ کرنے کی بات ہوئی ١ ؎ آخر کار آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا تو ایک دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن افطار کیا کرو ۔ عطا کہتے ہیں: ہم نے اپنے والد سے روایت میں اختلاف کیا ہے، ہم میں سے بعض نے سات دن اور بعض نے پانچ دن کی روایت کی ہے۔

Narrated Abdullah bin Amr (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said to me: Keep fast for three days of month, and finish the recitation of the Quran in one month. I and he differed among ourselves on period of time. He said: Fast one day and give it up other day. The narrator Ata said: The people differed from my father (in narrating the period of time). Some narrated seven days and others five.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نبی اکرم ﷺ ختم قرآن کی مدت بڑھانا اور روزے رکھنے کی مدت کم کرنا چاہتے تھے، جب کہ عبداللہ بن عمرو ؓ ختم قرآن کی مدت کم اور روزے رکھنے کی مدت بڑھانا چاہتے تھے، اور ایک نسخے میں فناقضني وناقضته ضاد معجمہ کے ساتھ ہے، یعنی آپ ﷺ میری بات کاٹتے تھے، اور میں اپنے بات پر اصرار کرتا تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٦٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٢، ٢١٦) (صحیح )
1390Sunan Abu Dawood

قرآن پاک کم سے کم کتنے دنوں میں ختم کرنا چاہیئے

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِي كَمْ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ ؟ قَالَ: فِي شَهْرٍقَالَ: إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ، يُرَدِّدُ الْكَلَامَ أَبُو مُوسَى وَتَنَاقَصَهُ حَتَّى قَالَ: اقْرَأْهُ فِي سَبْعٍقَالَ: إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: لَا يَفْقَهُ مَنْ قَرَأَهُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں قرآن کتنے دنوں میں ختم کروں؟ فرمایا: ایک ماہ میں ، کہا: میں اس سے زیادہ کی قدرت رکھتا ہوں (ابوموسیٰ یعنی محمد بن مثنیٰ اس بات کو باربار دہراتے رہے) آپ اسے کم کرتے گئے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے سات دن میں ختم کیا کرو ، کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، فرمایا: وہ قرآن نہیں سمجھتا جو اسے تین دن سے کم میں پڑھے ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: Yazid ibn Abdullah said that Abdullah ibn Amr asked the Prophet ﷺ : In how many days should I complete the recitation of the whole Quran, Messenger of Allah? He replied: In one month. He said: I am more energetic to complete it in a period less than this. He kept on repeating these words and lessening the period until he said: Complete its recitation in seven days. He again said: I am more energetic to complete it in a period less than this. The Prophet ﷺ said: He who finishes the recitation of the Quran in less than three days does not understand it.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ تین دن سے کم میں قرآن ختم کرنا صحیح نہیں، بہتر یہ ہے کہ سات دن میں ختم کیا جائے، نیز اس سے معلوم ہوا کہ رمضان میں شبینہ وغیرہ کا جو اہتمام کیا جاتا ہے وہ درست نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٩٥١) (صحیح )
1391Sunan Abu Dawood

قرآن پاک کم سے کم کتنے دنوں میں ختم کرنا چاہیئے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَطَّانُ خَالُ عِيسَى بْنِ شَاذَانَ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا الْحَرِيشُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍقَالَ: إِنَّ بِي قُوَّةً، قَالَ: اقْرَأْهُ فِي ثَلَاثٍ، قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: سَمِعْت أَبَا دَاوُد، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ يَعْنِي ابْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: عِيسَى بْنُ شَاذَانَ كَيِّسٌ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: قرآن ایک مہینے میں پڑھا کرو ، انہوں نے کہا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تو تین دن میں پڑھا کرو ۔ ابوعلی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا کہ احمد بن حنبل کہتے تھے: عیسیٰ بن شاذان سمجھدار آدمی ہیں۔

Khaithamah reported that Abdullah bin Amr said: The Messenger of Allah ﷺ said to me: Recite the Quran in one month. I said: I have (more) energy. He said: Recite it in three days Abu Ali said: I heard Abu Dawud say: I heard Ahmad bin Hanbal say: The narrator Isa bin Shadhan is a sane person.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٦٢٣) (حسن صحیح )
1392Sunan Abu Dawood

قرآن کے حصے کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، قَالَ: سَأَلَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، فَقَالَ لِي: فِي كَمْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ ؟ فَقُلْتُ: مَا أُحَزِّبُهُ، فَقَالَ لِي نَافِعٌ: لَا تَقُلْ مَا أُحَزِّبُهُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَرَأْتُ جُزْءًا مِنَ الْقُرْآنِ، قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ ذَكَرَهُ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ.

ابن الہاد کہتے ہیں کہ مجھ سے نافع بن جبیر بن مطعم نے پوچھا: تم کتنے دنوں میں قرآن پڑھتے ہو؟ تو میں نے کہا: میں اس کے حصے نہیں کرتا، یہ سن کر مجھ سے نافع نے کہا: ایسا نہ کہو کہ میں اس کے حصے نہیں کرتا، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے قرآن کا ایک حصہ پڑھا ١ ؎۔ ابن الہاد کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے اسے مغیرہ بن شعبہ سے نقل کیا ہے۔

Ibn al-Had said: Nafi bin Jubair asked me: In how many days do you recite the Quran ? I said: I have not fixed any part from it for daily round. Nafi said to me: Do not say: I do not fix any part of it for daily round, for the Messenger of Allah ﷺ said: I recited a part of the Quran. The narrator Ibn al-Had said: I think I have transmitted this tradition from al-Mughirah bin Shubah.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے قرآن مجید کو تیس حصوں میں تقسیم کرنے اور اس کے تیس پارے بنا لینے کا جواز ثابت ہوا، اگرچہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں قرآن کے اس طرح سے تیس پارے نہیں تھے، جس طرح اس وقت رائج ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٥٣٢) (صحیح )
1393Sunan Abu Dawood

قرآن کے حصے کرنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ. ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَالِدٍ وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ فِي حَدِيثِهِ: أَوْسُ بْنُ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ، قَالَ: فَنَزَلَتِ الْأَحْلَافُ عَلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَأَنْزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي مَالِكٍ فِي قُبَّةٍ لَهُ، قَالَ مُسَدَّدٌ: وَكَانَ فِي الْوَفْدِ الَّذِينَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَقِيفٍ، قَالَ: كَانَ كُلَّ لَيْلَةٍ يَأْتِينَا بَعْدَ الْعِشَاءِ يُحَدِّثُنَا، وقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: قَائِمًا عَلَى رِجْلَيْهِ حَتَّى يُرَاوِحُ بَيْنَ رِجْلَيْهِ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ، وَأَكْثَرُ مَا يُحَدِّثُنَا مَا لَقِيَ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ قُرَيْشٍ، ثُمَّ يَقُولُ: لَا سَوَاءَ كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ مُسْتَذَلِّينَ، قَالَ مُسَدَّدٌ: بِمَكَّةَ، فَلَمَّا خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ كَانَتْ سِجَالُ الْحَرْبِ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ نُدَالُ عَلَيْهِمْ، وَيُدَالُونَ عَلَيْنَا، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةً أَبْطَأَ عَنِ الْوَقْتِ الَّذِي كَانَ يَأْتِينَا فِيهِ، فَقُلْنَا: لَقَدْ أَبْطَأْتَ عَنَّا اللَّيْلَةَ، قَالَ: إِنَّهُ طَرَأَ عَلَيَّ جُزْئِي مِنَ الْقُرْآنِ فَكَرِهْتُ أَنْ أَجِيءَ حَتَّى أُتِمَّهُ. قَالَ أَوْسٌ: سَأَلْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُحَزِّبُونَ الْقُرْآنَ ؟ قَالُوا: ثَلَاثٌ وَخَمْسٌ وَسَبْعٌ وَتِسْعٌ وَإِحْدَى عَشْرَةَ وَثَلَاثَ عَشْرَةَ وَحِزْبُ الْمُفَصَّلِ وَحْدَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ أَتَمُّ.

اوس بن حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ثقیف کے ایک وفد میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، وفد کے وہ لوگ جن سے معاہدہ ہوا تھا، مغیرہ بن شعبہ ؓ کے پاس ٹھہرے اور بنی مالک کا قیام رسول اللہ ﷺ نے اپنے خیمے میں کرایا، (مسدد کہتے ہیں: اوس بھی اس وفد میں شامل تھے، جو ثقیف کی جانب سے رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تھا) اوس کہتے ہیں: تو ہر رات آپ ﷺ عشاء کے بعد ہمارے پاس آتے اور ہم سے گفتگو کرتے۔ ابو سعید خدری ؓ کی روایت میں اضافہ ہے کہ (آپ گفتگو) کھڑے کھڑے کرتے اور دیر تک کھڑے رہنے کی وجہ سے آپ کبھی ایک پیر پر اور کبھی دوسرے پیر پر بوجھ ڈالتے اور زیادہ تر ان واقعات کا تذکرہ کرتے، جو آپ ﷺ کو اپنی قوم قریش کی جانب سے پیش آئے تھے، پھر فرماتے: ہم اور وہ برابر نہ تھے، ہم مکہ میں کمزور اور ناتواں تھے، پھر جب ہم نکل کر مدینہ آگئے تو جنگ کا ڈول ہمارے اور ان کے بیچ رہتا، کبھی ہم ان پر غالب آتے اور کبھی وہ ہم پر ۔ ایک رات آپ ﷺ کو حسب معمول وقت پر آنے میں تاخیر ہوگئی تو ہم نے آپ سے پوچھا: آج رات آپ نے آنے میں تاخیر کردی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: آج قرآن مجید کا میرا ایک حصہ تلاوت سے رہ گیا تھا، مجھے اسے پورا کئے بغیر آنا اچھا نہ لگا ۔ اوس کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب سے پوچھا کہ وہ لوگ کیسے حصے مقرر کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: پہلا حزب (حصہ) تین سورتوں کا، دوسرا حزب (حصہ) پانچ سورتوں کا، تیسرا سات سورتوں کا، چوتھا نو سورتوں کا، پانچواں گیارہ اور چھٹا تیرہ سورتوں کا اور ساتواں پورے مفصل کا ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوسعید (عبداللہ بن سعید الاشیخ) کی روایت کامل ہے۔

Narrated Aws ibn Hudhayfah (RA) : We came upon the Messenger of Allah ﷺ in a deputation of Thaqif. The signatories of the pact came to al-Mughirah ibn Shubah as his guests. The Messenger of Allah ﷺ made Banu-Malik stay in a tent of his. Musaddads version says: He was in the deputation of Thaqif which came to the Messenger of Allah ﷺ . He used to visit and have a talk with us every day after the night prayer. The version of Abu Saeed says: He remained standing for such a long time (talking to us) that he put his weight sometimes on one leg and sometimes on the other due to his long stay. He mostly told us how his people, the Quraysh, behaved with him. He would say: We were not equal; we were weak and degraded at Makkah (according to Musaddads version). When we came over to Madina the fighting began between us; sometimes we overcome them and at other times they overcome us. One night he came late and did not come at the time he used to come. We asked him: You came late tonight? He said: I could not recite the fixed part of the Quran that I used to recite every day. I disliked to come till I had completed it. Aws said: I asked the companions of the Messenger of Allah ﷺ : How do you divide the Quran for daily recitation? They said: Three surahs, five surahs, eleven surahs, thirteen surahs mufassal surahs. Abu Dawud said: The version of Abu Saeed is complete.

Notes · وضاحت
١ ؎: پہلا حزب: بقرہ، آل عمران اور نساء نامی سورتیں، دوسرا حزب: مائدہ، انعام، اعراف، انفال اور توبہ نامی سورتیں، تیسرا حزب: یونس، ھود، یوسف، رعد، ابراہیم، حجر اور نحل نامی سورتیں، چوتھا حزب: اسرائیل، کہف، مریم، طٰہٰ، انبیاء، حج، مومنون، نور اور فرقان نامی سورتیں، پانچواں حزب: شعراء، نمل، قصص، عنکبوت، روم، لقمان، الم تنزیل السجدۃ، احزاب، سبا، فاطر اور یٰسین نامی سورتیں، چھٹواں حزب: صافات، ص، زمر، مومن، حم سجدہ، شوریٰ، زخرف، دخان، جاثیہ، احقاف، محمد، فتح اور حجرات نامی سورتیں، ساتواں حزب: سورة (ق) سے لے کر اخیر قرآن تک کی سورتیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٨ (١٣٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٧) (ضعیف) (اس کے راوی عثمان لین الحدیث ہیں )