نماز کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 2 · 1,086 hadiths · Page 49 of 55

1354Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ،عَنْ حُصَيْنٍ، نَحْوَهُ، قَالَ: وَأَعْظِمْ لِي نُورًا. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو خَالِدٍ الدَّالَانِيُّ: عَنْ حَبِيبٍ فِي هَذَا، وَكَذَلِكَ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: وَقَالَ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ: عَنْ أَبِي رِشْدِينَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ.

اس طریق سے بھی حصین سے اسی جیسی روایت مروی ہے اس میں وأعظم لي نورا کا جملہ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ابوخالد دالانی نے اس حدیث میں عن حبيبٍ کہا ہے اور سلمہ بن کہیل نے عن أبي رشدين عن ابن عباس کہا ہے۔

The above tradition has also been transmitted by Husain through a different chain of narrators in like manner. This version has the words: And give me abundant light. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Abu Khalid al-Dalani from Habib and Salamah bin Kuhail from Abu Rishdin from Ibn Abbas in a similar manner.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٨، (تحفة الأشراف: ٦٢٨٧) ( صحیح )
1355Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنْظُرَ كَيْفَ يُصَلِّي، فَقَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ قِيَامُهُ مِثْلُ رُكُوعِهِ وَرُكُوعُهُ مِثْلُ سُجُودِهِ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَتَوَضَّأَ وَاسْتَنَّ، ثُمَّ قَرَأَ بِخَمْسِ آيَاتٍ مِنْ آلِ عِمْرَانَ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سورة آل عمران آية 190 فَلَمْ يَزَلْ يَفْعَلُ هَذَا حَتَّى صَلَّى عَشْرَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى سَجْدَةً وَاحِدَةً فَأَوْتَرَ بِهَا وَنَادَى الْمُنَادِي عِنْدَ ذَلِكَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ، فَصَلَّى سَجْدَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ حَتَّى صَلَّى الصُّبْحَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: خَفِيَ عَلَيَّ مِنْ ابْنِ بَشَّارٍ بَعْضُهُ.

فضل بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک رات گزاری تاکہ دیکھوں کہ آپ نماز کیسے پڑھتے ہیں، تو آپ اٹھے اور وضو کیا، پھر دو رکعتیں پڑھیں، آپ ﷺ کا قیام آپ کے رکوع کے برابر اور رکوع سجدے کے برابر تھا، پھر آپ ﷺ سوئے رہے، پھر جاگے تو وضو اور مسواک کیا، پھر سورة آل عمران کی یہ پانچ آیتیں إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار (آل عمران: ١٩٠) اخیر تک پڑھیں اور پھر اسی طرح آپ کرتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے دس رکعتیں ادا کیں، پھر کھڑے ہوئے اور ایک رکعت پڑھی اور اس سے وتر (طاق) کرلیا، اس وقت مؤذن نے اذان دی، مؤذن خاموش ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ اٹھے اور ہلکی سی دو رکعتیں ادا کیں پھر بیٹھے رہے یہاں تک کہ فجر پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن بشار کی روایت کا بعض حصہ مجھ پر مخفی رہا۔

Narrated Fadl bin Abbas (RA) : I spent a night with the Prophet ﷺ to see how he prayed. He got up, performed ablution and prayed two rakahs. His standing was like his bowing (i. e. equal in duration), and his bowing was like his prostration (equal in length). Then he slept. Afterwards he awoke, performed ablution, and used tooth-stick. He then recited five verses from Surah Al-Imran: In the creation of the heavens and the earth and the alternation of night and day. He went on doing so till he prayed ten rakahs. He then stood up and prayed one rakah observing witr with it. In the meantime the muadhdhin called to prayer. The Messenger of Allah ﷺ stood up after the muadhdhin had kept silent. He prayed two light rakahs and remained sitting till he offered the dawn prayer. Abu Dawud said: A part of the tradition transmitted by Ibn Bashshar remained hidden from me.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٠٥٩) (ضعیف) (اس کے راوی شریک اور زہیر میں کچھ کلام ہے )
1356Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ الْأَسَدِيُّ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا أَمْسَى، فَقَالَ: أَصَلَّى الْغُلَامُ ؟قَالُوا: نَعَمْ، فَاضْطَجَعَ حَتَّى إِذَا مَضَى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ قَامَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى سَبْعًا أَوْ خَمْسًا أَوْتَرَ بِهِنَّ لَمْ يُسَلِّمْ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک رات اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ کے پاس رہا، شام ہوجانے کے بعد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور پوچھا: کیا بچے نے نماز پڑھ لی؟ لوگوں نے کہا: ہاں، پھر آپ ﷺ لیٹ گئے یہاں تک کہ جب رات اس قدر گزر گئی جتنی اللہ کو منظور تھی تو آپ اٹھے اور وضو کر کے سات یا پانچ رکعتیں وتر کی پڑھیں اور صرف آخر میں سلام پھیرا۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : I spent a night with my maternal aunt Maimunah. The Messenger of Allah ﷺ came after the evening has come. He asked: Did the boy pray ? She said: Yes. Then he lay down till a part of night had passed as much as Allah willed; he got up, performed ablution and prayed seven or five rakahs, observing witr with them. He uttered the salutation only in the last of them.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٤١ (١١٧)، الأذان ٥٧ (٦٩٧)، سنن النسائی/الإمامة ٢٢ (٨٠٧)، (تحفة الأشراف: ٥٤٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٤١، ٣٥٤)، دی/الطہارة ٣ (٦٨٤) ( صحیح )
1357Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِفَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى أَرْبَعًا، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَدَارَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى خَمْسًا، ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ أَوْ خَطِيطَهُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْغَدَاةَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ بنت حارث ؓ کے گھر رات گزاری تو نبی اکرم ﷺ نے عشاء پڑھی پھر (گھر) تشریف لائے تو چار رکعتیں پڑھیں، پھر سو گئے پھر اٹھ کر نماز پڑھنے لگے تو میں آپ ﷺ کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا آپ نے مجھے گھما کر اپنے دائیں جانب کھڑا کرلیا، پھر پانچ رکعتیں پڑھیں اور سو گئے یہاں تک کہ مجھے آپ ﷺ کے خراٹوں کی آواز سنائی دینے لگی، پھر آپ ﷺ اٹھے اور دو رکعتیں پڑھیں پھر نکلے اور جا کر فجر پڑھی۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : I spent a night in the house of my maternal aunt Maimunah, daughter of al-Harith. The Prophet ﷺ offered the night prayer. He then came and prayed four rakahs and slept. He then stood up and prayed. I stood at his left side. He made me go round and made me stand at his right side. He then prayed five rakahs and slept, and I heard his snoring. He then got up and prayed two rakahs. Afterwards he came out and offered the dawn prayer.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٥٤٩٦) ( صحیح )
1358Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى صَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِخَمْسٍ وَلَمْ يَجْلِسْ بَيْنَهُنَّ.

سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ ابن عباس ؓ نے یہ قصہ ان سے بیان کیا ہے، اس میں ہے: آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور دو دو کر کے آٹھ رکعتیں پڑھیں، پھر پانچ رکعتیں وتر کی پڑھیں اور ان کے بیچ میں بیٹھے نہیں۔

Saeed bin Jubair said that Ibn Abbas told him: He (the Prophet) got up and prayed eight rakahs in pairs, and then observed witr with five rakahs and he did not sit between them.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الإمامة ٢٢ (٨٠٧)، (تحفة الأشراف: ٥٦٤٤) ( صحیح )
1359Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِرَكْعَتَيْهِ، قَبْلَ الصُّبْحِ يُصَلِّي سِتًّا مَثْنَى مَثْنَى، وَيُوتِرُ بِخَمْسٍ لَا يَقْعُدُ بَيْنَهُنَّ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فجر کی سنتوں کو لے کر تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے: دو دو کر کے چھ رکعتیں پڑھتے اور وتر کی پانچ رکعتیں پڑھتے اور صرف ان کے آخر میں قعدہ کرتے۔

Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to pray thirteen rakahs, observing six rakahs in pairs including the two rakahs of dawn prayer. He would observe witr and five rakahs. He sat only in the last of them.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٣٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٧٥) ( صحیح )
1360Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ.

عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے انہیں خبر دی کہ نبی اکرم ﷺ رات کو فجر کی سنتوں کو لے کر کل تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔

Narrated Aisha (RA) : The Prophet ﷺ used to pray thirteen rakahs during the night including the two rakahs of the dawn prayer.

Takhrij · تخریج
م /المسافرین ١٧ (٧٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٧١)، مسند احمد (٦/٢٢٢) ( صحیح )
1361Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْمُقْرِئَ أَخْبَرَهُمَا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْجَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ قَائِمًا وَرَكْعَتَيْنِ بَيْنَ الْأَذَانَيْنِ، وَلَمْ يَكُنْ يَدَعُهُمَا. قَالَ جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ فِي حَدِيثِهِ: وَرَكْعَتَيْنِ جَالِسًا بَيْنَ الْأَذَانَيْنِ، زَادَ جَالِسًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عشاء پڑھی پھر کھڑے ہو کر آٹھ رکعتیں پڑھیں اور دو رکعتیں فجر کی دونوں اذانوں کے درمیان پڑھیں، انہیں آپ کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔ جعفر بن مسافر کی روایت میں ہے: اور دو رکعتیں دونوں اذانوں کے درمیان بیٹھ کر پڑھیں۔ انہوں نے جالسا (بیٹھ کر) کا اضافہ کیا ہے۔

Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ offered the night prayer and then prayed eight rakahs standing, and two rakahs between the two adhans (i. e. the adhan for the dawn prayer and the iqamah). He never left them. Jafar bin Musafir said in his version: (He prayed) the two rakahs sitting between the two adhans. He added the word sitting.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التھجد ٢٢ (١١٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٣٥)، وانظر حدیث رقم: (١٣٤٢) (صحیح)ورکعتين جالساً بين الأذانين خطا ہے، صحیح بخاری میں ہے کہ وتر کے بعد کی دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھیں (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٥ ؍ ١٠٣- ١٠٤ )
1362Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: بِكَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ ؟ قَالَتْ: كَانَ يُوتِرُ بِأَرْبَعٍ وَثَلَاثٍ وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ وَثَمَانٍ وَثَلَاثٍ وَعَشْرٍ وَثَلَاثٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِأَنْقَصَ مِنْ سَبْعٍ وَلَا بِأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: زَادَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، قُلْتُ: مَا يُوتِرُ، قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ يَدَعُ ذَلِكَ. وَلَمْ يَذْكُرْ أَحْمَدُ: وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ.

عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ وتر کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: کبھی چار اور تین، کبھی چھ اور تین، کبھی آٹھ اور تین اور کبھی دس اور تین، کبھی بھی آپ وتر میں سات سے کم اور تیرہ سے زائد رکعتیں نہیں پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد بن صالح نے اضافہ کیا ہے کہ آپ ﷺ فجر سے پہلے کی رکعتوں کو وتر نہیں کرتے تھے، میں نے پوچھا: انہیں وتر کرنے کا کیا مطلب؟ تو وہ بولیں: انہیں نہیں چھوڑتے تھے اور احمد نے چھ اور تین کا ذکر نہیں کیا ہے۔

Abdullah bin Abi Qais said that he asked Aisha (RA) : How many rakahs would the Messenger of Allah ﷺ pray observing the witr ? She said: He used to observe the witr with four and three, six and three, eight and three, and ten and three rakahs never observing less than seven or more than thirteen. The narrator Ahmad added in his version: He would not observe the witr with two rakahs before the dawn. I asked: With what would he observe the witr ? She said: He would never leave it. The version of Ahmad does not mention the words six and three (rakahs).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٢٨٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض ٦ (٣٠٧)، مختصراً سنن الترمذی/فضائل القرآن ٢٣ (١٦٢٨٢)، مسند احمد (٦/١٤٩) ( صحیح )
1363Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلَهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنَ اللَّيْلِ، ثُمَّ إِنَّهُ صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً وَتَرَكَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قُبِضَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُبِضَ وَهُوَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ، وَكَانَ آخِرُ صَلَاتِهِ مِنَ اللَّيْلِ الْوِتْرَ.

اسود بن یزید سے روایت ہے کہ وہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس گئے اور ان سے رسول اللہ ﷺ کی رات کی نماز (تہجد) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رات کو آپ تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔ پھر گیارہ رکعتیں پڑھنے لگے اور دو رکعتیں چھوڑ دیں، پھر وفات کے وقت آپ نو رکعتیں پڑھنے لگے تھے اور آپ کی رات کی آخری نماز وتر ہوتی تھی۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Al-Aswad ibn Yazid said that he entered upon Aisha (RA) and asked her about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ during the night. She said: He used to pray thirteen rakahs during the night. Then he began to pray eleven rakahs and left two rakahs. When he died, he would pray nine rakahs during the night. His last prayer during the night was witr.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٠٣٤) ( ضعیف) (اس کے راوی منصور کے حافظہ میں کچھ کمزوری ہے، نیز ابو اسحاق مختلط ہیں اور منصور کی ان سے روایت کے بارے میں پتہ نہیں کہ اختلاط سے پہلے ہے یا بعد میں )
1364Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْمَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ،أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ: كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ ؟ قَالَ: بِتُّ عِنْدَهُ لَيْلَةً وَهُوَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ، فَنَامَ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفُهُ اسْتَيْقَظَ، فَقَامَ إِلَى شَنٍّ فِيهِ مَاءٌ، فَتَوَضَّأَ وَتَوَضَّأْتُ مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ عَلَى يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَلَى يَمِينِهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي كَأَنَّهُ يَمَسُّ أُذُنِي كَأَنَّهُ يُوقِظُنِي، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، قُلْتُ فَقَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى حَتَّى صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً بِالْوِتْرِ، ثُمَّ نَامَ، فَأَتَاهُ بِلَالٌ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى لِلنَّاسِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کے غلام کریب کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ کی رات کی نماز (تہجد) کیسے ہوتی تھی؟ تو انہوں نے کہا: ایک رات میں آپ کے پاس رہا، آپ ﷺ ام المؤمنین میمونہ کے پاس تھے، آپ سو گئے، جب ایک تہائی یا آدھی رات گزر گئی تو بیدار ہوئے اور اٹھ کر مشکیزے کے پاس گئے، جس میں پانی رکھا تھا، وضو فرمایا، میں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ وضو کیا، پھر آپ کھڑے ہوئے اور میں آپ ﷺ کے بائیں پہلو میں کھڑا ہوگیا تو آپ نے مجھے اپنے دائیں جانب کرلیا، پھر اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا جیسے آپ میرے کان مل رہے ہوں گویا مجھے بیدار کرنا چاہتے ہوں، پھر آپ ﷺ نے ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں ان میں سے ہر رکعت میں آپ نے سورة فاتحہ پڑھی، پھر سلام پھیر دیا، پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھی یہاں تک کہ مع وتر گیارہ رکعتیں ادا کیں، پھر سو گئے، اس کے بعد بلال ؓ آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! نماز، تو آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔

The client of Ibn Abbas said that he asked him: How would the Messenger of Allah ﷺ pray during the night ? He replied: I spent a night with him when he was with Maimunah. He slept and awoke when half the night or one-third of it had passed. He stood up and went to a leather bad containing water. He performed ablution and I also performed ablution with him. He then stood up and I also stood at his left side. He made me stand at his right side. He then put his hand upon my head, as he was touching my ear and awakening me. He then prayed two light rakahs and recited Surah al-Fatihah in each of them, and uttered the salutation. He then prayed eleven rakahs observing the witr and slept. Then Bilal came to him and said: Prayer, Messenger of Allah. He got up and prayed two rakahs, and then led the people in the prayer.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطہارة ٣٧ (١٨٣)، الأذان ٥٨ (٦٩٨)، الوتر ١ (٩٩٢)، التفسیر ١٨ (٤٥٧٠)، ١٩ (٤٥٧١)، ٢٠ (٤٥٧٢)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٦٣)، سنن الترمذی/الشمائل (٢٦٥)، سنن النسائی/قیام اللیل ٩ (١٦٢١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨١ (١٣٦٣)، (تحفة الأشراف: ٦٣٦٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة اللیل ٢ (١١)، مسند احمد ١ (٢٢٢، ٣٥٨) ( صحیح )
1365Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، وَيَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَفَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَصَلَّى ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنْهَا رَكْعَتَا الْفَجْرِ حَزَرْتُ قِيَامَهُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِقَدْرِ يَأَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ، لَمْ يَقُلْ نُوحٌ، مِنْهَا رَكْعَتَا الْفَجْرِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ ؓ کے پاس ایک رات گزاری تو نبی اکرم ﷺ رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے لگے، آپ نے تیرہ رکعتیں پڑھیں، ان میں فجر کی دونوں رکعتیں بھی شامل تھیں، میرا اندازہ ہے کہ آپ ﷺ کا قیام ہر رکعت میں سورة مزمل کے بقدر ہوتا تھا ، نوح کی روایت میں یہ نہیں ہے: اس میں فجر کی دونوں رکعتیں بھی شامل تھیں ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : I spent a night with my maternal aunt Maymunah. The Prophet ﷺ got up to pray at night. He prayed thirteen rakahs including two rakahs of the dawn prayer. I guessed that he stood in every rakah as long as one could recite Surah al-Muzzammil (73).

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الإمامة ٢٢ (٨٠٧)، والکبری/ الوتر ٥٩ (١٤٢٥)، (تحفة الأشراف: ٥٩٨٤) ( صحیح )
1366Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: لَأَرْمُقَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَةَ، قَالَ: فَتَوَسَّدْتُ عَتَبَتَهُ أَوْ فُسْطَاطَهُفَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ أَوْتَرَ، فَذَلِكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً.

زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ آج رات میں رسول اللہ ﷺ کی نماز (تہجد) ضرور دیکھ کر رہوں گا، چناچہ میں آپ کی چوکھٹ یا دروازے پر ٹیک لگا کر سوئے رہا، رسول اللہ ﷺ نے پہلے ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں لمبی، بہت لمبی بلکہ بہت زیادہ لمبی پڑھیں، پھر دو رکعتیں ان سے کچھ ہلکی، پھر دو رکعتیں ان سے بھی کچھ ہلکی، پھر دو رکعتیں ان سے بھی ہلکی، پھر دو رکعتیں ان سے بھی ہلکی پڑھیں، پھر وتر پڑھی، اس طرح یہ کل تیرہ رکعتیں ہوئیں۔

Khalid al-Juhani said: I shall watch the prayer of the Messenger of Allah ﷺ at night. I slept at the threshold of his door or of his tent. The Messenger of Allah ﷺ prayed two light rakahs, and then prayed two long, long, long rakahs. He then prayed two rakahs that were not so long as the two rakahs before them ; he then prayed two rakahs that were less in duration, than the rakahs before them; again he prayed two rakahs that were less in length then the preceding rakahs; he then prayed two rakahs that were less in length than the previous rakahs. This made altogether thirteen rakahs.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٦٥)، سنن الترمذی/الشمائل (٢٦٩)، سنن النسائی/الکبری/قیام اللیل ٢٦ (١٣٣٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨١ (١٣٦٢)، (تحفة الأشراف: ٣٧٥٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ٢ (١٢)، مسند احمد (٥/١٩٢) (صحیح )
1367Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مَخْرمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ موْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ خَالَتُهُ، قَالَ: فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِوَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ الْخَوَاتِمِ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا، فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقُمْتُ، فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي فَأَخَذَ بِأُذُنِي يَفْتِلُهَا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ الْقَعْنَبِيُّ: سِتَّ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرَ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کے غلام کریب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس ؓ نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے ایک رات ام المؤمنین میمونہ ؓ کے ہاں گزاری، وہ آپ کی خالہ تھیں، وہ کہتے ہیں: میں تکیے کے عرض میں لیٹا اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کی اہلیہ اس کے طول میں لیٹیں، پھر نبی اکرم ﷺ سو گئے، جب آدھی رات یا کچھ کم و بیش گزری تو رسول اللہ ﷺ بیدار ہوئے اور بیٹھ کر اپنے منہ پر ہاتھ مل کر نیند دور کی، پھر سورة آل عمران کے آخر کی دس آیتیں پڑھیں، اس کے بعد اٹھے اور لٹکے ہوئے مشکیزے کے پاس گئے اور وضو کیا اور اچھی طرح سے کیا، پھر نماز پڑھنے لگے، میں بھی اٹھا اور میں نے بھی آپ ﷺ ہی کی طرح سارا کام کیا، پھر آپ کے پہلو میں جا کر کھڑا ہوگیا، آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا کان پکڑ کر ملنے لگے، پھر آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں اور پھر دو رکعتیں، قعنبی کی روایت میں یوں ہے: دو دو رکعتیں چھ مرتبہ پڑھیں، پھر وتر پڑھی، پھر لیٹ گئے یہاں تک کہ مؤذن آیا تو آپ ﷺ اٹھے اور ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں پھر نکلے اور فجر پڑھائی۔

Narrated Abdullah bin Abbas (RA) : That he spent a night with Maimunah, wife of the Prophet ﷺ , who was also his (Ibn Abbass) maternal aunt. I lay towards the width of the pillow and the Messenger of Allah ﷺ and his wife slept towards its length. The Messenger of Allah ﷺ slept. When half the night passed, or a little before it or a little after it, the Messenger of Allah ﷺ awoke and began to rub his face (eyes) to remove the sleep. He then recited ten verses from the last part of Surah Al-Imran. Hen then came to a bag of water that was hanging. He performed ablution from it and performed his ablution well. He then stood up and prayed. I also got up and did as he did. I then went and stood at his side. The Messenger of Allah ﷺ placed his right hand upon my head and took me by my ear twisting it. He then prayed two rakahs, then two rakahs, then two rakahs, then two rakahs, then two rakahs, then two rakahs. The narrator al-Qanabi said: Six times. He observed the witr prayer, and then slept until the muadhdhin came. He got up and prayed two light rakahs and then came out and offered the dawn prayer.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (١٣٦٤)، (تحفة الأشراف: ٦٣٦٢) (صحیح )
1368Sunan Abu Dawood

نماز میں میانہ روی اختیار کرے کا حکم

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا، وَإِنَّ أَحَبَّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ، وَكَانَ إِذَا عَمِلَ عَمَلًا أَثْبَتَهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمل کرتے رہو جتنا تم سے ہو سکے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم (عمل کرنے سے) تھک جاؤ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو پابندی کے ساتھ کیا جائے اگرچہ وہ کم ہو ، چناچہ آپ ﷺ جب کوئی کام شروع کرتے تو اس پر جمے رہتے۔

Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Choose such actions as you are capable of performing, for Allah does not grow weary till you do. The acts most pleasing to Allah are those which are done most continuously, even if they amount to little. Whenever he began an action, he would do it continuously.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٣٢ (٤٣)، الأذان ٨١ (٧٣٠)، والتھجد ١٨ (١١٥٢)، واللباس ٤٣ (٥٨٦١)، والرقاق ١٨ (٦٤٦٥)، صحیح مسلم/المسافرین ٣٠ (٧٨٢)، سنن النسائی/القبلة ١٣ (٧٦٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٦ (٩٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٠، ٥١، ٦١، ٢٤١) (صحیح )
1369Sunan Abu Dawood

نماز میں میانہ روی اختیار کرے کا حکم

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، فَجَاءَهُ، فَقَالَ: يَا عُثْمَانُ، أَرَغِبْتَ عَنْ سُنَّتِي ؟قَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَكِنْ سُنَّتَكَ أَطْلُبُ، قَالَ: فَإِنِّي أَنَامُ، وَأُصَلِّي، وَأَصُومُ، وَأُفْطِرُ، وَأَنْكِحُ النِّسَاءَ، فَاتَّقِ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ فَإِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِضَيْفِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، فَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَصَلِّ وَنَمْ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عثمان بن مظعون ؓ کو بلا بھیجا، تو وہ آپ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: عثمان! کیا تم نے میرے طریقے سے بےرغبتی کی ہے؟ ، انہوں نے جواب دیا: نہیں اللہ کے رسول! اللہ کی قسم، ایسی بات نہیں، میں تو آپ ہی کی سنت کا طالب رہتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: میں تو سوتا بھی ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں، روزے بھی رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، عثمان! تم اللہ سے ڈرو، کیونکہ تم پر تمہاری بیوی کا حق ہے، تمہارے مہمان کا بھی حق ہے، تمہاری جان کا حق ہے، لہٰذا کبھی روزہ رکھو اور کبھی نہ رکھو، اسی طرح نماز پڑھو اور سویا بھی کرو ١ ؎۔

Narrated Aisha (RA) : The Prophet ﷺ called Uthman bin Mazun. When he came to him, he said: Uthman, did you dislike my practice ? He said: No, by Allah, but I seek your practice. He said: I sleep, I pray, I keep fast, I (sometimes) leave fast, and I marry women. Fear Allah, Uthman, your wife has a right on you, your guest has a right on you, your self has a right on you ; you should keep fast and (sometimes) leave fast, and pray and sleep.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عبادت میں میانہ روی بہتر ہے اور بال بچوں سے کنارہ کشی اور رہبانیت اسلام کے خلاف ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٧١٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٢٦، ٢٨٦) (صحیح )
1370Sunan Abu Dawood

آٹھویں صورت بعضوں نے کہا ہر گروہ کے ساتھ امام دو رکعتیں پڑھے

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: كَيْفَ كَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ هَلْ كَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الْأَيَّامِ ؟ قَالَتْ: لَا، كَانَ كُلُّ عَمَلِهِ دِيمَةًوَأَيُّكُمْ يَسْتَطِيعُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطِيعُ ؟.

علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ کے عمل کا حال کیسا تھا؟ کیا آپ عمل کے لیے کچھ دن خاص کرلیتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ کا ہر عمل مداومت و پابندی کے ساتھ ہوتا تھا اور تم میں کون اتنی طاقت رکھتا ہے جتنی رسول اللہ ﷺ رکھتے تھے؟۔

Alqamah said: Aisha (RA) was asked about the actions of the Messenger of Allah ﷺ . Did he perform some actions exclusively on some particular days ? She said: No, he performed his actions regularly. Which of you has the strength as much as the Messenger of Allah ﷺ had ?

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ١٨ (٦٤٦٦)، صحیح مسلم/المسافرین ٣٠ (٧٨٣)، سنن الترمذی/الشمائل (٣١٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٣، ٥٥، ١٧٤، ١٨٩، ٢٧٨) (صحیح )
1371Sunan Abu Dawood

تراویح کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ الْحَسَنُ فِي حَدِيثِهِ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةٍ، ثُمَّ يَقُولُ: مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ كَانَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَا رَوَاهُ عُقَيْلٌ، وَيُونُسُ، وَأَبُو أُوَيْسٍمَنْ قَامَ رَمَضَانَ، وَرَوَى عُقَيْلٌمَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَقَامَهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بغیر تاکیدی حکم دئیے رمضان کے قیام کی ترغیب دلاتے، پھر فرماتے: جس نے رمضان میں ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے قیام کیا تو اس کے تمام سابقہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے ، رسول اللہ ﷺ کی وفات تک معاملہ اسی طرح رہا، پھر ابوبکر ؓ کی خلافت اور عمر ؓ کی خلافت کے شروع تک یہی معاملہ رہا ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح عقیل، یونس اور ابواویس نے من قام رمضان کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے اور عقیل کی روایت میں من صام رمضان وقامه ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to commend prayer at night during Ramadan, but did not command it as duty. He would say: If anyone prays during the night in Ramadan because of faith and seeking his reward from Allah, his previous sins will be forgiven for him. When the Messenger of Allah ﷺ died, this was the practice, and it continued thus during Abu Bakrs caliphate and early part of Umars. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Uqail, Yunus, and Abu Uwais in like manner. The version of Uqail goes: He who fasts during Ramadan and prays during the night.

Notes · وضاحت
١ ؎: پھر عمر ؓ نے لوگوں کو مسجد میں ایک امام کے پیچھے جمع کردیا، اسی وجہ سے اکثر علماء نے باجماعت تراویح کو افضل کیا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ گھر میں اکیلے پڑھنا افضل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٥ (٧٥٩)، سنن الترمذی/الصوم ١ (٦٨٣)، ٨٣ (٨٠٨)، سنن النسائی/قیام اللیل ٣ (١٦٠٤)، والصوم ٣٩ (٢٠٠٢)، والإیمان ٢٢ (٢١٩٦)، ٢٢ (٥٠٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٧٧، ١٥٢٧٠، ١٥٢٤٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الإیمان ٢٧ (٣٧)، والصوم ٦ (١٩٠١)، والتراویح ١ (٢٠٠٩)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٣ (١٣٢٦)، موطا امام مالک/ الصلاة فی رمضان ١ (٢)، مسند احمد (٢/٢٣٢، ٢٤١، ٣٨٥، ٤٧٣، ٥٠٣)، سنن الدارمی/الصوم ٥٤ (١٨١٧) (صحیح )
1372Sunan Abu Dawood

تراویح کا بیان

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ المَعْنى، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے روزے رمضان ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رکھے اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے جائیں گے، اور جس نے شب قدر میں ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے قیام کیا اس کے بھی پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے جائیں گے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے اور محمد بن عمرو نے ابوسلمہ سے روایت کیا ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ as saying: If anyone fasts during Ramadan because of faith and in order to seek his reward from Allah, his previous sins will be forgiven to him. If anyone prays in the night of the power (lailat al-qadr) because of faith and in order to seek his reward from Allah his previous sins will be forgiven for him. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted in a similar manner by Yahya bin Abi Kathir and Muhammad bin Amr from Abu Salamah.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/لیلة القدر ١ (٢٠١٤)، سنن النسائی/الصیام ٢٢ (٢٢٠٤)، (تحفة الأشراف: ١٥١٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٤١) (صحیح )
1373Sunan Abu Dawood

تراویح کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ، ثُمَّ صَلَّى مِنَ الْقَابِلَةِ فَكَثُرَ النَّاسُ، ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَ: قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ، فَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ يُفْرَضَ عَلَيْكُمْ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مسجد میں نماز پڑھی تو آپ کے ساتھ کچھ اور لوگوں نے بھی پڑھی، پھر آپ ﷺ نے اگلی رات کو بھی پڑھی تو لوگوں کی تعداد بڑھ گئی پھر تیسری رات کو بھی لوگ جمع ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نکلے ہی نہیں، جب صبح ہوئی تو فرمایا: میں نے تمہارے عمل کو دیکھا، لیکن مجھے سوائے اس اندیشے کے کسی اور چیز نے نکلنے سے نہیں روکا کہ کہیں وہ تم پر فرض نہ کردی جائے ١ ؎ اور یہ بات رمضان کی ہے۔

Narrated Aisha (RA) , wife of Prophet ﷺ : That the Prophet ﷺ once offered (tarawih) prayer in the mosque and the people also prayed along with him. He then prayed on the following night, and the people gathered in large numbers. They gathered on the third night too, but the Messenger of Allah ﷺ did not come out to them. When the morning came, he said: I witnessed what you did, and nothing prevented me from coming out to you except that I feared that this (prayer) might be prescribed to you. That was in Ramadan.

Notes · وضاحت
١ ؎: رسول اللہ ﷺ کی رحلت کے بعد اب یہ اندیشہ باقی نہیں رہا اس لئے تراویح کی نماز جماعت سے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ یہ مشروع ہے، رہا یہ مسئلہ کہ رسول اللہ ﷺ نے ان تینوں راتوں میں تراویح کی کتنی رکعتیں پڑھیں تو دیگر (صحیح) روایات سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے ان راتوں اور بقیہ قیام اللیل میں آٹھ رکعتیں پڑھیں، اور رکعات وتر کو ملا کر اکثر گیارہ اور کبھی تیرہ رکعات تک پڑھنا ثابت ہے، اور یہی صحابہ سے اور خلفاء راشدین سے منقول ہے، اور ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے بیس رکعتیں پڑھیں لیکن یہ روایت منکر اور ضعیف ہے، لائق استناد نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٨٠ (٧٢٩)، والجمعة ٢٩(٩٢٤)، والتہجد ٥ (١١٢٩)، والتراویح ١ (٢٠١١)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٥ (٧٦١)، سنن النسائی/ قیام اللیل ٤ (١٦٠٥)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٩٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة في رمضان ١(١)، مسند احمد (٦/١٦٩، ١٧٧) (صحیح )